*اے فلسطین*
اے فلسطین میں تیرا درد لکھوں
یا خود کو تیرا ہمدرد لکھوں
تیری یاد جو آتی ہے
میری آنکھ اشک بار ہو جاتی ہے
اک خیال میرے ذہن میں آتا ہے
وہی خیال ہر پل مجھے ستاتا ہے
کیسے کروں میں تیرا حق ادا
کیسے بتاؤں سب کو تجھ پر کیا کیا گزرا
میں قلم جو تھامنے بیٹھتی ہوں
ایک ہی بات سوچتی رہتی ہوں
تجھے پرت پر اتاروں میں
تجھے لفظوں میں،یوں سواروں میں
کہ جو تجھ سے اب بھی بے خبر ہوں
میرے لفظوں کا ان پر اثر ہو
میں جو لکھوں اس میں بلا کی تاثیر ہو
کہ اس کے ذریعے ہر کوئی تیرا اثیر ہو
تجھے پڑھنے والے تیری تکلیف جانیں
تجھ پہ گزرے ہر درد کو اپنا مانیں
تجھ سے بندھ جائے احساس کا رشتہ
تیری آزادی امر ہو،ہو جائے یہ کرشمہ
*از حمائزہ خٹک*
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
