taqdeer e azal

Taqdeer e azal Episode 15 written by siddiqui

تقدیرِ ازل۔ ( از قلم صدیقی ) 

قسط نمبر ۱۵ 


وہ شاہ حویلی سے تو کیا اسوان کے کمرے سے بھی ایک قدم بھی باہر نہیں نکلی تھی۔
نکل ہی نہیں سکتی تھی۔

اگر نکلتی…
تو بربادی اس کی نہیں ہوتی—
اس کی فیملی کی ہوتی۔
اس کے بابا کی ہوتی۔

اور یہ وہ کبھی…
ہرگز کبھی نہیں ہونے دیتی۔

وہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔
ہاتھ اس کے دوپٹے کے پلّو میں سختی سے جکڑے ہوئے۔
اور آنکھیں…
خشک۔
بالکل خشک۔

اسوان سامنے کھڑا تھا۔
اس کے بیگ سے نکلا ہوا سارا سامان اٹھا کر بڑی بے نیازی سے دوبارہ الماری میں رکھ رہا تھا۔
اور ساتھ ساتھ بول رہا تھا،
بالکل پرسکون، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
بس پری کو تھوڑا سا وقت لگے گا…
پھر وہ ٹھیک ہو جائے گی۔
ابھی بس تھوڑی ناراض ہے۔
مجھے امید ہے تم اسے منا لو گی…

پریشے نے سر اٹھایا۔
اس کی آواز میں آگ نہیں…
صرف حیرانی اور ایک عجیب سا خالی پن تھا۔
ان کروڑوں کی آبادی میں…
میں ہی آپ کو ملی تھی؟

اسوان ایک لمحے کو رکا
پھر اس کی طرف دیکھ کر پوری سنجیدگی سے بولا
ہاں۔ تم ہی ملی تھیں۔

پریشے نے سرد لہجے میں کہا
مجھے اتنی دھمکیاں دینے کے بعد…
مجھے زبردستی یہاں روکنے کے بعد…
آپ مجھ پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں کہ میں پری کا خیال رکھوں گی؟

اسوان کی نظروں میں نہ معذرت تھی،
نہ نرمی۔ صرف وہی بےتاثر ٹھہراؤ…
جو انسان اپنی بات کو قانون سمجھ کر رکھتا ہے۔
وہ آہستہ سے بولا
ان کروڑوں میں… تمہیں ایسے ہی تو نہیں چُنا نہ،
کچھ تو خاص بات ہوگی نہ تم میں۔

پریشے نے سرد لہجے میں پوچھا
میری… خاص بات؟

اسوان نے الماری کا دروازہ بند کیا،
اس کی طرف مڑا،
اور ہولے سے مسکرایا—
وہ مسکراہٹ جس میں محبت نہیں…
صرف فیصلہ ہوتا ہے۔

ہاں۔
تمہاری خاص بات یہ ہے…
کہ تم خود تکلیف سے مر جاؤ گی،
لیکن کسی دوسرے کو تکلیف نہیں دو گی۔

پریشے چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے بولی
آپ… میری اچھائی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اسوان نے کندھے ہلکے سے جھٹکے۔
بالکل بےشرم سچائی کے ساتھ بولا
کہہ سکتے ہیں۔

پریشے کا دل ایک دھڑکن کے لیے رکا،
وہ اسے امید نہیں دے رہا تھا،
معافی نہیں دے رہا تھا،
رشتہ نہیں دے رہا تھا…
صرف قبضہ رکھ رہا تھا۔

آپ دو سال میرے ساتھ ڈراما کرتے رہے؟
آپ… سچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتے؟

پریشے کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
اسے اسوان کی بیٹی ہونے پر اب کوئی شک نہیں تھا
یہ حقیقت پکی تھی، سخت تھی، ناقابلِ انکار تھی۔
مگر…
یہ بات کہ اسوان اسے محبت نہیں کرتا،
یہ اس کا دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔
نہ مانتی تھی۔
نہ مان سکتی تھی۔

اسوان نے ایک دھیمی، سرد سانس بھری۔
پھر بہت سادہ، بہت سیدھی، بہت بے رحم زبان میں بولا
اگر تم اس جھوٹ کے ساتھ…
کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں…
پری کا خیال رکھ سکتی ہو،
تو میں یہ جھوٹ بولنے کے لیے تیار ہوں۔

پریشے کی آنکھوں میں پھر بھی آنسو نہیں آئے۔
صرف خالی پن تھا۔۔۔
وہ دیر تک اسے دیکھتی رہی،
اسوان کی آنکھیں، اسوان کا چہرہ،
وہی چہرہ جسے وہ محبت کا آئینہ سمجھتی رہی تھی…
آج اسے پہلی بار پتھر لگا۔

اُس کی زبان سے کچھ نہ نکلا…
لیکن اس کے اندر ایک آواز چیخ رہی تھی
تو دو سال…
میں کس جگہ کھڑی تھی؟
کون تھا وہ شخص…
جس سے میں نے محبت کی تھی؟
اور کون ہوں میں…
اس انسان کے لیے؟

++++++++++++

صبح کی مدہم سی روشنی پردوں سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھی۔ زیدان کی آنکھ آدھی بند تھی، مگر اتنی کھلی کہ سامنے بیٹھی کائنات کا جھکا ہوا سراپا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اس کے برابر میں بیٹھتی جاگ چکی تھی، کتاب ہاتھ میں، چہرے پر وہی اطمینان… وہی خاموش خودداری جو شادی کے بعد اس میں نئی نئی اتری تھی۔

گزشتہ رات وہ اس کے پہلو میں سوئی تھی، لیکن اپنے اور زیدان کے درمیان بڑے بڑے کُشن رکھ کر۔

زیدان نے کروٹ لی، آنکھوں میں نیند کی بھاری سی تہہ لیے پوچھا،
آج پیپر نہیں ہے تمہارا؟

