دِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی)
قسط نمبر ۱۹
یہ کیا ہے ولید؟؟
مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا؟؟
کیوں…؟؟؟
تم نے یونی میں ‘leave’ نہیں دیا تھا کیا…؟؟
بولو…؟؟؟
بلاوجہ مجھے یونی سے نکال دیا گیا… میں نے کیا کیا تھا؟؟
تمہاری وجہ سے میں نے وہاں زیادہ لڑائیاں بھی نہیں کیں… پھر بھی؟؟
اور یہ میرا لسٹ یئر تھا۔۔۔
صرف چھے مہینے رہ گئے تھے میرے پیپرز کے… پھر ڈگری مل جاتی مجھے…
وہ بنا رکے مُسلسل میسیج کرتی جا رہی تھی۔۔۔
اور اب؟
اب میں کیا کروں… بولو!!
تم نے لیو نہیں دیا ہوگا، تم… تم وہاں کیا کر رہے ہو؟
تم نے کہا تھا جاؤ، پاکستان میں سب سنبھال لوں گا…
یہ سنبھالا ہے تم نے؟؟
مجھے یہاں آئے ہوئے صرف دو دن ہوئے ہیں… اور یونی سے نکال دیا گیا؟
تمہیں پتہ ہے نا، مجھے پھوپھو کی کمپنی سنبھالنی ہے
ماہی کو لگا تھا کہ شاید اب اُس کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک ہونے والا ہے…
لیکن نہیں…
ماہی کی زندگی میں کبھی کچھ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتا…
ماہی جھوٹ بولے، تو مسئلہ دنیا کو…
ماہی سچ بولے، تو بھی مسئلہ دنیا کو…
نہیں، ماہی کرے بھی تو کیا کرے؟
اب ماہی پاکستان سے بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتی…
اور تم؟
تم وہاں کیا کر رہے ہو؟
اور نائلہ… اُسے پکڑا؟ اُسے مارا؟
کیا تم سن بھی رہے ہو میری بات؟
ماہی کا دل جیسے کسی نے نچوڑ کر رکھ دیا ہو۔
ایک خواب جو اُس نے برسوں سے پالا تھا — ڈگری، کامیابی، خود مختاری —
سب کچھ ایک ای میل نے چھین لیا تھا۔
اُسے لگا جیسے اُس کی آواز کسی بند کمرے میں گونج رہی ہو،
جہاں نہ دروازہ ہے، نہ کھڑکی،
اور باہر ولید جیسے سب کچھ سن کر بھی خاموش کھڑا ہو۔
ماہی کا دماغ جیسے تیز رفتار دوڑ رہا تھا، دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
اس کا غصہ بے قابو ہو چکا تھا، جیسے کوئی طوفان آ رہا ہو۔
تم ماہی کو اِگنور کر رہے ہو، ولید… بولو بھی!
ماہی کا فون اس کے ہاتھ میں کانپ رہا تھا، لیکن اُس کی آنکھوں میں آگ تھی، جو اُس کے اندر کے دکھ اور غصے کا پتہ دے رہی تھی۔
یہ… یہ کیا کیا تم نے؟
اب ڈیٹا آف کر دیا؟
ابھی تک ماہی نے جتنے بھی مسیج کیے تھے اُس پر ڈبل ٹک بنا آرہا تھا اور اب وہ ڈبل ٹیک کی جگہ صرف سنگل ٹک شو کر رہا تھا۔۔۔
ماہی کا دل جیسے سکڑ کر رہ گیا تھا، لیکن پھر غصے کا طوفان اور بڑھا۔
ماہی تمہیں جان سے مار دے گی، ولید…
تم سامنے آؤ، میرے۔۔۔۔۔
اس کا غصہ بے قابو تھا، اور پھر ایک لمحے میں اس نے اپنا فون اُٹھا کر غصے میں پھینک دیا۔
بھاڑ میں جاؤ تم، ولید…
یہ کہتے وہ بیڈ پر گرگئی،
+++++++++++++
کچھ دیر بعد، سونیہ ماہی کے کمرے میں آئی۔
ماہی بیڈ پر لیٹی تھی، بلینکٹ اوڑھے ہوئے تھی،
سونیہ نے دروازہ کھولا اور اندر آ کر اُسے دیکھا۔
ماہی خاموشی سے لیٹی ہوئی تھی، جیسے دنیا سے بے خبر ہو،
ماہی… ماہی کیا ہوا؟
سونیہ نے نرمی سے اس کا نام پکارا۔
وہ آہستہ سے ماہی کے پاس آ کر بیٹھ گئیں اور اُس کا کمبل اُٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگی۔
ماہی کی آنکھیں سرخ تھیں، جیسے بہت زیادہ روتی رہی ہو۔
تم نیچے بھی نہیں آئی، ڈنر بھی نہیں کیا… کیا ہوا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔؟
سونیہ نے ایک لمحے کے لیے ماہی کا چہرہ اپنی طرف کیا اور اُس کی حالت دیکھ کر دل ہی دل میں بہت کچھ سمجھ لیا۔
پھوپھو… مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا…
ماہی کی آواز میں ایک ٹوٹا ہوا درد تھا، جیسے اُس کا دل بھی چکنا چور ہو چکا ہو۔
یونی سے ؟ کیوں ؟
سونیہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
ماہی نے آہستہ سے سر ہلایا، اور پھر ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں سے غصہ بھی جھلکنے لگا۔
میں نے وہاں مار پیٹ کی ہے، اسی لیے… حالانکہ میں نے نہیں کی…
ماہی کی آواز میں ہلکا سا تلخ مذاق تھا، لیکن وہ خود بھی اس بات کو سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر یہ سب کیسے ہو گیا۔
سونیہ نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے دل میں ایک درد محسوس کیا۔
اتنی سی بات پر کون نکلتا ہے ماہی… تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔
سونیا نے نرم لہجے میں کہا، مگر ماہی کی خاموشی نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔
ماہی نے مایوسی کے عالم میں سر ہلایا اور پھر دھیرے سے کہا
ایمیل دیکھ لیں پھوپھو…
کس میں دیکھوں؟ فون تو تم نے پھینک دیا ہے، دیکھو۔۔۔
وہ جب کمرے میں آئی تھی، تو فون دروازے کے قریب گرا تھا۔ سونیہ نے اُسے اُٹھا کر ٹیبل پر رکھ دیا تھا، مگر فون کی حالت بگڑ چکی تھی۔۔
پھوپھو، زہر دے دیں مُجھے، خوشی، راز نہیں آتی مجھے…
ایسی باتیں نہیں کرتے ماہی، پاگل ہوگئی ہو؟
اور تم نے BBA تو کر رکھا ہے نا؟ چھوڑ دو، MBA نہیں ہوا تو کل سے آفس آ جانا، وہاں کوئی تم سے نہیں پوچھے گا کہ تم نے کتنی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔
پھوپھو کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔۔۔ماہی سے زیادہ عزیز اُنہیں کچھ نہیں تھا۔۔۔ماہی کی پڑھائی بھی نہیں۔۔۔
پر پھوپھو…
سونیا نے اسے اور قریب آ کر پیار سے کہا
تم کب سے یہاں ایسی پڑی ہو؟ اُٹھو، چلو کھانا کھاؤ، پھر ہم باتیں کریں گے، بھائی بھی آ کر چلے گئے تھے، اور تم اُٹھ کر نیچے نہیں آئیں…
ماہی کی آنکھوں میں ایک سوال تھا، اور وہ کمزور سی آواز میں بولی
پر پھوپھو، مجھے یونی سے نکالا کیوں؟
سونیہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئیں، پھر آہستہ سے کہا
اب یہ تم ولید سے پوچھ لو، اسے پتا ہوگا کہ تمہیں وہاں سے کیوں نکالا گیا۔
ولید کا نام سنتے ہی ماہی کا چہرے ایک دم سے سخت ہوگیا۔۔۔
وہ ایک نمبر کا ڈیش انسان ہے پھوپھو، مجھے اُس سے نفرت ہے… اُس نے میرے میسج کا جواب نہیں دیا…
وہ بزی ہوگا، تم انتظار کر لیتی ماہی…
سونیا نے ہمدردی سے کہا، لیکن ماہی کا چہرہ بے حد غصے اور ناپسندیدگی سے بھرا ہوا تھا۔
نہیں، اُس کے پاس کوئی جواب ہی نہیں تھا، اس لئے نہیں دیا، ورنہ وہ لاکھ مصروف ہونے کے باوجود بھی جواب دیتا۔
ماہی کا لہجہ سخت تھا، اور اس کے اندر کا دکھ اس کے الفاظ سے چھلک رہا تھا۔
سونیا نے گہری سانس لی اور پھر کہا
اچھا، وہاں کوئی پریشانی ہوگئی ہوگی ۔
ماہی کی نظریں غصے سے سونیا پر جمی تھیں، جیسے وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہ ہو۔
پھوپھو، کہا ہے نہ کہ لاکھ مسائل ہوں، لیکن وہ مجھے جواب دیتا ہے۔
ماہی نے مزید کہا، اس کی آواز میں بے حد غصہ تھا۔
ضروری نہیں ہے ماہی، کچھ مسائل ہو سکتے ہیں۔
سونیا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
پھوپھو ۔۔۔۔۔ ماہی نے اب غصے میں گھورا
اچھا نہیں کرتے اُس کے بارے میں بات۔۔۔ I guess نائلہ نے تو نہیں کیا کچھ۔۔۔ ؟؟
نہیں پھوپھو، مجھے نہیں لگتا کہ نائلہ نے کچھ کیا ہوگا۔۔۔ کیوں کہ ولید نے کہا تھا کہ وہ نائلہ کو دیکھ لے گا۔
پھر اچانک ماہی کو خیال آیا۔۔۔
آہ، wait a minute!
وہ جھک کر اُٹھ بیٹھی، جیسے ایک دم کسی بات کا سراغ لگا ہو۔
کہیں ولید سے نائلہ handle نہیں ہوئی ہوگی تو ؟
ماہی کی آنکھوں میں ایک سوال تھا، اور پھر وہ گہری سوچ میں ڈوبی۔
اس نے میری ویڈیو وائرل کر دی ہو گی…
ماہی نے سر پر ہاتھ مارا،
پھوپھو، اگر یہ مافیا درمیان نہ آتا تو…
وہ رک گئی، پھر اپنی بات مکمل کی:
نائلہ کو بتاتی، میں…
ماہی کا گہرا غصہ اب واضح ہو چکا تھا، جیسے وہ کچھ کرنے کے لیے تیار ہو۔
سونیہ کی آنکھوں میں ایک تشویش کی جھلک تھی، اس نے آہستہ سے کہا
اب اُس نے کیا کیا تمہارے ساتھ؟
ماہی کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا، اور اس کی آواز میں بدلہ لینے کا ارادہ تھا
پھوپھو، آپ بولیں کیا کیا نہیں کیا اُس نے؟
اس نے مجھے تھپڑ مارا تھا، ایک نمبر کا درندہ ہے وہ …!
ماہی کی آنکھوں میں خون تھا،
اُس نے مجھے قید کر لیا تھا، تب ہی مجھے ولید کی بات ماننی پڑی۔
ماہی کی آواز میں اذیت اور غصہ تھا۔
ماہی کو نائلہ کا کوئی خوف نہیں تھا، میں اُس کو دو منٹ میں سیدھا کر دیتی!
ماہی نے غصے سے کہا، اور سونیہ کو اُس کی حالت پر افسوس ہوا۔
لیکن یہ مافیا۔۔۔۔۔
اگر میں ولید کی بات نہ سنتی تو حمید مجھے وہاں سے نہیں نکلتا۔۔۔۔۔۔
ماہی نے اور بھی سخت الفاظ میں بات کی، جیسے اس کا نام پورے معاملے کو بدل کر رکھ دے۔
سونیہ نے سوچا کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا وہ سمجھ رہی تھی، اور ماہی کی حالت اس کی پیش رفت کے بارے میں مزید سوالات اُٹھا رہی تھی۔
پھوپھو، مجھے واپس جانا پڑے گا…
ماہی کی آواز میں اُمید کا ایک گہرا دھندلا سا اثر تھا، جیسے وہ خود کو مزید تکلیف میں مبتلا کرنا چاہتی ہو، مگر اُسے یقین تھا کہ یہ کام کرنا ضروری ہے۔
سونیہ پھوپو کے دل میں ماہی کے لئے گہری ہمدردی تھی، مگر یہ معاملہ صرف محبت یا غصے سے نہیں بلکہ حقیقتوں سے جڑا ہوا تھا، اور ان حقیقتوں کا سامنا کرنا دونوں کے لیے ضروری تھا۔
سونیا پھپھو کے لہجے میں سختی تھی۔
آنکھوں میں فکر، اور چہرے پر تھکن —
ایسی تھکن جو صرف ماہی جیسی ضدی بچی سے نپٹنے کے بعد آتی ہے۔
کیا پاگل ہو گئی ہو ماہی؟
اب وہاں جا کر کیا کرو گی؟
پھپھو کے الفاظ میں غصے سے زیادہ خوف تھا،
ایک ایسا خوف جو صرف اپنوں کے لیے ہوتا ہے۔
نائلہ اور ایم ڈی کو سبق سکھاؤں گی۔
کیا سمجھا ہے ان دونوں نے مجھے؟
کوئی کھلونا ہوں میں؟
اور اگر نائلہ نے وہ ویڈیو وائرل کر دی ہو؟تو وہاں جاتے ہی پولیس تمہیں اٹھا لے گی۔
یہ پاگل پن ہے ماہی۔
ماہی کی آنکھوں میں اک ٹھنڈی ضد تھی —
پکڑے گی تب جب پہچانے گی، نام اور حلیہ بدل کر جاؤں گی۔
سونیہ پھوپو غصے سے اپنا ماتھا تھام لیتی ہیں،
کیا ہو گیا ہے تمہیں! بھول جاؤ جو ہوا وہاں،
یہاں میرے ساتھ رہو،کل میرے ساتھ آفس چلنا،
میں تمہیں کچھ کام سکھاؤں گی۔
پھپھو، ماہی جائے گی۔۔۔ ماہی کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی。。。
میں ایک پیسہ بھی نہیں دوں گی!
سمجھی؟ اُنہوں نے اب غصے میں کہا
ماہی، ایک لمحے کو چپ، پھر بولی:
پھپھو…!
ماہی، نہیں تو نہیں! وہاں خطرہ ہے…دو دن ہوئے ہیں تمہیں یہاں آئے ہوئے، اور تمہیں مذاق لگ رہا ہے سب۔۔۔ اُن کو اب ماہی پر شدید غصّہ آرہا تھا۔۔۔۔
ماہی خود بڑا خطرہ ہے۔ ماہی کا چہرہ سنجیدہ، آنکھوں میں ضد تھی
سونیہ بے بسی سے سر جھٹکتی ہیں
ٹھیک ہے!جاؤ! جلدی جاؤ! مگر پھر واپس میرے پاس مت آنا! نہ مجھے پھپھو کہنا! تم ایک نہیں سنتی میری…میں کھانا لینے جا رہی ہوں!
دروازہ زور سے بند ہوا۔
سونیہ پھپھو کے قدموں کی چاپ کمرے سے باہر گئی۔۔۔
لیکن اندر ایک طوفان چھوڑ گئی۔
سونیہ پھپھو کے قدموں کی چاپ کمرے سے باہر گئی۔۔۔
لیکن اندر ایک طوفان چھوڑ گئی۔
آ ہ ہ ہ ہ ! وہ زور سے چیخی
مجھے شدید غصہ آ رہا ہے!
کہاں پھنس گئی ہوں میں!
کاش… کاش میں پاکستان آئی ہی نہ ہوتی!
وہ زور سے تکیہ بیڈ پر پھینکی
پھر خود اسی تکیے کو گلے لگا کر بیڈ پر گر گئی۔۔
آنکھیں بند، دل میں فیصلہ —
میں ماہی ہوں…
اور ماہی جب ضد کر لے،
تو دنیا کیا، پھپھو بھی ہار مان لیتی ہیں۔۔۔۔
++++++++++++++
ماہی بستر پر بیٹھی تھی، بازو سینے پر لپیٹے، چہرے پر ضد اور آنکھوں میں نمی کا عکس۔
پھپھو نے آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھولا، ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں کھانے کی خوشبو تھی مگر ماہی کا دل کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا۔
میں نے نہیں کھانا… ماہی نے دروازے کھولنے کی آواز سن کر فوراً کہا۔
ماہی، تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ تم کچھ بھی کر لو، میں تمہیں اجازت نہیں دوں گی۔
سونیہ پھوپو نے نرمی مگر سخت لہجے میں کہا۔
پھوپھو، پلیز نا…
ماہی بیڈ سے اٹھی، پھوپھو کو دیکھتے چہرے پر معصومیت سجائے بولی۔
نہیں تو نہیں۔ اب چپ چاپ کھانا کھاؤ اور آرام سے سو جانا۔ صبح میرے ساتھ آفس چلنا ہے۔
اگر ماہی کی اس وقت کوئی اور ضد ہوتی تو وہ فوراً پوری کر دیتی، لیکن ماہی کی یہ ضد نکامالے منظور تھی۔
ماہی نے غصے سے چہرہ پھیر لیا۔
وہ بھی سو ڈھیٹوں میں سے ایک ڈھیٹ تھی، اسے منانا آسان تھوڑی تھا۔
رکو… میں ابھی ولید کو کال ملاتی ہوں۔
نہیں! اسے کیوں؟
ماہی نے جھٹکے سے چونک کر پھوپھو کو دیکھا۔۔۔
تمہیں جاننا ہے نا کہ یونیورسٹی سے کیوں نکالا گیا تمہیں؟ وہی پوچھ لینا ولید سے ۔۔ وہ بتادے گا۔
سونیہ پھوپو اپنا فون بھی ساتھ ہی لائی تھیں، جانتی تھیں کہ یہ لڑکی اتنی آسانی سے ماننے والی نہیں تھی۔۔۔
ماہی منہ بنا کر بولی
پھوپھو… نہیں…
لیکن سونیا پھوپھو کال ملا چکی تھی۔۔۔
السلام علیکم…
فون کے دوسری طرف سخت لہجے میں آواز آئی:
وعلیکم السلام، کیا کام ہے۔۔۔
یہ نازیہ تھی — حارث کی والدہ — ان کا انداز، لہجہ اور لہروں میں گھلا غصہ سب کچھ بول رہا تھا۔۔۔
ظاہر ہے سونیہ کے پاس ولید کا نمبر نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے نازیہ کو کال ملائی تھی۔۔۔
سونیا کے ماتھے کی شکنوں نے جیسے اور گہرائی اختیار کر لی۔
(دل ہی دل میں سوچا)
ایک تو اس کو موت پڑتی ہے مجھ سے نرمی سے بات کرنے میں، حد ہے۔۔۔۔
لیکن ظاہر ہے، زبان پر کچھ نہ آیا۔ صرف چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
ماہی کو ولید سے بات کرنی ہے، ورنہ رات بھر اسے نیند نہیں آئے گی…
وہ یہ کہتی ماہی کو ہی گھور رہی تھی۔۔۔
پھپھو…! ماہی نے غصے میں چلایا۔
دل کی گہرائی سے احتجاج کیا، مگر کچھ خاص اثر نہ ہوا۔
دیکھو تمہیں آواز آرہی نہ ماہی کی کیسے ٹرپ رہی ہے، جلدی سے بات کروا دو ولید سے اس کی۔۔۔
سونیہ نے دبے دبے غصے میں کہا۔
پھوپھو… یہ کیا بول رہی ہیں! کیا سوچیں گی خالہ میرے بارے میں!
ماہی پریشانی سے سونیہ کی طرف دیکھتی کہتی ہے۔
آسانی سے مان لیتی نا میری بات، تو کچھ بھی نہ بولتی!
سونیہ نے دھیمے سے طنز کیا۔
ہمم رکو دیتی ہوں۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔۔۔
کچھ دیر بعد ولید کی آواز سنائی دی۔۔۔
السلام علیکم… ہاں ماہی، بولو، کیا ہوا؟
لو آگیا ولید۔ سونیہ یہ کہتی فون ماہی کے ہاتھ میں تھما دیا،
اور ماہی فون ہاتھ میں لیے سونیہ کو گھور رہی تھی۔۔۔
بولو ماہی، کیا ہوا؟
فون سے ولید کی دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔
وہ… وہ کیسا ہے؟ حارث کیسا ہے؟
ماہی سونیہ کو گھورتی آہستہ سے بولی۔
ہاں وہ بالکل ٹھیک ہے۔
بات کرواؤ حارث سے…
ماہی فوراً بولی، دل میں ایک ہلکی سی امید جاگی۔۔۔
کروا دونگا… لیکن ابھی ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔ آکسیجن ماسک لگا ہے، سانس لینے میں دُشواری ہو رہی ہے اسے۔ ابھی بات نہیں کر سکتا وہ۔۔۔
ماہی کا دل دہلا سا گیا۔
وہ… ابھی تک ہسپتال میں ہے؟
ہاں، کل یا پرسوں ڈسچارج ہو جائے گا۔ فی الحال، احتیاطاً رکھا ہوا ہے۔
ماہی نے کچھ لمحے خاموشی اختیار کی، پھر جھجھکتے ہوئے پوچھا
تم ہسپتال میں ہو ابھی؟
ولید کی آواز کچھ بوجھل تھی، جیسے ہر لفظ کے ساتھ سانسیں اٹک رہی ہوں۔
ماہی نے محسوس کیا کہ ولید کی حالت ٹھیک نہیں۔
ہاں… ماما اور میں… مہر اور پاپا گھر پر ہیں۔
تمہیں کیا ہوا ہے؟ آواز ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے…
بس کیا بتاؤں… ہسپتال کا کھانا بکواس تھا۔ میں نے ماما کو منع بھی کیا تھا، مگر وہ سمجھی میں حارث کی وجہ سے نہیں کھا رہا۔ اتنا کھلا دیا کہ اب الٹی پہ الٹی ہو رہی ہے… شاید اسی لیے سانس بھی پھول رہا ہے۔
ماہی کے چہرے پر الجھن کے سائے تھے۔ وہ خود سے بولی، جیسے کوئی الجھا ہوا سوال ہو…
الٹی ہونے کے بعد سانس بھی پھولتا ہے کیا…؟
وہ جانتی تھی ولید کچھ چھپا رہا ہے، مگر اب مزید پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔
کہیں وہ یہ نہ سمجھ لے کہ ماہی کو اُس کی فکر ہو رہی ہے…
ولید نے ایک پل خاموش رہنے کے بعد پوچھا:
تم نے یہ سب پوچھنے کے لیے کال کی ہے؟
ماہی نے ماتھے پر بل ڈالے، ہلکے سے جھنجھلاتے ہوئے کہا:
تمہارا فون کہاں ہے؟ میں نے میسج کیا تھا… تم نے دیکھا ہی نہیں؟
ولید کی آواز میں تھکن جھلک رہی تھی، لیکن لہجہ اب بھی نرمی سے لبریز تھا۔
ہاں، وہ مہر کے پاس ہے… کب کیا تم نے میسج؟
شام کو۔ اور تمہارا فون اُس کے پاس کیا کر رہا ہے؟
ماہی کا لہجہ قدرے طنزیہ ہوگیا تھا۔
ولید نے لاپرواہی سے جواب دیا:
بہن ہے میری، اُس نے مانگا تو دے دیا…
ماہی دل ہی دل میں بڑبڑائی،
کیسا لڑکا ہے یہ… اپنا فون کون کسی کو دیتا ہے۔
ولید نے بات جاری رکھی
ہاں شام کو مطلب یہاں رات… ماہی، وہ مجھ سے نو بجے ہی فون لے کر چلی گئی تھی گھر، اور تمہیں پتہ ہے یہاں ابھی تین بج رہے ہیں… اور میں ہسپتال میں ہوں۔ اب صبح آئے گی تو واپس لے کر آئے گی…
ماہی نے ایک دم سر تھام لیا،
اوہ نو…
وہ دل میں بولی،
ماہی یہ کیسے بھول سکتی ہے کہ وہ لندن میں ہے اور پاکستانی وقت سے پانچ گھنٹے پیچھے…!
اس وقت پاکستان میں دس بج چکے تھے… اور وہاں لندن میں محض تین۔
اب وہ غصے سے پھپھو کو گھورنے لگی…
کس وقت کال کر دی پھپھو نے! اور حارث کی مما نے اٹھا بھی لی… ایک تو اتنی رات، اوپر سے وہ لوگ ہسپتال میں بھی ہیں…
ماہی نے دل ہی دل میں خود کو کوسا… اور پھپھو کو بھی…
لیکن اب کیا ہو سکتا تھا؟
فون کے دوسری طرف ولید نے پوچھا
تم بتاؤ… کیا ہوا؟
جب ماہی کی طرف سے کوئی آواز نہ آئی،
تو اُس کے لہجے میں ایک ہلکی سی بےچینی اُتر آئی۔
ماہی، اب کیا یہ بھی میں خود ہی اندازہ لگاؤں کہ تم نے کال کیوں کی ہے؟
ماہی نے گہری سانس لی، نظریں نیچے جھکا لیں،
دل کی دھڑکن کچھ تیز ہو گئی۔
الفاظ جیسے لبوں تک آ کر رک گئے ہوں…
وہ چاہتی تھی کچھ کہے،
پر ڈر تھی کہ کہیں سب کچھ زباں پر نہ آ جائے —
وہ غصہ، وہ خوف، وہ دکھ، اور وہ بےبسی جو اُس رات سے دل میں چُھپی بیٹھی تھی۔
بہت دیر کے بعد، جیسے خاموشی میں کوئی دراڑ پڑی ہو، ماہی کی دبی دبی سی آواز ابھری…
وہ… مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ کیوں؟
ایک لمحے کے لیے دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ پھر ولید کی مدھم، مگر نادم سی آواز ابھری…
ہاں… آئی ایم سوری… وہ… ایم ڈی نے…
کیا ایم ڈی نے؟ ماہی نے چونک کر کہا۔
جب وہاں سے حامد تمہیں لے گیا تھا… تو یہاں ایم ڈی کو بہت غصہ آیا۔ تو اُس نے… یہ کردیا…
ماہی کا اب ضبط جواب دے گیا — ہنہ! پتہ نہیں اُس کی مجھ سے کیا دشمنی ہے… ایک نمبر کا درندہ ہے وہ! دل کرتا ہے اُس کا گلا دبا کے مار ڈالوں۔۔۔
الفاظ زہر میں بجھے ہوئے تھے، جیسے زبان سے نہیں دل سے نکل رہے ہوں۔
ہاں… ملے تو دبا ہی دینا… ولید نے آرام سے کہا۔۔۔
اور نائلہ کا کیا کیا تم نے؟
کچھ نہیں… گیا تھا اُس کے پاس، معافی مانگی حارث کی طرف سے… اور کہا کہ ویڈیوز ڈیلیٹ کر دو، ایسا ویسا کچھ نہ کرنا۔ دوسری طرف ولید نے آرام سے کہا جیسے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔
ماہی کا جیسے دماغ سن ہو گیا ہو، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں — واٹ؟
پھر جیسے اگلے ہی لمحے چہرے پہ غصے کی لالی دوڑ گئی، ماتھے پر بل پڑ گئے۔
تم نے… تم نے نائلہ سے معافی مانگی؟ سیریئسلی؟ نائلہ سے؟
غصے اور بے یقینی کا امتزاج تھا اُس کی آواز میں، جیسے دنیا کا سب سے عجیب کام ولید نے کر دیا ہو۔
ہاں، ظاہر ہے… اب غلطی تو حارث کی تھی نا۔ اُس نے اُس کے بھائی john کو مارا تھا۔ ہمیشہ کی طرح ولید کے پرسکون لہجے میں کہا۔
فضول انسان! جاہل کہیں کے! پاگل ہو تم… کیا بولوں میں! دل کر رہا ہے لندن آ کر تمہارا سر پھوڑ دوں! وہ ہاتھوں کو ہوا میں لہراتی ہوئی چیخی، جیسے واقعی اگلے لمحے کچھ توڑ دے گی، کچھ پھوڑ دے گی۔
اوکے… جب آنا، تو پھوڑ دینا… اُس کا وہی سادہ سا، مدھم لہجہ، جیسے ماہی کے لفظوں کی تپش بھی اُسے چھو نہ پائی ہو۔
ماہی کا خون کھول اٹھا، جیسے آگ کی لپٹیں اُس کی نسوں میں دوڑ گئیں ہوں۔
تمہیں اُسے سبق سکھانا تھا! اور تم… تم بس یوں ہی معافی مانگ کر آگئے؟ اور اُس نے… اُس نے تمہیں معاف بھی کر دیا؟
ماہی کے لہجے میں بےیقینی بھی تھی، دکھ بھی، اور کہیں نہ کہیں ولید پر شدید غصہ۔ اگر وہ اُس وقت اُس کے سامنے ہوتا، تو شاید اُس کا بچنا ناممکن ہوتا۔
ولید کی آواز پھر آئی، سادہ، صاف، بالکل ویسی جیسی ہمیشہ ہوتی تھی۔
ہاں… معاف کر دیا اُس نے۔ ساری ویڈیوز بھی ڈیلیٹ کر دیں۔ اور جو وہ ڈرگز کا کام کرتی تھی نا… وہ بھی چھوڑ دیا۔ کہتی تھی یہ سب میرے اور میرے بھائی کے غلط کاموں کا نتیجہ ہے، تمہاری کوئی غلطی نہیں۔
ماہی کو جیسے یقین ہی نہ آیا۔
اور جو اُس نے میرے ساتھ کیا؟ وہ دھوکہ؟ جو اُس نے مارکیٹ میں بم رکھا… اتنے لوگوں کی جان چلی گئی، اُس میں…
ولید کی آواز اب قدرے سنجیدہ ہوئی، پر تاثر اب بھی وہی تھا… پرسکون۔
ہاں… اُس کے لیے بھی اُس نے معافی مانگی۔ اور جب ایک انسان دل سے توبہ کر لے، تو اللہ بھی معاف کر دیتا ہے… ہم انسان کس کھیت کی مولی ہیں؟ میں نے بھی معاف کر دیا۔ اور کہا، ‘ماہی نے بھی معاف کر دیا۔’
ماہی کا دل جیسے آگ بگولا ہو چکا تھا، الفاظ اُس کے لبوں پر رکے نہیں… اور ضبط کی آخری لکیر بھی اب شاید ٹوٹنے کو تھی۔
آہہہہہہ بدتمیز! جاہل! میں نے کب کہا تھا؟!
مجھے لگا تم اُسے سبق سکھاؤ گے! پر نہیں… تم تو بس جا کر اُس سے معافی مانگ آئے… اففف!
وہ جھنجھلا کر بولی جیسے ولید اُس کے سامنے بیٹھا ہو اور وہ پل بھر میں اُس کی گردن دبوچ لے۔۔۔
اگر یہی سب کرنا تھا، تو مجھے پاکستان کیوں بھیجا؟ پہلے ہی معافی مان لیتے نہ ۔۔۔
ولید کی آواز اب بھی وہی… غیر متزلزل، جیسے کسی پتھر پر پانی کی بوند پڑی ہو۔
نہیں… وہ تو میں نے تمہیں ایم ڈی کی وجہ سے بھیجا تھا، نائلہ کا مسئلہ تو اتنا بڑا تھا ہی نہیں۔
یو نو واٹ… تم ایک نمبر کے جاہل انسان ہو، قسم سے! تُم نے اُسے معاف کیسے کردیا۔۔۔ تمہیں میرا خیال نہیں آیا اُس نے میرے ساتھ کیا کیا۔۔۔ ماہی کی آواز میں ایسا تپش بھرا جلال تھا کہ فون کے دوسری طرف سننے والے کے کان بھی جل جائیں۔ وہ غصے سے فون کو گھورنے لگی، جیسے اگلے ہی لمحے وہ شیشے کی دیوار پر دے مارے گی۔
معاف کرنے والا…بدلہ لینے والے سے زیادہ بڑا ہوتا ہے ماہی …کیونکہ معاف کرنا… کسی کا گلا گھونٹنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔۔بدلہ لینا تو آسان ہے…
دل کی آگ سے جل کر کسی کا سب کچھ چھین لینا،
یہ تو ہر کمزور، ہر بزدل کر سکتا ہے۔
لیکن معاف کرنا؟ یہ ہمت مانگتا ہے، ظرف مانگتا ہے…
اور ظرف ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا ماہی۔۔ اسی لیے نائلہ کو معاف کردو ولید نے دھیمے اور پُر سکون لہجے میں کہا
پھر اُسے کچھ یاد آیا
ویسے مما کہہ رہی تھیں، لو ماہی سے بات کرو… وہ تڑپ رہی ہے تم سے بات کرنے کے لیے۔ اگر تم نے بات نہ کی تو اُسے رات بھر نیند نہیں آئے گی۔ اب کی بار ولید کے لہجے میں شرارت تھی۔۔ جیسے ماہی کے غصے سے اُسے فرق ہی نہیں پڑھتا ۔۔
کیا واقعی میں ماہی…؟ وہ اُسے چھیڑ رہا تھا وہ بھی اس وقت سريسلی اس وقت۔۔۔
بکو مت! فون رکھو!
اور اگلے ہی لمحے وہ ایک جھٹکے سے کال کاٹ دی اُس کا غصّہ یہ سب سننے کے بعد مزید بڑھ چکا تھا۔۔۔
اب مجھے تفصیل سے بتاؤ کیا ہوا؟
ان کا لہجہ نرم تھا، مگر آنکھوں میں وہی شناسا سی سختی جھلک رہی تھی۔
تمہاری ایک طرف کی بات سن کر مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ اور یہ تم اتنا چیخ کیوں رہی تھی؟
پھوپھو، جو بھی ہو… یہ جو ولید نامی شَخص ہے نا، میری زندگی میں یہ بالکل دماغ سے فارغ انسان ہے!
ماہی کے چہرے پر بے زاری صاف جھلک رہی تھی، ماتھے پر بل اور آنکھوں میں جلتا ہوا لاوا۔
قسم سے دل کر رہا ہے لندن جا کر اس کا گلا دبا دوں۔۔۔ وہ دانت پیستے ہوئے بولی،
اتنا اچھا خاصا تو ہے…! سونیا پھوپو نے حیرت سے کہا
اچھا خاصا، پھوپھو؟ ماہی نے طنز سے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا، یہ لڑکا نفسیاتی ہے! ابھی یہ میرے سامنے ہوتا نا، تو یہ میرے ہاتھوں بچتا نہیں۔
سونیا نے ہنسی دباتے ہوئے کہا،
یا اللہ ماہی، تمہاری پتہ نہیں ولید سے کیا دشمنی ہے۔ چھوڑو اُسے، یہ بتاؤ کہ یونی سے ایم ڈی نے نکالا؟
ماہی نے ناک چڑھا کر جواب دیا،
ہاں، میرا دوسرا جانی دشمن۔۔۔
اس کی آواز میں نفرت بھی تھی اور کچھ عجیب سی سنجیدگی بھی،
جس دن سے اُس نے مجھے دیکھا ہے نا، اُس دن سے میرے پیچھے لگا ہوا ہے۔
سونیا پھوپو نے آنکھیں پھیلا کر حیرت سے پوچھا،
دوسرا؟ پہلا کون ہے پھر؟
ولید! اور کون؟ فوراََ جواب دیا
سونیہ پھوپو نے ہنستے ہوئے سر ہلایا،
ویسے ایم ڈی پہلے نمبر پر ہونا چاہیے نا؟ وہ زیادہ خطرناک ہے۔
ماہی نے گہرا سانس لے کر، بےبسی سے کہا،
جی نہیں! ولید زیادہ ہے… وہ ماہی کو کبھی کبھی بےبس کر دیتا ہے… جو کہ ایم ڈی کبھی نہیں کر سکتا۔
اچھا، اب یہ سب چھوڑو، کھانا کھاؤ! اور ہاں، کل آفس جانا ہے نا؟ تیار رہنا۔ سونیا پھوپو نے کچھ سوچتے کہا
ماہی نے سر جھٹکتے ہوئے جیسے اپنے دل سے کچھ طے کیا،
ہمم… ماہی ایم ڈی کا chapter closed کرتی ہے ویسے بھی میرا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ میں نے تو اُسے ولید سمجھا تھا، اب وہ جو بھی کوئی ہو، میری بلا سے، بھاڑ میں جائے!
کُچھ سوچتے پھر کہا۔۔
ہاں، البتہ ولید کا chapter closed نہیں کر رہی میں…
اس کی آواز میں سرد مہری کے ساتھ ایک خاص قسم کی آگ تھی۔
اُس سے تو بدلہ لے کر رہوں گی، آج نہیں تو کل، لیکن یہ طے ہے۔۔۔
سونیا پھوپو نے ہنستے ہوئے کہا،
ہاں یہ ٹھیک ہے! ولید سے بدلے لیتی رہنا، ایم ڈی کا غصہ بھی اُس پر نکال دینا۔ مجھے تو کوئی پرابلم نہیں۔ میں تو خود چند دنوں بعد ولید لوگوں کو بلاؤں گی پاکستان تب لے لینا بدلہ، کھل کر!
ماہی نے آنکھیں گھما کر پھوپو کی طرف دیکھا اور آہستہ سے مسکرا کر بولی،
پھوپھو بچوں کو ایسی تربیت دیتی ہیں؟ بدلہ لینے کا کہہ رہی ہیں؟
بچی؟ کون ہے بچی؟ تم اب بڑی ہو گئی ہو، ماہی!
سونیا پھوپو نے ہنستے ہوئے کہا،
آپ سے تو چھوٹی ہوں نا! ماہی نے فوراً چٹکی لی،
سونیا پھوپو نے ناک سکوڑ کر ماہی کو اوپر سے نیچے تک دیکھا،
کہاں سے لگتی ہو چھوٹی؟ میری جتنی ہی تو ہائیٹ ہے تمہاری۔۔۔
ماہی نے ہاتھ ہوا میں مار کر تنگ آ کر کہا،
آااااااہ پھووووپھو!
اچھا اچھا… اب کھانا کھا کے سو جانا۔ صبح ملتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے وہ مسکرا کر اٹھ گئی۔
اور ماہی… وہ بیٹھے بیٹھے بس گھورتی رہ گئی اُس جگہ کو جہاں سونیا ابھی بیٹھی تھی۔
ہنہ… ابھی تو کہا تھا باتیں کریں گے…
وہ زیرلب بڑبڑائی،
اب اُٹھ کر چلی گئیں… ماہی کی تو کسی کو پروا ہی نہیں ہے، ہنہ ۔۔۔
++++++++++++
کُچھ مہینوں بعد۔۔۔
ان مہینوں میں ماہی اپنی زندگی میں بلکل سیٹل ہو چکی تھی۔ ہر صبح وہ پھوپھو کے ساتھ آفس جاتی، شام کو واپسی ہوتی اور رات گئے بات چیت، بس… یہی اس کی روزمرّہ کی کہانی بن چکی تھی۔ کبھی کبھی اپنے بابا کے گھر رہنے چلی جاتی اور ولید نے جیسا کہا تھا وہ دو ہفتہ سے زیادہ نہیں روکتی تھی عموماً وہ دو دن میں ہی واپس آجاتی تھی۔۔۔
آفس میں وہ خود کو تیزی سے منوانے لگی تھی۔ کام سیکھ بھی گئی تھی اور بڑے سلیقے سے ہینڈل بھی کر رہی تھی۔ ویسے بھی اس کا شوق اور گول شروع سے یہی تھا، اور جب پھوپھو ساتھ ہوں، تو مسئلے ویسے بھی کم ہو جاتے ہیں۔ ماہی کا اعتماد بڑھ گیا تھا۔
گھر میں بھی رشتے داروں سے اُس کی بات چیت ہو جاتی تھی، ہنسی خوشی، تہذیب سے۔
ہاں، ماہی نے کسی سے معافی نہیں مانگی تھی۔
بس جو ملنے آتا، اُس سے خندہ پیشانی سے مل لیتی۔ لیکن خود کبھی کسی کے پاس جانے کی زحمت نہیں کرتی۔
اس کی زندگی اب ایک مخصوص دائرے میں آ چکی تھی — نارمل، پر سکون، اور اُس کے حساب سے بالکل مَست مَست۔
اور ولید؟
یا حارث؟
ان دونوں کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں تھا۔
نہ اُس نے کوئی پیغام بھیجا، نہ اُدھر سے کچھ آیا۔
ماہی کے لیے یہ بات عجیب ضرور تھی…
جب وہ دونوں یہاں تھے، یا وہ ان کے قریب تھی، تو سب کچھ کتنا نارمل لگتا تھا… جیسے سالوں پرانا ساتھ ہو… جیسے وہ اجنبی نہیں، اپنے ہوں۔
اور اب… جیسے سب کچھ کسی پل میں ختم ہو گیا ہو۔ پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا جب حارث اور ولید یہاں آئے تھے پہلی دفعہ تو دوست بن کر چلے گئے تھے پھر جانے کے بعد نہ کوئی کال نہ میسیج ۔۔۔اور اب بھی ایسا ہی ہُوا تھا۔۔۔ یہاں آنے کے بعد بھی ماہی نے ہی پہلے میسیج کیا تھا ولید کو۔۔۔
خاموشی کی ایک دیوار تھی دونوں طرف — پہلے میسج وہ کرے کا انا پرست سکوت۔
لیکن یہاں ایک اور عجیب بات تھی۔
خالہ…
جن کی محبت کا دعویٰ ہمیشہ سب پر بھاری تھا، جن کا معمول تھا ہر ہفتے کال کرنا، وہ بھی ان مہینوں میں مکمل خاموش تھیں۔
ماہی کو یہ سب بےحد اَن کمفرٹیبل لگتا تھا۔
کیونکہ ماں کے بعد خالا ہی وہ واحد وجود تھیں جو دور ہوتے ہوئے بھی اُس سے جڑے رہتی تھیں، خواہ اُن کی پھوپھو سے جتنی بھی دشمنی کیوں نہ ہو۔
پھر بھی وہ پھوپھو ہی کو کال کرتیں، حال چال معلوم کرتیں، اور یونہی اُن سے ہی ماہی کی ٹرانسفر کی خبر ملی تھی۔
ابھی تک تو سب کچھ ٹھیک تھا…
بلکہ کچھ حد تک بہت اچھا بھی۔
+++++++++++++
سورج نصف آسمان پر آ چکا تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک قدرے رواں دواں تھی، مگر موسم میں ایک عجیب سی اداسی تھی… جیسے وقت تھم تھم کر گزر رہا ہو۔
ماہی آج خلافِ معمول اکیلی آفس جا رہی تھی۔
پھوپھو صبح سویرے ہی ارشد کے ساتھ کسی ضروری میٹنگ کے لیے نکل گئی تھیں، اور ماہی کو اجازت دے گئی تھیں کہ وہ اُن کی گاڑی لے کر اپنے وقت پر آفس آجائے۔
سیاہ کار کی کھڑکیاں آدھی چڑھی ہوئی تھیں، اور ڈھلتی دھوپ میں کار سڑک پر تیزی سے رواں تھی۔ ماہی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی—ایسی چمک جو اندر کے سکون کی گواہی دے رہی تھی۔ اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے، اور چہرے پر سنجیدگی کی دبیز تہہ۔
لیکن… یہ سکون عارضی ثابت ہوا۔
چوراہے پر اچانک، کئی موٹرسائیکلیں اس کے راستے میں آ کر رک گئیں۔ وہ ششدر سی رہ گئی۔ بریک کی تیز چیخ اور پھر دھڑکنوں کی ایک لمبی خاموشی۔ ماہی نے گاڑی روکی، دروازہ دھڑاک سے بند کیا اور باہر نکلی۔
What rubbish۔۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے بڑبڑائی۔
نظریں سامنے دوڑائیں تو وہ منظر کسی فلمی سین سے کم نہ تھا — لڑکوں کا ایک گروہ، چند لڑکیاں بھی شامل، اور سب کے سب اُس پر نظریں جمائے ہوئے۔
کار کا دروازہ زور سے بند کر کے وہ باہر آئی، نظروں سے سامنے کھڑے گروہ کو گھورا۔
ایک ایک کر کے سارے موٹرسائیکلوں سے اترے،
پھر ان میں سے ایک آگے بڑھا،
چہرے پر عجیب سا تمسخر، اور لہجے میں ایک ایسی جان پہچان کی جھلک جو ماہی کو یکدم چونکا گئی۔
پہچانا؟
اس نے آنکھ دبا کر، ایک خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
ماہی نے پلکیں جھپکیں، نظریں تیزی سے اُن چہروں پر دوڑائیں…کچھ مانوس سے، کچھ بھولے بسرے…
دیکھو نا… ماہی کا پالا زندگی میں کافی کتّوں سے پڑ چکا ہے…
تو اب یاد رکھنا مشکل ہو گیا ہے کہ تم لوگ اُس فہرست میں کس نمبر پر آتے ہو…
اب کی بار وہ ذرا سا جھکی، جیسے راز کی بات بتا رہی ہو، اور سرگوشی میں کہا
لیکن ہاں، جب کاٹنے کی کوشش کرو گے نا… تو نمبر کے بجائے سیدھا قبر کا پتہ یاد کروا دوں گی۔۔۔۔
پھر وہ سیدھی ہوئی، بال جھٹک کر مڑی اور بولی
راستہ دو، ماہی فضول چیزوں سے الجھنے کی عادی نہیں۔۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ جانے کے لیے پلٹی۔
اُس نے ذرا سا سینہ چوڑا کیا، اک ادا سے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا کر بولا
سیریسلی ماہی؟ تم نے نہیں پہچانا… مجھے؟
ماہی نے بے حد بوریت سے آسمان کی طرف دیکھا، پھر اُس کی طرف مڑی، ہاتھ کمر پر رکھے، اور سرد لہجے میں بولی
اب فارسی میں بولوں کیا؟ ہٹو میرے راستے سے۔۔۔
عبداللہ نے اک شوخی سے مسکراتے ہوئے قدم آگے بڑھایا،
جیب میں ہاتھ ڈالے اور نظریں جھکائے بغیر بولا
میں عبداللہ ہوں…
لبوں پر اک عجیب سا اطمینان اور آنکھوں میں پرانی چمک۔
ماہی نے فوراً پلکیں جھپکیں، چہرے پر ہلکی سی تمسخر آمیز حیرت ابھری،
پھر گردن ایک طرف کو موڑ کر، مسکراہٹ کے ساتھ بولی
اوہ… بدلہ لینے آئے ہو؟
اس کے لہجے میں وہی پرانی ماہی تھی — جو کالج کے دنوں میں اِن لڑکوں پر بھاری پڑتی تھی،
جو کلاس میں کبھی آواز نکالنے کی ہمت نہیں کرتے تھے،
کیونکہ ماہی کی ایک نظر… اور سب سیدھے ہو جاتے تھے۔
عبداللہ کے پیچھے کھڑے اُس کے دوست ہنسے، جیسے پرانی کسی شکست کو یاد کر کے شرمندہ ہوں۔
عبداللہ اور اس کے دوست ماہی کے ساتھ ماہی کے کالج میں تھے اور ان لوگوں کو ماہی نے اُس وقت بہت پیٹا تھا۔
کیوں پیٹا تھا وہی سارے لڑکے ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔ اور اب ماہی کے سامنے شاید بدلہ لینے آئے تھے ۔۔۔
عبداللہ نے مسکراہٹ کے ساتھ قدم آگے بڑھائے، اور پھر اس کے ساتھ کھڑے دوستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
نہیں… ہم بدلہ لینے نہیں آئے، ہم تو دوستی کا ہاتھ بڑھانے آئے ہیں…
پھر اس نے شوخی سے کہا،
کرو گی دوستی ہم سے؟
ماہی نے عبداللہ کو بے اعتنائی سے دیکھا، جیسے کچھ خاص نہ ہو۔
دل میں تو کچھ اور تھا… اس کے دل نے تو چاہا کہ ان سب کا حساب کتاب وہی کالج کے زمانے کی طرح طے کر دے، لیکن باہر سے وہ بالکل پرسکون تھی۔
دوستی؟
ماہی نے لفظوں کو ذرا سا گھما کر، چھوٹی سی ہنسی کے ساتھ کہا،
کیا تم لوگ واقعی اس قابل ہو کہ دوستی کا ہاتھ بڑھا سکو؟
ماہی نے اپنی آنکھوں میں غصہ بھرا اور قدم تیز کرتے ہوئے کہا
دفع ہو جاؤ یہاں سے، کہ اِسے پہلے میں کسی کا سر پھاڑ دوں!
عبداللہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا
یار، غصہ کیوں کر رہی ہو؟ قسم سے، دوستی کرنے آئے ہیں ہم۔۔۔
اس کی آواز میں اب بھی نرمی تھی، جیسے وہ ماہی کی سختی کو کسی طرح نرم کرنا چاہتا ہو۔
ماہی نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے سرد لہجے میں کہا
مجھے نہیں کرنی تم سب سے دوستی۔ اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔
پھر اُس نے ایک گہری سانس لی، اور چہرے پر اُسی پرانے تیور کے ساتھ، جیسے وہ ان سب کو سبق سکھانے کی تیاری کر رہی ہو، آخری بار ان کی طرف دیکھا۔
عبداللہ اور اس کے دوستوں کے چہرے پر کچھ لمحوں کے لیے شکست کا تاثر آیا، پھر وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر دھیرے دھیرے پیچھے ہٹ گئے۔
ماہی نے اپنی طرف سے یہ بات ختم سمجھی، اور اپنی گاڑی کی طرف قدم بڑھا لیے۔
ماہی نے گاڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ پیچھے سے عبداللہ کی آواز آئی،
ماہی، ہم سدھر گئے ہیں… ہمیں ایک موقع تو دو۔
وہ رکی، آہستہ سے پلٹی… اور نظریں عبداللہ پر جما دیں۔
چہرے پر نہ کوئی حیرت تھی، نہ نرمی۔ صرف ایک طنزیہ سکون تھا۔
اوہ، سدھر گئے ہو؟ واہ، یہ انقلاب کیسے آ گیا؟ آسمان سے کوئی فرشتہ اُترا تھا یا ضمیر نے دو تین تھپڑ مارے؟
عبداللہ تھوڑا سا شرمندہ سا ہوا، لیکن چپ رہا۔ ماہی نے ہاتھ سینے پر باندھے، اک نخوت سے آگے بڑھی
موقع تو تب دیا جاتا ہے جب سامنے والا سچ میں بدل گیا ہو… اور تم؟ تم تو مُجھے ویسے ہی لگ رہے ہو ۔۔ مجھے لگتا ہے تم نے صرف ایکٹنگ بہتر کی ہے، نیت ابھی بھی وہی ہے۔
پھر وہ ہلکا سا جھکی، جیسے رازداری سے کچھ کہنا ہو:
اور ماہی بے وقوف نہیں… ایک بار جو آنکھ کھلے، وہ دوبارہ خوابوں پہ یقین نہیں کرتی۔
پیچھے سے ایک نرم سی آواز ابھری،
ایک لڑکی آگے بڑھ کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی، آنکھوں میں نرمی، لہجے میں التجا تھی۔
تم ایسے کیسے کہہ سکتی ہو، ماہی…؟ ہم واقعی میں سدھر گئے ہیں۔
ایک دفعہ… بس ایک دفعہ بھروسہ کر کے دیکھو۔
پھر وہ ہولے سے مسکرائی، جیسے اپنی بات کو ہلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
اچھا… چلو مانا، تم ہم سے دوستی نہ کرو… کم از کم ہمارے ساتھ ایک بار ڈنر کر لو… ہمیں معاف کر دو… اتنا تو کر سکتی ہو نہ؟
ماحول میں ایک پل کی خاموشی چھا گئی… لیکن ماہی کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ابھرا۔ جیسے وہ دل سے نہیں، صرف دماغ سے فیصلہ سنائے گی۔
ایک تو ماہی کو ایسی بولڈ لڑکیاں زہر لگتی ہیں… بس امیر گھرانے میں پیدا کیا ہو گیٔ، خود کو پتہ نہیں کیا سمجھنے لگتی ہیں۔ چہرے پہ معصومیت، باتوں میں مٹھاس، اور اندر سے؟ اندر سے وہی زہریلی سانپ جیسے فطرت… جو ان جیسے لڑکوں کے ساتھ مل کر باقی لڑکیوں کا جینا حرام کرتی ہیں۔ لیکن کیا پتہ یہ سب واقعی بدل گئے ہوں کیوں کے ماہی نے ان خاطر توازن جو اتنے اچھے سے کی تھی۔۔۔
ماہی کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے تذبذب آیا، پھر فوراً اس نے اپنے خیالات کو کچل دیا۔ اس کے اندر کی آواز اب بھی یہی کہہ رہی تھی کہ وہ ان لوگوں کو چھوٹی سی بھی اجازت نہ دے، لیکن پھر بھی کچھ تھا، جو دل میں اُٹھا تھا۔
لڑکی نے پھر آ کر کہا،
پلیز ماہی، بس ایک بار… اتنا تو کر سکتی ہو۔ ہم نے واقعی سدھار لیا ہے، اور میں وعدہ کرتی ہوں، یہ تمہیں اچھا لگے گا۔
ماہی نے ایک طویل سانس لی اور پھر اندر کی آواز کو خاموش کیا۔ اس کے اندر کچھ تھا جو اب تک اس کے فیصلے میں روک رہا تھا، لیکن اس نے اس کو نظرانداز کیا۔ پھر اس نے ایک گہری نظر لڑکی پر ڈالی،
ماہی نے ایک گہری سانس لی اور لڑکی کی طرف رخ کر کے کہا،
ٹھیک ہے… صرف ایک ڈنر، اس کے بعد کچھ نہیں۔ پھر تم سب کبھی میرے راستے میں مت آنا…
اس کے لہجے میں اتنی سختی تھی کہ اس کی بات میں کوئی پس و پیش نہیں تھا۔ یہ اس کی طرف سے ایک آخری موقع تھا، لیکن ساتھ ہی ایک وارننگ بھی تھی کہ اگر وہ اب پھر اُس کی زندگی میں مداخلت کرتے ہیں تو وہ کچھ بھی برداشت نہیں کرے گی۔
ماہی نے جب نظر دوڑائی تو دیکھا کہ ان سب کے ساتھ مسکان بھی کھڑی تھی، جو اُس کا بہت پرانا چہرہ تھا۔ ایک لمحے کے لیے ماہی کا دل رک سا گیا۔ اُس کی نظریں مسکان پر رکی، اور فوراً اس نے دل ہی دل میں سوچا،
اِسے نے ہی بتایا ہوگا عبداللہ کو؟ ہنہ… دوستی کے نام پر کلنک ہے۔۔۔۔
ماہی نے ایک نظر ان سب پر ڈالی، پھر ہلکے سے قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے کہا،
تُم لوگ چلو، ماہی تُم لوگوں کے پیچھے پیچھے آتی ہے…
یہ کہتے ہوئے وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، جیسے وہ کسی گہری سوچ میں غرق ہو۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے دروازہ بند کیا اور اگلے لمحے گاڑی کے انجن کی آواز سنائی دی۔
ماہی کی گاڑی کے دروازے کی آواز سن کر، وہ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائے۔ پھر انہوں نے اپنے اپنے موٹر سائیکل پر سوار ہونا شروع کیا، جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ہو۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، اور ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے وہ کسی منصوبے پر عمل کر رہے ہوں۔
بس یہی چاہیے تھا، اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا… عبداللہ نے دل میں سوچا، لیکن اس کے چہرے پر ایک جیت کی مسکراہٹ تھی۔
سب نے ایک ایک کرکے اپنے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور تیزی سے روڈ پر دوڑا دی۔ ان کی رفتار اتنی تیز تھی کہ گویا وہ کسی مقابلے میں ہوں، یا پھر کسی راستے کی تلاش میں ہوں جس کا کوئی انتھائی مقصد ہو۔
سب موٹر سائیکلوں نے اچانک ایک دم سمت بدلی اور ایک خوبصورت ریسٹورنٹ کے پارکنگ ایریا کی طرف مڑ گئیں۔ ماہی نے بھی ان کے پیچھے پیچھے گاڑی مڑائی اور پارکنگ ایریا میں داخل ہوئی۔
اور کار سائڈ میں پارک کرتے وہ ابھی اپنی گاڑی سے اُترنے ہی والی تھی کہ اچانک اس کے فون کی آواز آئی۔ فون پر پھوپھو کا نام جگمگا رہا تھا۔
ماہی نے فوراً ایک لمحے کا توقف کیا، پھر انہیں ایک مختصر سا وقفہ دیتے ہوئے کہا،
ایک منٹ، مجھے پھوپو کا فون آ رہا ہے۔
اچھا ہم اندر جا رہے ہیں، تُم کال اٹینڈ کر کے آجاؤ، عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا، پھر وہ سب موٹر سائیکلوں سے اُتر کر ریسٹورنٹ کی طرف بڑھ گئے۔
ماہی نے ان سب کی طرف نظر ڈالی، پھر کہا،
ٹھیک ہے، میں ابھی آتی ہوں…
اور ان سب کو اندر جاتے ہوئے دیکھ کر اس نے ایک گہری سانس لی۔ اس کے ذہن میں بے شمار سوالات تھے، لیکن اس لمحے میں پھپھو سے بات کرنا ضروری تھا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور کال اٹينڈ کرلی۔۔۔
ماہی نے فون اٹھایا اور کہا،
ہاں، بولیں پھوپو؟ کیا ہوا؟
سونیہ پھوپو کی آواز تھوڑی بے چینی سے آئی،
ماہی، کہاں ہو تم؟ ابھی تک آفس کیوں نہیں پہنچی؟
ماہی نے تھوڑا سا سکون کا سانس لیا، پھر جواب دیا،
پھوپو، بس نکل ہی تھی میں۔
سونیا پھوپو نے پھر کہا،
اچھا، تو تم گھر پر ہی ہو؟
ہاں، پھوپو، گھر ہی ہوں۔ ماہی نے صاف صاف جھوٹ بولا ویسے تو اُسے ضرورت نہیں تھی جھوٹ بولنے کی لیکن وہ پھوپھو کو یہ سب کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
پھر ایسا کرو، آج آفیس مت آنا تم…!
ماہی نے چونک کر پوچھا،
کیوں، پھوپو؟
وہ تمہاری خالہ آ رہی ہیں، تو تم ایسا کرو کہ گھر پر ہی رہ کر کام کر لو۔ اوپر والا روم بھی صاف کروا دو۔
ماہی نے تھوڑی حیرانی سے پوچھا،
خالہ آ رہی ہیں؟ لیکن وہ کیوں؟
یہ تو نہیں بتایا اُس نے، بس کہا ہے کہ ماہی سے ملنے آ رہی ہوں۔
انکل بھی آ رہے ہیں؟ ماہی نے کچھ سوچتے پوچھا۔۔
ہاں، وہ بھی آ رہے ہیں، پتہ نہیں کیا بات ہے، سب آ رہے ہیں۔
ماہی نے تھوڑی کنفیوژن میں کہا،
پچھلی دفعہ تو ان کو کام تھا، اس لیے آئے تھے۔ اب کیا کام ہے؟
ہاں، مجھے بھی یہی سمجھ نہیں آ رہا۔ جب بھی تمہاری خالہ آتی ہے، تو کوئی نہ کوئی کام ہوتا ہی ہے۔ اب نہیں پتا کہ اس دفعہ کیا ہوگا، لیکن چھوڑو، آنے دو!
ماہی نے پھر پوچھا،
تو کیا وِلید اور حارث بھی آ رہے ہیں؟
ہاں، وہ سب بھی آ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہی تھی کہ ہم سب آ رہے ہیں، تو بس، یہی مطلب ہے کہ وہ بھی ہوں گے۔۔۔۔
ماہی نے چونک کر کہا،
اچھا، کب آ رہے ہیں؟
آج رات کو! تبھی تو میں تم سے کہہ رہی ہوں کہ روم صاف کروا دو۔۔۔
ماہی نے پھر حیرانی سے کہا،
رات کو ہی؟ اتنی جلدی؟
ہاں، اور دیکھو، کتنی عجیب بات ہے! ابھی کال کر کے کہہ رہی ہے کہ ہم رات کو آ رہے ہیں۔
ماہی نے سر ہلایا اور کہا،
ہاں، واقعی، پہلے بندہ بتا دیتا ہے کہ کب آ رہا ہے۔
سونیا پھوپھو نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا،
ہاں، یہ سب اس کی حرکتیں ہیں۔ مجھے اس پر غصہ آتا ہے، لیکن کیا کریں، آنے دو۔
ماہی نے پھر کہا،
اچھا، پھوپھو، میں کام کروا دیتی ہوں۔ وہاں کا کام کر کے آرام سے آ جانا، اور ہاں، کھانا بھی بنا لوں گی۔۔
پھوپھو نے سکون سے کہا،
ہاں، ٹھیک ہے۔ تم خیال رکھنا، اللہ حافظ!
ماہی نے بھی کہا،
اللہ حافظ!
اور فون دونوں طرف سے کاٹ گیا۔
ماہی نے فون بند کیا اور گہری سانس لیتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلی۔ ایک نظر ریسٹورنٹ کی طرف ڈالی اور دل ہی دل میں شکر گزار ہوئی،
شکر ہے، عبداللہ نے جھوٹ نہیں بولا، ڈنر کا کہا تھا اور ڈنر کروانے ہی لایا تھا۔۔
یہ سوچتے ہی اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آ گئی،
اور وہ قدم بڑھا کر ریسٹورنٹ کی طرف چل پڑی۔ جیسے ہی وہ اندر جانے کے لیے مڑی، اچانک پیچھے سے کسی نے اس کے ناک پر رومال رکھ دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی، اس کی نظر دھندلی پڑی اور وہ بے ہوش ہو کر نیچے گر گئی۔
+++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
