انت الحیاۃ ( از قلم صدیقی )
باب اول : تُم میری محبت کی آخری وارث ہو
قسط نمبر ۲۰
ایک ہفتے بعد۔۔۔
حیات اب بالکل ٹھیک ہو چکی تھی۔
اور آج، اُس نے ایک فیصلہ کیا تھا۔۔ آمن کے آفس جانے کا۔۔۔ اور اپنا ریسنگ لیٹر جمع کروانے کا۔۔۔
وہ ناشتے کی میز پر آئی جہاں ندیم صاحب اور زنیب بیگم پہلے سے موجود تھے۔
اج صبح اتنی جلدی خود ہی اُٹھ گئی۔۔۔
ندیم صاحب نے حیات کو ڈائننگ ٹیبل کی طرف آتے دیکھا تو کہا۔۔۔
جی، بابا۔ حیات نے مسکراتے ہوئے کہا
خیریت تو ہے؟ کہاں جا رہی ہو اس وقت؟
انہوں نے حیات کو اتنا تیار دیکھ کر سوال کیا۔۔۔
آفس۔ حیات نے جواب دیا۔۔۔
ندیم صاحب کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔
تو تم نے دوبارہ آفس جانے کا فیصلہ کر ہی لیا؟
حیات نے نرمی سے مگر سنجیدگی سے کہا
نہیں بابا، آفس نہیں جا رہی۔ بس استعفیٰ دینے جا رہی ہوں۔
یہ سنتے ہی اُن کے چہرے سے خوشی کی وہ چمک جیسے پل بھر میں غائب ہو گئی۔
ندیم صاحب نے آہ بھرتے ہوئے کہا
اچھا، بس میری شرط مت بھولنا…
ہاں ہاں یاد ہے حیات کو آپکی شرط بابا، پریشان مت ہوں۔
بیٹا، ایک بار پھر سوچ لو۔ تمہارے پورے کیریئر کا سوال ہے۔ زنیب بیگم نے نرمی سے حیات کی طرف دیکھتے کہا
ماما، حیات فیصلہ کر چکی ہے۔۔
اب حیات کو کنفیوز مت کریں۔
حیات اب اُس آفیس نہیں جائے گی۔
پھر بھی، ایک بار سوچ کو
حیات نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
حیات سوچ چکی ہے۔۔۔
زنیب بیگم نے کہا
ٹھیک ہے، جیسے تمہاری مرضی۔
میں چلتی ہوں۔
وہ کھڑے کھڑے اب جانے لگی تھی
ناشتہ تو کر لو؟ زنیب بیگم نے توکا۔۔
نہیں ماما، باہر سے کچھ کھا لوں گی۔
یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھی، اور باہر نکل گئی۔
+++++++++++
صبح کے نو بج رہے تھے۔
سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے —
آمن اپنے کیبن میں بیٹھا، نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جمائے ہوئے تھا۔
چہرے پر معمولی سی سنجیدگی…
زارا نے آہ بھرتے ہوئے کہا
حیات کے بغیر سب کچھ کتنا سنّا سنّا لگتا ہے نا…
مایا نے گردن ہلاتے ہوئے کہا
ہاں، سنّاٹا تو ہے آفیس میں۔۔۔
ورنہ وہ اِدھر اُدھر گھومتی رہتی تھی، ہر کسی سے باتیں کرتی، شوخیاں مچاتی…
خیر، پتا کرو نا — وہ واپس آئے گی بھی یا نہیں؟
زارا نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
پتا نہیں… مجھے تو لگتا ہے اب نہیں آئے گی۔
مایا نے حیران ہوکر کہا
کیوں؟
پتہ نہیں مُجھے وہ پکنک والے دن سے ہی کچھ عجیب لگ رہی تھی۔۔۔
اسی دن وہ بیچ میں ہی گھر چلی گئی تھی…
اور تب سے آفیس نہیں ائی۔۔۔
مایا نے سوچ میں ڈوبی ہوئی
ہمم… کچھ تو بات ضرور ہے۔
ہاں، کچھ تو ہے…
اچانک فون کی گھنٹی بجی۔۔۔
زارا نے فون اٹھاتے ہوئے کہا
جی باس
کسی سے کہو ایک کپ کافی بھجوا دے میرے روم میں۔ دوسری طرف سے امن کی سنجیدہ آواز سنائی دی
جی، باس۔ ابھی بھیجتی ہوں۔
فون رکھتے ہی مایا نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
خیریت؟ باس نے نتاشا کو نہیں کہا آج؟
زارا نے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا
پتا نہیں…
اور اُسی لمحے، لفٹ کا دروازہ کھلا۔۔۔
دونوں کے چہرے خودبخود اُدھر مڑ گئے۔
سامنے حیات کھڑی تھی۔ وہ آج ہلکے فیروزی رنگ کی سادہ مگر خوبصورت کُرتی میں ملبوس تھی، کُرتی کے گلے اور آستینوں پر باریک سی کڑھائی تھی — جیسے کسی نے محبت سے رنگوں کے نازک پھول اُس پر سی دیے ہوں۔
اس کے ساتھ اُس نے ڈھیلا ڈھالا جینز کا انتخاب کیا تھا۔۔۔پاؤں میں سفید جوتے تھے، کندھے پر ایک مرون رنگ کا بیگ لٹک رہا تھا، اور بال ہمیشہ کی طرح کھلے تھے، اور ٹیڈی والی کلپ اُس کے بالوں میں لگی تھی۔۔۔
مایا نے آنکھیں پھاڑ کر کہا
یہ… یہ مجھے وہم تو نہیں ہو رہا؟
زارا نے مدھم آواز میں کہا
نہیں… وہ واقعی حیات ہے۔
مایا نے حیرت سے کہا
یہ واپس آگئی؟
پتا نہیں،
اب وہ دونوں خاموشی سے اُسے دیکھنے لگیں،
حیات اُسی شوخی کے انداز میں،
ہلکی مسکراہٹ لیے کاؤنٹر کی طرف بڑھی۔
ہائے ہائے! کیسی ہو تم دونوں؟
زارا نے خوش ہو کر کہا
ہم تو ٹھیک ہیں، تم بتاؤ کہاں غائب تھیں اتنے دن؟
وہ… تھوڑی بیمار پڑ گئی تھی۔ اسی لیے نہیں آ سکی۔
زارا نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا چلو، اب واپس آگئی ہو نا؟”
ہمم… آئی ہوں، لیکن ہمیشہ کے لیے جانے کے لیے۔
مایا نے چونک کر کہا
کیا؟ کیوں؟
حیات نے نرمی سے کہا
بس، پڑھائی اور جاب ساتھ نہیں چل رہی۔
اسی لیے آج استعفیٰ دینے آئی ہوں۔
زارا نے آہستہ سے کہا
اوہ… اچھا…
اچھا، باس ہیں اندر؟ حیات نے پوچھا۔۔۔
ہاں، اپنے کیبن میں ہیں۔ زارا نے فوراََ جواب دیا۔۔۔
ٹھیک ہے، استعفیٰ پر سائن کروانے جا رہی ہوں۔
وہ جانے لگی لیکن مایہ کی آواز نے اُسے روک دیا۔۔۔
رُکو، پہلے اِس فائل پر سائن کر دو۔
باس نے کہا تھا تم آؤ تو یہ سائن کروا لوں۔ شاید لیو فارم ہے۔
حیات نے جلدی میں کہا
اچھا، دے دو۔
وہ جلدی جلدی دستخط کرتی پھر بیگ سنبھالتی جانے لگی۔۔
حیات، ایک منٹ۔۔۔۔ اب زارا کی آواز نے اُسے روک دیا۔۔۔
حیات نے پلٹ کر کہا
ہم؟ کیا ہوا؟
کافی لیتے ہوئے جانا نا، باس نے منگوائی تھی۔
اچھا بھئی۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔ زارا نے مُسکرا کے کہا
ویلکم۔۔۔۔ حیات نے مُسکرا کے جواب دیا۔۔۔
اور وہ کینٹین سے کافی لے کر
بغیر دستک دیے آمن کے کیبن میں داخل ہو گئی۔۔۔
دروازہ اچانک کھلا۔۔۔
آمن چونک گیا۔
لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمی تھیں،
وہ ایک پل کے لیے رکا، پھر سر اُٹھایا۔۔۔
سامنے حیات کھڑی تھی۔
ہاتھ میں کافی کا کپ،
چہرے پر وہی شرارت بھری مسکراہٹ جو کئی دنوں سے وہ صرف یاد میں دیکھتا تھا۔۔
یہ… یہ یہاں کیسے آگئی؟
اس نے پلکیں جھپکائیں،
پھر آنکھیں مسلیں — جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ جو دیکھ رہا ہے، وہ سچ ہے۔
مگر پھر سر جھٹک کر
واپس لیپ ٹاپ کی طرف دیکھنے لگا۔
شاید یہ وہم ہی ہو…
حیات نے کپ میز پر زور سے رکھتے ہوئے کہا
یہ لیجیے، آپ کی دو نمبر کافی۔۔۔۔
کپ رکھنے کی آواز سے آمن کی توجہ ٹوٹ گئی۔
اس نے سر اٹھایا۔۔۔
ایک نظر کافی پر، ایک نظر حیات پر
پھر خاموشی سے دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا۔
حیات نے ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے کہا
اوہ ہیلو، مسٹر بزّی پرائم منسٹر۔۔۔
حیات آپ سے بات کر رہی ہے۔۔۔۔
اس بار آمن نے ہلکے سے کپ اٹھایا،
چُھوا، اور خود کو یقین دلایا —
یہ خواب نہیں ہے۔ یہ واقعی آگئی ہے۔
آمن نے سخت لہجے میں کہا
تم… واپس آگئیں ؟
حیات نے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا
نہیں، ابھی تو راستے میں ہوں۔
آمن نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا
تم سیدھا جواب نہیں دے سکتیں؟
آپ سیدھا سوال نہیں پوچھ سکتے؟
عجیب…
ہاں، آپ واقعی عجیب ہیں۔ بتانے کی ضرورت نہیں۔
اور کچھ؟
حیات نے مسکراتے ہوئے کہا
نہیں، بس ویسے…
کیا ویسے؟
حیات نے چھیڑتے ہوئے کہا
میں نے آپ کی کافی کو دو نمبر کہا،
آپ کو برا نہیں لگا؟
آمن نے پرسکون لہجے میں کہا
نہیں۔
حیات نے چونک کر کہا
کیوں؟
آمن نے آہستہ سے کپ اُٹھتے ہوئے کہا
کیوں کہ مجھے پتا ہے،
لوگ ہمیشہ برینڈڈ چیزوں کو ہی دو نمبر کہتے ہیں۔
حیات نے چہرہ بگاڑ کر کہا
چھی… اتنی گندی چیز برینڈڈ نہیں ہو سکتی…
آمن نے اب مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا
تو تم یہاں میری کافی کو برا بھلا کہنے آئی ہو؟
حیات نے شرارت سے آنکھ دباتے ہوئے کہا
ہاں، بالکل۔
ہمم؟ اَمن نے ہلکا سا ابرو اُٹھایا
میرا مطلب ہے، حیات یہاں استعفیٰ دینے آئی ہے…
اوہ، اچھا؟ تو جا کے کروا دو…
اَمن نے بے نیازی سے کہا،
ہم جا ہی رہے ہیں، حیات آپ کی یہ فالتو کافی دینے آئی تھی…
دے دی…؟
نہیں…
پاگل لڑکی…
اَمن نے مسکراتے ہوئے کہا
اب پاگل ہنہ ۔۔۔۔
وہ بولتی تیزی سے کیبن سے نکل گئی۔۔۔
+++++++++++++
السلام علیکم….
حیات نے دھیرے سے دروازہ کھولا۔ آواز میں نرمی تھی،
وعلیکم السلام، مس… آپ یہاں؟
منیجر نے چشمہ ٹھیک کیا، جیسے اسے یقین نہ آیا ہو۔
جی، حیات کو resignation letter جمع کروانا ہے… تو وہ فارم دے دیجیے، تاکہ حیات اسے بھر کے جمع کروا سکے۔
منیجر نے چند لمحے سوچا، پھر بولا،
ویسے تو آپ یہ آن لائن بھی کر سکتی تھیں، لیکن خیر، آپ کاؤنٹر سے فارم لے لیجیے… اور بھر کے باس کو دے دیجیے گا۔
اوکے…
حیات نے مختصر سا جواب دیا،
اور نکل کر کاؤنٹر کی طرف آگئی۔۔۔۔
کافی دے دی باس کو؟
زارا نے مسکراتے ہوئے پوچھا،
ہاں، تم حیات کو resignation letter دے دو۔
ہیں؟ زارا کی مسکراہٹ ایک دم رکی،
کیا؟ تم استعفیٰ دے رہی ہو؟
ہاں…
لیکن کیوں؟ اس کمپنی میں کام کرنا تو سب کا خواب ہوتا ہے! اور تم۔۔۔؟
سب کا ہوتا ہوگا، حیات کا نہیں۔ اور ویسے بھی، اب حیات کو یہاں کام نہیں کرنا۔
زارا نے حیرت سے دیکھا، تو پھر کہاں کروگی کام؟
کہیں نہیں۔ اب حیات گھر میں رہے گی، اور بس… آرام کرے گی۔
تمہیں پتہ ہے، زیادہ دیر ایک ہی جگہ پڑی چیزوں پر زنگ لگ جاتا ہے؟
ہیں۔۔۔۔ واقعی۔۔۔۔ حیات نے حیرت سے کہا
ہاں تو تُم کیوں گھر میں بیٹھ کے اپنے آپ میں زنگ لگوانا چاہتی ہو، اچھی بھلی جوب ہی تُمہاری۔۔۔۔
زارا نے نرمی سے اُسے سمجھایا۔۔۔
ہممم حیات کُچھ سوچنے لگی۔۔۔
کیا؟؟؟ ہممم؟؟ زارا نے اُسے سے حیرانی سے پوچھا۔۔۔
حیات کی پلکیں ہلکیں سی لرزیں، پھر اس نے نرم لہجے میں کہا،
وہ حیات یہ سوچ رہی ہے کہ حیات کے گھر میں ایک پورے ایک سال سے ایک شیشے کا گلاس رکھا ہے، اُس پر ابھی تک زنگ نہیں لگا۔ تمہیں پتہ ہے، کب لگے گا…؟
زارا نے جھنجھلا کر کہا
حد ہے حیات… کبھی سنجیدہ بھی ہو جایا کرو۔۔۔
حیات نے شرارت بھری مسکراہٹ سے کہا، سوری، وہ تو نہیں ہو سکتی۔ تم زیادہ وقت ضائع نہ کرو، اور مجھے resignation letter دو۔
اتنے میں مایا آگے بڑھی، ہاتھ میں کاغذ لیے۔
زارا، کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ وقت کیوں برباد کر رہی ہو؟ اگر جانا چاہتی ہے تو جانے دو۔
تم چپ رہو۔۔۔۔ زارا نے تیکھے انداز میں کہا، کسی نے تم سے بات نہیں کی۔
مایا نے ہلکا سا مسکرائی ہاں، جو سچ بولے اُسے اکثر چپ کرا دیا جاتا ہے…
پھر اس نے کاغذ حیات کی طرف بڑھایا،
یہ لو، فارم۔ بھر دو، اور اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لینا۔
اوکے…
حیات نے ہلکے سے کہا، اور resignation letter ہاتھ میں تھامے وہ آہستہ آہستہ اَمن کے کیبن کی طرف بڑھنے لگی۔
بس وہ دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ سامنے سے آنے والے کسی وجود سے زور سے ٹکرا گئی۔
عجیب۔۔۔۔
زاویار کی بھنویں چڑھ گئیں، آنکھیں donate کر کے آلو لگوا لیے ہیں کیا تم نے؟
حیات نے غصے سے دیکھا، تم سے مطلب؟
واٹ ایور… زاویار نے بےنیازی سے کندھے اچکائے،
ویسے ایک مشورہ دوں تمہیں؟
نہیں، شکریہ۔۔۔ حیات نے ناگواری سے کہا
میں پھر بھی دوں گا…
عجیب ڈھیٹ پنا ہے۔۔۔… حیات نے جھنجھلا کر کہا۔
تم psychiatrist کو چھوڑو، پہلے جا کے کسی اچھے انسان سے چلنا سیکھو۔
آپ سے کسی نے مشورہ مانگا؟
نہیں، مگر پھر بھی دے دیا۔ تمہارے بھلے کے لیے۔ ویسے بھی، میں ایسے چھوٹے موٹے بھلے کے کام کرتا رہتا ہوں…
واٹ ایور۔۔۔
ویسے، اتنے دنوں بعد نظر آئیں، خیریت؟ اور یہ ہاتھ میں کیا ہے؟
اس نے کہتے ہی جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے کاغذ چھین لیا۔
زاویار! زیادہ فری نہیں ہو تم؟ واپس کرو۔۔۔
حیات نے ہاتھ بڑھایا، مگر وہ کاغذ اس کے ہاتھ سے اوپر کر چکا تھا۔
اوہو…
تو محترمہ آفس چھوڑ کے جا رہی ہیں؟
ہاں۔۔۔تو حیات تمہاری یہ فالتو کمپنی چھوڑ کے جا رہی ہے۔۔
یا اللہ تیرا شکر…
زاویار نے آسمان کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں کہا، لگتا ہے میری کوئی نیکی کام آگئی۔
حیات نے آنکھیں گھمائیں، واٹ ایور … اپنے کام پر دھیان دیں آپ۔ آپ کو تمیز نہیں ہے، راہ چلتے سب کو تنگ کرنے لگ جاتے ہیں۔ لاپرواہ کہیں کے۔۔۔
زاویار نے ناگواری سے کہا، بس، فری ہوگئی؟
ایکسائز مے … حیات نے سینہ تان کر کہا، حیات کبھی فری نہیں ہوتی،
you know… I’m very expensive۔۔
Sorry… I don’t know,
زاویار نے مختصر سا جواب دیا، اور دھیرے سے ایک نگاہ ڈال کر ہٹ گیا۔
حیات نے زیر لب کہا،
عجیب آدمی ہے… ویسے بھی ہیرے کی قدر جوہری ہی جانتا ہے۔ اسے کیا پتہ، میں کتنی expensive ہوں۔۔۔
پھر وہ چہرے پر مسکراہٹ لی اَمن کے کیبن میں داخل ہوئی۔
دروازہ کھولا، اور سیدھی جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
وہی صوفہ، جو ہمیشہ سے اُس کی جگہ رہا تھا۔
پین تو دیں ذرا…
وہ resignation letter پر نظریں جمائے اپنا ہاتھ امن کی طرف بڑھا کر کہا
اَمن نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
تم میری اسسٹنٹ ہو یا میں تمہارا اسسٹنٹ ہوں؟
عجیب۔۔۔
اب حیات نے سر اٹھا کر اسے گھورا،
اگر ایک پین دے دیں گے تو آپ کے ہاتھ کٹ کے گر نہیں جائیں گے۔۔۔
اَمن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
اگر گر گئے تو؟ میں رسک کیوں لوں…
ہاں ہاں، نہ دیں۔۔۔
وہ جھنجھلا کر اٹھی،
میں خود لے لوں گی۔۔۔
وہ میز کی طرف بڑھی اور وہ پین اٹھا لیا جو اَمن کے قریب رکھا تھا۔
Excuse me, miss۔۔۔
اَمن نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا،
یہ میرا پین ہے، اپنا پین گھر سے لایا کریں۔
مارے مت، کھاؤں گی نہیں۔۔۔
اگر کھا گئی تو؟ کیا بھروسہ تمہارا…
میں آپ کو درندہ لگتی ہوں؟ دنیا میں اتنی اچھی اچھی ڈشیز چھوڑ کے، میں آپ کا پین کھاؤں گی؟
حیات نے امن کو گھورتے ہوئے کہا
دماغ ہے کہ نہیں آپ کے پاس؟ پتا نہیں اتنا بڑا آفیس کیسے کھول لیا ہے۔۔۔
Excuse me…?
اَمن کی آواز گہری مگر پرسکون تھی — وہی مخصوص لہجہ، جو اکثر بحث کے بعد بھی نرمی کا تاثر دیتا تھا،
حیات نے ایک نظر اوپر اٹھا کر دیکھا، اور بولی،
بس، دونوں بھائیوں نے دو لفظ سیکھ لیے ہیں انگریزی کے، اور کب سے وہی رٹ لگائے جا رہے ہیں۔ جا کے دو لفظ اور سیکھ کر آئیں۔۔۔
اَمن کے لبوں پر ایک ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی،
اچھا؟ اور کوئی حکم…؟
نہیں…
حیات نے قلم کو انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہا،
پہلے اتنا کر کے آئیں، پھر بتاؤں گی۔۔۔
اَمن نے اب پوری طرح اس کی طرف دیکھا،
اپنے ساتھ دِماغ لے کے آیا کرو…
حیات نے بھنویں اچکائیں، اور آپ اب مجھے کام کرنے دیں گے؟ خود کے پاس تو کوئی کام ہے نہیں، فارغ بیٹھے ہیں اور حیات کو بھی کام نہیں کرنے دے رہے۔۔۔
اَمن نے لمحہ بھر کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر مسکرا کر بولا،
Excuse me…
تم The Black rose کے اؤنر کو کہہ رہی ہو کہ وہ فارغ ہے؟
ہاں تو…
تم سے بحث کرنا ہی بےکار ہے…
اَمن نے ایک لمبی سانس لی، مگر لہجہ پھر بھی نرم رہا۔
ہاں تو کرتے کیوں ہیں…؟
حیات نے فوراً پلٹ کر جواب دیا،
بھول جاتا ہوں نا…
اَمن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
کہ مس حیات کے پاس دِماغ نہیں ہے…
ہو گیا آپ کا…؟
حیات نے غصے سے کہا،
ہم…
اَمن نے ہلکے سے سر ہلایا، اور مُسکرا دیا۔۔۔
آپ کسی دن حیات کو باہر دکھ مت جائیے گا…
اب وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی،
ورنہ حیات آپ کی یہ جو بتیسی نکل رہی ہے نا… توڑ دے گی۔۔۔۔
اَمن نے مُسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
اور کچھ…؟
نہیں…
حیات نے دانت پیستے ہوئے کہا، اور دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی۔
اب اس نے resignation letter اپنی گود میں رکھا،
اور قلم ہاتھ میں تھام لیا….
کمرے میں پانچ منٹ تک خاموشی چھائی رہی۔
اور اَمن کی نظریں… جو بار بار اس چہرے پر ٹھہرتی جا رہی تھیں،
تھوڑی دیر بعد حیات اُٹھ کر امن کے میز کے سامنے
آئی۔۔۔
یہ لیں میرا استعفیٰ…
حیات نے وہ کاغذ میز پر رکھا۔
اور اب حیات کبھی نہیں آئے گی یہاں۔۔۔
اَمن نے دھیرے سے کاغذ اٹھایا۔
لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اب بھی تھی،
اوہ واہ…
وہ بولا، لائیے…
اچھا تو… پیسے چیک میں دو گی یا کیش؟
وہ عام سے انداز میں بولا
حیات نے پلکیں جھپکائیں، پھر اسے یوں گھورا جیسے اس نے ابھی کوئی فلکیاتی بےتکی بات کر ڈالی ہو۔
اوہ ہیلو! یہ کیا بول رہے ہیں آپ؟ میں پیسے کیوں دوں گی؟ آپ دیں گے۔۔۔۔
امن اپنی کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا،
میں ریزائن کر رہا ہوں۔
حیات کی آنکھیں مزید پھیل گئیں۔
نشہ وشہ کر کے آئے ہیں کیا آپ؟ ریزائنیشن لیٹر میں نے دیا تھا، جس کا صاف مطلب ہے کہ میں ریزائن کر رہی ہوں۔۔۔
امن جیسے بےنیازی سے کندھے اچکتے ہوئے بولا،
تو وہی تو پوچھ رہا ہوں… پیسے کیش میں دو گی یا چیک؟
آپ کو کہنا یہ تھا کہ پیسے چیک میں لوں گے یا کیش میں… ’دو گی‘ نہیں آپکو ‘ لونگی’ کہنا تھا۔۔۔
امن پلکیں جھپکا کر بولا،
تم تنخواہ کی بات کر رہی ہو؟
حیات نے بےچارگی سے سے کہا
ہاں تو… جائیداد تو آپ مجھے دینے سے رہے۔۔۔
امن نے ایک لمحے بعد اپنی چیک بُک کھولی، قلم چلایا، اور چیک اس کی طرف بڑھایا۔
یہ لو۔
حیات نے چیک تھاما، ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر لائی اور مڑنے لگی۔
تھینک یو…
ابھی وہ دو قدم ہی چلی تھی کہ پیچھے سے امن کی آواز آئی،
اوے ہیلو! ادھر سنو۔۔۔
حیات پلٹ کر اسے دیکھنے لگی،
اب کیا ہے…؟
امن پوری سنجیدگی سے بولا،
تنخواہ ملی ہے تمہیں؟
حیات نے ناگواری سے کہا،
ہاں تو…؟
امن نے ہاتھ آگے بڑھا کر ایسے کہا جیسے وہ دنیا کی سب سے سیدھی بات کر رہا ہو،
تو لاؤ اب… پانچ کروڑ۔۔۔
ماضی
حیات سے مل کر آنے کے بعد امن پریشان حال اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ اس کی ریزائنیشن والی بات امن کے دل میں سوئی کی طرح چبھ رہی تھی۔ وہ مسلسل سوچ رہا تھا کہ آخر وہ کیا کرے کہ حیات کمپنی میں رک جائے… مگر اسے کوئی اچھا خیال سوجھ ہی نہیں رہا تھا۔
وہ آخر کرتا بھی کیا؟ بے بسی اس کے چہرے پر صاف جھلک رہی تھی۔
جس امن کے پاس سب کے سارے مسئلوں کا حال ہمیشہ موجود ہوتا تھا۔۔۔ آج اُس کے اپنے دل کے مسئلے کا کوئی حال موجود نہیں تھا۔۔۔۔
وہ اسی پریشان کیفیت میں بستر پر لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا۔ حالانکہ اس وقت رات کے دس بج رہے تھے اور ایسے وقت میں امن کو اپنے بستر پر نہیں، بلکہ ڈائننگ ٹیبل پر ہونا چاہیے تھا۔
وہ چلی گئی تو…؟
وہ واقعی چلی گئی تو میں کیا کروں گا…؟
کتنے ہی لمحے وہ چھت گھورتا رہا، جیسے جواب کہیں اسی میں لکھا ہو۔
پھر اچانک ذہن میں ایک خنکی سی لہر دوڑ گئی۔
اگر سیدھا… سیدھا رشتہ بھیج دوں…؟ شادی کر لوں…؟
خود سے سوال کرتے ہوئے وہ چونکا۔
پھر اگلے ہی لمحے دل ڈوب سا گیا۔
لیکن اگر اس نے انکار کر دیا تو…؟
دل نے جیسے اسے یہی سمجھایا کہ وہ دو دھاری تلوار پر چل رہا ہے…
اگر قدم ذرا سا بھی لڑھک گیا تو نہ تعلق بچے گا نہ عزت۔
ایسا کیا کروں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے…
وہ بڑبڑایا، بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے۔
ابھی وہ اسی میں الجھا تھا کہ اچانک دروازے پر زور کی دستک ہوئی۔
سوچ کا دھاگا وہیں ٹوٹ گیا۔
آ جاؤ…
اس نے نیم مردہ آواز میں کہا۔
باہر سے دانیال کی بھرپور آواز گونجی،
بھائی کیسے آؤں! دروازہ تو لاک ہے، کھولو گے تو آؤں گا نا! ورنہ تمہیں پتا ہے، میں تو کسی لڑکی کے کمرے میں بھی انٹر ہو جاتا ہوں۔۔۔۔۔
امن نے گہری سانس لی،
کھول رہا ہوں…
وہ بیڈ سے اٹھا، دروازہ کھولا—
اور اگلے ہی لمحے دانیال اس کی طرف تقریباً لپکا۔
اس نے فوراً امن کے سر پر ہاتھ رکھا، جیسے درجہ حرارت چیک کر رہا ہو۔
بھائی! تم ٹھیک تو ہو؟ کہیں بخار وکھار تو نہیں آگیا؟
ازلان ابھی دروازے میں داخل بھی نہیں ہوا تھا کہ زور سے چلایا
بھائی! کہیں مر ور تو نہیں گئے تم؟
ابرار نے بھویں سکیڑ کر اسے گھورا۔
فضول باتیں مت کیا کر…
ازلان نے کندھے اچکا دیے،
کیا کروں؟ میں تو ایسی ہی باتیں کرتا ہوں۔
ابرار نے بےزاری سے ہاتھ اٹھایا،
تو تُو بات ہی مت کیا کر… پھر خاموش رہا کر۔۔۔
ازلان فوراً پلٹ کر بولا،
میں کیوں سائلنٹ رہوں؟ تُو سائلنٹ ہے کافی نہیں؟
ابرار کی برداشت کا پیمانہ چھلکنے لگا۔
چپ ہو جا… میں تیرے ساتھ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔
یہ کہہ کر وہ قدم تیز کرتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔
ازلان اس کے پیچھے پیچھے بڑبڑاتے ہوئے آیا۔
ہاں، جب کسی کو جواب نہیں آتا نا… تو وہ یہی کہتا ہے۔۔۔۔
بھائی، کیا ہوا ہے؟ اندر آتے ہی ابرار نے امن سے پوچھا۔۔۔۔
امن نے مختصر، بےتاثر لہجے میں کہا،
کچھ نہیں۔
ازلان نے کہا،
کچھ تو ہوا ہے۔۔۔۔
ہاں… دانیال کی آواز میں بھی ہلکی سی تشویش تھی۔
اتنے میں یوسف دروازے میں نمودار ہوا، پوری سنجیدگی کے ساتھ۔
بھائی، چلو! ہسپتال وسپتال جانا ہے… میں گاڑی نکالتا ہوں۔۔۔۔۔
دانیال فوراً تیار سی آواز میں بولا،
ہاں ہاں، جا جلدی گاڑی نکال۔۔۔۔
امن نے سب کی طرف دیکھا، جیسے اس شور شرابے پر اسے ہنسی بھی آئے اور چڑ بھی۔
عجیب ہو تم لوگ… اتنا اوور ری ایکٹ کیوں کر رہے ہو؟
پکّا کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے… دایا! پتا لگاؤ۔۔۔۔
وہ ابرار کی طرف اشارہ کرکے بولا
ابرار نے گہری سانس لے کر ازلان کی طرف دیکھا،
ازلان… سیریس ہو جا۔
ازلان نے آنکھیں گھمائیں۔
عجیب…
ابھی اس کا جملہ پورا بھی نہ ہوا تھا کہ ارسل اور ارحم بھی کمرے میں داخل ہو گئے۔
ارحم نے اندر آتے ہی پریشان نگاہیں امن پر ٹکا دیں۔
کیا ہوا ہے بھائی؟ سب ٹھیک تو ہے؟
ارسل حسبِ معمول الجھا ہوا تھا۔
ہاں، ہم لوگ آفس سے آئے تو ڈائننگ ٹیبل خالی پڑا تھا… خیریت تو ہے؟ یا کہیں تم لوگ کھانا کھا تو نہیں لیے ہمارے بغیر؟ یا ہم لوگ لیٹ ہو گئے؟
ولید نے گھڑی دیکھ کر فوراً تصحیح کی،
نہیں، ابھی 10:05 ہو رہے ہیں۔ ہم لوگ بالکل ٹائم پہ آئے ہیں۔
دانیال کی جھنجھلاہٹ اب اس کے لہجے میں پوری طرح عیاں تھی۔
ابے تم لوگ چپ ہو! یوسف، تُو جا، جا کے گاڑی نکال،جلدی۔۔۔۔
ارسل فوراً بول اٹھا،
کیوں؟ تیرے ولیمے میں جانا ہے؟
دانیال کا پارہ ہائی ہو گیا۔
بھائی کی طبیعت خراب ہے! نظر نہیں آ رہا تجھے؟
ارسل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ہیں…؟ مجھے تو ہِٹ کٹے لگ رہے ہیں۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ امن کے قریب آیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
سر بھی گرم نہیں ہو رہا…
دانیال نے ہاتھ مار کر اس کا ہاتھ ہٹایا۔
تو ڈاکٹر ہے؟
نہیں…
دانیال نے خفکی سے کہا
تو پھر تجھے کیسے پتہ کہ بھائی کو کیا ہوا ہے؟ چپ رہ۔۔۔۔
ارحم فوراً آگے بڑھا،
اوئے! بدتمیزی نہ کر میرے بھائی سے۔۔۔
ہاں، میں تو تیرا دُشمن ہوں نا جیسے…
دانیال منہ پھیرتے ہوئے بولا۔
ارحم نے ضبط سے دانت بھینچے۔
چُپ ره۔۔۔۔۔
ازلان ان کا تماشا دیکھ بولا ۔۔۔
مزہ نہیں آرہا… مارا ماری کرو۔۔۔۔
ابرار نے غصے سے پلٹ کر اسے دیکھا،
ازلان! چپ ہو جا۔
ابھی سب کو ایک ایک چماٹ لگاؤں گا میں…! منہ بند کرو اپنے۔۔۔۔
امن کی گرجدار آواز پر سب ایک دم خاموش ہوگئے۔۔۔
دانیال نے نرمی سے پوچھا۔۔۔
بھائی… کیا ہوا ہے؟
اس کے لہجے میں پہلی بار بچپنا نہیں، پوری سنجیدگی تھی۔
تم کھانے پر کیوں نہیں آئے؟ دس بج گئے ہیں۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا…؟
امن نے لب بھینچے۔
ہاں… میں بالکل ٹھیک ہوں۔
یوسف نے ابرو سکیڑی۔
تو پھر…؟
امن نے نگاہ چُرا کر ہلکا سا سر جھٹکا۔
کچھ نہیں۔
ابرار نے نرمی سے کہا
بھائی… پریشان لگ رہے ہو۔ کام کا اسٹریس ہے…؟
امن نے بغیر سوچے فوراً جواب دیا،
نہیں…
ازلان نے حسبِ عادت بم پھینکا۔
تو پھر تمہاری بیوی بھاگ گئی ہے؟
امن کی آنکھوں میں ایک سیکنڈ کو چنگاری سی بھڑکی۔
ہاں۔۔۔۔
(وہ غصے سے تنزیہ بولا۔)
دانیال فوراً ہکا بکا رہ گیا، پھر چہرے پر حیرت سے بھی زیادہ معصومیت آ گئی۔
اہ ہ ہ… بھائی! تم نے چپکے سے شادی بھی کی ہوئی تھی…؟
امن نے بےزاری سے کہا،
ہاں! ایک نہیں… چار شادیاں کی ہوئی تھیں۔۔۔
دانیال کے ہوش اُڑ گئے۔
اور بھائی… تم نے ایک میں بھی مجھے نہیں بلایا؟ نہیں بلایا وہ تو ٹھیک تھا، لیکن… کم از کم بریانی کا پارسل ہی کروا دیتے۔۔۔
امن کی کنپٹیاں تن گئیں۔
دانیال… چپ کرو۔
عجیب… دانیال بڑبڑایا۔
چپ۔۔۔۔
امن نے آنکھیں تنگ کر کے گھورا اور دانیال واقعی خاموش ہو گیا۔
ابرار نے دوبارہ دھیمی آواز میں پوچھا،
ارے بھائی… بات تو بتائیں۔ ہوا کیا ہے؟
ارحم نے کچھ سمجھتے پھر بولا۔۔۔
اگر کوئی مسئلہ ہے… تو بتائیں۔ ہم مل کر حل کر لیں گے۔
ارسل فوراً بول پڑا، ہاتھ سے سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
ہم۔۔۔۔
یوسف نے بھنویں اچکائیں۔
کیا مطلب ہم…؟
وہ اس کی نقل کرتے ہوئے ہاتھ بھی ویسے ہی گھمانے لگا۔
ارسل نے اسے گھورا۔
کچھ نہیں… تُو نہیں سمجھے گا۔
یوسف نے فوراً منہ بنایا،
کیوں؟ میتھس کا سوال کروانے لگا ہے تُو؟
ابرار نے جھنجھلا کر ہاتھ اٹھایا۔
چپ ہو جاؤ دونوں… بھائی، تُم بتاؤ ، مسئلہ کیا ہے؟
امن نے ایک لمبی سانس لی،
کچھ نہیں…
دانیال نے ہاتھ باندھ لیے،
بھائی، اب آپ اوور ایکٹنگ کر رہے ہو۔ سیدھا سیدھا بتاؤ۔
امن کی آنکھیں ایک دم تیز ہو گئیں۔
چپ…
وہ آنکھیں پھیرتے ہوئے بولا
نہیں ہو رہا چپ۔ کیا کر لو گے…؟
امن نے مڑ کر اسے گھورا،
تھپڑ لگاؤں گا ایک۔مم۔
دانیال نے صدیوں کا حق ادا کیا،
عجیب! ہم چھوٹے ہیں نا… ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔
ارحم آگے بڑھا،
بھائی… بتا دو نا آخر…
امن نے دھیرے سے کہا—
حیات… آفس چھوڑ کے جا رہی ہے۔
ازلان کرسی کے بازو پر ٹکا، پوری سنجیدگی کا قتل کرتے ہوئے بولا،
ہاں تو اس بات پہ تو تمہیں مٹھائی بانٹنی چاہیے…
یوسف نے فوراً بات پکڑ لی،
شاید بھائی آج اسی خوشی میں ہمیں باہر کھانا کھلانے لے جا رہے ہیں…
دانیال کی آنکھیں ایک دم چمک اٹھیں،
ہیں…؟ سچّی؟
ابرار نے ناگواری سے دونوں کو گھورتے کہا
بھائی کو بولنے تو دو… عجیب ہو تم لوگ، اپنا ہی شروع ہو جاتے ہو۔ بھائی، تُم بولو۔
سب کی نظریں ایک ساتھ امن پر ٹک گئیں۔
وہ چند لمحے خاموش رہا… پھر دھیمی، مگر واضح آواز میں بولا،
تو میں نہیں چاہتا… کہ وہ آفس چھوڑ کر جائے۔
دانیال فوراً سیدھا بیٹھ گیا،
تو ریزائنیشن پر سائن مت کرنا… بس۔
امن نے گہری، تھکی ہوئی نگاہ اس پر ڈالی،
تمھیں لگتا ہے… کہ میں ایسا کر لوں گا تو وہ رک جائے گی؟
دانیال نے کندھے اچکا کر معصومیت سے جواب دیا،
ہاں تو…
امن نے سنجیدگی سے کہا
وہ حیات ہے… وہ بغیر ریزائنیشن لیٹر کے بھی چھوڑ سکتی ہے۔
ارسل کا منہ کھل گیا،
ہیں…؟
امن نے سر جھٹکا،
ہاں…
یوسف نے سوچتے ہوئے پوچھا،
تو اب…؟
امن نے سب کی طرف دیکھا،
کوئی آئیڈیا سوچو…؟
ازلان نے فوراً ہاتھ اٹھایا،
پہلے کھانا کھا لیں؟
اس کی بات پر سب نے ایسے گھورا جیسے ابھی اجتماعی طور پر اسے دیوار میں گاڑ دیں گے۔
ازلان نے فوراً دونوں ہاتھ اٹھا دیے،
اچھا اچھا… نہیں کھانا ہے تو مت کھاؤ! ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟
ابرار نے غصے سے کہا،
جا تُو جا کے کھانا ہی کھا لے پہلے۔۔۔۔
ازلان نے گردن اکڑا کر جواب دیا،
نہیں جا رہا۔۔۔۔
تو پھر چپ کر کے بیٹھ۔۔۔۔
ابرار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کرایا۔
امن نے پھر دوبارہ سنجیدگی سے کہا
آئیڈیا سوچو… کچھ ایسا کہ حیات چاہ کر بھی نہ جا سکے۔
ارحم نے سنجیدگی سے تھوڑی کھجاتے ہوئے کہا،
فائن لگا دو بھائی اس پر۔
امن نے فوراً جواب دیا،
وہ دے کے چلی جائے گی۔
ارحم نے سر ہلایا۔،
ہاں… یہ بھی ہے…
ازلان نے پرجوش لہجے میں کہا،
میرے پاس اچھا آئیڈیا ہے۔۔۔۔
ارسل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا،
نہیں چاہیے۔۔۔
ازلان نے ڈھیتوں کی طرح کہا
میں تو پھر بھی دوں گا۔۔۔۔
ارسل نے اُسے دیکھتے سنجیدگی سے کہا
ہاں، کیونکہ تُو بےغیرت ہے۔۔۔
ازلان نے پلٹ کر جواب دیا،
چُپ رہ… آئیڈیا سنو۔۔۔۔
یوسف نے آگے ہو کر کہا،
سُنا…
ازلان نے گلا صاف کیا، جیسے کوئی بہت بڑا پلان پیش کرنے لگا ہو۔
بھائی، تم ایک کنٹریکٹ بنواؤ۔ اور اُس پر لکھو کہ حیات آئندہ آنے والے تین سال تک مسلسل تمہاری کمپنی میں جاب کرے گی۔ اور اس دوران وہ ریزائن نہیں کر سکتی۔ تم نکال سکتے ہو… لیکن وہ نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔
امن نے ابرو اٹھائے،
تو اس سے کیا ہوگا…؟
ازلان نے انگلی اٹھائی،
سنو تو! اور لکھنا… کہ اگر حیات نے یہ کنٹریکٹ توڑا، تو اسے ایک کروڑ روپے تمہیں دینے پڑیں گے۔۔۔۔
دانیال کی آنکھیں پھٹ گئیں،
بھائی… ایک کروڑ کچھ زیادہ نہیں ہے…؟
ازلان نے اسے گھورا،
ابے پاگل! زیادہ ہی تو ہونا چاہیے! اسی لیے تو وہ دے نہیں پائے گی۔۔۔
ارسل نے فوراً سوال اٹھایا،
اور وہ کنٹریکٹ سائن کیسے کرواؤ گے…؟
یوسف نے فخریہ حل پیش کیا،
نقلی سائن کاپی کر دیں گے! اور کیا۔۔۔
ابرار نے فوراً اسے ٹوکا،
وہ حیات ہے… سمجھ جائے گی۔۔۔۔
ایک لمحے کو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
امن کی نظریں کسی گہری سوچ میں ڈوب گئیں۔
پھر ہلکا سا، دبایا ہوا مگر واضح مسکراہٹ اس کے چہرے پر اُبھری۔
آئیڈیا اچھا ہے…
اس نے آہستہ سے کہا،
سائن تو میں کروا لوں گا… اُس میں کوئی بڑی بات نہیں۔
ارحم نے فوراً اعتراض اٹھایا،
بھائی… ایک کروڑ بہت کم ہیں۔
دانیال نے حیرت سے چیخ کر کہا،
