دِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۳
پلیز؟ اس کا مطلب اندر کچھ تو ہے۔۔۔ کیا چھپا رہی ہو۔۔۔ حارث نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا۔۔ اُسے ابھی انداز ہوا کے مینی اُس کے قد میں بہت چھوٹی ہے اُسے مینی کی آنکھوں میں جھکنے کے لئے تھوڑا جھکنا پڑا۔۔
کُچھ بھی نہیں۔۔۔ مینی نے نظر چرا کر کہا،
حارث نے ایک قدم آگے بڑھایا، آنکھیں تنگ کر کے بولا، پھر مجھے اندر جانے دو۔۔۔
نہیں۔۔۔ اُس نے فوراً کہا،
نہیں جانے دو گی۔۔۔؟ حارث کی آواز نیچی مگر گہری تھی، اُس نے مینی کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے سچائی کھینچ لینی ہو۔
اور اگلے ہی لمحے… اُس نے مینی کی کلائی مضبوطی سے تھامی، اور نرمی سے لیکن دبدبے کے ساتھ اُسے دیوار سے لگا دیا۔
کیا چھپا رہی ہو تم؟ اُس کی سانس مینی کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی، آنکھوں میں ایک تپش تھی،
مینی کا دل دھک دھک کرنے لگا…اُسے حارث سے وحشت ہوتی تھی اُس کو حارث سے درندے والے بُو آئی تھی۔۔۔ اُسے حارث ہرگز نارمل انسان نہیں لگتا تھا۔۔۔
اُس کا دل کیا دو تین گھونسے مار دے حارث کو۔۔۔ الٹا سیدھا بولے۔۔۔ لیکن وہ ایسے نہیں کر سکتی تھی وہ ماہی تھوڑی تھی۔۔۔ وہ ایک اداکار تھی۔۔۔ اپنے آپکو محفوظ کرنے کے لیے اداکاری کرتی تھی۔۔۔ اور ابھی بھی وہ معصوم سی شکل بنائے کھڑی تھی۔۔۔
میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔ اُس نے انتہا کی نرمی اپنے لہجہ میں لیے کہا۔۔۔ اور اُس نے مینی کی کلائی آہستگی سے چھوڑ دی،
مینی فوراً ایک قدم پیچھے ہٹی،
اپنی کلائی کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا،
جیسے وہ خود کو دوبارہ سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہو۔
اور پھر دروازہ کھلا اور حارث اور مینی دونوں کی نظریں دروازے کی طرف اٹھی۔۔۔
ماہی؟ حارث نے ناگواری سے ماہی کو ولید کے روم سے نکلتے دیکھا وہ بھی مایوں کی دلہن کے روپ میں۔۔۔
ماہی کچھ نہیں بولی اور خاموشی سے یہاں سے نکل گئی۔۔۔۔
وہ اسے جیجو سے بات کرنی تھی۔۔۔ مینی نے ہلکی آواز میں کہا۔۔۔
تو تُم مُجھے یہ بات نہیں بتا سکتی تھی۔۔۔؟؟
اُسے پھر غصے آیا۔۔۔۔
مینی نے ناگواری سے حارث کی طرف دیکھا۔۔۔ ایک تو وہ اور اس کا غصّہ۔۔۔
نہیں۔۔۔
اُس نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا، جیسے حارث کا غصہ اُس کے لیے کوئی خاص معنی نہیں رکھتا تھا۔
اور وہ اس کے سائڈ سے نکل کر جانے لگی لیکن پھر پلٹ کر اُس کی طرف مڑی اور کہا
آئندہ میرے پاس بھی مت آنا وہ غصے میں کہتی تیزی سے بھاگ گئی۔۔ کہیں حارث پھر نہ پکڑ لے۔۔۔
اور حارث نے حیرت سے اُس کی پشت کو دیکھتے ہوئے سر ہلایا۔
کیا لڑکی ہے یہ… پل میں تولا پل میں ماشا…
وہ زیرِلب بڑبڑایا، جیسے خود سے مخاطب ہو۔
کبھی معصوم بچوں کی طرح آنکھیں پھیلائے کھڑی ہو جاتی ہے،
اور کبھی کسی شیرنی کی طرح سامنے والے کی بولتی بند کر دیتی ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے آنکھوں میں نمی تھی، اور اب…
اب ایسے بے نیازی سے جا رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
+++++++++++
وہ سر جھکائے دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا،
چند لمحوں کے بعد اس کی نظر اس کونے میں رکھی گجروں پر پڑی…
جسے نور دے کر گئی۔۔۔ہمارے ہاتھ سے تو پہن نہیں رہی شاید آپ کے ہاتھ سے پہن لے…
اب وہ گجرے…
کوئی اور اُس کو پہنائے گا
وہ اب کسی اور کے لیے وہ سجے گی۔
کسی اور کے لیے وہ مسکرائے گی۔
ولید کے دل سے ایک آہ نکلی
میں ہار گیا اُس لمحے میں، جب جیتا سا محسوس کیا تھا…
ایک نظر کی چمک نے، ساری دنیا کو روک دیا تھا..
پر یہ کیسا فیصلہ ہے، یہ کیسی بے بسی ہے؟
جسے دعا میں مانا، اُسے کسی اور کے لیے چھوڑ دیا ہے….
گجرے اب بھی رکھے ہیں، خوشبو اب بھی باقی ہے
بس وہ ہاتھ نہیں جن کے لیے یہ دعا کی تھی….
کہاں سے لاؤں ہمت، یا اللہ…
کہاں سے لاؤں؟
کیسے دیکھوں گا اُسے کسی اور کا بنتے؟
تمہیں دے دیا میں نے، دل کا وہ خواب,
جو ہر رات میری پلکوں میں جاگتا تھا…
لبوں سے کہا ہاں ہے، دل نے کہا نہیں۔۔۔
کیسے کروں سپرد، وہ جو میرا ہی تھا؟
سجنے دو تمہیں کسی اور کے لیے سہی,
گجرے پہ رک گئی نظر، اور آنکھیں بھر آئیں,
سوچا تھا تم پہ حق جتاؤں گا، مگر ہار بیٹھا ہوں…
کہا تھا Trust me… خود پر بھی اعتبار نہ رہا
اب ہر دعا میں فقط ایک ہی سوال ہے —
یا اللہ… وہ کسی اور کے ساتھ خوش کیسے رہے؟
ولید اپنے خیالوں میں سوچ کر زخمی سا مسکرایا
ابھی اگر صِرف ماہی شادی سے انکار کرتی تو میں حارث سے کہتا اوئے۔۔۔ مُجھے ماہی چاہئے۔۔۔۔
اور وہ ولید کو ولید والے انداز کا کہتا اور اپنا والا انداز استعمال کرتا۔۔۔۔
اور پھر اُسے تنگ کرتا۔۔۔
پارک کی فضا میں بچوں کی خوشیاں گونج رہی تھیں،
سائیکلوں کے پہیے گھوم رہے تھے، ہنسی کی آوازیں بلند تھیں،
اور انہی سب کے بیچ، دو چھوٹے وجود…
ولید اور حارث۔
ولید کی نظریں ایک سائیکل پر اٹک گئی تھیں۔
وہ سائیکل اس کی نہیں تھی… نہ وہ پہلی بار سائیکل چلا رہا تھا،
لیکن نہ جانے کیوں،
آج وہی سائیکل دل کو بھا گئی تھی۔
ولید نے اشارہ تک نہ کیا،
بس آہستہ سے کہا
اوئے مجھے وہ والی سائیکل چاہیے۔
حارث نے سائیکلوں کی بھیڑ میں نظریں دوڑائیں،
پھر ایک طرف دیکھ کر مسکرا دیا
وہ والی؟
کوئی اور ہوتا تو پوچھتا، کون سی؟ پر وہ حارث تھا، وہ بنا کھائے سمجھ سکتا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا اس کے بھائی کا دل کس سائیکل پر آ گیا ہے۔
اور ولید بھی جانتا تھا،
کہ حارث جس کی طرف دیکھ رہا ہے…
بس وہی ‘وہ والی’ ہے۔
یہی تو خاص بات تھی ان دونوں میں۔
ایسا رشتہ کہ نہ لفظوں کی ضرورت تھی،
نہ اشاروں کی
صرف دل کی بات تھی، جو دوسرے دل تک پہنچ جاتی۔
لوگ اکثر پوچھتے
یہ جڑواں ہیں؟
حالانکہ نہ چہرہ ایک جیسا تھا،
نہ خون…
مگر دل…
ایک دوسرے کی دھڑکن سے واقف۔
کوئی مان ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ سگے بھائی نہیں ہیں۔
چل، میں تیرے لیے لے کر آتا ہوں۔ حارث نے کہا۔
پر وہ تو کسی اور کی ہے… چھوڑ نا، میں بابا کو کہہ دوں گا، ویسی ہی لے آئیں گے۔
ارے یار، اُس سے ایکسچینج کر لیں گے۔
حارث جانتا تھا کہ ولید کتنا سیدھا ہے۔
ایسا لڑکا جس کا دل تو کرے سائیکل چھین لے،
مگر کرے گا نہیں۔
وہ کیا دے دے گا؟ ولید نے شک بھری آواز میں پوچھا۔
میں بولوں گا ناں… تیرے والے انداز میں پیار سے تو مان جائے گا۔
جا پھر… پر میں یہیں کھڑا ہوں، دیکھ رہا ہوں… مارنا نہیں پیار سے مانگنا، نہیں تو میں ناراض ہوجاؤ گا۔
حارث ہنسا
Just wait and watch۔۔۔۔
ہیلو۔ حارث نے اس کے پاس پہنچتے اُس لڑکے کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے کہا۔۔
ہاں؟ وہ لڑکا نہ سمجھی سے حارث کی طرف متوجہ ہُوا
یہ سائیکل مجھے اچھی لگ رہی ہے، مجھے دے دو، میری والی لے لو۔ اُس نے آرام سے کہا۔۔۔
کیوں؟ یہ میری ہے۔۔۔۔ اُس لڑکے نے ناگواری سے حارث کی طرف دیکھا
دے دے بھائی… نہیں تو مار کھائے گا۔ حارث نے ہلکی آواز میں کہا
تم مجھے مارو گے؟ وہ لڑکا حیران ہوا
ہاں، بہت برا ماروں گا اگر نہ دی تو۔
(حارث نے اُس کے کندھے پر رکھا ہاتھ اور زور سے دبایا۔)
اچھا اچھا… لے لو، لے لو۔۔۔ وہ بچہ سہم گیا اور فوراً سائیکل ایکسچینج کرلی۔۔۔
ہہنہ … انگریز کی اولاد، ذرا سی سختی برداشت نہیں ہوتی۔
ویسے مجھے کیا، مجھے تو سائیکل مل گئی۔۔۔
(وہ دل ہی دل میں ہنستا رہا۔)
یہ لے سائیکل، بول اور کیا چاہیے؟ حارث ولید کے پاس سائیکل لے کر آتا بولا۔۔۔
اب دے مجھے۔
پکڑ، اور لے لے… حارث شرارت سے سائیکل لیے بھاگنے لگا۔
اور ولید اپنے خیالوں میں سوچ زخمی سا مسکرایا ۔۔۔
ابھی اگر ماہی کسی اور سے شادی کرنے کا کہتی تو وہ حارث کے پاس جا کر کہتا۔۔۔
مُجھے ماہی چاہئے۔۔۔
اور حارث اُسے کہتا جو حکم سرکار ابھی منا لیتے ہیں اُسے۔۔۔
پھر اُس نے اپنے تمام خیالات کو جھٹکا
وہی جگہ، وہی لمحہ… مگر دل، دل اب پہلے جیسا نہ تھا۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے… مگر زبان پُرسکون تھی۔
دِل شکستہ تھا، مگر ہاتھ دُعا کے لیے بلند تھے۔
کیونکہ جب بھی وہ تکلیف میں ہوتا،
جب لفظ ساتھ چھوڑ دیتے،
جب کوئی سہارا نہ رہتا،
تو اسے صرف دُعا کا خیال آتا۔
یا اللّٰہ۔۔۔!
اُسے خوش رکھنا۔۔۔
بہت خوش۔۔۔
اور مُجھے… مُجھے صرف صبر دے دینا۔۔۔
بس صبر…
اور وہ دیر تک، وہیں بیٹھا، وقت کے تھم جانے کی خواہش لیے، دُعا مانگتا رہا۔۔۔
کاش یہ دُعا، اُس کی تکلیف کی طرح بےآواز، مگر مقبول ہو جائے۔
+++++++++++++
ایک بار پھر سوچ لو؟ مینی اُس کے پاس بیٹھی بہت ہلکی آواز میں اُس سے کہا
سوچ لیا۔ مجھے حارث چاہیے۔ وہ مایوں کی اسٹیج پر بیٹھی بنا مینی کی طرف دیکھے بولی۔۔
ماہی کا مایوں گھر پر ہی رکھا گیا تھا، کیونکہ مایوں کے فنکشن میں زیادہ لوگوں کی دعوت نہیں تھی۔ اور ماہی کو کچھ دیر پہلے ہی نیچے لایا گیا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ شاید ولید کچھ کرے گا، اسی آس میں نیچے آ گئی۔
ابھی نکاح نہیں ہوا تھا، اسی لیے ماہی کا گھونگھٹ بھی اتارا نہیں گیا تھا۔ آج مایوں کے فنکشن میں ہی پہلے نکاح ہونا تھا، پھر باقی رسمیں ادا کی جاتیں۔
گھر میں تھوڑی سی بے ترتیبی سی تھی، سب پریشان تھے، ولید کو بلایا جا رہا تھا کہ جلدی کرو، نکاح بھی ہونا ہے اور رسمیں بھی۔ اسی جلدی میں ولید کو موقع نہیں ملا کہ وہ حارث سے بات کر سکے۔ وہ بھی اب نیچے آ گیا۔
اتنی دیر کر دی ہے تم نے آنے میں! ولید، میں نے کب تمہیں بھیجا تھا اوپر تیار ہونے؟ سونیا پھوپو اپنا دوپٹہ سنبمالتی ولید کے پاس آکر کہا۔۔۔
ولید نے نرمی سے لیکن سنجیدہ لہجے میں کہا مجھے آپ سب سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔ حارث، تم بھی ادھر آؤ۔
حارث تھوڑا دور ایک دیوار سے ٹیک لگائے، بے نیازی سے کھڑا تھا وہیں سے بول، کان کھلے ہیں میرے۔
اُف ہو بیٹا، تمہیں بھی اب ہی ضروری بات یاد آئی ہے؟ پہلے نکاح ہو جائے، پھر باتیں کرتے رہنا۔ ہم سب کہیں بھاگے تو نہیں جا رہے…. نازیہ بیگم کو فکر ہوئی وقت ہاتھ سے نِکلا جا رہا تھا اور ابھی نکاح پھر مایوں کی رسمیں سب باقی تھیں۔۔
ویسے ہی ولید نے نیچے آنے میں اتنی دیر کردی تھی۔۔۔
ماہی بھی ایک اسٹیج پر سانس روکے بیٹھی تھی، دل میں ایک ہی سوال تھا کیا ولید سب کے سامنے انکار کر دے گا؟ کیا اتنی ہمت ہے اس میں؟
ولید نے سب کے سامنے کھڑے ہو کر، صاف لہجے میں کہا
میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں… کہ ماہی کا دُلہا میں نہیں، حارث ہے۔
حارث نے حیرانی سے ولید کی طرف دیکھا کیااا؟!
اور پھر تیزی سے ولید کے پاس آیا۔۔، اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا، باقی سب تو جیسے پتھر کے مجسمے بنے دیکھ رہے تھے۔ لیکن حارث، وہ تو جیسے دھماکے کی آواز سے چونک گیا تھا۔
ولید نے نرمی سے حارث کی طرف دیکھتے کہا دیکھ، میری خاطر…
تیرا دماغ تو ٹھکانے پر ہے نا؟ کیا بکواس کر رہا ہے؟ میری خاطر۔۔..؟ حارث کا دماغ ایک دم سے گھوم چُکا تھا
ماہی حیران بیٹھی تھی ۔۔۔ یہ کیا کر رہا تھا ولید۔۔۔
ولید اس کا ہاتھ تھام کر اسے ایک طرف لے گیا، لہجہ ہلکا مگر سنجیدہ تھا
دیکھ، تُو ماہی سے شادی کر لے۔
ولید نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جیسے ہمیشہ کرتا تھا جب کوئی بات منوانی ہوتی۔ یہی وہ چال تھی جس سے وہ ہمیشہ حارث کو منا لیتا۔ اور حارث بھی، اگر بات ولید کی ہو، تو جان دے دینے سے بھی دریغ نہ کرے۔
حارث نے اب قدرے نرمی سے، آنکھوں میں سوال لیے کہا۔۔۔۔ پر کیوں ؟؟
ولید حارث کو جانتا تھا، تو حارث بھی ولید کو جانتا تھا کہ اگر ابھی وہ جذباتی ہوگا، یا غصہ کرے گا، تو ولید سچ نہیں بتائے گا۔ ولید کو پگھلانے کے لیے اُسے نرمی سے، پیار سے بات کرنی ہوگی، اُس سے اُسی کے انداز میں۔۔۔
ویسے بھی اُسے کچھ برا ہوتا محسوس ہوچکا تھا جب ماہی کو ولید کے روم سے نکلتے دیکھا تھا۔۔۔
ولید نے دھیمی آواز میں کہا بس… کیونکہ میں نہیں کر سکتا۔
حارث پھٹی پھٹی آنکھوں سے ولید کی طرف دیکھ پر تُو تو اس سے محبت کرتا ہے نا؟
ولید چند لمحے خاموش رہ کر، نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔۔ نہیں… وہ میں نے یوں ہی کہا تھا…
ارشد صاحب نے بےچینی سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا
یہ سب چل کیا رہا ہے؟ کوئی مجھے بھی بتائے گا؟
احمد صاحب نے کندھے اُچکاتے ہوئے کہا
ہمیں کچھ پتہ ہوگا تو نا، ہم تمہیں بتائیں گے۔
یہ ولید کو اچانک کیا ہو گیا ہے؟ سونیہ پھوپو نے پریشانی سے کہا۔۔
ماہی کی چاچی نے منہ بگاڑ کر، جیسے دل کی بھڑاس نکال رہی ہوں
ہونہہ، صاف صاف لگ رہا ہے ولید کو ماہی سے شادی نہیں کرنی۔ بھلا ایسی لڑکی سے شادی کرے گا بھی کون؟
نازیہ بیگم نے جلدی سے بات کاٹتے ہوئے کہا
ایک منٹ، کچھ دیر سب صبر کرو۔ میرا ولید ایسا نہیں ہے۔ ضرور کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔ ابھی اسے آنے دو…
مہر نے بھی فوراً بھائی کی سائڈ لی اور نرمی سے کہا۔۔۔ ہاں، بھائی کو آ جانے دیں۔ وہ آ کر سب کچھ کلیئر کر دیں گے۔
یہ ولید… یہ کیا کر رہا ہے؟ ماہی نے ہلکی آواز میں کہا دِل زور زور سے دھڑک رہا تھا
آپ کی خواہش پوری کر رہا ہے۔۔۔۔ مینی اُس کے ساتھ بیٹھی غصے سے بولی۔۔۔
مِینی کا دل تو جیسے جل کے راکھ ہو رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ماہی کو پکڑ کر جھنجھوڑ دے۔ حارث؟ حارث جیسے بدتمیز اور بدلحاظ لڑکے کو پسند کیا؟ یہ سوچ کر اس کا خون کھول رہا تھا۔
اوپر سے اُس کے لیے اتنا مری بھی جارہی تھی۔۔۔
سب ایک دوسرے کے چہروں میں سوال ڈھونڈ رہے تھے، مگر کسی کے پاس جواب نہ تھا۔ ایک عجیب کشمکش، بےچینی، اور ان کہی باتیں فضا میں جھول رہی تھیں۔۔۔۔۔ سب کی نظریں ولید اور حارث پر تھی۔۔۔ جو ان سب سے تھوڑی دور کھڑے تھے پتہ نہیں اس کے بیچ کیا باتیں چل رہی تھی۔۔۔۔
حارث آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں لیے، آواز دبائے
اچھا تُجھے پتہ ہے کہ تو پہلی بار جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔وہ بھی مُجھے سے۔۔۔؟
وہ اندر ہی اندر جل رہا تھا۔ دل میں طوفان اٹھ رہا تھا، مگر ولید کی خاطر اس نے خود پر قابو پا رکھا تھا۔ وہ جانتا تھا، اگر ابھی وہ بھڑک گیا تو ولید سچ کبھی نہیں بتائے گا۔وہ ولید کی خاطر خود کو قابو کر رہا تھا۔۔۔
یہ اس کے لیے حیرت کی انتہا تھی کہ جو بھائی کل تک ماہی کو لے کر ہواؤں میں اڑ رہا تھا، آج وہی اچانک کیوں پیچھے ہٹ رہا ہے؟
ولید نے نگاہیں جھکائے، ٹوٹتی آواز میں کہا
وہ ماہی تجھے پسند کرتی ہے…
اس نے دل میں فیصلہ کیا تھا کہ حارث کو سچ نہیں بتائے گا۔ لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ ولید، حارث سے کچھ بھی چھپا ہی نہیں سکتا تھا۔
ولید نے نرمی سے، بےبسی چھپی تھی لہجے میں
بس دیکھ… کر لے یار۔ میں نے اس سے وعدہ کیا ہے…تو کرے گا نا؟
میری خاطر کر لے… پلیز۔
حارث اچانک بپھرتے ہوئے، چہرہ غصے سے لال تھا۔۔
کیا مطلب ہے تیرا؟ تیری خاطر۔۔۔ ؟؟
تیری خاطر میں بالی کا بکرا بن جاؤں؟!
اور وہ یہ کہتا ولید کا ہاتھ جھٹک دیا۔ اس کے ہاتھوں میں کانپ تھی، آنکھوں میں شعلے۔
چھوڑ مجھے۔۔۔۔
ولید پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ حارث کی آنکھوں میں وہ غصہ تھا جو آگ بن کر پھیل سکتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ابھی آنکھوں سے خون برسنے لگے گا۔
حارث کی آنکھیں جیسے پوچھ رہی تھیں
کیوں؟ آخر کیوں؟
اور ولید کی خاموشی جیسے کہہ رہی تھی
میں مجبور ہوں…
حارث اب غصے میں مہمانوں کے بیچ آیا۔۔۔ ہر آنکھ اُسی پر جم تھی۔۔۔
حارث بپھرتے ہوئے، ماہی کی جانب اشارہ کر کے کہا
سمجھتی کیا ہو تم خود کو؟
کہیں کی ملکہ حُسن ہو؟
اپنے آپ کو آئینے میں کبھی غور سے دیکھا ہے؟
کیا کسی زاویے سے بھی میرے قابل ہو تم؟
ہر لفظ تیز دھار چاقو کی طرح ماہی کے دل میں پیوست ہوئے۔
اور کیا سمجھ رہا ہے تو۔۔۔ وہ اب غصے سے ولید کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔
کہ تیرے بولنے پر میں بالی کا بکرا بن جاؤں گا؟
اور اس لڑکی سے شادی کرلوں گا ۔۔جو نہ خاندان کی عزت کی پروا کرتی ہے،
نہ رشتوں کی حرمت جانتی ہے؟ جو اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر اپنی پھوپو کی سر کا درد بنی ہوئی ہے۔۔۔
ولید نے گھبرا کر، حارث کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
چُپ کر جا، پلیز…
لیکن اب حارث وہ حارث نہیں تھا جو کسی کی سنتا۔
ماہی گم صم، بےحرکت بیٹھی تھی۔ آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ دل تو جیسے رک سا گیا تھا۔
یہ… یہ حارث؟ کیا یہ واقعی وہی ہے؟
یہ آواز… یہ الفاظ…
نہیں! یہ حارث نہیں ہو سکتا! یہ تو کسی اور کا سایہ ہے…
ایسی لڑکی؟ جسے نہ بات کرنے کی تمیز نہیں،
اور نہ ہی کپڑے پہننے کی؟
تم سوچتی کیا ہو؟ کہ میں ‘حارث زیان’ تم سے شادی کرلوں گا؟
سیریئسلی؟ وہ غصے کی اگ میں جھلس رہا تھا اور اپنے لفظوں سے ماہی کو بھی جلا رہا تھا۔۔۔
بس کر! چُپ ہو جا۔۔۔ ولید نے اب سختی سے کہا
نہیں! آج میں کسی کی نہیں سنوں گا۔
آج اسے اس کی اوقات دکھا کر رہوں گا۔۔۔ وہ غصے میں دھارا
اور ولید کا ہاتھ اُٹھ گیا حارث پر۔۔۔
ایک زوردار تھپڑ کی آواز گونجی، اور ایک دم سے سناٹا چھا گیا۔۔۔ سب چیز اپنی اپنی جگہ سکین تھی۔۔ کیا ولید نے تھپڑ مرا۔۔۔؟؟ وہ بھی اپنے بھائی حارث کو۔۔۔؟؟
سب کی نظریں اب حارث پر تھیں۔
حارث کی آنکھیں لال شعلوں کی مانند ولید کو گھورنے لگی تھی۔۔۔۔
وہ اندر ہی اندر بھڑک رہا تھا۔ کیا اب ایک لڑکی ان دو بھائیوں کے درمیان آ چکی تھی؟
مِینی ماہی کے قریب آتی، دھیرے سے کہا
ماہی، مجھے لگتا ہے تمہیں ابھی روم میں جانا چاہیے۔
پھر حارث کی نظریں دوبارہ ماہی پر جا چکی تھی۔۔۔
اور سنو!
میں تمہیں اپنی بھابھی بھی تسلیم نہیں کرتا۔
اگر ولید کو تم سے محبت نہ ہوتی نا… تو تُم پھر مُجھے دیکھتی۔۔۔؟
ولید کا تھپڑ جیسے بےاثر رہا۔ حارث کے غصے میں اور اضافہ ہو چکا تھا۔
کبھی غور کیا ہے تم نے؟ تم ہو کیا؟
تم تو میرے بھائی کے لائق بھی نہیں ہو۔
جو لڑکی آدھی رات کو باہر نکلے، صرف اس لیے کہ نیند نہیں آ رہی؟
حارث کی زبان میں ایسی لڑکیوں کو ‘آوارہ’ کہتے ہیں!
اور حارث آوارہ لڑکیوں کو deverse نہیں کرتا۔۔
اچانک سونیا پھوپھو آگے بڑھی ، حارث کے منہ پر تھپڑ رسید کردیا۔۔۔۔
کب سے دیکھ رہی ہوں میں! کب سے بَکواس کیے جا رہے ہو۔۔۔۔ وہ غصے میں کہتی پہلے تو وہ شاک صدمے سی کیفیت میں کھڑی تھی پر اب اب اُنہیں ہوش آچکا تھا۔۔۔وہ کیسے اپنی جان سے زیادہ پیاری ماہی کے لیے کچھ سن سکتی تھی۔۔۔
حارث کی آنکھوں کی سرخی اب آگ بن چکی تھی۔
اُس نے سونیا پھوپھو کی طرف دیکھا۔۔۔ اور…
تھپڑ؟ آپ نے مجھے تھپڑ مارا؟
سیریئسلی؟ ‘حارث زیان’ کو تھپڑ؟
وہ غصے سے دھاڑا اور پھوپھو کو دھکا دیا۔۔۔۔
کیا لگتا ہے آپ کو؟ آپ کی یہ آوارہ بیٹی میرے لائق ہے؟
آپ؟ آپ اسی کی وجہ سے مجھے تھپڑ ماریں گی؟
اور میں سہہ لوں گا؟
وہ جیسے ایک بھوکا شیر بن چکا تھا، سونیا پھوپھو کی جانب بڑھا
لیکن ناذیہ بیگم آگے آ کر اپنے بیٹے کو بازو سے پکڑ لیا۔۔۔
بیٹا، کیا ہو گیا ہے تمہیں؟
ارشد صاحب سونیا پھوپو کو سنبھالتے۔۔ چیخے
یہ پاگل ہو گیا ہے! اسے کسی پاگل خانے لے جاؤ۔۔۔
مہر مِینی ماہی کے قریب آ کر بولی
بھائی بہت زیادہ غصے میں لگ رہے ہیں، کچھ الٹا سیدھا کر دے گا، ہمیں ماہی کو فوراً روم لے جانا ہوگا۔
ہاں، چلو۔۔۔۔ مینی ہلکا سا کہتی اور دونوں ماہی کو لے کر اوپر چلی گئی۔۔۔ ماہی جیسے بےجان جسم کی طرح، چپ چاپ اُن کے ساتھ چل پڑی۔۔
آج وہ زندگی کا سب سے بڑا صدمہ سہہ چکی تھی۔
جس حارث پر اس نے سب کچھ وار دیا،
آج وہی اسے روند کر چلا گیا تھا۔
وہ… وہ تو ولید سے بھی زیادہ سمجھتا تھا۔..
اسے تو میرے ٹوم بائے ہونے سے بھی مسئلہ نہیں تھا…
تو پھر آج کیوں؟ کیوں اتنی نفرت؟
ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنی پوری پہچان کھو چکی ہو۔
ماں! آپ بیچ میں مت آئیں…
ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ آپ میری ماں ہیں۔۔۔ وہ ویسے ہی غصے میں نازیہ بیگم سے کہتا۔۔ یہ اُن کی ہی غلطی تھی کہ اُن کا بیٹا اب اُن کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔۔۔
احمد صاحب آگے بڑھتے، غصے سے بازو پکڑتے
کیا تماشا لگا رکھا ہے؟
اپنی ماں سے بدتمیزی کر رہے ہو؟!
ولید ماہی کو کمرے میں جاتا دیکھا، وہ بھی اُس کے پیچھے بڑھا۔۔۔. اور یہ حارث نے دیکھ لیا۔۔۔۔ وہ احمد صاحب اور نازیہ بیگم کو نظر انداز کیے۔۔۔ ولید کی طرف دیکھ اُسے گھورا۔۔۔
اگر تُو اوپر گیا نا…تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔
حارث کی آواز پر اچانک اُس کے قدم رک گئے وہ سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وہیں روک کر پیچھے، مڑ کر حارث کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا کیا نہیں تھا اُس کی آنکھوں میں درد، مایوسی، فکر، بے چینی، محبت، ملال، اور سب کچھ ختم ہو جانے کا خوف تھا۔
واپس نیچے آ، نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔ وہ جیسے اُس کو لسٹ پر وارن کر رہا تھا۔۔۔ کہ انجام اچھا بھی ہوگا۔۔
ایک دم دونوں کی آنکھوں میں ایک ساتھ ایک ہی منظر اُبھرنے لگا
اوئے، تجھے پتہ ہے، میں تیرے لیے پوری دنیا ختم کر سکتا ہوں۔۔۔
اور میں تیرے لیے جان لے بھی سکتا ہوں، اور جان دے بھی سکتا ہوں۔۔۔
جان لینے تک تو ٹھیک ہے، لیکن میں تجھے جان دینے نہیں دوں گا۔۔۔۔
وعدہ کر پھر، ہمارے پیچھے کبھی کوئی لڑکی نہیں آئے گی۔۔۔
اگر آ گئی تو؟
آئے بھی تو مُجھے اچھی طرح جانتا ہے، میری جان جب تیرے لیے قربان ہے، تو پھر یہ لڑکی کیا چیز ہے؟
اور تو مُجھے بھی اچھی طرح جانتا ہے، اگر کوئی لڑکی آئی تو سمجھ لینا—
This world is going to end…
یہ سارے الفاظ دونوں کی کانوں میں گونجے، تمام مہمانوں کی نظریں اب دونوں پر جمی ہوئی تھیں۔
ولید سب پر ایک نظر ڈال کر، پھر حارث کی طرف مخاطب ہُوا۔۔۔
ماہی ٹام بوائے ہے، تو اس میں اس کی غلطی نہیں ہے،
اس کا نیچر ہی ایسا ہے، اسے محبت چاہیے، اسے توجہ چاہیے۔
جو اسے نہیں ملتی، تو وہ لوگوں سے بدگمان ہو جاتی ہے۔
اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔
اگر وہ ایک ‘attention seeker’ لڑکی ہے،
کُچھ بری عادت ہے ماہی میں ہاں میں مانتا ہوں،
ہر انسان میں کوئی نہ کوئی برائی ہوتی ہے،
کوئی انسان فرشتہ نہیں ہوتا، میں بھی نہیں ہوں،
ہزار غلطیاں میں بھی کرتا ہوں،
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماہی آوارہ ہے…
یہ آخری لائن حارث کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی، جو کہ اس وقت اس کے دل پر تیز چوٹ کی طرح محسوس ہوئی۔
اور آپ سب یہ تماشا دیکھ کر جا سکتے ہیں،
کیونکہ مجھے پتہ ہے میری بات کا کسی پر اثر نہیں ہوا ہوگا۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے اوپر کی طرف چلا گیا۔۔
ولید اوپر جا چُکا تھا۔۔۔ حارث اور ولید کے بیچ لڑکی آچکی تھی۔۔۔۔
اور یہ دیکھ حارث غصے میں اب اپنے روم طرف بڑھا
اور باقی سب مہمان تھکے ہوئے اور مایوس ہو کر خاموشی سے گھر کے مختلف حصوں کی طرف روانہ ہونے لگے
ان کے چہروں پر ناخوشی اور بے چینی کا غبار تھا۔
یہ سب کیا تماشا ہے…؟
بہت دیر بعد آخرکار الیاس صاحب کی آواز نکلی۔
ان کے چہرے پر حیرانی اور بےیقینی کی لکیریں واضح تھیں۔ وہ جیسے اپنے حواسوں میں آنے کی کوشش کر رہے تھے،
ان کی نظریں ایک ایک چہرے پر ٹک رہی تھیں،
لیکن کوئی بھی اُن کی الجھن کا جواب دینے کے قابل نہیں تھا۔
زینب بیگم نے اپنی ساری بےچینی ایک ٹھنڈی آہ میں سمیٹی،
اگر ولید راضی نہیں تھا تو رشتہ کیوں کیا…؟
ان کی آواز میں شکوہ بھی تھا، اور دل کا درد بھی۔
اسے بھلا کیا اچھا لگتا ہے کہ بھری محفل میں… اپنی ہی بیٹی کو… کوئی یوں ذلیل کرے، وہ بھی اپنے ہی۔۔
ارشد صاحب کی رگیں تن چکی تھیں،
میں بتا رہا ہوں، میں اس لڑکے کو اب ایک سیکنڈ بھی اپنے گھر میں برداشت نہیں کرونگا۔۔۔۔
ان کی آواز میں وہ آتش فشاں تھا جو برسوں سے خاموش تھا،
جو آج ہر چیز جلا دینے کے در پہ تھا۔
احمد صاحب نے پلکیں جھکائیں، ایک طویل سانس لیا، پھر ہاتھ اٹھا دیے…
ہاں جاؤ… نکال دو… لیکن پھر جو ہوگا،
اُس کا ذمےدار میں نہیں ہوں گا۔
احمد صاحب نے پلکیں جھکائیں، ایک طویل سانس لیا، پھر ہاتھ اٹھا دیے…
آپ کے کہنے کا مطلب کیا؟ وہ بیٹا ہے آپ کا؟ ارشد صاحب کا لہجہ تمسخر نہیں، تنقید نہیں، بلکہ خالص غصے کا وہ زاویہ تھا جو خون کی روانی تیز کر دے۔
احمد صاحب نے سر اٹھا کر، نہایت خاموش مگر گہرے انداز میں کہا
ہاں… میرا بیٹا ہے، تبھی تو کہہ رہا ہوں۔ پھر جو ہوگا… اُس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا…
نازیہ بیگم کی آنکھوں میں نمی تھی، لب کپکپا رہے تھے۔
وہ ایسا ہی ہے۔۔۔ اُس کے غصے کو ہم نہیں قابو کر سکتے۔۔۔
ایک دکھ تھا، بےبسی تھی ان کے لہجے میں۔
وہ جب غصے میں آجائے نا، تو پھر کسی کی نہیں سنتا۔۔۔ ہماری بھی نہیں۔۔۔ میری بھی نہیں۔۔۔
انھوں نے اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائیں، جیسے کوئی جواب اوپر سے چاہ رہی ہوں۔
میری وجہ سے ہی وہ ایسا ہوگیا ہے۔۔۔ میں نے اُسے بہت بگاڑ دیا ہے۔۔۔
ان کے لہجے میں پشیمانی کی وہ جھلک تھی جو دل کو اندر سے کاٹتی ہے۔
لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ اُسے بس ولید سنبمال سکتا ہے ۔۔۔ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔
پھر انھوں نے سب کی طرف دیکھا — وہ چہروں پر لکھی حیرت، غصہ، افسوس کو پرکھ رہی تھیں۔
باقی… آپ لوگوں نے تو دیکھ ہی لیا ہوگا۔۔۔ اُس نے اپنی ماں سے کس طرح بات کی ہے۔۔
ان کا آخری جملہ ہوا میں لرزتا ہوا سا بکھر گیا۔
اور آپ لوگ پریشان نہیں ہو وہ ابھی روم میں جا چکا ہے۔۔۔۔ باقی ولید سنبمال لگا۔۔۔۔ احمد کہتے اپنے روم کی طرف چلے دیے۔۔۔
ہاں آپ سب بھی جا کر آرام کرے۔۔۔ اور ولید کے کوئی ردِعمل کا انتظار کریں ۔۔۔ نازیہ بیگم بھی کہتی اپنے شوہر کے پیچھے ہی چل دیا۔۔۔ اور یہاں باقی سب بےبسی سے یہیں کھڑے رہ گئے۔۔۔
++++++++++++++
ماہی فرش پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھیں، اور پلکیں بھیگی ہوئی تھیں۔ کمرے کی خاموشی میں صرف اس کے سسکیوں کی آواز گونج رہی تھی۔
حارث میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے…
اس نے سر جھکائے، ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا،
اس نے کہا، ماہی آوارہ ہے…؟ کیا میں واقعی آوارہ ہوں، مینی؟
مینی جو پاس بیٹھی تھی، کچھ کہنے کے قابل نہ تھی۔ وہ بس ماہی کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی۔
ماہی کی آواز بھرا گئی تھی،
کیا میں حارث کو ڈیزرو نہیں کرتی؟ کیا ماہی کا خوش رہنے پر کوئی حق نہیں؟
وہ اب دیوار کو گھور رہی تھی، جیسے وہاں اسے اپنے سوالوں کا جواب ملے گا۔
کیا میں اتنی بری ہوں کہ… حارث تک کو ڈیزرو نہیں کرتی؟
میں نے ایسا کون سا گناہ کیا، مینی…؟
کہ ماہی اتنی… بری ہے؟
اُس کی آواز اب ایک ٹوٹے ہوئے دل کی چیخ بن چکی تھی۔
مینی نے آہستہ سے ماہی کے گال پر ہاتھ رکھا،
تم بری نہیں ہو ماہی… تم بس… اس دنیا سے الگ ہو،
جس میں لوگ صرف وہی مانتے ہیں جو انہیں دکھایا جاتا ہے۔
ماہی نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔ دل کے کسی کونے میں ایک تیز چبھن اُبھری — ایسی چبھن جو آنکھوں کے راستے باہر نہیں نکلی، بس اندر ہی اندر اسے توڑتی رہی۔
اگر یہ سب کسی اور نے کہا ہوتا — شاید وہ لاپرواہ سی ہنس دیتی، خود پر یقین رکھ لیتی، کہہ دیتی جانے دو، کسی کو کیا پتا میرے بارے میں؟
لیکن یہ الفاظ… یہ سب باتیں حارث نے کہیں تھیں۔
حارث…
جس کی ہر بات اُس کے دل میں اترتی تھی۔
جس کی ہنسی اُس کے دن کو روشن کرتی تھی۔
جس کی ناراضگی اُس کی راتیں بےچین کر دیتی تھی۔
اور آج… وہی حارث اس کی ذات کو اس طرح جھٹلا گیا تھا جیسے وہ کبھی اُس کی زندگی کا حصہ ہی نہ ہو۔
اب ماہی ہر بات، ہر جملہ بار بار دہرا رہی تھی…
مُجھے فرق نہیں پڑتا تُم رات بھر کہاں تھی تُمہاری زندگی ہے تُم جیسے چاہوں اس کو جیو ۔۔
ماہی آوارہ ہے…
ایک طرف وہ خوابوں جیسی باتیں… اور دوسری طرف… آج کی حقیقت۔
تو کیا میں واقعی آوارہ ہوں؟
اس کا دل سوال کر رہا تھا — حارث سے نہیں، خود سے۔
مینی… کیا مجھے حارث نہیں مل سکتا؟
اُس کی آواز میں وہ خالی پن تھا جو دل کے کسی ویران گوشے سے نکلتا ہے، جیسے کسی نے اُس کی روح کو نچوڑ دیا ہو۔
مینی آنکھیں نم ،مگر لہجہ مضبوط وہ صحیح لڑکا نہیں ہے ماہی۔
تو کیا میں صحیح لڑکی ہوں؟
مُجھے نہ مر جانا چاہیے میں زندہ ہی کیوں ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھی، لڑکھڑاتے قدموں سے ڈریسنگ کی طرف بڑھی، ہاتھ لرزتے ہوئے دراز کھولی… اور نیند کی گولیاں نکالنے لگی۔۔
پاگل ہو گئی ہو کیا؟ مینی چیخی اور تیزی سے اُس کی طرف لپکی، پھر ماہی کے ہاتھ سے دوا چھیننے کی کوشش کرنے لگی ، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، دل میں خوف کا طوفان امڈ آیا تھا۔
کمرے کا ماحول جیسے سانس روک چکا تھا۔ ایک طرف ماہی کی ٹوٹی ہوئی ہچکیوں کی گونج، دوسری طرف مینی کی بےبسی، اور تیسری طرف… کونے میں خاموش کھڑی مہر، جس کے چہرے پر کشمکش صاف نظر آ رہی تھی —
اور پھر… دروازہ کُھلا
ولید اندر داخل ہُوا، چہرے پر تھکن، آنکھوں میں اضطراب۔ اور جب کمرے کا منظر دیکھا تو تیزی سے ماہی کی طرف لپکا ۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو، ماہی؟
وہ تیزی سے آگے بڑھا،
بائیں ہاتھ سے ماہی کا بازو تھاما،
اور پل بھر میں وہ اُس کے سینے سے لگ کر، بےبس ہو کر پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی۔
ولید… میں مر جاؤں گی ولید… مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے، ولید…
کیا تم بھی مجھے آوارہ ہی کہو گے، ولید۔۔۔ کیا میں آوارہ ہوں ولید؟
اور یہ سوال ایسا تھا جس نے کمرے کی فضا کو چیر دیا۔
کبھی کبھی…
کوئی باہر والا کچھ بھی کہہ دے، دل پر اثر نہیں ہوتا۔
نہ لہجہ چبھتا ہے، نہ الفاظ زخم بنتے ہیں۔
لیکن…
جب وہ شخص جو دل میں بستا ہے…
ایک لفظ بھی غلط کہہ دے نا —
تو سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
دل چاہتا ہے… زمین پھٹے، اور ہم اُس میں سما جائیں۔
اپنی آنکھیں بند کریں، اور ساری دنیا سے چھپ جائیں۔
نہ کوئی آواز سنائی دے، نہ کوئی چہرہ نظر آئے۔
کیونکہ…
دوسروں کے الفاظ صرف کانوں سے ٹکراتے ہیں،
مگر اپنوں کے الفاظ… سیدھا دل کو چیرتے ہیں۔
کبھی کسی اجنبی کی بات دل کو نہیں چبھتی۔
غیروں کے طعنے صرف ہوا کی طرح گزر جاتے ہیں۔
لیکن جب وہ شخص…
وہی جسے تم نے دل کی سب سے نرم جگہ پر بٹھایا ہو،
جس کی ہر بات پر آنکھیں چمک اٹھتی تھیں،
جب وہی شخص ایک سخت لفظ بول دے نا…
تو دل چھلنی نہیں، مکمل ٹوٹ جاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے جذبات کا سارا سرمایہ خاک ہو گیا ہو،
جیسے دنیا کی ہر روشنی یکایک بجھ گئی ہو،
اور زندگی ایک سناٹے میں گم ہو گئی ہو۔
دل چاہتا ہے…
زمین اپنی بانہیں کھول دے،
ہم اُس کی آغوش میں اتر جائیں،
اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں —
نہ سنائی دے کوئی آواز،
نہ چبھیں کسی کے لفظ۔
کیونکہ اپنوں کے الفاظ…
سراسر خنجر کی طرح ہوتے ہیں،
جو سینے میں نہیں، روح میں پیوست ہوتے ہیں —
اور وہاں سے کبھی نہیں نکلتے۔
یہی تو دل کی سب سے بڑی کمزوری ہے…
کاش لوگ سمجھ سکیں کہ ان کے لفظ، ان کے رویے، کسی کا پورا دن، پورا وجود ہلا سکتے ہیں۔
اور واقعی… ایسے لمحے میں دل یہی چاہتا ہے کہ زمین پھٹ جائے، اور ہم چپکے سے اُس میں دفن ہو جائیں — کسی کو خبر بھی نہ ہو۔
کبھی اُس نے ولید کو عذاب کہا تھا آج وہ عذاب خود اس پر آگرا تھا۔۔۔ جیسے اُس دن ولید تڑ رہا تھا آج وہ بھی ویسے ہی تڑپ ربی تھی۔۔۔
بس فرق اتنا تھا کہ ولید کے پاس اُس کا رب تھا۔۔ ولید کو اُس کے رب نے سنبمال لیا تھا۔۔۔
پر ماہی وہ تو اپنے رب سے بھی بہت دور تھی۔۔۔
حارث کا نہ ملنا اور حارث کی باتیں اُس کے کان میں گونج رہی تھی۔۔۔ اور اُسے کسی پل سکون نہیں آرہا تھا۔۔۔اُسے لگ رہا تھا وہ واقعی آوارہ ہے۔۔۔۔
ولید… ولید، میں مر جاؤں گی…
مجھ سے نہیں جیا جا رہا… بہت تکلیف ہو رہی ہے ولید۔۔۔۔
کیا میں اتنی بری ہوں؟ اتنی ناقابلِ برداشت…؟ تم ایسا کرو، تم ہی مجھے مار دو۔۔
مجھے کچھ مت کہو… مجھے بس ختم کر دو۔۔
ولید کا دل لرز گیا… اس کی آنکھیں جیسے خالی ہو گئیں۔
اور پھر…
عین اُس لمحے، اُس کی پشت سے ایک اجنبی مگر جانا پہچانا لہجہ ابھرا
ارے، اُسے کیوں پریشان کر رہی ہو؟
اس کی پریشانی کا حل تو میرے پاس ہے۔
مرنا چاہتی ہو نا؟
آؤ، میں تمہیں مار دیتا ہوں۔
وہ کوئی اور نہیں، حارث تھا —
بے رحم لہجے، ساکت چہرے، اور ہاتھ میں تنی ہوئی بندوق کے ساتھ۔
حارث؟
ماہی نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔
اس کے دل میں کچھ ٹوٹا، دماغ سن ہو گیا۔
یہ کیا کر رہے ہو، حارث؟
بندوق نیچے کرو۔ ولید اُسے گھورتا غصے میں کہا
نہیں… آج میں اس کا باب بند کر کے ہی دم لوں گا،میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔
اور اگلے لمحے،
جیسے حارث بندوق کا ٹریگر دبانے ہی والا تھا،
اُس نے پل بھر کو انگلی پیچھے کھینچ لی…
کیونکہ اُس کے اور ماہی کے درمیان ولید آ چکا تھا۔
وہ ماہی کے سامنے دیوارِ بن کے کھڑا تھا۔۔۔
تو پیچھے ہٹ جا…
حارث دھاڑا۔
تجھے لگتا ہے، میں ہٹ جاؤں گا؟
ولید کی آنکھوں میں اس بار کچھ اور تھا… کچھ ایسا جو کبھی حارث نے نہ دیکھا تھا۔
بندوق نیچے کرو۔ میں کہہ رہا ہوں، نیچے کرو۔۔
وہ دھاڑا اُسے اب غصے آرہا تھا حارث اُس کی سن کے نہیں دے رہا تھا
وہ جتنا مسئلہ ختم کرنا چاہ رہا تھا،
حارث اُتنا ہی اُسے الجھا رہا تھا۔
مگر حارث… وہ ویسا ہی کھڑا رہا، جیسے کوئی پتھر ہو جسے برسوں سے کوئی ہلا نہ سکا ہو۔ مگر ولید کی چیخ، اُس کا درد، اُس کے دل کو چیر گیا
حارث گن نیچے کر دے … نہیں تو، میں بھی بھول جاؤں گا کہ تو میرے بھائی ہے۔ ولید کی آواز میں لرزش نہیں تھی،
یہ الفاظ…
حارث کے لیے گولی سے بھی زیادہ جان لیوا تھے۔
جیسے کسی نے دل پر چھری چلا دی ہو…
ایک گہرا، خاموش، اندرونی کرب… جو نہ چیخ کے نکل سکتا تھا، نہ آنسو بن کے بہہ سکتا تھا۔
آج تک ولید نے نہ کبھی حارث پر آواز بلند کی، نہ کبھی ہاتھ اٹھایا… اور آج اُس نے دونوں کر دیا تھا — وہ بھی ماہی کی خاطر۔
یہی بات حارث کے لہو کو اور کھولا رہی تھی… جیسے اُس کی رگوں میں خون نہیں، لاوا دوڑ رہا ہو۔
ایک طرف بھائی کا بدلا ہوا چہرہ… حارث کے وجود کو اندر سے پھاڑنے لگا تھا۔
تُجھے یاد کب ہے کہ میں تیرا بھائی ہوں
بلکہ شاید… میں تیرا بھائی ہوں ہی نہیں۔
یہ جملے صرف ولید کے لیے نہیں تھے،
یہ اُس کے اپنے دل کے خلاف بغاوت تھی —
اور اسی بغاوت نے اُسے اندر سے توڑ دیا تھا۔۔۔۔
میرے ساتھ ایسا مت کرو، حارث…
ماہی بےبس ہو کر ان کے درمیان آ گئی۔
میں مر جاؤں گی تمہارے بغیر۔۔۔
تو مر جاؤ۔۔۔۔
حارث کی آواز میں سرد مہری نہیں، ایک بھڑکتی آگ تھی۔
لیکن میں تمہیں مرنے بھی نہیں دوں گا۔۔۔
وہ ماہی کو پیچھے کرتا، اس کی حفاظت کرنے لگا۔۔
کیا تم ناواقف ہو اس بات سے، کہ مجھے تُم جیسی فتنہ لڑکیوں سے کتنی نفرت ہے؟
میں ان جیسے چہروں کو اپنے قدموں تلے روند دینا چاہتا ہوں۔۔۔
ماہی کا چہرہ بے یقینی سے سفید پڑ گیا۔
تو پھر تم نے مجھے بچایا کیوں تھا…؟
دوستی کیوں کی تھی؟ میرے لیے گولی کیوں کھائی تھی؟
اس کی آواز روتی ہوئی تھی، سانسیں دھیمی پڑ رہی تھیں۔
اوہ میڈم… کونسے ہواؤں میں اُڑ رہی ہو نیچے آ جاؤ… حارث زیان اور تمہارے لیے گولی کھائے؟ ہاہاہا! مذاق ہے یہ؟
اور دوستی…؟
دوستی؟ وہ تو بس تفریح کے لیے کی تھی، شادی کے لیے نہیں! دوستی تو جانوروں سے بھی ہو جاتی ہے، تو کیا اب ان سے بھی شادی کر لیں
اب کے آنکھیں صرف ماہی کی نہیں، مینی کی بھی بھر آئیں۔
اتنی نفرت…؟ مینی کے منہ سے بیساختہ نِکلا
سوچ سے بھی زیادہ۔۔۔ حارث نے ہلکی سی خطرناک والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
اور پھر جب مینی نے وہ سوال پوچھا…
جب تم نے گولی نہیں کھائی، تو وہ کون تھا…؟ مینی کو ماہی نے سب کچھ بتایا تھا اُسے اچانک خیال ائے۔۔
میں… حارث زیان…؟
وہ سرد مہری سے ہنسا۔ ایک طنزیہ قہقہہ جو دل کے سب دروازے بند کر دے۔
سیریسلی؟ اس کے لیے گولی کھاؤں گا؟
اس کی آواز میں ایسی تلخی تھی جو نمک پر چھری چلانے جیسی ہو۔
ایسا تو کسی جنم میں بھی نہیں ہو سکتا… کسی خواب، کسی فریب میں بھی نہیں۔۔
اس کے لیے گولی کھانے سے بہتر ہے کہ میں اس کو موت کے گھاٹ اتار دوں…
اور اس لمحے…
نہ صرف ماہی کے قدم لڑکھڑائے تھے،
بلکہ اُس کی روح بھی جیسے اُس زہر سے جلنے لگی تھی جو حارث کی آنکھوں سے برس رہا تھا۔
تو کون تھا وہاں جس نے گولی کھائی۔۔۔؟ مینی نے حیرانی سے پوچھا
اس کے عاشق نے۔۔۔
حارث نے نفرت سے کہا، مگر اُس کی آنکھوں میں جلتی ہوئی چمک… کچھ اور کہہ رہی تھی۔
جب آپ نے گولی نہیں کھائی، تو کیا وہ ولید بھائی نے گولی کھائی؟ اور اگر ولید بھائی نے گولی کھائی، تو اُس وقت آپ کہاں تھے؟
مینی کی بات پر ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔ اور پھر… حارث کے چہرے پر وہی پرانی، جان لیوا مسکراہٹ ابھری… جو کسی شیطان کے لبوں سے چھوٹتی ہے۔
وہاں میرے حامد اور… ولید کے علاوہ اور کون تھا؟…
پھر اس کی نظریں، بجلی کی سی تیزی سے ماہی کی طرف اٹھیں۔
ماہی کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا
ایم۔ڈی؟
کوئی نہیں ہے یہ ایم ڈی۔۔۔۔
ولید نے بے ساختہ کہا، مگر اس کی آواز لرز رہی تھی۔
تو ابھی بھی چھپانا چاہتا ہے؟
حارث کی سرد نگاہوں نے اسے جیسے چیر دیا۔
مینی پیچھے ہٹتی دیوار سے جا لگی، جیسے کسی ان دیکھے سچ نے اُسے جکڑ لیا ہو۔
نہیں، حارث… پلیز…
ولید کی التجا، ایک بھائی کی پکار تھی۔
تجھے اب بھی لگتا ہے کہ تیرے اس ’پلیز‘ کا مجھ پر اب کوئی اثر ہوگا؟
اس کے ہونٹ ہلے، مگر الفاظ… دل کی جڑیں کاٹ گئے۔
اس سب کے بعد بھی میں تیری کوئی بات مانوں گا؟
ولید کی بھیگی آنکھوں میں شاید آخری امید جھلک رہی تھی، وہ اُسے دیکھتا رہا… خاموش… مجبور…
دیکھ بھائی… نہیں ہے۔
نہیں ہوں۔۔۔
یہ الفاظ… حارث کے تھے، پر لگتا تھا جیسے اُس کے دل نے کہے ہوں، یا شاید دماغ نے؟
یا پھر وہ درد تھا جو لبوں تک پہنچ کر چیخ بن گیا تھا؟
کیا اُس کا دل گواہی دے رہا تھا، یا اس کا وجود خود ہی اپنے آپ سے انکار کر رہا تھا؟
کیا تجھے صرف درد دینا آتا ہے؟
ولید کی آنکھوں سے چھلکتے آنسو جیسے برسوں کی دوستی کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔
حارث ہنسا نہیں، بس زہریلے سکون سے بولا
ہاں… مجھے لوگوں کو درد دینا آتا ہے۔ اور دوسروں کی جان لینا… اُس میں مزہ آتا ہے، سکون ملتا ہے۔۔۔
وہ لمحہ… جیسے کسی قبر کے اندر سے بولتا کوئی وجود۔
یہی سننا چاہتا تھا نا تُو؟
ماہی ساکت کھڑی تھی، جیسے اُس پر کوئی ان دیکھے بوجھ ٹوٹ پڑے ہوں۔
لب ہلے…
تو… کیا تم ہی ہو… ایم ڈی مافیا؟
ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
پھر اچانک… جیسے آگ بھڑک اٹھی ہو…
ہاں! میں ہی ہوں ایم ڈی مافیا۔۔۔۔
وہ چیخا، جیسے کسی پاگل کی ہنسی میں زہر گھلا ہو۔
میں ہی ہوں وہ… جو دنیا کا سب سے خطرناک مافیا ہے۔۔۔۔۔
ہاں! حارث زیان ہی ہے دنیا کا ‘ڈینجرس مافیا کنگ’۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا… اور اُس کی ہنسی… چاروں طرف موت کا سایہ بن کر گونج رہی تھی۔
ماہی نے بے یقینی میں کہا
تو تم نے نائلہ کو میرے لیے کیوں مارا؟
حارث ایک دم سنجیدہ ہو کر، سرد لہجے میں کہا
او ہو… صرف میں ہی نہیں ہوں ایم ڈی مافیا۔ پوری کہانی تو سنو، ماہی۔۔۔۔
پھر وہ ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ولید کی طرف دیکھا۔۔
نہیں نہیں… تمہارے برابر میں کھڑے تمہارے ’ عاشق‘ کو کیوں بھول رہی ہو؟
کیوں بار بار وہ یہ لفظ دہرا رہا تھا؟ ’عاشق‘… کیا وہ خود کو ولید سے نفرت کرنے پر مجبور کر رہا تھا؟ یا اپنے دل کے اس حصے کو دفن کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جہاں ولید رہتا تھا؟
تو… کیا تم دونوں ہو ایم ڈی مافیا؟ ماہی کو یقین نہیں آیا
حارث آہستگی سے چلتے ہوئے، جیسے ہر قدم کے ساتھ کوئی راز دفن ہو رہا ہو
ہاں… اور جب جب تم نے ایم ڈی کی آنکھوں میں نرمی دیکھی، وہ ولید تھا…
اور جب جب تم نے ایم ڈی کی آنکھوں میں وحشی پن، بے رحمی دیکھی، تو وہ میں تھا…
میں، حارث زیان…
اور جانتی ہو ماہی؟ اُس دن پارٹی کے بعد ہی میں تمہیں ختم کر دیتا…
اگر یہ تمہارا عاشق بیچ میں نہ آتا تو۔
تو میرا نام کیوں نہیں لے رہا؟
اسے حارث کی بار بار تمہارا عاشق کہنے کی تکرار نے اندر تک ہلا دیا تھا
تو… نائلہ کے بھائی کو تم نے مارا تھا؟ جو وہ میرے پیچھے پڑی تھی؟
حارث نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
تو کیا وہ مر گیا تھا؟
نہیں… ماہی نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
تو پھر میں نے نہیں مارا… حارث نے بےنیازی سے کہا
ماہی نے غصے سے ولید کی طرف دیکھا
نائلہ کو تم نے مارا، نائلہ کے بھائی کو تم نے مارا…
تو تم نے معافی کس سے مانگی تھی، ولید؟
ولید دھیرے سے کہا
لیکن… وہ دونوں تو زندہ ہیں…
حارث نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا
نائلہ کے بھائی کا تو نہیں پتا، لیکن نائلہ کو میں نے مارا…بس غلطی سے… تو اُسے زندہ چھوڑ آیا تھا۔
تم نے اُسے کیوں مارا؟ تمہارا اُس سے کیا لینا دینا تھا؟ ولید نے ناگواری سے حارث سے کہا
میرا نام استعمال کر رہی تھی!
زِندہ کیسے چھوڑتا اُسے؟
تو… تم نے صرف اسی لیے مار دیا؟
حارث شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
بلکل! اور جیسے اُسے مارا تھا،
اس سے بھی بدتر طریقے سے تمہاری اِس معشوقہ کو ماروں گا۔۔۔
میں مارنے دوں گا تب نہ…؟
اس کے لفظ ماہی کے گرد ایک حفاظتی حصار بناتے ہیں، جیسے اس نے زبان سے نہیں، دل سے قسم کھائی ہو۔
اچانک — لمحہ ضائع کیے بغیر — وہ لپک کر حارث کے قریب پہنچا،
اور اسے زور سے گلے لگا لیا، جیسے برسوں کا درد ایک ہی جھٹکے میں جتا دینا چاہتا ہو۔
پھر ویسے ہی…
ٹھیک ویسے ہی، اسے پیچھے کی طرف دھکیلتا۔
حارث کے قدم لڑکھڑایا، اور ولید حارث کو پیچھے کی طرف دھکیلتا روم سے باہر نکل گیا۔۔۔
اور مینی…
جو ابھی تک ایک مجسم خاموشی بن کر،
بوٹ کی طرح سیدھی،
کمرے کے ایک کونے میں کھڑی تھی —
ایسے جیسے سانس لینا بھی گناہ ہو…
اچانک جیسے کسی نے اس کی رگوں میں دوڑتا خون جگا دیا ہو۔
آنکھوں میں خوف… ہاتھوں میں ہمت… اور قدموں میں بے اختیار تیزی۔
وہ لمحہ بھر میں لپکی —
اور دھڑاک سے دروازے کی طرف بڑھی۔
دروازہ پوری طاقت سے بند کیا
جیسے وہ صرف لکڑی کا دروازہ نہیں،
بلکہ اندر کے درد، چیخیں اور تلخیاں ہمیشہ کے لیے مقید کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
اور اگلے ہی پل —
ٹھک…
کنڈی چڑھ گئی۔
+++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
