تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۷
زرتاشا بس انگلیاں اٹھا کر دروازہ نوک کرنے ہی والی تھی کہ اچانک پیچھے سے زینب بیگم کی سخت مگر تھکی ہوئی آواز گونجی
کیا کر رہی ہو تم دونوں ادھر؟
دونوں چونک کر پلٹیں۔
زینب بیگم نے بھنویں چڑھائیں،
نیچے چلو! کب سے ہادی اکیلا بیٹھا ہے۔
اور تم… وہ زارا کی طرف متوجہ ہوئیں،
چلو! اپنے جیجو سے ملو جا کر۔
زارا فوراً سیدھی کھڑی ہوئی، جھٹ سے سر ہلایا،
ہاں ماما۔۔۔ چلیں۔
اس نے زرتاشا کا بازو پکڑا اور زبردستی اسے پیچھے کھینچنے لگی۔
چلو…
زرتاشا نے دروازے کی طرف آخری نظر ڈالی۔۔۔۔
چھوڑ نا! ذرا سا تو۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ زارا نے اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے کھینچا۔
ابھی نہیں۔ نیچے چل۔۔۔۔
+++++++++++++
کمرے کے اندر اب بھی ہلکی سی خاموشی کی ٹھنڈک باقی تھی،
مگر کائنات کے اندر آگ بھڑک رہی تھی۔
اس کی کلائی اب بھی زیدان کی مضبوط گرفت میں تھی۔
کائنات نے ایک جھٹکے سے ہاتھ کھینچنا چاہا…
نہیں چھوٹا۔
وہ تپ کر بولی،
چھوڑیں… میرا ہاتھ چھوڑیں….
زیدان آنکھیں موندے پڑا تھا،
میں نے کہا نا… میں سو رہا ہوں۔ ڈسٹرب نہ کرو مجھے۔
کائنات کو غصہ آیا…
اس نے دوسری ہاتھ سے اپنی کلائی پکڑی
اور زیدان کی گرفت سے کھینچنے کی پوری قوت لگا دی۔
چھوڑیں میرا ہاتھ….
اس کی آواز میں لرزش بھی تھی اور گریہ بھی۔
زیدان کی آنکھ جھٹ سے کھلی….
اس نے کلائی کی گرفت اور سخت کر دی۔
اتنی زور سے کیوں کھینچ رہی ہو؟ ہاتھ ٹوٹ جائے گا تمہارا….
تو ٹوٹنے دیں….
کائنات نے غصے سے کہا۔۔۔۔ اور
کائنات نے اپنی کلائی چھڑانے کی ایک اور ناکام کوشش کی…
زیدان کی گرفت پہلے سے بھی مضبوط تھی۔
آنکھوں میں غصے اور بےبسی کے آنسو تیر گئے۔
چھـ…وڑیں میرا ہاتھ۔۔۔۔۔
زیدان نے آدھی بند پلکوں کے پیچھے سے دیکھا،
اتنا شور مت کرو… میں سو رہا ہوں۔۔۔۔
کائنات کا ضبط ایک پل میں ٹوٹ گیا۔
اچانک…
بجلی کی سی تیزی سے اس نے جھک کر
زیدان کے ہاتھ پر۔۔۔
بالکل اس جگہ۔۔۔۔
جہاں اس کی گرفت مضبوط تھی…
دانت گاڑ دیے۔
آه ہہہ
زیدان جھٹکے سے سیدھا ہوا۔
کائنات۔۔۔۔۔
وہ حیران بھی ہوا، سچ میں درد بھی ہوا۔ مگر…
اس نے ہاتھ نہیں چھوڑا۔
کائنات پیچھے ہٹی،
سانس پھولی ہوئی، آنکھیں نم، اور غصہ شدت پر
اب چھوڑیں گے؟
یا آپ کا پورا ہاتھ چبا کر دکھاؤں؟
زیدان بے اختیار ہنس پڑا۔
اس دفعہ تو وہ واقعی اپنی ہنسی روک ہی نہیں پایا تھا۔
پہلے وہ صرف مسکراتا تھا،
چہرہ سخت رکھ کر زبردستی سنجیدہ بنتا تھا۔۔۔۔
مگر آج…
اس کی ہنسی کائنات سے چھپی نہیں رہی۔۔۔
کائنات ششدر رہ گئی۔
وہ تو اسے تکلیف دینے کی کوشش کر رہی تھی…
اور یہ شخص۔۔۔
ہنس رہا تھا؟
تُم بے شک میرا پورا ہاتھ چبا جاؤ۔۔۔۔ لیکن میں پھر بھی تُمہارا ہاتھ نہیں چھوڑ رہا۔۔۔۔ وہ مسکراتا بولا۔۔۔۔
آپ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔؟ آپ کو سمجھ نہیں آ رہی؟
میں کہہ رہی ہوں چھوڑیں مجھے۔۔۔اپنے ہاتھ کی بھی فکر نہیں ہے۔۔۔ ہنہ۔۔۔
زیدان نے آہستہ سے سر ہلایا،
لیکن ہاتھ کی گرفت ویسی ہی رہی۔
سمجھ آ رہی ہے…
وہ آہستہ سے بولا،
لیکن ہاتھ میں، پھر بھی نہیں چھوڑ رہا۔۔۔
کائنات نے پھر ہاتھ کھینچا،۔
آپ— آپ کا دماغ خراب ہے۔۔۔۔
وہ چلا اٹھی۔
زیدان نے ایک پل کو اسے شانت نظروں سے دیکھا،
پھر مسکرا کر بولا
ہاں… ہے تو۔۔۔۔
اس لمحے کائنات کا دل چاہا
کہ وہ اپنا سر زور سے دیوار میں مار لے۔
یا اللہ…
وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی،
یہ شخص واقعی ڈھیٹّوں کا بادشاہ ہے۔
سلطانِ ڈھیٹ۔۔۔۔۔
زیدان نے اس کی آنکھوں میں گھومتے طوفان کو پڑھ لیا۔
مسکرا کر بولا
ہاں، سوچ رہی ہو نہ…؟
کہ دیوار میں سر مار لو؟
مار لو…
لیکن ہاتھ نہیں چھوڑوں گا۔۔
کائنات بےاختیار ہڑبڑا گئی۔
آپ… آپ میرا دل بھی پڑھتے ہیں؟
نہیں۔
وہ پرسکون انداز میں بولا،
بس تمہارا چہرہ بہت صاف ہے۔
دل میں جو بھی آتا ہے،
چہرے پر آ جاتا ہے۔
کائنات نے غصے سے ناک پھلایا۔
میرے دل میں آ رہا ہے کہ آپ کو۔۔۔۔
دیوار میں دے ماروں؟
وہ ہنسا۔
کر لو۔
شاید تب ہاتھ چھوڑ دوں…
لیکن شاید نہیں بھی۔
میں سیریس ہوں۔۔۔۔
کائنات چلائی۔
زیدان نے لمحہ بھر اسے دیکھا…
گہری، ٹھہری ہوئی نظروں سے۔
میں بھی تو سیریس ہوں، میں تمہیں باہر جانے نہیں دونگا۔۔۔۔۔
کائنات نے آخر ہار مان لی۔۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی،
بستر کا تکیہ اٹھایا
اور غصّے میں اسے اپنے سامنے یوں تھاما
جیسے دشمن ہو۔
پھر۔۔۔۔
زور سے اپنا سر اس میں دے مارا۔
ایک بار نہیں…
دو بار نہیں…
تین بار۔۔۔۔
پھر اسی تکیے کو سینے سے لگا کر
وہ پیچھے ہوئی اور ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اور اپنا رخ دوسری طرف کرلیا۔۔۔۔
جیسے وہ وجود ہی نہ ہو۔
کلائی ابھی بھی زیدان کی گرفت میں تھی۔۔۔۔
تکیہ چہرے سے لگا ہوا تھا،
اور اس کے اندر سے دبی دبی ہچکیاں نکل رہی تھیں۔
آنسو تکیے میں جذب ہونے لگے۔
زیدان نے اس منظر کو دیکھا۔۔۔۔
اور ہولے سے مسکرا دیا۔
ایسی مسکراہٹ، جو کسی کی ضد، کسی کی بے بسی، اور کسی کی سادگی پر بےاختیار آ جائے۔
اس نے آہستہ سے دل میں بڑبڑایا
کُچھ بھی ہوجائے رونا دھونا نہیں چھوڑنا۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتا رہا۔
تکیے میں منہ چھپائے روتی ہوئی کائنات۔۔۔۔۔
اور ہاتھ اس کے ہاتھ میں قید۔
زیدان نے کلائی کی گرفت تھوڑی نرم کی،
لیکن پھر بھی چھوڑا نہیں۔۔۔۔
++++++++++++++
میں سوچ رہی تھی… آج رات یہیں رک جاؤں۔
زرتاشہ بولی۔۔۔
اُس کے برابر صوفے میں بیٹھی زارا فوراً بولی،
ہاں ہاں، رہ جاؤ!
ہادی نے جواب دیا،
نہیں… ابھی کیا ضرورت ہے؟
ولیمے کے بعد آ کر رہ لینا۔
زینب بیگم نے فوراً ہادی کی تائید کی،
ہاں، ہادی ٹھیک کہہ رہا ہے بیٹا۔
ولیمے کے بعد آ جانا۔
اور ویسے بھی کل تم لوگوں کی حریم پھوپھو بھی آنے والی ہیں۔
زرتاشا نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں،
وہ کیوں آ رہی ہیں؟
زینب بیگم نے ایک لمبی سانس بھری،
گھر میں اتنی شادیاں ہو گئیں…
اور انہوں نے ایک بھی اٹینڈ نہیں کی۔
تو اماں نے سوچا، زیدان کے ولیمے میں انہیں بلالیا جائے۔
زارا نے فوراً چونک کر پوچھا،
زیدان کا ولیمہ… ہوا نہیں ابھی؟
نہیں، کہاں؟
زینب بیگم نے سر جھٹکا۔
زارا نے دونوں ہاتھ اوپر کیے،
کیا میرے نصیب میں سب کا ولیمہ اٹینڈ کرنا لکھا ہے؟
ہادی، زینب بیگم اور باقی سب کے لبوں پر ہلکی سی ہنسی پھیل گئی۔
زرتاشا نے بھی مسکرا کر کہا،
ہاں… ویسے اچھا ہے حریم پھوپو آجائے گی تو وہ میرا بھی ولیمہ اٹینڈ کر لے گی۔۔۔
ہادی نے سوالیہ نظروں سے زنیب بیگم کی طرف دیکھا۔۔۔
گھر پر اور کوئی نہیں ہے؟
زینب بیگم نے پرسوں کی خریداری والے تھیلے سمیٹتے ہوئے جواب دیا،
کہاں… عائشہ بھابھی اور اماں اپنے کسی دوست کے گھر گئی ہوئی ہیں۔
مریم کچن میں مصروف ہے، اور ہمارے گھر کے مرد حضرات… اس وقت تو ہمیشہ آفس ہی میں موجود ہوتے ہیں۔
ہادی نے ابرو اچکائے،
اور زیدان؟
زرتاشا فوراً بولی،
وہ… وہ نیچے آ ہی نہ جائے۔۔۔۔
ہادی کی پیشانی پر شکن پڑ گئی،
کیوں؟
زینب بیگم نے ہاتھ کا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا،
وہ اس وقت سو رہا ہوگا…
زارا نے فوراً ناک سکوڑی،
اس وقت؟ کیا وہ سارا دن ہی سوتا رہتا ہے؟ سونے کے علاوہ اسے اور کوئی کام ہے بھی؟
زرتاشا کی ہنسی چھوٹ گئی،
ہاں نا! کھانا…
وہ کھانے اور سونے کے لیے ہی تو جیتا ہے۔۔۔
زارا نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جیسے بڑی سنجیدہ دریافت کی،
ہاں واقعی۔۔۔۔
زینب بیگم بے دونوں کو فوراََ ڈانٹا۔۔۔
چُپ کر جاؤ دونوں وہ سن لے گا تو غصّہ کرے گا۔۔۔۔
کُچھ دیر بعد ڈرائنگ روم میں پريشے داخل ہوئی۔۔۔
پری بھی اُس کے ساتھ ہی تھی۔۔۔
السلام علیکم… کیسی ہو زرتاشا؟ اور آپ کیسے ہیں…
نرمی اور وقار کے ساتھ وہ بولتی اگے بڑھی۔۔
وعلیکم السلام بھابھی، آپ کیسی ہیں؟
زرتاشا آگے بڑھ کر گلے ملی، ماحول میں اپنائیت سی گھل گئی۔
وعلیکم السلام۔ وہ بھی پریشے کو دیکھ کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا اور ہلکا سا سر خم کر کے جواب دیا۔۔
میری طرف سے بھی آپ دونوں کو السلام علیکم… لیکن میں آپ دونوں سے ناراض ہوں۔۔۔۔
پری نے ہاتھ کمر پر رکھ کر مصنوعی غصے سے کہا۔
ہادی نے حیرت سے پری کی طرف جُھک کر نرمی سے کہا
کیوں بھلا؟ ہماری پری ہم سے کیوں ناراض ہے؟
پری نے غصے میں ناک سکوڑا،
آپ دونوں نے پری کو شادی پہ بلایا تھا۔۔! ہاں؟
زرتاشا نے ہنستے ہوئے اس کے گال چھوئے،
اچھا تو پری اس بات پہ ناراض ہے۔۔۔۔
ہاں۔۔۔ وہ اور بھی مصنوعی ناراضی سے بولی۔
آپ کو پتہ تھا نا کہ میں نے آپ کی شادی پر لہنگا پہننا تھا… لیکن نہیں! یہاں کسی کو میری پرواہ ہی نہیں ہے۔۔۔
ہادی نے فوراً کچھ یاد آنے کے سے انداز میں ٹوفیوں کے ڈبّے میں ہاتھ ڈالا اور ایک چھوٹا سا کارڈ نکالا۔
ساتھ ہی میز پر رکھا خوبصورت سا میٹھائیوں کا چھوٹا سا ٹوکرا بھی آگے سرکایا۔
اچھا… تو پھر یہ لو۔۔۔۔
پری نے کارڈ پکڑتے ہوئے حیرت سے پوچھا،
یہ کیا ہے؟
زرتاشا نے چمکتی آنکھوں سے کہا،
ہمارے ولیمے کا دعوت نامہ۔
ولیمہ…؟ ابھی باقی ہے آپ لوگوں کا؟ پری حیران رہ گئی۔
ہاں۔۔۔ زرتاشا نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا۔
اب ناراضی ختم؟
پری نے ذرا ہچکچاتے ہوئے سر ہلایا،
ہاں… تھوڑی تھوڑی۔
پھر کارڈ کھول کر دھیرے دھیرے پڑھنے لگی۔
اسی لمحے ہادی نے نہ جانے کس خیال میں کھو کر پریشے کی طرف دیکھا،
آپ… پریشے رؤف ہیں؟
پریشے چونکی،
ہاں… لیکن آپ کو میرا پورا نام کیسے معلوم؟
ہادی کی آواز میں یکدم عجیب سی سنجیدگی اتر آئی،
شاید… ہم پہلے مل چکے ہیں۔
زینب بیگم نے فوراً سوال کیا،
کب؟
ہادی لمحہ بھر کو رکا پھر دھیرے سے بولا،
ہاسپٹل میں، آنٹی۔
پریشے کی آنکھوں میں پل بھر کو پہچان کی چمک اُتری۔
عبدال ہادی… رائٹ؟ ہاں… آپ یاد ہو مجھے۔
ہادی نے نظریں چرائیں، جیسے کوئی پرانا خیال بے آرام کررہا ہو۔
میں اُس وقت بھی آپ سے کچھ کہنا چاہتا تھا…
پریشے نے ہلکا سا سانس لیا،
کیا؟
آپ نے تو اپنے والد صاحب کو مجھے چیک کرنے ہی نہیں دیا تھا۔ ہادی کا چہرہ سنجیدہ تھا
پریشے نے شرمندہ سا چہرہ بنایا،
وہ نرس کی وجہ سے… نرس نے کہا کے آپ انٹر ہوں اور پھر ڈاکٹر جمال اتنے بڑے ڈاکٹر تھے، میں خود بھی کنفیوز ہوگئی تھی۔
ہادی کی آنکھوں میں وہی پرانی سوچ لوٹ آئی،
بس یہی بات… میرے لیے سوچنے والی تھی۔
زرتاشا نے تشویش سے اس کی طرف رخ موڑا،
کیا مطلب ہادی؟ کوئی مسئلہ ہے؟
ہادی نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا، جیسے کہنا چاہ رہا ہو مگر ڈَر بھی ہو کہ کہیں غلط نہ ہو۔
ہاں… لیکن ہو سکتا ہے میں غلط ہوں۔
پھر وہ دوبارہ پریشے کی طرف متوجہ ہوا۔
آپ کے والد صاحب… اب کیسے ہیں؟
پریشے نے دھیرے سے جواب دیا،
اللہ کا شکر ہے… آپریشن کامیاب رہا۔ ڈاکٹر نے چھ مہینے آرام کا کہا ہے۔ اس کے بعد ابو بالکل ٹھیک ہو جائیں گے، ان شاءاللہ۔
ہادی نے گہری سانس بھری،
ایکسڈنٹ کیسے ہوا تھا؟
پریشے نے نظریں نیچی کرتے ہوئے کہا،
پتہ نہیں… میں اُس وقت یونیورسٹی میں تھی۔ جب گھر آئی تو امی اور بہن دونوں گھر پر نہیں تھیں۔ میں نے بہن کو کال کی تو معلوم ہوا۔ جب ہاسپٹل پہنچی تو ڈاکٹر اُنہیں چیک کر چکے تھے۔ میری سیدھی بات ڈاکٹر سے ہوئی۔
ہادی نے جیسے کسی اندرونی نوٹ بک میں کچھ درج کیا ہو، یوں پوچھا،
اچھا… تو کیا کوئی بندہ تھا وہاں؟ جو اُنہیں لے کر آیا ہو؟ یا جس سے ایکسڈنٹ ہوا ہو؟
پریشے نے سر جھٹک دیا،
نہیں… کوئی نہیں تھا۔ میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ سڑک پر عام لوگ آجا رہے تھے، بس۔ جیسے ہی امی اور بہن پہنچی، وہ لوگ چلے گئے۔
اور… آپ لوگ مڈل کلاس فیملی سے ہیں؟
پریشے حیران سی ہوگئی،
ہاں… لیکن آپ مجھ سے اتنے سوال کیوں کر رہے ہیں؟
ہادی نے لمحہ بھر خاموشی کے بعد نہایت سنجیدگی سے کہا،
کیوں کہ مجھے ڈاکٹر جمال پر… شک ہے۔
پریشے کے دل میں انجانا سا ڈر اُترا،
کیسا شک…؟
یہ مجھے نہیں معلوم… لیکن اگر آپ میری بات مانیں… تو ایک دفعہ اپنے والد صاحب کو کسی اور بڑے، قابلِ اعتماد ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔
زرتاشا کے چہرے پر تشویش ابھری،
ہادی… کیا کوئی بڑی پریشانی ہے؟
وہ فوراً موضوع سنبھال گیا،
نہیں… میں ایسا کچھ نہیں کہہ رہا۔
پریشے نے اس کی آنکھوں میں جھانکا،
لیکن شک کی کوئی تو وجہ ہوگی؟
ہادی نے آہستہ آہستہ بات سمجھانی شروع کی،
ڈاکٹر جمال بہت بڑے سرجن ہیں۔ وہ ایسے چھوٹے موٹے کیس کو ہاتھ نہیں لگاتے… نہ ہی چیک کرتے ہیں۔ اُن کی فیس بہت زیادہ ہے۔ لوگ انہیں پرسنلی بلاتے ہیں… اور تب بھی وہ ہر کیس نہیں دیکھتے۔
مجھے لگا شاید آپ نے انہیں پرسنلی رکھا ہو… کیونکہ نرس مجھے اندر جانے ہی نہیں دے رہی تھی۔ لیکن… مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہے۔۔۔
پریشے اب واقعی الجھ گئی تھی،
مجھے اب تک آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔
ہادی نے فوراً بات بدل دی، جیسے مزید بولنا اسے نقصان دے سکتا ہو،
چھوڑیں… جانے دیں۔ آپ اسوان بھائی کو پہلے سے جانتی ہیں؟
پریشے نے بے اختیاری سے چونک کر سر اٹھایا،
ہاں۔
کب سے؟
ہادی کی نظریں جیسے اس جواب کا وزن تول رہی تھیں۔
دو سال سے… پریشے نے سادگی سے کہا۔
اچھا… ہادی نے سر ہلایا، جیسے اس جواب نے اس کے شک کو کم نہیں بلکہ بڑھا دیا ہو۔
پریشے نے تنگ آکر کہا،
لیکن بات کیا ہے؟ آپ کھل کر بتا کیوں نہیں رہے؟
ہادی نے گہرا سانس لیتے ہوئے نرمی سے کہا،
آپ بس اپنے والد صاحب کو کسی اور ڈاکٹر کو دکھا لیجیے… ہو سکتا ہے میرا شک غلط ہو۔
پریشے نے خاموشی سے سر ہلایا،
اچھا… دیکھوں گی۔
ہادی کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ ابھری،
شکریہ… میری بات سمجھنے کے لیے۔ اب ہمیں اجازت دیں۔
زینب بیگم نے فوراً کہا،
ارے بیٹا، ابھی تو آئے ہو۔ کھانا پینا کر کے جانا۔
ہادی نے مؤدبانہ لہجے میں جواب دیا،
سوری آنٹی… پھر کبھی۔ مجھے ابھی دوبارہ ہاسپٹل جانا ہے۔ زرتاشا؟ چلیں؟
ہاں جی، چلیں۔ زرتاشا نے پرس اٹھایا۔
جاتے جاتے وہ رک کر بولی،
اچھا پری… اب آنا میرے ولیمے میں۔
پری نے منہ بناتے ہوئے کہا،
ہاں ہاں آؤں گی… ناراضی تو اب بھی پوری ختم نہیں ہوئی، لیکن پھر بھی… آ جاؤں گی۔
زرتاشا نے مُسکراتے ہوئے کہا
یہ ناراضی تو اب چاکلیٹ کے ساتھ ہی ختم ہوگی، مجھے لگ رہا ہے…
پری نے فوراً ہاتھ باندھ کر ناک سکوڑی،
بالکل! پری کو منانے کا سب سے آسان طریقہ چاکلیٹ ہی ہوتا ہے۔
ہادی نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں، پھر بےساختہ مسکرا اٹھا،
مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ پری واپس آچکی ہے… ورنہ میں چاکلیٹ ساتھ لے کر ہی آتا۔۔۔۔
پری نے جھٹو جھٹ نظریں تنگ کرتے ہوئے کہا،
ہاں ہاں… اب بہانے مت بنائیں۔ پری کو تو ہمیشہ بھول ہی جاتے ہیں آپ لوگ۔
زرتاشا نے اس کے گال کھینچا،
اچھا بس! اب اگلی بار ہادی پورا چاکلیٹ کا اسٹاک لے کر آئے گا، ٹھیک ہے؟
ہادی نے ہاتھ اوپر اٹھا کر مزاحیہ قسم کھانے کے انداز میں کہا،
وعدہ! اگلی بار پری کے لیے بہت سارا چاکلیٹ… بلکہ پوری ٹوکری۔۔۔
پری نے آخرکار ناراضی کے پردے کے پیچھے چھپی خوشی ظاہر کرتے ہوئے گردن اکڑائی،
ہاں ہاں بس۔۔ جب لے کر آئے گے نہ، تب دیکھا جائے گا۔۔۔
++++++++++++++
وہ اب بھی سر میں دھیمی سی ٹیس محسوس کر رہی تھی… شاید دیر تک روتے رہنے کا اثر تھا۔ پلکیں بوجھل تھیں مگر جیسے ہی اُس نے آنکھ کھولی،
تو زیدان کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ہٹ چکا تھا۔ اس کی گرفت ختم ہو گئی تھی۔ لیکن بستر پر اس کے برابر والی جگہ خالی تھی۔
کائنات نے آنکھیں سکیڑ کر گردن موڑی، اور تب اسے آئینے کے سامنے کھڑا زیدان نظر آیا۔ گہرے رنگ کا شرٹ پہن رہا تھا، آستینیں فولڈ کر رہا تھا، جیسے کہیں نکلنے کی جلدی ہو۔ اسی انداز میں… خاموش، سنجیدہ، اور اپنے ہی خیالوں میں گم۔
یقیناً وہ کہیں باہر جانے والا تھا۔
کہاں جا رہے ہیں…؟
زیدان نے مختصر سا جواب دیا،
باہر…
وقت کیا ہوا ہے؟
آٹھ بجنے والے ہیں۔
کائنات نے لمحہ بھر رُک کر کہا،
جلدی آئیے گا…
اس ایک جملے نے زیدان کو جیسے روک دیا۔ وہ حیرت سے پلٹا، آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے اُس کے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا۔ اُس نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اُسے غور سے دیکھا… اتنی دیر تک کہ کائنات کی پلکیں خود بخود جھپکنے لگیں۔
کائنات نے نظریں چرانے کی کوشش کی، مگر زیدان نے اُسے ایسا کرنے ہی نہ دیا۔
اُس کی نگاہیں عجیب سی تھیں—سخت بھی، نرم بھی… اور ان دونوں کے بیچ کہیں رکی ہوئی۔
جیسے وہ پہلی بار سوچ رہا ہو کہ یہ لڑکی، جو ہر وقت اس سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہے… اچانک اسے جلدی آنے کا کہہ کیوں رہی ہے؟
کیوں…؟
اس کی آواز میں سوال کم، کھوج زیادہ تھا۔
کائنات نظریں جھکا کر بولی:
ویسے ہی…
زیدان کے چہرے پر ایک آہستہ سا تیکھا تاثر ابھرا۔
میں دو بجے سے پہلے نہیں آؤں گا۔
وہ چونک گئی۔
سات گھنٹے بعد…؟
ہاں۔۔۔۔۔
اس نے مختصراً کہا… جیسے فیصلہ اٹل ہو… جیسے اس کے سوال سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر اچانک جیسے کسی فیصلہ پر پہنچ کر پلٹا۔ قدموں میں وہی خاموشی، وہی جلال… دروازے تک گیا، ہاتھ ہینڈل پر رکھا، لیکن جانے سے پہلے ایک بار پھر مڑا۔
اس کی نظروں میں سردی تھی… اور لہجے میں وہ ہمیشہ کی طرح سختی
مجھے اپنی زندگی میں کسی کی بھی مداخلت برداشت نہیں ہے۔
وہ ٹھہر ٹھہر کر بولا۔
آج تم نے بھائی کی بات سن کر کہہ دیا… آئندہ مت کہنا۔
کائنات حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
جیسے اُس نے کوئی حد پار کر دی ہو… کوئی ایسا لفظ کہہ دیا ہو جس نے اسے چھو لیا ہو۔
وہ رُکی نہیں۔ فوراً بولی—آواز میں بےساخی اور تھوڑی سی تکلیف
آپ دُوسروں کی زندگی میں مداخلت کریں تو وہ ٹھیک…؟
زیدان چند ثانیے اسے گھورتا رہا۔
اس کی خاموشی میں ایک دھکا سا تھا، جیسے وہ اس جملے کی توقع نہ کرتا ہو۔
میں نے کس کی زندگی میں مداخلت کی ہے؟
اس نے آہستہ سے پوچھا، مگر اس آہستگی کے پیچھے ایک خطرناک ٹھہراؤ تھا۔
کائنات نے نظریں نہ چرائیں نہ جھکائیں۔
آواز بےحد مدھم تھی، مگر ہر لفظ سیدھا اس کے سینے پر جا لگا۔
میری… کچھ دیر پہلے۔
مجھے روک لیا تھا۔ نیچے جانے نہیں دیا…
زیدان نے آہستہ سے، لیکن پوری قطعیت کے ساتھ کہا
تمہاری زندگی پر تو میرا حق ہے۔
یہ جملہ کائنات کے دل پر بجلی بن کر گرا۔
وہ بےاختیار ساکت رہ گئی…
پتہ نہیں اس کے اس دعوے میں طاقت زیادہ تھی یا بےرحمی۔
دروازے کے نیم وا کونے میں کھڑا زیدان اُسے دیکھ رہا تھا—یوں جیسے اُس نے اپنی ملکیت کا اعلان کیا ہو… اور اب اس اعلان سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتا ہو۔
میری زندگی پر صرف میرا حق ہے…
وہ مدھم آواز میں، بہت دھیرے سے، جیسے لفظوں کو روک روک کر توڑتی ہوئی بولی۔
زیدان نے آہستہ سے، مگر اُس مخصوص ٹھہراؤ کے ساتھ قدم پیچھے کھینچے… جیسے جانے سے پہلے ایک آخری بات کہنا اُس کے لیے ضروری ہو۔
دروازے کا نیم کھلا پٹ اس کے کندھے سے لگا ہوا تھا، مگر نگاہیں پوری طرح کائنات پر جمی تھیں۔
تم بیوی ہو میری…
اس کے لہجے میں نہ غرور تھا، نہ نرمی—صرف ایک سچائی… پکی، بےلچک، اپنی جگہ مضبوط۔
کائنات کی سانس جیسے پل بھر کو رک گئی۔
وہ رُکے بغیر آگے بولا
اور میں تمہیں اپنی بیوی قبول کر چکا ہوں۔
قبول…
یہ لفظ کائنات کے دل پر ایسے لگا جیسے کسی نے یکدم دروازہ کھول کر روشنی پھینک دی ہو—ایک ایسی روشنی جس سے آنکھیں چندھیا بھی جائیں، دل کانپ بھی جائے۔
زیدان نے نظریں نہ چرائیں، نہ پلک جھپکی۔
تمہارا معاملہ… یعنی میرا معاملہ۔ تُمہاری زندگی یعنی میری زندگی۔۔۔۔
کمرے کی فضا جیسے پل بھر کو گہری ہو گئی۔
کائنات کے ہاتھ یونہی کمبل کے کنارے کو مروڑتے ہوئے ٹھہر گئے۔
زیدان کا انداز مکمل یقین والا تھا—ایسا یقین جو وہ کبھی لفظوں میں نہیں لاتا تھا، مگر آج لایا تھا۔
کائنات کے دل میں اک عجیب سی کپکپی دوڑ گئی۔
یہ جملے کم تھے—مگر شدت بہت زیادہ تھی۔
ایسی شدت جس سے انسان خود کو چھوٹا، بےبس یا… اہم محسوس کر سکتا ہے۔
وہ نہیں جانتی کہ وہ کس طرف ہے۔
زیدان نے آخری بار اسے دیکھا—گہری، جانچتی ہوئی نظر سے—پھر آہستہ سا دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔
پیچھے رہ گئی کائنات…
جو پہلی بار اس حقیقت کے وزن سے دوچار تھی کہ زیدان نے اسے کسی رشتے کا نام دے دیا ہے—باقاعدہ، کھلے لفظوں میں۔
اور یہ احساس اسے اس سے زیادہ لرزا گیا جتنا وہ دکھا سکتی تھی۔
نہیں… نہیں… وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی۔
یہ لفظ اس کے اندر ہی اندر چیخ بن کر گونجے، مگر ہونٹوں تک نہ پہنچ سکے۔
وہ اسے قبول کر لے؟
ایسے؟
یوں جیسے وہ اس کے فیصلے پر مجبور ہو… جیسے اس کی مرضی، اس کا حق، اس کا احساس—سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا گیا ہو۔
کائنات نے اپنی انگلیاں مضبوطی سے آپس میں جکڑ لیں۔ دل ایک انجانی گھبراہٹ سے بھر گیا تھا۔
زیدان کے جاتے ہی اس کے اندر جیسے کوئی بند دروازہ زور سے بند ہوا ہو… اور پھر اندر خاموشی پھیل گئی۔
وہ ایسا نہیں چاہتی تھی…
وہ یہ رشتہ ایسے نہیں چاہتی تھی۔
دعا مانگنے والی آنکھوں کی طرح اس کی شفاف آنکھیں بےاختیار بھر آئیں۔
زیدان کے الفاظ—
“تم بیوی ہو میری…”
“میں تمہیں قبول کر چکا ہوں…”
“تمہارا معاملہ میرا معاملہ…”—
اس کے ذہن میں گونج رہے تھے۔
قبولیت…
یہ لفظ کسی عورت کی خواہش بھی ہو سکتا ہے، سزا بھی…
اور کائنات کے لیے اس وقت یہ لفظ ایک زنجیر لگ رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے سر نفی میں ہلایا… جیسے خود کو سمجھا رہی ہو، جیسے خود سے لڑ رہی ہو۔
“نہیں… میں ایسا نہیں چاہتی… میں اس طرح نہیں چاہتی…”
لیکن اس کے انکار کی آواز صرف انہی دیواروں نے سنی
زیدان تو جا چکا تھا۔
اسے تو زیدان سے آزادی چاہیے تھی…
اس زبردستی کے رشتے سے نجات۔
وہ اسے کیسے قبول کر سکتا تھا؟
یہ خیال جیسے کائنات کے دل میں کانٹوں کی طرح چبھ رہا تھا۔
قبول…؟
یہ لفظ اس کے لیے کسی نعمت کا نہیں، کسی قید کا نام تھا۔
وہ جس دروازے کو توڑ کر باہر نکلنا چاہتی تھی…
زیدان نے اسی دروازے پر اپنے نام کی مہریں لگا دی تھیں.
اس کے دل میں ہادی کا نام پھر گونجا…
وہ نام جو اب بھی اس کے اندر کہیں دھیمی لو کی طرح جلتا تھا،
نہ بجھتا تھا، نہ بڑھتا تھا…
صرف درد دے کر ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔
زیدان کی بےلچک آواز یاد آتے ہی اس کا دل بےچین ہو اٹھا
تمہاری زندگی پر تو میرا حق ہے…
تم بیوی ہو میری…
کائنات کے اندر جیسے چیخ اٹھی۔۔۔۔
خاموش، دبائی ہوئی، مگر اتنی تیز کہ سانس تک ٹوٹ جائے۔
یہ رشتہ میں نے کبھی نہیں مانا…
نہ چاہا…
نہ مانوں گی…
میں اسے قبول کیسے کر لوں؟
میں تو اس قید سے آزاد ہونا چاہتی ہوں…
وہ کمبل سینے سے لگا کر بیٹھ گئی،
جیسے چادر نہیں، تحفظ چاہ رہی ہو…
جیسے اپنے دل کی حفاظت خود کر رہی ہو
کیونکہ کوئی اور تو اس کی خواہش، اس کی مرضی، اس کے خوف کو سننے والا نہیں تھا۔
دروازے کے باہر قدموں کی آہٹیں خاموش ہو چکی تھیں،
مگر زیدان کی باتیں اب بھی اسی کمرے میں گونج رہی تھیں—
اسی شدت کے ساتھ،
جس نے اس کی پوری دنیا الٹ دی تھی۔
کائنات نے دو ٹوک فیصلہ اپنی سانسوں میں دہرایا
میں اسے قبول نہیں کر سکتی…
اور نہ کبھی کروں گی۔
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔

1 Comment
tmhri zindgi meri zindgiii 🙈♥️ butterflies hehehehe, 🙈 zaydannnn