Antal hayat Episode 21 written by siddiqui

انت الحیاۃ ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۱

امن نے فوراََ اذلان کا نمبر ملایا۔۔۔
Ringing…
اٹھاؤ… خدا کے لیے فون اٹھاؤ…
امن کے دل نے جیسے ہاتھ جوڑ کر کہا۔

مگر دوسری طرف سناٹا تھا۔ کال اٹینڈ نہیں ہوئی۔

پھر اُس نے دوبارہ کال ملائی۔
Ringing…

اٹھا لو اذلان… کہاں ہو تم…
لیکن دوسری بار بھی فون خاموش رہا۔

امن کے ماتھے پر فکر کی لکیریں گہری ہو چکی تھیں۔
وہ مسلسل چوتھی بار کال ملا رہا تھا کہ اچانک کال ریسیو ہوگئی۔
ایک گہرا، طویل سانس امن کے سینے سے نکلا… جیسے کسی نے بوجھ اتار دیا ہو۔

اذلان کی پرسکون آواز آئی
Hello… Azlan Junaid Khan speaking…

امن کا غصہ اور گھبراہٹ ایک ساتھ پھٹ پڑے۔
کہاں تھا تمہارا موبائل؟

جیب میں, اذلان بےنیازی سے بولا۔

تو اُٹھانے میں موت آ رہی تھی کیا؟

نہیں… اصل میں میں ایک دفعہ میں کال اٹینڈ نہیں کرتا,اذلان نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا۔

امن کی آواز بھڑک اُٹھی
تو دوسری دفعہ کر لیتے۔۔۔۔

اذلان نے پورے اطمینان سے کہا
نہیں۔

کیوں؟

اذلان کی آواز میں وہی روایتی، عجیب سی منطق تھی
کیوں کہ چڑیا کی تین دُم ہوتی ہیں۔

امن نے جیسے سر پیٹ لیا۔۔
یہ کیا بکواس ہے؟ یہ کوئی وجہ ہوئی؟

نہیں، یہ وجہ نہیں… یہ تو میری تھیوری ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ میں اتنا فارغ نہیں ہوں کہ ہر ایرے غیرے کا فون اٹھاتا پھروں۔ جسے واقعی کام ہوگا وہ تین کالوں کے بعد دوبارہ کرے گا۔ فضول حال چال پوچھنے والے لوگ بار بار کال نہیں کرتے…

تو تمہارے موبائل میں نمبر سیو نہیں؟ نام دیکھ کر اٹھا لیا کرو۔۔۔۔

اذلان مکمل سنجیدگی سے بولا
نہیں…

کیوں؟ اُس نے پوچھا۔۔۔

اذلان کے چہرے پر وہی روایتی گھمنڈی سی سنجیدگی تھی۔۔
کیوں کہ میرا فون ہے… میری مرضی۔ اب تم بتاؤ، کیا کام تھا؟

امن نے دونوں ہاتھ بےبسی سے پھیلا دیے، پھر آسمان کی طرف نظریں گھما کر بڑبڑایا
سارے نمونے میرے ہی حصے میں آنے تھے…

اذلان نے چونک کر پوچھا
کیا…؟

امن نے گہری سانس لی۔۔۔
مجھے لگ رہا ہے تمہارا پلان فیل ہونے والا ہے۔

کیوں؟ مایہ وایہ جو بھی ہے، اُس نے سائن نہیں کروائے؟

امن نے سنجیدگی سے کہا
مایہ وایہ کیا ہوتا ہے؟ اس کا نام مایہ ہے۔۔۔۔

اذلان کندھے اچکا کر بولا
نام جو بھی ہو… مجھے کیا مطلب کسی کے نام سے؟

امن نے بےچینی سے بتایا
اُس نے سائن تو کروادیا ہے لیکن اب مُجھے لگ رہا ہے کہ حیات اپنے بابا سے پیسے مان رہی ہے۔۔۔

ازلان کا منہ حیرت سے کھل گیا، پھر وہ تقریباً چیخ پڑا۔۔
Impossible۔۔۔

امن نے فوراََ اذلان کی ڈانٹا
اذلان! تمیز سے چیخ کیوں رہے ہو۔۔۔

اذلان کا صدمے میں ڈوبا ہوا لہجہ اب بھی بلند تھا
یہ حیات کے ابو اتنے امیر ہیں؟ ایسے ہی پانچ کروڑ دے دیں گے اپنی بیٹی کو؟

امن جھنجھلا گیا
مجھے کیا پتہ۔۔۔۔

اذلان بولا
تو پتہ کرو۔۔۔۔

امن نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
بعد میں کر لوں گا… پہلے تم پلان بی بتاؤ۔

تم نے کہا تھا پلان بی سوچنا… اذلان صرف پلان ای  سوچتا ہے۔

اور وہ کیوں؟

اذلان پورے فخر سے بولا۔۔
کیوں کہ میرا نام A سے شروع ہوتا ہے… تو میں بس پلان ای سوچتا ہوں۔ جس کا نام بی سے شروع ہوگا، وہ سوچے گا پلان بی۔

امن نے غصے سے دانت پیسے
اذلان۔۔۔… یہ مذاق کا وقت ہے؟

اذلان نے کُھری جیسی سنجیدگی سے کہا
پتہ نہیں… 11 بج رہے ہیں، ہو سکتا ہے مذاق کا ٹائم ہی چل رہا ہو…

اذلان… غصہ مت دلاؤ مجھے۔۔۔

اذلان نے پوری صداقت سے جواب دیا
عجیب…

امن نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
بتاؤ اب کیا کرنا ہے؟ کیا پلان ہے؟

اذلان نے ہمیشہ کی طرح بےنیازی سے جواب دیا
بھائی… اب جو کرنا ہے نا، وہ میں کر لوں گا۔ تم آرام سے بیٹھو، پانی پیو، دعا کرو… کچھ بھی کرو، بس میرے کام میں مت بولو۔

امن کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی
اور حضور کیا کرنے والے ہیں؟

اذلان نے گہری سانس لی، جیسے کوئی بہت بڑا انکشاف کرنے والا ہو
ویسے تو اذلان پلان بی سوچتا نہیں… اور سوچ لے تو بتاتا نہیں۔
لیکن تم چونکہ میرے بڑے بھائی ہو— خونی ، روحانی، اخلاقی، جذباتی ہر لحاظ سے
اس لیے تمہیں بتا رہا ہوں۔

یہ سن کر امن کے چہرے پر تھوڑی سی امید، تھوڑا سا سکون اُترا۔
جلدی بتاؤ۔ ٹائم پاس مت کرو…

اذلان پورے فلسفیانہ انداز میں بولا
ہاں تو Plan B یہ ہے کہ… اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ Plan A تو فیل ہو چکا ہے۔

امن کا پارا آسمان کو چھونے لگا
اذلان۔۔۔۔

اذلان نے فوراََ جلدی سے کہا
ارے بھائی! پوری بات تو سن لیا کرو۔
تم تو ایک دم چِلّا چِلّی پر اُتر آتے ہو۔

امن نے غصے سے کہا
اچھا بولو۔۔۔۔

اذلان نے گلا صاف کیا
تو اب چونکہ تم شریف انسان ہو، تمہارے حساب سے شاید کچھ بھی ہو سکے…
لیکن میں شریف نہیں ہوں۔

امن حیران ہوا
اس سے میرے یا تمہارے شریف ہونے کا کیا تعلق؟؟

تم سن بھی رہے ہو یا نہیں۔۔۔۔

امن نے بےبس ہو کر کہا
ٹھیک ہے، ٹھیک ہے… بولو…

تو اگر Plan A ناکام ہوا… تو Plan B میں اذلان جنید خان، حیات اور اس کے ابّا دونوں کو گھر سے اُٹھوا لے گا۔
نہ رہے گا بانس… نہ بجے گی بانسری۔

امن نے حیرانی سے سنجیدگی کے ساتھ کہا
ایک منٹ! حیات کے ابو کو کیوں اٹھوانا ہے؟؟

اذلان پورے سکون سے بولا
ارے بھائی! پیسہ تو انہی کے پاس ہے۔
اتنے امیر ہیں کہ بیٹی پر پانچ کروڑ یوں لوٹا رہے ہیں۔
تو تھوڑا میرے اوپر بھی لوٹا دیں گے تو پہاڑ گر جائے گا کیا؟

تم سے مشورہ کرنا ہی بے کار ہے۔۔۔
اپنی طرح گھٹیا، لٹیرے ٹائپ مشورے دیتے ہو۔۔۔۔

اذلان نے کندھے اچکائے، مسکراتے ہوئے کہا
I know… thank you sooo much.

سارے کے سارے پاگل ہیں۔۔۔
وہ غصے میں کہتا فون کاٹ دیا۔۔۔

دوسری طرف
حیات نے امایہ کو کال ملائی۔
بمشکل دو بیل ہی گئی تھیں کہ فون فوراً اٹھ گیا،
جیسے امایہ تو بس حیات ہی کی کال کا انتظار کر رہی ہو۔

ہاں، بولو… فون کے دوسری طرف سے امايہ کی آواز آئی۔۔۔

امایہ… ایک بہت بڑا نہیں… بہت بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے۔۔۔۔

امایہ نے حیرت سے کہا
جیسے کہ…؟

وہ بعد میں بتاؤں گی… پہلے یہ بتا:
کیا تیرے پاس پانچ کروڑ ہیں؟

امایہ کا منہ کھلا گیا
حیات…؟
جیسے اس نے چاند مانگ لیا ہو۔

کیا؟ اتنا چونک کیوں رہی ہو؟ حیات نے سنجیدگی سے کہا

تو… جُوّا کھیلنے لگی ہے کیا؟

حیات نے ناگواری سے کہا
پانچ کروڑ سے جُوئے کا کیا تعلق!؟

امایہ پوری سنجیدگی سے بولی
تو جُوئے میں ہار گئی ہوگی… اسی لیے پوچھ رہی ہے نا؟
حیات! مجھے سچ سچ بتا… میں کسی کو نہیں بتاؤں گی،
بس جھوٹ مت بول۔۔۔۔

حیات نے غصے سے کہا
چّی چّی چّی امایہ! تیری سوچ کتنی گندی ہے،
میں تجھے ایسی لگتی ہوں؟

ارے نہیں بہن… میں تو صرف پوچھ رہی تھی۔
ڈر مت، میں کسی کو نہیں—

حیات نے جھنجھلا کر اسے کاٹ دیا
دفعہ ہو جا،

امایہ نے حیرانی سے کہا
ارے تو پانچ کروڑ…؟

حیات نے چڑ کر کہا
مجھے پتا ہے تُو غریب ہے…
تیرے پاس پانچ کروڑ کہاں سے آئیں گے۔۔۔

امایہ کا تیور بدل گیا
کہاں سے کا کیا مطلب؟

حیات نے کال کاٹنے سے پہلے تلخی سے کہا
کچھ نہیں۔ فون رکھ۔ اللہ حافظ۔۔۔

اُس نے فون بند کیا۔۔۔اور
پھر جیسے ہی پیچھے مُڑی۔۔۔
اُس کی نظریں سیدھی اَمن سے ٹکرا گئی۔۔۔
جو خاموشی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

تو… منگوا لیے پانچ کروڑ؟
امن نے سنجیدگی سے کہا

حیات نے بےنیازی سے بالوں کی لٹ پیچھے ہٹائی
نہیں۔ پلان میں تھوڑا سا چینج ہے۔
حیات اب جاب نہیں چھوڑ رہی۔
لئیے… استعفٰی کا خط واپس دے دیجیے۔

اَمن کی آنکھیں تنگ ہو گئیں۔۔
کیوں…؟

حیات نے غرور و بےپرواہی سے کہا
حیات کی مرضی۔

امن نے سنجیدگی سے کہا
ایسا نہیں ہوتا۔
تم استعفیٰ جمع کروا چکی ہو۔
اب یا پانچ کروڑ دو… یا پھر جیل جاؤ۔

حیات نے ایک لمحے کو اسے گھورا، پھر ابرو چڑھا کر بولا
آپ تھوڑے سے… وہ ہیں کیا…؟

اَمان چونک کر کہا
کیا…؟

حیات نے دانت پیسے
پاگل۔۔۔

یہ کہتے ہی اُس نے جھپٹا مار کر اَمن کے ہاتھ سے استعفیٰ کا خط چھین لیا،
اور اتنی سرعت سے اسے چاکوں چاک کردیا
جیسے یہ کاغذ نہیں… اُس کا مسئلہ ہو جو وہ ختم کر رہی ہو۔

پھر پرسکون انداز میں ہاتھ جھاڑے،
کاغذ کے ٹکڑے ڈسٹ بن میں پھینکے،
اور غرور سے، آواز میں پوری دھمکی سمیٹ کر بولی
حیات سے پنگا نہیں لیا کریں… سمجھے؟

یہ کہہ کر وہ شان سے کیبن سے باہر نکل گئی۔

اَمن نے چند ثانیے اُسے جاتے دیکھا—
پھر بے اختیار مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل گئی۔

اَمان نے آہستہ، مسکراتے ہوئے کہا
پاگل لڑکی…

++++++++++++++

اگلے دن…
صبح کی نرم دھوپ کھڑکی سے اندر آرہی تھی۔
ندیم صاحب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے،
تھوڑی دیر بعد حیات اپنے کمرے سے نکلی, آفس کے لیے پوری طرح تیار،

وہ آکر اُن کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔

زینب بیگم نے چونک کر اسے دیکھا
اتنی صبح؟ کہاں جانے کی تیاری ہے؟ یونی جانا ہے کیا؟

حیات نے پرسکون لہجے میں کہا
نہیں… آفِس جا رہی ہوں۔

ندیم صاحب نے اچانک ہاتھ میں لیا چائے کا کپ نیچے رکھ دیا
آفس؟
تم نے تو استعفیٰ دے دیا تھا۔۔۔۔

زینب بیگم بھی فکرمند ہو کر بولیں
ہاں، تم تو کہہ رہی تھیں اب نہیں جاؤ گی آفیس۔۔۔

حیات نے دونوں کی طرف خاموشی سے دیکھا…
پھر آہستہ سے اپنا کپ اٹھایا، ایک گھونٹ لیا، اور پوری سنجیدگی کے ساتھ گفتگو شروع کی—
ماما… بابا… میں نے بہت سوچا ہے۔
زندگی میں اگر مجھے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے تو آفس نہیں چھوڑ سکتی۔
صرف ایک وقتی غصّے یا ڈر کی وجہ سے پورا کیریئر برباد نہیں کیا جاتا۔

زینب بیگم پریشان ہوئیں
لیکن بیٹا… وہاں تمہارا دل نہیں لگتا تھا، تم رو رہی تھیں اُس دن…

حیات نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا
دل نہیں لگتا تھا، یہ درست ہے…
لیکن دل کا مسئلہ ہے، حل ہو جائے گا۔
مگر مستقبل اگر ہاتھ سے نکل گیا، وہ واپس نہیں آئے گا۔

ندیم صاحب نے گہری نظر سے اسے دیکھا۔۔
زنیب بیگم نے فوراََ ندیم صاحب کے کان میں سرگوشی کی،
اسے کیا ہوا ہوگیا۔۔۔؟ اتنی سمجھدار کب سے ہوگئی یہ۔۔۔۔

حیات آگے بولی
آفس چھوڑ دینا آسان ہے، ماما…
مگر خودمختیار ہونا،
اپنی محنت سے اپنا مقام بنانا،
یہ چیزیں چھوڑ دینے سے نہیں ملتیں۔
اگر ہر بار مشکل آئے گی اور میں بھاگ جاؤں گی…
تو پھر میں زندگی میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکوں گی۔

زینب بیگم نے بےاختیار اس کی پیشانی چھوئی۔۔
اللہ خیریت کرے، اسے کیا ہوگیا ہے۔۔۔؟؟ حیات ہی ہے نہ یہ۔۔۔۔
زنیب بیگم نے دھیرے سے ندیم صاحب کے کان میں کہا

حیات نے ہلکا سا مسکرا کر کہا
اور ابھی میں اگر آفیس چھوڑ دونگی تو اپنا آفیس کیسے سنبمالونگی۔۔۔۔

زنیب بیگم نے پھر ندیم صاحب کے کان میں کہا
پکّا امن نے اسے کچھ کھالا کے بھیج دیا ہے۔۔۔

ندیم صاحب نے ہلکے سے کہا اچھا ہے نہ۔۔۔

پھر ندیم صاحب نے آخرکار رضامندی سے سر ہلا دیا
ٹھیک ہے حیات…
اگر تم نے فیصلہ سوچ کر کیا ہے،
تو ہم تمہیں روکیں گے نہیں۔
جاؤ۔
اللہ تمہیں کام میں کامیابی دے۔

حیات نے خوشی سے سر ہلایا اور اپنا ناشتہ ختم کرنے لگی۔۔۔

++++++++++

آفیس کے لمبا سا ہال، جہاں اس وقت بےچینی کی حد تک خاموشی اور شور ایک ساتھ موجود تھا۔
لوگوں کی انگلیاں فائلوں کے کنارے چھوتی جا رہی تھیں اور گھڑیاں بےرحمی سے وقت کاٹ رہی تھیں۔

مایا نے موبائل کان سے لگایا۔
سر… یہ انٹریورز کا انٹرویو کب لیں گے؟ اِنہیں آئے ہوئے آدھے گھنٹہ سے اوپر ہو چُکا ہے۔۔۔ اور بندے بھی بہت زیادہ ہیں اور یہاں ویٹنگ ایریا بھی بالکل بھر چُکا ہے۔۔۔

زاویار نے سرد لہجے میں جواب دیا۔۔۔
باس کو کہو… وہ لیں گے۔ میں نہیں لینے والا۔

مایا نے پلکیں جھپکیں، اور بولی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے سر…

وہ فوراً اگلا نمبر ملانے لگی۔
فون دوسری بیل پر ہی اٹھا لیا گیا۔
بولو؟
آمن کی آواز جیسے ہمیشہ کی طرح مختصر، سنجیدہ اور مصروف۔

باس… وہ… انٹرویو لینے والوں کو بھیج دوں؟

کیا مطلب انٹرویو لینے والوں کو بھیجو؟

مایا نے ہچکچاتے ہوئے ساری بات دہرائی۔
سر… زاویار سر نے انٹرویو لینے سے منع کر دیا ہے۔ کہہ رہے تھے آپ لیں گے۔ اسی لیے پوچھ رہی ہوں…

تو نتاشا سے کہو۔ وہ لے لے گی۔ میں بزی ہوں۔

مایا نے لب کاٹے۔
لیکن باس…

فون کے دوسری طرف خاموشی لمحہ بھر کو جمی۔
اب کیا مسئلہ ہے؟

نتاشا میم تو آج سِک لیو پر ہیں۔ وہ آئی ہی نہیں…
اس کے لہجے میں ایک بےبس سی گزارش تھی۔

ایک پل کو آمن مکمل خاموش ہو گیا، شاید کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر سوچ رہا تھا۔

آخرکار اس نے دھیمے مگر فیصلہ کن انداز میں کہا
اچھا… رکو۔ میں دیکھتا ہوں۔

اور فون کٹ گیا۔

++++++++++++

ویٹنگ ایریا میں ہجوم تھا، مگر شور ایک عجیب سی دھیمی گونج میں بدل چکا تھا۔
کرسیوں پر بیٹھے چہروں پر تھکن، بےچینی اور کہیں کہیں اُمید چمک رہی تھی۔

اسی بھیڑ میں سمیر—سادہ پینٹ شرٹ میں ملبوس، ہاتھ میں صرف ایک فائل، بال سلیقے سے جَھڑے ہوئے—اپنی نشست پر پہلو بدل کر بغل میں بیٹھی لڑکی کی طرف مڑا۔

وہ لڑکی…
ہلکے پنک رنگ کے سادہ شلوار قمیص میں، گلے میں بےپروا سا رکھا دوپٹہ… چہرے پر صرف ہلکی سی لپ اسٹک اور مسکارا…
لیکن اس کی اصل پہچان اس کے لمبے، گھنے، لہراتے بال تھے جنہیں تتلی والے کلچر میں باندھا گیا تھا۔۔
اور اتنے اسٹائلش انداز میں باندھا گیا تھا، دیکھ کر لگ ربا تھا کِسی پالر سے بندھوائے ہیں۔۔۔۔ اور وہ اتنے خوبصورت لگ رہے تھے کہ ویٹنگ ایریا کی آدھی باتیں انہی کے گرد گھوم رہی تھیں۔
کوئی کہہ رہا تھا،
کتنی اوور بن کے آئی ہے….
کوئی دوسرا،
باس نے دیکھتے ہی نکال دینا ہے اسے…

مگر وہ سب سے بےخبر…
اپنی فائل کے کنارے سہلاتی، خاموشی سے بیٹھی تھی۔

سمیر نے مسکرا کر گفتگو کا آغاز کیا۔
ہائے… تم بھی یہاں انٹرویو کے لیے آئی ہو؟

لڑکی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ رخ پھیرا۔
ظاہر سی بات ہے… انٹرویو کے لیے ہی آئی ہوں۔

اوہ، میں بھی یہاں جاب کے لیے آیا ہوں۔ مائی سیلف سمیر۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔

لڑکی نے نظریں جھکائیں، فائل ذرا مضبوطی سے تھامی۔
میں…عشاء

سمیر نے ہاتھ واپس کھینچ کر بالوں میں پھیر دیا۔
اوہ…

عشاء بس مختصراً بولی،
جی…

سمیر ایک لمحہ اسے دیکھتا رہا، پھر بےساختہ کہہ بیٹھا
ویسے تمہارے بال… بہت اچھے لگ رہے ہیں۔

عشاء نے چشمِ زدن میں نظر اٹھائی، پھر ہلکے سے بولی
تھینک یو۔

خود بنائے ہیں؟

وہ ٹھہر سی گئی۔
اس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

نہیں میرا مطلب… خود بنائے یا کسی سے بنوائے؟

اس کے لہجے میں اب خفگی شامل ہو رہی تھی۔
نہیں، خود بنائے ہیں۔ تمہیں کوئی پرابلم…؟

سمیر فوراً ہنسا، ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا
ارے نہیں نہیں! میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا… تم تو ناراض ہی ہوگئیں۔

ویسے تم یہاں کون سے ڈیپارٹمنٹ کے لیے آئے ہو؟

کمپیوٹر… اور تم؟

اوہ نائس! میں بھی کمپیوٹر کے لیے آئی ہوں۔

سمیر نے ہنستے ہوئے بھنویں اٹھائیں۔
واہ… مطلب تم تو پھر میری competitor ہو۔۔۔

عشاء نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
لڑکی سے مقابلہ کرنے میں شرم نہیں آئے گی تمہیں…؟

سمیر نے فوراً ہاتھ سینے پر باندھے۔
اوہ ہیلو! اس میں کیسی شرم؟ جب لڑکی کو نہیں نہیں شرم تو میں کیوں شرماؤں؟ میں بھی بےشرم ہوں پھر۔۔۔

عشاء نے گردن ٹیڑھی کر کے اسے دیکھا
تمہیں پتہ ہے…؟

کیا؟

تمہارا ایک اسکریو ڈھیلا ہے۔

سمیر قہقہہ لگا کر بولا،
ہاں شاید ہے تو…

عشاء بھی ہنس پڑی۔
پاگل۔۔۔۔

++++++++++++

آمن نے موبائل کان سے لگائے لگائے ہی بھنویں چڑھا لیں۔
کیا مسئلہ ہے؟ انٹرویو لو جا کے۔۔۔۔

دوسری طرف سے زاویار کی وہی روایتی سرد، لاپروا سی آواز آئی
میں نہیں لے رہا۔ خود ہی لے لو۔

آمن نے گہری سانس کھینچی، لہجہ سخت ہوا۔
زاویار، بدتمیزی نہ کرو۔ میں بزی ہوں۔۔۔

تم بزی ہو تو میں تم سے زیادہ بزی ہوں،۔
آواز میں ایسی بےنیازی تھی جیسے وہ دفتر نہیں کسی تخت پہ بیٹھا ہو۔

آمن کے صبر کا پیالہ لبریز ہوا۔
زاویار، تھپڑ مار دوں گا ایک۔۔۔

مگر زاویار کی ٹون ذرہ برابر نہ بدلی، الٹا بےفکری سے بولا
مجھے ایک میٹنگ میں جانا ہے۔ تم چلے جاؤ وہاں، میں لے لیتا ہوں انٹرویو۔

آمن کا سر جیسے جھٹکے سے اوپر اٹھا۔
جاؤ پہلے انٹرویو لو، پھر جانا میٹنگ میں۔۔۔۔

سوری، میرے پاس ٹائم نہیں۔ خود کو انٹرویو لے لو۔۔۔

اور فون بےدردی سے کٹ گیا۔

آمن نے موبائل میز پر پٹخا اور بڑبڑایا
عجیب! ایسے بول رہا ہے جیسے میں اس کا باس نہیں، یہ میرا باس ہو۔۔۔

اس کے الفاظ ابھی فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ حیات کافی کا کپ لیے اندر داخل ہوئی۔۔۔

یہ لیں، آپ کی کافی۔
حیات نے ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔

آمن نے سر اٹھائے بغیر بس مختصراً جواب دیا۔ہم…

اور کوئی کام ہے، یا میں جاؤں…؟

آمن نے اب نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،
کہاں؟

حیات نے بالوں کی لٹ کان کے پیچھے کی اور بالکل سنجیدگی سے بولی
گیم کھیلنے۔

آمن نے بےیقینی سے آنکھیں پھیلا دیں۔
حیات… کبھی تو نارمل انسانوں کی طرح بات کر لیا کرو۔۔۔۔

حیات نے آنکھیں گھماتے ہوئے بالکل معصومیت سے کہا
تو میں کون سا بلی کی طرح میاؤ میاؤ کر رہی ہوں؟ انسان کی طرح ہی تو بات کر رہی ہوں…

امن ہار مانتے ہوئے بولا۔۔۔
ہاں ہاں، آپ بالکل ٹھیک ہیں۔ میں ہی پاگل ہوں… ہے نا؟

حیات نے بغیر ایک سیکنڈ ضائع کیے سر ہلایا۔
ہاں، یہ تو حیات کو پہلے سے ہی پتا ہے۔

آمن کا چہرہ دیکھنے لائق تھا۔
وہ کچھ لمحے اسے گھورتا رہا، پھر بےبس سا ہاتھ اٹھا کر بولا
حیات… چپ سے وہاں بیٹھ جاؤ۔ مجھے سکون سے کام کرنے دو۔

حیات نے حیرانی سے خود کی طرف اشارہ کیا۔
ہیں تو حیات کون سا آپ کو چُوتی کاٹ رہی ہے؟

آمن نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
جاؤ جا کے باہر جو لوگ انٹرویو کے لیے آئے ہیں، ان کا انٹرویو لو۔۔۔

حیات ایک دم سیدھی ہوکر کھڑی ہوئی، جیسے اس نے کوئی سنگین بات سن لی ہو۔
ہیں…؟

’ہیں‘ کیا ہے! جا کر انٹرویو لو۔۔۔

حیات نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے، آنکھیں سکیڑ لیں۔
اوہ ہیلّو! یہ حیات کا کام نہیں ہے۔

اچھا… تو پھر کس کا کام ہے؟

حیات نے پلکیں جھپکائیں، چہرہ بالکل سنجیدہ۔
حیات کو کیا پتا…؟

آمن نے دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر حیات کو گھورا۔
آپ کون ہیں…؟

حیات نے فوراً فخر سے سینہ تان لیا۔
حیات۔

آمن نے آنکھیں بند کر کے سانس بھری۔
میری کون ہو…؟

پرسنل اسسٹنٹ۔

آمن نے میز پر رکھے پین کو انگلیوں میں گھمایا۔
تو پرسنل اسسٹنٹ کا کام ہوتا ہے انٹرویو لینا… تو جائیے اور انٹرویو لیجیے۔

حیات نے دو قدم پیچھے ہٹ کر ہاتھ اٹھائے۔
حیات نہیں لے رہی بھئی۔ آپ زاویار کو بولو۔۔۔

وہ میٹنگ کے لیے جا رہا ہے…

حیات فوراً بول پڑی جیسے اسے زبردست حل سوجھ گیا ہو
ہاں تو اُسے بولیں… حیات میٹنگ کے لیے چلی جاتی ہے، وہ انٹرویو لے لے۔۔۔

حیات… امن نے کہہ کر اُسے ایسا گھورا

حیات نے فوراً ہاتھ جوڑ دیے۔
اچھا اچھا! جا رہی ہوں۔۔۔۔
عجیب… فضول فضول کام دے دیتے ہیں…

اسی طرح اپنی ہی باتوں میں الجھتے ہوئے، قدم زور زور سے چلتے ہوئے،
وہ انٹرویو روم میں داخل ہو گئی۔

آمن فون کان سے لگاتے ہوئے بولا
مایہ، انٹرویو کے لیے ایک ایک کر کے بندے بھیج دو… حیات لے رہی ہے انٹرویو۔

مایہ چونکی ضرور، مگر آواز میں وہی پیشہ ورانہ سلیقہ تھا۔
جی باس…
اور اس نے فوراً فون رکھ دیا۔

پھر وہ ویٹنگ ایریا میں موجود لوگوں کی طرف بڑھی۔
ہال میں بیٹھے امیدوار سب کے کان جیسے اسی اعلان کے انتظار میں تھے۔

آپ لوگ… ایک ایک کر کے اندر چلے جائیں۔ انٹرویو شروع ہو رہے ہیں۔

ہال میں بیٹھا ہجوم ہلکا سا ہلچل کرنے لگا۔
فائلیں سیدھی ہوئیں، دوپٹے ٹھیک ہوئے، اور یقین کی جگہ پھر ایک ہلکی سی گھبراہٹ نے لے لی۔

سمیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے لمبا سانس لیا۔
چلو… فائنلی باس کو ہم پر رحم آ ہی گیا۔

اس نے جیسے آسمان کا شکر ادا کیا ہو۔

عشاء نے ہلکی سی آنکھیں گھمائیں اور آہستہ سے بولی
ہہم…

+++++++++++++

کچھ دیر بعد…
مایا فائل چیک کرتے ہوئے نرم لہجے میں بولی
مِس… اب آپ اندر چلی جائیں۔

عشاء نے دھڑکتے دل کے ساتھ سر ہلایا۔
اچھا…
وہ گہری سانس لے کر کھڑی ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں موجود فائل ہلکی سی لرز رہی تھی۔

سمیر نے فاتحانہ مگر دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا
بیسٹ آف لک، کمپیٹیٹر۔۔۔۔

عشاء کے ہونٹوں پر گھبرائی ہوئی سی مسکراہٹ آئی۔
تینک یو…

وہ قدم بڑھاتی ہوئی انٹرویو روم کی طرف جا رہی تھی،
نروس، سہمے قدم… پوری توجہ دروازے پر تھی…
اور ٹھیک اسی لمحے
سامنے سے آتے زاویار سے ٹکرا گئی۔

اگلے سیکنڈ سب کچھ بکھر گیا۔
وہ خود بھی فرش پر تھی،
اور فائل سے نکلے ہوئے اس کے CV کے پیجز باری باری ساری فلور پر پھیل گئے۔

عشاء جھٹ سے بولی
س… سوری…
نظریں زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔

زاویار نے ایک ٹھنڈی، بےحس نظر اس پر ڈالی۔
دیکھ کر چلا کرو۔
لہجہ ایسا کہ جیسے وہ کسی پتھر سے بات کر رہا ہو،
اور پھر وہ تن فن کرتا آگے بڑھ گیا۔

عشاء نے اندر ہی اندر دکھ سے سانس بھری۔
عجیب انسان ہے… اتنا ایٹیٹیوڈ کیوں دکھا رہا تھا؟ سوری تو کہہ ہی دیا تھا میں نے…

اسی لمحے سمیر تیزی سے اس کی طرف آیا۔
ارے ارے باجی! آپ تو ابھی سے گر پڑ رہی ہیں۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے اسے ہاتھ دینے لگا۔

زاویار نے پلٹ کر ایک لمحے کے لیے اس لڑکی کو دیکھا جو اب بھی فرش پر تھی…
لیکن اگلے ہی پل اس نے نظریں پھیر لیں…
اور خاموشی سے آفیس سے باہر نکل گیا۔

عشاء نے سمیر کا ہاتھ تھاما اور کھڑی ہو گئی۔
ہاں… بس… انسان کبھی کبھی اپنا بیلنس کھو دیتا ہے۔

سمیر جھک کر اس کے بکھرے کاغذ سمیٹنے لگا۔

مجھے تو یہ انسان بہت rude لگا۔ اگر بائی چانس یہاں جاب مل گئی نا تو اس سے دور رہنا پڑے گا۔۔۔

عشاء نے سر ہلایا۔
ہاں… بڑے عہدے پر ہوں گے۔ اپنی سیٹ کا غرور ہے ان میں۔

ہہم… سمیر نے مختصراً کہا۔

عشاء نے فائل بند کی، مگر ہاتھ اب بھی لرز رہے تھے۔
مجھے تو اندر جانے میں اب اور ڈر لگ رہا ہے۔

سمیر نے اس کی طرف دیکھا، ایک دم casual انداز میں بولا
ارے اس میں ڈرنے والی کون سی بات؟ نصیب میں ہوا تو مل جائے گی جاب… نہیں ہوا تو کہیں اور مل جائے گی۔۔۔

ہاں…
وہ دونوں ابھی تک زمین سے کاغذ چُن رہے تھے جب اندر سے حیات دروازہ دھکیلتی باہر نکلی۔

حیات پوری جلدی میں، ہاتھ ہلاتی ہوئی بولی
جلدی جلدی بندے بھیجو بھئی! حیات کے پاس اور بھی کام ہیں… اور… تم دونوں زمین پر کیا کر رہے ہو؟
اس کی نظروں نے پہلے عشاء کو، پھر سمیر کو، پھر دونوں کو مشکوک انداز میں دیکھا۔

عشاء فوراً سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی، فائل سینے سے لگائی۔
کچھ نہیں میم… بس وہ… غلطی سے کسی بندے سے ٹکرا گئی تھی تو سارے پیپر بکھر گئے۔

حیات نے فوراً سمیر کو اوپر سے نیچے تک ایسے دیکھا جیسے وہ مجرم ہو۔
اچھااا— کس بندے سے ٹکرائی تھی؟ اس سے؟

سمیر یک دم گھبرا گیا، دونوں ہاتھ اوپر کر دیے۔
ارے نہیں نہیں میم! میں تو بس ان کی مدد کر رہا تھا۔۔۔

حیات نے آنکھیں تنگ کیں۔
پکّا؟

سمیر نے زور زور سے سر ہلایا۔

عشاء نے فوراً بیچ میں کہا
جی جی میم… یہ واقعی میرے پیپرز اٹھا رہے تھے۔

حیات نے پوز بدلا، جیسے معاملہ اب سیدھا ہو گیا ہو۔
اچھا خیر… چلو آ جاؤ، انٹرویو دو۔۔۔

وہ پلٹ کر دوبارہ اندر چلی گئی، مگر جاتے جاتے بھی شک بھری نظر سے دونوں کو دیکھا۔

عشاء نے حیرت سے دروازے کو گھورا۔
یہ… لے گی انٹرویو؟

سمیر نے ہونٹ دبائے، کندھے اچکائے۔
لگتا تو یہی ہے…

عشاء نے گھبرا کر فائل مضبوط پکڑی۔
چلو… میں آتی ہوں۔

سمیر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
ہمم… بیسٹ آف لک۔۔۔

عشاء دھڑکتے دل کے ساتھ انٹرویو روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *