Antal Hayat Episode 23 written by siddiqui

انت الحیاۃ ( از قلم صدیقی ) 

قسط نمبر ۲۳ 

امن نے مسکراتے ہوئے موبائل کے کیبورڈ پہ ٹائپ کیا۔۔
کلئیر ہوگئے سارے سوال…؟

ہاں، تھینک یو… اب آپ سو جائیں، اللہ حافظ، گُڈ نائٹ…
حیات کا آخری میسج آیا۔۔۔ اور
اور اگلے ہی لمحے حیات آف لائن ہو گئی۔

پھر امن نے موبائل آہستہ سے بیڈ کے کنارے پر رکھا اور خود بےاختیار وقت دیکھنے لگا۔
جب اس نے وقت دیکھا تو آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔

صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔۔۔۔

یہ تو اُٹھنے کا وقت تھا، سونے کا نہیں۔
لیکن نیند… نیند جیسے کہیں دور کھو گئی تھی۔
دل عجیب سی خوشی سے بھرا ہوا تھا، ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے لبوں سے چپکی ہوئی تھی۔

پھر اُسے اچانک حیات کے آخری الفاظ یاد آئے۔۔۔
اب آپ سو جائیں… گڈ نائٹ…

امن بےاختیار ہنس پڑا۔
پاگل لڑکی…
وہ آہستہ سے بڑبڑایا، جیسے وہ سامنے کھڑی ہو اور وہ اسے چھیڑ رہا ہو۔

بیڈ سے اٹھ کر اُس نے کھڑکی کے پردے ہٹائے۔
روشنی کے پھوارے کمرے میں بھر گئے۔

سامنے…
پورا ملائیشیا جیسے کسی خطاط نے نیلے آسمان پر سنہری روشنائی سے اُتار دیا ہو۔
بلڈنگز کی چمک، ہوا میں ہلکے ہلکے لہراتے درخت، نیچے گزرتی گاڑیاں…
سب کچھ اُس صبح غیر معمولی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا۔

کمرہ بھی…
یہ شہر بھی…
یہ زندگی بھی…
اور سب سے بڑھ کر۔۔۔
وہ خود بھی۔۔۔۔

امن نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے زیرِ لب کہا
آخر تم نے مجھ پر کون سا جادو کر دیا ہے…؟

میں کیوں اتنا خوش ہورہا ہوں۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھ کھڑکی کے پٹ پر رکھ دیے، نظریں دور افق میں گم تھیں۔
تُمہاری وجہ سے میرا ایک دِن کا شیڈول خراب ہوچکا ہوں۔۔۔ لیکن ۔۔۔ مُجھے مجھ غصّہ کیوں نہیں آرہا۔۔۔
اس نے دوبارہ کھڑکی سے نیچے جھکتے شہر کو دیکھا، پھر ہولے سے مسکرا دیا۔

مُجھے اس وقت کیوں سب اچھا لگ رہا ہے۔۔۔
یہ سوال وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا، یا شاید سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔

کمرے کی خاموشی میں اچانک دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
امن چونکا، وہ اب تک اپنے اندر کی ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔

کون ہے؟ اس نے آواز دی۔

باہر سے دانیال کی بھرپور، تازہ دم آواز آئی
بھائی، میں ہوں۔۔۔۔

امن نے آہستہ سے کہا، آجاؤ اندر…

دروازہ کھلا تو دانیال اور یوسف دونوں تیار کھڑے تھے

دانیال نے اندر قدم رکھتے ہی شکایتی انداز اختیار کر لیا
بھائی، تُم ابھی اٹھے ہو؟ جلدی سے تیار ہو جاؤ، اور نیچے چلو… ناشتہ کرنا ہے۔۔۔۔

امن نے بےنیازی سے کہا،
اتنی جلدی؟ میں ابھی آ جاؤں گا… سارے آٹھ بجے تک۔

دانیال سے پہلے ہی یوسف بول پڑا
بھائی نہیں، تب تک ہم نکل جائیں گے۔ آج ہمارا پہلا پیپر ہے… بھول گئے تُم؟ جـلدی نکلنا ہے۔۔۔

امن نے آنکھیں سکیڑ کر انہیں دیکھا،
ہاں تو تم ناشتہ کر کے چلے جاؤ…

دانیال نے ایک سانس میں اعتراض کر دیا
نہیں بھائی! تُم بھی چلو۔۔

امن نے فوراََ ناگواری سے کہا۔۔۔
جب میں ہر روز تم دونوں سے کہتا ہوں کہ میرے ساتھ ناشتہ کر لیا کرو… میں اکیلا ناشتہ کر کے جاتا ہوں، تب تو تم اٹھتے نہیں۔
اور آج…؟

دانیال برا سا منہ بنا کر بولا،
بھائی… روز روز تو نہیں اٹھتا جاتا۔۔۔ آج ضروری ہے نا…

یوسف نے فوراً دانیال کی حمایت میں سر ہلایا
ہاں… اور اب تُم جلدی نیچے چلو۔۔۔۔۔۔

امن نے ہار مانتے ہوئے کہا،
اچھا ٹھیک ہے، تم لوگ جاؤ نیچے۔ میں پانچ منٹ میں آیا…

دانیال نے فوراً انگلیاں ہوا میں اٹھائیں۔۔۔
پانچ پوری انگلیاں۔
اور نہایت سنجیدگی سے بولا
پانچ منٹ کا مطلب… پانچ منٹ ہوتا ہے، بھائی۔۔۔ایک منٹ بھی اوپر نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

امن نے اُسے گھورا۔۔۔
ایک وقت کے پابند انسان کو وقت کی قدر سکھا رہا تھا وہ۔۔۔
امن نے گھورنے پر دانیال فوراََ سیدھا ہوگیا۔۔۔
جا رہا ہوں تُم تو ہمیشہ غصّہ کرنے لگتے ہو۔۔۔۔

پھر دونوں جیسے ائے تھے ویسے ہی باہر نکل گئے۔۔۔۔

++++++++++++++

جب تک حیات کے پیپر چل رہے تھے،
اُس دوران آفس میں… سب کچھ حیرت انگیز طور پر معمول کے مطابق ہو رہا تھا۔

وہی میز، وہی فائلیں، وہی ای میلز،
اور وہی لوگ…
وہی سب کے رویّوں میں ایک غیر معمولی خاموشی تھی—
وہ خاموشی جو نہ بوجھل تھی، نہ بےچین… بس ایک ہلکی، سُکھی، ترتیب یافتہ فضا۔

ریسپشن کے پاس بیٹھے لوگ اپنی اپنی اسکرینوں میں گم۔
اکاؤنٹس والے فائلوں کے پیچھے چھپے۔
میٹنگ رومز کے دروازے ہولے ہولے کھلتے اور بند ہوتے۔
فون کی گھنٹیاں بھی آج جیسے دھیمی آواز میں بج رہی تھیں۔

امن کے کمرے میں بھی عجیب سا سکون ڈیرہ ڈالے بیٹھا تھا۔
سب کچھ اپنے اپنے مقام پر تھا۔۔۔
فائلیں
ٹیم
ٹائم ٹیبل
اور امن…
بظاہر پرسکون،
اندر سے مگر مسلسل کسی اَن دیکھی چیز کا انتظار کرتا ہوا۔

دن چلتے رہے،
آفس اپنی رفتار میں رواں رہا،
مگر امن کی رفتار…
وہ جوں کی توں نہیں رہی تھی۔۔۔

وہ بظاہر پہلے جیسا تھا۔۔۔
وقت پر آنا،
وقت پر میٹنگز اٹینڈ کرنا،
فائلیں دیکھنا،
ہدایات دینا۔

مگر اندر سے… جیسے کسی نے اس کی دنیا کی رفتار بدل دی ہو۔

پہلے وہ آفس میں آتے ہی سیدھا کام میں ڈوب جاتا تھا،
مگر اب…
آتے ہی اس کی نظر لاشعوری طور پر بار بار حیات کے بیٹھنے والی جگہ پر۔۔۔ اور دروازے کی طرف اٹھتی۔۔۔
کہ ابھی حیات ہمیشہ کی طرح وہ بنا نوک کیے دروازہ کھولتی اندر آجائے گی۔۔۔۔

پھر اس کی نظر موبائل کی اسکرین پر پڑتی۔۔۔
ایک بار نہیں،
دو بار نہیں،
دن میں جانے کتنی بار۔

جیسے حیات دوبارہ کال کرے گی۔۔ حیات کو کوئی پریشانی ہوئی تو وہ دوبارہ ٹیکسٹ کرے گی۔۔۔

امن خود بھی حیران تھا۔۔۔
یہ وہی شخص تھا جو پہلے دنوں میں اگر کوئی اسے غیر ضروری بات کرتا تو جواب تک دینے میں وقت لگاتا تھا۔
اور آج…
کسی کی ایک لائن اس کی پوری صبح منور کر دیتی تھی۔

اسے اپنی رفتار میں آیا بدلاؤ صاف محسوس ہونے لگا تھا۔
کام وہی،
آفس وہی،
لوگ وہی…
مگر جیسے اس کی پوری شخصیت کے گرد ایک نرم سی روشنی پھیر کھا کر ٹھہر گئی تھی۔

+++++++++++

ایک مہینہ گزر گیا تھا۔
جوں ہی حیات کے سر سے امتحانوں کا بوجھ اترا، وہ اپنی چہل قدمی سی چال میں آفس کی شیشے والی دروازے سے اندر داخل ہوئی۔

سیاہ، نفیس گرم لپیٹے جیسا سوئیٹر…
جس کی آستینیں ہلکا سا پھول دار حجم لیے اس کے ہاتھوں تک نرم لہجے میں گرتی تھیں۔

اور اس کے ساتھ وہ خوبصورت، بیج رنگ کی اسکرٹ جس پر سیاہ پوائنٹس بکھرے تھے—
اس انداز میں جیسے کسی نے وقت کے ورق پر آنسوؤں جیسے چھوٹے موتی ٹانک دیے ہوں۔
اسکرٹ چلتے ہوئے اس کے گرد ہلکی ہوا کی طرح گھومتی، ہر قدم کے ساتھ دائرہ سا بناتی۔
پاؤں میں سیاہ اینکل بوٹس،
اور ہاتھ میں نفیس سا بلیک بیگ لیے کو ریسیپشن کے پاس آئی۔۔۔
ہائے ہائے… حیات آگئی۔۔۔۔

زارا نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا جیسے یقین کر رہی ہو کہ واقعی وہی ہے۔
تم اتنے دن بعد آئی ہو… خیریت؟

مایا نے منہ بسورتے ہوئے کہا،
ہمیں تو لگا تُم نے آفیس ہی چھوڑ دیا۔۔۔۔

حیات نے شانِ بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
ابھی تو حیات تُم لوگوں کو پانچ سال تک یہاں نظر آنے والی ہے ۔

ہاں واقعی؟ زارا کی آنکھیں گول ہوگئیں۔

ہاں، حیات کی مرضی ہے بھئی۔۔۔۔ وہ ہنسی۔

لیکن اتنے دن غائب کیوں تھیں؟ مایا نے پوچھا۔۔۔

ہاں، کہیں پھر سے طبیعت تو نہیں خراب ہوگئی تھی؟ زارا نے فکرمندی سے پوچھا۔

حیات نے فوراً نفی میں سر ہلایا،
ارے نہیں! حیات کے پیپر چل رہے تھے، تو تیاری میں لگی ہوئی تھی۔

اوہ… اچھااا… دونوں نے یک زبان ہوکر کہا۔

اچھا چلو اب جلدی دو سائن کروں۔۔۔
زارا نے اتنڈنس شیٹ حیات کے سامنے کی حیات نے جلدی سے اُس میں سائن کیا۔۔۔ اور پھر آمن کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔ جیسے ہی وہ اوجھل ہوئی، مایا نے منہ بنائے کہا۔۔۔
اس کا صحیح ہے۔۔۔ یار۔۔۔

زارا نے نیم مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ہاں، پیاری ہے نہ…

مایا فوراً چڑ گئی،
پیاری تو میں بھی ہوں۔۔

ہاں ہاں، تم بھی ہو… زَرا ہنسی۔

مایا نے لمبی سانس لی،
پر میں حیات جیسی لکی نہیں… اسے دیکھو، کتنی آزادی ہے اس کے پاس۔

زارا نے محبت بھری سنجیدگی سے کہا،
تم جانتی ہو باس کیا کہتے ہیں ایسے وقت میں؟

کیا؟

کہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو۔ حسد سے ہمیشہ بچی رہو گی…

یہاں کون ہے مجھ سے نیچے؟ مایا نے ابرو چڑھائے۔

زارا نے سنجیدگی سے کہا
یہ سارے ایمپلائیز…
تمہیں یاد ہے جب ہم پہلی بار یہاں آئے تھے؟ کیا سوچ کر آئے تھے؟
کبھی یہ سوچا تھا کہ تم یہاں اس مقام پر بیٹھی ہوگی؟

مایا نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
مجھے تو لگا تھا میری زیادہ بولنے والی عادت کی وجہ سے مجھے دوسرے ہی دن آفس سے نکال دیا جائے گا۔۔۔۔

لیکن نکالا تو نہیں… زارا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
الٹا تمہیں اچھی پوسٹ پر بٹھا دیا گیا۔

ہاں… واقعی… مایا کے چہرے پر نرمی آ گئی۔

زارا نے آہستہ سے کہا،
بس… اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔ ہر انسان اپنے نصیب میں بہت خوش قسمت ہوتا ہے،

بس بس… مایا نے کانوں کو ہاتھ لگایا،
تم نے تو لیکچر دینا شروع کر دیا۔۔۔۔۔

زارا ہنس دی۔
پھر دونوں اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔۔۔

++++++++++++

آمن اپنی میز پر جھکا ہوا کچھ فائلیں دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں خاموشی تھی،
اور پھر… بالکل اسی طرح جیسے اسے گمان تھا…
کہ کسی دِن دروازہ اچانک کھلے گا اور حیات اُس کے سامنے ہوگی۔۔۔

بلکل ویسے ہی  دروازہ اچانک کھلا۔
وہ چونکا نہیں۔
بس نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔
اور سامنے حیات کھڑی تھی۔

ہلکی سی سانس پھولی ہوئی… چہرے پر تھکی ہوئی مگر زندہ سی مسکراہٹ… اور آنکھوں میں وہ وحبھیت والی چمک۔۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی اس کی میز کے قریب آئی،
آج حیات… آزاد ہوگئی،۔

آمن نے ابرو اٹھائے،
کس چیز سے؟

پَیپرز سے… اور سر درد سے بھی۔

آمن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ختم ہوگئے سب امتحان؟

ہاں… تبھی تو حیات آپ کو یہاں نظر آرہی ہے۔

آمن نے سنجیدگی سے پوچھا،
کیسا رہا پیپر؟ اچھا ہوا؟

حیات نے فوراً منہ بسورا،
وہ… حیات کو نہیں پتہ…

آمن نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا مطلب تمہیں نہیں پتہ؟ تم نے پیپر دیے بھی ہیں یا نہیں؟

حیات نے بےچینی سے ہاتھ ہلائے،
ارے کیا بات کر رہے ہیں آپ… حیات نے پیپر دیے ہیں! لیکن کیسا ہوا… یہ نہ پوچھیں…
پھر وہ ذرا سا جھک کر رازدارانہ لہجے میں بولی،
وہ حیات کو نہیں پتہ۔۔۔

آمن نے کرسی سے تھوڑا سا آگے جھکتے ہوئے کہا،
پھر بھی… کچھ تو اندازہ ہوگا نا؟

حیات نے فورا کہا
کہا نا… پیپر کے بارے میں نہیں پوچھیں۔ ورنہ—

آمن نے ابرو اٹھائے،
ورنہ کیا؟

حیات نے ہلکے سے تیوری چڑھائی،
ورنہ حیات یہاں سے چلی جائے گی۔

آمن نے ہلکی سی ہنسی دبائی،
اچھا ٹھیک ہے… ٹھیک ہے۔ نہیں پوچھتا۔
چلو یہ بتاؤ… آگے کیا ارادہ ہے؟ پیپرز ختم، آزاد ہو… اب کیا کرنا ہے زندگی میں؟

حیات نے اتنے سکون سے جواب دیا جیسے وہ سوال کبھی مشکل تھا ہی نہیں۔
حیات اپنا آفس کھولے گی… یا پھر ابو کا آفس سنبھال لے گی۔

آمن نے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹائی اور اسے غور سے دیکھا،
تم؟ تم اپنا آفس سنبھالو گی؟
اپنے آپ کو تو سنبھال نہیں سکتیں… آفس کیا سنبھالو گی؟

حیات نے پہلے تو حیرت سے آنکھیں پھیلائیں، پھر لہجے میں خفگی سمٹ آئی۔
ایکسکیوز می…؟ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

آمن نے فائلوں کا ایک چھوٹا سا پل بھر کا ڈھیر اپنی میز کے بائیں کونے سے اٹھایا۔
حیات ابھی بھی ہلکی سی ناراضی کے ساتھ دوسری طرف دیکھ رہی تھی…

اچھا…
آمن نے ہلکی سانس لیتے ہوئے کہا،
یہ لو۔ یہ فائلیں زاویار کو دے کر آؤ، پلیز۔

حیات نے فوراً نظریں اس کی طرف پھیریں۔
اوکے…
اس نے فائلیں ہاتھ میں تھام لیں۔

جیسے ہی اس نے پلٹ کر قدم بڑھایا، آمن نے ایک لمحے کو اسے جاتے دیکھا۔۔۔
وہی مخصوص چال، وہی بے فکری،
اور وہی انداز جیسے دنیا کی مشکل ترین بات بھی اس کے سامنے آسان لگ جائے۔

دروازے تک پہنچ کر حیات نے ذرا سا رک کر پیچھے دیکھا، جیسے غیر شعوری طور پر یہ یقینی بنانا چاہتی ہو کہ آمن واقعی اسے جا رہا دیکھ رہا ہے۔

اور آمن… دیکھ تو رہا تھا۔۔۔
مگر ظاہر نہیں ہونے دے رہا تھا۔

+++++++++++
کُچھ مہینے بعد۔۔۔۔۔

آج حیات کا کنووکیشن تھا۔
وہ دن جس کا انتظار ہر طالبعلم برسوں کرتا ہے۔۔۔
جس دن ہاتھ میں ڈگری پکڑ کر ایک پوری زندگی پیچھے رہ جاتی ہے
اور ایک نئی زندگی سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوتی ہے۔

حیات خوش بھی تھی… اور عجیب سی اداس بھی۔
خوش اِس لیے کہ آخرکار امتحانوں، اسائنمنٹس، پریزنٹیشنز اور سیمسٹروں کی بھاگ دوڑ ختم ہوگئی تھی۔
اب وہ بلا جھجھک اپنی کیوں رکی ہوئی خواہش پوری کر سکتی تھی۔۔۔
اپنی خود کی کمپنی کھولنے کی خواہش۔

اور اداسی…
وہ بس ایک ہلکی سی، آنکھ کے کنارے پر ٹھہری اداسی تھی۔۔۔
دوستوں سے دور جانے کی،
یونیورسٹی کے رنگین دنوں کو پیچھے چھوڑ آنے کی۔

مگر سچ پوچھیں تو یہ اداسی حیات کی خوشی کے سامنے کچھ بھی نہ تھی۔

حیات اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی۔
آئینے کے سامنے بیٹھے اس نے نہایت سلجھے انداز میں بالوں میں پونی بنائی۔۔۔
سیاہ رنگ کا فورک اس نے بڑی نفاست سے پہنا ہوا تھا،
اور دوپٹہ پنس سے اپنے کندھوں پر اس طرح سیٹ کیا کہ بار بار سنبھالنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
ہلکا سا میک اپ کیا۔۔۔
لبوں پر ایک نرم سی ہنسی…
اب تو وہ بالکل تیار تھی، مکمل، پُر اعتماد، اور دلکش۔

حیات نے آئینے میں خود کو دیکھا اور بولی
ویسے حیات پیاری تو ہے۔۔۔ کہیں حیات کو حیات کی ہی نظر نہ لگ جائے۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے مُسکراتے ہوئے اپنی بلائیں لے لیں۔

اتنے میں دروازہ کھلا اور زنیب بیگم ناشتہ لیے کمرے میں داخل ہوئیں۔

حیات نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا۔۔۔اور مُسکراتے ہوئے بولی۔۔۔
واہ… کنووکیشن حیات کا ہے اور سجی سنوری آپ گھوم رہی ہیں۔۔۔۔

زنیب بیگم ہنس پڑیں۔
وہ اپنی بیٹی کی طرح تیار تو تھیں، مگر اُس سادگی کے ساتھ جو خوبصورتی کو دوگنا بنا دیتی ہے۔
انہوں نے نرم سبز رنگ کے چکن کاری والے سوٹ میں، بالوں میں معمولی سی لہر اور ہلکی سی لپ اسٹک لگائی تھی۔
بلاشبہ وہ بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔

مجھے بھی تو تمہارے ساتھ جانا ہے… اور جب میری بیٹی کا کنووکیشن ہے تو میں کیوں نہ تیار ہوں؟
انہوں نے شرارت سے جواب دیا۔

حیات نے ناک چڑھا کر کہا
ہاں ہاں تیار ہوں… لیکن مجھ سے زیادہ اچھی لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

زنیب بیگم نے فوراً ہنس کر کہا۔۔
نہیں بھئی، تم ہی سب سے خوبصورت ہو۔ اب ناشتہ کرو جلدی۔

حیات نے پوچھا،
بابا تیار ہوگئے؟

زنیب بیگم کی مسکراہٹ گہری ہوگئی
ہاں! ان کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں… فجر سے ان کی تیاری شروع ہے۔

حیات نے آنکھیں گھمائیں
کیوں… ان کا کنووکیشن ہے کیا؟

زنیب بیگم نے مسکرا کر کہا
نہیں، ان کا نہیں… لیکن ان کی لاڈلی بیٹی کا ضرور ہے۔۔۔۔

حیات نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی
جو بھی…

چلو باتیں بعد میں کرنا، پہلے ناشتہ کر لو۔۔۔

حیات نے چمچ اٹھاتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا
ہاں کر رہی ہوں…

+++++++++++++

زاویار کی کال آئی تو امن نے فون کان سے لگایا ہی تھا کہ اُدھر سے اس کی آدھی سستی، آدھی جھنجھلائی ہوئی آواز سنائی دی
بھائی… جانا ضروری ہے کیا؟

امن نے فوراََ جواب دیا۔۔۔
ہاں، ضروری ہے۔۔۔

زاویار فوراً اعتراض پر اُتر آیا
عجیب! منع کر دو نا… چپ چاپ آفس آ جاؤ، کون پوچھنے والا ہے؟

امن نے جیسے آئینے میں اپنے ہی عکس سے بات کی
تمہیں پتا ہے زاویار، میں اپنے اصولوں کے خلاف نہیں جاتا۔
اُن لوگوں نے مہینا پہلے سے appointment لے رکھی ہے…
اب میں آخری لمحے منع کر دوں تو انہیں کتنا برا لگے گا؟

زاویار نے حسبِ معمول بے فکری سے جواب دیا
تو لگنے دو۔

امن نے تھوڑی سختی سے کہا
کوئی تمیز بھی ہوتی ہے زاویار۔۔۔

زاویار نے فوراً طنز جڑ دیا
ہاں ہاں، ساری تمیز تو تم میں ہی ہے…

امن نے خفگی سے کہا،
تو…؟

زاویار نے بات کاٹ کر بےزار انداز میں کہا
فون رکھو۔

امن نے اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی ہی سنائی
آفس سنبھال لینا… اور ہاں، آج new joining والے بھی آئیں گے،
تو اُنہیں اُن کا کام سمجھا دینا۔
یا ناتشا سے کہہ دینا، وہ سمجھا دے گی۔

زاویار جیسے ہاتھ ہلا کر کہہ رہا ہو
ہاں ہاں، صحیح ہے… میرے ابا نہ بنو اب۔۔۔

اور اگلے ہی لمحے فون کٹ۔

امن نے خالی سکرین کو دیکھتے ہوئے ایک گہری سانس بھری اور زیرِ لب بولا:
عجیب… کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ میں نہیں، یہ میرا باس ہے۔۔۔۔

اس نے فون میز پر رکھ دیا،
اپنے تکیے کے پرے گھومتی صبح کو دیکھا
اور زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
خیر…

+++++++++++

آفس میں…

زاویار آج سب سے پہلے پہنچا تھا۔
وہ زاویار… جو عمومی دنوں میں وقت سے دوستی کم اور دشمنی زیادہ رکھتا تھا،
مگر آج— کیونکہ امن موجود نہیں تھا۔۔۔
وہ ہر چیز کا خیال رکھ رہا تھا کہ کہیں آفس کے نظم میں کوئی دراڑ نہ پڑ جائے۔
عجیب محبت تھی اس کی… جو وہ کبھی مانتا نہیں تھا۔

مایا نے فائل انگلیوں میں گھماتے ہوئے مسکراتے ہوئے سلام کیا
Good morning sir…

زاویار نے سر ہلایا
“Good morning…
باس کا آج کا سارا شیڈول میرے روم میں بھجوا دو۔

یہ کہہ کر وہ مڑنے ہی لگا تھا کہ اچانک۔۔
پیچھے سے آتی ایک لڑکی اس سے ٹکرا گئی۔

ایک ہلکی سی چیخ،
ایک فائل کا جھکنا،
اور چند بالوں کا اس کے شانے سے ٹکرانا۔۔۔
منظر چند لمحوں کے لیے رک گیا۔

سوری، سوری۔۔۔
وہ گھبراہٹ میں فائل سنبھالتی پیچھے ہٹی۔

یہ عشاء تھی…
آج کی نئی جوننگ۔

اس کے گھنے لمبے بال بڑی نفاست سے چوٹی میں بٹے تھے،
جس میں ہلکے گلابی پھول اتنی خوبصورتی سے لگے تھے جیسے اس نے گھر سے نکلتے ہوئے خوشگوار دن کی دعا بھی بالوں میں سجا لی ہو۔
ہلکے پنک رنگ کی شلوار قمیض،
کندھے پر ترتیب سے رکھا ہوا دوپٹہ،
ایک ہاتھ میں فائل،
دوسرے بازو میں چھوٹا سا پرس۔

میک اپ کے نام پر صرف ہلکی سی لپ اسٹک، تھوڑا سا پاؤڈر۔۔۔
یوں کہ لگتا ہی نہ تھا کہ وہ تیار ہونے میں وقت ضائع کرتی ہے۔
اگر صرف بال دیکھے جاتے تو لگتا شاید آج کوئی فیشن شو ہے،
مگر لباس اور انداز… نہایت سادہ، معصوم، تھا۔۔۔

زاویار نے سخت لہجے میں کہا
دیکھ کے چلا کرو…
اور بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اپنے کیبن میں چلا گیا۔

عشاء نے زیرِ لب سختی سے کہا
عجیب مخلوق ہیں یہ…
اور آگے بڑھ گئی۔

مایا مسکراتے ہوئے اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔
یہ لو تمہارا کارڈ۔
سیدھا جاؤ، لیفٹ پہ کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ ہے… وہاں چلی جانا۔
تھوڑی دیر میں بوس تمہیں کام سمجھا دیں گے۔

عشاء نے شکر گزار انداز میں سر ہلایا
اوکے، تھنک یو۔۔۔

وہ پرس کو بازو پر سنبھالے،
بالوں کی چوٹی کو ہولے سے ٹھیک کرتی،
اعتماد کے ساتھ کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئی۔۔

++++++++++++

حیات آج خاصی تیاری کے ساتھ یونیورسٹی پہنچی چکی تھی۔۔۔
والدین کے لیے علیحدہ جگہ بنائی گئی تھی، جہاں ندیم صاحب اور زنیب بیگم مسکرا کر بیٹھ گئے۔۔۔
اور وہ خود سیدھی دوڑتی ہوئی امایہ اور سارہ کے پاس آگئی۔۔۔

عظمیٰ نے حیات اور امایہ سے کہا
پتا نہیں آج کون سے چیف گیسٹ آئے گا…

حیات نے فوراً ناک چڑھا کر کہا
میں آ گئی ہوں، کافی نہیں ہے؟ یہاں چیف گیسٹ کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔

امایہ نے  اس کی ہاں میں ہاں ملائی
بالکل! ہمارے ہوتے ہوئے چیف گیسٹ کی کیا ضرورت؟ یونی کی شان تو ہم ہیں۔۔۔

وہ تینوں ابھی اپنی خوش گپیوں میں گم تھیں کہ اسٹیج کے پاس سے انؤنسمنٹ ہوئی۔۔
تمام اسٹوڈنٹس اپنی اپنی نشستوں پر تشریف لے جائیں…

چند لمحوں میں بھاگ دوڑ تھم گئی، شور سمٹ گیا، اور سب اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔

دوبارہ آواز ابھری۔۔۔
Dear students and respected parents… welcome to this convocation.
And please welcome our chief guest… Mr. Aman Junaid Khan.

جملہ ختم ہوا نہیں تھا کہ پورے ہال میں تالیوں کی گونج پھیل گئی۔

حیات نے چونک کر سر اٹھایا۔
اس کی آنکھیں پل میں چھوٹی اور اگلے ہی پل غصے سے پھیل گئیں۔

وہ امایہ کے کان کے قریب جھک کر زہرخند لہجے میں بولی
یہ کہاں سے آ گئے یہاں؟

امایہ نے معصومیت سے شانے اچکائے
کار سے آئے ہوں گے… اور کیسے۔۔۔۔؟؟

حیات نے دانت بھیچے
عجیب انسان ہیں۔۔ ہر جگہ حیات کے پیچھے پیچھے آ جاتے ہیں… ان کو کوئی اور کام ہی نہیں
(وہ یہ سب اپنے آپ سے بڑبڑا رہی تھی۔

ادھر اسٹیج پر امن پرسکون لہجے میں بول رہے تھے
آپ سب کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے یہاں مدعو کیا۔
یہ میرے لیے بے حد فخر کی بات ہے کہ میں آپ سب کے اس بڑے، اہم اور یادگار دن کا حصہ بن سکا۔
I wish all of you the very best for your future.
May your path be full of success and happiness.
Have a great future ahead.

تالیاں پھر سے بج اٹھیں…
اور وہ آہستہ سے اسٹیج کے سامنے رکھے صوفے پر جا بیٹھے۔

اس کے بعد یونیورسٹی کے ہیڈ نے نام پکارنا شروع کیا،
ٹیچرز اسٹیج پر کھڑی مسکرا کر ہر اسٹوڈنٹ کو سرٹیفکیٹ دیتے، انہیں سراہتے—
اور ہال میں کامیابی کی خوشبو پھیلتی جا رہی تھی۔

حیات نے ناک چڑھاتے ہوئے سرگوشی کی
یہ ٹیچر لوگوں کو کیوں کھڑا کروایا گیا ہے؟

امایا نے آنکھیں جھپکائیں۔
پتا نہیں…

عظمیٰ فوراً بیچ میں کود پڑی،
ارے ٹیچرز ہی تو پیرنٹس کو ریویو دیں گی۔

حیات نے فوراً تڑاخ سے جواب دیا
یہ تو بہت غلط بات ہے۔۔۔

عظمیٰ نے حیرت سے پوچھا،
اس میں غلط کیا ہے بھلا؟

حیات نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے،
اب سب مل کر حیات کی برائیاں کریں گے… بس دیکھ لینا! ایک ایک کرکے مجھ سے پچھلے چار سال کا حساب لیں گی…

امایا نے افسردہ سا چہرہ بنا لیا،
بات تو صحیح ہے… پھر کیا کریں؟

عظمیٰ فوراََ امايا سے پوچھا،
تم کچھ کر سکتی ہو؟

حیات نے بےبسی سے سر ہلایا،
نہیں…

عظمیٰ نے کندھے اچکائے،
تو پھر اپنی باری کا انتظار کرو… بس۔۔۔

امایا اچانک ہنسی روک کر بولی،
اچھا ہوا میں اپنے پیرنٹس کو نہیں لے کر آئی۔

حیات نے فوراً پوچھا،
تو کس کو لے کر آئی ہو؟

امایا نے فخر سے جواب دیا،
پڑوس والی آنٹی کو۔

عظمیٰ کے منہ سے بےاختیار نکلا،
ہینّ؟؟

امایا ہنسی،
ارے میری پھوپھو ہی تو پڑوس میں رہتی ہیں، انہیں لے کر آئی ہوں۔

عظمیٰ نے ماتھے پر ہاتھ مارا،
تو ایسے بولو نا! حیات کے ساتھ رہ رہ کر تم بالکل پوری پاگل ہو چکی ہو…

حیات نے فوراً ناگواری سے کہا
ابھی حیات نا چپل اتار کے مارے گی تم کو…

میں کیا کی ہوں…؟ عظمیٰ فوراََ معصومیت سے بولی

حیات نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ارے آپ تو کچھ کرتی ہی نہیں ہیں…

ہاں نہ۔۔۔ عظمیٰ معصومیت سے مسکرائی۔۔۔

حیات نے گہری سانس لی،
چپ ہو جاؤ… مجھے اب وہ ہو رہا ہے…

امایا نے فوراً چونک کر پوچھا
وہ کیا؟

حیات نے آنکھیں پھیلا کر کہا،
ارے وہی… جو ٹینشن میں ہوتا ہے…

امایا نے اندازہ لگایا،
ٹائم ضائع…؟

حیات نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
ارے نہیں۔۔۔

عظمیٰ نے فوراََ کہا۔۔۔
Anxiety…?

حیات نے سر ہلایا۔۔
آہہہ… ہاں! سمارٹ…

امایا نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا،
لیکن ایکزائیٹی یہاں بیٹھے لوگوں کو نہیں ہونی چاہیے…

حیات نے فوراً پوچھا،
کیوں؟ ان لوگوں کو کیوں ہوگی؟

امایا نے ہنستے ہوئے بتایا،
ہماری حرکتوں کی وجہ سے…

حیات نے بےاختیار سر ہلایا،
بات تو صحیح ہے…

تینوں کی سرگوشیاں اور ہنسی مذاق پورے ہال کی سنجیدگی کے درمیان بالکل بےتکی لگ رہی تھیں…
اور شاید یہی وجہ تھی کہ اگلے ہی لمحے یونی کی انچارج— صبا میم — ان کے عین پیچھے آ کھڑی ہوئیں۔

صبا نے سخت لہجے میں کہا
آپ تینوں کو کوئی مسئلہ ہے؟

حیات نے فوراً گردن سیدھی کی،
نہیں… کیوں؟

صبا نے گھوری ڈالتے ہوئے کہا،
آپ لوگ بہت ڈسٹربنس کریٹ کر رہی ہیں۔
چپ چاپ بیٹھیں، ورنہ آپ کی باری پر آواز نہیں آئے گی۔
ان کا لہجہ بظاہر مؤدبانہ تھا، مگر اس میں اتنا غصّہ چھپا تھا کہ سامنے کھڑے پتھر بھی کانپ جاتے۔

عظمیٰ نے فوراً نظریں جھکا لیں،
جی سوری، میم…

صبا میم نے ناک سکوڑی،
ہمم… خیال رکھیے گا۔
یہ کہہ کر وہ دوبارہ ہال میں اپنا چکر لگانے لگیں۔

جیسے ہی وہ دور ہوئیں، حیات نے آنکھیں گھما کر سرگوشی کی
آج یقین ہوگیا کہ حیات واقعی بہت اسپیشل ہے…
تبھی تو پانچ، چھ سو بچوں میں سے آنکھوں کو صرف حیات ہی نظر آئی۔۔۔

عظمیٰ نے اسے گھور کر دیکھا،
جی نہیں، حیات اس لیے نہیں نظر آئی کہ وہ اسپیشل ہے…
وہ اس لیے نظر آئی کہ سچ میں شور مچا رہی ہو۔

حیات نے مصنوعی معصومیت سے سینے پر ہاتھ رکھا،
کونسا حیات؟ یہاں کھڑے ہو کر۔۔۔
‘اور اب عادت سی ہوگئی ہے مجھے ایسے جینے کی…’
گا رہی ہے…؟

عظمیٰ نے ہاتھ جوڑ لیے،
معاف کر دو بہن… میری غلطی تھی جو میں نے کچھ کہا…

حیات نے رعب سے ابرو اٹھائی،
ہمم… ذرا سنبھال کر بولا کرو۔

تینوں نے چپ تو اختیار کر لی،
مگر ہنسی ان کی آنکھوں میں بدستور ناچتی رہی۔۔۔

اسٹیج پر ماحول ایک بار پھر تالیوں کی گونج سے بھر گیا جب سیما میم نے اگلا نام پکارا۔
Now please welcome… Miss Amaya Shahmeer۔۔۔

ہال میں زور دار تالیاں بج اٹھیں۔

امایا نے کرسی سے اٹھتے ہوئے ایک ادا سے کہا،
چلو اب امایا اپنی عزّت افزائی کروا کے آتی ہے…
اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھ گئی۔

اسٹیج پر پہنچتے ہی ہیڈ سر احمد نے ڈگری اُس کے ہاتھ میں تھمائی۔
Nice performance… very well done.

Thank you, sir.
امایہ نے مُسکراتے ہوئے کہا

اسی لمحے امن کی نظریں چونک کر سکڑ گئیں—
ایک عجیب سی پہچان چمکی، جیسے کوئی دھندلا چہرہ اچانک ذہن کے پردے پر ابھر آیا ہو۔
آمن نے آہستہ، خود سے کہا
ایسا کیوں لگ رہا ہے… کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے؟
لیکن کہاں… یاد نہیں آرہا…

سیما میم نے باقی اسٹوڈنٹ کی طرح اُسے بھی نسیت کی۔۔۔
بس اپنے اندر تھوڑا سا سدھار لے آئیے آپ… باقی آپ کا فیوچر بہت برائٹ ہے۔

حیات نے مِس سیما کی بات سن کر فوراََ بولی
ہاں… اتنا برائٹ ہے کہ دِکھ ہی نہیں رہا۔

عظمیٰ نے فوراََ حیات کو ٹوکا۔۔۔
بدتمیز۔۔۔

حیات نے کندھے اچکا کر جواب دیا،
عجیب…

پھر امایا اپنی چمکتی ہوئی ڈگری لیے، چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے، اپنی سیٹ کی طرف واپس لوٹ آئی۔

امیایا اپنی جگہ بیٹھتے ہی ڈگری کو دونوں ہاتھوں سے ایسے تھامے بیٹھی تھی جیسے وہ سونے کی اینٹ ہو۔
فائنلی… اتنا گھسنے کے بعد ڈگری مل ہی گئی۔۔۔۔

عظمیٰ نے مسکرا کر کہا
مبارک ہو۔۔۔۔

حیات نے فوراً ہاتھ آگے بڑھایا،
اب ٹریٹ دو؟

امایا نے اسے گھور کر کہا،
بھوکّی! دے دوں گی… ویسے بہت سکون مل رہا ہے ڈگری ہاتھ میں پکڑ کر۔
ایسا لگ رہا ہے بہت بڑا بوجھ اُتر گیا میرے نازک کندھوں سے…

عظمیٰ نے ڈرامائی انداز میں منہ بنا لیا،
شرم کرو امایا… تم پڑھائی کو بوجھ کہہ رہی ہو۔۔۔

امایا نے کندھے اچکائے،
تو اس میں شرم کرنے والی کون سی بات ہے؟

عظمیٰ نے ہتھیار ڈال دیے،
کچھ نہیں بھئی…

اسی دوران اسٹیج پر سیما میم نے تیسرے بار اُس کا نام پکارا
Miss Uzma Shehzad!
اگر آپ یہاں موجود ہیں تو براہِ مہربانی اسٹیج پر آکر اپنی ڈگری وصول کر لیں۔

اور یہاں عظمیٰ اب بھی باتوں میں ہی لگی بیٹھی تھی۔

حیات نے اسے کہنی ماری،
عظمیٰ…؟

عظمیٰ چونکی،
ہاں…؟

حیات نے سنجیدگی سے پوچھا،
تمہارے بابا کا نام شہزاد ہے…؟

عظمیٰ نے کندھے پر دوپٹہ درست کیا،
ہاں کیوں…؟

حیات نے انگلی اسٹیج کی طرف اٹھائی،
کیوں کہ ٹیچر تمہیں تیسری دفعہ بُلا چکی ہیں… اسی لیے۔۔۔۔

عظمیٰ کے منہ سے بےاختیار نکلا،
ہہہ…؟
وہ صدمے میں فوراً کھڑی ہوگئی۔

حیات نے زور سے سر ہلایا،
ہاں! اب جاؤ۔۔۔

ہاں، ہاں۔۔۔
وہ دوپٹہ سنبھالتی گھبراہٹ میں تقریباً بھاگتی ہوئی اسٹیج پر پہنچی۔

اسٹیج پر پہنچتے ہی سیما میم نے گھوری ڈالی
آپ کو آواز نہیں جا رہی تھی کیا؟

عظمیٰ نے جھوٹ گھڑتے ہوئے کہا،
نہیں میم… میرا دوپٹہ پھنس گیا تھا… سوری۔۔۔۔

احمد سر نے نرمی سے ہنستے ہوئے کہا،
کوئی بات نہیں… یہ لو بیٹا، مبارک ہو۔

ڈگری ہاتھ میں آتے ہی عظمیٰ کا چہرہ کھل اٹھا۔۔۔
وہ تتلی کی طرح خوشی خوشی اپنی سیٹ کی طرف لوٹ آئی۔

عظمیٰ اپنی سیٹ پر آتی حیات کو کہنی مارتے ہوئے کہا
حیات کی بچّی! پہلے نہیں بتا سکتی تھی؟

حیات نے معصومیت سے پلکیں جھپکائیں
کیا…؟

عظمیٰ نے غصے سے کہا
یہی کہ میم میرا نام کال کر رہی تھیں۔۔۔

اسی وقت مس صبا نے گھور کر ان تینوں کو دیکھا۔۔۔
وہی مخصوص سختی، وہی خاموش دھمکی۔
تینوں ایک سیکنڈ میں سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں۔

چند لمحے بعد حیات بڑبڑائی
یہ حیات کا نام کیوں نہیں لے رہی؟

پتا نہیں… عظمیٰ نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔

امایا نے حیرانی سے کہا
کہیں حیات… تم دوبارہ فیل تو نہیں ہو گئی؟

حیات نے جھٹ سے جواب دیا
ارے نہیں! پو چھا تھا میں نے مس سے—
بولیں، ’نہیں، تم پاس ہو۔۔۔۔

اور پھر…
مائیک پر سیما میم کی واضح آواز گونجی
Now please welcome… Miss Hayat Nadeem Siddiqui

اسٹیج کے سامنے بیٹھے آمن کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رُک گئی۔

آمن نے چونک کر/خود سے کہا
حیات…؟
میرے کان بج رہے ہیں کیا…؟
ارے دنیا میں ایک ہی حیات تھوڑی ہے… اتنی بڑی یونیورسٹی ہے… کوئی اور ہوگی…

وہ اپنے دل کو سمجھا رہا تھا، مگر دل اپنی جگہ ضدی تھا۔

مس… میں ہوں۔
وہ آہستہ سے کرسی سے اٹھی۔

ہاں تو جائیے، بیٹا۔
صبا میم نے مُسکراتے ہوئے اُس سے کہا

امایا نے عظمیٰ کی طرف جھک کر کہا
میں نے اپنی پوری زندگی میں صبا میم کو ہنستے نہیں دیکھا۔۔۔

تو اب دیکھ لو… اس کا کریڈٹ بھی حیات کو جاتا ہے۔
عظمیٰ نے مُسکراتے ہوئے کہا

حیات جیسے ہی اسٹیج پر پہنچی، آمن کی آنکھیں اس پر جم گئیں۔

آمن نے دھیمی، حیران آواز میں کہا
یہ… یہ حیات ہے…

اور پھر حیات کو دیکھنے کے بعد جو ہر دفعہ ہوتا ہے آج بھی وہیں ہُوا تھا اُس کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔

احمد سر نے اسے ڈگری دیتے ہوئے کہا
بیٹا، ذرا اپنی شرارتیں کم کر لینا۔
آپ اب گریجویٹ ہو چکی ہیں، ماشاءاللہ۔۔۔

حیات نے فوراً منہ بنایا
سر… حیات کوئی چھوٹی بچّی تھوڑی ہے…

سیما میم، جن سے ہمیشہ خوف آتا تھا۔۔۔
آج عجیب محبت سے بولیں
بیٹا… تم رونق تھیں کلاس کی۔

حیات حیران ہوئی
ہیں؟ میں…؟
یہ وہی سیما میم تھیں جو ہر وقت غصّے میں رہتی تھیں، جن کے چہرے پر مستقل بگڑا ہوا تاثر ہوتا تھا۔
حیات سے تو ان کی الگ ہی جنگ چلتی تھی۔
اور آج…؟
آج وہی خاتون اتنی نرمی؟ اتنی محبت؟

سیما میم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پھر کہا
ہاں بیٹا، واقعی تم…

Thank you…
اور پھر۔۔۔
اس نے ڈگری لی،
مڑ کر اسٹیج سے اترتے ہوئے
آمن کو تیکھی نظروں سے دیکھا،
زبان نکالی… اور امن کو چھڑایا
اور چلتی بنی۔

آمن پھر مسکرایا۔۔۔
پاگل لڑکی…

چار گھنٹے تک چلنے والی اس تقریب کے آخر میں، جب ہر چہرے پر تھکن اور اُمید، دونوں ایک ساتھ بسیرا کیے کھڑی تھیں، تب امن اسٹیج کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

اس نے مائیک تھاما تو جیسے پورا ہال ٹھہر گیا۔
آواز میں وہی مانوس ٹھہراو… وہی سنجیدگی… تھی۔۔

تمام اسٹوڈنٹس جنہیں آج ڈگری ملی ہے… آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو، اس نے کہا تو کئی آنکھوں میں چمک اُتر آئی۔
یہ آپ کی زندگی کا ایک بڑا باب تھا… جو آج بند ہو رہا ہے۔ اگلا صفحہ کیسا ہوگا، یہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس تعلیم کو ضائع بھی کیا جا سکتا ہے، اور اس سے دنیا کو روشن بھی کیا جا سکتا ہے۔۔ یہ اب آپ کے اوپر ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔

اور وہ تمام اسٹوڈنٹس جنہیں اس سال ڈگری نہیں ملی…
وہ بالکل بھی مایوس نہ ہوں۔
جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، ویسے ہی ہر اسٹوڈنٹ بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔
خود پر بھروسہ رکھیں، دوبارہ کوشش کریں،
کیونکہ کوشش کرنے والے کی کبھی ہار نہیں ہوتی۔

اور میری اُن پیرنٹس سے بھی گزارش ہے جن کے بچوں کو اس بار ڈگری نہیں ملی،
براہِ مہربانی اُن سے ناامید نہ ہوں۔
انہیں ڈانٹنے کے بجائے حوصلہ دیں۔
انہیں دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیں۔
ان کا حوصلہ بنیں۔ کیوں کہ زندگی رکتی نہیں… چلتی جا رہی ہے۔ بس آپ کی کوشش کا سفر بھی چلتا رہنا چاہیے۔
that’s all thank you۔۔۔

اس کی بات ختم ہوتے ہی ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا،
اور آمن مسکراتا ہوا اسٹیج سے اتر آیا۔

یار… کیا بندہ ہے! زبردست۔۔۔۔ عظمیٰ نے بے ساختہ کہا۔

امایہ نے ہولے سے آنکھیں صاف کیں۔
ہاں… اس کی باتیں سن کر تو میری آنکھوں میں تو آنسو ہی آگئے…

حیات نے دونوں کو گھورتے ہوئے کندھے اچکائے۔
ہاں ہاں بس بھی کرو تم دونوں ڈرامے باز… چلو! کھانا لگ گیا ہے۔۔۔

اور یوں ہال میں بکھری ہوئی روشنی کے ساتھ لوگ ایک ایک کر کے کھانے کی میزوں کی طرف بڑھنے لگے۔
تقریب ختم ہو چکی تھی… مگر کئی دلوں میں امید کا چراغ ابھی ابھی جلا تھا۔

++++++++++++

عشاء نے تیسری بار گھڑی کی طرف دیکھا۔ انتظار کے لمبے سائے اس کے چہرے پر تھکن کی دھند سی بکھیر رہے تھے۔

آہ… یہاں بیٹھے ہوئے مجھے تین گھنٹے سے اوپر ہو گیا ہے۔ یہ آفس والے مجھے کام دیں گے بھی یا نہیں؟
اس نے بےزار ہو کر کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹاتے ہوئے کہا۔

سمیر نے سامنے بیٹھے بیٹھے ہلکا سا مسکرایا، جیسے اس کی جھنجھلاہٹ اسے خاصی دلچسپ لگ رہی ہو۔
شاید نہیں… وہ شرارت سے بولا۔

عشاء نے اسے گھورا۔
تمہیں تو مل گئی نہ جاب؟

سمیر نے تھوڑا سا سینہ تان کر بےنیازی سے کہا
ہاں… کہہ سکتے ہیں۔

عشاء کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جس میں ایک رسمی سا خلوص تھا۔
اچھا… مبارک ہو تمہیں۔

خیر مبارک… سمیر نے گردن ٹیڑھی کر کے غور سے اسے دیکھا۔
ویسے آج آپ کے بالوں میں پھول کس نے اگا دیے؟

عشاء نے فوراً گردن سیدھی کی، بال سمیٹے، اور نہایت سنجیدہ لہجے میں بولی
آپ کو کوئی مسئلہ ہے؟

نہیں نہیں… ہمیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے بھلا؟
اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔

تو پھر اپنا منہ بند رکھیے۔ پلیز۔

جیسا آپ کہیں…سمیر نے دونوں ہاتھ اٹھا کر سرینڈر محسوس کرایا، مگر اس کی آنکھوں میں معصوم سی شرارت ناگ کی طرح پھن پھلا رہی تھی۔

اتنے میں ایک لڑکی فائل پکڑے ان کے قریب آئی۔
مس عشاء کون ہیں؟

عشاء چونک کر فوراً کھڑی ہو گئی۔
جی… میں ہوں۔

لڑکی نے نظریں فائل پر جمائے ہوئے کہا
آپ کو زاویار سر بلا رہے ہیں۔ ان کے کیبن میں چلی جائیں۔ اور مسٹر سمیر… آپ کو بھی۔ لیکن ایک ایک کر کے، پلیز۔

سمیر نے ہلکے سے سر ہلایا۔
اوکے۔

عشاء نے فوراً اس کی طرف دیکھا،
پہلے تم جاؤ… پھر میں جاؤں گی۔

سمیر نے حیرت سے ابرو اٹھایا۔
کیوں بھئی؟

یار بس چلے جاؤ… مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ پتہ نہیں کیا بولیں گے، کیا نہیں بولیں گے…

سمیر ہنس دیا۔
اس میں ڈرنے والی کون سی بات ہے؟

بات ہے بھئی! پہلے تم جاؤ… بس۔
اس کی آواز میں ضد کم اور خوف زیادہ تھا۔

سمیر نے آخر کار سر جھٹک دیا۔
اچھا اچھا… ٹھیک ہے، جاتا ہوں۔ اتنی panic کیوں کر رہی ہو تم؟

عشاء نے بمشکل سانس لیا۔
ہمم… جاؤ۔

سمیر قدم اٹھاتے ہوئے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔
عشاء نے بےاختیار ہتھیلیاں ملیں، جیسے دعا مانگ رہی ہو کہ سب خیر سے گزر جائے۔

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *