بن روئے آنسو
ازقلم تحریم جعفر حسین۔۔۔
روح کا وہ بوجھ جو پلکوں سے نہیں بہتا
“…بن روئے آنسو”
یہ صرف الفاظ نہیں ، ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو انسان کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ایسا بوجھ جو انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دیتا ہے مگر آنکھوں کی دہلیز عبور نہیں کر پاتا۔
کچھ آنسو ایسے ہوتے ہیں جو دل کے تہہ خانے میں چھپے ہوتے ہیں اور آنکھوں کی سطح پر آنے سے ڈرتے ہیں جہاں دنیا انہیں دیکھ کر انکا مزاق نہ بناۓ۔ ان کا شور دنیا نہیں سنتی مگر یہ انسان کی روح میں صدیوں تک گونجتے رہتے ہیں۔میری یہ چھوٹی سی تحریر انہی ڈرپوک اور خوفزدہ آنسوؤں کے نام ہے ۔
ایسے لوگوں کے بارے میں جو روتے نہیں ہیں، ایسی باتیں جو کہہ نہیں پاتے، ایسے غم، ایسی حقیقت جو دل کے اندر ہی دفن رہتی ہے۔
زندگی میں کچھ آنسو خوابوں کی تدفین پر نکلتے ہیں اور کچھ اپنوں کی بے وفائی پر اور کسی کے لہجے کی تلخی ، رویے کی بے رخی اور تنہائی۔ یہ سب مل کر ایسے آنسو بنا دیتے ہیں جو بہنے سے ڈرتے ہیں۔
کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے زندگی خود بھی ان آنسوؤں کی عادی ہو چکی ہے وہ دکھ دینا نہیں چھوڑتی اور ہم رونا نہیں چھوڑتے۔ لیکن ہم اپنے درد کو چھپانے میں ماہر ہو جاتے ہیں۔
ہم سب ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں انسان کے پاس سب کچھ ہے۔ لوگ ، رشتے ، باتیں پھر بھی ایک خالی پن ہے ایسا خالی پن جو دل کے اندر بے آواز شور بن کر رہ جاتا ہے۔
ایک خلا جو ہمارے دل اور سکون کے درمیان حائل ہے۔ ہر خوش دکھنے والا انسان بظاہر تو زندہ ہے مگر ایک بوسیدہ لاش ہے جو ہر روز موت کا ذائقہ چکھتی تو ہے مگر کوئی بین کرنے یا افسوس کرنے والا نہیں ہوتا۔
سب اپنی زندگی میں مشغول اپنے سے جڑے لوگوں کا دلی حال تک نہیں پوچھتے۔ہماری زبان سے نکلنے والا یہ لفظ ” میں ٹھیک ہوں “ دراصل لاکھوں بِن روئے آنسوؤں کا تابوت ہے۔
انسان برداشت کرتے کرتے ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اپنے ہر ارمان،خواہش حتیٰ کہ آنسو بھی اپنے اندر دفن کرلیتا ہے اور کسی پر عیاں نہیں ہونے دیتا اور پھر ان سب سے روح بوجھل ہوجاتی ہے
۔ یہ روح کا بوجھ کبھی سر درد بنتا ہے کبھی بے خوابی، مسلسل اداسی اور کبھی یہ انسان کو مکمل خاموش کر دیتا ہے۔ہم ایک ایسی مصنوعی دنیا کے اسیر ہیں جہاں ہر انسان چہرے پر مسکراہٹ کا ماسک اوڑھے دکھاوے کی زندگی گزار رہا ہے۔ مگر اندر خاموش چیخیں اور مردہ احساسات دفن ہیںجو درد آنکھوں سے بہہ نہیں سکتا وہ دل میں زہر بن جاتا ہے ۔
یہی زہر دھیرے دھیرے روح کو زخمی کردیتا ہے اور انسان سکون کی تلاش میں دوائیوں اور مصنوعی نیندوں کے پیچھے بھاگتا ہے مگر بھول جاتا ہے کہ سکون خریدا نہیں جا سکتا۔ یہی لوگ آخر میں جینے کی امنگ کھو دیتے ہیں۔
اپنی خواہشات مار دیتے ہیں۔
یہ بن روئے آنسو ایک ہنستا مسکراتا انسان کھا جاتے ہیں، لیکن یہی ہمیں زندگی کا بڑا سبق دے جاتے ہیں۔
یہی تو سکھاتے ہیں کہ درد محسوس کرنا بھی ایک طرح کی زندگی ہے۔
آج کے زمانے میں جہاں ہر چیز کے لئے لفظ موجود ہیں وہی انہیں سننے والا کوئی نہیں
دنیا کے ہجوم میں ہر انسان اپنے بن روئے آنسو لئے پھر رہا ہے کبھی ماضی کی یادوں تلے دفن اور کبھی حال کے دکھ میں الجھے ہوئے۔
یہ بوجھ بہت بھاری ہے
ایک دن یہ بند ٹوٹ جاتا ہے انسان خود کو کمزور سمجھنے لگتا ہے
مگر دراصل یہ روح کی آزادی ہے۔
کچھ غموں کو بہا دینا ہی سب سے بڑی مضبوطی ہے۔
یہی بن روۓ آنسو انسان کو دکھوں سے گزار کر ایمان تک پہنچاتے ہیں۔ جب دل دنیا سے تھک جاتا ہے تو قرب الہی میں پناہ ڈھونڈتا ہے
اس رب کی بارگاہ میں سکون حاصل کرتا ہے جو خاموش چیخوں کو سننے والا ہے۔جو بن روۓ آنسوؤں کو محسوس کرتا ہے پھر وہ خاموش صداؤں کو سننے والا ہمیں سکون سے نوازتا ہے
ایسا سکون جو نہ کسی کے لفظوں میں ہے نہ کسی کے سامنے آنسو بہانے میں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب آنسو بھی عبادت بن جاتے ہیں۔
ختم شدہ۔۔۔