کائنات نے بغیر سر اٹھائے دھیرے سے کہا،
نہیں… کل ہے۔ بیچ میں ایک دو دن کا گیپ ہے۔

زیدان نے چادر ایک طرف کرتے ہوئے لمبا سانس لیا،
اچھا… پھر میرے لیے ناشتہ لے آؤ۔

کائنات نے بنا کتاب سے نظریں ہٹائے کہا
میں نہیں لا رہی۔

وہ چونکا۔
کیوں؟

وہ اب اس کی طرف پورے اعتماد سے مُڑی۔
آپ کو یاد ہے پرسوں میں آپ کے لیے ناشتہ لائی تھی تو آپ نے کیا کہا تھا؟ ‘میں نہیں کروں گا’… اور پھر میں نے آپ سے کیا کہا تھا؟ کہ دوبارہ میں نہیں لاؤں گی۔

زیدان نے سوچتے پھر کہا
ہاں، لیکن رات کو تو میرے لیے کھانا لے کر آئی تھیں نا۔

کائنات کے چہرے پر بےنیازی اتر آئی۔
تو میں نے ناشتہ نہیں لانے کا کہا تھا… رات کے کھانے کا نہیں۔

اور اگر میں رات کے کھانے کے لیے بھی انکار کر دیتا؟… تو پھر نہیں لاتیں؟

وہ رتی برابر ہچکچائے بغیر بولی،
نہیں… بالکل نہیں۔

وہ اس کی نظریں دیکھ کر کچھ لمحے اسے ٹٹولتا رہا۔
ایسا کیوں؟

کائنات کی پلکیں جھپکائیں
کیونکہ پھر میری… self respect ہَرٹ ہوتی ہے۔

زیدان نے بھنویں اٹھا لیں۔
شادی کے بعد ہی تمہاری self respect ہرٹ ہونے لگی۔۔۔؟؟

کیا مطلب آپ کا؟ اُس نے ناسمجھی سے سر ہلایا۔۔

مطلب یہ کہ پہلے تو تم ڈھیٹوں کی طرح میرے کمرے میں کبھی ناشتہ، کبھی کھانا لے کر گھس جایا کرتی تھیں۔ تب تُمہاری self respect سو رہی تھی کیا؟

کائنات کی آنکھوں میں لمحے بھر کو ایک تلخ سی پرچھائی ابھری۔
ہاں، سو رہی تھی… کیونکہ تب میں شوق سے نہیں آتی تھی۔ سب زبردستی مجھے بھیج دیتے تھے آپ کے پاس۔

زیدان سیدھا ہو بیٹھا۔
تو اب بھی کیا مُجھے زبردستی کرنی پڑے گی تمہارے ساتھ؟

کائنات نے ایک نظر اس پر ڈالی، دل میں عجیب سا خالی پن لیے۔
آپ میرے ساتھ زبردستی کریں گے؟

زیدان نے سنجیدگی کے ساتھ کہا
جہاں تم پیار سے بات نہیں مانو گی وہاں زبردستی ہی کرنی پڑے گی مجھے۔

کائنات نے اِدھر اُدھر دیکھتے کہا
کہاں ہے پیار؟… کدھر ہے آپ کا پیار؟… یہ ہے آپ کا پیار؟

زیدان نے تھوڑی سختی سے کہا
تو کیا اب میں چیخوں؟ چِلّاؤں؟

کائنات نے ناگواری سے دوبارہ کتاب پر اپنی نظریں جم لی۔۔۔
ہاں، چیخیں… چلائیں… مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

زیدان نے چند لمحے اسے دیکھنے کے بعد آہستہ سے سر ہلایا،
اوکے…
اتنا کہہ کر وہ چادر ایک طرف پھینکتا اٹھ کھڑا ہوا۔

کائنات کو جیسے یقین ہی نہ آیا ہو۔
وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگی—
آنکھوں میں بےاختیار حیرت کا عکس۔

اتنے آپ فرماں بردار…؟
کائنات نے اُسے گھورتے طنز کیا۔۔۔

زیدان نے اس کے انداز کو دیکھ کر بیچارے والا چہرہ بنایا اور کہا
آپ اور کیا چاہتی ہیں؟
وہ صوفے کی طرف بڑھا، جوتے پہننے لگا، پھر بےساختہ بولا
تم تو ناشتہ لانے سے رہی… تو جارہا ہوں اب چیخنے۔۔۔ کیوں کہ مُجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔

کائنات نے ہونٹ بھینچ لیے۔
جانے کیوں… اس کی یہ مان جانا دل کو عجیب سا لگ رہا تھا۔
وہ تو سوچ رہی تھی، وہ غصہ کرے گا…
دھونس دے گا…اُسے ڈرائے گا ، اُس پر چیخے گا۔۔
مگر اُس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔
دل کے اندر کہیں ہلکی سی چبھن اُبھری۔

اس نے آہستہ سے کہا، جیسے خود سے بات کر رہی ہو۔
ان کو کیا ہوگیا ہے۔۔۔؟؟ مُجھے پر چیخے نہیں پہلے کی طرح۔۔۔؟؟

زیدان کمرے سے باہر نکلا۔
سیڑھیوں کے پاس ریلنگ تھامی، اور بلند آواز میں للکارا،
گھر پر کوئی ہے یا سب مر گئے ہو؟
نــــاشتہ دو مجھے۔۔۔۔

نیچے ڈائننگ ٹیبل پر سب لوگ ہمیشہ کی طرح آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے۔
زیدان کی گھمک دار آواز پر سب کی چمچیں ایک لمحہ کو ہوا میں ہی رک گئیں۔

راضیہ بیگم نے ہتھیلی ماتھے پر مار کر کہا،
اےّےّے، کیوں چیخ رہا ہے؟ صبح صبح ۔۔۔۔

زیدان تڑاخ سے بولا،
دادی! ناشتہ… ناشتہ! بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔۔۔

عائشہ بیگم نے پراٹھے کا نوالہ پلیٹ میں رکھتے ہوئے کہا،
تو کائنات سے کہو نا، وہ لے آئے گی۔

زیدان نے ماتھے پر تیوری ڈال کر جواب دیا،
وہ سو رہی ہے۔۔۔۔

زینب بیگم فوراً بولیں،
تو اُٹھا دو۔۔۔۔

زیدان نے فورا پلٹ کر گھورا،
آپ کو دنیا سے ہی نہیں اٹھا دوں میں؟؟

اسوان نے فوراً ٹوکا
زیدان! تمیز ہے۔۔۔۔

زیدان نے ہاتھ نچا کر کہا،
تمیز نہیں، میرے اندر بھوک ہے!
نــــاشتہ لے کر آؤ کوئی۔۔۔۔

اسوان نے کندھے اچکائے،
چچی صحیح تو کہہ رہی ہیں۔ کائنات کو اٹھاؤ، وہ لے آئے گی ناشتہ۔

زیدان نے روکھے انداز میں جواب دیا،
میں نہیں اٹھا رہا اُسے! تم لوگ بھیج دو ناشتہ۔۔۔۔

اسوان نے دانت پیسے،
یہاں سے تمہارے لیے اُٹھ کر کوئی ناشتہ نہیں لانے والا۔

زیدان نے سب کو گھورتے ہوئے کہا
کیوں؟ تم سب کے پاؤں میں مہندی لگی ہے کیا؟

اسوان نے سرد نظروں سے کہا،
ہاں، لگی ہے۔۔۔۔

اسی وقت پریشے نے جلدی سے اپنی کُرسی سے اُٹھتی ہوئی بولی۔۔۔
اُففف! میں لے آتی ہوں۔ میرے پاؤں میں نہیں لگی مہندی۔۔۔

اسوان فوراً اس پر برس پڑا،
بیٹھ جاؤ چپ سے! اُس کی بیوی ہے۔۔۔

پریشے نے کندھے اچکا کر کہا،
تو وہ سو رہی ہے نا۔۔۔

اسوان اُسے گھورتے کہا 
تمہیں لگتا ہے وہ سو رہی ہوگی؟
جتنا یہ بندر چیخ رہا ہے…
اس کے کان میں آواز نہیں جا رہی ہوگی؟

پریشے نے سر ہلایا۔۔۔۔
ہاں… یہ بھی ہے…

زیدان نے غصے میں دوبارہ چیخا،
اگر میں نیچے آگیا نا… تو اچھا نہیں ہوگا۔ بتا رہا ہوں سب کو۔۔۔۔

اسوان نے دونوں ہاتھ سے اشارہ کیا،
ہاں یہی اچھا ہے۔۔۔
تم خود آؤ، خود اپنا ناشتہ بنا کر لے جاؤ…
کائنات تو سو رہی ہے نا؟
اور ہم سب کے پاؤں میں مہندی لگی ہے۔۔۔۔

زیدان نے دانت پیسے،
رُکو… ابھی بتاتا ہوں۔۔۔۔

وہ غصے سے سیڑھیاں اُترنے لگا۔۔۔
جیسے اب پورا گھر ہلا کر رکھ دے گا۔

+++++++++++

کمرے کے دروازے کے پار…
زیدان کی گھمکتی ہوئی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
ہر لفظ، ہر چیخ، ہر دھمکی…

وہ خود سے بڑبڑائی۔۔۔
یا اللہ… یہ انسان کبھی نارمل رہ بھی سکتا ہے…؟

نیچے سے اسوان، پریشے، نانی…
سب کی آوازیں آرہی تھیں،
ہر جملہ، ہر مکالمہ،

ابھی تو اندر نارمل تھے اور ابھی کیسے چیخ رہے ہیں۔۔۔۔

اُس کا ایک دِل کیا کہ وہ روم سے نکل جائے۔۔۔۔
اُس کا روم سے نکلنا اور پھر ایک دم سکون ہونا تھا۔۔۔ لیکن پھر اس کے زخم نے اسے روک دیا جو گھر والوں نے اس کے ساتھ کیا۔۔۔ اُس کے بعد اس کا کیا یہ انکار تو کچھ بھی نہیں۔۔۔۔

+++++++++++

زیدان غصے سے سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے پہنچا۔
سیدھا ڈائننگ ٹیبل کی طرف آیا۔۔۔۔
اس کی نظریں ادھر اُدھر دوڑنے لگیں،
جیسے شکار پر نکلا ہو،
اور شکار… ناشتہ ہو۔

اچانک اس کی نظر ڈائننگ ٹیبل کے کونے پر گئی،
جہاں ٹرے اسٹینڈ میں پورا گلاس سیٹ سجا تھا۔

زیدان کی آنکھوں میں ایک شرارتی چمک آئی۔
وہ آگے بڑھا…
اور ٹرے ایک جھٹکے سے اٹھا لیا۔

پوری قطار میں رکھے گلاس ایک ساتھ کھڑکھڑائے—
اور پھر زیدان نے وہ سب گلاس
بے رحمی سے نیچے فرش پر پھینک دیے۔

کھڑام… کھڑام… کھڑام…

اسوان اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑا ہوا۔
کیا کر رہے ہو، پاگل؟

زیدان نے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا،
چپ کر کے دیکھو… بس دیکھو۔

سب ساکت۔
سب حواس باختہ۔

پھر زیدان نے عائشہ بیگم کی پلیٹ پر ہاتھ ڈالا—
جس میں ایک اور آدھا پراٹھا رکھا تھا
جو وہ خود اور سکون سے کھا رہی تھیں۔

زیدان نے بغیر اجازت
پلیٹ ان سے چھین لی
اور پورا پراٹھا ٹرے میں رکھ لیا۔

عائشہ بیگم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
ارے… ارے… ارے!! یہ کیا،

زیدان نے ہاتھ دکھا کر روکا،
چپ ۔ حرکت نہ کرو۔ یہ ‘ریسکیو آپریشن ناشتہ 110’ چل رہا ہے۔

عائشہ بیگم نے ہونٹ کاٹا،
میری سمجھ سے باہر ہے یہ بندہ…

اسی دوران زیدان کی نظر اسوان کی پلیٹ پر گئی۔

اسوان ابھی بیٹھا ہی تھا..
اور اس کے آملیٹ کو ہاتھ لگانے کا وقت ہی نہیں ملا تھا..
پوری طرح جاندار، گرم، اور سالم انڈا
پلیٹ کے بیچوں بیچ رکھا تھا۔

زیدان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
یہی تو چاہیئے تھا….

وہ آگے بڑھا،
اور پورا انڈا والا پلیٹ اٹھا کر
اپنے ٹرے کے اندر رکھ دیا۔۔۔

اسوان اسٹن ہو کر بولا،
اوئے! وہ میرا انڈا تھا۔۔۔۔

زیدان بےنیازی سے بولا،
اب میرا ہے۔

راضیہ بیگم کی پلیٹ اس کے سامنے دھری تھی،
سوجی کا حلوا…
نرم، گرم، خوشبودار…

زیدان کی نگاہ وہاں جا کر رکی۔
ایک پل کے لیے بس رکی…
اور اگلے ہی پل
شکار مکمل۔

وہ جھکا،
پوری پلیٹ اٹھائی،
اور بڑی شان سے اپنے ٹرے میں رکھ دی۔۔۔

راضیہ بیگم نے آنکھیں پھیلائیں،
استغفراللہ… یہ کیا—؟

مگر زیدان تب تک آگے بڑھ چکا تھا۔

زینب بیگم کی نفاست سے سجی ایووکاڈو ٹوسٹ
اسے دیکھتے ہی اس کی آنکھ میں ایک عجیب سی چمک اُبھی۔

پلیٹ اٹھا کر بغیر پلک جھپکے اپنے ٹرے میں رکھ دی۔

زینب بیگم نے بےحد آہستگی سے کہا،
یہ میں نے خود بنایا تھا…
مگر جملہ ہوا میں تحلیل ہو گیا،

اگلے لمحے وہ پریشے کے سامنے تھا۔
اور اُس کی پلیٹ میں گرم پراٹھا
اور ساتھ بھاپ چھوڑتا انڈا…

پریشے نے صرف ایک سیکنڈ کا فاصلہ دیکھا،
اور اس ایک سیکنڈ میں
اس کی پوری پلیٹ زیدان کے ہاتھ میں تھی،
اور اگلی سانس میں
ٹرے کے اندر۔

زیدان!!!
پریشے کی آواز حیرت سے زیادہ بے یقینی سے بھری تھی،
میرا پراٹھا؟ میرا انڈا؟

ریسکیو آپریشن کا حصہ تھا۔
زیدان نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا،
جیسے واقعی ناشتہ کسی بڑی تباہی سے بچایا جا رہا ہو۔

اور آخر میں اسوان کی گرم کافی بھی
بڑی شان سے ٹرے میں رکھ دی گئی۔

یہ تو حد ہوگئی۔۔۔
اسوان نے دونوں ہاتھ پھیلا کر کہا،
کافی بھی؟

ضروری تھی۔
زیدان نے ایسے کہا
جیسے کوئی ڈاکٹر کہہ رہا ہو
آپریشن کے لیے یہ آلہ ناگزیر ہے۔

چند لمحوں بعد
پورا ڈائننگ ٹیبل یوں خالی کھڑا تھا
جیسے کبھی یہاں ناشتہ رکھا ہی نہ ہو۔

اور زیدان…
اپنے ٹرے کے گرد فاتحانہ خاموشی میں کھڑا تھا۔۔
جیسے کسی بادشاہ نے ایک ہی صبح میں
ساری ریاستیں فتح کر لی ہوں۔

اور پھر…
ڈائننگ ٹیبل پر جتنی بھی خالی پلیٹیں بچی تھیں
وہ ایک ایک کر کے اٹھاتا گیا،
تیزی سے، بےدردی سے،
جیسے یہ پلیٹیں نہیں،
اس کے دشمنوں کے نشان ہوں۔

اور پھر۔۔۔۔
زیدان نے ایک ایک کر کے
تیزی سے، پوری قوت سے
فرش پر دے ماریں۔
ٹھک!
ٹھان!
کھڑام!

عائشہ بیگم نے کان پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر لیں،
یا اللہ… خیر۔۔۔

پریشے کی آنکھوں کے سامنے جیسے دنیا گھوم گئی۔
یہ… پلیٹیں… کیوں؟

صفائی کر رہا ہوں.
زیدان نے مکمل سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا،

راضیہ بیگم نے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے۔
یہ بندہ کسی دن دل کا دورہ دے کر ہی دم لے گا…

زیدان نے اپنی آستین جھاڑی،
ٹرے کو مضبوطی سے تھاما،
اور مڑتے ہوئے اسوان کے کندھے پر تھپکی دی۔۔

یاد رکھنا…
اس کی آواز میں وہی بے نیازی،
وہی عجیب فاتحانہ ٹھنڈک
جو صرف زیدان کے پاس ہوتی ہے۔
اب مجھے نیچے بلانے سے پہلے
سو نہیں…
سو بار بھی نہیں…
سو بار سے بھی زیادہ سوچنا۔
ورنہ ناشتہ نہیں،
پورا گھر ریسکیو آپریشن میں چلا جائے گا۔

اسوان نے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا،
یہ… کیا تھا؟

زیدان بے نیازی سے شانہ اچکاتے ہوئے بولا،
سیفٹی آپریشن تھا۔
ناشتہ غلط ہاتھوں میں نہیں جانے دینا تھا۔

یہ کہہ کر اپنا بھرا ہوا ٹرے مضبوطی سے تھاما،
گردن اکڑا کر مڑا، اور پوری رعونت کے ساتھ
پیچھے دیکھے بغیر چلتا بنا۔

اسوان صرف اتنا بول سکا،
مطلب… اپنے ہی ہاتھوں میں دے دیا؟

رضیہ بیگم چند لمحے تک ٹوٹے ہوئے گلاسوں اور اجڑی ہوئی میز کو گھورتے رہیں۔
آخر کار انہوں نے گہری سانس لی،
اپنی چادر درست کی
اور بےحد سنجیدگی سے ملازمہ کو آواز دی۔
اےّ…! یہ سب اٹھا لو،
انہوں نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا،
اور ہمارا ناشتہ دوبارہ بنا دو۔ سب کا۔

زیدان ابھی ٹرے سنبھالے اپنے کمرے کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ چرمرایا۔ پری، بکھرے ہوئے بالوں اور خفگی میں تنی ہوئی بھنوؤں کے ساتھ باہر نکلی۔ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ اسے ایسے گھور رہی تھی جیسے ابھی فیصلہ کرنے والی ہو کہ اسے ڈانٹے یا سیدھا مقدمہ درج کروا دے۔

کر لیا صبح صبح پھر سے تماشہ؟ اور میری نیند خراب کر دی…

زیدان نے اطمینان سے دیکھا پھر بولا
ابھی تو تماشا ختم ہوگیا… پہلے نکلتی نا، پھر تم دیکھتی میرا آپریشن۔

پری نے آنکھیں گھمائیں،
ہُنہ… بڑے ہو جائیں پہلے۔ ہر صبح جنگِ عظیم شروع کر دیتے ہیں۔ کب سمجھدار ہوں گے آپ، زیدان صاحب؟

زیدان نے بے فکر انداز میں شانے ہلائے،
جاؤ دوبارہ سوجاؤ جا کر میں اب اپنے روم میں جارہا ہوں۔۔۔
یہ کہتا وہ اپنے روم کے اندر چلا گیا، اور باہر صرف ایک چھوٹی سی، غصے سے پُھولی ہوئی پری کھڑی رہ گئی۔

پری نے اپنی چھوٹی سی ناک سکوڑی، ہونٹ باہر نکالے اور غصے میں اپنی پونی کو جھٹکا دیا—جیسے پونی بھی زیدان کی غلطی ہو۔
ہُنھ! نیند خراب کردی میری۔۔۔۔
وہ آہستہ آواز میں بولی، جیسے مسئلہ بھی بہت بڑا ہو اور وہ خود بھی۔

پھر دونوں ہاتھ اپنی ننھی کمر پر رکھ کر وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ اس کے قدموں میں ناراضی اتنی تھی کہ لگتا تھا پوری سیڑھیوں کو پتا چل جائے گا کہ اس کا موڈ خراب ہے۔

چھوٹے چھوٹے قدموں سے دپ… دپ… دپ کرتی وہ نیچے اتری،

نیچے پہنچ کر وہ رک گئی۔
ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی پریشے کو دیکھ کر اس کا موڈ مزید بگڑ گیا۔
جیسے کسی نے نمک نہیں، مرچ ہی چھڑک دی ہو۔
آپ گئی نہیں میرے گھر سے ابھی تک؟
وہ غصے سے بولی۔

سب حیرانی سے اب پری کو دیکھنے لگے۔۔۔۔ لیکن کوئی کُچھ نہیں بولا۔۔۔

پریشے نے اسے دیکھا۔
کیوں؟ تم نے کہا تھا کیا مجھے جانے کے لیے؟
وہ منہ بناتی بچوں کی طرح معصومیت سے بولی۔۔۔
جیسے پری نہیں وہ بچی ہو۔۔۔۔

اوہ نہیں کہا تھا کیا؟
پری غصے سے اُسے دیکھتی سختی سے کہا

نہیں…
پریشے نے معصومیت سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔

زنیب بیگم نے ہلکی سی عائشہ بیگم کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
اِسے دیکھو اپنا بچپنا یاد آرہا ہے۔۔۔۔

عائشہ بیگم نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا
خاموشی سے بیٹھ کر صرف دیکھو۔۔۔۔وہ اُسے مانا رہی ہے نہ۔۔۔۔

ایسے بچا بن کے۔۔۔۔؟؟
زنیب بیگم نے ناگواری سے کہا عائشہ بیگم صِرف سر ہلا کر رہ گئی۔۔۔۔

پری نے فوراً سرد لہجہ میں کہا۔۔۔
اچھا اب میں کہہ رہی ہوں نا، نکلیں میرے گھر سے۔۔۔

اسی وقت اسوان کی آواز آئی۔
پری…

پری نے فوراََ اسوان کو دیکھتے بیزاری سے بولی۔
بابا! میں نے آپ کو کہا تھا مجھے اِن کی شکل بھی نہیں دیکھنی۔۔۔

پریشے فوراً جلدی سے بولی۔۔۔۔
اچھا پھر میں منہ میں ماسک لگا کر رہ لیتی ہوں؟ کیا خیال ہے؟

پریشے کے منہ سے جیسے یہ جملہ نِکلا۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے سب ہی افراد کے چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹ آگئی۔۔۔۔ یہاں تک کے اسوان کے چہرے پر بھی۔۔۔ لیکن وہ پری کے رویے کو وجہ سے چھپا گیا۔۔۔۔

پری نے حیرت اور غصے کا عمدہ مکس بنا کر کہا
مذاق چل رہا ہے ادھر ہاں؟

نہیں چل تو نہیں رہا، لیکن اگر تم چاہو تو چل سکتا ہے…
وہ معصومیت سے گویا ہوئی۔۔۔۔

چپ رہیں۔۔۔۔۔
پری کے ننھے چہرے پر غصے کی سرخی اور بھی گہری ہو گئی۔ پانچ سالہ وجود، مگر انا اور تکلیف بالکل بڑوں جیسی تھی۔۔۔۔

اوکے…
وہ سر جھکاتی کہتی خاموش ہوگئی۔۔۔۔

پری فوراً اپنے بابا کے پاس پہنچ گئی۔ اور اسوان کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔
بابا میری بات سنیں۔۔۔۔

اسوان نے اُسے اٹھاتے اپنے گود میں بیٹھتا لیا اور نرمی سے جواب دیا
اس بات کے علاوہ میں تمہاری ہر بات سنوں گا…

پری کی آنکھوں میں پانی جھلکا، غصہ اُس کے ننھے دل میں اور گہرا ہو گیا۔
بابا… بابا…

اسوان کا لہجہ اب بھی مان دینے والا تھا۔
بابا نے ہمیشہ تمہاری بات مانی ہے نا؟ اس بار بابا کی بات مان لو…
وہ اپنے ہاتھوں سے اُس کا بال ٹھیک کرتا نرمی سے بولا۔۔۔۔

پری نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں۔۔۔۔۔

چپ چاپ بیٹھی پریشے نے آہستہ آواز میں کہا
میرے پاس ایک حل ہے… کیا مجھے اجازت ہے بولنے کی؟

اسوان نے تھکا سا سانس لیا۔
بولو…

پریشے نے فوراََ تڑاخ کر کہا
آپ سے اجازت نہیں ماننی میں نے… جس نے مجھے چپ کروایا ہے، اُس سے ماننی ہے۔

پریشے کی بات پر اسوان نے حیرانی اور غصے سے پریشے کو دیکھا۔۔۔ وہ اس کی بات کا جواب دینے لگا تھا۔۔۔ لیکن پھر اُسے نے سوچا کہ وہ پری کو مانا رہی ہے۔۔۔ اسی لیے خاموش ہوگیا۔۔۔۔

زنیب بیگم نے پھر سے عائشہ بیگم کے کان میں سرگوشی کی،
میں تمہیں بتا رہی ہوں۔۔۔۔ یہ اسوان ان دونوں کے درمیان بہت ذلیل ہونے والا ہے۔۔۔

عائشہ بیگم نے تھوڑی خفکی سے جواب دیا،
وہ ذلیل ہو یا نہ ہو تُم ابھی مُجھے سے ذلیل ضرور ہوجاؤ گی۔۔۔ چھوڑو دو ان تینوں کو ان کے حال پر۔۔، اُٹھتو ابھی اور میرے ساتھ کچن میں چلو۔۔۔ ایک تو پتہ نہیں ان کو کتنا وقت لگ رہا ہے دوبارہ ناشتہ بنانے میں۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کرتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔

زنیب بیگم نے ناگواری سے کہا
ابھی میں نے اپنا ناشتہ بنایا تھا اب دوبارہ بناؤں۔۔۔ میں نہیں بنا رہی۔۔۔۔

پھر بیٹھی ربو یہیں۔۔۔۔ ناشتہ اب دو بجے ملے گا۔۔۔
وہ کہتی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
اور زینب بیگم دوبارہ انہی تینوں کا تماشا دیکھنے لگیں—
جیسے ڈرامہ نہیں، لائیو انٹرٹینمنٹ ہو…
اور وہ واحد تماشائی جس کی نظر ایک پل کو بھی ادھر اُدھر نہ جائے۔
اسی دوران، راضیہ بیگم کب کی ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کر جا چکی تھیں۔
کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔۔۔۔

پری نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں،
اور پریشے کو اوپر سے نیچے تک دیکھا…
پھر چھوٹا سا منہ مزید بگڑ گیا۔
آپ کچھ زیادہ ہی مجھ سے فری نہیں ہو رہی…
جملہ چھوٹا تھا، مگر انداز میں پوری ننھی برہمی تھی۔

پریشے نے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ روکی، مگر ناکام رہی۔
وہ آرام سے سیدھی ہوئی، اور محبت و شوخی کے ملے جلے انداز میں جواب دیا۔۔
نہیں، ابھی فری نہیں ہوئی… تم اجازت دو گی تو فری ہوں گی۔

پریشے کی بات پر پری دوبارہ بیزاری سے چیخی
بابا۔۔۔۔۔

اسوان نے دونوں کے بڑھتے شور میں آخرکار گہری سانس لے کر کہا،
آواز میں تھوڑی بے بسی، تھوڑی سنجیدگی
اس سے مسئلے کا حل تو سُن لو…

پری فوراً سیدھی ہوئی، اپنا رخ اسوان کے برابر میں بیٹھتی پریشے کی طرف کیا اور بولی۔۔۔۔
ہاں اچھا بتائیں، کیا حل ہے؟

پریشے نے ذرا سا جھک کر، اپنے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے اسے دیکھا،
تم چاہتی ہو نا کہ میں تمہارے اور تمہارے بابا کے بیچ میں نہ آؤں…؟

پری نے تیزی سے سر ہلایا۔
آنکھوں میں براہِ راست سے صاف جواب
ہاں ہاں ۔۔۔

پریشے نے معنی خیز انداز میں ابرو اٹھائی۔
تو میں تمہارے بابا کے کمرے کے بجائے تمہارے کمرے میں شفٹ ہو جاتی ہوں…؟

پری کے منہ کا زاویہ ایسے ٹیڑھا ہوا جیسے اسے دنیا کی سب سے بڑی گستاخی سنا دی گئی ہو۔
اچھا… واہ! میں آپ کو اس گھر میں بھی برداشت نہیں کر سکتی،
اور آپ میرے کمرے میں رہنے کی بات کر رہی ہیں؟

پریشے نے بالکل سکون سے جواب دیا،
لگتا تھا اس کے صبر کی حدیں بہت وسیع تھیں۔
تم مجھے اس گھر میں اس لیے برداشت نہیں کر رہی نا…
کہ میں تمہارے بابا کی بیوی ہوں، وہ میرے ساتھ رہتے ہیں؟
تو میں تمہارے بابا سے الگ ہو جاتی ہوں…
لیکن اس گھر سے تو نہیں جا سکتی ناں۔

پریشے کی یہ بات سنتے ہی اسوان نے اسے تیز، سخت نظروں سے گھورا۔
اس کے چہرے پر گہرا غصہ اتر آیا۔
کیا کہہ رہی ہو تم…؟

پریشے نے پورے اعتماد سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
صحیح کہہ رہی ہوں۔ میں پری کی انسیکیورٹی  دور کر رہی ہوں۔

اسوان کی پیشانی کی نسیں اب واضح تھیں۔
مجھ سے دور ہو کر؟

پریشے نے ایک پل کو آنکھیں جھپکیں، پھر دھیرج سے بولی
ہاں۔ آپ نے مجھ سے شادی پری کے لیے کی ہے نا…؟
تو میں پری کے ساتھ رہوں گی۔

پری نے لمحہ بھر کے لیے اپنی بڑی بڑی آنکھیں جھپکیں، پھر معصومانہ انداز میں گردن ہلائی۔
ہاں ٹھیک ہے…

اسوان کا ماتھا شکنوں سے بھر گیا۔
وہ حیران بھی تھا، ناراض بھی، اور اس چھوٹی پری کے ٹھیک ہے… پر مزید غیر مطمئن بھی۔

اسوان نے بے اختیار ہاتھ پیشانی پر رکھ لیا،
وہ جانتا تھا کہ پری کا “ٹھیک ہے”
اصل میں سب سے زیادہ غلط ہوتا ہے۔

اسوان نے دونوں کے درمیان نظر دوڑائی، پھر تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… کیا ٹھیک ہے؟ یہ نہیں ہو سکتا….
اس کی آواز میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔

پری نے چونک کر اسے دیکھا،
جیسے اچانک کسی نے اس کی چاکلیٹ چھین لی ہو۔
کیوں بابا؟
اس کی چھوٹی سی آواز میں حیرت بھی تھی اور شکوہ بھی۔

پریشے نے فوراً موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پری کا انداز کاپی کرتے ہوئے بولی
جیسے پوری دانست کے ساتھ اسوان کو چھیڑ رہی ہو
ہاں… کیوں بابا؟
وہ ٹھیک پری کے لہجے میں بولی،
اتنی مہارت سے کہ اسوان کا صبر ایک لمحے کو پھسل گیا۔

اسوان نے اسے گھورا،
وہی گھورا جو شوہر غصے میں نہیں،
بلکہ بے بس ہونے کی انتہا پر ڈالتے ہیں۔

پریشے نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اور بھی نرم لہجے میں جلن بڑھائی
ہمیں بھی تو سمجھائیں نا… کیوں نہیں ہو سکتا؟

اتنے میں ملازمہ دوبارہ ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ سجا گئی۔
تازہ پراٹوں اور انڈوں کی خوشبو نے ماحول کا تناؤ لمحے بھر کو ہلکا کر دیا۔

پری نے ناشتہ دیکھا تو فوراً اسوان کی گود سے پھدک کر نیچے اتری،
اور جیسے کوئی بہت بڑا فیصلہ کر لیا ہو، دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی
بابا… ہوگیا ہے بس! فیصلہ۔ میں نے آپ کی بات مان لی۔
اب اور کچھ نہیں….

یہ اعلان کرتے ہی وہ سامنے والی کرسی پر چڑھی،
ٹانگیں جھولتی ہوئیں،
اور پورا اعتماد لے کر پلیٹ اپنی طرف کھینچ لی،
جیسے کوئی راجکماری اپنی سلطنت واپس لے رہی ہو۔

اسوان نے ذرا سا جھک کر پریشے کے کان کے قریب سرگوشی کی،
آواز اتنی ہلکی کہ پری تک نہ پہنچے
پری کو جانے دو… پھر تمہیں میں بتاتا ہوں۔

پریشے نے چمچ پلیٹ میں ٹکایا،
ایک لمحہ اس کی آنکھیں اسوان پر ٹھہریں۔
کوئی جواب نہیں… کوئی احتجاج نہیں…
بس بےنیازی، تھی
اور پھر وہ پرسکون انداز میں ناشتہ کرنے لگی،
جیسے اسوان کی دھمکی اس نے سنی ہی نہ ہو،
یا پھر… سنی ہو اور نظرانداز کر دینا ہی بہتر سمجھا ہو۔

++++++++++++++

وہ ناشتہ لے کر کمرے میں داخل ہوا میز پر ٹرے رکھتے ہوئے.. پھر وہ آہستہ سے صوفے پر بیٹھ گیا۔

کائنات ابھی تک بستر پر بیٹھی اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ چند لمحوں کے بعد وہ بمشکل رکی ہوئی بےچینی کے ساتھ بولی
کیا کر کے آئے ہیں نیچے؟

زیدان نے نگاہ اس پر ڈالی، پھر بے نیازی سے کہا،
زیادہ کچھ نہیں… بس ناشتہ لے کر آیا ہوں۔

کائنات نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،
مجھے آواز آ رہی تھی…

وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتے ناشتہ کی پلیٹ ٹرے سے نیچے میز پر رکھنے لگا۔۔۔ پھر ایووکاڈو ٹوسٹ کی پلیٹ دیکھ ناگواری سے کہا
چچی پتہ نہیں کیا کھا رہی تھیں… یہ میں نہیں کھاتا۔ تم کھا لو۔
اس نے پلیٹ اس کی طرف بڑھائی۔
اور اگر یہ بھی پسند نہیں تو انڈہ پراٹھا بھی لایا ہوں۔

کائنات کی آنکھوں میں حیرت کی چمک لہری،
آپ میرے لیے بھی ناشتہ لے کر آئے ہیں؟

زیدان نے ہمیشہ کی طرح سنجیدگی سے جواب دیا،
نہیں… لے کر تو نہیں آیا۔

کائنات رک سی گئی،
تو…؟

وہ بے پروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولا،
تو مت کھاؤ۔ میں ہی کھا لوں گا سب۔

کائنات نے ناشتہ کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
بھوک تو مجھے بھی لگی ہے…

تو پھر آجاؤ۔ بسم اللہ کرو۔
زیدان سارے ناشتہ کی پلیٹ ترکیب سے میز پر سجاتا بولا۔۔۔۔

اس کی آواز میں ایک عجیب سا سکون تھا، ایک ایسا سکون جو کائنات کو لمحہ بھر کے لیے اپنی ساری خفگی بھلا دینے پر مجبور کر دیتا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ بستر سے اتر کر زیدان کے ساتھ سائڈ صوفے پر اس کے قریب بیٹھ گئی۔

مجھے آواز آئی تھی… پلیٹ کے ٹوٹنے کی۔ مجھے لگا آپ نے ناشتہ پھنکا دیا۔

زیدان نے سنجیدگی سے جواب دیا،
نہیں، خالی پلیٹ پھینکی تھی۔

کائنات نے حیران ہو کر پوچھا،
کیوں…؟

زیدان نے لاپروائی سے کہا
ویسے ہی…

کائنات کی نظر میز پر جا ٹھہری جس میں اتنا سارا ناشتے سجا تھا۔۔۔
حلوی کی بھری پلیٹ، دو انڈوں کی پلیٹیں، دو پراٹھوں کی پلیٹیں…
ایک میں پورا ایک پراٹھا، دوسری میں ایک اور آدھا پراٹھا رکھا تھا،
ساتھ بھاپ اڑاتی کافی،
اور ایووکاڈو ٹوسٹ کی وہ پلیٹ، ساتھ میں بریڈ جیم اور مکھن،

کائنات کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اگر میں یہ نہ کھاؤں… تو آپ یہ سب کھا لیں گے؟

زیدان نے بالکل سنجیدگی سے جواب دیا،
ہاں۔

کائنات کی آنکھیں اور بھی کھل گئیں، جیسے اس نے کوئی ممنوع بات سن لی ہو۔
زیدان نے ناک سکوڑ کر اسے دیکھا،
ایسا کیا دیکھ رہی ہو؟ کھانے کو کون انکار کر سکتا ہے بھلا؟ اور کھانے کے لیے تو میں جیتا ہوں۔۔

کائنات نے بے اختیار تپ کر کہا،
اچھا؟ اور جو اسی کھانے کو کبھی آپ انکار کر دیتے ہیں، کبھی پھینک دیتے ہیں؟ وہ…؟

زیدان نے آہستہ سے سانس بھری،
دیکھو… میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ جیسے… تم کسی کو پسند کرتی ہو، ٹھیک ہے؟

کائنات کا دل دھڑکا۔
زیدان کی بات ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کے ذہن میں ہادی کا چہرہ بجلی کی طرح لپکا…

زیدان بولا،
اور وہ تم سے کہے کہ تم سرخ رنگ کا ڈریس پہن کر آنا۔ ٹھیک ہے؟
اور تم وہ سرخ رنگ کا ڈریس پہن کر نہ جاؤ…
تو جسے تم پسند کرتی ہو، کیا وہ ناراض نہیں ہوگا؟ غصّہ نہیں کرے گا۔۔۔

کائنات نے پلکیں جھکا لیں،
دل میں ایک عجیب سی کپکپاہٹ اٹھ گئی۔

اچانک…
اس کی سوچ میں ہادی اور زیدان کے چہرے ایک ساتھ گڈمڈ ہونے لگے،
ہادی کی سنجیدہ نظریں…
زیدان کی بےنیاز تپش بھری نگاہ…

دونوں چہرے ایک دوسرے میں ایسے گھل رہے تھے جیسے کوئی غلط ملائی ہوئی تصویر۔

زیدان کی بات جاری تھیم۔۔
بس ویسے ہی… جب مجھے میری پسند کا کھانا نہیں ملتا، تو مجھے غصہ آ جاتا ہے۔
اور غصے میں میں کھانا پھینک دیتا ہوں۔

کائنات اسے حیرت سے دیکھتی رہی۔

زیدان نے جیسے اپنی بات مکمل کرنے کے لیے ایک اور مثال پیش کی،
اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شخص تمہیں بلائے… بار بار بلائے…
اور تم دیر سے پہنچو۔
تو وہ ناراض ہوگا نا؟

کائنات کا دل ایک لمحے کے لیے بےوثوقی سے کانپا۔

زیدان نے آخری جملہ خاص ٹھہراؤ سے کہا،
ویسے ہی اگر کھانے میں ذرا سی بھی دیر ہو جائے تو میری بھوک ختم ہو جاتی ہے…
پھر مجھے غصہ آتا ہے…
اور میں کھانے سے انکار کر دیتا ہوں۔

کائنات نے اسے دیکھا،
اس کی مثالیں بہت عجیب تھیں، وہ تو اپنی بات مکمل کر کے ناشتہ کرنے لگا تھا۔۔
لیکن اس کے ہر لفظ نے کائنات کے دل میں چھپی ہادی کی یاد کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
ایک لمحے کو اسے یوں لگا جیسے زیدان نہیں، ہادی بول رہا ہو…

++++++++++++

ہادی آئینے کے سامنے کھڑا بڑی سنجیدگی سے تیار ہو رہا تھا۔ کمرے میں ہلکی سی خوشبو بکھری ہوئی تھی اور شیشے میں اس کی پر اعتماد پرسکون شخصیت واضح جھلک رہی تھی۔ ابھی اس نے کوٹ کی کالر سیدھی ہی کی تھی کہ پیچھے سے زرتاشہ کی نرم مگر بھرپور آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

میں سوچ رہی تھی… کیا اچھا نہیں ہوگا کہ ہم اپنے ولیمے کا کارڈ خود جا کر دیں؟

ہادی نے آئینے میں ہی اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،
کہاں ؟؟

زرتاشہ نے فوراََ کہا
میرے گھر…

ہادی نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی،
ہاں، خیال برا نہیں ہے۔

زرتاشہ کی آنکھوں میں چمک سی آئی،
تو کب جانا ہے؟

ہادی نے گھڑی پر نظر ڈالی اور پرسکون لہجے میں بولا،
چار بجے تک چلیں گے۔ میں آ جاؤں گا ہپستال سے … تم تیار رہنا۔

زرتاشہ نے فوراً سر ہلایا،
ٹھیک ہے۔

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *