Haqiqat ya faraib… written by Tasmia kanwal…(Article)

آرٹیکل: حقیقت یا فریب۔۔۔

از قلم: تسمیہ کنول۔۔۔

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔

وہ دور جہاں پر لوگوں کو صرف کامیاب اور خوش نظر آنا ہے۔

اپنے اندر کی کمزوریاں، برائیاں اور کمیاں فلٹر کر کے لوگوں کو دکھانا پسند ہے۔ جو چیز ہم سوشل میڈیا پہ دیکھتے ہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ حقیقت میں بھی سچ ہو۔

ہم سوشل میڈیا پہ لوگوں کی خوشیاں کامیابیاں دیکھ کر اپنے پاس موجود تھوڑی خوشیاں اور تھوڑی کامیابیوں پر افسردہ ہونے بیٹھ جاتے ہیں۔

جو بالکل ہی غلط بات ہے۔ ہو سکتا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ فقط آنکھ کا دھوکا ہو۔ تصویر کا صرف ایک رخ ۔ اس دو تین سیکنڈ کی ویڈیو میں انہوں نے فقت اپنی اچھائی دکھائی، اور برائی کو چھپا لیا۔ ہم ان کی اچھائی دیکھ کے ان پر فدا ہو جاتے ہیں۔ انہیں فالو ، لائک اور سبسکرائب کر لیتے ہیں بغیر یہ جانے کہ ویڈیو میں دکھایا گیا معاد حقیقت پر مبنی تھا بھی یا نہیں۔

ان کی ویڈیو میں نظر آتی خوشیوں سے بھرپور زندگی اور کامیابی دیکھ کر ہم ڈپریشن کا شکار ہونے لگ جاتے ہیں کہ انہوں نے تھوڑی سے ٹائم میں اتنا کچھ حاصل کر لیا اور ہم آج بھی وہیں کے وہیں ہیں

وہ لوگ ہم سے آگے نکل گئے اور ہم لوگ ابھی بھی یہیں بیٹھے ہیں___ ہم تو کوشش بھی کرتے ہیں لیکن ہم کامیاب نہیں ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے ان لوگوں میں جو ہمیں دکھایا وہ ان کا کنٹینٹ ہے وہ حقیقت نہیں ہوتا بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی حقیقی زندگی دکھاتے ہیں جب لوگ ان کی حقیقت کو پسند نہیں کرتے تو وہ بھی فریب کا جال بننے لگتے ہیں اور ہمیں وہ دکھاتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ فقط ایک دھوکہ ہوتا ہے حقیقت نہیں۔

سوشل میڈیا ہمیں ایک ایسی دنیا میں لے آیا ہے جہاں دکھاوا سچ بن گیا ہے، اور سچ دکھاوے میں گم ہو گیا ہے۔

ان سب میں قصور صرف ان کا نہیں ہے ہم دیکھنے والوں کا بھی ہے۔ کیونکہ ہم ایک اچھا کنٹینٹ اچھا مواد دیکھنا پسند ہی نہیں کرتے ہمیں وہی فریبی دنیا پسند آتی ہے۔ جہاں سب کچھ مکمل ہو جہاں سب کچھ اچھا ہو خوشیاں ہی خوشیاں ہو تو لوگ بھی ہمیں صرف خوشیاں ہی دکھاتے ہیں اپنی حقیقت نہیں اپنے دکھ نہیں۔سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے — اگر ہم اسے اچھے طریقے اور سچائی کے ساتھ استعمال کریں۔

پھر یہ فائدہ مند بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس کے دھوکے میں آ جائیں تو یہ ہمیں ہماری اپنی حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔

آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے: جو نظر آتا ہے، وہ ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا ایک آئینہ ضرور ہے، مگر اس میں عکس اکثر جھوٹا ہوتا ہے۔اور یہ آنکھوں کے دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں

“تو پلیز آئندہ اگر اپ سوشل میڈیا پہ کچھ بھی دیکھیں”

تو پہلے اس بارے میں یقین کر لیں کہ ایا جو آپ دیکھ رہے ہیں وہ سچ ہے یا فقط آنکھ کا دھوکا۔

********** ختم شد ********

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *