likhariyon ke nam khat… written by Humaiza khattak…(Article).

لکھاریوں کے نام خط۔۔۔

ازقلم حمائزہ خٹک۔۔۔

!!اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

امید ہے آپ سب خیر و عافیت سے ہوں گے۔

میں آپ سب سے ایک اہم مسئلے پر بات کرنے لگی ہوں۔مسئلہ فلسطین ،مسئلہ کشمیر اور وہ تمام ممالک جو کافروں کی قید میں ہیں۔

جیسا کہ ہم سب لوگ سوچتے ہیں کہ ہمیں ان کے لئے کیا کرنا چاہیے یا ہم فلسطین اور ان سب ممالک کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے۔اور ہمیں اس پر آواز اٹھانی چاہیے نا کہ خاموش رہ کر ظلم کو بڑھاوا دینا چاہیے۔

بطور لکھاری میں یہ سوچتی ہوں کہ مجھے جہاں” بلقلم” کرنا چاہیے۔

میں ایک نئی لکھاری ہوں اور میں نہیں جانتی کہ میری تحریر یں کوئی پڑھتا بھی ہے یا نہیں۔لیکن پھر بھی میری ہمیشہ کوشش رہے گی کہ میں ظلم کے خلاف لکھوں اور حق کو ابھارنےکے لئے جو ہوسکا وہ کروں۔

کیونکہ یہی میرا کام ہے ۔مجھے لکھنا ہی آتا ہے تو میں لکھوں گی چاہے کوئی پڑھے یا نہ پڑھے ۔جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیاتو ایک چڑیا اپنی چونچ میں قطرہ قطرہ پانی بھر کر لاتی اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتی۔اس چڑیا نے یہ نہیں سوچا کہ میں ایک ہی ہوں میں کیا کر سکتی ہوں۔

بلکہ اس نے سوچا کہ مجھ سے صرف میرے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

مجھ سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے حصے کی مدد میں کیا کوشش کی۔؟

اسی طرح میں بھی سوچتی ہوں کہ مجھ سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا۔میرا لکھاریوں سے یہی کہنا ہے کہ آپ کا کام ہے لکھنا تو آپ کیوں نہیں لکھتے ظلم کے خلاف۔؟

کیا چیز آپ کو روکتی ہے۔؟

آپ کے پاس قلم ہے لکھیں۔

قلم میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ الفاظ بہت معنی رکھتے ہیں۔اور بہت پر اثر بھی ہوتے ہیں۔آپ کے پاس قلم کی طاقت ہے اس طاقت کا استعمال کریں ظلم کو مٹانے کے لئے۔میری آپ سب لکھاریوں سے گزارش ہے کہ اس ظلم کو قلم بند کریں۔

حق کےلیے لکھیں۔

آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنے حصے کی کیا کوشش کی ہے۔؟

اللہ تعالیٰ آپ سے سوال کریں گے کہ میں نے تمہیں قلم عطا کیا لکھنے کی توفیق دی تو کیا تم نے اس قلم کا صحیح استعمال کیا۔؟

کیا تم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔؟

کیا تم نے حق کے لئے لکھا۔؟

انسان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ایک لمحہ وہ سانس لیتا ہے اگلے لمحے سانسوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔سوچیں اگر آپ اسی لمحے اس دنیا کو چھوڑ جائیں ۔اور اللہ آپ سے سوال کریں کہ کیا کیا میرے بندوں کے لئے۔؟

جب میں نے تمہیں قلم دیا تھا حق لکھنے کے لئے تو تم نے کیوں نہیں لکھا۔؟

پھر کیا جواب ہو گا آپ کے پاس۔آپ سب گواہ ہیں اس ظلم کے تو جس طرح ہو سکے ان لوگوں کی مدد کریں۔

لکھاری ہیں تو لکھیں۔

سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو وہاں آواز اٹھائیں۔خدارا ان معصوموں کو اکیلا مت چھوڑیں ۔یہ وقت ہم پر بھی آئے گا اس لئے حق کے لئے لکھیں ۔ان کا ساتھ دیں۔یہ آزمائش صرف ان کی نہیں ہے۔

یہ آزمائش پوری امتِ مسلمہ کے لئے ہے۔

لکھاریوں سے میری خصوصاً گزارش ہے کہ اپنے قلم کو حق کے لئے اور ظلم کے خلاف لکھنے کے لئے آمادہ کریں۔حق کے لئے لکھیں ۔

لکھیں فلسطین پر ،کشمیر پر ان تمام لوگوں پر جو ظالموں کی قید میں ہیں۔

ایک لکھاری ہونے کے ناطے یہ آپ کا فرض ہے۔ان سب لوگوں کا آپ پر حق ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے۔

اگر اللہ نے آپ کو ایک چیز عطا کی ہے تو اس کا بہتر ین استعمال کریں۔اس نعمت کو فضول ضائع مت ہونے دیں۔

امید ہے آپ سب میری باتوں پر سنجیدگی سے سوچیں گے اور مجھے یقین ہے جو سچے دل سے فلسطین سے ہمدردی رکھتے ہیں حق پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ ضرور میری باتوں پر عمل کریں گے۔

میں کوئی بہت بڑی یا عظیم انسان نہیں ہوں۔بس ایک عام سی لکھاری ہوں۔مجھے خوشی ہوگی اگر کوئی ایک بھی انسان میری بات پر عمل کرے۔

فلسطین کو ،کشمیر کو اور ان تمام ممالک کو جو کافروں کی قید میں ہیں سب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔عافیہ صدیقی کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

اپنا خیال رکھیں ۔

فی امان اللہ۔

ختم شدہ۔۔۔

1 Comment

  1. Exactly 💯 veryyy nice article 👏🎉 I love it

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *