بشر ( از قلم صدیقی)
قسط نمبر ۱
ہم سب تھے ایک گنہگار کافر
اور ہم سب مسلم گھرانے کی مسلم لڑکیاں
کون کہہ سکتا تھا کہ ہم ایک ہونگے
لوگوں کے ذات الگ ہوتے ہیں
تو وہ ایک نہیں ہوتے
یہاں تو ہمارا مذہب بھی ایک نہیں تھا
لیکن تم کیا جانو
ہمیں اللّٰہ نے بنایا ہی ایک دوسرے کے لیے تھا
مُلک الگ شہر الگ یہاں تک کہ مذہب بھی الگ
یکساں تھا تو بس ایک چیز
وہ سب بھی بشر تھیں ہم سب بھی بشر تھیں
ہم بھی سب اللّٰہ کی بندی تھی
اور وہ سب بھی اللّٰہ کے ہی بندے تھے
تو پھر ہم سب ایک کیسے نہ ہوتے۔۔۔
صراط مستقیم پہ چلنے کے بعد۔۔۔
ہم نے بہت کچھ کھویا ، اور بہت کچھ پایا۔۔۔
لیکن یہ راستہ تھا بہت مشکل
لیکن اس راستے پر چلنے کے بعد
پتہ چلا کہ جو زندگی ہم جی رہے تھے
وہ زندگی نہیں تھی اصل زندگی تو یہ ہے
اور پھر اللّٰہ کو پانے کے بعد
ہم نے اس اللّٰہ کی عبادت کی
اس اللّٰہ کی رضا میں راضی ہوگئے
اور پھر کچھ اس طرح سے اللّٰہ نے
اس کا اجر دیا کہ ہم خود بھی حیران ہوگئے
بیشک وہ اللّٰہ چیز پر قادر ہے۔۔۔
________________
سیول سٹی
سیول سٹی کا سب سے بڑا اسٹیڈیم، میں ہر طرف لوگوں کا ہجوم تھا۔ نہ کوئی خالی کرسی تھی اور نہ کوئی خاموشی۔ رات کے سناٹے کو اچانک ایک زبردست شور نے توڑ دیا۔ اسٹیڈیم میں بیٹھے ہزاروں لوگ ہاتھوں میں لائٹس لہراتے ہوئے ایک ہی آواز میں نعرے لگا رہے تھے: “ایس ٹو ایس! ایس ٹو ایس!”۔ رنگ برنگی روشنیوں کی بارش اور ان آوازوں کا امتزاج ایسا سماں پیدا کر رہا تھا جیسے یہ لمحہ دنیا کا سب سے خاص لمحہ ہو۔
اندھیروں میں، میں جب اپنی آنکھیں کھولوں۔۔۔۔
اسٹیج سے ایک آواز سنائی دی، اور جیسے ہی یہ آواز فضا میں گونجی اسٹیج کی ہر طرف کی لائٹس جل اُٹھیں۔ پورا اسٹیڈیم عوام کی شور سے پھر بھر گیا۔
دل کی دھڑکن کیوں انجانی لگے۔۔۔۔
یہ سنتے ہی پورا اسٹیڈیم جھوم اٹھا۔ ہجوم کے شور نے آسمان تک گونج پیدا کر دی۔ روشنیوں کے ساتھ اسٹیج کے مختلف کونوں میں لڑکے نمودار ہوئے۔
سب نے ایک جیسا لباس پہنا ہوا تھا سیاہ چین والا پینٹ، سفید شرٹ، اور کمر سے بندھی سیاہ جیکٹ۔ سفید اور سیاہ جوتے اور ان کی گوری رنگت لائٹس میں اور بھی چمک رہی تھی۔ گانے کے ساتھ ساتھ ان کے ڈانس کے قدم اتنے ہم آہنگ تھے ۔
خوابوں کے پیچھے دوڑتا ہوں۔۔۔
پر خود کو ہی ڈھونڈتا ہوں۔۔۔
راستے انجان سہی،
پر ساتھ ہو تم تو سب آسان ہے۔۔۔۔
جامنی مائک والا لڑکا اسٹیج کے بیچ آیا اور دھیرے سے گانے لگا
سایوں میں چھپی یہ خواہشیں،
روشنی کی چاہت بن گئی ہیں۔۔۔
آج یہ دل مانگے صرف اتنا،
خود کو پا لوں، خود کو سن لوں۔۔۔
سب لڑکوں نے ایک ساتھ کورس پکڑا، اور ان کے ڈانس اسٹپس نے اسٹیج کو ہلا دیا
آؤ میرے سنگ چلو،
اندھیروں سے نکل چلیں۔۔۔
یہ لمحے، یہ سپنے،
ہم سب کے اپنے۔۔۔
ہاں، یہ ہم ہیں۔۔۔ یہ ہم ہیں۔۔۔
مداحوں نے اپنی لائٹس اوپر اٹھا دیں۔ پورا اسٹیڈیم چمکنے لگا جیسے ہزاروں ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔
پھر ہرے مائک والے نے ریپ میں تیزی سے کہا
اگر کبھی میں ٹوٹ جاؤں،
اگر کبھی میں رک جاؤں،
یاد رکھنا۔۔۔
ہر زخم بھی اک کہانی ہے،
ہر آنسو بھی اک نشانی ہے۔۔۔
اسٹیج پر دھواں چھوڑنے والی مشینیں چل پڑیں، روشنیوں کی بارش ہوئی، اور لڑکے ایک دائرے میں جمع ہو کر آخری لائنیں گانے لگے:
خود کو پا لینا ہی جیت ہے۔۔۔
پیار مل جانا ہی عید ہے۔۔۔
ساتھ چلنا، ساتھ گانا،
یہی خواب ہے۔۔۔ یہی ہم ہیں۔۔۔
پورے اسٹیڈیم میں ایک لمحے کو سکوت چھا گیا، اور پھر اچانک تالیوں اور نعروں کا شور گونجنے لگا…
ایس ٹو ایس! ایس ٹو ایس۔۔۔۔
یہ تھے ایس ٹو ایس
—کوریا کی میوزک انڈسٹری کا وہ گروپ، جس نے اپنے منفرد انداز، بے پناہ صلاحیت، اور مضبوط دوستی کے ساتھ لاکھوں دل جیت لیے تھے۔ لیکن یہ کامیابی انہیں یوں ہی نہیں ملی تھی۔ یہ کہانی تھی قربانیوں، محنت، اور اس عزم کی، جس نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا تھا۔
ایس تُو ایس کے ٹوٹل آٹھ ممبر تھے.
۱. کِم رین یون → رین (Kim Ren-Yun) لیڈر ، مین وکلسٹ
۲. لی سونگ → سونگ (lee seong ) – فیشن آئیکون، سب وکلسٹ
۳۔ جَنگ ہی ہیوک → ہیوک ( jung He-hyuk ) وائس آف دی گروپ
۴. پارک سوہان → سوہان ( Park su-han ) مین ڈانسر، وکلسٹ
۵. لی سو مین → سو مین ( Lee soo min ) ریپر ، سویج بوی
۶. جَنگ جے کیونگ → کیونگ ( Jung Jea-kyung ) ڈانسر، وکلسٹ
۷. کِم تائی جون → تائیجون ( kim Tae- joon ) ڈانسر، وکلسٹ
۸. کِم ہان وُو ،→ ہان ( Kim_ han-woo ) ریپر، کمپوزر
ــــــــــــــــــــ
پیرس، لندن، سپین، تھائلینڈ، نیویارک، جاپان، ہر چھوٹے بڑے شہر میں ان کی پرفارمنس ہو چکی تھی۔ لاکھوں دلوں کو اپنی آواز اور پرفارمنس سے جیتنے کے بعد اب ان کے پاس سات مہینوں کی چھٹی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے، پر سکون لمحات گزارنے کا ارادہ کرتے۔
ہمیں بریک ملا ہے، تو کیوں نہ کہیں گھومنے چلیں؟
کیم رن یون صوفے پر آرام سے بیٹھتے ہوئے بولا، اس کی آواز میں ایک خاص جوش تھا۔۔۔
ہاں۔۔۔ ایسی جگہ چلتے ہیں جہاں ہم پہلے کبھی نہ گئے ہوں۔۔۔۔
صوفے کے دوسرے کنارے پر بیٹھے لی سیونگ نے جوش و خروش سے کہا۔لی سیونگ ایس ٹو ایس گروپ کا دوسرا ممبر تھا
ہاں، یونیک جگہ۔۔۔
سو مین نے بھی اپنی رائے دی، سو مین ایس ٹو ایس کا تیسرا ممبر ریپر تھا
ہیوک نے بھی پرجوش انداز میں کہا
ایسی جگہ جانا چاہیے جہاں ہم اپنی یہ لائف بھول جائیں، بس ایک عام سی زندگی جئیں۔۔۔۔ جَنگ ہی ہیوک گروپ کا ڈانسر تھا
اور بغیر منیجر اور سیکیورٹی کے۔۔۔
جنگ کیونگ ، جو سنگل صوفے پر بیٹھا تھا، بیزاری سے بولا۔
کمرے میں کل آٹھ لوگ موجود تھے— رن یون اور سیونگ بڑے صوفے پر بیٹھے تھے ، سامنے والے صوفے پر سو مین اور سوہان بیٹھے تھے ، ایک دائیں جانب کے سنگل صوفے پر جےکیونگ بیٹھا تھا، اور ٹائیجون نیچے گؤشن پر بیٹھا تھا، ہان وو کچن میں کھڑا پھل کاٹنے میں مصروف تھا۔ اور کچن کے ساتھ والی کُرسی پر ہيوک بیٹھا تھا۔
ہاں ہاں ہم اگر اکیلے کسی بھی جگہ پر چلے جائیں تو وہ جگہ خوبصورت ہوجائے گی لیکن اکیلے۔۔۔۔ تائیجون نے اکیلے پر کافی زور دیا۔
ویسے، ہم کہیں بھی جائیں، لیکن سیکیورٹی تو ہمارے ساتھ ہی جائے گی۔۔۔ سیونگ نے سنجیدگی سے کہا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ان کے بغیر سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔
رن یون نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے، میں بگ ہٹ سے اجازت لے کر آتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہم واقعی بغیر سیکیورٹی جا سکتے ہیں؟
سب جانتے تھے کہ اس کی اجازت ملنا مشکل تھا،
لیکن ایک بار پوچھنے میں کیا حرج تھا؟
چلو اب بتاؤ سب کہاں جانا ہے پریس یوکے یو ایس اے دبئی لندن مُجھے یہ سب دیکھا ہوا۔۔۔
سوہان نے صوفے سے اٹھ کر کچن کی طرف جاتے ہوئے پوچھا۔
بہت جلدی ہے تُجھے یہ کھانے کی میں کٹ کر وہیں لے کر رہا تھا۔۔۔
ہان وؤ نے سوہان کو کچن میں آتا دیکھ کر کہا
جس پر سوہان مسکراتا سیب کا ٹکڑا منہ میں ڈال لیا
اوئے میں بھی گیا ہوں یہاں تیرے ساتھ ہی مُجھے بھی دیکھا ہوا ہے آیا بڑا مُجھے دیکھا ہوا ہے۔۔ گؤشن پر بیٹھے تائیجون نے کہا
ہاں یہ سب جگہ تو ہم گئے ہوئے ہیں کوئی نئی جگہ بتاؤ۔۔۔ اب صوفے پر بیٹھے سیونگ نے سنجیدہ سے کہا
انڈیا چلے کیا ؟
ہان وو نے پھل کاٹتے ہوئے تجویز دی۔
نہیں انڈیا کے بارے میں تو ہمیں بہت کچھ پتہ ہے اور وہاں کہ اتنے سارے ایکٹرز یہاں بھی آئے ہیں تو ہوسکتا ہے ہمارا کوئی نہ کوئی کنسرٹ وہاں ہو تو ہم جائے گے ہی ابھی جا کر آئے گے تو ہوسکتا ہے پھر دوبارہ جانا پر جائے۔۔۔۔ سیونگ نے وضاحت کی۔
تو پھر کہاں چلنا ہے یار۔۔۔۔ سوہان نے بیزاری سے کہا
یار، ہماری پچھلی فین میٹنگ میں بہت سی لڑکیاں حجاب میں آئی تھیں۔ وہ کس ملک سے آئی تھیں؟ ہیوک نے اچانک پوچھا۔
دبئی سے۔۔۔۔ سوہان نے فوراً جواب دیا۔۔
اتنی جلدی تجھے کیسے پتہ؟
تائیجون نے حیرت سے پوچھا۔
میں نے ایک لڑکی سے پوچھا تھا۔
سوہان نے آرام سے جواب دیا۔
تو کب سے لڑکیوں میں دلچسپی لینے لگا؟
سوہان نے ہیوک کو چھیڑا، کیونکہ وہ ان سب میں سب سے معصوم اور سیدھا شخص تھا۔
دلچسپی نہیں ہے، بس ان میں ایک الگ سی کشش تھی۔ ہیوک نے سنجیدگی سے کہا۔ اُس نے صاف صاف کہہ دیا جو دل میں تھا، ہیوک ایسا ہی تھا، جو ہوتا جب جیسا وہ کہہ دیتا، ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ اُس کے دل میں کچھ اور اور زبان پر کچھ اور ہو۔
یہ تو پاگل ہو گیا ہے۔۔۔ سو مین نے مذاق میں کہا۔
اسی دوران، رن یون واپس آیا۔
ہاں بھئی، اجازت تو مل گئی ہے، مگر سیکیورٹی ساتھ جائے گی۔۔۔۔ یہ پہلی دفعہ تھا جو یہ لوگ اپنی چھٹی پر کہیں گھومنے جا رہے تھے ورنہ تو ہر دفعہ یہ کسی کنسرٹ کے چکر میں ہی جاتے تھے اور وہیں ان کی ٹریپ بھی ہوجاتی تھی۔۔۔اکثر یہ چھٹیوں پر اپنے گھر جاتے تھے۔۔۔ بگ ہٹ کی طرف سے ان کو الگ سے رہنے کے جگہ میسر تھی اور یہ سب ساتھ ہی رہتے تھے۔۔۔
آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ پھر تو گھر پر ہی رہتے ہیں۔۔۔
جے کیونگ نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔
تو پاکستان چلیں؟ سوہان نے اچانک تجویز دی۔
پاکستان؟ وہاں کیا ہے ایسا جو ہم وہاں جائیں۔ تائیجون نے سوال کیا۔
ہاں! پاکستان چلتے ہیں۔۔۔۔ ہیوک نے فوراً حامی بھر لی۔
کیوں، وہاں تیرا کوئی بچھڑا ہوا بھائی رہتا ہے؟ یہ سو مین کبھی جو سیدھی طرح بات کرلے
اہ ہ ہ ہ پاکستان بہت بورنگ جگہ ہے۔۔۔۔
جے کیونگ نے منہ بنایا۔
بھائی صاحب۔۔۔۔ خواب میں گئے ہو جو پتہ چل گیا؟ سو مین نے طنز کیا۔
تو نہ جا، میں تو جارہا ہوں۔۔۔۔ سنا ہے وہاں کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔۔۔۔ سوہان نے شرارتی انداز میں کہا۔
ہاں بس تُم اسی کام کے لیے وہاں جا رہے ہو .. سیونگ نے سوہان کو کہا کیونکہ سب جانتے تھے۔۔ لڑکیوں کے معاملے میں ہمارے سوہان بھائی صاحب تھوڑے ویک ہیں
تم سب یونہی باتیں نہ کرو جلدی سے جگہ ڈیسائیڈ کرو جانا کہاں ہے۔۔۔۔ رن یون نے انہیں ٹوکا ورنہ یہ لوگ باتیں کرتے کرتے کہیں سے کہیں چلے جاتے تھے
بھائی تُم بتاؤ تُم کو کہاں جانا ہے۔۔۔۔ سوہان نے اب رن یون سے جاننا چاہا، کہ وہ کہاں جانا چاہتا تھا
تُم سب بچے میرے جہاں بولو گے چلا جاؤ گا۔۔۔ رن یون نے فوراً جواب دیا
ہائے میرا پیارا بچہ۔۔۔۔ سیونگ نے رن یون کو چِڑایا
چلے نہ پھر پاکستان چلتے ہیں۔۔۔ سوہان نے پھر کہا
چلو پھر ووٹ کرتے ہیں۔۔۔ تائیجون نے کہا
ہاں ٹھیک ہے، میں، رن بھائی، سیونگ، ہیوک، ہان وؤ ہم سب پاکستان جائے گے ہوگیا فیصلہ ہم زیادہ ہیں اور تُم تین۔۔۔
سوہان نے ایک ہی سانس میں جلدی جلدی کہا اب وہ سب کو پاکستان لے جا کر ہی رہے گا۔۔۔
اوئے خودی خودی بول دیا مُجھے سے پوچھا میں نے تو ابھی کچھ بولا ہی نہیں۔۔۔
ہان وؤ کہتا اب پھل کی پلیٹ سوہان سے لیتا صوفے پر کر بیٹھ گیا اور باقی بھی سب کی طرف بڑھایا۔
وہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے جہاں سوہان جا رہا ہے وہاں اس کی امی ساتھ ہی جائے گی۔۔۔۔
سو مین نے ہان وؤ کو چھیڑتے ہوئے کہا، کیونکہ ہان وؤ جیسے سوہان کا خیال رکھتا تھا سب اُس کو تنگ کرنے کے لیے سوہان کی امی بولتے تھے
تونے پھر امی کہا مُجھے، میں اب ماروں گا تُجھے ہان وؤ نے ہیوک کے اوپر تکیہ پھینکا
جس کو ہیوک کیچ کرتا ہسنے لگا بچ گیا میں ہی ہی ہی
اچھا چلو پاکستان ہی چلتے ہیں تائیجون کو بھی کوئی اچھی جگہ سمجھ نہیں آئی تو اُس نے بھی ہامی بھر لی
نہیں میں نہیں جاؤں گا پاکستان بہت بورنگ جگہ ہے جے کیونگ نے پھر بیزاری سے کہا
تو کب چلا گیا اُدھر جو تُجھے پتہ چل گیا کہ وہ بورنگ جگہ ہے یہ نہیں سوہان نے پھر جے کیونگ کو ٹوکا
نہیں تو کیوں مر رہا ہے اُدھر جانے کے لیے سو مین نے سوہان سے کہا یہ دونوں فساد کی جڑ مان ہی نہ جائے جانے کے لئے
ارے بھائی لڑکیاں ہر جگہ کی لڑکیاں دیکھی ہیں وہاں کی نہیں دیکھی سوہان نے کہا
کیا وہاں ہمارے فینز ہوں گے؟ اگر ہاں، تو میں مر کے بھی نہیں جاؤں گا! ہیوک بولا۔
اتنے مشہور ہیں ہم، کچھ فینز تو ہوں گے ہی! تائیجون نے فخریہ انداز میں کہا۔
اچھا سنو، میں نے پاکستان کے بارے میں سب پتہ کر لیا ہے! سوہان نے فخریہ انداز میں کہا۔
ہاں، اتنی جلدی پتہ چل گیا ہیوک نے حیرانی سے کہا۔
یہ سب کام میں تمہارا کتنا دل لگتا ہے نا سوہان رن یون نے سوہان سے کہا
ہو ہاں تھینک یو بھائی سوہان نے کہا
اچھا سنو سب پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اور زیادہ تر لوگ اردو اور انگریزی بولتے ہیں۔ ویسے تو وہاں پر بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن زیادہ تر وہاں کے سارے لوگوں کو اردو آتی ہے، سوہان نے کہا
ہاں اب اگے بول ہمیں آتی ہے انگريزی تائیجون نے کہا
ہاں وہاں جا کر کوئی اور زبان نہیں بولنا ورنہ لوگ تمہیں پاگل سمجھیں گے اردو یا انگلش
ہاں جی اور جگہ کا بھی بتا دیں ہم کہاں جا کر اسٹے کریں گے سیونگ نے کہا
وہاں کئی خوبصورت شہر ہیں جیسے کراچی، اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور بھی ہیں مجھے یاد نہیں آ رہا۔۔۔ ہاں اور پاکستان بہت بڑا ہے سوہان نے سوچتے کہا
ہم سب جگہ جائیں گے۔۔۔۔ تائیجون نے حیرانی سے پوچھا۔
ہاں! سب جگہ گھومیں گے۔۔۔۔ سوہان پرجوش تھا۔
بس اتنا ہی پتہ کیا۔۔۔۔ ہان وؤ نے کہا
ہاں اور کیا اور بھی کچھ پتہ کرنا تھا کیا؟ سوہان نے حیرانی سے پوچھا سب سے پہلے روشنیوں کے شہر کراچی جائیں گے۔ وہاں ان کے قائد کا مزار بھی ہے۔
یہ قائد کا مزار کیا ہے؟ کوئی جگہ ہے؟ ہیوک نے معصومیت سے پوچھا۔
او پاگل جنہوں نے پاکستان بنایا ان کی قبر ہے وہاں۔۔۔ سوہان جھنجھلایا۔
ہاں تو ہم ان کی قبر دیکھ کر کیا کریں گے؟
جے کیونگ نے منہ بنایا۔
میں بتا رہا ہوں یہ سوہان نا ہمیں بہت فضول فضول جگہ لے کر جانے والا ہے پہلے پاکستان اب پاکستان بنانے والے کی قبر۔۔۔۔ سو مین نے بیزاری سے کہا
اوئے چپ کر جاؤ دونوں ورنہ ابھی یہیں سے لگاؤں گا دو۔۔ وہ ان کے لیڈر کا مزار ہے احترام کرو۔۔۔۔
رن یون نے سنجیدگی سے کہا۔
سوری بھائی پر یہ سوہان ہی نا پاگل ہے سیدھی سیدھی طرح نہیں بتا رہا ہے بات گھما رہا ہے۔۔۔
سو مین نے پھر چھیڑا سوہان کو
ہاں میں ہی برا ہوں ایک تو بتا رہا ہوں تم لوگوں کو اوپر سے مجھے ہی سنا رہے ہو اب نہیں بتا رہا میں کچھ اب مینیجر جا رہے ہے نا ہمارے ساتھ اب وہی بتائیں گے سوہان غصے میں اٹھ کر چلا گیا۔
ناراض کر دیا نا بیچارے کو ایک تو تم لوگوں کو بتا رہا ہے چپ کر کے میری طرح نہیں سن سکتے ہو۔۔۔ ہان وؤ نے جے کیونگ اور سو مین کو گھورتے ہوئے کہا
ارے یار جا رہا ہوں میں منانے۔۔۔
جے کیونگ اٹھا اور سوہان کے پیچھے چلا گیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
ہفتہ بھر کے انتظار کے بعد بالآخر وہ لمحہ آن پہنچا۔ جہاز کے پہیوں نے جیسے ہی زمین کو چھوا، ایک ہلکی سی لرزش دل میں محسوس ہوئی۔ کھڑکی سے باہر جھانکا تو رات کے اندھیرے میں روشنیوں کی جھلملاہٹ نظر آئی۔ اسلام آباد… پاکستان کا دل، اس کا دارالحکومت۔
ہاں، تو آ گئے ہم پاکستان۔۔۔۔ تائیجون نے آرام دہ مگر اسٹائلش جینز، اوپر ہلکا نیلا کاٹن کا شرٹ، جس کی آستینیں قدرے اوپر موڑی ہوئی تھیں۔ پاؤں میں سفید اسنیکرز ، ہاتھ میں ایک لیدر کا بیگ، جس میں پاسپورٹ اور ضروری سامان لیے وہ اِدھر اُدھر کا ماحول دیکھتے خوشی سے بولا ۔۔ ہر نئی جگہ جانے پر تائیجون کی خوشی کی انتہا ہوجاتی تھی ۔۔۔ کیوں کے وہ ٹرویلنگ کا شوقین تھا۔۔۔اُسے جگہ جگہ ایکسپلور کرنا بہت زیادہ پسند تھا۔۔۔
اس وقت ہم پاکستان کے کیپیٹل شہر، اسلام آباد کے ایئرپورٹ پر موجود ہیں… سیونگ نے ایک سیاہ ٹی شرٹ، جس پر سفید حروف میں ایک مشہور برانڈ کا نام چھپا تھا، اور نیوی بلو ڈینم جینز پر ملبوسِ سر پر ایک بیس بال کیپ جو شاید دھوپ سے بچاؤ کے لیے رکھی تھی، مگر اسٹائل کو بھی مکمل کر رہی تھی۔۔
رن یوں کی توجہ ارد گرد لوگوں کے لباس کھینچ رہے تھے۔ مختلف طرز کے لوگ، مختلف انداز— کچھ جدید فیشن میں ملبوس، تو کچھ روایتی وقار کے ساتھ۔
سامنے نظر گھمائی تو کچھ مسافر پاکستانی شلوار قمیض میں ملبوس تھے، سفید، کریم، اور ہلکے رنگوں کے نفیس جوڑے۔ کچھ خواتین عبایا میں تھیں، کچھ مغربی لباس میں، اور کچھ نے دوپٹے کو خوبصورتی سے کندھے پر سمیٹ رکھا تھا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر یہ امتزاج خوب جچ رہا تھا— روایتی اور جدید انداز کا حسین امتزاج، جیسے خود یہ شہر، جو پرانے اور نئے پاکستان کا ایک سنگم ہے۔
اِدھر ان سب سے الگ ہان وؤ منیجر کے ساتھ باغیج کلیم ایریا کی طرف کھڑا اپنے بیگ کے آنے کے انتظار میں تھا جب کے باقی سب منیجر کے ہاتھوں اپنا بیگ چھوڑے اِدھر اُدھر گھومنے میں مصروف تھے۔۔ ہان وؤ نے ایک سیاہ رنگ کا ٹریک سوٹ پہنا تھا، جو حرکت میں آزادی دیتا تھا اور آرام دہ تھا۔ اس کے ساتھ سفید رنگ کی ٹی شرٹ تھی، جو سادگی میں بھی اسٹائل کو برقرار رکھ رہی تھی۔ پیروں میں اس نے سیاہ اسنیکرز پہنے ہوئے تھے، جو ایئرپورٹ کے لمبے سفر کے لیے بہترین انتخاب تھے۔
سیونگ نے چاروں کو پکڑتا ایک جگہ جمع کیا
دھيان سے سنو تُم لوگ میری بات۔۔۔ یاد ہے ران نے کیا کہا تھا…؟
کیا کہا تھا۔۔۔؟ تائیجون نے کندھے اچکائے…
سیونگ نے غصے میں تائیجون کو گھورا
ارے وہی ہم یہاں آئے سوشل میڈیا میں نہیں جانا چاہیے۔۔۔ اپنے اکاؤنٹ وغیرہ پر کوئی پوسٹ وغیرہ نہیں لگانی ہے۔۔۔ ہیوک نے کہا
ہاں ہاں، معلوم ہے۔ اتنی بار مت دہراؤ۔
جے کیونگ نے بیزاری سے سر ہلایا،
ویسے بھی، میں تو اپنا دوسرا فون لے کر آیا ہوں۔ میرا پروفیشنل فون تو بھائی کے پاس ہے۔
سوہان نے جیب سے ایک موبائل نکالا اور کہا۔۔۔
ان سب کے پاس دو فون ہوتے ہیں،
ایک پروفیشنل، جو ان کے عوامی امیج کے لیے مخصوص تھے، جہاں ان کے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلتے تھے۔
اور دوسرا فون، ان کا ذاتی، جسے وہ نجی رابطوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔
سوہان کا پروفیشنل فون زیادہ تر رن یون کے پاس ہی رہتا تھا۔ وہی اس کے انسٹاگرام، ٹوئٹر، اور دیگر سوشل میڈیا پر پوسٹس وغیرہ کرتا تھا۔۔ کیوں کہ وہ بہت لاپرواہ اور چُلبلی طبیعت کا مالک تھا وہ عمر میں بڑا ہو رہا تھا، مگر مزاج میں ابھی بھی وہی بچپنا جھلکتا تھا ۔ کوئی سنجیدہ بات ہو یا کوئی نازک لمحہ، اس کی عادت تھی کہ سب کچھ ہنسی میں ٹال دیتا۔ ذرا سی بات پر ناراض ہو جانا اور دنیا سے لاپرواہ اپنی مستی میں رہنے والا لڑکا تھا۔۔۔ سوہان بڑا ہو چکا تھا لیکن اُس کا بچپنا ابھی تک نہیں گیا تھا جس کی وجہ سے رن یون کو سب سے زیادہ فکر سوہان کی رہتی تھی۔۔۔اور باقی میمبر بھی سوہان کو اچھی طرح سمجھتے اسی وجہ سے وہ اس گروپ کا سب سے لاڈلا اور چھوٹا بچہ تھا۔۔۔
پھر جیسے ہی مینیجرز سب کے بیگ لے آئے تو یہ لوگ ہوٹل کے لیے نِکل گئے۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
رات کا سماں تھا۔ اسلام آباد کی سڑکیں نسبتاً سنسان ہو چکی تھیں، مگر خیابانِ سہروردی پر روشنیوں کا ایک جھرمٹ اب بھی قائم تھا۔ سرینا ہوٹل کی عمارت اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ جگمگا رہی تھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں کاروباری شخصیات، سفارت کار، اور شہر کی ایلیٹ کلاس کی کہانیاں روز جنم لیتیں اور دفن ہوتیں۔
ہوٹل کے داخلی دروازے پر کھڑے گارڈز کی تیز نظریں ہر آنے والے کو جانچ رہی تھیں۔ اندر کا ماحول پرسکون، مگر پُراسرار تھا۔ بلند و بالا فانوسوں کی روشنی قالین پر ایسے پڑ رہی تھی جیسے چاندنی جھیل کی سطح کو چھو رہی ہو۔ ہر طرف ایک نفاست تھی، ایک وقار تھا، اور کہیں نہ کہیں، ایک انجانی کہانی بھی۔
یہ سرینا تھا—صرف ایک ہوٹل نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا، جہاں طاقتور فیصلے ہوتے، راز پلتے، اور کچھ کہانیاں ہمیشہ کے لیے روشنیوں میں گم ہو جاتیں۔
یہ سب منیجر کے ساتھ چلتے ہوئے ہوٹل کا جائزہ لے رہے تھے، جو کوریا سے ان کے ساتھ آیا تھا۔ وہ یہاں کے تمام معاملات دیکھ رہا تھا—کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے، سب اسی کے ہاتھ میں تھا۔
چند لمحوں بعد وہ سب کمروں کے سامنے آ کر رک گئے۔ مینیجر نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا،
یہ چار رومز آپ کے لیے ہیں۔ آپ لوگ دو، دو کر کے رہ سکتے ہیں۔ میرا کمرہ سامنے ہے، کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔۔۔
ابھی مینیجر کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ ہیوک نے فوراً اعلان کر دیا،
میں تو اپنے بھائی کے ساتھ رہوں گا۔۔۔ اس کی آواز میں ایک خاص معصومیت تھی، اور وہ جے کیونگ کے قریب جا کھڑا ہوا۔
نہیں، میں جے کیونگ کے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔ سوہان نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
تو تائیجون کے ساتھ رہ نہ۔۔۔۔ ہیوک نے سوہان کو سمجھایا۔
میرے ساتھ کیوں؟ تائیجون نے فوراً اعتراض کیا، میں تو ہان وؤ کے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔
یہ سنتے ہی ہان وؤ نے ناگواری سے تائیجون کو گھورا اور سخت لہجے میں بولا، اوئے! چل پیچھے ہٹ، مجھے کسی کے ساتھ روم شیئر کرنا پسند نہیں۔۔۔۔
تائیجون نے چیڑ کر کہا، آبے تُجھے کوئی اکیلا روم نہیں ملنے والا! یہاں سب نے دو، دو کر کے ہی رہنا ہے، منیجر کی بات سنائی نہیں دی کیا؟
ہان وؤ نے غصے سے رخ موڑ لیا، جیسے اسے اس بحث میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔ لیکن اس سے پہلے کہ کوئی اور کچھ کہتا، پیچھے سے سو مین کی آواز آئی،
میں یہی ہوں۔۔۔ سو مین کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ہان وؤ اس کے علاوہ کسی کے ساتھ روم شیئر نہیں کرے گا، اسی لیے وہ مزے سے اترا رہا تھا اور ساتھ ہی تائیجون کو چیڑھا بھی رہا تھا۔
تائیجون نے ناگواری سے سو مین کو گھورا، جیسے کہنا چاہتا ہو کہ وہ زیادہ خوش نہ ہو، لیکن کچھ کہے بغیر رخ موڑ لیا۔
میرے ساتھ جس نے روم شیئر کرنا ہے، وہ اندر آجائے، میں سونے جا رہا ہوں۔ جے کیونگ نے بیزاری سے کہا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ اس کے لہجے میں بے نیازی تھی، جیسے اسے کسی کی پرواہ نہ ہو۔
چل پھر، تُو میرے ساتھ رہے گا۔۔۔۔ تائیجون نے فوراً سوہان کا ہاتھ پکڑا اور اسے زبردستی گھسیٹنے لگا۔
بھائی۔۔۔ سوہان نے چونک کر رن کی طرف دیکھا اور مدد طلب نظروں سے التجا کی۔
تائیجون۔ رن یون نے سنجیدگی سے کہا، اور جیسے ہی تائیجون نے رن کی گھورتی نگاہوں کو محسوس کیا،
ٹھیک ہے، چھوڑ دیا۔ اس نے فوراً سوہان کا ہاتھ چھوڑا اور معصومیت سے کندھے اچکائے۔
رن نے ایک گہری سانس لی اور فیصلہ کن انداز میں کہا، تم جا کر ہیوک کے ساتھ رہو۔۔۔۔
کیا؟ نہیں۔۔۔ میں نہیں رہوں گا ہیوک کے ساتھ۔۔۔۔ تائیجون نے فوراً انکار کر دیا۔
رن نے آنکھیں سکیڑیں اور دوسرے آپشنز پر غور کرنے لگا، اچھا، تو سیونگ کے ساتھ رہ لو؟
یہ سنتے ہی سیونگ نے رن کے کان کے قریب ہُوا اور سرگوشی کی میری جگہ کیوں دے رہے ہو کسی کو
جس پر رن نے ہمیشہ کی طرح صرف اُسے گھورا۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ تائیجون نے جلدی سے سر ہلایا،
میں ہان وؤ کے ساتھ رہوں گا۔۔۔ نہیں، سوہان کے ساتھ۔۔۔ نہیں بلکہ جے کیونگ کے ساتھ۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ تیزی سے جے کیونگ کے کمرے میں گھس گیا، جیسے کسی جنگ سے بچنے کے لیے پناہ لے رہا ہو۔
بھائی۔۔۔ سوہان نے ایک بار پھر بے بسی سے چلایا، مگر اب تک دیر ہو چکی تھی۔
باہر کھڑا ہیوک، جو پُراعتماد تھا کہ وہ جے کیونگ کے ساتھ رہے گا، حیرت اور مایوسی کے ملے جلے جذبات لیے دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔
یہ کیا تھا؟ وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔
یہ ایسے ہی سب کو تنگ کرتا ہے۔ سیونگ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ اسے کسی کے ساتھ بھی رہنے پر مسئلہ نہیں، بس سب کو تنگ کرنا تھا۔۔۔۔
رن یون نے اب ہیوک اور سوہان کی طرف دیکھا، پھر کہا، چھوڑو، تم دونوں ایک ساتھ رہ لو۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی اس نے مین سو اور ہان وؤ کی طرف دیکھا، اور تم دونوں، جاؤ اپنے روم میں۔
بھائی پہلے تماشا تو دیکھ لوں۔۔۔ سو مین کے چہرے پر وہی شرارتی مسکراہٹ برقرار تھی۔
بیچارے! ان دونوں کو جے کیونگ کے ساتھ رہنا تھا، لیکن لو، اب ہیوک اور سوہان ایک ساتھ رہیں گے۔۔۔۔
سوہان نے ایک تھکی ہوئی سانس لی، جیسے وہ مزید بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ہلکی سی نظریں جھکائیں اور خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھا۔
پیچھے سے ہیوک نے فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے چھیڑنے والے لہجے میں کہا، میں تمہیں سونے نہیں دوں گا کیا؟
سوہان فوراً مڑا اور تیز نظروں سے اسے گھورا، بس زیادہ باتیں مت کرنا، ورنہ تمہیں دروازے کے باہر سونا پڑے گا۔۔۔۔
اس کے جواب پر سو مین نے قہقہہ لگایا، دونوں کو قسمت نے ملا دیا، اب بھوکتو۔۔۔۔
تم اندر جاؤ۔۔۔۔ رن نے سخت نظروں سے سو مین کو گھورا، اور سو مین فوراً اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا۔
باقی سب نے بھی اپنے کمرے کا رُخ کیا۔۔۔ باہر رات کی تاریکی اور گہری ہو رہی تھی، لیکن کمروں کے اندر ہنسی اور سرگوشیوں کی مدھم آوازیں اب بھی سنائی دے رہی تھیں۔
ــــــــــــــــــــــــ
تائیجون جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا، جے کیونگ کی نظریں فوراً اس پر جم گئیں۔
تم کیوں آئے؟ اُس نے سادے سے انداز میں سوال کیا۔
تائیجون نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
تو کیا کسی اور کو آنا چاہیے تھا؟
جے کیونگ کے ہونٹوں پر ایک نیم مسکراہٹ اُتری۔
ہاں…
تائیجون کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
کس کو؟
سوہان کو
تو تمہیں اُس کے ساتھ کمرہ شیئر کرنا تھا؟ تائیجون نے پوچھا۔
جے کیونگ نے سر ہلایا،
نہیں، وہ رو رہا تھا نا۔۔۔
رو نہیں رہا تھا، ضد کر رہا تھا
وہی، ایک ہی بات ہے، اُس کا رونا اور ضد کرنا جے کیونگ نے دھیرے سے کہا۔
تائیجون کی نظریں اُس کی طرف تیز ہو گئیں۔
سیدھا سیدھا بول دے، کہ تُجھے میرا وجود برداشت نہیں ہو رہا
ہاں، نہیں ہو رہا، چلو جاؤ جے کیونگ نے آہستہ سے کہا۔
تائیجون ہنستے ہوئے بولا،
ہاہا، میں پھر بھی نہیں جاؤں گا۔۔۔
اور پھر، بغیر کسی اور لفظ کے، وہ بستر پر گر گیا۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــ
سارے سامان کی ترتیب مکمل کرنے کے بعد، دونوں تھکن سے بستر پر بیٹھ گئے۔
سو مین نے ہلکی سی شکوہ بھری آواز میں کہا،
تم صرف میرے ساتھ ہی روم شیئر کرنے میں کیوں راضی ہو جاتے ہو؟
ہان وؤ نے جواب دیا،
تم اچھے سے جانتے ہو یہ بات۔
سو مین نے چہرے پر ہلکی سی شرمندگی کے ساتھ کہا،
کر لو، میری تعریف، کچھ ہو نہیں جائے گا تمہیں…
ہان وؤ نے سنجیدگی سے کہا،
تعریف کے قابل ہوتے تم تو ضرور کرتا۔
یہ سن کر سو مین کو غصّہ آ گیا،
پھر نکل جاؤ میرے روم سے، چلو، دفع ہو۔
ہان وؤ نے آنکھیں پھاڑ کر کہا،
ایکیوز مے! یہ میرا روم ہے، آپ کا نہیں۔
سو مین نے دھیمے مگر پراعتماد انداز میں جواب دیا،
ایکیوز مے! جتنا تمہارا حق ہے اس روم میں، اتنا ہی میرا بھی ہے۔
ہان وؤ نے آہستہ سے کہا،
اسی وجہ سے تم مجھے روم سے نہیں نکال سکتے۔
سو مین نے تھوڑی سی ناراضگی میں کہا،
تم بس مجھے غصہ دلاتے ہو…
ہان وؤ نے معصوم سا انداز اپناتے ہوئے کہا،
ہاں؟ تو پھر مجھ سے بات نہ کرو… کیا میں نے کہا تھا کہ آکے میرے منہ لگو؟
سو مین نے غصے سے ہان وؤ کو گھورا،
ہان… کے بچے…
ہان وؤ نے سنجیدگی سے کہا،
ابھی میرے بچے نہیں ہوئے…
سو مین نے تلخی سے کہا،
یہی حرکت رہی، نہ تو ہوں گے بھی نہیں…
ہان وؤ نے حیرت سے پوچھا،
کیسی حرکت؟
سو مین نے جھنجھلا کر کہا،
افف، چُپ کر جاؤ ہان، چُپ! تم سے بات کرنا فضول ہے۔
ہان وؤ نے تڑپ کر جواب دیا،
تم ہی فضول ہو، الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو۔
سو مین نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،
الٹی سیدھی باتیں؟ صرف ایک سوال پوچھا تھا میں نے۔
ہان وؤ نے دھیرے سے کہا،
جس کا جواب تمہیں معلوم تھا۔
سو مین نے تھوڑی ناراضی کے ساتھ کہا،
میں جا رہا ہوں، تم سوہان کے ساتھ روم شیئر کرو، پھر تمہیں پتہ چلے گا… تب میری قدر ہوگی تمہیں۔
ہان وؤ نے بیزاری سے کروٹ لیتے ہوئے کہا،
باقی کے ڈرامے کل کرنا، مجھے اب نیند آ رہی ہے۔
یہ کہہ کر وہ بستر پر لیٹ گیا۔
سو مین کی آنکھیں تقریباً باہر نکل آئیں۔ اُس کی سانس تیز ہو گئی اور وہ دھیرے سے بڑبڑایا،
منحوس سالہ… ابھی مجھے اپنے hygiene کی پروا نہیں ہوتی، نہ پھر بتاتا میں اسے…
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی، پھر ہان وؤ کی مدھم سی آواز ابھری،
لائٹ آف کر دو، پلیز۔
سو مین نے منہ بنایا اور غصے سے کہا،
خود کر لے، میں نہیں کر رہا۔
یہ کہہ کر وہ بھی بستر پر لیٹ گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــ
جیسے ہی سوہان کمرے میں داخل ہوا، بیگ ایک طرف پٹخا اور خود سیدھا بستر پر گر گیا۔
سیٹنگ کر۔۔۔ ہیوک نے ناک سکیڑ کر کہا۔
کیا سیٹنگ؟ سوہان نے آنکھیں آدھی بند کر کے آہستہ سے پوچھا۔
کپڑے نکال کر الماری میں رکھ ہیوک نے جھنجلا کر کہا۔
کیوں؟ ساری زندگی یہی رہنا ہے کیا؟ سوہان نے بیزاری سے کروٹ بدلی۔
ایک ہفتے تو رہنا ہے نا… ہیوک نے آنکھیں گھمائیں۔
ہاں تو جب یہاں سے جانا ہی ہے تو بیگ سے سامان نکالنے کا فائدہ؟ سوہان نے فوراً ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
تو ایک ہفتے تک سارا سامان بیگ میں ہی پڑا رہے گا؟ ہیوک نے ہاتھ کمر پر رکھا۔
ہاں! جب جانا ہی ہے تو کون پاگل سیٹنگ کرے؟ پہلے نکالو، پھر رکھو، پھر ایک ہفتے بعد دوبارہ نکالو، پھر رکھو… سوہان نے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا۔
کام چور، اُٹھو اور سیٹنگ کرو۔ ہیوک نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
اگر میں نے سیٹنگ کر لی نا، تو کمرے کی ساری ہوا خراب ہو جائے گی۔ ابھی بیگ میں پڑا ہے تو کم از کم کمرہ سانس تو لے رہا ہے… سوہان نے آدھی آنکھ کھول کر بڑے سکون سے جواب دیا۔
سانس کمرہ نہیں، تمہارے دماغ کو لینا چاہیے! ہیوک نے غصے سے تکیہ اُٹھا کر اس پر دے مارا۔
سوہان ہنسا اور تکیہ واپس گود میں رکھ لیا،
بالکل! اور وہی دماغ مجھے کہہ رہا ہے کہ مت اٹھو… آرام سے لیٹے رہو…
تم نا، ایک دن مجھ سے مار کھاؤ گے! ہیوک نے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔
ہاتھ تو لگا کر دیکھا۔۔۔ سوہان نے قہقہہ لگایا۔
روکو ابھی تُمہارا بیگ الٹ دیتا ہوں… ہیوک نے دانت پیس کر کہا۔
سوہان جھٹ سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے بیگ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا،
خبردار! میرے بیگ کو ہاتھ بھی لگایا تو۔۔۔ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
اتنی خاص چیزیں ہیں اندر؟ ہیوک نے آنکھیں تنگ کر کے پوچھا۔
ہاں… خاص چیزیں ہیں… مگر تمہیں کبھی نہیں دکھاؤں گا۔۔۔۔ سوہان نے رازدارانہ انداز میں سر جھکایا۔
بیگ دو… ورنہ ابھی کمرے میں طوفان آ جائے گا۔ ہیوک نے تیکھی نظروں سے کہا۔
سوہان نے بیگ کو اپنے سینے سے چپکا لیا،
خبردار! ایک اینچ بھی قریب آئے تو سمجھ لینا میرا بدترین روپ دیکھ لوگے۔۔۔۔۔
بدترین روپ؟ تمہارے اندر ویسا بھی کچھ ہے؟ ہیوک نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
ہاں! سوہان نے بڑی سنجیدگی سے کہا، میں چین کا بدنام زمانہ کنگ فو ماسٹر ہوں… بس یونیفارم گھر پر رہ گیا ہے۔
ہیوک قہقہے سے ہنسا اور بولا،
ماسٹر صاحب، یونیفارم کے بغیر بھی کام چل جائے گا، بیگ مجھے دو۔۔۔۔
یہ کہتے ہی اس نے جھپٹ کر بیگ پکڑنے کی کوشش کی۔
سوہان اچھل کر بستر کے دوسری طرف جا گرا اور بیگ کو پیچھے چھپا لیا،
میں نے کہا تھا نا… ہاتھ مت لگانا! اس میں… اس میں… بہت قیمتی راز ہیں۔۔۔۔
کون سے راز؟ کہیں چپس کے خالی پیکٹ اور ٹافیوں کے ریپر تو نہیں؟ ہیوک نے بھنویں اٹھا کر پوچھا۔
وہ میرا ذاتی کلکشن ہے! سوہان نے ایک دم سنجیدگی اوڑھی۔
آخرکار ہیوک نے ہار مانتے ہوئے بستر پر ڈھیر ہو کر کہا،
نکل یہاں سے كام چور کہیں کا۔۔۔
ــــــــــــــــــــــ
اسلام آباد، پاکستان کا دارالحکومت، اپنی قدرتی خوبصورتی، جدید انفراسٹرکچر اور پُرامن ماحول کے لیے مشہور ہے۔ یہ شہر مارگلہ ہلز کے دامن میں بسا ہوا ہے اور اپنے سرسبز مناظر، وسیع شاہراہوں اور خوبصورت پارکس کی وجہ سے سیاحوں کے لیے ایک بہترین مقام ہے۔
مارگلہ کی سرسبز پہاڑیاں، کھلی فضائیں، پُرسکون سڑکیں، اور روشنیوں میں نہایا ہوا شہر—اسلام آباد ایک ایسی جگہ ہے جہاں کی خوبصورتی اور سکون کو الفاظ میں قید کرنا مشکل ہے۔
سورج کی نرم کرنیں مارگلہ کی پہاڑیوں کو چھو رہی تھیں، صبح کی ہلکی ہوا درختوں کے پتوں کو سرسرا رہی تھی، اور پرندوں کی چہچہاہٹ ایک تازہ دن کی نوید دے رہی تھی۔ اسلام آباد کی خوبصورت، کھلی سڑکوں پر آٹھ دوستوں کا گروپ اپنی گاڑی میں بیٹھا ہنسی مذاق کرتا، میوزک سنتا اور آج کے ایڈونچر کی تیاری میں مصروف تھا۔
فیصل مسجد روحانی اور فنِ تعمیر کا شاہکار ، سکون اور شرارت کا امتزاج
فیصل مسجد کا سفید سنگِ مرمر، نیلا آسمان، اور ارد گرد پھیلی سرسبز پہاڑیاں— یہ منظر ایسا تھا جیسے کسی خواب کا حصہ ہو۔ میناروں کی بلندی آسمان کو چھو رہی تھی اور مسجد کے اندرونی ہال کی خاموشی میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
چمکتی ہوئی ٹائلز، دیواروں پر قرآنی آیات کی خطاطی، اور دُور سے آتی اذان کی آواز سب کو ایک لمحے کے لیے جیسے جادو میں جکڑ رہی تھی۔
یہ آٹھوں دوست صبح جلدی نکلے اور سب سے پہلے فیصل مسجد پہنچے۔ سفید مرمر کی یہ عظیم الشان عمارت دیکھ کر سب دنگ رہ گئے۔
“واہ….یہ تو تصویروں میں بھی اتنی خوبصورت نہیں لگتی جتنی حقیقت میں ہے…” سیونگ نے کہا اور اپنے کیمرے کو سیٹ کرنے لگا۔
“چلو سب ایک اچھی سی گروپ فوٹو لیتے ہیں۔۔۔”
جے کیونک نے پرجوش ہو کر کہا۔
لیکن عین اسی وقت، تیزی تائیجون نے موقع دیکھ کر سوہان کی ٹوپی اتار کر بھاگنا شروع کر دیا۔
“ارے۔۔۔ واپس کر، بدتمیز۔۔” سوہان نے غصے سے پیچھا کیا، لیکن تائیجون ہنستے ہوئے پوری مسجد کے صحن میں بھاگتا رہا۔
“یہ باز نہیں آئے گا۔۔۔” ہیوک نے سر ہلاتے ہوئے کہا، اور ہیوک نے ہنستے ہوئے دونوں کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔
دامنِ کوہ پہاڑوں سے نظر آتا جادوئی اسلام آباد
اسلام آباد کے دل میں واقع دامنِ کوہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں سے پورا شہر ایک دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔ بلند پہاڑوں کے دامن میں بیٹھا یہ مقام اپنے خوبصورت قدرتی مناظرات اور پرسکون فضاء کے لئے جانا جاتا تھا۔ یہاں پہنچتے ہی پورے گروپ کا جوش و جذبہ بڑھ چکا تھا۔
جب گاڑی پہاڑی کی طرف چڑھتی گئی، تو منظر تبدیل ہو کر ایک خواب جیسا محسوس ہونے لگا۔ سبزہ زار، درختوں کی قطاریں، اور بلند درختوں کے بیچ سے نظر آنے والا شہر کا پھیلا ہوا منظر— یہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے تھا۔ پہاڑوں کی بلندی پر ہوا میں ٹھنڈک تھی، اور سب دوست ایک دوسرے کے ساتھ اس قدرتی خوبصورتی میں گم ہو گئے تھے۔
دامنِ کوہ پہنچتے ہی ایک نیا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ بلند پہاڑیوں کے دامن میں ایک پورا شہر چمک رہا تھا، سڑکیں سانپ کی طرح بل کھاتی نیچے جا رہی تھیں، اور روشنیوں میں نہائی عمارتیں ایک تصویر کی مانند لگ رہی تھیں۔
یہاں کی ٹھنڈی ہوا نے سب کو تازگی کا احساس دلایا۔ سب نے چائے کے کپ لیے اور لکڑی کے بینچوں پر بیٹھ گئے۔ دور سے فیصل مسجد کے مینار دکھائی دے رہے تھے، اور سامنے نیلا آسمان اور شہر کا پُرسکون منظر تھا۔
“یہ جگہ تو واقعی خُوبصورت ہے۔۔۔”
جے كيونگ نے حیرانی سے کہا۔
“اور یہاں کی چائے بھی۔۔۔۔”
ہیوک نے خوشی سے چائے کا گھونٹ لیا۔
تبھی تائیجون نے چپکے سے ایک مرچ کا پیکٹ کھولا اور ہیوک کی چائے میں ڈال دیا۔
چند لمحوں بعد ہیوک نے ایک گھونٹ لیا اور فوراً ہی اس کا چہرہ لال ہو گیا
“یہ۔۔۔ یہ چائے ہے یا آگ؟” ہیوک نے کھانسنا شروع کیا، اور باقی سب ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے۔
“تائیجون کے بچے۔۔۔”
ہیوک نے غصے سے تائیجون کو پکڑنے کے لیے دوڑ لگائی، اور باقی سب ان کا تماشا دیکھتے رہے۔
مونال – روشنیوں میں نہایا شہر اور مزیدار کھانا۔۔
اسلام آباد کا مونال ریسٹورنٹ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے پورا شہر ایک مختلف نظر آتا تھا۔ پہاڑوں کی اونچائی پر واقع یہ ریسٹورنٹ اپنی خوبصورتی اور دلکش منظر کے لئے مشہور ہے۔ یہاں آ کر نہ صرف آپ بہترین کھانے کا مزہ لیتے ہیں بلکہ ساتھ ہی شہر کی چمکتی ہوئی روشنیاں، سبز پہاڑوں کا منظر، اور ٹھنڈی ہوا کا لطف بھی اٹھاتے ہیں۔ مونال پر پہنچتے ہی ہر طرف روشنیوں کی بہار تھی۔ اوپر پہاڑی پر بیٹھے، نیچے پورے شہر کی جھلملاتی روشنیاں، نرم موسیقی، اور ٹھنڈی ہوا— یہ سب ایک جادوئی ماحول بنا رہے تھے۔
ریسٹورنٹ کی لکڑی کی میزیں، سفید کپڑوں میں ملبوس ویٹرز، اور خوشبو بکھیرتے ہوئے کھانے سب کو مزید پرجوش کر رہے تھے۔
بھوک لگ چکی تھی، تو سب مونال پہنچے، جہاں کھلی فضا میں مزیدار کھانے ان کا انتظار کر رہے تھے۔
“یہاں سے رات کے وقت شہر کی روشنیوں کا منظر بہت خوبصورت لگے گا۔”
سوہان نے کیمرہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
“تب تک کھانے کا آرڈر دو، ورنہ مجھے کسی کا موبائل چرانا پڑے گا۔۔۔”
سو مین نے مذاق کیا، اور سب نے اپنے موبائل فوراً پکڑ لیے۔
“یہ کباب بہت مزیدار ہیں۔۔” جے کیونگ نے مزے سے کہا، لیکن اسی وقت تائیجون نے اس کی پلیٹ سے کباب اٹھا لیا۔
“تائیجون۔۔۔۔میرے کباب واپس دو۔۔”
“لے لو، اگر پکڑ سکتے ہو تو۔۔۔”
تائیجون نے شرارت سے کہا اور کباب ہاتھ میں لیے بھاگ گیا۔
“تم سب واقعی بچوں کی طرح ہو۔۔۔”
ہان وو نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
“اور یہی ہماری دوستی کو خاص بناتا ہے۔۔۔”
رن یون نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیک ویو پارک – جھیل کا سکون اور چمکتی لہریں
راول جھیل کی نیلی سطح پر سورج کی کرنیں پڑ رہی تھیں، اور پانی پر ہلکی ہلکی لہریں چل رہی تھیں۔ کنارے پر سبز گھاس تھی، جہاں فیملیز اور دوست گروپس بیٹھے ہوئے تھے۔
درختوں کی چھاؤں میں بیٹھنا، کشتیوں کا جھیل میں تیرنا، اور دور نظر آتی پہاڑیوں کا عکس پانی میں جھلکنا— یہ منظر سب کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جا رہا تھا۔
“چلو، کشتی میں بیٹھتے ہیں۔۔۔۔” تائیجون نے کہا۔
“نہیں، میں نہیں بیٹھوں گا۔۔۔” سوہان فوراً پیچھے ہٹ گیا۔
“ڈرپوک۔۔۔” ہیوک نے چھیڑا۔
“میں ڈرپوک نہیں، بس پانی میں گرنا نہیں چاہتا۔۔۔”
لیکن اس سے پہلے کہ سوہان کچھ اور کہتا، سو مین نے ایک چھوٹا سا پانی کا چھینٹا اس پر مار دیا۔
“سو مین۔۔۔۔” سوہان نے غصے سے کہا، اور سب ایک بار پھر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔
پاکستان مونومنٹ –روشنیوں میں چمکتی ایک تاریخی علامت
رات کے آسمان پر چاند کی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور چاروں طرف گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔ پاکستان مونومنٹ کی عمارت، جو ایک منفرد فنِ تعمیر کا نمونہ ہے، اپنی چمک دمک کے ساتھ پورے اسلام آباد کی فضاؤں میں یکسر اجالا کر رہی تھی۔
“یہ اتنا خوبصورت ہے۔۔۔” ہیوک نے مونومنٹ کے قریب پہنچ کر کہا۔
“یہ کیا ہے؟” سو مین نے مونومنٹ کی شکل کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“یہ چار پتے والی شکل ہے، جو پاکستان کے چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتی ہے،” سوہان نے بتایا۔
“یہ پاکستان کی وحدت کو ظاہر کرتا ہے۔۔۔”
“تو یہ سب صوبے ہیں جو ایک ساتھ ہیں، جیسے ہم سب۔۔۔” سیونگ نے کہا۔
“تو پھر ہمیں بھی کچھ ایسی مضبوط بنیاد چاہیے، تاکہ ایک ساتھ رہ سکیں۔۔۔” تائیجون نے کہا۔
“یہ جگہ ہمارے لیے ایک سبق ہے، یہ ایک ہی زمین پر رہنے کے باوجود، مختلف ہونے کے باوجود سب ایک ہی ہیں۔”
رن یون نے سنجیدگی سے کہا۔
سب دوست چاندنی رات میں اس مقام کی خوبصورتی سے محظوظ ہو رہے تھے، اور ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے، ان کے دلوں میں ایک نیا احساس پیدا ہو رہا تھا — پاکستان کے اس تاریخی مقام سے محبت اور دوستی کا ایک مضبوط رشتہ۔
رات گہری ہو رہی تھی، لیکن ان آٹھ دوستوں کے قہقہے، شرارتیں، اور خوبصورت یادیں ہمیشہ کے لیے امر ہو چکی تھیں۔
یہ سفر صرف اسلام آباد گھومنے کا نہیں تھا، بلکہ دوستی، ہنسی مذاق، اور ان لمحوں کو قید کرنے کا تھا جو ہمیشہ کے لیے یاد رہیں گے۔
+++++++++++++
کمرے میں ہلکی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ باہر رات کی خاموشی چھائی تھی، بس کبھی کبھار ہوا کے جھونکے کھڑکی کے پردوں کو ہلکا سا سرسرا دیتے۔ جے کيونگ نے کروٹ بدلی، نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اچانک اسے کچھ یاد آیا۔ وہ تیزی سے تائیجون کی طرف مڑا، جو بستر پر نیم دراز تھا اور اپنے فون کی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔
جے کيونگ نے تائیجون کو آواز دی
اوئے۔۔۔۔
تائیجون نے سر اٹھایا
کیا ہوا؟
جے کيونگ کی آنکھوں میں شرارت جھلک رہی تھی
کل تو ہمارا شاپنگ مال جانے کا ارادہ ہے نا؟
تائیجون نے بے دھیانی میں سر ہلایا
ہاں، کل کچھ شاپنگ کرنی ہے۔
جے کیونگ نے گہری سانس لی اور سنجیدگی سے بولا
جب ہم فیصل مسجد سے واپس آ رہے تھے، تو میں نے راستے میں ایک اور مسجد دیکھی تھی۔ بہت خوبصورت تھی۔ میں نے منیجر سے پوچھا کہ ہم وہاں جا سکتے ہیں، لیکن اُس نے سختی سے منع کر دیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ ہم صرف فیصل مسجد دیکھ سکتے ہیں۔
تائیجون نے فون سے نظریں ہٹا کر جون کو دیکھا
تو؟
جے کيونگ نے پُرجوش لہجے میں کہا
تو ہم کل وہاں جائیں گے۔۔۔۔
تائیجون کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں
لیکن کیسے؟
جے کيونگ بولا
چھپ کر! منیجر کو پتہ نہیں چلنے دیں گے۔۔۔۔
تائیجون نے گہری سانس لی
یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔
جے کيونگ نے کہا
ہوگا! جب سب شاپنگ میں مصروف ہوں گے، ہم آہستہ سے سائڈ سے نکل جائیں گے۔ بس تم میرے ساتھ رہنا، باقی میں سنبھال لوں گا۔۔۔۔۔
تائیجون نے بے یقینی سے سر جھٹکا
یہ خطرناک لگ رہا ہے۔ اگر پکڑے گئے تو؟
جے کيونگ نے سنجیدگی سے کہا
پکڑے تو گئے تو زیادہ سے زیادہ ڈانٹ پڑے گی۔ لیکن یار، وہ مسجد واقعی خوبصورت تھی، میں اسے قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں۔
تائیجون نے کچھ لمحے سوچا، پھر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا
ٹھیک ہے، لیکن اگر کچھ گڑبڑ ہوئی، تو میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔۔۔۔
جے کيونگ خوشی سے بولا
ڈیل۔۔۔۔
تائیجون نے جھجکتے ہوئے کہا
ڈیل۔۔۔۔
دونوں مسکرائے۔ ایک خفیہ مہم کی تیاری مکمل ہو چکی تھی۔
+++++++++++++
اگلی صبح، یہ سب شاپنگ مال پہنچ چکے تھے اور وہاں اتنی بھیڑ تھی کہ تائیجون اور جے کیونگ کو آسانی سے نکلنے کا موقع مل گیا۔ اِدھر، اتنی بھیڑ میں رن یون کی ٹکر ایک لڑکی سے ہوئی اور اس کا چہرا جو نقاب سے چھپایا ہوا تھا، وہ اچانک کھل گیا۔ بس ایک لمحے کی جھلک رن يون کو نظر آئی اور پھر لڑکی فوراً اپنا نقاب دوبارہ ٹھیک کرنے لگی، لیکن اس کا چہرہ لرز رہا تھا اور وہ رونے لگی۔
آہ ہ ہ ہ! یہ مجھ سے کیا ہوگیا؟ یا اللہ، مجھے معاف کر دے! میری غلطی نہیں، میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا، پر مجھ سے اتنی بڑی غلطی کیسے ہوگئی؟ وہ مسلسل روتے ہوئے خود کو ملامت کر رہی تھی۔
رن یون نے فوراً معذرت کی، سوری، سوری! آئی ایم سوری! آپ کو تو لگی تو نہیں ، یہ غلطی سے ہو گیا، میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ۔ رن یون کو اردو زبان آتی تھی اسی لیے وہ اس بات کو با آسانی سمجھ سکتا تھا اور وہ آرام سے اردو بول بھی سکتا تھا
لیکن لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا، بس روتی جا رہی تھی۔ رن یون نے پھر کوشش کی،
ہیلو، سنے! رونے کی وجہ تو بتائیے! میں معافی مانگ رہا ہوں نہ، مُجھے سے غلطی سے لگ گیا۔
اتنے میں اُس کی دوست اِسے ڈھونڈے یہاں تک آ پہنچی اور آ کر اس سے ایسے زمین میں بیٹھے روتا دیکھا پریشان ہوتی پوچھنے لگی ،
یار، کیا تم ٹھیک ہو؟ کیا ہوا؟ یہاں نیچے بیٹھ کر کیوں رو رہی ہو؟
یار مُجھے سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے اللّٰہ تعالیٰ مُجھے معاف تو کر دیں گے نہ ؟ اس نے دل ہی دل میں خود کو تسلی دینے کی کوشش کی، مگر دل میں ایک عجیب سی بےچینی بھی تھی۔
سنے مُجھے سے غلطی سے ٹکرا لگ گئی تھی تو یہ نیچے بیٹھ کر رونے لگی ویسے چوٹ لگانی تو نہیں چاہئے پر یہ اتنا رو رہی ہیں تو لگتا ہے کہ ان کو چوٹ لگ گئی ہے،میں معافی بھی مانگ رہا ہوں پر یہ میری بات سننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔۔۔
رن یون کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے یہ لڑکی تو اُس کی بات کا جواب ہی نہیں دے رہی تھی اوپر سے اتنا روئی جا رہی تھی صِرف ہلکا سا تو ٹکر لگا تھا، اسی لیے اُس نے اس کی دوست کو مخاطب کر کے معافی مانا ہی اس وقت درس لگا
اوہ کوئی بات نہیں اٹس اوکے آپ جائے اور یہ لڑکوں سے بات نہیں کرتی ہی اسی لیے جواب نہیں دے رہی۔۔۔ وہ رن یون کو مطمئن کرتی اب اپنی دوست کی طرف متوجہ ہوگئی تھی
یار اُٹھو چلو گھر یہاں سب دیکھنے لگ جائے گا ہمیں تُم ایسے بیٹھ کر رو گی یہاں تو۔۔۔ اس نے اس کی حالت دیکھ کر کہا، اور پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے، اسے اٹھانے کی کوشش کی۔
یار صوفیہ مُجھے سے اتنی بڑی غلطی کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں پچھتاوا اور دل میں تذبذب تھا
رن یون تو صرف اُسے دیکھ جا رہا تھا اور اُس کے دماغ میں کہیں سوال جنم لے رہے تھے
یار غلطی سے ہُوا نہ اللّٰہ تعالیٰ معاف کر دیں گے، ہمارا اللّٰہ بہت مہربان ہے۔۔۔۔ اُس کی دوست کو سمجھ تو نہیں آیا تھا، کہ وہ کس غلطی کے بارے میں بات کر رہی ہے لیکن اُس کی بتاؤ سے تھوڑا بہت انداز لگا کر اُس نے اُس کو تسلی دی پھر وہ اُس کو اٹھتی سمجھتے سمجھتے اپنے ساتھ لے گئی
پردہ کے پیچھے اتنا حسین چہرا پر ؟ صِرف ایک جھلک دیکھی تھی رن یون نے اُس کی اور اُسے اُس لڑکی کا چہرہ بیحد دلکش اور تناسب میں تھا، نرم و گلابی گال، ۔ اس کی آنکھیں، جو گویا گہرے سمندر کی طرح پرکشش تھیں، ایک زبردست کشش رکھتی تھیں، اس کی پلکیں گھنی اور طویل، جیسے کوئی خوبصورت خواب کی تصویر ہو ۔
یہ اپنے چہرے کو چھپا کر کیوں رکھتی ہے ؟
اور یہ صرف اسی لیے رو رہی کہ اسے ٹکرا لگ گئی؟
کیا عجیب لڑکی ہے سمجھ کے باہر ہے، پر ہے بہت پیاری۔
اور رو بھی رہی اتنے اچھے سے، پر رو کیوں رہی تھی ؟
اور لڑکوں سے بات کیوں نہیں کرتی ؟ بہت سے سوال تھے جو اِس وقت اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے
وہ اپنے انھیں سوچو میں گھوم تھا کہ سیونگ اُس کے پاس آیا بھائی او بھی سنو
ہاں،کیا ہوا ؟ وہ اپنے سوچوں سے نکلتے فوراً کہا
وہ جے کیونگ اور تائیجون کہاں ہیں مل نہیں رہے۔۔۔ ؟
یہیں کہیں ہوگئیں ڈھونڈوں،
رن یون زیادہ پریشان بھی ہُوا کیوں کہ وہ جانتا دونوں اپنی مستی میں مگن اِدھر اُدھر ہوجاتے تھے
+++++++++++++
تائیجون اور جے کیونگ مسجد کے دروازے پر رُکے۔ باہر کی دنیا کی ہلچل، شور اور ہنگامہ جیسے کہیں بہت دور رہ گیا تھا۔ مسجد کے احاطے میں قدم رکھتے ہی ایک نرم، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا، جیسے کسی نادیدہ قوت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ہو۔
چمکدار سفید سنگِ مرمر کی ٹائلیں ان کے قدموں تلے ٹھنڈی پڑ رہی تھیں، اور سامنے ایک دلکش حوض تھا جس کے گرد رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ میناروں کی پرشکوہ بلندیوں کے نیچے درختوں کی ہریالی اور پھولوں کی خوشبو ایک الگ ہی روحانی فضا پیدا کر رہی تھی۔ جے کیونگ نے ایک گہری سانس لی اور ارد گرد کا جائزہ لینے لگا، جب کہ تائیجون کے چہرے پر ہلکی سی حیرانی تھی۔
جے کيونگ نے جھجکتے ہوئے کہا
ہم اندر جا سکتے ہیں؟
جے کیونگ کو منیجر کی بات یاد آئی تھی، کہ ہم صرف فیصل مسجد ہی دیکھ سکتے ہیں،اور کہیں جانے کی ہمیں اِجازت نہیں، اُس نے پاس کھڑے ایک بزرگ سے پوچھا جو وائٹ شلوار قمیض میں ملبوسِ مسجد کے داخل دروازے سے اندر داخل ہورہے تھے
بزرگ نے مسکرا کر جواب دیا
یہ اللہ کا گھر ہے، یہاں کسی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
(بزرگ کو انگریزی آتی تھی، اس لیے وہ بات آسانی سے سمجھ گئے اور آرام سے جواب دیا۔)
جے کيونگ نے حیرت سے تائیجون کی طرف دیکھا
تو کیا ہم ایسے ہی اندر چلے جائیں؟
بزرگ نے نرمی سے سر ہلایا
بس جوتے اتارنے ہوں گے۔
تائیجون نے فوراً اپنے برانڈڈ جوتوں کی طرف دیکھا اور ابرو چڑھائے
جوتے؟ مگر کیوں؟ یہ میرے برانڈ شوز ہیں۔۔۔
بزرگ نے دھیرے سے جواب دیا
یہ پاک جگہ ہے۔ یہاں ننگے پاؤں داخل ہوتے ہیں، ادب اور پاکیزگی کے ساتھ۔
جے کيونگ فوراً جھک کر جوتے اتارنے لگا، تائیجون نے کچھ لمحے سوچ کر سر ہلا دیا۔
تائیجون نے پھر پوچھا
یہاں کون کون آ سکتا ہے؟ اگر ہم مسلم نہیں ہیں، تو کیا ہم اندر نہیں جا سکتے؟
بزرگ نے محبت بھری نظروں سے کہا
یہ اللہ کا گھر ہے، یہاں ہر کوئی آ سکتا ہے۔ چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، امیر ہو یا غریب، سب برابر ہیں۔ اللہ کسی کا رنگ، نسل یا مذہب نہیں دیکھتا، وہ صرف دلوں کو دیکھتا ہے۔
یہ الفاظ سن کر دونوں چند لمحے خاموش کھڑے رہے۔ مسجد کی پرنور فضا میں وہ پہلی بار ایک عمارت کو صرف عمارت نہیں بلکہ روح کی پناہ گاہ کے طور پر محسوس کر رہے تھے۔
جے کيونگ نے آہستگی سے کہا
یہاں تو سب نے روایتی لمبے کپڑے پہنے ہیں، ہمارے پاس تو ایسا کچھ نہیں… تو کیا ہم اندر جا سکتے ہیں؟
بزرگ مسکرا دیے
کیوں نہیں؟ اللہ یہ نہیں دیکھتا کہ تم نے کیسے کپڑے پہنے ہیں، بس تم پاک صاف ہو اور تمہاری نیت صاف ہو۔
دونوں اندر داخل ہوئے۔ ہلکی روشنی میں مسجد کی دیواروں پر کندہ نقش و نگار چمک رہے تھے۔ فضا میں ایک عجیب سکون تھا۔
تائیجون نے آگے دیکھا۔ کچھ لوگ ترتیب سے کھڑے ہو رہے تھے، جھک رہے تھے، بیٹھ رہے تھے۔ وہ حیران ہوا
یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ کبھی کھڑے ہو رہے ہیں، کبھی جھک رہے ہیں… کیا یہ کوئی ایکسرسائز ہے؟
جے کيونگ نے کندھے اچکائے
پتہ نہیں… شاید۔
تائیجون نے قریب بیٹھے بزرگ کی طرف اشارہ کیا
چلو ان انکل سے پوچھتے ہیں۔
وہ دونوں آہستہ سے بزرگ کے قریب گئے، جے کيونگ نے ادب سے کہا
معاف کیجیے گا، یہ سب لوگ کیا کر رہے ہیں؟
بزرگ مسکرا دیے
یہ نماز پڑھ رہے ہیں، اللہ سے بات کر رہے ہیں۔
تائیجون نے حیرت سے دہرایا
اللہ سے بات؟
بزرگ بولے
ہاں، نماز دعا ہے۔ اللہ کے ساتھ ایک تعلق، ایک مکالمہ۔ یہ کوئی عام ورزش نہیں بلکہ روح کی مشق ہے۔
جے کيونگ کی آنکھیں جھک گئیں، دھیرے سے بولا
کیا ہم بھی اللہ سے بات کر سکتے ہیں؟
بزرگ نے شفقت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا
ہاں، بالکل۔
اچانک تائیجون کا فون بجا۔ اس نے جلدی سے اسکرین دیکھی اور بولا
بھائی، ہمیں چلنا ہوگا۔ رن یون کی بہت میسجز آ رہی ہیں۔
جے کيونگ نے مسجد کے سکون کو آخری بار محسوس کیا اور آہستگی سے کہا
کیا ہم یہاں دوبارہ آ سکتے ہیں؟
بزرگ نے نرمی سے سر ہلایا
ہاں، جب چاہو آ سکتے ہو۔
جے کيونگ نے جھجکتے ہوئے پوچھا
رات کے تین بجے بھی؟
بزرگ کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ آئی
ہاں، بیٹا، رات کے تین بجے بھی۔ اللہ کا گھر ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اگر دل گھبرائے یا بے سکونی ہو، تو تب بھی آ سکتے ہو۔
تائیجون نے جے کيونگ کی طرف دیکھا۔ جے کيونگ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا، جیسے اس نے اپنے سوال کا جواب پا لیا ہو۔
ہمم… شکریہ۔
وہ دونوں مسجد سے نکلے۔ باہر ٹھنڈی ہوا نے ان کا استقبال کیا۔ شہر کی روشنیاں دور چمک رہی تھیں، لیکن جے کيونگ کے دل میں آج ایک نئی روشنی جاگ چکی تھی۔
وہ شاپنگ مال کی طرف بڑھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے رکا، پیچھے مڑ کر مسجد کو دیکھا، اور دل ہی دل میں سکون محسوس کیا…
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
