Bashar Episode 3 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر  ۳

شاپنگ مال کی چمکتی روشنیوں میں لوگوں کا شور،  اور دوڑتی بھاگتی زندگی کا شور، سب کچھ اپنی جگہ تھا۔ لیکن رین یون کے دل میں جو شور مچا ہوا تھا، وہ سب سے بڑھ کر تھا۔ وہ اس اجنبی چہرے کو ڈھونڈنے آیا تھا جسے وہ پہلی ہی ملاقات کے بعد بھول گیا تھا۔ عجیب تھا نا؟ چہرہ بھلا بیٹھا مگر دل کے کسی کونے میں وہ موجود تھی وہ بار بار سیڑھیاں اترتے، کبھی دکانوں کے سامنے رکتے، کبھی راہداریوں میں بے مقصد گھومتے۔ دل کہتا تھا، وہ ملے گی… ضرور ملے گی۔

سیونگ بے زاری سے اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
بھائی! یہ مال ہے، کسی کا گھر نہیں کہ تمہیں وہ لڑکی مل جائے گی۔ اتفاق تھا، بس اتفاق۔ اب دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔

رین یون کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آئی،
جانتا ہوں… مگر میرا دل کہتا ہے کہ وہ ضرور ملے گی۔ اور پتا نہیں کیوں، میں اپنے دل کی آواز کو جھٹلا نہیں سکتا۔۔۔۔

سیونگ نے ہار مان کر گھڑی دیکھی۔
کتنے چکر لگا لیے ہیں ہم نے اس مال کے۔ اگر وہ ملنی ہوتی تو کب کی مل چکی ہوتی۔ اب چلو، بھوک سے برا حال ہے۔۔۔

رین یون نے گردن جھکائی۔
ٹھیک ہے، کچھ کھا لیتے ہیں۔

وہ دونوں اب شاپنگ مال کے پاس ہی کیفے چلے گئے
کیفے کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر جب سیونگ چیزیں لینے گیا تو رین یون تنہا رہ گیا۔ اور پھر وہ لمحہ آیا— وہ لمحہ جس پر شاید تقدیر کی مہر لگی تھی۔

وہ لڑکی، بالکل ویسی ہی، بھورے حجاب میں، چہرہ مکمل ڈھانپے، اس کے سامنے کھڑی تھی۔ رین یون کی نظریں حیرت میں جم گئیں۔
دل زور سے دھڑکا۔ کیا یہ خواب ہے؟ یا حقیقت؟

لڑکی نے دھیمی، لیکن پر یقین آواز میں کہا
میرا چہرہ یاد نہیں رہا نا آپ کو؟ دیکھ لیجیے، یہ ہے میرے اللہ کا کرم۔۔۔۔

رین یون کی حیرانی دوچند ہو گئی۔
تمہیں کیسے پتا کہ میں تمہارا چہرہ بھول چکا ہوں؟

اس کے لبوں پر خاموش مسکراہٹ تھی۔
کیوں کہ مجھے اپنے اللہ پر یقین تھا۔ یہ میری تہجد کی دعاؤں کا اثر ہے۔ اور پھر میری کی گئی تہجّد کی دعا کیسے رد ہو سکتی ہے؟

رین یون نے بے یقینی سے سر جھٹکا۔
ایسا… ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔

ہوا ہے۔ آپ ہی کے ساتھ ہوا ہے۔ یقین نہیں آتا تو نہ سہی۔۔ وہ سرد لہجے میں بولی اور پلٹنے لگی۔
اُس کی بات مکمل ہوچکی تھی۔۔

اسی لمحے سیونگ ہاتھ میں فرائز اور جوس لیے لوٹا۔ رین یون نے بے اختیار آواز دی
ایک بات تو سنو…

وہ رک گئی، اور سرد لہجے میں پلٹ کر دیکھنے لگی۔
حد میں رہیے۔ ایسا نہ ہو کہ میں آپ کو کچھ ایسا کہہ دوں جو آپ برداشت نہ کر سکیں۔ آئندہ مُجھے پیچھے سے آواز دینے یا روکنے کی کوشش ہرگز نہیں کیجئے گا۔۔

رین یون کے لب سی گئے، لیکن سیونگ کا خون کھول اٹھا۔
او لڑکی! تمیز سے بات کرو۔۔۔۔

سیونگ کو اُس نے نظر انداز کیا وہ اب بھی رین یون کی طرف ہی دیکھ رہی اور اُس سے ہی مخاطب تھی
اگر دوبارہ مجھے کہیں دیکھیں تو اپنی نظریں پھیر لیجئے گا… ورنہ اس سے بھی زیادہ برا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔

یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے وہاں سے نکل گئی۔

سیونگ بھڑک اٹھا۔
یہ تو حد ہی ہو گئی۔ کتنا بدتمیز لہجہ تھا اس کا! مطلب کیا تھا اس کی باتوں کا؟

رین یون نے فرائز اس کے ہاتھ سے لے کر سامنے رکھے اور آہستگی سے بولا
تمہیں بھوک لگی تھی نا… اب خاموشی سے بیٹھو اور کھاؤ۔

سیونگ حیران تھا۔
کتنی بے تمیز لڑکی ہے، تمہیں کیا سمجھ ہُوا، اسی کو تُم ڈھونڈ رہے تھے نہ پاگلوں کی طرح۔۔۔۔

کہا نہ چُپ کر کے کھاؤ۔۔۔۔
رین یون نے غصے سے سیونگ سے کہا جس پر سیونگ کا منہ بند ہوگیا

ہاں صِرف مُجھے ہی چُپ کروا سکتے ہو تُم اُس لڑکی کے سامنے تو کچھ بولا نہیں گیا سیونگ غصے سے بولا ٹیبل پر بیٹھا اور چپس کھانے لگا۔۔

رین یون نے نظریں جھکا لیں۔ سیونگ کی بات دل کو لگی تھی، مگر وہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ اندر کہیں نہ کہیں وہ جانتا تھا کہ اُس لڑکی کے سامنے بول نہ پانے کی وجہ کمزوری نہیں تھی… کچھ اور تھا، کوئی ایسا کھچاؤ جو الفاظ کو لبوں تک آنے ہی نہیں دیتا تھا۔

سیونگ نے خالی جوس کا گلاس ٹیبل پر زور سے رکھا اور رین یون کو گھورتے ہوئے بولا
پاگل ہو گئے ہو بھائی! اتنی بدتمیز لڑکی کے پیچھے دماغ کیوں خراب کر رہے ہو؟ دنیا میں اور لڑکیاں نہیں ہیں کیا؟

رین یون نے آہستہ سر اُٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک انجانی روشنی تھی۔
نہیں سیونگ… وہ مختلف ہے۔ باقیوں جیسی نہیں۔

سیونگ طنزیہ ہنسا
ہاں بالکل! باقی سب معصوم پریاں ہیں اور یہ خاص لڑکی آندھی۔۔۔۔ لیکن تمہارے دل کو بس یہی پسند آئی۔ واہ بھئی واہ۔۔۔۔

رین یون کرسی سے ٹیک لگا کر خاموش ہو گیا۔ سیونگ کو لگا شاید اس نے ہار مان لی، مگر حقیقت میں وہ اپنے دل کی دھڑکن سن رہا تھا۔ جیسے وہ لڑکی اُس کے دل پر دستک دے کر چلی گئی ہو۔

چند لمحے خاموشی میں گزر گئے۔ پھر رین یون کے لبوں پر دھیرے سے مسکراہٹ آئی۔
سیونگ… کبھی کبھی دل کے فیصلے عقل سے بڑے ہوتے ہیں۔۔

سیونگ نے غصے سے کہا اور کبھی دل کے فیصلے بربادی بھی لے آتے ہیں۔

رین یون نے کوئی جواب نہ دیا۔ بس چپ چاپ فریز اُٹھا کر کھانے لگا، مگر اُس کی آنکھوں میں وہی سرد لہجہ گونج رہا تھا
آئندہ اگر مجھے کہیں دیکھیں تو اپنی نظریں پھیر لیجئے گا … ورنہ اس سے بھی زیادہ بُرا ہو سکتا ہے۔

وہ الفاظ تیر کی طرح دل میں اتر گئے تھے، اور یہی الفاظ اب اُس کے سفر کی شروعات بننے والے تھے۔

+++++++++++++

دینو ویلی کی وادی میں سبز پہاڑوں کے سائے، ٹھنڈی ہوا کی سرسراہٹ اور ندی کی نرم لہریں دونوں دوستوں کے درمیان خاموشی کا ایک خوبصورت پردہ بنائے ہوئے تھیں۔ دور کہیں پرندوں کی آوازیں گونج رہی تھیں اور قریب ہی ڈھابے پر ابلتی چائے کی خوشبو فضا میں گھل کر منظر کو اور بھی دلکش بنا رہی تھی۔

سومین پتھروں پر بیٹھا ندی کی لہروں کو گھورتے ہوئے بولا
تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم کرسچن ہو؟

ہان وو نے ندی میں ایک چھوٹا سا کنکر پھینکا اور ہلکے سے مسکرایا
کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی… ورنہ میں تو ہر چھٹی پر دادی اور امّاں کے ساتھ چرچ جاتا ہوں میں۔

سومین نے گردن موڑی، پہاڑوں کی سبز ڈھلوان پر نظر ڈالی اور کہا  ہاں، میری فیملی بھی جاتی ہے۔

ہان وو نے چونک کر پوچھا
تو پھر تم کیوں نہیں جاتے؟

سومین نے ہاتھ کی انگلیوں سے زمین پر لکیریں کھینچتے ہوئے سر جھکا لیا۔
I am not interested…

ہان وو کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی، وہ سیدھا بیٹھ گیا۔ کیا کہہ رہے ہو؟

سومین نے ندی پر نگاہ جمائی، لہروں میں جیسے اپنے خیالات ڈھونڈ رہا ہو
میرا مطلب ہے… میں وہاں کیوں جاؤں؟ میرا کیا مقصد ہے وہاں جانے کا؟

ہان وو کی آواز بھاری ہوگئی
وہ خدا ہے ہمارا۔۔۔۔

سومین نے بے نیازی سے کندھے اچکائے، چہرے پر ہلکی سی بیزاری کے ساتھ کہا
ہے… تو جب مجھے اس کی ضرورت پڑے گی، میں چلا جاؤں گا۔

چلو جب ضرورت پڑے تب چلے جانا۔۔۔
ہان وو نے بس اتنا کہا اور اب وہ دونوں اُٹھ کر باہر کی طرف جانے لگے

++++++++++++++++

گھوم پھر کر وہ سب ہوٹل واپس آچکے تھے۔
ہوٹل کی تیسری منزل پر کمرے کی کھڑکیاں بند تھیں، مگر باہر رات کی ٹھنڈی ہوا آ کر پردوں کو ہلکی سی جنبش دے رہی تھی۔ کمرے کی ہلکی مدھم روشنی میں ہر کوئی اپنے بستر پر جا چکا تھا، لیکن نیند… وہ دو دلوں سے روٹھ چکی تھی…

دو دل بے چین تھے۔
ایک رین یوں کا۔
اور دوسرا۔۔۔ جے کیونگ کا۔

جے کیونگ نے آنکھیں بند تو کر لی تھیں، مگر دماغ اب بھی اسی منظر میں اٹکا ہوا تھا سڑک پر بکھرا ہوا خون، ٹوٹی ہوئی گاڑی، اور وہ زخمی شخص جس کے ہلتے لب کچھ کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔

وہ کیا کہہ رہا تھا؟
جے کیونگ نے اپنے دل میں سوال کیا۔
اسے یوں لگا جیسے وہ شخص اردگرد کے لوگوں سے مدد مانگ رہا تھا۔ مگر پھر ہان وو کی بات یاد آئی—
وہ خدا سے دعا مانگ رہا تھا…

جے کیونگ نے کروٹ بدلا۔ دل میں ایک کسک سی اٹھی۔
لیکن اگر وہ دعا مانگ رہا تھا… دعا میں زندگی مانگ تھا تھا ؟ تو اسے زندگی ملی کیوں نہیں؟

بےچینی بڑھتی گئی۔ آخر اس نے جھنجھلا کر آواز دی
تائیجون… اوئے تائیجون… اٹھ، میری بات سن۔

تائیجون نے بیزاری سے کروٹ بدلی، نیند بھری آواز میں بولا کیا ہے؟

سویا نہیں تو؟ جے کیونگ نے حیرانی سے پوچھا گویا وہ یہ کیسا غضب ہُوا تھا وہ اُس کی ایک ہی آواز میں اٹھا گیا تھا۔۔۔۔

سو رہا تھا، آپ کی مہربانی سے اب جاگ چکا ہوں۔ بولیے سرکار، کس جرم کی پاداش میں اس ناچیز کو نیند سے جگایا ہے؟ تائیجون نے طنزیہ لہجہ میں کہا

مجھے نیند نہیں آرہی۔ جے کیونگ نے بےچینی سے کہا

یہ سنتے ہی تائیجون یکدم اٹھا اور غصے سے اس کا گریبان پکڑ لیا۔
ابے سالے! تُو نے مجھے نیند سے صرف اس لیے جگایا کہ تُجھے نیند نہیں آرہی؟

جے کیونگ نے اس کی مٹھی پکڑ کر دھیرے سے کہا
ابے میں پریشان ہوں…

تائیجون کے غصے کی جگہ اب سنجیدگی نے لے لی۔ اس نے دھیرے سے پوچھا
کیا ہوا؟ کس محبوبہ کی یاد آرہی ہے تجھے؟

جے کیونگ نے تیزی سے سر نفی میں ہلایا۔
وہ لڑکا… وہ جو ایکسیڈنٹ میں تڑپ رہا تھا… وہ کیا بول رہا تھا؟ مجھے جاننا ہے۔ جب تک یہ پتہ نہیں چلے گا، میں بےچین رہوں گا۔

تائیجون نے شانے اچکائے،
ہان وو نے بتایا تھا نہ… وہ دعا مانگ رہا تھا۔

جے کیونگ کی نظریں خلا میں جا ٹھہریں۔ نہیں… مجھے لگتا ہے وہ ہم سے مدد مانگ رہا تھا۔ لیکن اگر وہ دعا مانگ رہا تھا، تو کیا مانگ رہا تھا؟ کیسے مانگ رہا تھا؟ اور اگر وہ دعا میں زندگی مانگ تھا تو زندگی اُسے ملی کیوں نہیں؟

تائیجون نے بیزاری سے کہا
مجھ سے کیوں پوچھ رہا ہے؟ مجھے اردو تھوڑی آتی ہے! اور تو بھی کیا ایک ہی بات کو لے کر بیٹھ گیا ہے، چھوڑ دے دفعہ کر جو بھی بول رہا تھا وہ۔۔۔۔

جے کیونگ نے بےبسی سے کہا نہیں کر پارہا ہوں نہ دفعہ۔۔۔۔۔

تائیجون نے کمر پر ہاتھ مارا اور تکیے پر گر گیا۔
پاگل ہے بالکل… ابھی جا کے سو جا۔ صبح نکلنا ہے ہمیں۔

جے کیونگ نے آہ بھری اور چھت کو گھورتے ہوئے کہا
کاش تُو سمجھ پاتا تائیجون… یہ بس ایک حادثہ نہیں تھا۔ وہ لڑکا… اُس کی آنکھوں میں کچھ تھا۔ جیسے آخری پل میں اُس نے مجھ سے کچھ کہنا چاہا ہو۔

تائیجون نے کروٹ بدلا، آنکھیں موندتے ہوئے طنز کیا
ہاں، اور تُو دنیا کا سب سے بڑا مترجم ہے نا، جو خون میں لتھڑے ہونٹوں سے پوری تقریر سن آیا۔

نہیں… یہ بات مذاق کی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں جاننا کہ وہ کیا مانگ رہا تھا، کس سے مانگ رہا تھا۔ اگر خدا سے مانگ رہا تھا تو پھر کیوں نہیں ملا اُسے؟

تائیجون نے چڑ کر لحاف منہ تک کھینچا اور بیزاری سے بولا
ابے جا… دفعہ ہو! بھائی سے جا کے پوچھ لے، اُنہیں آتی ہے اردو۔ مجھے تنگ مت کر۔

جے کیونگ نے بے بسی سے کہا
بھائی سے پوچھا تو تھا گاڑی میں… بتایا ہی نہیں۔

تائیجون نے آنکھیں موندے ہوئے کہا
ابھی جا کے دوبارہ پوچھ۔ بتا دیں گے۔

جے کیونگ نے سر جھٹکا۔
ابھی تو سو رہے ہوں گے…

ہاں تو کیا ہوا؟ جیسے مجھے اُٹھا لیا ویسے ہی بھائی کو بھی اٹھا دے۔

جے کیونگ نے مایوسی سے آہ بھری۔
بھائی نے نہیں بتایا تو؟

تائیجون نے آنکھ کھولی، اُس کی طرف دیکھا اور شوخی سے مسکرا دیا۔
جیسی معصوم شکل ابھی بنا کے بیٹھا ہے نا… ویسی ہی بھائی کے سامنے بنا لینا۔ یقین کر، فوراً بتا دیں گے۔

اچھا۔۔۔۔ جے کیونگ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا

تائیجون اٹھا حیرت سے اُس کا منہ کھولا
سچ میں چلا گیا کیا پاگل آدمی ہے۔۔۔۔

زخمی آدمی کو لے کر پاگل ہوا جارہا ہے۔۔۔۔ وہ پھر بڑبڑایا اُسے پھر یاد آیا وہ تو وہی مرچکا تھا۔۔۔
زخمی آدمی سوری مرا ہُوا آدمی۔۔۔ وہ خود کو ٹھیک کرتا نیند کی وادی میں اُتر گیا ۔۔۔

++++++++++-

جے کیونگ دروازے کے سامنے خاموش کھڑا تھا۔
ہاتھ بار بار دروازہ کھٹکھٹانے کو اٹھتا، مگر پھر رک جاتا۔
دل کہہ رہا تھا نوک کر دو…
اور دماغ روک رہا تھا، وقت دیکھا ہے؟

ابھی وہ فیصلہ کر ہی رہا تھا کہ دروازہ ہلکا سا چرچرا کر خود ہی کھل گیا۔
رین یون دروازہ کھولتے ہی سامنے کھڑے جے کیونگ کو دیکھ کر چونکا…

رین یون کی آنکھوں میں تعجب تھا،
تم… اس وقت یہاں؟ خیریت؟

جے کیونگ نے نظریں چرا کر دھیرے سے کہا،
وہ… مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔

نیند تو مجھے بھی نہیں آ رہی ہے۔ رین یون نے دھیرے سے کہا

جے کیونگ نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا…

رین یون نے چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھا، پھر بولا،
اچھا… چلو، باہر چلتے ہیں۔ کمرے میں کچھ عجیب سی گھٹن محسوس ہو رہی ہے۔ میں ابھی باہر ہی جا رہا تھا۔۔۔

جے کیونگ نے سر ہلایا پھر دونوں آہستہ آہستہ راہداری کی طرف بڑھے۔

رین یون نے دھیرے سے کہا،
اب بتاؤ، کیا پوچھنا تھا تمہیں؟

جے کیونگ نے کچھ لمحے خاموش رہ کر نظریں جھکائیں،
وہ… وہ زخمی آدمی… وہ کیا کہہ رہا تھا؟

رین یون نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کون سا زخمی آدمی؟

وہی… آج صبح جس کا ایکسڈنٹ ہُوا تھا۔۔۔ جے کیونگ کے لہجے میں ایک عجیب سا اضطراب تھا۔

مجھے لگتا ہے وہ ہم سے مدد مانگ رہا تھا… یا شاید اپنے خدا سے مدد مانگ رہا تھا۔
لیکن… اگر وہ اپنے خدا سے مدد مانگ رہا تھا، تو اس کے خدا نے اس کی مدد کیوں نہیں کی؟

رین یون نے لمحہ بھر خاموشی اختیار کی۔ اس کی نظریں کہیں بہت دور جا ٹھہریں،

کچھ دیر بعد اس نے دھیرے سے کہا،
وہ نہ ہم سے مدد مانگ رہا تھا… نہ اپنے خدا سے۔

جے کیونگ نے الجھ کر پوچھا،
تو پھر وہ کیا کہہ رہا تھا؟

رین یون نے سانس بھر کر کہا،
وہ گواہی دے رہا تھا…

جے کیونگ کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔۔
گواہی؟ کس چیز کی گواہی…؟

رین یون کی آواز میں نرمی تھی مگر لہجے میں ایک گہری سنجیدگی، اس بات کی… کہ وہ ایک خدا کو مانتا ہے۔

لیکن کیوں؟ وہ مرنے کی حالت میں تھا… اور وہ کہہ رہا تھا، میں صرف ایک خدا کو مانتا ہوں… جے کیونگ کو یہ بات کچھ سمجھ بھی آرہی تھی۔۔

رین یون نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر دھیرے سے کہا
ہاں… اس نے کہا،
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں…

جے کیونگ کے ذہن میں جیسے دروازے کھلنے لگے تھے،
مرنے کے لمحے… ایک خدا… گواہی… کیوں؟
اس نے مدھم آواز میں کہا،
وہ تو آخری سانسوں پر تھا… پھر بھی یہی کہہ رہا تھا؟ کیوں ؟؟

رین یون نے نفی میں سر ہلایا۔
مجھے نہیں معلوم اس کا تو۔۔۔لیکن وہ اُس وقت اردو بھی نہیں کہہ رہا تھا عربی بول رہا تھا۔۔۔

یہ ان لوگوں کو عربی بھی آتی ہے۔۔۔
جے کیونگ نے حیرانی سے پوچھا

باقی کا تو پتہ نہیں لیکن اُس کو آتی تھی۔۔۔ شاید ان کی مذہبی کتاب عربی میں ہے۔۔۔
رین یون نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔

جے کیونگ نے آہستہ سے کہا،
لیکن بھائی… مجھے ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔ کیا مرتے وقت مدد مانگنے سے زیادہ ضروری خدا کو ماننا تھا…؟؟

وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر جیسے خود سے بات کر رہا ہو، مدھم لہجے میں بولا،
کیا خدا کو ماننا اتنا ضروری ہے۔۔۔؟؟

اُس کے لیے ہوگا ضروری۔۔۔
رین یون نے سنجیدگی سے کہا

اچھا تُم کیوں پریشان ہو۔۔۔
جے کیونگ نے دھیرے سے پوچھا،

رین یون نے نظریں جھکا کر ہلکا سا سانس لیا، پھر مسکرا کر بولا،
آج… میں نے پہلی بار اپنے آپ کو کسی کی آنکھوں میں بالکل عام محسوس کیا۔
بے حد عام… بیچ میں کچھ بھی نہیں، نہ کوئی خاصیت، نہ کوئی پہچان… بالکل عام۔
اس کی آواز اور دھیرے ہو گئی۔
مجھے آج تک…
تم سب کے سامنے، اپنی فیملی کے سامنے بھی،
اتنا عام محسوس نہیں ہوا جتنا اس لمحے ہوا تھا۔
جیسے میں کبھی کچھ تھا ہی نہیں… بس ایک عام سا انسان۔
مجھے ہمیشہ لگتا تھا…
میں جو چاہوں حاصل کر سکتا ہوں۔
کسی کے پاس یہ طاقت ہی نہیں کہ مجھے ‘نہیں’ کہہ سکے۔
میری خواہشیں… میرا اختیار…
سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔
وہ لمحہ بھر کو رکا، سانس بھاری ہو گئی۔
لیکن آج… ایک دم سے کسی نے مجھے آئینہ دکھا دیا۔
ایسا آئینہ جس میں میرا غرور، میرا یقین، میرا سب کچھ ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا۔
جیسے ایک لمحے میں مجھے سمجھ آ گئی ہو کہ میں… میں کچھ نہیں ہوں۔ میں وہ نہیں ہوں جو سوچتا تھا۔

جے کیونگ نے بے یقینی سے کہا
کیا بول رہے ہو بھائی؟ تم نے تو کبھی اپنی شہرت، اپنی طاقت، یا اپنے نام کا غلط استعمال نہیں کیا۔ تُم نے کبھی اپنی طاقت پر غرور بھی بھی کیا۔۔۔ پھر یہ بات کیوں کہہ رہے ہو؟

رین یون نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نظریں جھکائیں۔ ہاں… میں نے کبھی اپنی طاقت کا غلط استعمال نہیں کیا، وہ مدھم لہجے میں بولا،
لیکن میں یہ ضرور سمجھتا تھا… کہ میں سب کچھ حاصل کر سکتا ہوں۔ میں اتنا فیمس ہوں کہ سب مُجھے پسند کرتے ہیں سب مُجھے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ دنیا میرے لیے رک سکتی ہے،
وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا….
جیسے اپنے ہی لفظوں کے وزن تلے دب گیا ہو۔
پھر ایک دن، کسی نے مجھے روک دیا…
نہ ہاتھ پکڑ کر، نہ آواز دے کر…
بس ایک نظر سے۔
ایسی نظر جس نے میری ساری حقیقت مجھ پر عیاں کر دی۔
اور اس ایک لمحے میں مجھے احساس ہوا کہ…
میں اتنا طاقتور نہیں جتنا خود کو سمجھتا تھا۔۔۔

اور پھر کسی نے مُجھے بتایا کہ میں جو چاہوں وہ حاصل نہیں کر سکتا ہوں اور میں جو چاہوں وہ نہیں کر سکتا ہوں۔۔ میں ایک بس عام سا بشر ہوں، بس ایک عام سا اِنسان۔۔۔
اس نے نظریں جھکائیں، چہرے پر ایک کڑواہٹ اور سکون کا ملا جلا رنگ تھا۔

جے کیونگ نے رین یون کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا بھائی اتنی ٹینشن نہ لو، کیا پتہ وہ شخص جو بھی تھا، وہ تمہیں جانتا ہی نہ ہو۔۔۔۔ اِدھر پاکستانی میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ہم سے ناواقف ہیں۔۔۔

رین یون نے سر جھکا۔۔۔ ہاں ہوسکتا ہے۔۔۔۔

++++++++++++

صبح کی دھند ابھی آسمان سے پوری طرح چھٹی بھی نہ تھی۔ سورج گویا ہمت جمع کر کے افق سے جھانکنے ہی والا تھا کہ سومین کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں ہلکی سی نیلاہٹ پھیلی ہوئی تھی، وہی خاموشی جو صرف فجر سے پہلے کے لمحوں میں ہوتی ہے۔
وہ آہستہ سے کروٹ بدل کر اٹھنے لگا، مسجد جانے کے ارادے سے… مگر اگلے ہی لمحے اس کی نظر برابر والے بستر پر پڑی۔
ہان وو گہری نیند سو رہا تھا۔

ابھی نہیں اٹھا… اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ہان وو جاگ گیا تو سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو جائے گی، کہاں جا رہے ہو؟ اتنی صبح کیوں؟ اکیلے کیوں؟
سومین نے ایک لمحے کو سوچا۔
جب یہ واک پر جائے گا تب میں نکل جاؤں گا۔ واپسی تک میں بھی لوٹ آؤں گا… یوں سکون رہے گا۔
یہ سوچ کر وہ دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔ نظریں چھت پر جمائے، ہان وو کے جاگنے کا انتظار کرنے لگا۔ وقت آہستہ آہستہ سرک رہا تھا… اور نیند خاموشی سے اس کی پلکوں پر اتر آئی۔
اسے خود خبر نہ ہوئی کہ کب آنکھ لگ گئی۔
کافی دیر بعد جب آنکھ کھلی تو کمرے میں روشنی کچھ تیز ہو چکی تھی۔ دل ایک دم دھڑکا۔ اس نے فوراً سر گھما کر برابر والے بستر کی طرف دیکھا،
وہ خالی تھا۔
سومین ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
ارے یار! یہ تو جا بھی چکا… اور میں سوتا ہی رہ گیا۔ اتنی دیر ہو گئی۔۔۔۔
دل میں ہلکی سی گھبراہٹ اتر آئی۔ وہ فوراً بستر سے اٹھا، جلدی جلدی تیار ہوا، اور بغیر کچھ سوچے سمجھے تیزی سے مسجد کی طرف نکل پڑا۔

سومین تیزی سے مسجد کی طرف بڑھ رہا تھا۔ قدموں میں عجلت تھی۔۔۔ وہ بس جلد سے جلد مسجدِ کے اندر پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔

مگر عین مسجد کے باہر، ایک طرف بنی چھوٹی سی دکان کے پاس کھڑی ہوئی ایک صورت نے اس کے قدم روک لیے۔
وہی لڑکی۔
کل… جس سے وہ سوہان کے ساتھ ملا تھا۔

وہ دکان کے سامنے کھڑی، چند چیزیں خرید رہی تھی۔ صبح کی ہلکی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اور سومین جانے کیوں وہیں ٹھٹھک سا گیا۔ ایک لمحے کو مسجد کے دروازے کی طرف دیکھا… پھر بے اختیار اپنے قدم موڑ لیے۔
وہ مسجد کے اندر جانے کے بجائے، اس لڑکی کے قریب آ گیا۔
ہیلو، آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟
اس نے انگریزی میں پوچھا۔

لڑکی نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر سختی اُتر آئی،
وعلیکم السلام۔ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔ آپ یہاں سے چلے جائیں۔

سومین چونک گیا۔
لیکن کیوں؟

میں نے اُس دن آپ سے کہا تھا نا کہ میرے بھائی کو اندر سے بلا دیں۔
لڑکی کی آواز میں دبے ہوئے غصے کی لرزش صاف محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

سومین نے فوراً سر ہلایا
ہاں… مجھے یاد ہے۔

تو پھر بلایا کیوں نہیں؟
اگر آپ کو نہیں کہنا تھا تو صاف کہہ دیتے۔ میں کسی اور سے کہہ دیتی۔ آپ نے میرے بھائی کو جا کر بتایا ہی نہیں۔

وہ ایک لمحے کو رکی، پھر بولی
آپ کی وجہ سے میں یونیورسٹی بہت لیٹ پہنچی۔ پھر پرنسپل نے مجھے اتنا ڈانٹا… اور اوپر سے اتنی دیر دھوپ میں باہر کھڑا رکھا۔ سب کچھ صرف آپ کی وجہ سے۔۔۔

سومین کے چہرے پر شرمندگی صاف جھلکنے لگی۔
اوہ… مجھے یاد ہی نہیں رہا۔ میں بھول گیا تھا۔

ہاں، مجھے سب پتا چل گیا ہے۔ اب بہانے مت بنائیے۔ آپ نے پہلے بھی منع کیا تھا۔
وہ اس کے قریب آ کر بولی، آواز میں کڑواہٹ تھی۔
آپ نے کہنا ہی نہیں تھا۔ پہلے بھی آپ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ جو آپ کے ساتھ بھائی تھے وہ اچھے تھے، ورنہ آپ کا تو دل ہی نہیں تھا مدد کرنے کا۔
سومین خاموشی سے سنتا رہا۔
دیکھیں دوسروں کی مدد کرنا اچھی بات ہوتی ہے…
وہ رک کر بولی،
لیکن نہیں… مدد تو دور کی بات، آپ کی وجہ سے مجھے اتنی باتیں سننی پڑیں۔

سومین نے آہستہ سے کہا،
I’m sorry… I am really sorry
۔ میں سچ میں بھول گیا تھا۔

لڑکی نے سرد نظروں سے اسے دیکھا۔
اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔۔ اپنا سوری اپنے پاس ہی رکھیں۔

اتنے میں ان کی طرف ایک لڑکا آیا۔۔
وہی… جس سے کل سومین اور سوہان کی بات ہوئی تھی۔ وہ آتے ہی بے فکری سے بولا،
صدو، چلو… میں آ گیا ہوں۔
ہاں چلیں بھائی۔۔۔۔ وہ مڑی اور آگے بڑھنے لگی۔
اس لڑکے کی نظر سومین پر پڑی تو وہ چونک سا گیا۔
تم یہاں؟ مسجد جا رہے ہو نا؟
سومین نے اثبات میں سر ہلایا۔
جی… آپ کہاں جا رہے ہیں؟
وہ جاتے جائے روک گیا اور مسکرا کر بولا،
یہ میری بہن ہے، صدف۔ میں اسے یونیورسٹی چھوڑنے جا رہا ہوں۔ ویسے… تم بتاؤ، تمہیں مجھ سے ملنا تھا؟

سومین نے کچھ کہنا چاہا، پھر اچانک صدف کی طرف دیکھا۔ وہ اسے ایسی نظروں سے گھور رہی تھی جیسے ابھی کچا چبا جائے گی۔
ہاں… ملنا تو تھا، لیکن۔۔۔ وہ ایک لمحے کو رکا۔ آپ جائیے، کسی اور دن مل لیں گے۔
وہ فوراً بولا،
ارے نہیں، کوئی بات نہیں۔ میں تھوڑی دیر تمہارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں۔
پھر اس نے اپنی بہن کی طرف دیکھ کر پوچھا،
صدف، تم اسے جانتی ہو؟
پھر سومین سے مخاطب ہوا
ویسے… تمہارا نام کیا ہے؟

سومین نے جواب دے دیا،
میرا نام لی سومین ہے۔ میں ساؤتھ کوریا سے آیا ہوں۔
وہ مسکرا کر بولا،
اچھا! صدو، تم گھر جاؤ۔ میں تھوڑی دیر میں آ کر تمہیں یونیورسٹی چھوڑ دوں گا۔
صدف کے چہرے پر فوراً ناگواری آ گئی۔
بھائی، یونیورسٹی کی بھی ایک ٹائمنگ ہوتی ہے۔
ویسے ہی آپ روز دیر کر دیتے ہیں، اور پھر مجھے ڈانٹ پڑتی ہے۔
ارے تو کیا ہو گیا؟ تھوڑی دیر کی ہی تو بات ہے۔
انتظار کر لو۔ میں خود یونیورسٹی جا کر بات کر دوں گا۔

ہاں، آپ کی ہی تو یونیورسٹی ہے نا…
کہ آپ بس بول دیں گے اور میم سن بھی لیں گی، جیسے۔ صدف نے ناگواری سے کہا

وہ دونوں آپس میں اردو میں بات کر رہے تھے،
اور سومین کو ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
مگر صدف کے تاثرات دیکھ کر وہ یہ ضرور سمجھ گیا تھا کہ اب وہ اپنے بھائی سے بھی ناراض ہو رہی ہے…
بالکل ویسے ہی، جیسے کچھ دیر پہلے وہ اس سے ناراض تھی۔
فضا میں ایک عجیب سی کشیدگی تھی۔
سومین نے بات بڑھانے کے بجائے نرمی سے کہا،
رہنے دیں… آپ مجھے بس کل کی ٹائمنگ بتا دیں۔
میں کل وقت پر آ جاؤں گا۔ آج ویسے بھی مجھے بہت دیر ہو گئی ہے۔

باسط نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
چلو ٹھیک ہے۔ ورنہ جب تک میں اسے چھوڑ نہ آؤں، یہ میری جان کا عذاب بنی رہے گی۔

پھر سومین کی طرف دیکھ کر بولا،
میں فجر کے بعد اسی وقت تک مسجد ہی میں ہوتا ہوں۔ تم کبھی بھی آ سکتے ہو۔

سومین کے چہرے پر اطمینان آ گیا۔
ہاں، ٹھیک ہے۔ کل میں فجر کے بعد ہی آ جاؤں گا… فوراً۔

صدف نے پہلی بار اس کی طرف باقاعدہ دیکھ کر کہا،
بہت بہت شکریہ آپ کا۔ اب آپ جا سکتے ہیں۔

باسط نے آنکھیں سکیڑ کر مصنوعی خفگی سے کہا،
ہمم… صدو ، ایسے نہیں کہتے۔
صدف بے بسی سے بولی،
چلو یار بھائی! مجھے دیر ہو رہی ہے۔
وہ پلٹ کر جانے لگی۔
باسط سومین سے ہاتھ ملتے بولا۔۔۔
اللہ حافظ۔ ان شاء اللہ کل ملتے ہیں پھر۔
سومین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا۔
بائے بائے۔
صدف ایک لمحے کو رکی، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو…
پھر خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔
سومین مسجد کے دروازے کے سامنے آ کر ٹھہر گیا۔
دل میں عجیب سا احساس تھا۔۔۔
کچھ بوجھ ہلکا ہوا تھا،
اور کچھ سوال مزید گہرے ہو گئے تھے۔
اس نے آسمان کی طرف ایک نظر ڈالی،
پھر آہستہ سے مسجد کے اندر قدم رکھ دیا۔

++++++++++++

ہان وو نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا،
آج پھر تم مسجد چلے گئے تھے؟

سومین نے مختصر سا جواب دیا،
ہاں۔ اور تو اب سب کا سیکورٹی گارڈ بن کے ہم پر نظر رکھنا چھوڑ دے۔۔۔۔

ہان وو نے سنجیدگی سے کہا
کیا مل رہا ہے تمہیں وہاں جا کر؟

سومین نے چند لمحے سوچا، پھر آہستہ مگر پُرعزم لہجے میں بولا،
جب تک مجھے میرے سوالوں کے جواب نہیں مل جاتے، میں وہاں جاتا رہوں گا۔

ہان وو چونک پڑا۔
کون سے سوالوں کے جواب؟

سومین نے اس کی طرف دیکھ کر کہا،
اس لڑکے نے کہا تھا نا… کہ قرآن میں ہماری ساری مشکلات کا حل ہے، ہر سوال کا جواب ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ذرا خود سوچو۔

ہان وو نے بے اختیار ہنستے ہوئے کہا،
تو پاگل ہو گیا ہے، اور کچھ نہیں۔ پھر اچانک اس کا لہجہ بدلا۔ ویسے ایک گڈ نیوز ہے… لیکن تمہارے لیے شاید بیڈ نیوز ہو۔

سومین چونک گیا۔ وہ کیا؟

ہان وو نے سنجیدگی سے کہا، ہم کل یہاں سے جا رہے ہیں۔۔

کہاں۔۔؟ سومین کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
پاکستان کے دوسرے شہر… کراچی یا لاہور۔

کیا؟! سومین تقریباً اچھل پڑا۔ نہیں، مجھے نہیں جانا۔۔

ہان وو نے اسے سمجھانے کے انداز میں کہا،
ہمارا ہر شہر میں ایک ایک ہفتے کا پیکج ہے۔ بھول گئے۔۔۔

سومین نے دو ٹوک لہجے میں کہا، میں یہیں رہوں گا۔ تم لوگ چلے جاؤ۔

ہان وو نے حیرت سے اسے دیکھا۔
پاگل ہو گئے ہو کیا؟

سومین نے جھنجھلا کر کہا، ارے، میں یہاں سے چلا جاؤں گا تو مسجد کیسے جاؤں گا؟

ہان وو نے فوراً جواب دیا، کراچی اور لاہور میں بھی مسجدیں ہوتی ہیں۔ وہاں چلے جانا۔

سومین نے بے بسی سے کہا،
تم سمجھ ہی نہیں رہے۔ مجھے قرآن پڑھنا ہے،
اور وہ عربی زبان میں ہے۔

ہان وو نے سنجیدگی سے کہا دماغ کہاں ہے تمہارا؟

سومین نے الجھ کر پوچھا، کیا؟

انگریزی ترجمہ والا قرآن لے لو۔

سومین ایک لمحے کو ٹھٹک گیا۔
پھر جیسے اچانک اسے کوئی راستہ دکھائی دے گیا ہو۔
اوہ… اس کے چہرے پر حیرت ابھری۔
ہاں… انگریزی ترجمہ بھی ہوتا ہوگا۔

ہان وو نے سر ہلایا۔
ہاں، ہوتا ہے۔

+++++++++++

اگلی صبح…
اگلی صبح، سو مین بالکل وقت پر اُٹھ گیا۔
اس بار اُس نے ہان وو کی پرواہ کیے بغیر فوراً ہوٹل سے باہر قدم رکھا۔
باہر ابھی تک ہلکا سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ فضا میں ٹھنڈک تھی اور سڑکیں تقریباً سنسان تھیں۔ لگتا تھا وہ معمول سے کچھ زیادہ ہی جلدی اُٹھ گیا تھا… مگر اُسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
آج اُس کے دل میں صرف ایک ہی بات تھی
کسی بھی طرح باسط سے ملنا۔
وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا مسجد پہنچا۔
جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اُس کے قدم اچانک رک گئے۔
نماز کی جماعت کھڑی تھی۔
صفیں سیدھی تھیں، اور سب لوگ ایک ساتھ خاموشی سے نماز ادا کر رہے تھے۔
سو مین ایک لمحے کے لیے گھبرا گیا۔
اُسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔
شاید… یہ عبادت کر رہے ہیں…
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
ہاں… یقیناً یہی ہے۔
مگر یہ سب اُس کے لیے بالکل نیا تھا۔
وہ نہ کبھی بچپن میں کسی چرچ گیا تھا، نہ ہی کسی مسجد میں۔
کسی مذہب کے بارے میں جاننے کی اُس نے کبھی کوشش ہی نہیں کی تھی۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑا رہا، الجھن میں…
پھر آہستہ سے آگے بڑھا اور صف کے آخر میں جا کر کھڑا ہو گیا۔
اب وہ بھی اُن کے ساتھ ہی حرکات دہرانے لگا۔۔
جب وہ جھکتے، وہ بھی جھک جاتا…
جب وہ کھڑے ہوتے، وہ بھی کھڑا ہو جاتا…
نماز ختم ہوئی تو لوگوں نے دعا مانگی،
پھر آہستہ آہستہ کچھ لوگ مسجد سے باہر جانے لگے، جبکہ کچھ وہیں بیٹھے رہے۔
سو مین بھی خاموشی سے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔
اتنے میں باسط نے اُسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے اُس کے پاس آیا۔
السلام علیکم، کیسے ہو؟ باسط نے نرمی سے پوچھا۔
سو مین نے ہلکا سا سر ہلایا، ٹھیک…
باسط نے اُس کی طرف غور سے دیکھا، پھر بولا،
چلو، پہلے تمہیں وضو کرنا سکھا دوں۔
سو مین نے بھنویں سکیڑ لیں، وضو؟
باسط ہلکا سا مسکرایا، وضو کے بغیر ہم قرآن نہیں پڑھ سکتے۔
سو مین نے حیرت سے پوچھا، یہ وضو کیا ہوتا ہے؟
باسط نے نرمی سے کہا، آؤ، میں تمہیں بتاتا ہوں…
یہ کہہ کر وہ اُسے وضو خانے کی طرف لے گیا…
سو مین نے جگہ کو دیکھا۔۔۔ یہ ایک چھوٹی سی جگہ تھی، صاف ستھری، سفید ٹائلوں سے ڈھکی ہوئی۔ کئی نلکے ایک قطار میں لگے ہوئے تھے اور نیچے چھوٹی چھوٹی پتھر کی نشستیں بنی ہوئی تھیں۔ ہر طرف پانی کی ہلکی سی خوشبو اور ٹھنڈک پھیلی ہوئی تھی۔
سومین نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ یہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔۔
یہ اتنے سارے کیوں ہیں؟ ایک بھی تو ہوسکتا تھا۔۔۔؟
سو مین سے سوال کیا۔۔۔ یا دو بھی بہت تھے۔۔۔
باسط مسکرایا۔۔۔
ابھی تُم نے دیکھا تھا نہ، اتنے سارے لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔۔۔؟؟ یہ ان سارے لوگوں کو کے لیے اتنے سارے نلکے لگے ہیں۔۔۔ تاکہ کسی کو نماز میں دیر نہ ہو۔۔۔
سو مین نے سر ہلایا۔۔پھر باسط نے اسے وضو کرنا سکھایا۔۔۔
باسط نے ایک نلکے کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا،
پہلے بیٹھ جاؤ میرے پاس۔
سومین خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گیا۔
باسط نے نلکا کھولا، پانی کی پتلی دھار بہنے لگی۔
باسط نے کہا،
سب سے پہلے نیت کرتے ہیں، دل میں۔ پھر بسم اللہ پڑھتے ہیں۔
سومین کے ہونٹ ہلے لیکن کوئی آواز نہ نکلی۔ وہ صرف دیکھتا رہا۔
باسط نے دونوں ہاتھ نلکے کے نیچے رکھے اور کہا،
پہلے تین بار دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھوتے ہیں۔
پانی ہتھیلیوں پر گرا، باسط نے آہستگی سے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے دھویا۔
سومین نے غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں سوال تھے لیکن وہ خاموش رہا۔
باسط نے پھر کہا،۔اب تم کرو۔
سومین نے ہچکچاتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھائے۔ ٹھنڈے پانی کا لمس اسے ایک دم عجیب سا لگا،
باسط نے مسکرا کر کہا، ہاں، ایسے ہی۔
پھر باسط نے کہا،
اب تین بار کلی کرو، منہ میں پانی لے کر۔
باسط نے ایک ایک کر کے سب بتایا۔ ناک میں پانی ڈالنا، تین بار چہرہ دھونا، کہنیوں تک بازو دھونا، سر پر مسح کرنا، اور آخر میں ٹخنوں تک پاؤں دھونا۔
سومین ہر قدم پر باسط کو دیکھتا اور پھر خود کرنے کی کوشش کرتا۔
جب وضو مکمل ہوا تو سومین نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ گیلے ہاتھ، ٹھنڈا چہرہ۔
اندر کہیں ایک عجیب سی ہلچل تھی جسے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
باسط نے اطمینان سے کہا، بس، وضو ہو گیا تمہارا۔
سومین نے ہلکے سے کہا، اتنا آسان ہے؟
باسط نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
اللہ نے آسان ہی رکھا ہے۔
وہ دونوں وہاں سے نکلے تو چلتے چلتے سومین نے کہا،
میں آج یا کل چلا جاؤں گا۔
باسط نے سادگی سے کہا، اچھا۔
سومین نے ذرا رک کر کہا، پھر میں قرآن کیسے پڑھوں گا… مجھے عربی میں پڑھنا نہیں آتا، ابھی انگلش والا ہی پڑھوں گا۔
باسط نے مسکراتے ہوئے کہا، ہاں ٹھیک ہے۔
چلتے چلتے وہ دونوں اس جگہ آ گئے جہاں لمبی شیشے کی الماری تھی۔ اس کے اندر بے شمار قرآن پاک رکھے ہوئے تھے۔ چھوٹے بڑے، مختلف رنگوں کے جلد والے، کچھ پرانے کچھ بالکل نئے۔
باسط نے الماری کھولی اور انگریزی ترجمے والا قرآن نکالا۔ پھر وہ سومین کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،
یہ اپنے ساتھ لے جانا۔ اور میرا فون نمبر بھی لے لو، کوئی سوال ہو تو کال کر لینا۔
سومین نے قرآن کو ہاتھ میں لیا۔ ایک لمحے کے لیے اسے بس دیکھتا رہا۔ سبز رنگ کی جلد، اندر سے صاف ستھرے صفحے۔ پھر آہستہ سے بولا،
تھینک یو۔
باسط نے کہا، ویسے تمہیں قرآن کوئی بھی پڑھا سکتا ہے۔ تم جہاں بھی جاؤ گے وہاں بھی مسجد ہوگی۔
سومین نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا،
ہاں لیکن میں ٹرپ پر آیا ہوں۔ ایک ہفتے سے زیادہ کہیں نہیں رک سکتا۔
باسط نے سر ہلا کر کہا،
پھر تو یہی ٹھیک ہے، ترجمے والا قرآن پڑھو، سمجھنا آسان رہے گا۔
پھر دونوں مسجد کے کنارے بیٹھ گئے۔ باہر سے صبح کی ہلکی ہوا آ رہی تھی، آسمان پر نارنجی رنگ آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔
باسط نے قرآن کھولتے ہوئے کہا، چلو شروع کریں۔ پہلے بسم اللہ پڑھو۔
سومین نے اس کی طرف دیکھا۔
باسط نے آہستہ سے پڑھا، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سومین کے ہونٹ ہلے۔ الفاظ نئے تھے، زبان انجانی تھی،
اس نے دوبارہ پڑھنے کی کوشش کی،
بسم… اللہ…
باسط نے مسکراتے ہوئے کہا،
ہاں، بالکل ایسے ہی۔
باسط نے قرآن کا پہلا صفحہ کھولا۔
اوپر عربی میں لکھا تھا، نیچے انگلش میں۔
سومین کی نظریں پہلے عربی پر گئیں۔ گول گول، ملے ہوئے حروف، دائیں سے بائیں لکھے ہوئے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا، پھر اس کی نظر نیچے انگلش پر گئی۔
باسط نے انگلش والی سطر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا،
یہ سورہ فاتحہ ہے۔ قرآن کا پہلا باب۔ پڑھو۔
سومین نے آہستہ سے پڑھنا شروع کیا،
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful…
اس نے ایک لمحے کے لیے رک کر باسط کی طرف دیکھا۔
سومین نے کہا،
یہ وہی ہے جو ہم نے ابھی وضو سے پہلے پڑھا تھا؟
باسط نے کہا، ہاں، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، یعنی اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے..
سومین نے دوبارہ اس جملے کو پڑھا۔ پھر الجھن کے ساتھ باسط کو دیکھا….
باسط نے مسکرا کر قرآن پر انگلی رکھی اور اس بار اور بھی سادہ انداز میں سمجھانا شروع کیا،
اس کا مطلب ہے، میں یہ کام ایک ایسے خدا کے نام سے شروع کر رہا ہوں جو بہت مہربان ہے اور ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔
سومین خاموشی سے سن رہا تھا۔
باسط نے مثال دی،
تم نے دیکھا ہوگا، لوگ جب کوئی اہم کام شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں ‘I hope everything goes well’ یا ‘let’s start on a good note’…؟
سومین نے ہلکا سا سر ہلایا۔
باسط نے کہا، بس یہ بھی ویسا ہی ہے…
فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ہم سیدھا خدا کو یاد کرتے ہیں… اور یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی مہربانی کے ساتھ یہ کام شروع کر رہے ہیں۔
پھر اس نے اور آسان کر دیا،
یوں سمجھ لو ہم کہہ رہے ہوتے ہیں
‘میں اچھے ارادے کے ساتھ شروع کر رہا ہوں’
اور ساتھ یہ بھی،
‘خدا مہربان ہے، اس لیے مجھے امید ہے سب اچھا ہوگا’
سومین نے آہستہ سے کہا، یعنی… یہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سوچنے کے لیے بھی ہے؟
باسط مسکرایا، بالکل۔
پھر اس نے نرمی سے کہا، یہ آیت ہمیں شروع میں ہی یہ سکھاتی ہے کہ خدا کو سخت نہیں، بلکہ مہربان سمجھو اور ہر کام اچھے ارادے سے شروع کرو۔۔۔
سومین نے دوبارہ آہستہ سے پڑھا،
بسم اللہ الرحمن الرحیم…
اس بار اس کے لہجے میں تھوڑی سی سمجھ اور سکون شامل تھا۔
باسط نے قرآن میں اگلی لائن پر انگلی رکھی اور نرمی سے کہا، اچھا، اب دوسری آیت…
وہ آہستہ سے پڑھنے لگا،
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
پھر اس نے سومین کی طرف دیکھ کر بہت سادہ انداز میں سمجھایا، دیکھو… جب تم کسی چیز کے لیے grateful ہوتے ہو, جیسے اچھی صبح، صحت، یا کوئی اچھی چیز،  تو تم کہتے ہو نا
‘I’m thankful’…?
سومین نے آہستہ سے کہا، ہاں…
باسط نے مسکرا کر کہا، یہ آیت بھی basically وہی بات کر رہی ہے… لیکن یہاں ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ
ہر اچھی چیز کا اصل credit ایک ہی خدا کو جاتا ہے۔
پھر اس نے ایک اور سادہ پوائنٹ بنایا،
اور ‘رب العالمین’ کا مطلب کیا ہے؟
صرف انسانوں کا نہیں، بلکہ پوری دنیا، پوری کائنات کا خیال رکھنے والا
سومین نے حیرت سے پوچھا، یعنی… سب کا؟
باسط نے سر ہلایا، ہاں، سب کا۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب، ملک یا جگہ سے ہو۔
پھر اس نے بات کو اور آسان کر دیا،
تو اس آیت کو تم ایسے سمجھ سکتے ہو  ‘میں مانتا ہوں کہ جو بھی اچھا ہے، وہ ایک ہی source سے آتا ہے’ اور ‘وہ source پوری کائنات کا خیال رکھتا ہے’
سومین نے خاموشی سے قرآن کی طرف دیکھا،
پھر آہستہ سے سر ہلایا۔۔۔
اس کے چہرے پر اب الجھن کم اور سوچ زیادہ تھی۔
باسط نے اگلی آیت پر انگلی رکھی اور آہستہ سے پڑھا،
وہ بہت زیادہ مہربان ہے، اور ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔
سومین نے فوراً کہا، یہ تو پہلے بھی آیا تھا…؟
باسط نے سر ہلایا، بلکل… اور یہی اس کی خاص بات ہے۔
پھر وہ تھوڑا سنجیدہ ہوا اور آہستہ سے سمجھایا،
دیکھو… جب کوئی بات اہم ہوتی ہے نا، تو اسے repeat کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ اپنی سب سے بڑی صفت بار بار بتا رہا ہے، رحمت (مہربانی)۔
سومین غور سے سن رہا تھا۔
یوں سمجھ لو پہلی آیت میں بتایا: ‘میں مہربان خدا کے نام سے شروع کر رہا ہوں’
اب دوبارہ remind کیا جا رہا ہے: ‘وہ واقعی بہت مہربان ہے’
پھر اس نے ایک نرم مثال دی،
جیسے کوئی تمہیں بار بار یقین دلائے کہ ‘میں تمہارے ساتھ ہوں، فکر نہ کرو’… ویسے ہی یہاں انسان کو سکون دیا جا رہا ہے۔ کہ اُس کا رب اُس کے ساتھ ہے۔۔۔
سومین نے آہستہ سے کہا،
یعنی… خدا کو ڈرنے والی چیز نہیں، بلکہ…
باسط نے بات مکمل کی،
بلکہ قریب اور مہربان سمجھنے والی ہستی۔
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر باسط نے نرمی سے کہا،
یہ آیت ہمیں یہ feel کرواتی ہے کہ تم اکیلے نہیں ہو
اور جو اوپر ہے، وہ سخت نہیں… بلکہ بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔۔۔۔
پھر اس نے سومین کے انداز کے مطابق بات رکھی،
اور اگر تم خدا پر یقین نہ بھی رکھو…
تو بھی اسے ایسے سمجھ لو یہ دنیا صرف harsh نہیں ہے، اس میں kindness بھی ہے، softness بھی ہے، اور انسان کو بھی ویسا ہی ہونا چاہیے
سومین نے آہستہ سے دہرایا،
Kind… again…
باسط نے مسکرا کر کہا،
Exactly…
میسج یہی ہے کہ kindness central ہے۔
سومین نے قرآن کی طرف دیکھا،
اور اس بار وہ الفاظ آہستہ سے خود پڑھنے لگا،
الرَّحْمٰنِ… الرَّحِيمِ…
باسط نے اگلی آیت پر انگلی رکھی اور آہستہ سے پڑھا،
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
پھر اس نے سومین کی طرف دیکھا اور سادہ انداز میں کہا، اس کا مطلب ہے، بدلے (یا حساب) کے دن کا مالک۔
سومین نے فوراً پوچھا، بدلے کا دن…؟
باسط نے نرمی سے سمجھایا،
ہاں… ایسا دن جب ہر انسان کے کیے ہوئے کاموں کا حساب ہوگا۔
سومین تھوڑا سا سوچ میں پڑ گیا۔ باسط نے بات کو آسان کیا،
دیکھو، جو ہم کرتے ہیں… وہ کہیں نہ کہیں matter کرتا ہے، اچھا کرو گے تو اچھا نتیجہ، برا کرو گے تو اس کا بھی اثر ہوگا۔۔۔
سومین نے کہا،
جیسے… consequences?
باسط مسکرایا،
Exactly, consequences.
پھر اس نے دو انداز سے بات رکھی تاکہ سومین آسانی سے سمجھ سکے،
اگر تم خدا پر یقین رکھتے ہو تو یہ آیت کہتی ہے کہ ایک دن خدا سب کا انصاف کرے گا
اگر تم یقین نہیں رکھتے تو بھی اسے ایسے سمجھ سکتے ہو کہ زندگی میں ہر عمل کا نتیجہ ہوتا ہے،  کوئی چیز بالکل بے حساب نہیں جاتی،
سومین نے آہستہ سے کہا،
تو… یہ تھوڑا serious concept ہے…
باسط نے سر ہلایا،
ہاں، لیکن ڈرانے کے لیے نہیں…
بلکہ remind کرنے کے لیے کہ ہم جو کرتے ہیں، وہ important ہے، اور ہمیں responsible ہونا چاہیے
چند لمحے خاموشی رہی۔سومین نے آہستہ سے دوبارہ پڑھا، مالک… یوم… الدین…
اس بار اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی… جیسے وہ پہلی بار اپنے actions کے بارے میں سوچ رہا ہو۔
باسط نے اگلی آیت پر انگلی رکھی اور آہستہ سے پڑھا،
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
پھر اس نے سومین کی طرف دیکھ کر نرمی سے کہا،
اس کا مطلب ہے، ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
سومین نے تھوڑا سا سر ٹیڑھا کیا، صرف… ایک ہی سے؟
باسط مسکرایا، ہاں، یہی اس آیت کی خاص بات ہے…
وہ آہستہ آہستہ سمجھانے لگا،
دیکھو، ہم اپنی loyalty اور focus ایک ہی جگہ رکھتے ہیں، اور جب ہمیں ضرورت ہوتی ہے، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں۔۔۔
سومین خاموشی سے سن رہا تھا۔
باسط نے اسے اس کے انداز میں سمجھایا،
یوں سمجھ لو…اگر تم خدا پر یقین رکھتے ہو
تو تم کہتے ہو ‘میں صرف اسی کو مانتا ہوں، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں’ اور اگر تم یقین نہیں رکھتے
تو اسے ایسے سمجھ سکتے ہو
‘میں اپنی زندگی میں ایک clear direction رکھتا ہوں، ادھر اُدھر نہیں بھٹکتا’
سومین نے آہستہ سے کہا،
Like… focus?
باسط نے فوراً کہا،
Exactly, focus… اور trust بھی۔
پھر اس نے ایک اور سادہ بات کہی،
یہ آیت ہمیں دو چیزیں سکھاتی ہے، ہم اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتے، اور ہمیں کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے
سومین نے تھوڑا سا سوچ کر کہا،
تو… یہ مدد مانگنے کے بارے میں بھی ہے؟
باسط نے سومین کی طرف دیکھا اور نرمی سے مسکرایا، ہاں… بالکل۔ لیکن صرف مدد مانگنے تک محدود نہیں ہے… اس سے تھوڑا آگے کی بات ہے۔
سومین خاموشی سے سننے لگا۔
باسط نے آہستہ آہستہ سمجھایا،
دیکھو… ہم سب کو زندگی میں کبھی نہ کبھی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا۔
وہ تھوڑا سا رکا، پھر بولا،
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مدد مانگنا ٹھیک ہے کمزور ہونا کوئی بری بات نہیں ہے،
سومین نے ہلکا سا سر ہلایا۔
باسط نے بات کو اور گہرا کیا،
لیکن ساتھ ایک اور اہم چیز بھی ہے… کہ تم confused نہ ہو جاؤ… ہر جگہ سے سہارا ڈھونڈنے کے بجائے ایک clear direction رکھو کہ تم کہاں سے strength لے رہے ہو۔
سومین نے آہستہ سے پوچھا،
یعنی… emotionally بھی؟
باسط نے فوراً کہا،
ہاں، emotionally بھی، mentally بھی… ہر طرح سے۔
پھر اس نے بہت سادہ الفاظ میں کہا،
جب تم مشکل میں ہو، تم مدد مانگ سکتے ہو
لیکن ساتھ یہ بھی جانتے ہو کہ تم اکیلے نہیں ہو
سومین کچھ دیر چپ رہا… پھر آہستہ سے بولا،
تو… یہ تھوڑا comforting بھی ہے…
باسط نے مسکرا کر کہا، ہاں… یہی تو ہے۔۔
یہ آیت انسان کو یہ feel کرواتی ہے کہ
چاہے حالات کیسے بھی ہوں… تمہارے پاس ایک سہارا ہے۔
سومین نے آہستہ سے نظریں جھکا لیں…
جیسے وہ اس احساس کو پہلی بار سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
باسط نے قرآن میں اگلی آیت پر انگلی رکھی اور آہستہ سے پڑھا،
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
پھر اس نے سومین کی طرف دیکھ کر نرمی سے کہا،
اس کا مطلب ہے ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔
سومین نے فوراً پوچھا، سیدھا راستہ…؟
باسط ہلکا سا مسکرایا،
ہاں… سب سے آسان اور صحیح راستہ۔
وہ آہستہ آہستہ سمجھانے لگا،
دیکھو سومین… زندگی میں بہت سارے راستے ہوتے ہیں، کچھ آسان لگتے ہیں مگر غلط ہوتے ہیں، کچھ مشکل ہوتے ہیں مگر صحیح ہوتے ہیں۔۔۔
سومین خاموشی سے سن رہا تھا۔
باسط نے مثال دی،
جیسے…
cheating کرنا آسان ہے
لیکن ایمانداری مشکل ہوتی ہے۔۔۔
پھر اس نے آیت کی طرف اشارہ کیا،
تو یہاں ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ ‘ہمیں confuse نہ ہونے دے’ ‘ہمیں صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھ دے’
سومین نے آہستہ سے کہا،
like… guidance?
باسط نے فوراً کہا،
Exactly, guidance.
اگر تم اسے مذہب نہ بھی دیکھو… تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے میں اپنی life میں clarity چاہتا ہوں۔۔ میں صحیح decisions لینا چاہتا ہوں۔۔
میں بھٹکنا نہیں چاہتا
باسط نے آخر میں کہا،
یہ آیت basically ایک request ہے ‘مجھے صحیح راستہ سمجھ آ جائے’  ‘میں غلطی سے بچ جاؤں’
سومین کچھ دیر خاموش رہا… پھر آہستہ سے بولا،
تو… یہ ماننا کہ مجھے راستہ نہیں پتا… بھی اس کا حصہ ہے؟
باسط نے مسکرا کر سر ہلایا، ہاں… اور یہی اس کی سب سے خوبصورت بات ہے۔
باسط نے آخری آیت پر انگلی رکھی اور آہستہ سے پڑھا،
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
پھر اس نے سومین کی طرف دیکھ کر نرمی سے کہا،
یہ پچھلی آیت کی continuation ہے… یعنی سیدھا راستہ کون سا ہے، اب یہ بتایا جا رہا ہے۔
سومین غور سے سننے لگا۔
صراط الذین أنعمت علیهم
(ان لوگوں کا راستہ جن پر انعام ہوا)
باسط نے آسان الفاظ میں کہا،
یعنی ہمیں اُن لوگوں جیسا راستہ دے جو صحیح تھے
جنہوں نے اچھی زندگی گزاری جو کامیاب اور سچے تھے۔۔
پھر اس نے مثال دی،
ہر دور میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے ہاں، یہ صحیح انسان ہے۔۔۔۔
سومین نے سر ہلایا۔
غیر المغضوب علیهم۔۔
(نہ اُن لوگوں کا راستہ جن پر غضب ہوا)
باسط نے کہا،
یعنی ایسے لوگوں جیسا نہ بننا جو جان بوجھ کر غلط کرتے ہیں، جنہیں پتا ہوتا ہے کیا صحیح ہے، پھر بھی ignore کرتے ہیں۔
سومین نے آہستہ سے کہا،
like… knowingly doing wrong?
باسط نے کہا،
Exactly.
ولا الضالین (اور نہ اُن کا جو بھٹک گئے)
باسط نے مزید سمجھایا،
یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں صحیح راستہ ہی نہیں پتا
جو confusion میں رہتے ہیں direction کے بغیر چل رہے ہوتے ہیں۔۔۔
باسط نے خاص اس کے لیے خلاصہ کیا،
تو پوری آیت کا مطلب یہ ہوا ‘مجھے اچھے لوگوں جیسا بنا’ ‘مجھے جان بوجھ کر غلط کرنے والوں سے بچا’ ‘اور مجھے confusion میں بھٹکنے سے بھی بچا’”
باسط نے آخر میں کہا،
یہ آیت basically کہتی ہے صحیح لوگوں کو follow کرو ، غلط راستوں سے بچو، اور اپنی زندگی میں clarity رکھو
سومین کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا…
پھر آہستہ سے بولا، تو… یہ پوری سورہ ایک complete guide جیسی ہے…
باسط مسکرا دیا، ہاں… بالکل۔
سومین نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔ اس کی نظریں ابھی تک قرآن کے کھلے صفحے پر جمی ہوئی تھیں، مگر وہ پڑھ نہیں رہا تھا… وہ سوچ رہا تھا۔
پھر اس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
ایک سوال ہے۔۔۔
باسط نے نرمی سے مسکرا کر کہا، پوچھو…
سومین نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
یہ سب… بہت logical لگ رہا ہے۔ جیسے… life کی guidance، clarity، responsibility… سب سمجھ آ رہا ہے…
وہ تھوڑا رکا، جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو۔
لیکن ایک چیز سمجھ نہیں آ رہی…
باسط خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
اگر یہ سب اتنا clear ہے… اتنا simple ہے… تو پھر دنیا میں اتنی confusion کیوں ہے؟ لوگ پھر بھی کیوں بھٹکے ہوئے ہیں؟
فضا ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئی۔
باسط نے گہرا سانس لیا، پھر آہستہ سے بولا،
کیونکہ سمجھنا اور ماننا… دونوں الگ چیزیں ہیں،
سومین نے بھنویں سکیڑ لیں، مطلب…؟
باسط نے زمین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
سچ اکثر انسان کو نظر آ جاتا ہے… لیکن اسے قبول کرنا مشکل ہوتا ہے…
وہ تھوڑا سا مسکرایا،
جیسے… تم جانتے ہو کہ honesty بہتر ہے، لیکن کبھی کبھی آسان راستہ cheating لگتا ہے…
سومین نے ہلکا سا سر ہلایا۔ باسط نے بات آگے بڑھائی،
یا تم جانتے ہو کہ کسی کو hurt نہیں کرنا چاہیے… لیکن غصے میں کر دیتے ہو…
چند لمحے خاموشی رہی۔
تو مسئلہ knowledge کا نہیں ہوتا…
مسئلہ choice کا ہوتا ہے…
سومین کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔
یعنی… لوگ جان بوجھ کر ignore کرتے ہیں؟
باسط نے آہستہ سے کہا،
کبھی جان بوجھ کر… اور کبھی… وہ خود کو سمجھا لیتے ہیں کہ یہی ٹھیک ہے…
سومین نے نظریں جھکا لیں۔
اور جو بھٹکے ہوئے ہیں…؟
باسط نے جواب دیا،
وہ تلاش ہی نہیں کرتے…
یہ جملہ جیسے سیدھا سومین کے دل پر لگا۔
چند لمحوں تک وہ کچھ نہ بولا۔
پھر دھیرے سے کہا،
تو… searching important ہے…؟
باسط نے فوراً کہا، سب سے زیادہ…
پھر اس نے نرم لہجے میں کہا،
جو سوال کرتا ہے نا… وہ کبھی مکمل گمراہ نہیں ہوتا…
سومین نے آہستہ سے قرآن بند کیا۔
اس کی انگلیاں کتاب کے سرورق پر ٹھہر گئیں۔
میں… یقین نہیں رکھتا ابھی…
اس نے سچائی سے کہا۔
باسط نے فوراً جواب نہیں دیا۔ پھر مسکرا کر بولا،
کوئی مسئلہ نہیں…
سومین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا،
واقعی…؟
باسط نے سر ہلایا،
سومین کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی نرمی آئی۔
اور اگر… جواب نہ ملا تو…؟
باسط نے نرمی سے کہا اس میں ہر سوال کا جواب ہے۔۔۔ تُمہارے ذہن میں جیتنے سوال آرہے ہیں اُنہیں ایک کاپی میں لکھ لو۔۔۔ اور یہ پڑھتے جاؤ ایک ایک کر کے تمہیں تُمہارے سارے سوالات کے جوابات ملتے جائے گے۔۔۔ بس وقت لگے گا۔۔۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد سومین نے قرآن کو ہلکا سا اٹھایا،
یہ… میں لے جاؤں؟
ہاں، لے جاؤ… باسط نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا کارڈ نکالا، اس پر اپنا نمبر لکھا اور سومن کی طرف بڑھا دیا،
اگر کوئی سوال ہو… تو کال کر لینا۔
سومین نے کارڈ لیا، کچھ لمحوں تک اسے دیکھتا رہا،
پھر ہلکا سا مسکرایا،
تھینک یو…
دونوں دھیرے دھیرے اٹھ کھڑے ہوئے اور مسجد سے باہر نکل گئے۔
جیسے ہی وہ باہر آئے، دونوں کی نظر ایک ساتھ روڈ کے کنارے بنی چھوٹی سی چپس کی دکان پر پڑی…
جہاں صدف کھڑی کچھ سامان لے رہی تھی۔
باسط نے اسے دیکھ کر ہلکا سا سر ہلایا،
اسے لاکھ دفعہ سمجھایا ہے کہ گھر پر میرا انتظار کر لیا کرے… لیکن سنتی ہی نہیں ہے…
سومین نے سیدھا سا جواب دیا،
جلدی لے جایا کرو نا اسے یونی… واقعی ڈانٹ پڑتی ہوگی…
باسط ہلکا سا ہنسا،
پانچ دس منٹ سے کچھ نہیں ہوتا…
پھر اس نے آواز دی، صدو… چلو، آ جاؤ۔۔
صدف نے جلدی جلدی پیسے دیے، سامان اٹھایا اور بھاگتی ہوئی باسط کے پاس آئی،
چلیں… آج تو جلدی آ گئے آپ باہر…
باسط نے تھوڑا سا گھور کر کہا،
آرام سے چلا کرو… اتنی بڑی ہو گئی ہو، اور ابھی بھی بھاگتی پھرتی رہتی ہو…
وہ دونوں پھر سے اردو میں بات کرنے لگے…
اور سومن چپ چاپ انہیں دیکھتا رہا۔
پھر وہ آگے بڑھا، باسط سے ہاتھ ملایا،
چلتا ہوں میں اب…
باسط نے مسکراتے ہوئے کہا،
انشاءاللہ… اللہ نے چاہا تو پھر ملاقات ہوگی ہماری…
سومین نے صرف ہلکا سا سر ہلا دیا۔
پھر اس کی نظر صدف پر پڑی
جو اسے ابھی بھی ہلکا سا غصے سے دیکھ رہی تھی۔
باسط نے اسے ٹوکا صدف… اللہ حافظ بولو…
صدف نے بے دلی سے کہا، اللہ حافظ…
سومین کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
بائے بائے
اور پھر وہ مڑ کر اپنے راستے چل دیا۔
ہاتھ میں قرآن تھا… اور دماغ میں سوال…

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *