قصاص قسط نمبر:4
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
یہ یونیورسٹی کی اخری کلاس کا وقت تھا ہیر نے دیکھا تھا کہ اج رخسار اس کو کہیں پر بھی نظر نہیں ائی تھی ان کی اخری کلاس پر وہ کلاس میں داخل ہوئی تھی ۔۔ ہیر اور حیات دونوں ہی حیران رہ گئی تھی اس کو دیکھ کر اج وہ پینٹ شرٹ میں نہیں تھی۔۔ سر پر سیاہ چادر لے رکھی تھی۔۔۔
چادر کے اندر سے اس کی ہلکی سبز رنگ کی قمیض شلوار نظر ارہی تھی۔۔۔
اج وہ شلوار قمیض میں تھی ۔۔۔ ہیر کو اس کو دیکھ کر انجانی سی خوشی ہوئی تھی
مطلب رخسار نے ہیر کی بات کو اپنے دماغ میں بٹھایا تھا۔۔۔ وہ ہیر اور حیات کے پاس ا کر بیٹھی تم نے اپنی کلاس مس کیوں کر دی میں نے صبح سے دیکھا ہے تم کسی بھی کلاس میں نہیں ائی ہیر نے اس سے پوچھا تھا۔۔
وہ مجھے۔۔تھوڑا عجیب لگ رہا تھا۔۔
کیوں عجیب کیوں لگ رہا تھا۔۔
نہیں بس ایسے ہی پہلی بار ایسے چادر کی ہے نا۔۔
رخسار نے ہیر کی طرح ہی چادر کے ایک کونے سے اپنا چہرہ ڈھاک رکھا تھا ۔۔
ہاں شروع شروع میں تمہیں عجیب لگے گا
لیکن پھر عادت ہو جائے گی۔۔ ویسے میرے حساب سے عجیب لگنا نہیں چاہیے تمہیں۔۔
عجیب تمہیں لگنا چاہیے تھا اس وقت جب تم مغربی لباس پہنتی تھی۔۔ ہیر بولی تو رخسار دھیمی اواز میں بولی
میں دوبارہ کبھی ویسے کپڑے نہیں پہنوں گی۔۔
ہیر کو اس کی بات پر خوشی ہوئی تھی۔۔۔ مسلمان لڑکیوں پر وہ لباس جچتا بھی نہیں ہے ہیر نے گہرا سانس لے کر کہا ۔۔
کچھ دیر بعد ان کی کلاس شروع ہو گئی۔۔
زرمان ان کی پچھلی چیئر پر بیٹھا تھا۔۔جب پروفیسر کو انہوں نے کہتے سنا تھا۔۔میں نے یہ اسسائنمنٹ اپ سب کو دے دیا ہے اپ لوگ چار چار لوگوں کے گروپ میں مل کر اس کو کمپلیٹ کر لیں اور مجھے تین دن تک اسسائنمنٹ
کمپلیٹ چاہیے پروفیسر کہتا باہر نکل گیا تھا۔۔ اور حیات بے ساختہ مسکرائی۔۔ارے ہم تو ویسے بھی چار ہیں ہمیں کسی دوسرے کو تو اپنی ٹیم میں لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔۔ صحیح کہا نا میں نے زرمان بھائی اپ ہمارے ساتھ ہیں نا۔۔
ہاں میں تم لوگوں کی ٹیم میں ہوں زرمان بولا تھا۔۔
اچھا تو پھر کب سے ہم اسسائنمنٹ شروع کریں
کل سے کریں گے رخسار اج تم بھول گئی ہو ہمارے گھر جانا ہے
ہاں میں نہیں بھولی رخسار نے کہا۔۔
چلو پھر ٹھیک ہے میں ابھی گھر جاتا ہوں تھوڑی دیر ارام کروں گا اس کے بعد پھر مجھے تیار ہونا ہے افس کے لیے زرمان کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
پھر اس نے ہیر کو سامنے دیکھا وہ بھی اس کے ساتھ ہی کلاس سے باہر نکل رہی تھی جب
اس نے اواز لگائی
ہیر ۔۔ ہم اسئنمنٹ کہاں پر کریں گے۔۔
میں نے یہ ابھی فلحال سوچا نہیں ہے
تم لوگ میرے گھر پر ا جانا وہاں پر مل کر لیں گے۔۔۔ رخسار بولی تھی۔۔
نہیں کسی کے گھر جانا ٹھیک نہیں ہے ہیر نے منع کیا۔۔
تو ٹھیک ہے پھر یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھ کے کر لیں گے۔۔۔
ہاں یہ صحیح ہے۔۔ چلو ٹھیک ہے پھر کل کلاس کے بعد لائبریری میں ا جانا۔۔زرمان نے یہ کہتے ہوئے ہیر کو دیکھا۔۔
خدا حافظ وہ سر کو خم دیتا باہر چلا گیا۔۔۔
ہیر کا ڈرائیور ا گیا تھا۔۔۔ اور پھر وہ تینوں بیٹھ کے ہیر کے گھر کے لیے نکل گئی ۔۔۔
گاڑی ہیر کے گھر کے باہر رکی گارڈ نے دروازہ کھولا اور پھر گاڑی اندر داخل ہوئی
وہ تینوں گاڑی سے باہر نکلی اور گھر کے داخلی دروازے سے اندر جانے لگی البتہ رخسار چاروں طرف نظر گھما رہی تھی۔۔ ہیر کا گھر بہت
بڑا تھا اور خوبصورت بھی۔۔۔
یہ دوپہر کا وقت تھا اور یقینا اس وقت دلاور اور اس کے بابا گھر پر نہیں تھے ۔۔ ایسا ہیر نے سوچا تھا۔۔ وہ گھر میں داخل ہوئی تو سامنے لاؤنج میں اس نے دلاور کو بیٹھے دیکھا۔۔ہاتھ میں اس نے ریموٹ پکڑ رکھا تھا وہ شاید نیوز سن رہا تھا۔۔۔
اس نے دلاور کو دیکھ کر سلام لیا دلاور نے بس سر ہلا دیا۔۔ اور پھر پاس میں کھڑی دونوں لڑکیوں کو دیکھا۔۔ ایک تو حیات تھی وہ جانتا تھا۔۔ جب دوسری لڑکی پر نظر گئی تو نظر ٹھہر گئی ۔۔ یہ میرے بھائی ہیں رخسار نے ہیر کو کہتے سنا رخسار نے پھر گردن ہلا دی۔۔
دلاور صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔
ل۔۔ لالہ ۔یہ ہماری دوست ہے رخسار۔۔
ہیر بولی تو دلاور نے سر ہلایا ۔۔ بیٹھ جاؤ ۔۔
دلاور نے کہتے ہوئے اپنے گھر کی میڈ کو اواز دی تھی ۔۔ تو وہ فورن باہر اگئی جی صاحب جی ۔۔
رخسار کے لیے کچھ لے کے اؤ ۔۔ پہلی بار گھر ائی ہیں ۔۔ دلاور بولا تو ہیر اس کے لہجے پر حیران رہ گئی ۔۔وہ کب سے اتنا میٹھا بولنے لگ گیا تھا
ن۔ نہیں اس کی ضرورت نہیں ہےرخسار بولی تھی ۔۔
رخسار کو دلاور ایک آنکھ نہیں بھیا تھا ۔۔
رخسار جی ہم اپنی گھر میں ائے مہمانوں کو بھوکا نہیں رکھتے ۔۔
وہ بولا تو رخسار خاموش ہو گئی ۔۔ جب کمرے سے ہیر کی امی باہر ائی تھی ۔۔
انہوں نے رخسار کے سر پر پیاردیا ۔۔ ماشاءاللہ بہت پیاری بچی ہے ۔۔ بالکل ہیر جیسی ۔۔
دیکھو ذرا ۔۔ ڈوبٹا بھی ہماری بیٹی کی طرح لیتی ہے ۔۔۔ ہیر کی امی بولی تو دلاور نے اپنی ماں کو دیکھا
بس کرو اماں ۔۔ سب ہیر جیسی نہیں ہوتی ۔۔ دلاور کے لہجے میں ایسا کڑوا پن تھا کے ماں خاموش ہو گئی ۔۔
اور ہیر کی آنکھیں بھرنے لگی ۔۔ وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ گئی تھی ۔۔۔ جو وہ سمجھنا
چاہتا تھا کے ہر کوئی ہیر جیسی بے شرم نہیں ہوتی ۔۔ وہ دلاور کی نظر میں بے شرم ہی تو تھی
رخسار کو اس کے پاس بیٹھنا اچھا نہیں لگا تو ایک دم بولی ۔۔
ہیر تم مجھے اپنا گھر نہیں دکھاؤ گی کیا ۔۔
ہ۔۔ ہاں آجاؤ میں دیکھتی ہوں ۔۔۔ ہیر بولتی اس کو ساتھ لے گئی ۔۔۔ پہلے ہیر نے اپنا کمرا دیکھایا پھر اپنی اماں کا پھر اپنی بھائیوں کا رخسار کو گھر بہت پیارا لگا تھا پورا گھر دکھانے کے بعد وہ اس کو لے کر باہر گھر کے گارڈن کی طرح اگئی ۔۔ گارڈن میں چیئر وغیرہ اور ٹیبل لگی تھی ۔۔ پاس میں ایک سنہرے رنگ کا جھولا لگا تھا ۔۔
اور وہ جھولا کوئی جھول رہا تھا ۔۔ رخسار کی نظر پڑی تو جھولے پر بیٹھا لڑکا دور تھا
چہرہ صحیح نظر نہیں آ رہا تھا اور ویسے بھی اب شام ہو رہی تھی ۔۔
یہ کون ہے ۔۔؟ اس نے ہیر سے پوچھا ۔۔
یہ ریحان ہے اس گھر کا چھوٹا لڑکا لیکن میرے سے بڑا بھائی ۔۔
اچھا۔۔ رخسارسمجھ کے بولی ۔۔ ریحان کی نظر فون پر تھی وہ شاید کچھ لکھنے میں مصروف تھا ۔۔ ان کے انے پر نظر اٹھا کر دیکھا ۔۔ تو ہیر اور حیات کے ساتھ کوئی اور لڑکی بھی تھی ۔۔
ریحان اٹھا اور چلتا ہوا ان تک ایا ۔۔
السلام علیکم ۔۔
وعلیکم السلام ہیر کیسا گیا اج کا دن۔۔
ریحان نہایت دھیمے لہجے میں بات کرتا تھا جب کے دلاور کے لیجئے میں انا کا تصور صاف نظر آتا تھا ۔۔
میں ٹھیک تم کیسے ہو ۔۔ بابا کے ساتھ نہیں گئے اج ۔۔
نہیں میرا دل نہیں تھا جانے کو
اچھا صحیح ۔۔
دا څوک دی۔۔۔۔ (یہ کون ہے ) ریحان نے پشتو میں رخسار کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ۔۔
دا زما ملګری دی۔۔( یہ میری دوست ہے )ہیر نے کہا ۔۔رخسار کو سمجھ نہیں ائی تو جھنجھلا کر بولی
یہ اپ دونوں کیا باتیں کر رہے ہیں میری طرف اشارہ کر کے۔۔
ریحان اس کی جھنجلاہٹ پر مسکرایا۔۔
نہیں کچھ نہیں ۔۔ بس پوچھ تھا کے اپ کون ہیں
ریحان کا لہجہ اور انداز رخسار کو اچھا لگا تھا ۔۔ دونوں بھائی کتنے الگ تھے ۔۔
اور اپ یہ کیوں پوچھ رہے تھے ۔۔ رخسار نے گھور کر کہا ۔۔ تو اس بار ریحان ہنس پڑا ۔۔
اب ہمارے گھر میں ائے مہمانوں کا پتہ تو ہونا چاہیے نہ ۔۔ اور ایسے گھور کے نہ دیکھیں کہیں دل کو کچھ ہو نہ جائے میرے ۔۔
میں نے سنا ہے پنجابی دل قابو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔۔۔ریحان سینے پر ہاتھ رکھتا بولا ۔۔
ویسے صحیح سنا ہے ۔۔ رخسار اس بار مسکرائی تھی ۔۔۔
اُس کی مسکرہٹ دیکھ کر ریحان ایک بار پھر پشتو میں بولا ۔۔۔ تاسو ډیر ښکلی یاست(تم بہت خوبصورت ہو )
کیا مطلب ۔۔ رخسار کو سمجھ نہیں ائی ۔۔
نہیں کچھ نہیں یہ کچھ بھی بولتا رہتا ہے ۔۔ ہیر نے اپنے بھائی کو دیکھا ۔۔
کیا بول رہے ہو تم تھپڑ لگا دے گی وہ تمھیں ۔۔ہیر پشتو میں بولی تو ریحان پھر بولا ۔۔
میں نے تو بس تعریف کی ہے اُس کی ۔۔
ہاں تو اُردو میں کر دیتے نہ ۔۔
لیکن اردو میں مزا نہیں اتا اُس کو سمجھ آ جاتی نہ
تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا ریحان ۔۔ ہیر بولی تو ریحان ہنس پڑا ۔۔۔
صحیح ہے اپ لوگ باتیں کریں میں ذرا اپنے کمرے میں جا رہا ہوں ۔۔
وہ کہتا جانے لگا جب رخسار بولی۔۔
لیکن مجھے کیا کہا تھا پشتو میں ابھی ۔۔
ریحان نے اس کو دیکھا اور ایک بار پھر بولا
تاسو ډیر ښکلی یاست۔۔۔ رخسار نے اپنا سر پکڑ لیا ۔۔ اخر وہ کہہ کیا رہا تھا ۔یا اللہ یہ پشتون لڑکے ۔۔۔
کچھ دیر بعد رخسار چلی گئی تھی ۔۔۔ البتہ جاتے ہوئے دلاور نے پوچھا تھا کہ میں چھوڑ دوں اپ کو
وہ اس وقت اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔
اور تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔ جب یکدم گولیوں کی اواز ائی تھی۔۔
اس کی گاڑی کہ ٹائر کسی نے پنچر کر دیے تھے۔۔ اس نے یک دم گاڑی کی بریک لگائی تھی۔۔ اور نیچے کو جھکا تھا ۔۔ گولیوں کی اواز بند ہوئی تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا پیچھے کوئی موٹر سائیکل والے 3 لڑکے تھے ۔۔
وہ اب موٹر سائیکل سے اتر کر اس کی گاڑی تک ائے اور گاڑی کا دروازہ کھول کر دیکھا۔۔
جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا یوسف نے ان میں سے ایک کو گردن سے دبوچ لیا تھا ۔۔ باقی کے دو فورن پیچھے ہوۓ تھے ۔۔
اصغر نے بھیجا ہے نا تمہیں۔۔ یوسف بولا تو وہ خاموش رہے ۔۔ بتاؤں ۔۔ اُس نے بھیجا نہ تُجھے
نہیں بتایا تو مار دوں گا تم سب کو۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکا فورن بول پڑا ۔۔
ہمیں معاف کر دو ۔۔
اصغر نے کہا تھا تمھیں زخمی کر کے اُس کے گھر لے کے انا ہے ۔۔۔
اچھا تو اس کے گھر لے کے جانا ہے ۔۔
ہاں ۔۔
تو چلو آؤ ۔۔ لے کے جاؤ اس کے گھر ۔۔
بوس ہم لے ائیں ہے پولیس والے کو ۔۔ یہ اصغر کے گھر کی پچھلی طرف کا علاقہ تھا ۔۔
وہ سنسان علاقہ تھا ۔ ۔۔ وہ لوگ یوسف کو گھسیٹتے ہوئے لے کر ائے تھے۔۔اصغر کے
دل کو ٹھنڈک پہنچی تھی۔۔
بہت اچھا کیا تم لوگوں نے ۔۔ بہت انعام دوں گا میں تم تینوں کو اصغر بولا اصغر نے یوسف کو دیکھا اس کے چہرے پر چوٹ کے نشان تھے۔۔ ایسا لگ رہا تھا اس کو بری طرح سے مارا گیا تھا اور وہ بے ہوش تھا۔۔ ان تینوں لڑکوں نے اس کو لا کر کرسی پر بٹھا دیا۔۔اصغر اب اس کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔
اور یوسف کے گرد چکر کاٹ رہا تھا پانچ منٹ گزرے پھر 10 پھر 20 اور یوسف نے اپنی ہلکی ہلکی انکھیں کھولی۔۔
اصغر نے فورا اپنی پسٹل یوسف کے سر پر تان لی
بہت اڑتا تھا نا تو یوسف دیکھ اج تو میری قید میں ہے۔۔ یہاں سے تجھے کوئی نہیں بچا سکتا اور تیرے میں تو اٹھنے کی بھی ہمت نہیں ہے کہ خود کو بچا سکیں۔۔ کہاں ہے تیرا وہ کامران خان
اس کو تو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ تو اس وقت میرے پاس ہے اور کچھ دیر میں تو مرنے والا ہے تجھے میں اپنے ہاتھوں سے ماروں گا بالکل اس جگہ جہاں تو نے میرے بیٹے کو گولی ماری تھی۔۔ تو نے میرے بیٹے کو مار دیا میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔۔
اصغر چلا کر بولا تھا۔۔
م۔۔ مجھے معاف کر دو اصغر صاحب۔۔ یوسف بولا تو اصغر ہنسنے لگا ۔۔ اور اصغر کی ہنسی تب رکی جب یوسف کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھا
تجھے کیا لگتا ہے میں تجھے ایسا کہوں گا۔۔ مجھے معاف کر دو اصغر صاحب۔۔
ی۔۔ یہ ۔۔ یہ تو بالکل ٹھیک ہے۔۔ اس کو کچھ نہیں ہوا یہ تم لوگ اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے اصغر کے چہرے پر اب خوف تھا۔۔
نہیں یہ میرے ساتھ ملے ہوئے نہیں ہیں
بس اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔
اور تو مجھے مارنا چاہتا ہے مار۔۔ یوسف کھڑا ہوتا بولا۔۔ اصغر مار مجھے کیوں کے میں زندہ رہ گیا تو جیل چلا جائے گا تو۔۔۔
ایک پولیس والے پر حملہ کرنے کی جرم میں ۔۔ مار اصغر۔۔ وہ چلا کر بولا تھا۔۔۔
تجھے پتہ ہے تیرے یہ آدمی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔۔یہ سارے تیرے خریدے ہوئے تھے ۔۔
لیکن پیسہ زیادہ وقت تک نہیں بولتا۔۔ اصغر کی ہاتھ میں پکڑی گن اب کانپنے لگ گئی تھی وہ بری طرح ڈر گیا تھا۔۔
یوسف۔ ت ۔۔تیرے پاس۔کوئی ثبوت نہیں ہے۔۔میں نے تیرے پہ حملہ کیا تھا تو مجھے جیل کیسے بھیجے گا۔۔ یوسف اس کی بات پر کہکا لگا کر ہنسا۔۔ تجھے کیا لگتا ہے میں نے تیاری نہیں کی کیا انے کی۔۔۔ میری شرٹ میں کیمرہ لگا ہوا ۔۔
باہر تیرے گھر سے کچھ فاصلے پر پولیس والوں کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔۔۔ اور اس وقت یہ فورٹیج ان کے لیپ ٹاپ میں چل رہی ہوگی۔۔
بس وہ اندر ا ہی رہے ہوں گے۔۔ ہاتھ میں پکڑی پستول اصغر کے ہاتھ سے نیچے گر گئی مطلب اب اس کا جیل جانا پکا تھا۔۔
اس نے ان تین لڑکوں کو دیکھا۔حرام زادو تم لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا میں۔۔
۔۔ صاحب ۔جی۔ہمیں معاف کر ۔۔دیں
یہ اس نے کہا تھا۔۔ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو یہ ہمیں مار دیتا ۔ ہمیں معاف کر دیں صاحب جی ۔۔ یوسف اٹھا اور نیچے گری پسٹل اٹھائی اورباری باری سامنے کھڑے تینوں لڑکوں کو دیکھا۔۔ تم جیسے لوگ اگر زندہ رہے نا تو تم لوگ ان درندوں کا ساتھ دو گے یوسف نے کہتے ہوئے ان تینوں پر گولی چلا دی وہ یک دم زمین پر جا کر گرے تھے۔۔۔ اور اصغر کانپ کے رہ گیا جب ہال کا دروازہ کھولا اور کچھ پولیس افیسرز اندر داخل ہوئے۔۔ انہوں نے اصغر کو پکڑا۔۔
اپ نے ایک پولیس افیسر پر حملہ کیا ہے اصغر صاحب اپ کو جیل جانا ہوگا ۔۔۔۔ میں۔۔م۔۔ میں نے حملہ نہیں کیا تھا۔۔
کوشش تو کی تھی نا۔۔ اور اپ کی کوشش ارادہ قتل تھی۔۔۔
اصغر چیختا چلاتا رہ گیا اور وہ پولیس والے اس کو گھسیٹتے ہوئے باہر کی طرف لے گئے۔۔۔
یہ منظر قاسم کے ہوٹل کا تھا وہ اس وقت ریسپشن پر کھڑا تھا اور ریسپشنسٹ سے انے والے گیسٹ کے بارے میں تفصیلات لے رہا ٹھیک ہے۔۔۔ سمین تم دہان رکھنا سب گیسٹ کا میں ذرا گھر جا رہا ہوں ۔۔۔۔ قاسم ۔۔ سمین نے پُکارا ۔۔۔
کتنی بار کہا ہے سر کہا کرو ۔۔
لیکن میں اپ کو جانتی ہوں ۔۔
اتنے وقت سے ۔۔۔؟
جانتی ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ نام سے بولا لو
اچھا جی سر کیا اپ کافی پینے چلیں گے میرے ساتھ ۔۔
کس خوشی میں ۔۔اتنا فارغ نظر آتا ہوں میں ۔۔ سمین نے اس کو دیکھا ۔۔ وہ کتنے وقت سے کوشش کررہی
تھی اس سے دوستی کرنے کی لیکن مجال ہے کے وہ صحیح سے بات بھی کر لے اس سے ۔۔ سمین اچھی لڑکی تھی ۔۔ لیکن کہیں نہ کہیں اُس کو قاسم اچھا لگنے لگ گیا تھا ۔۔
اور اس کا ارادہ تھا کے قاسم اس سے دوستی کر لے اور کیا پتہ دوستی محبت میں بدل جائے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تھا ۔۔
جب کے قاسم کو تو شاید وہ پسند بھی نہیں تھی ۔۔ وہ ہمیشہ جان چورواتا تھا ۔۔ اور اس سے صحیح سے بات بھی نہیں کرتا تھا ۔۔ پہلے یہ سمجھتی تھی کے شاید قاسم کام کی وجہ سے ایسا کرتا ہے ۔۔ لیکن نہیں وہ تھا ہی ایسا ۔۔۔
یوسف اس وقت اپنے واش روم میں فریش ہو رہا تھا اس نے ایک نظر شیشے میں خود کو دیکھا اس کے چہرے پر جگہ جگہ چوٹ کے نشان تھے۔۔
اس نے صابن پکڑا اور اپنے چہرے پر لگایا پھر اس نے پانی سے اپنا منہ دھویا۔۔ اور وہ نشان غائب ہو گئے ۔۔
یوسف مسکرایا اور پھر باہر کی طرف اگیا۔۔ یاسر کیا پہلے تم میک اپ ارٹسٹ تھے کیا نشان بنائے ہیں تم نے۔۔ اصغر کو لگا کہ یہ حقیقت ہے۔۔ بس سر کبھی گھمنڈ نہیں کیا اس بات کا ۔۔میک اپ ارٹسٹ تو نہیں تھا۔۔
لیکن پولیس جوائن کرنے سے پہلے۔۔ اپنی بہنوں کا بھائی بھی تو تھا۔۔ تو بس کبھی وہ میرے منہ پر میک اپ کرتی تھی تو کبھی میں ان کے منہ پر اکلوتا بھائی ہوں نا سر یوسف اس کی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسا ۔۔
اچھا تو اب کہاں پر ہیں تمہاری بہنیں۔۔
سر جی دو ہی بہنیں ہیں اور دونوں کی شادی ہو گئی ہے۔۔۔
صحیح ۔۔یاسر نے کہیں باہر جا رہا ہوں
ٹھیک ہے سر جی ۔۔
یوسف گھر سے نکلا تھا۔۔۔ اور یوسف ایک مال کے اندر اگیا۔۔۔
اس نے وہاں سے کچھ کپڑے خریدنے تھے وہ شاپ کے اندر داخل ہوا۔۔
اور جب وہ اس شاپ سے نکلا تو نکلتے ہوئے وہ بے ساختہ کسی سے ٹکرایا تھا۔۔۔ ٹکرانے والی کوئی لڑکی تھی جو اس کے ٹکرانے پر ایک دم سے چیخ کے غصے میں بولی تھی ۔۔اندھے ہو کیا نظر نہیں اتا۔۔
جب اس لڑکی نے نظر اٹھا کر یوسف کو دیکھا تو ایک دم خاموش ہو گئی۔۔
اپ۔۔۔
جی میں ۔۔ یوسف نے حیات کو دیکھا ویسے پوچھ سکتا ہوں اپ یہاں پر کیا کر رہی ہیں
انسان مال میں کیوں اتے ہیں۔ حیات نے تیکھے لہجے میں کہا ۔۔
چیزیں لینے ۔۔ یوسف جلدی سے بولا ۔۔
نہیں میں چیزیں لینے نہیں ائی اوارہ گردی کرنے ائی ہوں یہاں پر۔۔
چلیں پھر مل کر کر لیتے ہیں اوارہ گردی۔۔
انسپیکٹر اپ کو کوئی کام نہیں ہے۔۔حیات نے ایک ادا سے کہا ۔۔
انسپیکٹر نہیں ہوں میں اے ایس پی۔۔۔
وہی۔۔۔ ہو تو پولیس والے ہی نا ۔۔۔
جی صحیح کہہ رہی ہیں اپ ۔۔
فلحال تو مجھے کوئی کام نہیں ہے میں بالکل ویلا ہوں ۔۔۔
اس کے انداز پر حیات کو ہنسی ائی ۔۔
ویسے اپ کی باتیں سن کر لگتا نہیں ہے کےاپ نے کسی مجرم کو پکڑا بھی ہوگا صحیح سے۔۔
اتنے ارام سے بات کرنے والے مجرموں کو کیسے پکڑ لیتے ہوں گے۔۔۔ اور کوئی پولیس والا اتنے پیار سے بات کر بھی کیسے سکتا ہے۔۔۔
مجرموں سے میں ایسے بات نہیں کرتا نا۔۔یوسف نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
اچھا تو پھر کیسے بات کرتے ہیں مجرموں
سے اپ ؟
ان سے میں بات نہیں کرتا میری پسٹل بات کرتی ہے ۔۔
اچھا تو مطلب اپ سب کو ٹپکا دیتے ہیں۔۔ حیات نے یوسف کو دیکھا
ہاں تقریبا یہی سمجھ لیں۔۔ بہت کم لوگ ہیں جو میرے سے بچ گئے۔۔ اور جو بچ گئے ہیں وہ اس وقت جیل میں ہیں۔۔
اچھا تو اپ کے اوپر والوں نے اپ کا ٹرانسفر کرنے کا نہیں
سوچا۔۔ نہیں میرے ہونے سے شہر کے حالات ٹھیک رہتے ہیں اس لیے کسی نے نہیں سوچا میرے ٹرانسفر کرنے کا
وہ اب ساتھ ساتھ چلتے باتیں کر رہے تھے
کافی پییں گی میرے ساتھ ۔۔یوسف نے پوچھا
چلیں صحیح ہے انسپیکٹر صاحب اج اپ کی طرف سے کافی۔۔ ہم بھی تو دیکھیں پولیس والے پیسہ خرچ کرتے ہیں کہ نہیں۔۔۔ یا پھر رشوت ہی کھاتے ہیں۔۔
اپ ہیر کی دوست ہیں اپ کو ہیر نے یا پھر ان کے گھر والوں میں سے کسی نے بتایا نہیں کہ میں غریبوں کا حق نہیں کھاتا۔۔
ویسے ہیر نے بتایا تو تھا۔۔ لیکن میں یہی بات اپ کے منہ سے سننا چاہتی تھی۔۔
چلیں سن لی ہے تو پھر چلتے ہیں اب کافی پینے یوسف نے کہتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اسے اگے چلنے کو کہا ویسے ہی رات کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔ وہ مال سے نکل ائے تھے پاس ہی میں ایک چھوٹا سا کیفے بنا تھا وہ اندر داخل ہوئے۔اس نے دو کپ کافی ارڈر کی ادھی کافی وہاں بیٹھ کر پی اور ادھی کو دونوں ہاتھ میں لے کر باہر اگئے اور پھر وہ دونوں ٹہلتے ہوئے باتیں کر رہے تھے جب پاس سے ایک موٹر سائیکل والا لڑکا گزرا تھا ۔۔
اس کی موٹر سائیکل کی رفتار ہلکی تھی حیات کے پاس سے گزرتے ہوئے بولا ۔۔
واللہ کتنی خوبصورت لڑکی ہے۔۔
نظر نہ لگ جائے رات کے اس وقت یہاں پر میرے بنا کہا جا رہی ہو۔۔وہ بولا اور یک دم موٹر سائیکل کی رفتار بڑھا دی
اس کی بات سن کر یوسف کی پیشانی پر سلوٹیں پڑی تھی۔۔۔ رکیں ذرا بتاتا ہوں اس بغیرت کو
یوسف کہتا ہوا بائیک والے کی طرف لپکا تھا جس نے تھوڑا دور جا کر اپنی بائک کی رفتار ہلکی کر دی تھی۔۔
چھوڑیں کیا ہو گیا ہے ان کا تو کام ہی یہ ہے
یہ ہوتا کون ہے اپ کو اس طرح سے کچھ کہنے والا
اس خبیث کے بچے کو میں دیکھتا ہوں یوسف بولا تو حیات نے اس کو بازو سے پکڑ کر روکا
وہ بہت دور ہے
اپنی یہ پولیس گردی یہاں پر نہ دکھائیں۔۔
لیکن وہ ہوتا کون ہے اپ کو چھیڑنے والا ایسے لوگوں کا کام ہی یہ ہوتا ہے۔۔حیات نے اس کو دیکھ کے کہا ۔۔۔
یوسف سنجیدگی سے بولا ۔۔ تو ایسے لوگوں کو سدھارنے کے لیے ہی پولیس میں ایا ہوں میں۔۔ یوسف اگے بڑھنے لگا تو حیات نے اس کے ٹی شرٹ کے بازو سے اس کو پکڑا۔۔ اور پھر کھینچ کر اپنی طرف گھمایا۔۔
اگر اب اپ کچھ بولے تو اپ کی پسٹل سے اپ کو ہی مار دوں گی چپ چاپ چلیں اب میرا دماغ خراب نہ کریں۔۔
یوسف نے ایک نظر حیات کو دیکھا۔۔
اور پھر خاموشی سے چلنے لگا۔۔ البتہ وہ بار بار پیچھے دیکھ رہا تھا۔۔۔ پیچھے اس کے حیات چل رہی تھی جو اس کے بار بار پیچھے دیکھنے پر گھور کے اس کو اگے چلنے کا اشارہ کرتی اور پھر وہ اگے چلنے لگتا۔۔
یوسف نے گہرا سانس لیا۔۔ اور پھر دھیمی اواز میں بڑبڑایا
مرد صرف اپنی پسندیدہ عورت سے ہی ڈرتا ہے پھر وہ چاہے اے ایس پی ہی کیوں نہ ہو لیکن خیر چھوڑوں گا تو نہیں اس کو میں یوسف منہ میں بڑبڑایا تو حیات نے اس کو دیکھا کیا بول رہے ہیں اپ۔۔
نہیں کچھ نہیں۔۔ میں تو بس ایسے ہی بول رہا تھا کافی اچھی ہے نا۔۔
ہاں کافی اچھی ہے لیکن اپ کا دماغ درست نہیں لگ رہا مجھے ۔۔
نہیں میرا دماغ بالکل درست ہے چلیں میں اپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں اپ کے۔۔۔
ٹھیک ہے حیات بولتی اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی گاڑی انہوں نے تھوڑی فاصلے پر کھڑی کی تھی
زرمان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا ۔۔اس نے ہیر کو میسیج کیا ۔۔ کچھ دیر بعد اس کا جواب آگیا تھا ۔۔
جی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ اپ کو کوئی کام تھا ۔۔
نہیں بس اپ کا حل پوچھنا تھا صبح زیادہ بات نہیں ہو سکی نہیں ۔۔
ہاں صحیح کہہ اپ نے۔۔
اچھا ہیر ۔۔۔ ک۔۔ کل آپ ائیں گی نہ ۔۔ کہاں ۔۔؟
ارے یونیرسٹی ۔۔
جی اؤں گی ۔۔
اچھا صحیح میں انتظار کروں گا
کیوں ۔۔ ؟ہیر حیران ہوئی ۔۔انتظار کیوں کریں گے
کیا آپ نہیں جانتی ۔۔ زر مان نے میسیج لکھا
نہیں میں نہیں جانتی ۔۔۔ اپ بتا دائیں ۔۔
کیوں کے اپ کو نہ دیکھوں تو سکون نہیں اتا ۔۔
اس کی بات پر دوسری طرف بیٹھی ہیر کے گل سرخ ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
اچھا کب تک انتظار کر سکتے ہیں پھرآپ ۔۔
اپنی آخری سانس تک انتظار کروں گا آپ کا کبھی تو محبت ہو گی آپ کو ۔۔ دنیا والوں کی پرواہ کیے بغیر ۔۔۔
ہیر لاجواب ہو گئی ۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے محبت کرنے سے۔۔ہیر نے لاچارگی سے کہا ۔۔
آپ کو کبھی محبت نہیں ہوئی نہ اس لیے ہیر ۔۔ جب محبت ہو گی تو کیسی چیز سے ڈر نہیں لگے گا
جاری ہے ۔۔۔
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