تُو دے دے پھر مجھے اگر کم ہیں! پاگل انسان… ایک کروڑ کم لگ رہا ہے اِس کو… پتا نہیں کیسے کیسے لوگ رہتے ہیں یہاں۔۔۔
ارحم نے اسے گھورا،
تُو چپ رہ… بھائی دیکھو، حیات کوئی مڈل کلاس فیملی سے تو ہے نہیں۔ اس کے ابا کا بھی اچھا خاصا بزنس ہے۔ تو ممکن ہے کہ وہ ضد میں آ کر اپنے ابا سے پیسے لے کر تمہیں واقعی دے دے۔۔۔
امن چند لمحے خاموش رہا، پھر سوچ میں ڈوب کر بولا،
ہم… بات تو صحیح ہے…
دانیال نے دونوں ہاتھ فضا میں اچھال دیے،
مجھے بھی ایسے ہی ایک کروڑ دینے والے ابا چاہئیں۔۔۔
ازلان نے فوراً نشانہ لیا،
شکل دو روپے والی ہے نہیں… اور چاہیے اِن کو ایک کروڑ۔۔۔
دانیال تڑپ کر بولا،
زیادہ فری نہ ہو…
یوسف نے ہنستے ہوئے کہا،
بھائی جا… تُو ایک کروڑ دینے والے ابا ڈھونڈ۔۔۔
ارسل نے سنجیدہ شکل بنا کر کہا،
تین کروڑ کر دو…
ازلان نے فوراً ہاتھ اٹھایا،
نہ میرا نہ ارسل کا… پانچ کروڑ کر دو۔۔۔۔
دانیال نے اسے گھورا،
تُو جمعہ بازار آیا ہوا ہے کیا…؟ جو ایسے بارگیننگ کر رہا ہے؟
ازلان نے فوراً پلٹ کر کہا،
تُو جا کے ایک کروڑ دینے والے ابا ڈھونڈ…
دانیال کا پارہ چڑھ گیا،
مار دوں گا… چپ رہ…
ازلان ہنسا،
اور آتا کیا رہا ہے تُو…؟
دانیال نے امن کی طرف اشارہ کیا،
بھائی دیکھو اِس کو… مار دوں گا میں۔۔۔
امن نے دونوں کو گھورا،
دونوں چپ ہو جاؤ۔۔۔
ارحم نے کہا،
بھائی یہ آئیڈیا اچھا ہے… یہی کر لو۔ ایسے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی…
یوسف نے ناک چڑھا کر کہا،
لیکن اس آئیڈیا میں کوئی مر تو رہا ہی نہیں…
ارحم نے دانت پیسے،
ہاں، تجھے مار دوں؟
یوسف نے فوراً ہاتھ اوپر اٹھائے،
ارے میں تو بس مذاق کر رہا تھا بھائی… تم تو سیریس ہو گئے۔۔۔
امن نے گہری سانس لی،
ہاں… یہی کرتا ہوں۔
ازلان نے فوراً ہاتھ رگڑتے ہوئے پوچھا،
اب کھانا کھا لیں؟
امن نے تھکا سا ہاں میں سر ہلایا،
ہم… چلو۔
اور سب کے سب ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے،
حسبِ معمول شور مچاتے ہوئے،
ایک دوسرے کو دھکے دیتے تبصرے کرتے،
+++++++++++++
دوسرے دِن آمن اپنے کیبن میں موجود تھا۔۔ سامنے والی کرسی پر زاویار ٹانگ پر ٹانگ رکھے، پورے سکون سے بیٹھا سارا پلان سن رہا تھا۔
تو اب بتاؤ، contract sign کیسے کروانا ہے…؟
امن نے زاویار سے پوچھا
زاویار نے ہونٹ دبا کر سوچنے والے انداز میں کہا،
ہمم… سوچو…
زارا کو بولو۔ وہ دھوکے سے کچھ اور بول کر سائن کروالے گی…
امن نے خود ہی سوچتے ہوئے کہا
زاویار فوراً سیدھا ہو کر بولا،
نہیں! زارا نہیں۔ زارا سے تو حیات کی دوستی ہے.
امن نے بھنویں چڑھا کر کہا،
تو…؟
زاویار نے انگلی اٹھا کر کہا،
مایا کو بولو! ویسے بھی حیات، مایا کی باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی۔ بس سُن لیتی ہے، اوپر اوپر سے— اور بغیر پڑھے سائن کر بھی سکتی ہے…
امن نے گہری سانس لے کر سر ہلایا،
ہاں… یہ صحیح ہے۔
ٹھیک ہے… پھر مایا ہی کرے گی یہ کام۔
امن نے کہا پھر سوچتے ہوئے ٹیبل کی طرف جُھکا
دونوں کہنیوں کے سہارے تھوڑا سا آگے آیا…
اور دھیمے لہجے میں بولا، اور دھیمے لہجے میں آہستہ سے کہا
تمہیں نہیں لگتا کہ میں یہ بہت غلط کر رہا ہوں۔۔۔
کیا؟؟ غلط کر رہے ہو۔۔۔؟ زاویار نے آنکھیں سیکڑی ٹیبل کی طرف جُھکا امن کے قریب ہُوا، بلکل اُسی کے انداز میں آہستہ سے کہا
امن نے ہلکی سانس کھینچی، نظریں ٹیبل پر ٹکاتے ہوئے کہا
میں اُسے دھوکا دے رہا ہوں۔۔۔۔
زاویار نے فوراً پلٹ کر پوچھا
اس میں حیات کا نقصان ہو رہا ہے؟؟
امن نے بے اختیار نفی میں سر ہلایا۔
نہیں۔۔۔۔
وہ مزید قریب ہو کر دھیمے لہجے میں بولا
تو پھر کیسا دھوکا۔۔۔۔اور اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور حال ہے۔۔۔۔؟؟؟ حیات اس کے علاوہ کسی صورت نہیں روکے گی۔۔۔ اب تُم اُس کے سامنے تو گھٹنے ٹیکنے سے رہے۔۔۔۔
امن نے فوراً چہرہ اوپر اٹھایا،
زاویار کو گھور کر کہا
چُپ رہو۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ سیدھا ہو کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا… اور یہ خیال آتے ہی کہ حیات اب آفس سے نہیں جا پائے گی— اس کی رکی ہوئی سانس جیسے آہستہ آہستہ بحال ہونے لگی تھی۔
آمن نے ایک لمحے کو گہری سانس لی… پھر آگے جھک کر انٹرکام کا بٹن دبایا۔۔۔
مایا… میرے کیبن میں آؤ۔ ابھی۔
چند ہی لمحوں بعد دروازہ ہلکے سے کھلا اور مایا اپنا ہمیشہ والا over-confident سا مسکراہٹ بھرا چہرہ لیے اندر آئی۔۔
جی باس؟ آپ نے بُلایا…؟
امن نے کرسی سے سیدھے ہو کر اسے دیکھا،
ہاں۔ تم سے ایک بہت ضروری کام ہے۔
مایا فوراً سنبھل کر کھڑی ہوگئی۔
جی بولیے…؟
آمن نے میز پر رکھا contract draft اُس کی طرف موڑا۔
تمہیں یہ کنٹریکٹ… حیات سے سائن کروانا ہے۔۔
مایا نے فوراً سر ہلایا، جیسے یہ کوئی عام سا کام ہو۔
جی باس، کروادوں گی۔
زاویار نے ایکدم کرسی سے سیدھے ہو کر ہاتھ اٹھایا۔
پوری بات سن لو پہلے…
اس کی آواز میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔
مایا حیرت سے دونوں کو دیکھنے لگی۔
تمہیں یہ کام… بہت احتیاط سے کرنا ہوگا۔
حیات کو ذرا سا بھی پتا نہیں چلنا چاہیے کہ اس کنٹریکٹ میں کیا لکھا ہے۔
امن نے سنجیدگی سے کہا
مایا کی پیشانی پر ہلکی سی لکیریں پڑ گئیں۔
جی…؟
اس کے لہجے میں پہلی بار تذبذب آیا۔
زاویار آہستہ سے جھکا، جیسے راز کسی اور تک نہ پہنچ جائے۔
زاویار سنجیدگی سے تھوڑی سختی سے کہا
سیدھی بات یہ ہے… تمہیں حیات سے دھوکے سے سائن کروانے ہیں۔
مایا نے چونک کر دونوں کو دیکھا۔
لیکن…
آمن نے اس کی بات کاٹ دی۔
دیکھو… حیات نوکری چھوڑ رہی ہے۔
اور میں… نہیں چاہتا کہ وہ یہ نوکری چھوڑ کر جائے۔
مایا نے کچھ لمحے سوچا…
پھر جیسے اس کا اعتماد واپس آگیا ہو، وہ سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی۔
جی سمجھ گئی باس۔ ہو جائے گا آپ کا کام۔
زاویار نے پھر پوچھا— جیسے پرکھ رہا ہو
پکا؟ کر لو گی؟
مایا نے دونوں ہاتھوں کو کمر پر رکھتے ہوئے پورے اعتماد سے کہا
جی! ہنڈریڈ پرسنٹ۔
آمن کی آنکھوں میں پہلی بار ہلکی سی مطمئن چمک اُبھری۔
گڈ… اب تم جاؤ۔
حیات کچھ دیر میں آتی ہوگی۔
ٹھیک ہے باس، میں چلتی ہوں۔
وہ فائل اٹھا کر چلی گئی،
دروازہ بند ہوتے ہی آفس میں ایک گہری خاموشی پھیل گئی۔
آمن نے ہلکے سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
پھر دھیمی آواز میں کہا
بس… اب کام ہو جائے…
زاویار نے مسکراتے ہوئے کہا
ہو جائے گا بھائی… اتنی ٹینشن نہ لو۔
آمن نے آنکھیں بند کر کے سر ہلایا۔
ہمم…
++++++++++++++
حال۔۔۔۔
ہیں…؟ پانچ کروڑ؟
رقم سنتے ہی اُس کی آنکھیں ایسے پھیلیں جیسے ابھی ابھی باہر نکل آئیں گی۔
ہاں، پانچ کروڑ۔
امن نے سنجیدگی سے کہا
کس بات کے پانچ کروڑ؟ کون سے پانچ کروڑ؟ کیسے پانچ کروڑ!؟
حیات نے حیرانی دیکھا
دماغ خراب ہے کیا آپ کا؟
آمن نے میز سے contract file اٹھایا اور اس کی طرف بڑھایا۔
تم نے خود سائن کیے ہیں یہ کنٹریکٹ۔ دیکھو…
کنٹریکٹ کے مطابق :
▪️ حیات اگلے تین سال تک The Black Rose میں باس کی اسسٹنٹ رہے گی۔
▪️ اگر وہ اس دوران جاب چھوڑتی ہے تو اسے پانچ کروڑ روپے کمپنی کو بطور جرمانہ دینے ہوں گے۔
▪️ اور اگر وہ یہ جرمانہ ادا نہ کرے تو سیدھا پانچ سال کی جیل۔
حیات نے کنٹریکٹ کی لائنیں پڑھتے ہی آنکھیں جھپکیں۔
او بھائیییی! میں نے کوئی سائن وائن نہیں کیے! یہ کیا ڈراما ہے؟
تو یہ دیکھ لو… یہ کس کے سائن ہیں؟ امن نے سنجیدگی سے کہا
حیات نے فائل اٹھا کر سائنوں کی طرف دیکھا، پھر ناک چڑھائی اور بولی
یہ؟ یہ میرا سائن؟ یہ…؟ توبہ! اتنا گندا، چی چی… اتنا گیج پیج پتہ نہیں کس نے کیا ہے، یہ سائن۔۔
آمن نے آنکھیں سکڑ کر اسے دیکھا۔
ڈرَامے بند کرو۔ لے آؤ پانچ کروڑ، اور میں ابھی تمہاری ریزائن قبول کر لیتا ہوں۔ ورنہ— جیل کے لیے تیار ہو جاؤ۔
آپ پکے ستیائے ہوئے ہیں! یہ کیسا کنٹریکٹ پیدا ہوگیا؟ میں نے جوائننگ کے وقت تو کچھ نہیں سائن کیا تھا۔۔۔
اور اب اپنے ہی کہے سے مُکر رہی ہو؟ حیات… مت کرو یہ ڈرامے۔ وقت کم ہے۔ جلدی نکالو پیسے… ورنہ میں پولیس کال کر رہا ہوں۔
اس کی آواز میں دھمکی صاف محسوس ہو رہی تھی۔
رک جایئے! اتنے جذباتی کیوں ہو رہے ہیں؟ عجیب انسان ہیں آپ…
کیونکہ میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے۔ فارغ نہیں ہوں میں… آپ کی طرح۔
حیات نے جھٹ سے گھورتے ہوئے کہا
چُپ ہو جائیے! کیونکہ دنیا میں آپ سے زیادہ فارغ کوئی نہیں ہوسکتا۔
ایکسائز مے…؟
دو منٹ! بس دو منٹ چپ رہیں گے؟ حیات کو سوچنے دیں؟
امن نے کندھے اچکاتے ہوئے
سوچنے کے لیے دماغ بھی چاہیے ہوتا ہے…
حیات نے خفکی سے کہا
آپ کچھ زیادہ نہیں بول رہے؟
نہیں۔ مجھے نہیں لگتا۔ امن نے سنجیدگی سے جواب دیا
چپ رہئیــے۔۔۔
وہ غصے سے کہتی اپنا بیگ سے فون نکالتی، کیبن کے ایک کونے میں جا کر کال ملانے لگی۔۔۔۔
جیسے ہی اُس نے کال ملائی۔۔۔
آمن کے دل کو زور کا جھٹکا لگا۔۔۔
اس کے ذہن میں فوراً ایک خیال کوندتا۔۔۔
کہیں یہ اپنے ابو سے پیسے نہ منگوا لے…
اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر…؟
میں کیا کروں گا؟
آمن کے ماتھے پر بل پڑے
فکر، گھبراہٹ، اور ایک عجیب سا ڈر… سب اکٹھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
