Qasas Episode 2 written by Rida fatima

قصاص قسط نمبر:2

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

یہ شام کا وقت تھا ۔۔ مہرین نے اس کو تیار ہونے کا کہا تھا ۔۔ اس کے دماغ میں بس ایک سوال تھا اس
نے تو شادی سے انکار کر دیا تھا ۔۔ تو پھر اپ کیوں اس کو تیار کروا رہے تھے اس نے اپنی ماں سے پوچھا تھا ۔۔ اماں اب کیوں تیار کروا رہی ہم کو ۔۔۔ تمھارے بابا نے کہا ہے ۔۔ لیکن ابھی تو رشتا نہیں کرنا ۔۔ ہاں لیکن پھر بھی تمھارے بابا نے کہا ہے رشتا ہونا تو قاسم خان سے ہی ہے نہ ۔۔
لیکن اماں ضروری تو نہیں کے خدا کو بھی یہ منظور ہو ۔۔
مجھے نہیں پتہ ہیر میں کیا بتاؤں اور اب اپنے بابا سے
نہیں پوچھنا ۔۔۔
اچھا نہیں پوچھتی ہم ۔۔۔۔ وہ اب خاموش تھی ۔۔۔ اس نے ہلکے گلابی رنگ کا کرتا
پہن رکھا تھا جس میں گلے اور بازوں پر سنہرے رنگ کی لیس لگی تھی وہ اس میں خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ نیچے اس نے چوری دار پجاما پہن رکھا تھا ۔۔ اس پر اس نے ہمیں رنگ دوپٹہ لیا ہوا تھا ۔۔ وہ گلاب کی مانند لگ رہی تھی ۔۔۔ جب باہر سے باتوں کی اواز انے لگ گئی تھی شاید قاسم خان کے گھر والے اگائے تھے ۔۔
ہیر چلو ۔۔ ہم جاتی ہے اب تم سلام لے کر کچن میں چلی جانا ۔۔ میں نے کوہ تیار کر کے رکھا ہے لے انا ۔۔ تھوڑی دیر میں کھانا لگواتے ہیں پھر ۔۔ ہیر نے بس گردن ہلا دی ۔۔۔
وہ ماں کے ساتھ ہی باہر ائی تھی ۔۔ پھر قاسم کے ماں باپ سے سلام کر کے سر پر پیار لے کر کچن میں اگئی تھی ۔۔ جب کے اس کو شدید بری لگ رہی تھی قاسم کی نظریں جن سے وہ اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
قاسم اچھا لڑکا تھا وہ ان کے بابا کے دوست تھے اور تھے بھی پٹھان۔۔ لیکن قاسم کے اندر پٹھانوں والی انا اور غصہ نہیں تھا وہ ٹھنڈے مزاج کا ملک تھا ۔۔۔ اور دیکھنے میں بھی خوبصورت تھا ۔۔ لیکن وہ ہیر کو اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔ قاسم کے بات کرنے کا انداز بھی بہت دھیما اور پر سکون تھا ۔۔ چہرے کا رنگ سفید اور بھوری انکھوں والا قاسم سب کو پسند آ سکتا تھا لیکن ہیر خان کو نہیں ۔۔۔
وہ سفید شلوار قمیض میں تھا ۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ کے قاسم کو اپنے بابا کے کام
کاروبار میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس نے اپنے بابا سے کہہ کر ایک ہوٹل خریدا تھا اور اب وہ اس کو ہی سنبھالتا تھا۔۔۔ ہیر کچھ دیر میں کوہ لے ائی تھی ۔۔ اس نے سب کو کپ تھاما دیے اور اندر کمرے میں جانے لگی جب اس کے بابا اس کو دیکھ کے بولے ۔۔
ہیر یہاں پر ہی بیٹھ جاؤ بچا ۔۔ کدھر جا رہی ہو ن۔۔ نہیں ۔وہ بابا ۔۔
ابھی وہ بولنے ہی لگی جب اس کی ماں نے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ خاموشی سے بیٹھ گئی
اور بتاؤ ادم خان ۔۔ کیا چل رہا ہے اج کل تمھاری زندگی میں ۔۔
تمھیں تو پتہ ہے زمینوں پر ہی دہان رہتا ہمارا ۔۔
اچھا چھوڑو یہ باتیں تمھیں تو پتہ ہے کامران ہم کس لیے
ائے ہیں تمھارے گھر ۔۔
ہاں میں جانتا ہوں ۔۔ ہاں تو پھر بس جلدی سے بات کرتے ہیں ۔۔ دیکھو تم نے میرا بیٹا دیکھا ہے اور اتنے وقت سے دیکھتے ا رہے ہو ۔۔ اور ویسے بھی اس کو ہیر اچھی لگتی ہے ۔۔ تو کیوں نہ ہماری دوستی کو رشتہ داری میں بدل دیا جائے ۔۔۔
ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ادم اور ویسے بھی ہماری
بیٹی بھی ہماری بات نہیں ٹلتی ۔۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں نہ میں ہیر انہوں نے ہیر کو دیکھا
ہیر کے تو پاؤں سے زمین اور سر سے آسمان غائب ہو گیا تھا ۔۔ کیا اُس کا رشتا ابھی پکا ہو رہا تھا ۔۔
لیکن اس کے بابا نے کہا تھا کے ابھی نہیں کریں گے ایسا کچھ بھی ۔۔
ج۔۔ جی بابا ۔۔ وہ با مشکل بولی تھی ۔۔
تو پھر ٹھیک ہے کامران ہم رشتا پکا سمجھے ۔۔
ہاں پکا سمجھو ۔۔ لیکن ۔۔ کامران خان ذرا رکے ابھی نہیں ادم ہماری بیٹی کو ابھی پڑنا ہے ۔۔ جب
وہ پڑھائی مکمل کر لے گی تب ہم ہیر کا رشتا کریں گے ۔۔ لیکن ہیر قاسم خان کی امانت ہوئی ہم وعدہ کرتے ہیں ۔۔ ہیر کا رکا ہوا سانس بحال ہو گیا تھا چلو ابھی تو بلا ٹیلی تھی ۔۔
ٹھیک ہے کامران ہم کو تم پر پورا یقین ہے ۔۔ تم اپنا وعدہ نہیں ٹورو گے ہم جانتے ہیں ۔۔
اچھا چھوڑو یہ باتیں ہم کھانا لگواتے ہے آجاؤ ۔۔ کامران بولے اور سب آٹھ گئے تھے ۔۔
ہیر اور اس کی ماں کچن میں کھانا گرم کرنے چلے گائے تھے ۔۔ کچھ دیر بعد ملازمہ نے کھانا لگا دیا تھا ۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ چلے گائے تھے ۔۔ جب کے ہیر نے شکر ادا کیا کے وہ گئے تو صحیح ۔۔۔ ہیر اپنے کمرے میں بیٹھی تھی جب اس کے نمبر پر
میسج ایا تھا ۔۔ کوئی انجن نمبر تھا کہنے والے نے بس سلام ہی کہا تھا ۔۔۔
کون ۔۔ اس نے جواب دیا تھا ۔۔
آپ نے پہنچانا نہیں ۔۔
نہیں کیا ہم اپ کو جانتی ہے ۔۔۔ جی پچھلے کچھ دن سے روز ہماری ملاقات ہوتی ہے ۔۔
پہیلیاں چھوڑو بتاؤ نہیں تو بلوک کر دوں گی ۔۔
نہیں نہیں ۔۔ دوسری طرف سے فورا جواب ایا تھا ۔۔۔
تو پھر بتاؤ کون ہو ۔۔
آپ اتنی جلدی بھول گئی ہیں اور میرے دماغ اور دل
سے کہیں جا نہیں رہی اپ ۔۔
بھائی بتا دو کون ہو تم نہیں تو جان لے لے گی ہم
استغفراللہ وہ بے ساختہ بولا تھا بھائی تو نہ کہیں ۔۔
ہیر کو اب سچ میں غصا انے لگا تھا ۔۔
دیکھو بتا دو کون ہو تم نہیں تو جہنم میں جاؤ ہم بلوک
کرتی ہے ابھی ۔۔
عجیب بات ہے صبح آپ میری طرفداری کر رہی تھی ۔۔ یونیرسٹی میں اور اب بھول گئی ہیں ۔۔
آپ کتنی بھلکڑ ہیں ہیر ۔۔
ہیر کو ایک دم یاد آیا ۔۔ زر مان راجپوت۔۔۔
ہاں جی زر مان راجپوت ۔۔ شکر ہے اپ کو یاد تو ایا میں ۔۔
تم کو میرا نمبر کہاں سے ملا ۔۔
وہ ۔۔ آپ کی دوست ہے نہ ۔۔ کیا نام ہے اُس کا ۔۔
حیات ۔۔ ہیر نے بتایا ۔۔ ہاں وہی ۔۔ اُس نے دیا ہے ۔۔
کیوں دیا ہے ۔۔۔ کیوں کے میں نے اُس سے مانگا تھا ہیر ۔۔
آپ نے بتایا نہیں اپ دوستی کریں گی میرے ساتھ ۔۔ اور ہم نے تم کو کہا تھا کے ہمارے گھر والے مار دے گے تمھیں ۔۔
اور میں نے اپ کو کہا تھا کے منظور ہے۔۔۔ ہیر ایک پل کے لیے خاموش ہو گئی ۔۔
اس نے کوئی میسیج نہیں کیا تو وہ ایک بار پھر بولا ۔۔ اس بار اس نے کچھ ایسا لکھا تھا کے ہیر کو سمجھ نہیں
ائی اس کو لعنت دے یا پھر اس کی بات پر ہنسے ۔۔
اچھا دوستی نہ کریں شادی کر لیں ۔۔۔
تم پاگل ہو لڑکے ۔۔
جی یہی سمجھ لیں ۔۔۔
ہیر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اس کو کہے کیا ۔۔۔دیکھو فضول میں تنگ نہ کرو ۔۔
دیکھیں میں اپ کو تنگ نہیں کر رہا نہ ہی میں ایسا ویسا لڑکا ہوں جو آپ کو تنگ کرے گا ۔۔دیکھیں آپ ہاں
کر دیں میں رشتا لے کر اوں گا ۔۔ ہیر کے لیے اب
مشکل ہو رہا تھا اور کوئی بات سننا ۔۔ وہ کون تھا اخر ۔۔
اُس کو تو صحیح سے جانتی بھی نہیں تھی یہ اور شادی کے لیے مان جائے ۔۔ دیکھو لڑکے ۔۔ تم جانتے نہیں
ہو ہمارے بابا کو ۔۔ وہ تمھیں مار کے تمھاری لاش غائب کر دیں گے ۔۔
اور پھر تمھارے گھر والے ڈھونڈتے رہ جائے گے ۔۔۔ ہیر نے اس کو ڈرانے کی کوشش کی ۔۔
مجھے کوئی نہیں ڈھونڈے گا ہیر ۔۔
کیوں کیسی کو خیال نہیں کیا تمھارا ۔۔ ؟
نہیں کوئی ہے ہی نہیں ڈھونڈنے والا
بس میری ماں ہے اور وہ مجھے کہاں ہی ڈھونڈے گی ۔۔ وہ خود بیمار رہتی ہیں ۔۔
ہیر کو اس کے لیے برا لگا ہاں تو پھر اپنی اماں کا خیال کرو ۔۔
اور میرا پیچھا چھوڑو ۔۔
نہیں ۔۔ دیکھیں آپ کو ابھی جواب نہیں دینا تو کوئی بات نہیں جب مرضی جواب دے دیں ۔۔
میں انتظار کر لیتا ہوں ۔۔
پھر آخری سانس تک انتظار ہی کرتے رہو گے
مجھے منظور ہے ۔۔ ہیر حیران تھی ۔۔ وہ کیا چیز تھا ۔۔ ہیر کو لگ رہا تھا اس کا ذہنی توازن خراب ہے ۔۔۔ دیکھیں میں نہیں جانتا میں کیا کر رہا ہوں یہ صحیح ہے کے نہیں میں نہیں جانتا ۔۔ لیکن آپ کے لیے جان سے جانے کو دل کرتا ہے ۔۔
تم دماغ سے پیدل ہو گائے ہو
میں نے کبھی سوچا نہیں تھا میرے جیسا مغرور لڑکا کیسی لڑکی کی اگے جُھک جائے گا ۔۔ ہیر لیکن وہ آپ ہیں ۔۔ میں آپ سے محبت کا اقرار نہیں کر رہا کیوں کے میں نہیں جانتا محبت کیسی ہوتی ہے ۔۔ لیکن جب سے آپ کو دیکھا ہے کچھ اور دیکھنے کو دل نہیں کرتا ۔۔ جب سے آپ کو دیکھا ہے اپ کے علاوہ کچھ نظر نہیں اتا ۔۔ اور جب سے آپ کو دیکھا ہے ۔۔ میں بے بس ہو گیا ہوں
ہیر حیران تھی ۔۔ جس کو اس سے محبت نہیں تھی
اُس نے اقرار کر دیا تھا ۔۔ اور ایک یہ لڑکا ہے جو نہ
اقرار کر رہا تھا نہ اظہار کر رہا تھا وہ نہ جانے کیا کہہ رہا تھا ۔۔ ہیر حیران تھی ۔۔
دیکھو میری جان چھوڑ دو ۔۔
ٹھیک ہے میں دوبارہ اپ سے بات نہیں کرو گا ۔۔ایک بار کہہ دے کے میں اپ سے بات نہیں کروں۔۔
ایک بار کہہ دیں کے میں آپ کی نظروں کے سامنے نہ اوں ۔۔ وعدہ کرتا ہوں اُس کے بعد آپ کو نظر آگیا تو آنکھیں اٹھا کر آپ کو نہیں دیکھوں گا ۔۔

ہاں میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتی ۔۔ میں تمھیں دیکھنا بھی نہیں چاہتی ۔۔ دوبارہ مجھے میسیج نہیں کرنا
ہیر نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا تھا ۔۔ اور اپنے کمرے میں بیٹھا زر مان پتھر کا بت بن گیا تھا ۔۔
کیا عورت اتنی ظلم ہوتی ہے ۔۔ اس نے کتنی اُمید سے ہیر کو یہ کہہ تھا کے شاید ہیر ایسا کچھ نہیں کہے گی ۔۔ لیکن اس نے تو اس کو فورن کہہ دیا تھا ۔۔ زر مان نے ہاتھ میں پکڑا فون پوری قوت سے دیوار میں
دے مارا تھا ۔۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا ۔۔

یہ رات کا وقت تھا ۔۔ ہیر کی انکھوں سے نیند بہت دور تھی کیوں کے انکھوں میں کیسی اور کا چہرہ بار بار ا رہا تھا ۔۔ کروٹیں لیتے رہنے کے بعد وہ تنگ ا ک اٹھ کر بیٹھ گئی بالوں کو پونی میں باندھتے وہ سکون سے بیٹھ کر سوچنے لگی ۔۔۔ وہ لڑکا تھا کون جو اُس کے بارے میں یہ سوچ رہی تھی ۔۔ کچھ لگتا بھی نہیں تھا اس کا پھر کیوں اس کو اب بُرا لگ رہا تھا ۔۔ اُس کے ساتھ غصے میں بولنا ۔۔ اس کے
دل کو جلن ہو رہی تھی ۔۔ جس طرح اس نے بات کی تھی زر مان سے ۔۔ اس کی آنکھیں بھگنے لگی ۔۔ میں ۔کبھی ۔ک۔۔ کیسی س۔سے محبت نہیں کرو گی اب ۔۔ م۔۔میں اب کیسی کی جان کو ۔۔ مشکل میں نہیں ڈالو گی ۔۔ نہ اپنی نہ زر مان کی لیکن دل میں ابھی بھی اس کا خیال تھا ۔۔ کیسے اُس نے اس نے سامنے اقرار کیا ۔۔ کیسے اُس نے امید لے کے اس کو اپنے دل کی بات بتائی اور اس نے مانا کر دیا ۔۔ لیکن وہ مرنا نہیں چاہتی تھی نہ ہی وہ زر مان کو مروانا چاہتی تھی اس کا بھائی تو ویسے ہی اس سے بہت ناراض تھا وہ کوئی غلطی نہیں کرے گی اس نے سوچ کر رکھا تھا ۔۔ اس کو اس پنجرے میں رہنا تھا ۔۔ اس کی عادت ڈالنی تھی ۔۔۔ محبت ہونے میں ایک پل لگتا ہے ۔۔ پہلے اس نے محبت نہیں کی تھی بس دل لگی کی تھی ۔۔ تب ہی دل لگی نفرت میں بدل گئی محبت کرنے والے
شخص سے کبھی نفرت نہیں ہو سکتی محبت ہونے میں ایک پل لگتا ہے ۔۔ اور شاید زر مان
کو ایک پل لگا تھا محبت ہونے میں ۔۔ اور شاید اس کو بھی ایک پل لگنا تھا ۔۔
اپنے دل کو ہلکا کرنے کے بعد وہ سو گئی تھی کی کچھ اور کرنے کو تھا نہیں ۔۔ اور وہ کب تک روتی رہتی ۔۔

اس کو صبح یونیورسٹی نہیں جانا تھا۔۔ صبح یونیورسٹیز سے اف تھا اس لیے جلدی اٹھنے کی
کوئی فکر نہیں تھی۔۔۔ یہ صبح فجر کا وقت تھا ۔۔ زر مان نماز پڑھ چکا تھا بس اب جائے نماز پر بیٹھا انگلی سے لکیریں کھینچ رہا تھا جائے نماز پر۔۔۔ وہ اکثر دعا نہیں کرتا تھا نماز کے بعد ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ ۔۔
کبھی کبھی کچھ نہ بھی کہو تو اللہ تو خاموشی کو بھی پڑ لیتے ہیں ۔۔ بس اس لیے زر مان کچھ نہیں کہتا تھا ۔۔
لیکن اج اس کا دل تھا باتیں کرنے کا ۔۔۔ اللہ جی ۔۔ اس نے جائے نماز پر لکیریں کھینچتے ہوئے کہا ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے نہ میرے دل میں کیا ہے ۔۔ اپ تو سب جانتے ہیں ۔۔ لیکن تھوڑی دیر کے لیے میری بات سن لیں ۔۔ اپ کو پتہ ہے کچھ دن پہلے ایک لڑکی سے ملا تھا میں ۔۔۔
وہ بہت اچھی لگی مجھے پتہ نہیں کیوں میں نہیں جانتا پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تو پھر اب کیوں۔۔۔؟
وہ سوال کر رہا تھا اور جواب بھی ا رہا تھا بس سنائی نہیں دے رہا تھا محسوس ہو رہا تھا اس کو یقین تھا
کے اللہ اس کو جواب دے رہے تھے م۔مجھے پتہ ہے اپ تو تقدیر بدلنے پر قادر ہیں ۔۔ تو
میرے نصیب میں اُن کو لکھ دیں ۔۔۔ آپ کے علاوہ میری سننے والا کوئی نہیں ہے اپ کے
علاوہ میرے دل کا مسئلہ کوئی حل نہیں کر سکتا ۔۔ ایسا لگتا ہے اُن کے بنا نہیں رہ سکوں گا میں
اُن کو میرے مقدر میں لکھ دیں کے دنیا رشک کریں مجھ پر۔۔ اور میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔
بہت زیادہ ۔۔ کیوں کے مجھے مشکل وقت میں سنبھالنے والے صرف اپ تھے ہیں ُا ہمیشہ رہیں گے
میں آپ کا شکر ادا کرنا کبھی نہیں بھولوں گا وہ جائے نماز سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
جائے نماز طے کرنے کی تو ضرورت نہیں تھی۔۔ یہ اس کے کمرے کا وہی علاقہ تھا جہاں پر جائے
نماز ہمیشہ پڑا رہتا تھا ۔۔ اور سائڈ ٹیبل پر قرآن بھی رکھا ہوا تھا ۔۔۔ پاس میں ایک تسبیح بھی پڑھی تھی۔۔ وہ اکثر تسبیح پڑھتا تھا۔۔۔ کبھی جائے نماز پر بیٹھ کر تو کبھی گھر کے پچھلی طرف بنے چھوٹے سے
گارڈن میں ا کر بیٹھ جاتا تھا اور پڑتا تھا اس کو وہ تنہائی پسند تھی ۔۔ جہاں بس زر مان راجپوت
اور اس کا اللہ ہو ۔۔۔

شام کو ہیر نے حیات کو اپنی طرف بولا لیا تھا ۔۔ وہ شام سے پہلے ہی اگئی تھی ۔۔ حیات کو سب ہیر
کے گھر والے جانتے تھے ۔۔ اور حیات اکثر ہیر کے گھر اتی تھی ۔۔۔ حیات ہیر کے کمرے میں بیٹھی تھی اور ہیر اس کی عزت کرنے میں مصروف تھی کے زر مان کو اس
کا نمبر کیوں دیا اور حیات بس چُپ کر کے اپنی عزت کروا رہی تھی ۔۔ ہیر کہاں کیسی کو بولنے کا موقع دیتی تھی ۔۔
بغیرت انسان ۔۔تم نے ہمارانمبر اُس کو کیوں دیا اور دے دیا تھا تو ہم کو فون کر کے بتا تو دیتی کم سے
کم ہم اس کا میسج ہی نہ دیکھتی۔۔
زرمان بھائی نے مجھ سے مانگا تو میں نے دے دیا اب اس میں کیا برائی ہے۔۔ مجھے لگتا ہے دال میں کچھ
کالا ہے ۔۔ کیوں ہیر ۔۔ ؟
دفاع ہو جاؤ کچھ کالا نہیں ہے ہماری طرف سے دال میں ہاں اُس لڑکے کی طرف سے پوری دال کلی ہے
ہم تم کو بتا رہی ہے حیات اس کی بات پر ہنسی ۔۔ مطلب وہ تُجھے پسند
کرتے ہیں کیا ۔۔؟
ن۔۔ نہیں ۔۔ ع۔۔ ایسا کب کہا ہم نے ہیر نے بات ہی پلٹ دی تھی
نہیں مجھے لگا شاید ۔۔ تم کو غلط لگتا ہے تم پنجابی لوگوں کا دماغ خراب ہی ہوتا ہے ۔۔
ہاں جی جیسے اپ پٹھانوں کا دماغ بہت صحیح ہوتا ہے ۔۔
ذرا سی بات نہیں ہوتی پوری پٹھان کوم ایک پٹھان کو بچانے آجاتی ہے ۔۔
ہاں تو کیوں نہ بچائیں ہم پٹھان ایک پٹھان کو ۔۔ اخیر ہم بھائی بھائی ہوتا ہے
اچھا جاؤ میرے لیے پانی لےاو ۔۔ حیات بولی ۔۔
تم مہمان ہو یا نئی نویلی دلہن جو ہم تمہارے لیے پانی لے کر ائے گی خود اٹھو اور جا کر لے کر اؤ۔۔
ہیر نے فورا کہا تو حیات منہ بناتی کمرے سے باہر چلی گئی ابھی وہ کمرے سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے لاؤنج میں اس نے کسی لڑکے کو بیٹھے ہوئے دیکھا تھا اور اس کی نظر بھی حیات پر گئی تھی ۔۔ تو وہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔ السلام علیکم ۔۔ حیات نے اس کو کہتے سونا تھا
اور اس کی شخصیت اور لباس دیکھ کر حیات حیران تھی تو حیات بس گردن ہلا کر فورا واپس کمرے میں بھاگی تھی پانی لینا تو یاد ہی نہیں رہا تھا۔۔
اوئے ہیر باہر کون بیٹھا ہے کوئی پولیس والا ہے
وہ یوسف لالہ ہوگا پاگل ہیر اٹھتے ہوئے بولی
یہ یوسف کون ہے ۔۔؟
یہ دلاور بھائی کا بچپن کا دوست ہے۔۔ اور سب کا لاڈلا بھی ہے ۔۔
ہیر حیات کا ہاتھ پکڑ کے باہر لے ائی ۔۔
السلام علیکم بھائی ۔۔ ہیر کو دیکھتے ہوئے یوسف ایک دم سے کھڑا ہو گیا ہیر پاس گئی تو یوسف نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا کیا حال ہے چھوٹی گڑیا ۔۔ کیسی ہے ہماری بہن
ہم ایک دم ٹھیک ہے اپ کیسے ہو ۔۔
میں بھی ٹھیک اچھا بھائی یہ ہماری دوست ہے حیات ۔۔
نام تو سنا ہے نہ اپ نے ۔۔
ہاں نام تو سنا ہے۔۔ ۔۔۔ یوسف نے ایک دو بار اس کا نام سن رکھا تھا جب
وہ ان کے گھر ایا تھا۔
حیات تو بس اس کا یونی فارم دیکھ کر حیران تھی
ویسے بہت ڈرپوک معلوم ہوتی ہیں تمہاری دوست گڑیا
اب اتنے بھی برے دن نہیں ائے کہ میں اپ سے ڈرنے لگ جاؤں حیات یوسف کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
ویسے مجھے دیکھ کر تو بہت لوگ ڈرتے ہیں ۔۔
خیر اپ کو ڈرنا نہیں چاہیے ۔۔ اپ کو کچھ نہیں کہوں
گا میں ۔۔۔ یوسف خوبصورت تھا ۔۔ سفید رنگت کالے بال ۔۔ اور گہرے بھورے رنگ کی آنکھیں۔۔۔ اچھا بھائی اپ بیٹھو ہم پنجابی انداز کی چائی بنا کر لیتی
ہوں اپ کے لیے یوسف کے لہجے سے ہی معلوم
ہوتا تھا کہ وہ پٹھان تو نہیں تھا ۔۔ مطلب وہ پنجابی تھا ۔۔اس کی تو ضرورت ہے گڑیا ۔۔ تم لوگوں کے علاقے میں ایک کیس تھا اُس کے لیے ایا تھا سوچا یہاں بھی چکر لگا کر چلا جاؤں لیکن مجھے کیا پتہ تھا تمھارے گھر میں حُسن پہلے سے مہمان بن کر ایا ہے
اس نے حیات کو دیکھتے ہوئے کہا تو حیات نے اس کو گھور کر دیکھا ۔۔
لیکن دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھی کہ کسی نے تو اس کی تعریف کی۔۔
آپ کو غلط فہمی ہے بھائی۔۔ یہ حسن نہیں ہے اس
کو تو کچرے کے ڈبے سے اٹھا کے لائے تھے ہیر بولی تو حیات کا بس نہیں چلا کے وہ ہیر کے بال
نوچ لے دل بھر کے اس نے دل میں گلیوں سے نوازا تھا ہیر کو ۔۔ اور ہیر کو پتہ تھا ہیر اس کو دیکھ کر ہلکا ہلکا ہنس رہی تھی ۔۔
چلوٹھیک ہے میں چلتا ہوں تفتیش تو میں نے کر لی تھی کیس کی ۔۔۔
اب دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔۔ یوسف بولتا چائی کا آخری گھونٹ پیتا اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔
اچھا بھائی اپ دلاور بھائی سے ملے کے نہیں ۔۔
اور بابا سے ملے ۔۔ ؟
ہاں گڑیا میں انکل سے بھی مل لیا تھا اور دلاور سے بھی مل لیا ہے۔۔
چلتا ہو اب ۔۔ اس نے ہیر کو دیکھتے ہوئے کہا پھر اس نے حیات کو دیکھا ۔۔
اللہ حافظ حیات بی بی۔۔ وہ مسکرا کر بولا جیسے اس کو تنگ کر رہا ہو اور چلا گیا ۔۔
اوئے تیرا بھائی پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔۔
ہاں وہ بہت کم اتے ہیں ۔۔
اچھا ویسے پوسٹ کیا ہے اس کی۔۔
اے ایس پی ہیں یوسف بھائی ۔۔
واہ اتنی اونچی پوسٹ پر ہے تو خود کیوں ایا کیس کی تفتیش کرنے۔۔ تو نہیں سمجھی حیات کیس ہوابھی
کیسی بڑے گھر میں ہو گا اس لیے ہی ائے ہوں گے ۔۔ نہیں تو وہ نہیں اتے چھوٹے موٹے کیس پر ۔۔۔
اچھا ۔۔ ویسے دیکھتا تو اچھا ہے نہیں تو اونچی پوسٹ والے کھا کھا کر سانڈ بنے ہوتے ہیں ۔۔ یہ تو فٹ ہے ۔۔ ہاں کیوں کے غریبوں کا مال نہیں کھاتا نہ اور امیروں کو چھوڑتا نہیں ہے
ہیر بولی تو حیات نے بس ہیر کو دیکھا ۔۔۔

یہ اگلے دن کا وقت تھا ہیر نے سوچ کر رکھا تھا کے وہ زر مان سے معافی مانگ لے گی کل والی بات پر ۔۔۔ ہیر کو لگا تھا کے وہ یونی کے گارڈن میں یا پھر اڈیٹوریم میں نظر آجائے گا لیکن
وہ اس کو نظر نہیں آیا۔۔۔ ہیر کی کلس شروع ہو گئی تھی تو وہ کلس میں اگئی لیکن کلس میں ایک نظر دیکھا وہ کلس میں بھی نہیں تھا ۔۔ تو پھر وہ اج ایا ہی نہیں تھا کیا یونی ؟
ہیر کو اب سچ میں برا لگنے لگا تھا ۔۔ اخر وہ کیوں نہیں ایا تھا اتنی بڑی بات تو نہیں تھی کے وہ یونی نہ اتا۔۔
دوپہر کو فری پیریڈ میں وہ گارڈن میں ا کر بیٹھ گئی ابھی وہ بس
گارڈن میں بیٹھے لوگوں پر نظر دوڑا رہی تھی۔۔ جب اس نے
دور درخت کے پاس کھڑے زر مان کو دیکھا۔۔۔ وہ اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اور ہیر کے دیکھنے پر اُس نے
نظر گھوما لی ۔۔
ہیر اُس کو دیکھ کر فورا اٹھ کر اس کی طرف گئی تھی ۔۔۔
زر مان ۔۔۔ ؟اس نے پکارا تھا تو اس نے اس کو دیکھا ۔۔ زر مان کی آنکھیں دیکھنے والی تھی ہیر ایک پل کے لیے سکت ہوئی تھی ۔۔ دوسری چیز جو اس نے زر مان کے وجود میں محسوس کی تھی وہ اس کے پرفیوم کی خوشبو تھی۔۔ وہ بہت خوبصورت خوشبو تھی ہر کیسی کو اپنی طرف کھینچنے والی خوشبو۔۔
وہ بہت سادہ سے حلیے میں تھا سفید شلوار قمیض پہنے آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے
اور وہ اس حلیے میں بھی قیامت لگ رہا تھا ۔۔
م۔۔ معافی چاہتا ہوں ۔۔ میں اپ کے سامنے نہیں آیا۔۔ اپ خود ائی ہیں ۔۔۔
اس نے زر مان کو کہتے سونا ۔۔
کیا سچ میں ناراض ہو ہم سے ۔۔
نہیں میں اپ سے ناراض نہیں ہوں ۔۔ میں کون ہوتا ہوں آپ سے ناراض ہونے والا ۔۔
تو پھر صبح سے کہاں پر تھے کلس میں بھی نہیں دیکھا ہم نے تم کو ۔۔؟
میں نے کلس نہیں لی اج کوئی بھی ۔۔
کلس نہیں لی تو پھر یونیورسٹی میں کیا کر رہے ہو پورے دن سے۔۔۔ کچھ بھی نہیں اپ کو دیکھ رہا ہوں بس ۔۔ کبھی اپ اڈیٹوریم میں جاتی ہیں کبھی گارڈن میں ۔۔۔ کبھی یونی کی پچھلی طرف
مطلب تم نظر رکھ رہے ہو ۔۔
دیکھیں غلط نہیں سمجھے ۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کر رہا اور میں نے سامنے انے سے خود کو روکا ہے اپ کو دیکھنے سے نہیں ۔۔ ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔
اچھا کیا چاہتے ہو تم کچھ نہیں بس اپ کو ۔۔۔
لیکن تم جانتے نہیں ہو تم اپنی جان سے بھی جاؤ گے اور ہم کو بھی مرواؤ گے زر مان ۔۔
دیکھیں میں نے یہ تو نہیں کہا کے محبت ہی کر لیں میرے ساتھ ۔۔ بس میری سامنے تو رہیں کے اپ کا دیدار تو میسر ہو مجھے۔۔۔ میں ایسا نہیں تھا کے کیسی لڑکی کے اگے منتیں کرتا ۔۔ لیکن میں بے بس ہوں بس دل کرتا ہے اپ سامنے بیٹھی رہیں ۔۔ میں جانتا ہوں شاید آپ اس لیے نہیں مان رہی شادی کے
لیے کیوں کے میں ایک عام سے گھرانے کا لڑکا ہوں اور اپ کامران خان کی بیٹی ہیں ۔۔
ہیر کو حیرت ہوئی اس کی بات پر ۔۔ مطلب تم کو لگتا ہے ہم میں غرور ہے ۔۔ اس لیے ہم تم
سے شادی نہیں کر رہی ۔۔
تو کیا غرور نہیں ہے آپ کو ۔۔؟
نہیں ہرگز نہیں ۔۔ غرور نہیں ہے بس غلطی دوبارہ دہرانا نہیں چاہتی ۔۔۔
ک۔۔ کیسی غلطی ۔۔
دوبارہ کیسی سے محبت کرنے کی غلطی
اس کی بات پر زر مان کا سانس تھم گیا ۔۔ک۔کیا۔۔ا۔اپ ک۔کیسی سے محبت۔۔کرتی ہیں ۔۔ ؟
نہیں ۔۔ کرتی تھی ۔۔ دھوکا کھانے کے بعد اب نہیں کرتی ۔۔
زر مان کا رکا سانس بحال ہو گیا ۔۔ اپ کو لگتا ہے میں اپ کو چھوڑ دوں گا ۔۔ ؟
تو کیا نہیں چھوڑو گے ۔۔!
نہیں کبھی نہیں مرتے دم تک نہیں ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔ وہ چادر کے اندر سے مسکرائی تھی ۔۔
مسکرانے پر اس کی آنکھیں چھوٹی ہوئی تھی تو زر مان بھی مسکرا اٹھا ۔۔
ایسے اپ خوبصورت لگتی ہیں ۔۔۔؟
کیسے ؟
ایسے چادر میں ۔۔ دنیا کی نظر سے اوجھل میرے نظروں
کے سامنے چہرہ چھپائے اور آنکھیں دکھائے۔۔
اچھا اور ایک انسان نے زندگی میں مجھے کہا تھا کے میں بہت بدصورت ہوں جب کے اس نے بھی میرا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔ زر مان نے اس کی بات پر آنکھیں اٹھا کر ہیر کی آنکھیں میں دیکھا ۔۔
جس نے بھی اپ کو یہ کہا ہے غلط کہا ہے کوئی بھی لڑکی بد صورت نہیں ہوتی ہیر بس دیکھنے والے کی
نظر پاک ہونی چاہیے۔۔اگر دیکھنے والے کی نظر خراب ہوگی تو اسے پوری دنیا بد صورت لگے گی
ہم کو جانا ہے ابھی ہم جاتی ہے گھر ۔۔۔ وہ بولی تھی کے دور سے اس نے حیات کو اتے دیکھا تھا ۔۔
تم گئی نہیں ابھی تک گھر ۔۔حیات اتے ہی بولی
ہاں جانا تو ہے بس جانے ولی تھی ۔۔ پھر حیات نے زر مان کو دیکھا ۔۔
ہیلو زر مان بھائی کیسے ہیں آپ ۔۔
میں۔۔ اب ٹھیک ہوں اُس نے ہیر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ تم کیسی ہو حیات ۔۔
میں بھی ایک دم ٹھیک ۔۔ اچھا کل ملاقات ہوتی ہے بھائی ابھی جلدی ہے ذرا گھر جانا ہے ۔۔
ٹھیک ہے خدا حافظ زر مان بولتا چل پڑا ہیر اور حیات بھی
چلی گئی

وہ گھر ائی تو اس کی طبیعت نڈھال نڈھال سی ہو رہی تھی۔۔ ویسے بھی صبح سے اس کو ہلکا ہلکا بخار تھا ۔۔ جھنگ میں ٹھنڈک برتی ہی جا رہی تھی ۔۔۔ اور بارش کا تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کب برس جائے ۔۔۔
وہ کھانا کھا کر کمرے میں آ کر بیٹھ گئی تھی اس کا ارادہ فلحل ارام کرنے کا تھا جب اس کے کمرے کا
دروازہ کیسی نے بجایا تھا۔۔۔
کون ہے ۔۔
ہیر میں ہوں ۔۔۔ ریحان کی اواز پر اس نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔
تم سونے والی تھی وہ اندر اتے ہوئے بولا
ہاں بس ہمارا سر بہت درد کر رہا ہے۔۔۔
ریحان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کو بخار تھا ۔۔
تمہاری تو طبیعت بہت خراب ہے ہیر۔۔
نہیں زیادہ خراب نہیں ہے۔۔
تم کو اج اماں نے منع کیا تھا کہ یونیورسٹی نہ جانا۔۔
ہاں لیکن اج ضروری لیکچر تھا اگر وہ نہ لیتی تو کل پریشانی ہوتی۔۔۔
چلو یہ بھی ٹھیک ہے چلو اٹھو چلتے ہیں۔۔
کہاں چلتے ہیں ریحان کے بیڈ سے اٹھنے پر ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔۔
ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں اور کہاں۔۔۔
نہیں ہم ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔
ایسے ٹھیک نہیں ہوگی تمہیں نہیں پتہ کیا سردی کتنی بڑھتی جا رہی ہے مجھے نہیں لگتا کہ تم ایسے ٹھیک ہوگی۔۔۔ ایک بار ڈاکٹر کے پاس جانا چائیے پھر ٹھیک ہو جاؤ گی ۔۔۔۔
ریحان کے بہت ضد کرنے پر اس نے سر پے لی چادر کا
ایک کونا پکڑا اور چہرے کے گرد کر لیا ٹھیک ہے چلتے ہیں لیکن ایک شرط پر یا تو تم ہم کو باہر سے
ائس کریم کھلاؤ گے یا پھر کافی پلاؤ گے
ٹھیک ہے چلو اب ۔۔۔ وہ گھر کی اکلوتی بیٹی تھی اور وہ سب کی ہی لاڈلی تھی ۔۔۔ اور ریحان کی تو وہ کچھ زیادہ ہی لاڈلی تھی۔۔ ریحان اس کی کوئی بات نہیں ٹال سکتا تھا۔۔
وہ اس کو لے کر کمرے سے باہر ایا تو سامنے کامران بیٹھے ہوئے تھے۔۔ یہ تم دونوں کہاں پر جا رہے ہو
کچھ نہیں بابا ہیر کو تھوڑا سا بخار ہے میں نے سوچا ڈاکٹر کو
چیک کروا لیتا ہوں ایک بار۔۔۔
ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔
جب صوفے پر بیٹھا دلاور خان ایک دم بولا۔۔
اس کی کیا ضرورت ہے۔۔اماں کو کہو اس کو کوئی دوائی دے
خود ہی ٹھیک ہو جائے گی گھر میں۔۔۔
نہیں بھائی ایسے ٹھیک نہیں ہوگی کیا اپ نہیں جانتے ۔۔۔ اس کو گھر کی دعائیں اثر نہیں کرتی ریحان نے اپنی بہن کی سائیڈ لی تھی۔۔۔ ایک بار ڈاکٹر سے ہو لے گی تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو
جائے گی نہیں تو اپ بھی جانتے ہیں وہ زیادہ بیمار پڑ جاتی ہے۔۔۔
ہاں تو پورا پورا دن باہر رہا کرے گی تو بیمار ہی پڑے گی نا اتنی سردی ہے ہم نے تو کہا تھا کہ یہ پڑھائی کرنے کا کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ دلاور اب بات کا رخ ہی بدل رہا تھا۔۔ ریحان کچھ کہے بغیر ہیر کو لے کر باہر چلا گیا۔۔ اور گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی جب ہیر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
تمہیں کیا ضرورت تھی دلاور بھائی کو جواب دینے کی تمہیں نہیں پتہ کیا بعد میں تمہاری ہی جھاڑ ہوگی
کوئی جھاڑ نہیں ہوگی میری بابا وہیں پہ تھے۔۔بابا نے دیکھا خود وہ جان بوجھ کر ایسے کرتا ہے۔۔
اس کو اپنی انا بہت پیاری ہے ریحان بولا ۔۔
میں جانتی ہوں ان کو اپنی انا پیاری ہے ریحان لیکن تم ان سے چھوٹے ہو۔۔ تمھیں ایسا جواب نہیں دینے چاہیے۔۔
محترمہ میں نے کوئی جواب نہیں دیا اب میرا دماغ کھانا بند کرو۔۔ گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی ۔۔
اور اچانک بارش برسنے لگی ۔۔۔۔ وہ اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا چیک اپ کروانے کے
بعد وہ ایک کیفے میں گئے تھے۔۔وہاں پر انہوں نے کافی پی تھی۔۔ اور پھر وہ دونوں گھر واپس اگئے تھے۔۔۔ اور پھر میڈیسن کھا کے ہیر ارام کرنے کے لیے لیٹ گئی تھی۔۔۔ جب ہیر کے گھر والوں کو پتہ چلا تھا کہ وہ دلاور خان کے دوست کو پسند کرتی ہے تو سب سے بڑا بات کا بتنگگر
خود دلاور خان نے بنایا تھا۔۔ جبکہ ریحان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ریحان پٹھان ہونے کے باوجود بھی دلاور خان سے مختلف تھا۔۔۔

بابا ہیر کے گھر والوں کی طرف سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی کیا ۔۔
نہیں قاسم ایسی بات نہیں ہے۔۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ ہی ہیر کی شادی کریں گے لیکن کامران خان کا کہنا ہے کہ فی الحال ہیر پڑ رہی ہے۔۔۔
بابا لیکن منگنی تو کر سکتے تھے نا وہ۔۔
ہاں لیکن ان کا کہنا ہے کہ منگنی کرنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ اور بات بھی صحیح ہے کچھ وقت کی بات ہے
کچھ وقت کی بات نہیں ہے بابا اچھا خاصا وقت ہے
کچھ نہیں ہوتا قاسم۔۔
وہ اس وقت سٹنگ ایریا میں بیٹھا اپنے بابا سے بات کر رہا تھا۔۔۔ اس کو ہیر سچ میں پسند تھی ۔۔ لیکن ہیر کو یہ پسند نہیں تھا اور یہ بات قاسم اچھے سے جانتا تھا ۔۔۔ لیکن پھر بھی دل پر کس کی چلتی ہے۔۔۔

وہ ایک کیس کی تفتیش کر کے واپس پولیس اسٹیشن میں ایا تھا رات کا وقت ہو رہا تھا کچھ دیر میں اب اس کو گھر واپس جانا تھا۔۔۔ اپنے افس میں بیٹھے ہوئے پورے دن کا خیال سوچتے ہوئے
وہ مسکرا اٹھا۔۔ اس کو حیات یاد ائی تھی ۔۔ عجیب لڑکی تھی ۔۔ سوچتے ہوئے اس نے ایک کپ کافی
کا منگوایا تھا۔۔۔ کچھ دیر بعد کافی اگئی تھی اور ایک کانسٹیبل بھی اندر ایا تھا۔۔۔
سر کیا بنا کیس کا۔۔۔ کیس تو ٹھیک چل رہا ہے یاسر لیکن درمیان میں وہ اصغر کا بیٹا جو ہے نا وہ گربار کر رہا ہے ۔۔۔
سر یہ اصغر کے بیٹے پر ہی کیس ہوا تھا نا۔۔ ہاں وہی ہے یہ ۔۔ تو سر اب اس لڑکی کا کیا بنے گا جو قتل
ہوئی تھی۔۔ دیکھتے ہیں یاسر میری پوری کوشش ہے۔۔کہ اصغر کا بیٹا جیل میں جائے۔۔۔
لیکن اس کی پہنچ اوپر تک ہے۔۔ تبھی ابھی تک میں اس کو گرفتار بھی نہیں کر سکا۔۔۔
تو سر اب اپ کیا کریں گے۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تم نے یہ کہاوت تو سنی ہوگی جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے۔۔ بس سمجھو میں نے انگلی ٹری کر لی ہے کچھ بھی ہو اس لڑکی کو انصاف دلوا کر چھوڑوں گا ان امیر زادوں کو غریبوں کا خیال ہی نہیں ہوتا
وہ اس کے افس میں جاب کرتی تھی۔۔ اور وہاں کے لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ لڑکا کیا نام ہے اُس کا ۔۔۔
سر حماد۔۔۔
ہاں حماد اس کے بارے میں وہاں کام کرنے والے لوگوں نے بتایا تھا۔۔ کہ وہ اس لڑکی کو بہت تنگ کرتا تھا۔۔ اور دوستی کے لیے کہتا تھا لیکن وہ لڑکی نہیں مانتی تھی۔۔۔
بہت کوشش کے بعد جب وہ نہیں مانی تو سننے میں ایا ہے کہ ایک رات جب وہ اپنے افس سے جانے لگی تو سب کو حماد نے بھیج دیا تھا جب کے وہ لڑکی رہ گئی تھی اور اس کو یہ کہہ کر روکا تھا کے اُس کا ابھی تھوڑا کام رہتا ہے وہ کر کے جائے وہ رک گئی تھی اور یہ اس کی غلطی تھی اس کو نہیں رکنا چاہیے تھا یاسر۔۔ اُس وقت حماد نے اس کو مارا تھا اُس کا گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا اُس کے گلے پر بری طرح
رسی کے نشان تھے سب کو پتہ ہے کہ حماد نے قتل کیا ہے سارے ثبوت اس کی طرف جا رہے ہیں ۔۔ ایک وہ ہی آفس میں تھا اور ایک وہ لڑکی ۔۔۔
صبح کو جب سب ائے تو اس کی لاش کو اُس کی ہی چیئر پر بیٹھا دیا گیا تھا۔۔۔
اور سر یہ اپ کو کس نے بتایا کہ وہ لڑکا اس لڑکی کو تنگ کرتا تھا ۔۔
کوئی بتانے کے لیے تیار نہیں تھا یاسر ۔۔ میں نے دھمکی دی تھی
کے سب کو جیل میں پھنک دوں گا ۔۔ تو سب بول اٹھے ۔۔۔
تو سر اب اپ کا ارادہ کیا ہے ۔۔ اب کیا کریں گے اپ ۔۔
یوسف کے چہرے پر منی خیز مسکراہٹ ائی ۔۔ یاسر ۔۔
تمھیں کیا لگتا میں ایک قاتل کو جانے دوں گا۔۔
نہیں سر ہرگز نہیں ۔۔ اتنے وقت سے آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ نے اسے لوگوں کو نہیں چھوڑا۔۔
ہاں تو بس پھر یاسر اس کو بھی نہیں چھوڑوں گا لیکن کل صبح اصغر کے گھر جاؤں گا
تم اپوائنٹمنٹ کرواؤ۔۔۔
سر میں اُس کے سیکرٹری کو کہہ کر رکھوا دوں گا ملکات اپ کی ۔۔
بس یہی صحیح رہے گا ۔۔۔ یوسف کہتا اپنی چیئر سے اُٹھ
کر کھڑا ہو گیا ۔۔ پھر اس نے ٹیبل پر رکھا فون اٹھایا ۔۔ اور باہر کی طرف نکل گیا ۔۔

یوسف اپنے گھر میں اکیلے رہتا تھا ۔۔ اس کے ماں باپ الگ ہو گئے تھے ۔۔ اور وہ دونوں میں سے کسی کے ساتھ نہیں رہتا تھا ۔۔۔ اس کی ماں نے بھی دوسری شادی کر لی تھی اور باپ نے بھی
اور اس کو پسند نہیں تھا ان دونوں میں سے کسی کے بھی گھر جانا ۔۔۔ اس کا ایک چھوٹا سا فلٹ تھا ۔۔ جس میں دو کمرے کچن باتھ تھا ۔۔۔ وہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اور کیس
کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کے صبح کیا کرنا ہے ۔۔۔ اگر تو اصغر نے اپنے بیٹے کا گناہ قبول کیا تو وہ جیل جائے گا یا تو عمر قید دیا پھر پھانسی لیکن اگر وہ نہ مانا تو ۔۔۔۔۔؟ اور
اس کے پاس اس بات کا بھی حل تھا ۔۔ اور وہ اس نے تب کرنا تھا جب کچھ نہیں بچنا تھا ۔۔۔

وہ اس وقت اپنے بیڈ پر لیٹا چات کو دیکھ رہا تھا
محبت کرنے والوں کی تو نیند ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔ خیال میں بس ہیر تھی ۔۔۔
خیر نے اس بہت کوشش کی وہ اس کو نا سوچے لیکن ہر کوشش نہ کام تھی ۔۔۔
اور پھر کیسے صبح ہو گئی اس کو خود اندازہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔ نماز کے وقت وہ اٹھا اس نے نماز پڑھی اور دعا کرنے لگا ۔۔ دعا سے فارغ ہو کر اس نے قرآن کھول لیا تھا

سورہ البقرہ : 186
میں تو تمہارے پاس ہی ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے
پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیے کہ
میرے حکموں کو مانے اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ نیک راستہ پائیں

اس کے دل کو سکون سا ملا تھا ۔۔ مطلب وہ اس کی دعائیں سنتا تھا ۔۔ اللہ اس کو سنتا تھا ۔۔اللہ اس کو جانتا تھا ۔۔ وہ اس کے ساتھ تھا ۔۔ اس نے قرآن بند کر کے لبوں سے لگایا اور پھر واپس ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔

دوسری طرف ہیر نے نماز پر لی تھی بس ابھی اپنے لیے کافی بنانے جا رہی تھی ۔۔ اس کی طبیعت پہلے سے بہتر تھی ۔ اب وہ پہلے سے ٹھیک تھی ۔۔ ابھی وہ کافی بنا کر باہر جانے کی لگی تھی کے دلاور کچن میں آگیا تھا ۔۔ کیا کر رہی ہو ۔۔۔ ؟
م۔۔ و۔۔ بھائی ۔میں کافی بنا رہی تھی ۔۔
تو تھوڑا خیال نہیں ایا کے میرے لیے بھی بنا دو۔ لیکن نہیں تمھیں کہاں سے خیال ائے گا ۔۔
تمھارا تو دماغ ہوا میں رہتا ہے نہ ۔۔ چلتا کیا رہتا ہے تمھارے دماغ میں ۔۔
ن۔نہیں۔بھی۔بھائی ۔کچھ نہیں ۔۔
کیا کچھ نہیں کیا سوچتی رہتی ہو ہر وقت ۔۔ بابا سے کہہ کر پڑھائی سے اٹھوا دوں گا ۔۔ ابھی وہ بول ہی
رہا تھا جب کچن میں ریحان آگیا ۔۔
ہیر میری کافی بنائی ہے ۔۔
ہ۔۔ ہاں میں نے بنا دی ہے ۔۔ ہیر کی انکھوں میں اب انسو تھے ۔۔ اور ریحان نے وہ انسو دیکھے تھے ۔۔
دیکھو ذرا ۔۔ ایک بھائی کے لیے کافی بنانا یاد ہے لیکن میں تو کچھ لگتا ہی نہیں ہوں نہ تمھارا
دلاور ایک بار پھر بولا تھا
ہیر کے انسو اب آنکھیں سے گرنا شروع ہو گئے تھے ۔۔
ریحان سے رہا نہیں گیا تو اس نے دلاور کو دیکھا ۔۔ بھائی میں ہمیشہ ہیر کو کہہ کر کافی بنواتا ہوں آپ کو پینی ہے تو اس کو بول دائیں بنا دے ۔۔۔ لیکن یہ بے فضول میں باتیں
سنانے کا کیا مطلب ہے۔۔ اپ ہی مجھے بتائیں وہ اپ سے پوچھے بنا اپ کو کافی بنا دیتی اور اپ پیتے نہ تو کیا کرتی وہ پھر گرم گرم کافی اپنے اوپر ڈال لیتی۔۔ ریحان کے کہنے پر دلاور ایک پل کے لیے خاموش ہو گیا۔۔
ریحان لیکن اس کا پوچھنا تو بنتا ہے نا۔۔
کیا پوچھے اپ سے اپ تو سیدھے موں اس کو جواب
دینا پسند نہیں کرتے اپ کو یہ خیال نہیں اتا کے وہ ہماری بہن ہے۔۔ اُس نے ایسا بھی کیا کر دیا کے اپ اب تک اس طرح بات کرتے ہیں اس سے۔۔۔
دلاور کچھ بولے بغیر ایک پل کے لیے بھی نہیں رکا اور کچن
سے باہر چلا گیا۔۔ ریحان نے ہیر کو دیکھا اس کے انسو اب رخسار پر ارہے تھے۔۔
کچھ نہیں ہوا میری گڑیا کو کیا ہو گیا ہے۔۔ اس طرح تو نہ رو ۔۔ تمھارے بھائی کو کچھ ہوتا ہے جب تم روتی ہوئی تو۔۔۔
ہیر نے آنکھیں اٹھا کر ریحان کو دیکھا ۔۔۔ نہیں روتی
ہاں تو پھر چُپ کرو ۔۔ اور دوبارہ بھائی کچھ کہیں تو بتانا ۔۔ لیکن رونا نہیں ۔۔
ہیر نے ریحان کی بات پر گردن ہلا دی ۔۔۔
میں حیران ہوں ریحان بھائی ۔۔ ایک طرف تم ہو جو کچھ نہیں کہتا ۔۔ دوسری طرف دلاور بھائی ہے جو کچھ نہیں کہیں تو اُن کا گزرا نہیں ہوتا
دیکھو اُن کی باتوں کا بُرا نا منایا کرو اب ہر کوئی ریحان خان تو نہیں ہوتا نہ ۔۔ اس نے ہیر کے سر پر ہلکا سا تھپڑ لگایا ۔۔ تو ہیرہنس پڑی ۔۔

اچھا ابھی ہم کو یونی بھی جانا ہے ۔۔ تم چھوڑ دو گے ہم کو ۔۔
ہاں میں چھوڑ تو دیتا لیکن اج تم کہیں نہیں جا رہی ہیر ۔۔۔
لیکن کیوں۔۔ کیوں کے ایک بار ٹھیک ہو جاؤ صحیح سے۔۔ لیکن میں ٹھیک ہوں ۔۔
نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اج جانے کی ریحان اب بھائی سے ماں
بن گیا تھا ۔۔ تو ہیر خاموش ہو گئی

یاسر نے اصغر سے یوسف کی ملاقات رکھوا دی
تھی ۔۔ اور یوسف اس وقت گھر میں تیار ہو رہا تھا کچھ دیر پہلے ہی یاسر کا فون آیا تھا ۔۔ وہ کمرے سے تیار ہو کے چلتا ہوا لاؤنچ میں ایا اور آستین فولڈ کرتے وہ گاڑی کے پاس آگیا ۔۔ اج اس نے یونیفرم نہیں پہنا تھا اج وہ سفید شرٹ اور سیاہ پینٹ میں تھا ۔۔

گاڑی اس نے اصغر کے عالیشان گھر کے باہر روکی تھی وہ ایک پوش علاقے میں تھا ۔۔ اور شاید یہ گھر سب گھروں سے عالیشان تھا ۔۔۔ اس گھر میں غریبوں کا خون جو لگا تھا ۔۔ گارڈ نے دروازہ کھولا تو وہ گاڑی اندر لے گیا ۔۔ پورچ میں گاڑی روک کر وہ گاڑی سے اُترا ۔۔ گاڑی سے اترتے ہوئے اس کو اصغر کا سیکرٹری نظر اگیا تھا ۔۔ اُس نے اس کو خوشامد کہا اور پھر اس کو ساتھ لے کر اندر
آگیا اور سیٹنگ ایریا میں بیٹھنے کا کہا ۔۔ اور خد اصغر کو بولنے چلا گیا ۔۔۔

وہ اب صوفے پر بیٹھا گھر کا جائزہ لے رہا تھا اور اصغر کے انے کا انتظار کر رہا تھا جب اس کو کسی کے قدموں کی اواز سنائی دی تو اس نے نظر بائیں طرف گھمائی ۔۔ سڑیریوں سے کوئی 26 ۔۔ 27 سالہ لڑکا لڑکھڑاتے قدموں سے نیچے ا رہا تھا وہ شاید نشے میں تھا یا پھر شاید نیند سے اٹھا تھا ۔۔
نیچے اترا اور اس کو دیکھ کر اس تک آگیا ۔۔۔ یوسف ۔۔ تم۔۔ہمارے گھر میں کیا کر رہے ہو
وہ آنکھیں مسلتا بولا ۔۔
یوسف مسکرایا ۔۔ لگتا ہے حماد بہت پرسکون نیند سوئے ہوئے رات کو ۔۔
تمھیں اس سے کیا ۔۔ میرے گھر میں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔ حماد نے گھور کر اس کو دیکھا تو یوسف نے اس کو دیکھا ۔۔۔ اور اس کی کالر ٹھیک کرتے بولا ۔۔ مجھے پتہ ہے تو نے ہی قتل کیا تھا اُس معصوم لڑکی کا ۔۔ حماد مسکرایا ہاں کیا تھا اپنے ہاتھوں سے مرا ہے اُس کو اور جو سکون ملا تھا بتا نہیں سکتا ۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں تیرا باپ تُجھے جیل نہیں جانے دے گا۔۔۔ لیکن تو یہ نہیں جانتا میں یوسف ملک ہوں چھوڑو گا تو نہیں تُجھے ۔۔ وہ بولا تو اصغر کے قدموں کی اواز سنائی دی حماد ایک دم پیچھے
ہو کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ کو دیکھ کر ۔۔ اصغر ایا اور اس نے یوسف کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
یوسف سکون سے بیٹھ گیا۔۔
ہاں تو کس لیے انا ہوا یوسف تمہارا۔۔
اصغر صاحب میں بس اپ کو یہی کہنے ایا تھا کہ لڑکی کے گھر والے کسی صورت پر کیس واپس لینے کے لیے نہیں راضی ہوں گے ۔۔
تو تم نے ان کو راضی نہیں کیا ۔۔کیا یوسف ۔۔۔؟
میں کیوں کروں ان کو راضی جب کہ پورا افس جانتا ہے اور اب تو نیوز چینل پر خبر اگئی ہے پورا پاکستان جانتا ہے کہ اپ کے بیٹے نے قتل کیا ہے ۔۔ میری بات مانے تو اس نے گناہ کیا ہے اور اس کو تو سزا ملنی
چاہیے۔۔میں جانتا ہوں اپ اس کے باپ ہیں اور اپ کو اس وقت میری بات بہت بری لگ رہی ہے ۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اپ کو انصاف کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ اپنے بیٹے کا۔۔
اصغر مسکرائے۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے یوسف تمہاری ان باتوں سے میں اپنے بیٹے کا ساتھ چھوڑ دوں گا۔۔
تم اس کو جیل میں ڈلوا دو گے یا تو اس کو عمر قید ہو جائے گی یا پھر سزائے موت اور میں یہ ہونے نہیں دوں گا۔۔۔ اور جہاں تک تمہارا ساتھ دینے کی بات ہے تمہاری مرضی ہے تمہیں جس مرضی کا ساتھ دینا ہے دو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔ایک ڈیل کرتے ہیں یوسف
کیسی ڈیل۔۔
تم اس کیس کو دبا دو میں تمہاری سیلری بڑھوا دوں گا یا پھر لڑکی کے گھر والوں کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔۔ اس کی بات پر یوسف مسکرایا۔۔ اور مسکراتے ہوئے پھر ایک دم کہکا لگا کر ہنسنے لگا۔۔۔
مطلب کہ اپ مجھے خریدنا چاہتے ہیں
اب تمہیں جو سمجھنا ہے تم سمجھ سکتے ہو
چلیں یہی سمجھ لیتا ہوں کہ اپ مجھے خریدنا چاہتے ہیں
اصغر مسکرایا۔۔۔ ٹھیک کہا ۔۔
لیکن اصغر صاحب بکاؤ نہیں ہوں ۔۔ کہ سیلری کا نام سن کر بک جاؤں ۔۔۔ اس لڑکی کو انصاف دلوا کر چھوڑوں گا۔۔۔
تو پھر اپنی جان کی بازی لگانا چاہتے ہو تم یوسف۔۔
اب اس بارے میں اپ کو جو سوچنا ہے اپ سوچ سکتے ہیں لیکن میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔ یہ جیل ضرور جائے گا۔۔ اور امید کرتا ہوں اپ کا وقت میں نے ضائع نہیں کیا ہوگا ویسے بھی اپ فارغ ہی لگتے ہے۔۔۔ یوسف کہتا اٹھ کر باہر کی طرف چلا گیا جبکہ حماد اب اونچی اونچی اواز میں بول رہا تھا
ڈیڈ یہ ہوتا کون ہے اتنی باتیں سنانے والا
ہاں تو تم نہ کرتے نا قتل اس لڑکی کا تو اج اس مسئلے میں نہ پھنسا ہوتا میں۔۔
دیکھا جائے تو اس پولیس افیسر کو میں کچھ کر بھی نہیں سکتا۔۔ غریبوں کا تو مسیحہ بنا بیٹھا ہے اسے کچھ ہوا نا۔۔ تو عوام ہمیں کچا چبا جائے گی۔۔۔ ڈیڈ کیوں نہ اس کو رات کے اندھیرے میں مار دیا جائے۔۔۔
اور خبروں میں یہ پھیلا دیں گے کہ کچھ ڈکیتوں سے مقابلہ کرتا ہوا مارا گیا ہے۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے یہ اتنا اسان ہے۔۔۔
تو کیا یہ مشکل ہے ڈیڈ۔۔۔ اصغر نے ایک نظر گھور کر حماد کو دیکھا
فی الحال کے لیے میری نظروں سے دفع ہو جاؤ گھٹیا انسان۔ اصغر اونچی اواز میں بولے تو حماد اوپر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا

وہ جب یونیورسٹی پہنچا تو اس کو ہیر کہیں پر بھی نظر نہیں ائی اس کی گلاس شروع ہو گئی تھی تو وہ کلاس میں ا کر بیٹھ گیا اندر اتے ہوئے اس نے ایک نظر پوری کلاس پر ڈالی تھی لیکن ہیر کلاس میں بھی نہیں تھی۔۔۔ اس کا دل چاہا وہ اس کو میسج کر لے لیکن اگر اس نے جواب نہ دیا تو اس کے دل میں سوال اٹھا
لیکن کیا پتہ وہ جواب دے دے پوچھ تو لینا چاہیے کہ وہ اج یونیورسٹی کیوں نہیں کلاس ختم ہونے کے بعد وہ گارڈن میں ا کر بیٹھا اور اپنا سیل فون نکال کر اسے میسج کرنے لگا خیریت ہے اپ اج یونیورسٹی نہیں ائی
تھوڑی دیر انتظار کرتا رہا دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں ایا۔۔۔ وہ واقعی میں پریشان ہو رہا تھا۔۔۔
تقریبا 15 منٹ کے بعد اس کو جواب ایا کل میری طبیعت خراب تھی اس لیے اج بھائی نے انے نہیں دیا۔۔ اس کی طبیعت کا سن کر زرمان اور پریشان ہو گیا اپ ڈاکٹر کے پاس گئی تھی کیا۔۔۔
ہاں میں ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔۔ اس نے ارام کرنے کو کہا ہے ٹھنڈ کی وجہ سے بخار ہو گیا ہے
دوسری طرف سے جواب ایا مطلب اج اپ یونیورسٹی نہیں ائیں گی ۔۔نہیں ہیر نے جواب دیا
تو پھر اپ کب سے ائیں گی۔۔ شاید کل سے اؤں گی زر مان لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔
اپ کو صبح سے دیکھا نہیں ہے اس لیے کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔
اس کی بات پر اپنے بیڈ پر بیٹھی ہیر مسکرائی تھی ۔۔۔
ت۔۔ ٹھیک ہے مجھے ابھی ارام کرنا ہے اللہ حافظ اس نے کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔

کچھ دنوں سے زرمان نے افس سے چھٹی لے رکھی تھی۔۔۔ اور اب اج شام سے اس کو افس دوبارہ سے جانا شروع کرنا تھا۔۔۔ یونیورسٹی سے فارغ ہو کر وہ دوپہر کے وقت گھر ایا
کھانا وغیرہ کھا کر۔۔ فریش ہو کر وہ جہاں جاب کرتا تھا وہاں آگیا ۔۔ زیادہ نہیں اب بس اس کا رات تک یہی کام تھا کے اُس نے لوگوں کے فون سننے تھے۔۔۔

زرمان اپنی کتابیں افس میں لے کر اتا تھا ۔۔
کیونکہ جب تک وہ گھر جاتا تھا پڑھنے کا تو وقت ہی نہیں ملتا تھا۔۔ تو جو فالتو وقت اس کو افس میں ملتا تھا وہ کتاب کھول کر بیٹھ جاتا تھا۔۔ اسی طرح وہ اپنی پڑھائی کا وقت نکالتا تھا۔۔۔ اور اس طرح ہی وہ سب کام کرتا تھا ۔۔ وہ بیٹھا ہوا تھا جب اس کے پاس ایک لڑکا ا کر بیٹھ گیا اس وقت وہ کتاب کھول کر کچھ پڑھ رہا تھا زرمان اس لڑکے کو جانتا تھا وہ اس کے ساتھ ہی کام
کرتا تھا۔۔ ہاں زیادہ بات چیت نہیں ہوتی تھی وہ زیادہ کسی سے باتیں نہیں کرتا تھا لیکن وہ جانتا تھا۔۔
یار زرمان مجھے حیرت ہوتی ہے تم اتنا سب کچھ کیسے سنبھال
لیتے ہیں۔۔
اب دیکھو تم پڑھائی بھی کر رہے ہو اور کام بھی صبح تم نے یونیورسٹی بھی جانا ہے۔۔ اخر تم اتنا سب کچھ کیسے کر لیتے ہو۔۔۔ زرمان اس کی بات پر مدھم سا مسکرایا
یہ مشکل کام نہیں ہے اللہ ساتھ دیتا ہے تو میں کر لیتا ہوں۔۔۔
بھائی تمہارا تو یقین بہت پکا ہو اللہ پر ۔۔ ہر مسلمان کا یقین پکا ہونا چاہیے ۔۔۔ جس کا یقین پکا نہیں
وہ تو نام کا مسلمان ہے پھر ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے اپ تم پڑھائی کرو ۔۔ میں چلتا ہوں تمھیں تنگ نہیں کروں گیا زیادہ ۔۔
وہ کہتا چلا گیا تھا ۔۔۔ زرمان ایک بار پھر کتابیں کھول کر بیٹھ گیا۔۔۔

ایک بہت اہم شوق جو ہیر کو تھا وہ کیلیگرافی تھی جب اس کو یونیورسٹی سے چھٹی ہوتی یا کبھی فارغ وقت
ملتا تو وہ یہی کام کرتی تھی۔۔۔ وہ اللہ کے نام کو بہت پیار سے رنگوں میں اتارا کرتی تھی۔۔۔
اج بھی وہ ایک کینوس لے کر چھت پر اگئی تھی اس نے ایسے بہت سے کینوس بنائے تھے۔۔
جن میں الگ الگ ایات الگ الگ پیغامات تھے اج بھی وہ اسی سے متعلق کچھ بنا رہی تھی جب ریحان اوپر چھت پر اگیا۔۔۔ اج کیا بنا رہی ہو ۔۔۔ کچھ نہیں سوچ رہی ہوں سورہ بقرہ کی کوئی چھوٹی ایت لکھوں یا پھر اللہ کے 99 ناموں کی پینٹنگ بناؤں ۔۔
ویسے میں سوچ رہا ہوں ہیر تم اپنی ساری پینٹنگ کو ایکزیبیشن میں کیوں نہیں لگواتی۔۔۔
بہت لوگ دیوانے ہو جائیں گے ان پینٹنگ کے ویسے میرے دماغ میں یہ خیال تھا لیکن سوچ رہی ہوں کہ
بابا مانیں گے بھی یا نہیں۔۔ وہ تم چھوڑو میں منا لوں گا۔۔ ریحان بولتا نیچے آگیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد جب وہ اوپر واپس ایا تھا تو خوشخبری ساتھ لے کر ایا تھا۔۔۔ اچھا بابا مان گئے ہیں۔۔اس کی بات پر ہیر حیران ہوئی تھی تم مذاق کر رہے ہو نا۔۔۔ نہیں بھلا میں کیوں مذاق کرنے لگا۔۔۔
میں مذاق نہیں کر رہا سچ کہہ رہا ہوں اور ابھی ابھی گوگل پر سرچ بھی کر کے ایا ہوں پرسوں ایک ایگزیبیشن لگ رہا ہے گھر سے تھوڑا ہی دور ہے میں پرسوں ایگزیبیشن حل میں لے کر چلوں گا ۔۔ تمھیں
ریحان بولا تو ہیر چھوٹے بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی ۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *