Dil ya Dharkan 2nd last Episode written by siddiqui

دِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۷

ایک ہفتے بعد۔۔۔۔۔
جیسے ہی ولید اندر آیا، اُس نے  ایک جھٹکے سے اپنی آنکھیں میچ لی،
یہ کیا حرکت ہے، حارث؟ تم جب سے ہوش میں آئے ہو، اپنے بھائی سے بات کیوں نہیں کر رہے؟
احمد صاحب کے بولنے پر بھی حارث نے کوئی حرکت نہیں کی، جیسے وہ سن ہی نہیں رہا تھا۔

اب کے ولید نے  احمد صاحب کو اشارہ کیا۔۔۔
اور وہ اس کا اشارہ سمجھ کر کہنے لگے۔۔۔
ولید، تمہیں یہ چوٹ کیسے لگ؟

احمد صاحب نے یہ جملہ بولا کہ حارث کی آنکھیں جھک سے کھول گئی۔۔۔
اور آنکھیں کھولتے ہی وہ بہت پچھتایا،کیوں کہ ولید کو کوئی چوٹ نہیں لگی تھی۔

اور وہ جو معصوم شکل بنا کر اسے دیکھا رہا تھا،

تمہیں لگتا ہے تم ایسے ولی کو نظر انداز کر سکتے ہو؟ احمد صاحب نے حارث کے ایسے جلدی سے آنکھیں کھولنے پر اور ولید کے ایسے معصوم شکل بنا کر دیکھنے پر مسکرا کر کہا

وہ صرف آنکھیں کھولے دونوں کو گھور رہا تھا، اب آنکھ تو کھول لی تھی اس نے لیکن بات… بات وہ ہرگز نہیں کرے گا۔

تو مجھ پر ظلم کر رہا ہے؟ اس نے ویسے ہی معصوم شکل بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔

حارث نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

ٹھیک ہے، نہیں کر، تو بات مجھ سے، میں جا رہا ہوں۔۔جہاں سے آیا تھا۔
وہ حارث کو منانے کی جگہ الٹا ناراض ہو کر بولا۔

تو بھائی ہے میرا۔ ولید کے ایسے جانے کا سن کر وہ چپ رہتا، ایسا ممکن نہ تھا۔
ولید بھی جانتا تھا اور حارث بھی جانتا تھا کہ ولید اس کا سگا بھائی نہیں تھا، ولید یتیم خانہ سے آیا تھا اور وہاں واپس جانے کی بات کر رہا تھا۔ وہ کیسے چپ رہ سکتا تھا؟

وہ مسکرائے۔میں تو گھر جانے کی بات کر رہا تھا۔۔۔۔ اس نے اسے منا لیا تھا، ہاں وہ ایسے ہی اسے مناتا تھا، جانے کی بات کر کے خود ناراض ہو کے۔۔۔
احمد صاحب  تو بس ان کی محبت دیکھتے تھے اور حیران ہوتے تھے… پتہ نہیں کیسی محبت تھی ان کے بیچ جس محبت کو کوئی توڑ نہیں سکتا چاہے دونوں ایک دوسرے کے اوپر گولی بھی چلا دیں،  اس کے بعد بھی ایک دوسرے سے نفرت نہیں کریں گے۔

تو میرا بھائی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں بھول جاؤں گا، تم نے مجھے نہیں، ماہی کو چُنا تھا۔ ماہی کی نفرت ابھی بھی آگ کے گولے کی طرح حارث  کے دل پر قائم تھی، وہ اس نفرت کو نظر انداز کر ہی نہیں پا رہا تھا۔

آپ دونوں کو ڈاکٹر بلا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ولید کچھ بولے، ایک نرس اندر آئی، ولید اور احمد صاحب سے کہا۔۔۔
اچھا۔۔۔وہ دونوں اب ساتھ ہی روم سے نکل گئے۔۔۔
حارث نے دیکھا کہ اُس نرس کے ساتھ ایک لڑکی اندر داخل ہوئی، اور نرس خاموشی سے باہر چلی گئی۔

اندر آئی لڑکی نے جیسے ہی دروازہ بند کیا، ایک خفیف سا اعتماد اُس کی چال میں جھلکا، لیکن آنکھوں میں بے حد تھکن اور اداسی چھپی ہوئی تھی۔
حارث ابھی تک سرہانے لیٹا، بغیر غور سے دیکھے ہی  بولا ، ایک مصنوعی نخوت کے ساتھ
استغفراللہ… ہینڈسم لڑکا دیکھا نہیں، پیچھے پڑ گئی۔

اتنے بھی کوئی ہینڈسم نہیں ہو تم۔ وہ پیچھے مڑ کر حارث کو بغور دیکھتی کہتی اُس کے پاس آکھڑی ہوئی۔

ماہی؟ تم؟ تم یہاں؟
آنکھوں میں حیرت نہیں، بلکہ نفرت تھی۔۔

ہاں، میں… اور کوئی ایسی جرات کر بھی نہیں سکتا۔ ماہی نے برے آرام سے کہا

دفع ہو جاؤ یہاں سے، نہیں تو جان سے مار دوں گا۔۔۔
وہ غصے سے چلایا۔۔۔

ماہی چند قدم آگے بڑھ کر، نظریں جھکا کر، مگر لہجہ مضبوط کرتے ہوئے بولی۔۔
پہلے پوری طرح ٹھیک تو ہو جاؤ… اور اتنا مت اُڑو، ابھی تو میں تمہیں ایک سیکنڈ میں مار سکتی ہوں۔
میری بات سن لو جو میں کہنے آئی ہوں، نہیں تو…

حارث اُس کی بات کاٹ کر طنزیہ بولا۔۔۔
نہیں تو کیا؟ مارو گی مجھے؟ ہاں؟ مار دو۔۔۔

ماہی ایک لمحے کے لیے خاموش… پھر دھیرے سے بولی
ارے تمہیں میں کیسے مار سکتی ہوں بھلا… تمہیں کوئی مار سکتا ہے؟
میں تو بس… ولید…اُس نے کہتے کہتے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔

ولید کا نام سنتے ہی جیسے اس کے زخم پھر تازہ ہو گئے ہوں، اس کی آنکھیں بھڑک اٹھیں
ولیدددد کے ساتھ کیا؟ ولید کے ساتھ کیا؟
وہ غصے سے چیخا تھا،

ماہی پُرسکون لہجے میں، بولی
جو تمہارا دل کرے، وہی سمجھ لو…
وہ طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے، جیسے کہہ رہی ہو اب تم پر چھوڑ دیا، میں حساب برابر کرنے آئی ہوں۔
مایوں سے لے کر اب تک جو کُچھ ہُوا اُس میں وہ تو اپنا آپ ہی بھول گئی تھی بہت ڈپریشن میں چلی گئی تھی پر اب وہ پوری تیاری کے ساتھ آئی تھی مایوں سے لے کر اب تک جو کچھ حارث نے کیا اُس وقت تو وہ ہوش میں نہیں تھی پر اب آچکی تھی وہ واپس سے پہلے جیسی ماہی بن گئی تھی۔۔۔ محبت سے آزاد اپنے لیے جینے والی لڑکی۔۔۔۔
اس کے انداز، اس کے حوصلے اور اس کے لب و لہجے نے حارث کو جھنجھوڑ دیا۔ وہ بستر پر نیم دراز تھا، لیکن غصے سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
ارے اتنی تکلیف مت دو خود کو… میری بات سن لو، شاید پھر اس کی نوبت ہی نہ آئے۔
دل تو چاہ رہا تھا کہ جیسے اس نے ماہی کی بے عزتی کی تھی، وہ بھی ویسا ہی کر کے حساب برابر کرے، مگر اس لمحے کچھ اور زیادہ ضروری تھا۔
ویسے تو دل کر رہا ہے تمہاری وہی عزت لوٹا دوں جو تم نے لی تھی… لیکن یہ وقت نہیں۔ یہ حساب بعد میں لوں گی، پہلے ایک بات سن لو۔۔۔

حارث چیخ کر، جیسے دل کی آگ زبان پر آ گئی ہو
دفعہ ہو جاؤ! مجھے تمہاری کوئی بکواس نہیں سننی۔۔۔

ماہی نے سخت لہجے میں، آنکھوں میں دلیری لیے کہا
سننی تو پڑے گی… تمہیں پتا ہے نا ولید میرے کنٹرول میں ہے۔ جب تک میں نہ چاہوں، وہ میرے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اب بتاؤ، میری بات سنو گے یا…؟
اس کی آواز میں وہ سختی تھی جو کمزور دلوں کو جھکا دیتی ہے۔
جب کوئی کمزور دل پر وار کرتا ہے، تو چاہے جتنا بھی سخت ہو، ایک لمحے کو جھک ہی جاتا ہے۔۔

حارث نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا
بولو جلدی! اگر میرے مطلب کی بات نہ ہوئی تو دیکھنا تم…

ماہی سراپا سکون، مگر اندر کہیں اضطراب کی لہر تھی میں چاہتی ہوں کہ ہمارے بیچ سب کچھ ویسا ہی ہو جائے، جیسا پہلے تھا…

حارث نے زہر سے بھرا جملہ کہا، لبوں پر طنز تھا
کیوں؟ اب تمہیں مجھ سے ڈر لگنے لگا ہے؟ کہ دو بار تو مارنے کی کوشش کر چکا ہوں، تیسری بار شاید سچ میں مار دوں؟

ماہی ہلکا سا شانہ جھٹکتے ہوئے، جیسے درد کو بے وزنی میں اڑا دیا ہو
یہ تم بھی جانتے ہو… اور میں بھی، کہ ماہی کو موت سے ڈر نہیں لگتا۔ تو تم سے کیسے لگے گا؟
میں چاہتی ہوں سب ٹھیک ہو… اور تمہیں مجھے ‘بھابھی’ ماننا ہو گا…

حارث چیخا۔۔ ان سب باتوں کے بعد؟ کبھی نہیں! تم میرے بھائی کو ڈیزرو ہی نہیں کرتیں۔۔۔
یہ مجبوری ہے تمہاری… تم چاہو یا نہ چاہو، اپنی نفرت کو دل سے نکالنا ہو گا۔

اور تم مجھے مجبور کیسے کرو گی؟

ماہی نرمی سے، مگر وہ نرمی ایک وار جیسی تھی
ابھی ولید کے پاس جاؤں گی… اور رو کر کہوں گی کہ مجھے صرف حارث چاہیے۔ تم جانتے ہو وہ پھر تمہارے پاس آئے گا،  بات کرے گا، منت کرے گا۔
اور جب تک میں نہ کہوں، وہ رکے گا نہیں۔ اگر تمہیں مجھ سے جان چھڑانی ہے، تو مجھے بھابھی ماننا ہو گا… ورنہ یہ جو سب کچھ ختم ہونے لگا ہے نا… دوبارہ شروع ہو جائے گا۔۔۔

جب تم ولید سے محبت ہی نہیں کرتی تو اس سے شادی کیوں؟ ہماری زندگی سے چلی جاؤ نا… میں سنبھال لوں گا اپنے بھائی کو۔ تم ہم سب سے دُور… بہت دور چلی جاؤ… کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔۔۔ وہ غصے سے چلایا

ماہی نرمی سے کہا
میں چلی جاتی… اسی دن چلی جاتی… مگر اسپتال کے باہر ولید نظر آ گیا… اُس کے بعد… میں نہیں جا سکتی تھی۔ اور اب تو کبھی بھی نہیں جا سکتی…

حارث کڑواہٹ سے لبریز لہجہ، جیسے دل سے نکلا ہر لفظ تیر ہو
میرے بھائی پر ترس کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔”
اسے یقین تھا، ماہی کا دل ولید کے لیے کبھی دھڑک ہی نہیں سکتا۔ اور جب وہ اسپتال آیا ہوگا… ولید تو ٹوٹ ہی گیا ہوگا…

ماہی چہرے پر تھکن، مگر لہجے میں مضبوط تھا
اگر ترس ہی کھا رہی ہوں… تو کھانے دو! شاید سب کچھ یوں ہی ٹھیک ہو جائے… اگر میں ابھی اسے چھوڑ کر چلی جاؤں، کہ مجھے حارث کی حرکتوں کے بعد اس سے نفرت ہو گئی ہے، تو… وہ مان لے گا۔ چھوڑ دے گا مجھے… لیکن پھر؟
ایک لمحے کو وہ رکی، آنکھیں جھکائیں جیسے اپنے اندر کچھ چھپا لیا ہو
پھر پوری زندگی وہ گِلٹ میں رہے گا… کہ وہ مجھے خوش نہیں رکھ پایا…
وہ سچ کہہ رہی تھی — ولید کی محبت عجیب تھی۔ بس ماہی کا چہرہ خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ اگر وہ ہنس دے تو وہ جیت جاتا۔ اگر وہ رو دے، تو جیسے وہ خود ہی ہار جاتا۔۔

حارث تلخی سے کہا
اچھا ہی ہے… کم از کم ہمارے بیچ کوئی لڑکی نہیں آئے گی اب۔۔
چہرے پر مصنوعی بیباکی، لیکن اندر کہیں کچھ ہلنے لگا تھا۔۔

ماہی نے  نرمی سے  کہا
تو تم چاہتے ہو کہ تمہارا بھائی ساری زندگی خود کو قصوروار سمجھتا رہے؟

حارث چلّا کر، جیسے برداشت ختم ہو چکی ہو
تم سب سے بڑی مصیبت ہو ہماری زندگی میں۔۔۔
ہاں… وہ ماننے کو تیار نہیں تھا… کہ یہ لڑکی اب اس کی زندگی میں ناقابلِ انکار حقیقت بن چکی ہے۔۔۔

ماہی مدھم، مگر بےاثر لہجہ… جیسے جانتی ہو سامنے والا اس سے کب تک انکار کرے گا
تم اپنے بھائی کو خوش دیکھنا چاہتے ہو یا نہیں؟

اسی لمحے دروازہ کُھلا… اور… ولید اندر داخل ہُوا۔۔۔
ولید کی نظر حیرت سے ماہی کی طرف گئی اور پھر حارث پر۔۔۔۔
اُن دونوں کی نظریں ایک ساتھ ہی ولید پر گئی۔۔۔
اور ولید… ولید کی آنکھوں میں ایک لمحے کو حیرت، دوسرے لمحے میں تکلیف اتر آئی۔۔۔
تینوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، مگر کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا… جیسے الفاظ گلے میں اٹک گئے ہوں
کمرے میں تین لوگ تھے، لیکن خاموشی ایسی کہ سانسوں کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی

حارث، جو ابھی ابھی شدید چوٹ سے سنبھل رہا تھا، خود کو سہارا دے کر ٹیک لگا کر اُٹھ بیٹھتا۔۔۔
اس کے سر پر پٹی بندھی تھی، پورا سر بھاری ہو رہا تھا — لیکن شاید دل اس سے بھی زیادہ بھاری تھا
حالانکہ ڈاکٹرز نے سختی سے منع کیا تھا کہ اُسے بستر سے نہیں اُٹھنا چاہیے،

ولید خاموشی کو توڑتا، مدھم لہجے میں کہا
تم یہاں کیسے آئی؟
شکر ہے… کسی نے تو خاموشی توڑی… ورنہ کمرے کی دیواریں بھی چیخنے لگتیں۔۔۔

ماہی فوراََ بولی جیسے پہلے سے جواب تیار ہو،
حارث کو دیکھنے آئی تھی۔

ہاں… تمہیں اُس کی فکر ہو رہی ہو گی نا…
یہ کہتے ہی ایک لمحے کو وہ تمام مناظر اُس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے
— جب حارث کو گولی لگی تھی،
— جب ماہی بار بار اس کی خیریت پوچھ رہی تھی،
— جب وہ خود درد میں تھا مگر ماہی کو تسلیاں دے رہا تھا…
یہ مناظر ماہی کے دل میں بھی جاگ چکے تھے… وہ لمحے جب ولید کی آواز میں عجیب تبدیلی تھی… جب اُس نے بات گھما دی تھی… جب کچھ چھپانے کی کوشش کی تھی۔۔ گولی ولید کو لگی تھی اور وہ پریشان حارث کے لیے ہوتی رہی۔۔۔

ماہی کی خاموشی، ولید کی الجھن، اور حارث کی ضد
تینوں ایک دوسرے کے دل کے رازوں سے بےخبر نہیں تھے، پھر بھی سب کچھ چھپانے کی کوشش جاری تھی
ولید کا دل بھر آیا تھا… وہ اندر سے ٹوٹ رہا تھا، لیکن چہرے پر جیسے زبردستی کی مسکراہٹ لگا رکھی ہو
حارث اندر ہی اندر جل رہا تھا… سوچ رہا تھا
کتنی تکلیف دیتی ہے یہ میرے بھائی کو…! لیکن آج نہیں… آج بس… بہت ہو گیا…
اس نے مضبوط ارادے کے ساتھ فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔صِرف اپنے بھائی کے لیے صِرف اپنے ولی کے لیے۔۔۔
یہ آج میری وجہ سے نہیں… تیری وجہ سے آئی ہے…
اس کا لہجہ سرد تھا، جیسے جذبات کی جگہ پتھر جم چکے ہوں۔۔

میری وجہ سے کیوں؟ میں تو بیمار بھی نہیں ہوں؟ اُس نے معصومیت سے کہا وہ ماحول کو کچھ ہلکا پُلکا کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔

یہ چاہتی ہے میں اسے معاف کر دوں، اور اپنی بھابھی مان لوں… جو میں کبھی نہیں کرنے والا۔۔۔
اُس نے ویسے ہی سرد لہجہ میں کہا

ولید کے لیے یہ جملہ جیسے زلزلہ تھا، اندر سے ہل کر رہ گیا۔۔۔
کیااااا؟؟؟ وہ چوکنا ۔۔
حارث، کچھ بھی مت کہو اب…

حارث طنزیہ انداز میں کہا
تمہارے سامنے کھڑی ہے… خود پوچھ لو… میں تو جھوٹا ہوں نا؟
بات تو وہ سچ کر رہا تھا، مگر لہجہ ہر لفظ میں چبھتا تھا

ماہی سنجیدہ، مضبوط لہجے میں کہا
میں تب ہی کچھ بولوں گی جب تم میری بات مانو گے… اس کی آنکھوں میں ضد تھی… وہ ماہی تھی — جو ہار ماننا نہیں جانتی تھی

ہنہ واٹ ایور۔۔۔۔ حارث نے ناگواری سے کہا

یہاں تم دونوں کے بیچ چل کیا رہا ہے؟ مجھے بھی کوئی بتائے گا؟ نہیں تو میں جا رہا ہوں۔۔۔
اب کے اُس نے تھوڑے غصے سے کہا۔۔
کمرے میں گھٹن اور کشمکش تھی… دلوں میں طوفان تھا۔۔
جیسے ہی ولید نے پیٹھ پھیری اور جانے لگا
ماہی نے حارث کی طرف دیکھا… اور حارث نے آہستہ سے سر ہلایا
ایک لمحے میں ایک دوسرے کو سب کہہ گئے بغیر بولے
اور پھر دونوں بیک آواز بولے
رُکو…۔۔۔
ولید کی قدموں کی چاپ تھم گئی…
اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا… پھر دونوں ہاتھ باندھے وہیں کھڑا ہوگیا۔ یہ اشارہ تھا ہاں اب بولنا شروع کرو۔۔۔

+++++++++++

ماہی ہسپتال سے ہو کر اب گھر آ چکی تھی۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی، سونیا پھوپو اُسے اتنی صبح صبح باہر سے آتا دیکھ کر حیرت میں پڑ گئیں۔ اُن کے چہرے پر ایک خاموش سا سوال تھا، اور آخر کار اُنہوں نے پوچھ ہی لیا
کہاں گئی تھی، ماہی؟
سونیا پھوپو کو کچھ کچھ اندازہ تھا — یا تو ماہی ہسپتال گئی ہو گی، یا پھر مہر اور نازیہ کے پاس۔ اور اُن کا یہ اندازہ بے جا نہیں تھا۔
ادھر، حارث کے صحیح سلامت ہونے کی خبر آنے کے بعد احمد صاحب کی فیملی نے ارشاد صاحب کا گھر چھوڑ دیا تھا اور جیسا وعدہ کیا تھا، ویسا ہی کیا — وہ اب ہوٹل میں شفٹ ہو چکے تھے۔ بس اب وہ حارث کے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کا انتظار کر رہے تھے، تا کے ہسپتال سے چھٹی ہونے کے بعد ہی وہ اپنی فیملی کو لے کر لندن واپس چلے جائیں۔۔۔ اور یہی سب کے لیے بہتر تھا تو کسی نے کچھ نہیں کہا۔۔۔

ماہی نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا
ہسپتال گئی تھی، پھوپھو…

سونیا پھوپو نے گہری سانس لی، جیسے ان کا اندیشہ سچ نکلا ہو۔
سونیہ پھوپو مشکوک انداز میں کہا
حارث سے ملنے؟

ماہی ہاں میں سر ہلایا۔۔
ماہی دل کی گہرائی سے کہا
اچھا پھوپھو، آپ کو بتانا تھا کہ ماہی سب کچھ ٹھیک کر کے آ گئی ہے…
چہرے پر ایک تھکی مسکراہٹ، جیسے دل کو قرار آیا ہو۔
آج پہلی بار ماہی نے اپنے دل کی نہیں سنی… اور سب ٹھیک ہو گیا…

سونیہ پھوپو بے یقینی سے کہا
کیا مطلب؟

ماہی نے آہستگی سے، نظریں جھکاتے ہوئے کہا
کاش پہلے ہی آپ سب کی بات مان لیتی، چپ چاپ سے ولید سے شادی کر لیتی… تو یہ سب نہ ہوتا…
خیر، ابھی بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا… ماہی سنبھل سکتی ہے…
پھر ایک لمبی سانس لیتے ہوئے جیسے خود کو سمیٹ کر وہ بڑا اعلان کر دیتی ہے
میں ولید سے شادی کروں گی، پھوپھو…

یہ جملہ سونیہ پھوپو پر جیسے بجلی بن کے گرا — وہ ہکا بکا رہ گئی۔۔۔
تمہیں کیا ضرورت ہے یہ سب کرنے کی؟ اگر ولید نہیں چاہتا شادی تو نہ کرو… ہم تمہیں مجبور نہیں کر رہے۔۔۔

ماہی پُرسکون مگر پُرعزم لہجے میں کہا
جانتی ہوں… مگر یہ میرا اپنا فیصلہ ہے۔
ماہی کی آنکھوں میں پختگی تھی، شاید پہلی بار وہ اپنے فیصلے پر اتنی واضح تھی۔
پھوپھو، میں ولید کو جاننا چاہتی ہوں… دیکھنے میں تو وہ بہت سیدھا سا لگتا ہے، مگر اندر سے وہ بہت الجھا ہوا ہے…

سونیا پھوپو کو فکر ہوئی
اور حارث؟ آخر وہ بھی ولید کا ہی بھائی ہے…

ماہی نے کہا
وہ صرف مجھے اچھا لگتا تھا… اب نہیں لگتا… اب وہ صرف ولید کا بھائی ہے میرے لیے…

سونیہ پھوپو ایک لمحے کو خاموش ہوئی، جیسے دل ماننے کو تیار نہیں مگر زبان بے بس تھی۔۔
عجیب ہو تم بھی… پتہ نہیں کیا چلتا رہتا ہے تمہارے دماغ میں…

ماہی نے مسکرا کر کہا
اب جیسے ہر بار آپ نے میرے فیصلے کا ساتھ دیا ہے… اس بار بھی دے دیں…

سونیہ پھوپو گہری سانس لے کر، ماہی کا ہاتھ تھامتے ہوئے
بالکل دوں گی… میں تمہارے ساتھ ہوں…

شاید اگر ماہی حارث کا نام لیتی تو پھوپھو کبھی نہ مانتیں، مگر ولید کا نام سن کر بھی وہ ماننے میں ہچکچا رہی تھیں… لیکن اب ماہی نے فیصلہ کر لیا تھا — تو وہ اس کا پورا ساتھ دینے والی تھی۔۔۔

+++++++++++

میں ولید سے شادی کر رہی ہوں۔۔۔
ماہی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی گویا منی کے سر پر بم گرا دیا تھا۔

کیاااا؟ پاگل لڑکی ہو تم؟
وہ بے یقینی سے ماہی کو گھورتی رہ گئی،

ہاں، میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔ اور اس بار دل سے نہیں، دماغ سے سوچا ہے۔

منی ہنوز شاک میں تھی ۔۔ دماغ سے؟ تم تو ہمیشہ دل سے فیصلے کرتی آئی ہو۔۔۔ اب کیا ہو گیا؟

جب دل سے سوچا، سب کچھ بکھر گیا۔ اب چاہتی ہوں کچھ جوڑ سکوں۔۔۔

منی چیختے ہوئے کیا کیا بک رہی ہو! سب میری سمجھ سے باہر ہے۔۔۔
ماہی نے نرمی مگر مضبوطی سے کہا
تمہیں سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے منی۔۔۔ بس میرے ساتھ دو، بس اتنا کافی ہے۔

تمہیں حارث نہیں پسند تھا؟ اُس نے ماہی کو گھورتے کہا

ماہی کچھ لمحے خاموش رہی پھر بولی
تھا… بہت تھا۔۔۔ لیکن پسند اور نصیب میں فرق ہوتا ہے مینی۔ حارث کو پسند کیا، پر نصیب میں ولید لکھا تھا۔۔۔ اور شاید اب وہی ٹھیک لگتا ہے۔

پر تم تو کہتی تھی، جس سے دل لگ جائے، اسے چھوڑنا سب سے بڑا ظلم ہوتا ہے…

ماہی کرب میں مسکرا کر کہا  اور کبھی کبھی کسی کو نہ چھوڑنا خود پر سب سے بڑا ظلم بن جاتا ہے۔۔۔

مینی نے غصے اور بے بسی سے کہا
اور ولید کا کیا ماہی؟ اُس کی زندگی کیوں برباد کر رہی ہو؟ جب تمہیں وہ پسند ہی نہیں تو شادی کیوں؟ چھوڑ دو اُسے بھی… اور حارث کو بھی۔۔۔

ماہی آہستہ، تھوڑی تھکی ہوئی آواز میں کہا
مینی… ولید کی زندگی میں بربادی میں نہیں لا رہی… میں اُسے صرف وہ دے رہی ہوں جو اُسے چاہیے — ایک ساتھ، ایک نام، اور سکون۔
چند لمحے خاموشی رہی پھر بولی
وہ مجھ سے محبت کرتا ہے… ٹوٹ کر، دل سے… اور میں؟ میں شاید اُس سے محبت نہ کر سکوں، پر اُس کی عزت کر سکتی ہوں، اُس کا درد سمجھ سکتی ہوں، اُس کے ساتھ چل سکتی ہوں۔ اس کے ساتھ وفادار رہ سکتی ہوں

مینی  نے حیرانی سے کہا
پر تم خود خوش نہیں رہو گی۔۔۔۔

ماہی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
کبھی کبھی خوشی چننا خودغرضی لگتی ہے۔ اور میں تھک گئی ہوں سب کچھ صرف اپنے دل کے لیے سوچتے ہوئے۔ اب شاید دوسروں کے لیے سوچنے کا وقت ہے…

مینی اب آگے بڑھ کر اُسے گلے لگا لیا یہ اُسے اُس کی ماہی نہیں لگی، کوئی اور ہی لگی۔ وہ ماہی جو ہمیشہ ضد کرتی تھی، اپنی مرضی سے جیتی تھی، کبھی اپنی خوشی پر سمجھوتا نہیں کیا تھا۔ اور وہی ماہی، آج اپنی محبت کی قربانی دے رہی تھی۔
جب اُس نے پہلے سب کو اتنا خوش دیکھا تھا، تب بھی وہ قربانی دے سکتی تھی… لیکن اُس وقت اُس نے نہیں دی۔ اُس وقت اُس نے اپنی خواہش پر سمجھوتا نہیں کیا تھا۔ بنا ولید کا سوچے، بنا کسی کے بارے میں خیال کیے، اُس نے ولید کے پاس جا کر سب کچھ کہہ دیا تھا۔
جس نے اُس وقت کسی کی پروا نہیں کی تھی، وہ آج کس کی پروا کر رہی تھی؟
تمہیں کسی کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ماہی، انکل نے کہا ہے نا کہ وہ حارث اور ولید دونوں کو یہاں سے لے جائیں گے۔۔۔ پھر تم یہاں اپنی نئی زندگی شروع کر سکتی ہو۔۔ اور حارث، وہ ہمیشہ تمہارے نظروں کے سامنے ہوگا۔۔۔
مینی نے اس سے الگ ہوتے ہوئے دھیرے سے کہا، جیسے کوئی بہت نازک بات کہہ رہی ہو۔

ماہی نے اُس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں وہ پرانی ماہی کی چمک تو کہیں باقی نہیں تھی، بس تھکن تھی، اور شاید ٹوٹا ہوا سکون۔
تمہیں لگتا ہے، اس سب کے بعد میرے اندر حارث کے لیے کوئی feeling بچی ہوگی؟
اُس کی آواز دھیما سا طنز لیے ہوئے تھی، جیسے وہ خود سے ہی سوال کر رہی ہو۔

ماہی، تو ایسی کیا چیز ہے جو تمہیں یہ سب کرنے پر مجبور کر رہی ہے؟
مینی کی آواز میں حیرت اور پریشانی دونوں تھے۔ وہ جانتی تھی کہ ماہی ہمیشہ اپنی مرضی کی مالک رہی ہے، لیکن یہ جو آج ہو رہا تھا، یہ کچھ اور ہی تھا۔ ایسا کچھ تھا جو اُس کی سمجھ سے باہر تھا۔

میں یہ سب اُن دونوں کے لیے کر رہی ہوں۔
ماہی کی آواز میں کچھ ایسا تھا جو مینی کو حیران کر گیا۔ وہ چاہتی تھی کہ ماہی اپنی زندگی کی خوشیوں کا انتخاب کرے، لیکن اس کا یہ جواب کچھ اور ہی کہہ رہا تھا۔

کس دونوں کی بات کر رہی ہو؟
حارث اور ولید کی…۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی اور پھر نرم لہجے میں بولی۔۔
میں نے ان کی زندگیوں میں اتنی مشکلات ڈالی ہیں کہ اب میں چاہتی ہوں وہ خوش رہیں، اور جو کچھ بھی میں کر سکتی ہوں، وہ ان کے لیے کر رہی ہوں۔
میں اُن کے بیچ جو محبت ہے، اُس کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔ میں سمجھ گئی ہوں میں حارث کی زندگی میں اُس کی بیسٹ فرینڈ، اُس کی کزن، اُس کی بھابھی سب بن سکتی ہوں بس اُس کی بیوی نہیں بن سکتی۔۔۔ اُس نے پاس اتنا کہا اور واشروم میں گھس گئی۔۔۔ اور مینی وہیں آدھی ادھوری بات سمجھتے کھڑی رہ گئی۔۔۔۔

++++++++++++++

الیاس صاحب غصے سے کھڑے ہو گئے، چہرہ لال ہو رہا تھا،
اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا۔۔۔؟ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ولید سے شادی کرنی ہے؟

سب لاؤنچ میں بیٹھیں تھے کہ سونیہ پھوپو نے سب کے سامنے آ کر یہ خبر دی تھی کہ ماہی اب ولید سے شادی کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

ارشد صاحب نے بھی فوراً بات پکڑ لی،
یہی سب کرنا تھا تو پہلے ولید سے اُلٹی سیدھی باتیں کیوں کی تھیں؟

ماہی کے اس فیصلے پر پورا گھر جیسے بھڑک اٹھا تھا۔

حفصہ بیگم نے الجھن سے کہا،
جو بھی ہو، اب ماہی کا اُس گھر جانا ٹھیک نہیں ہے۔

سونیہ پھوپو نے کچھ دیر چپ رہنے کے بعد دھیرے سے کہا،
اب سب کو حارث کو بھول کر صرف ولید کا سوچنا چاہیے، وہ کتنا اچھا لڑکا ہے، اور ماہی سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔ ایسے لڑکے اب دوبارہ نہیں ملتے۔

الیاس صاحب کا ضبط ٹوٹ گیا،
تم چُپ رہو! تم نے ہی ماہی کو بگاڑا ہے، اُس کی اچھی تربیت نہیں کر پائی تُم، تبھی وہ آج کل ایسی حرکتیں کر رہی ہے۔۔۔
انہوں نے غصے سے کہا،
اگر اُس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو خاندان کی عزت کے ڈر سے ایسے ڈھول پیٹتی نہ پھرتی۔۔۔ اُسے کسی چیز کی پروا نہیں، بس اپنی مرضی کرتی ہے۔
الیاس صاحب کا لہجہ سخت ہوتا گیا،
ماہی کی شادی ولید سے نہیں ہو سکتی! ولید ٹھیک ہے، لیکن حارث۔۔۔ وہ بھی اُس کا بھائی ہے۔ اُس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ جیسے حارث کی حرکتیں ہیں، وہ دوبارہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔

یہ سن کر سونیا پھوپو جیسے ٹوٹ گئی تھیں، ان کی تربیت پر بات آ چکی تھی۔ اب وہ خاموش تھیں، آنکھوں میں نمی لئے بیٹھی تھیں۔

ارشد صاحب بھی اب بات کو واضح کرنے لگے،
ہاں، ماہی کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اُس فیملی سے دور رہے۔۔۔ نہ جانے وہ سر پھرا لڑکا کب کیا کر دے۔۔۔

اُسی لمحے ڈور بیل بجی۔۔۔

نور! بیٹا دیکھو، کون آیا ہے؟ حفصہ بیگم نے نور کو آواز دی۔۔۔

نور فوراً دروازے کی طرف گئی، اور جیسے ہی دروازہ کھولا، سامنے ولید کھڑا تھا۔

السلام علیکم۔۔۔

وہ آ کر آہستگی سے سب کو سلام کیا سب حیرت میں تھے کہ وہ اس وقت یہاں کیا کرنے آیا۔۔۔ صرف ارشد صاحب نے جواب دیا
وعلیکم السلام، تم یہاں کیسے؟

ولید تھوڑا جھجھک کر بولا،
وہ۔۔۔ میں بولوں گا تو عجیب لگے گا اس وقت۔۔۔ مگر میں جھوٹ بھی نہیں بول سکتا۔۔۔ اسی لیے سچ کہ رہا ہوں۔۔۔ مجھے ماہی نے بلایا ہے۔۔۔

یہ سن کر سونیہ پھوپو کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی، دل میں بس یہی کہا
یا اللہ! اتنا شریف لڑکا ماہی کا شوہر بنے گا۔۔۔ اور ماہی اُس کا جینا حرام کر دے گی۔۔۔

ارشد صاحب نے نظریں تیز کر کے پوچھا،
اور اس وقت اس نے تمہیں کیوں بلایا ہے؟

ولید نے شرمندگی سے کہا،
مجھے نہیں معلوم۔۔۔ اُس نے بس کہا کہ ابھی کے ابھی آؤ، ورنہ تمہاری ٹانگ توڑ دوں گی۔۔۔ تو میں آ گیا۔

اب کے سونیہ پھوپو ہنسی روک نہیں پائیں، جلدی سے منہ چھپانے لگیں کیونکہ سب انھیں گھورنے لگے تھے۔

ارشد صاحب نے ولید کو گھورتے ہوئے کہا،
تو کیا تم ڈر گئے اُس سے؟

نہیں تو۔۔۔۔ ولید نے سنجیدگی سے انکار کیا۔۔۔

پھر کیوں آئے؟ ارشد صاحب نے ناگواری سے کہا۔

کیوں کہ اُس نے بلایا۔۔۔ معصومیت سے جواب آیا۔۔۔

اب کے سونیہ پھوپو کی ہنسی دوبارہ نکل گئی۔۔۔

ارشد صاحب نے جیسے سختی سے کہا،
جاؤ! جا کر ماہی کو بلا کر لاؤ۔۔

سونیہ پھوپو  نے جلدی سے کہا،
بیٹا! ابھی سے بہت فرمانبردار شوہر ثابت ہو رہے ہو تم۔۔۔
اور یہ کہہ کر فوراً کچن کی طرف بھاگ گئیں۔

اگر وہ تمہیں کنویں میں کودنے کو کہے گی تو کود جاؤ گے؟ اُس نے بلایا، اور فوراً چلے آئے۔۔۔ ارشد صاحب نے ولید کو گھورتے کہا۔
باقی سب خاموش بیٹھے تھے جیسے وہ سب یہاں موجود ہی نہ ہوں۔۔۔

ولید نے ایک دم سنجیدہ لہجے میں جواب دیا،
نہیں… وہ مجھے کنویں میں کودنے کو کہے گی، تو نہیں کودوں گا…

ارشد صاحب نے تھوڑے غصے، تھوڑے حیرت بھرے انداز میں پوچھا،
تو پھر یہاں کیوں چلے آئے؟

ولید نے کندھے اُچکاتے ہوئے بے ساختہ کہا،
کیوں کہ یہ کنواں تھوڑی ہے۔۔۔

اس بار تو زینب بیگم بھی مسکرا دی ۔۔۔۔ اس پہلے کوئی اور کچھ کہتا ماہی کچن سے نمودار ہوئی۔۔۔
آ گئے تم؟ اب اِدھر میری بات سنو۔
وہ دو ٹفن ولید کے ہاتھ میں تھماتی ۔جو کچن سے ساتھ لائی تھی۔۔
دیکھو، یہ والا حارث کا ہے اور یہ تمھارا اور انکل کا۔
ہسپتال کا کھانا کھانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ ویسے بھی مریضوں کے لیے ہوتا ہے۔
حارث کو کھلا دو، چلے گا، مگر خود مت کھانا، نہ ہی انکل کو دینا۔ وہ بیمار نہیں ہیں، تم بھی نہیں ہو۔
اور ہاں، رات بھر رکنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
ایک دن تم رک جاؤ، ایک دن انکل۔ دونوں ایک ساتھ رکتے ہو تو آرام نہیں کر پاتے۔
وہ جلدی جلدی، ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ جاتی ہے جیسے اب نہ بولی تو کچھ چھوٹ جائے گا۔

پورے ایک ہفتے بعد، واللہ، اتنی فکر؟ وہ مسکرائے

تم سے شادی کی بات کب کی تھی میں نے؟

کچھ وقت پہلے، آج صبح؟ ولید نے سوچتے جواب دیا۔۔
تو بس! تب سے ماہی نے ذمہ داری اُٹھا لی ہے۔
ماہی صرف اپنوں کی فکر کرتی ہے، ایسے آئے گئے لوگوں کی نہیں۔

اسی لمحے ارشد صاحب کھانس کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔۔۔
ورنہ یہ دونوں تو سب کی موجودگی کو ہی بھول چکے تھے۔
ماہی مڑ کر ان سب کو دیکھتی پھر ولید سے کہا
اور ہاں، یہ سب مان نہیں رہے… اِن کو مانو۔

ہاں بیٹا، دیکھو… ماہی کی شادی اب تم سے نہیں ہو سکتی۔ الیاس صاحب ولید سے مخاطب ہوئے۔۔۔

جی… بہتر… ولید نے آہستگی کہا
وہ خود ابھی تک ہاں پر قائم نہیں تھا۔
حارث اور ماہی نے زبردستی ہسپتال میں کتنی مشکل سے منوایا تھا۔
اور اب بھی اسے لگ رہا تھا کہ ماہی خوش نہیں ہے،
کہیں کچھ گڑبڑ ہے… لیکن کیا؟ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
اسی لمحے، پیچھے سے ایک زور دار مکا اس کی کمر میں لگا۔۔۔
ماہی آنکھیں نکال کر ولید کو گھوری
کیا۔۔۔۔ جی بہتر؟ مناؤ۔۔

ہاں، ن… نہیں… میرا مطلب… وہ…
کہ سب ٹھیک ہو گیا ہے، آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ لوگ مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ اب وہ کچھ سنبمالتے کہا

تم پر تو بھروسہ ہے، لیکن حارث… اُس کا کیا کرو گے تم؟ ارشد صاحب نے کہا

آپ اُس کی فکر نہ کریں، وہ میری ذمے داری ہے۔
لیکن اگر آپ لوگ پھر بھی مطمئن نہیں ہیں…
تو جو آپ کو ٹھیک لگے، وہ کریں۔ وہ آخری میں پھر اپنی بات کر گیا۔۔۔

اور اسی لمحے ایک اور زور دار مکا اس کے پیچھے کمر پر پھر سے پڑا۔۔۔
اس بار پہلے سے بھی زیادہ تیز۔
رہنے دو! تم سے نہیں ہوگا۔ تم جاؤ، میں خود بات کر لوں گی۔۔۔ وہ غصے میں یہ کہتی۔۔ اُسے پکڑ کر باہر نکالنے لگی۔۔۔۔
ارے ! میں بات کر رہا ہوں نا۔۔۔ وہ روکتا کہتا۔۔

ایسے کرتے ہیں بات ؟ ہنہ۔۔۔ جاؤ تم، ہسپتال جاؤ، جلدی! حارث انتظار کر رہا ہوگا تمہارا۔
وہ اُسے دھکیلتی ہوئی دروازے تک لے آئی۔۔۔

اچھا، مجھے خداحافظ تو کرنے دو۔۔۔ وہ اب دروازے کے باہر روکتا بولا۔۔۔

وہ میں کر دوں گی، آپ کی طرف سے… اللہ حافظ۔ ماہی نے دانت پیستے ہوئے کہا اور اُس کے منہ پر دروازہ بند کردیا۔۔۔۔

اور وہ… وہ تو ماہی کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لیے ہی بنا تھا،
اُسے کیا فرق پڑتا؟ بلکہ اب تو وہ مسکرا رہا تھا۔
کیوں کہ ماہی اُسے اب پھر ویسی ہی لگی، جیسی وہ ہمیشہ سے تھی۔۔۔-
جو دل میں آئے، کر گزرنے والی۔۔۔ ماہی۔۔۔

ہاں تو اب آپ لوگوں کو کیا مسئلہ ہے؟ ماہی اب دروازہ بند کرتی ان سب کے سامنے آ کھڑی ہوئی

الیاس صاحب تیز لہجے میں بولا
پہلے تم نے کہا تھا کہ تمہیں ولید سے شادی نہیں کرنی… اور اب کہہ رہی ہو کہ کرنی ہے۔
تمہیں خود کچھ سمجھ آ رہا ہے کہ تم کیا کر رہی ہو؟ کیا چاہتی ہو؟
حارث کے ذکر پر وہ ذرا رکے، جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں لیکن جھجک گئے،

ارشد صاحب نے مشکوک نظروں سے ماہی کو گھورتے کہا
اور حارث…؟

اب سب جان چکے تھے کہ ماہی کو ولید سے نہیں حارث سے شادی کرنی تھی، جس پر حارث نے اتنا تماشا لگایا تھا۔۔۔

ماہی نے صاف، دو ٹوک انداز میں کہا
اس میں کچھ نہ سمجھ آنے والی کون سی بات ہے؟
سیدھی سی بات ہے کہ پہلے ماہی کو عقل نہیں تھی… اب آ گئی ہے۔
مجھ سے غلطی ہو گئی تھی، اب اُسے سدھار رہی ہوں۔
اور رہی بات حارث کی… تو مجھے لگا تھا کہ میرا گزارہ ولید کے ساتھ مشکل ہے،
کیوں کہ ہماری نیچر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
لیکن حارث اور میں… ہم ایک جیسے ہیں، اسی لیے مجھے لگا کہ وہ میرے لیے بہتر ہے۔
لیکن اب، دو تلواریں ایک نیام میں تو نہیں رہ سکتیں ناں؟
اسی لیے ماہی کے لیے ولید ہی بہتر ہے!

ارشد صاحب سخت لہجے میں کہا
بھولو مت… حارث، ولید کا ہی بھائی ہے۔
جس گھر میں تم رخصت ہو کر جاؤ گی، وہاں حارث بھی ہو گا۔
تب بھی تم دونوں کی بحث ہو سکتی ہے، اور حارث… وہ تو ذرا سی بات پر تمہیں مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

ماہی نے اعتماد سے کہا
ہاں، تو اُس کے لیے ولید ہو گا ناں… ہمیں سنبھالنے کے لیے۔
اور ابھی بھی تو اُس نے سب سنبھالا ہے۔
آپ لوگ ایک بار جا کر حارث سے ملیں تو سہی ہسپتال میں… وہ بالکل نارمل ہو گیا ہے۔
اور میں… میں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہسپتال سے ہو کر آئی ہوں،
اور دیکھ لیں، صحیح سلامت آپ کے سامنے کھڑی ہوں۔
جھوٹ بولنے میں تو وہ ماہر تھی، ایسے اعتماد سے بولتی کہ سامنے والے کو شک تک نہ ہو۔
اور ویسے بھی… آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ ماہی کا گزارہ،
ولید کے سوا کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے؟

اب کی بار اس نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔
اور سن لیں… اگر آپ نے میری شادی ولید سے نہیں کرنی،
تو مت کریں… لیکن یہ بھی جان لیں، ماہی کسی کے لیے بھی خود کو یا اپنا نیچر نہیں بدلے گی۔
ماہی ٹام بوائے، سر پھری اور جذباتی لڑکی تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ سیڑھیاں چڑھتی اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ قدم مضبوط، ارادہ واضح۔

حفصہ بیگم ایک آہ بھرتے ہوئے کہا
مجھے لگتا ہے ہمیں ماہی کی بات مان لینی چاہیے…
کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں وہ کسی سے بھی شادی کے لیے راضی ہی نہ ہو۔

اور یہ بات تو سب جانتے تھے… ماہی کو منانا، دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔۔۔

++++++++++

نازیہ بیگم گھبراہٹ اور غصے میں کہا
یہ کیا تماشہ ہے تم دونوں کا؟

حارث ابھی ابھی اسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر آیا تھا، اور جو خبر اس نے ان کے سامنے رکھی… وہ سنتے ہی نازیہ بیگم کا پارہ ساتویں آسمان پر جا پہنچا۔

نازیہ بیگم تیز لہجے میں احمد صاحب کو مخاطب کیا۔۔
بس! احمد، آپ ٹکٹ کروائیں، ہم ابھی لندن جا رہے ہیں… ابھی کے ابھی۔۔۔۔
آنکھوں میں نمی، دل میں آگ… ان کا ضبط جیسے اب جواب دے چکا تھا۔

ولید صوفے پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔
میں تو کب سے کہہ رہا تھا… اسے یہی میری بات مانے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔

حارث شدتِ جذبات سے پھٹ پڑتا ہے۔۔۔
کیا میں نہیں سن رہا تھا، مما؟ آپ اس کی بات سن رہی ہیں، یہ مجھے کہہ رہا ہے کہ ماہی سے شادی کر لوں؟ What the f!***
اس کا غصہ اب برداشت سے باہر تھا، چیخ چیخ کر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا تھا۔

نازیہ بیگم سختی سے، فیصلہ کن لہجے میں کہا
بس بہت ہوگیا! تم دونوں ہی پاگل ہوگئے ہو!
میں نے کہہ دیا ہے — ہم لندن جا رہے ہیں،
نہ تمہاری شادی ماہی سے ہوگی،
نہ ولید کی!
میں اس وقت مان گئی تھی، لیکن اب ہرگز نہیں مانو گی!

احمد صاحب وہیں ایک کونے میں خاموش بیٹھے تھے،
نہ کچھ کہا، نہ کچھ پوچھا۔۔۔۔
بس نازیہ بیگم کی حالت دیکھتے رہے۔

اور مہر…
اس وقت ہوٹل کے دوسرے کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔
اس ساری ہنگامہ آرائی سے بےخبر، ورنہ شاید وہ بھی یہاں ہوتی۔

احمد صاحب نے نرمی اور حیرت میں ڈوبا ہوا لہجہ کہا
یہ سب ہوا کیسے؟… کل تک تو ماہی کی شادی تم سے ہونی تھی، حارث… اور آج؟

حارث ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا
خود آئی تھی میرے پاس اسپتال میں…
بولی، “میں سب ٹھیک کرنا چاہتی ہوں… اس کے لیے تمہیں مجھے بھابھی accept کرنا ہوگا۔”
میں سمجھا وہ سب کچھ اپنے دل سے کر رہی ہے… پر اب لگتا ہے، کچھ اور ہی چل رہا تھا اُس کے دماغ میں۔
وہ ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرتا جیسے اپنے غصے کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

احمد صاحب آہ بھرتے ہوئے کہا
بیٹیاں… جب ضد پر آ جائیں تو ماں باپ کی ساری عقل، ساری حکمت دھرے کی دھرے رہ جاتی ہے۔

نازیہ بیگم اب بھی غصے سے کانپتے ہوئے کہا
بس کر دو احمد… اب یہ کوئی ضد نہیں، یہ سراسر تماشہ ہے۔۔۔۔
جو لڑکی آج ایک بھائی کو چھوڑ کر دوسرے سے شادی کا فیصلہ لے سکتی ہے، کل کو وہ کس کے ساتھ جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں!
پہلے ولید کے لیے ہاں کردیا پھر کہا حارث چاہیے اب واپس سے ولید چاہئے۔۔۔
اور تم لوگ… تم دونوں بھائی… تم لوگ کب بڑے ہوگے؟

احمد صاحب نرمی اور سوچ میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا
شاید… شاید اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔
یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد، کوئی بھی لڑکی حارث کو قبول نہیں کرے گی۔

نازیہ بیگم نے غصے سے سانس بھرتے ہوئے، آواز بلند ہوتی جا رہی ہے
ہاں تو ہوگئی نا اب غلطی…!
اب ساری زندگی پچھتائے!
اور میرا ولید؟
کیا وہ کوئی گرا پڑا لڑکا ہے؟
جب دل چاہا استعمال کر لیا، جب دل چاہا پھینک دیا؟
جیسے کوئی چیز ہو، انسان نہیں۔۔۔۔

نازیہ بیگم کی آواز میں زہر بھر گیا تھا، آنکھیں نم ہونے کے باوجود سختی سے جمی ہوئی تھیں۔

حارث نے اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے زہر خند لہجے میں کہا
اپنے بھی تو کی تھی نہ ایک غلطی؟…
کیا آپ ساری زندگی پچھتائیں؟
آپ کو بھی تو ساری زندگی پچھتانا چاہیے تھا نہ۔۔۔

کمرہ ساکت ہو گیا تھا۔
نازیہ بیگم کا چہرہ جیسے پتھر کا ہو گیا ہو۔
احمد صاحب نے نظریں جھکا لیں۔

ولید فوراََ مڑ کر حارث کو دیکھا… غصے سے، بےبسی سے کہا۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے حارث… ہر وقت ماما کو تکلیف مت دیا کرو۔۔۔

حارث نے سرد اور عام سے لہجے میں کہا
ہاں تو جو میں کہہ رہا ہوں وہی ہوگا۔۔۔ یہی سب کے لیے بہتر ہے۔۔۔

احمد صاحب نے مشکوک نظروں سے حارث کو گھورا
اب تم کیا چاہتے ہو۔۔۔؟
انہیں خوف تھا کہ حارث پھر کوئی خطرناک بات نہ کہہ دے۔

حارث نے صاف، دو ٹوک انداز میں کہا
ماہی اور ولید کی شادی۔۔۔

کمرے میں جیسے لمحہ بھر کو خاموشی ٹھہر گئی۔

نازیہ بیگم نے آنکھیں پھیلائیں،
احمد صاحب کی پیشانی کی شکنیں گہری ہو گئیں۔

ولید نے نظریں اُٹھائیں مگر کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔ اور وہ چپ چاپ اٹھا اور یہاں سے نکل گیا۔۔۔

For God’s sake, Haris…
ہوش میں تو ہو تُم۔۔۔
نازیہ بیگم بے بسی اور غصے سے کہتی ہیں۔۔۔

Mama, this is right for Waleed. try to understand
اِس بار اُس کا لہجہ نرم تھا، ہر وقت بھائی کے معاملے میں اس کا لہجہ نرم ہوجاتا تھا۔۔۔
You know Waleed loves Mahii, right?

“That’s all fine, but she hurts Waleed.
پہلی دفعہ اُس کی وجہ سے ولید کو گولی لگی تھی۔۔۔ وہ لڑکی واقعی ہمارے گھر کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اُس وقت جب ولید ہسپتال میں تھا تو میں یہ سوچ کر مان گئی تھی… کہ ولید کو وہ پسند ہے۔۔۔ پر اب۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔
نازیہ بیگم نے اب کی بار نرمی سے کہا تھا۔۔۔

آپ پھر ایک اور صدمہ دینا چاہتی ہیں ولید کو؟
آپ کو یاد ہے یا بھول گئی… وہ جس سے محبت کر لے اُسے کبھی بھولتا نہیں۔۔۔
اُسے اُس سے لاکھ بہتر مل جائے… پھر بھی اُسے وہی چاہیے ہوتا ہے جو اُس کے دل کو پسند ہو۔۔۔
وہ کبھی اپنی پسندیدہ لوگوں سے give up نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔

اُسے وہ بہت پسند ہے ماما۔۔۔
وہ اُس کے لیے اپنے بھائی کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے
تو سوچیں وہ اُس کے لیے کتنی اہم ہوگی۔۔۔؟

کمرے کی فضا میں جیسے کوئی دھڑکن رک سی گئی ہو۔

حارث کا یہ کہنا صرف ایک جملہ نہیں تھا،
یہ اُس دل کی گواہی تھی جو سب کچھ دیکھ چکا تھا…
وہ قربانی، وہ خاموشی، وہ چپ چاپ سہنا…
اور پھر بھی صرف اُسی کا چناؤ کرنا۔۔۔

اور اچھی بات ہے جو اُسے احساس ہوگیا۔۔۔
حارث نے اتنا کہا اور اب وہ مزید یہاں رک نہیں سکتا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھا اور نکل گیا۔۔۔

احمد صاحب کا لہجہ الجھن میں ڈوبا ہوا تھا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہے، جیسے لفظوں کو تول رہے ہوں، پھر آہستگی سے بولے:
یہ حارث… میری سمجھ کے بالکل باہر ہے۔۔۔
آخر یہ چاہتا کیا ہے؟
ان کے ماتھے پر شکنیں گہری ہوتی گئیں،
جیسے دل میں اُترتی تشویش نے وہاں ڈیرہ ڈال لیا ہو۔
کبھی ولید کے خلاف کھڑا ہوجاتا ہے، کبھی اُسی کے حق میں بولنے لگتا ہے…
اور ماہی…؟
کبھی جو وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی، پھر دشمن بن گئی۔۔۔
اور اب اُسے بھابھی بنانا چاہتا ہے

میں ماہی کے پاس جا رہی ہوں۔۔۔
اتنا کہتی وہ بھی یہاں سے نکل گئی۔۔۔

اور احمد صاحب وہیں صوفے پر بیٹھے گہری سوچ میں ڈوب گئے۔۔۔۔
++++++++++++

ماہی کے گال پر زوردار تھپڑ کی آواز کمرے میں گونج اُٹھی۔اس کے چہرے کا رنگ ایک دم اُڑ گیا تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سا سکون تھا، جیسے وہ اس تھپڑ کی پہلے سے توقع کر رہی ہو۔

یہ اُس کی زندگی کا دوسرا تھپڑ تھا۔ پہلا حارث نے مارا تھا… اور دوسرا، نازیہ بیگم نے۔
لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ اُس وقت وہ ہوش میں نہیں تھی، آج تھی… لیکن آج سامنے کوئی اور نہیں—نازیہ بیگم کھڑی تھیں۔ اُس کی خالہ، ولید کی ماں، حارث کی ماں۔

نازیہ بیگم غصے سے چیختے ہوئے کہا:
چاہتی کیا ہو تم؟ آخر کیا چاہتی ہو؟ میرے بیٹے کی زندگی برباد کرنا؟ اُس کے دل سے کھیلنا؟

ماہی نے تھپڑ کھانے کے بعد آہستہ سے اپنا چہرہ موڑا، نرمی سے گال سہلایا اور پھر سیدھی ہو کر، ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
ہو گیا غصّہ؟ تھوڑا سا تھنڈا؟ نہیں ہوا؟ تو ایک دو اور مار لیں… میں تو کھڑی ہوں۔

ایک پل کو نازیہ بیگم خود اپنی کیفیت پر حیران رہ گئیں۔ ماہی کی بےباکی نے انہیں گھبرا دیا تھا۔ ماہی کا انداز تلخ نہیں تھا، بس تھکا ہوا، جیسے دل کا بوجھ کسی تھپڑ سے کم نہیں ہونے والا۔

ماہی کے الفاظ جیسے کمرے کی فضا کو جامد کر گئے ہوں۔ نازیہ بیگم کا ہاتھ ہوا میں ہی رُک گیا۔ اُن کی سانسیں بےترتیب ہو رہی تھیں۔ وہ اس لڑکی کی بےنیازی، اُس کے ٹھہرے ہوئے لہجے، اور آنکھوں میں چھپے سوال سے لرز گئی تھیں۔

نازیہ بیگم نے تھوڑی دھیمی مگر سختی بھری آواز میں کہا
تمہیں ذرا شرم نہیں آئی؟ میرے بیٹے کو بار بار تکلیف دی، اُس کے جذبات سے کھیلا، اور اب ایسے کھڑی ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں؟

ماہی نے نظریں جھکائے بغیر جواب دیا، اُس کی آواز میں اب بھی وہی ٹھہراؤ تھا جو نازیہ بیگم کے دل میں انجانے خدشے جگا رہا تھا
شرم تب آتی ہے جب انسان جان بوجھ کر کسی کو تکلیف دے۔۔۔ اور میں نے جو کیا، وہ سمجھ کے کیا۔ غلطی مانی۔ مانا کہ میری سوچ میں فرق تھا۔۔۔ پر اب نہیں ہے۔ اب جو کر رہی ہوں، دل سے کر رہی ہوں۔۔۔
ماہی نے سانس بھری، پھر نرمی سے کہا:
مُجھے نہیں معلوم تھا خالہ… سچ میں نہیں معلوم تھا کہ ولید مُجھے پسند کرتا ہے۔ اگر مجھے ذرا بھی انداز ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتی۔۔۔

نازیہ بیگم کو ہرگز ماہی سے ایسے رویے کی توقع نہیں تھی۔ وہ چند لمحے اسے صرف دیکھتی رہ گئیں… جیسے پہلی بار اس لڑکی کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

نازیہ بیگم کی آنکھوں میں نمی سی بھر گئی تھی، مگر چہرے پر اب بھی سختی باقی تھی۔ وہ جانتی تھیں، یہ لڑکی دل کی صاف ہے، مگر اس کی لاپرواہی نے ان کے بیٹے کو بہت تکلیف دی ہے۔ وہ اب بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ ولید کی محبت ایک طرف لیکن کچھ کچھ وہ بھی اپنی بہن کی اکلوتی نشانی سے محبت کرتی تھی۔۔۔ اور غلطی تو اُن سے بھی ہوئی تھی اور اب ماہی سے بھی۔۔۔ اُنہیں بھی تو معافی ملی تھی نہ تو اب ماہی کو کیوں نہیں۔۔۔

ماہی چند لمحے نازیہ بیگم کو تکتے ہوئے خاموش رہی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سوال اتنی جلدی، اتنی نرمی سے پوچھ لیا جائے گا۔

نازیہ بیگم کا لہجہ آہستہ تھا، مگر اندر ایک انجانی گھبراہٹ چھپی ہوئی تھی۔
تُم کیا چاہتی ہو؟ واقعی… ولید کو پسند کرتی ہو؟

ماہی چونکی۔
اسے سمجھ نہیں آیا کہ جھوٹ بولے… یا آدھا سچ… یا بالکل کچھ نہ کہے۔
آپ کو کیا لگتا ہے، خالہ…؟
اس کی آواز دھیمی تھی، جیسے وہ خود بھی اپنے جواب سے ڈر رہی ہو۔

نازیہ بیگم نے ایک گہری سانس لی، اور پہلی بار ان کی آواز میں بے بسی کھل کر سامنے آئی۔
نہیں… پسند تو نہیں کرتی تم۔
اگر کرتی تو حارث سے شادی کی بات کیوں کرتی؟
کیا حارث کو پسند کرتی ہو؟

اب کی بار اُن کی ہلکی سی کپکپاتی پلکوں میں صاف پریشانی جھلک گئی۔ جیسے وہ واقعی جواب سے ڈر رہی ہوں۔

اسی لمحے ماہی کو سمجھ آ گیا—
جو جھوٹ اس نے گھر والوں سے بولا تھا، وہی یہاں کہنا ہی بہتر ہے۔
وہ ایک تلخ مگر ضرورت کی سچائی تھی۔
خالہ… مجھے لگا تھا آپ میری اور حارث کی شادی کی بات کر رہی ہیں… غلط فہمی ہو گئی تھی۔
اور نہیں… میں حارث کو پسند نہیں کرتی۔
مجھے بس لگا تھا وہ میرے جیسا ہے…
similar nature, you know?
تو میں نے سوچا، شاید اس کے ساتھ گزارہ آسان ہو جائے…

وہ تھوڑا رکی، پھر چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی
نہ میں ولید کو پسند کرتی ہوں خالہ…
لیکن وہ دونوں میرے دوست ہیں… بہت اچھے دوست۔
پتہ نہیں حارث نے ایسا کیوں کیا…
پر اب مجھے لگتا ہے کہ ولید ہی میرے لیے perfect ہے۔
Bilkul husband material۔

یہ آخری جملہ جیسے کمرے کی فضا بدل گیا۔

نازیہ بیگم، جو کچھ دیر سے بےاختیار ضبط کر رہی تھیں، اس کے ہلکے پھلکے انداز پر ہنس پڑیں۔ ان کے چہرے سے ایک بھاری پریشانی جیسے اتر گئی تھی۔

یہاں بیٹھو…
انہوں نے نرمی سے ماہی کا ہاتھ پکڑا، اور اسے اپنے قریب بیٹھا لیا۔

ماہی ہنستی ہوئی ان کے ساتھ بیٹھ گئی—ایسے جیسے دونوں پہلی بار لفظوں سے نہیں، دل سے بات کر رہی ہوں۔

اس بار نازیہ بیگم کا لہجہ ماں کا تھا
محبت بھرا، ڈرا ہوا، اور امید سے بھرا ہوا۔
وعدہ کرو۔۔۔
تم ولید کا خیال… اپنے آپ سے بھی زیادہ رکھو گی۔
وہ دل کا بہت نرم ہے، بہت سیدھا ہے…
تم اُس کی زندگی میں شامل ہو رہی ہو…
اُس کی ہر خوشی، ہر درد… اب تمھاری ذمہ داری ہے۔

ماہی نے نرمی سے اُن کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

اس بار اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی،
ایک قبولیت، ایک وعدہ، اور شاید… ایک نیا سفر۔
خالہ…
میں ولید کو وہ ہر خوشی دوں گی جو میں اپنی طرف سے دے سکتی ہوں۔
میں کبھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔

نازیہ بیگم نے دھیرے سے اس کا ماتھا چوم لیا—
ایک ماں کی دعا، ایک ماں کی امید، اور ایک ماں کا بےآواز سجدہ۔

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔


1 Comment

  1. Nazia bibii 🙂🤌🏻esi baty krti zra achi nhi lag rhii 🔪🙂 khud wali k sth kitna kuch kiya ab had arha wo gira para nhi ha huhh or haris b ajeb bnda ha bs wali avha ha baki sb sari dunia buri ha huhhh 🙂🔪

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *