Taqdeer e azal Episode 18 written by siddiqui

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۸

رات کے وقت زیدان آہستگی سے کمرے میں داخل ہوا۔ دروازہ کھلا دیکھ کر اس کے بھنویں ایک دم سکڑ گئیں۔
دروازہ کھلا کیوں ہے…؟
اس نے تیز قدموں سے اندر آکر جیکٹ ایک طرف پھینکی اور سیدھا واش روم میں گھس گیا۔

کچھ دیر بعد جب وہ بھیگے بالوں سمیت باہر نکلا تو اس کی نظریں بےچینی سے پورے کمرے میں دوڑ گئیں۔
بیڈ خالی تھا…
صوفہ خالی…
کائنات کہیں نہیں تھی۔

دل میں ایک انجانی سی ہلچل ابھری۔
یہ کہاں گئی…؟

وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا۔
نیچے پورا گھر سنسان تھا۔ کچن، لاؤنج، ہر جگہ خاموشی کا راج تھا۔ گھڑی کی سوئیاں بھی جیسے نیند میں ڈوبی تھیں، تین بجنے والے تھے۔

چہرے پر غصہ ابھر آیا۔

وہ لمبے قدموں سے اسوان کے کمرے کی طرف بڑھا اور دروازہ زور سے پیٹا۔۔۔

اندر اسوان گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔اور غصے میں چیخا
ابے کون…؟ خبیث ہے، آرام سے یار۔۔۔۔
وہ غصے سے دروازہ کھولا اور اپنے سامنے کھڑے وجود کو نیم نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھوں سے دیکھا تو ایک دم نرم پر گیا۔۔۔

میں ہوں خبیث… زیدان کا لہجہ سخت تھا،

کیا ہوا؟ اسوان نے نرمی سے پوچھا۔۔۔

کائنات کہاں ہے؟

کمرے میں ہوگی… اسوان نے آنکھیں مچکائیں، جیسے بات سمجھ نہ آئی ہو۔

نہیں ہے۔۔۔ زیدان کا جواب بجلی کی طرح گرا۔

کچن میں؟

نہیں۔ کہیں بھی نہیں۔ پورا گھر دیکھ لیا ہے میں نے…

اسوان نے ہلکی سی تپش سے سانس لے کر، کُچھ دیر سوچا کائنات اس وقت گھر میں کہاں ہوسکتی ہے۔۔۔؟ پھر یاد آنے پر فوراََ بولا۔۔۔
تو پھر… اپنے روم میں۔۔۔۔

اپنے روم میں نہیں ہے۔
زیدان اُسے غصے میں اسے گھورنے لگا۔

اچھا۔۔۔۔ وہ سمجھ کے پھر بولا۔۔۔
اپنے پرانے روم میں ہوگی…

وہ کہاں ہے؟ زیدان نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر پوچھا۔

نیچے جاؤ، لفٹ جاؤ، دادی کے روم کے بعد گیسٹ روم ہے… اُسی لائن میں سب سے لاسٹ والا روم کائنات کا ہے۔۔۔

زیدان نے سر ہلایا۔
اوکے۔ اب سو جاؤ۔

وہ پلٹا ہی تھا کہ پیچھے سے اسوان کی مدھم، تھکی ہوئی آواز آئی۔۔۔
آج پھر باہر گئے تھے تم…؟

زیدان مڑا اور بولا۔۔
چُپ سے سوجاؤ اب۔۔۔

اس سے پہلے کہ اسوان کوئی اور لفظ کہہ پاتا، زیدان تیزی سے سیڑھیاں اتر چکا تھا۔
اسوان نے بے بسی سے ایک لمبی سانس لی… اور
روم کا دروازہ بند کردیا۔۔

++++++++++++

زیدان تیز قدموں سے چلتا ہوا اُس کمرے تک پہنچا جس کا راستہ اسوان نے بتایا تھا۔

اس نے بغیر سوچے دروازہ جھٹکے سے کھول دیا۔

دروازہ کھلتے ہی وہ ٹھٹک کر وہیں رک گیا۔
جیسے کسی نے وقت کی سوئیاں اچانک روک دی ہوں۔

مدھم سی لائٹ میں ایک خاموش منظر اس کی آنکھوں کے سامنے پھیلا تھا۔۔

کمرے کے بیچوں بیچ رکھا سادہ سا بیڈ…
اور اس پر بیٹھی تھیں مریم بیگم۔

ان کی گود میں سر رکھے کائنات سو رہی تھی۔۔۔
مریم بیگم کے ہاتھ محبت سے اس کے بالوں میں چل رہے تھے،

زیدان کی پلکیں لرزیں۔۔
ایک سانس اٹک کر رہ گئی۔

کمرہ چھوٹا تھا، پر سکون سے بھرا ہوا… وہ سکون جو شاید اس نے زندگی میں بہت کم دیکھا تھا۔
اس نے آہستہ سے نظر گھمائی۔

ایک سادہ سا بیڈ…
ایک چھوٹی سی الماری…
دیوار پر لگا لمبا سا آیینہ جس میں مدھم روشنی بکھری ہوئی تھی…
اور بیڈ کے پاس رکھی چھوٹی سی میز۔۔۔
جہاں کائنات کی پرانی کتابیں ترتیب سے رکھی تھیں۔

وہی کمرہ…
وہی مدھم روشنی…
وہی سادگی میں لپٹا ہوا منظر
صرف کردار بدل گئے تھے۔

کمرے کے بیچوں بیچ بیڈ پر اس کی ماں بیٹھی تھیں۔۔۔۔
وہی نرم، صابر چہرہ…
اور ان کی گود میں سر رکھے چھوٹا سا لیٹا زیدان

ایک لمحے کو تو وہ حال سے ماضی میں ایسا گرا کہ سانس کی رفتار بھی بدل گئی۔
وہ منظر جیسے برسوں بعد دھوپ میں پڑی تصویر کی طرح واضح ہوتا چلا گیا۔

اس کی ماں کے ہاتھ آہستہ آہستہ زیدان کے بچپن کے بالوں میں چل رہے تھے۔۔۔
بالکل ویسے جیسے کبھی اس کی بیماری، رونا، ڈر…
سب اسی لمس سے ٹھیک ہو جاتا تھا۔

وہ لیٹا لیٹا چھوٹا سا زیدان کہہ رہا تھا۔۔۔
آپ بابا کو چھوڑ کیوں نہیں دیتیں، ماما…؟

اس کی ماں کے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے۔
ایک ہلکی سی، تھکی ہوئی مسکراہٹ ان کے چہرے پر ٹھہری
نہیں چھوڑ سکتی، بیٹا…

زیدان کی آنکھیں ساکت ہو گئیں۔
کیوں…؟

کیونکہ… چھوڑنے کے لیے دل میں ناراضگی چاہیے ہوتی ہے،
اور… میں نے ان سے پیار کرنا چھوڑا ہی نہیں، زیدان۔
پیار چھوڑ کر جایا جاتا ہے…
اور میں اب بھی اُنہیں اللّٰہ کے حضور روز معاف کرتی ہوں۔
شاید اسی لیے برداشت بھی کر لیتی ہوں۔

زیدان کی پلکیں بھاری ہونے لگیں۔
بچپن کی وہی ڈری ہوئی آنکھیں،
آج ایک مکمل مرد کے چہرے میں چھپی کھڑی تھیں۔.

ماضی کی دھند میں لپٹا ہوا وہ منظر،
جو ابھی ابھی اس کی آنکھوں کے سامنے روشن ہوا تھا—
عجیب سا بوجھ بن کر دل پر رکھا ہی تھا
کہ پیچھے سے مریم بیگم کی دھیمی آواز نے اسے حال میں کھینچ لیا۔

کیا ہوا؟ کائنات کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں آ گئے ہو؟

زیدان نے یکدم ان کی طرف دیکھا۔
چہرے پر حیرت… اور اندر کہیں بہت پرانی چوٹ کی ہلکی سی ٹیس۔

یہ… وہی کمرہ ہے نا؟
اس کی آواز تھوڑی بھاری تھی، جیسے کچھ دبایا ہو۔

مریم بیگم نے آہستہ سا سر ہلایا۔
ہاں۔ شاہ حویلی کا سب سے چھوٹا کمرہ۔
تمہاری ماں کا کمرہ… اور اب کائنات کا۔

زیدان کے ماتھے کی شکنیں گہری ہو گئیں۔
کائنات کو یہ کمرہ کیوں دیا؟

مریم بیگم لمحہ بھر کو رُکیں۔
ان کے چہرے پر وہی سمجھوتوں سے بھری مسکراہٹ تھی،
جس کا وجود اس گھر میں غیر ضروری سمجھا جاتا ہے…
اُسے یہی کمرہ دے دیا جاتا ہے۔

ایک لمحے کے لیے زیدان کے اندر کچھ بہت تیز ٹوٹا۔
جیسے کسی نے اس کے بچپن کی گونج کو،
اس کے ماضی کی تلخی کو،
اور کائنات کی موجودہ حقیقت کو
ایک ہی جملے میں سمو کر
اس کے ہاتھ میں تھما دیا ہو۔

کمرے کی خاموشی ایک بار پھر گہری ہو گئی۔

اس کی نظریں کائنات پر گئیں۔۔۔
ابھی بھی مریم بیگم کی گود میں سوئی ہوئی،
بالکل ویسے جیسے کبھی وہ اپنی ماں کی گود میں سویا کرتا تھا۔

یہ… رو رہی تھی کیا؟
اس کا لہجہ غیر ارادی طور پر مدھم پڑ گیا، جیسے آواز بلند ہوئی تو وہ لڑکی جاگ نہ جائے۔

مریم بیگم نے آہستہ سے کائنات کی پیشانی سہلائی،
ہاں…
وہ دھیرے سے بولیں،
دیکھو نا، کوئی بھی اولاد ماں سے کتنی ہی ناراض کیوں نہ ہو جائے…
آخر میں پلٹ کر اسی کی گود میں آ کر روتی ہے۔

زیدان کی نظریں کائنات کے بھیگے گالوں پر ٹھہر گئیں۔
دل کے اندر کچھ بےنام سا کھٹکا،
اور لبوں سے بےاختیار نکلا
یہ آپ سے ناراض تھی؟

مریم بیگم نے آہستہ سے سر جھکایا،
ہاں…
مجھ سے لڑتے لڑتے…
میرے ہی گود میں سر رکھ کے رونے لگی۔
اور پھر روتے روتے سو گئی۔..

زیدان نے بےچینی سے سوال کیا،
کس بات پر؟

مریم بیگم نے گہری سانس لی،
یہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی…
اور میں نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

زیدان کی پلکوں پر حیرت ٹھہر گئی۔
آپ نے ساتھ کیوں نہیں دیا؟

مریم بیگم نے اسے دیکھا،
میں نے اپنی بیٹی کا فیوچر دیکھا۔

زیدان کا گلا خشک ہوا۔ وہ حیران ہوا۔۔۔
مجھ میں؟

مریم بیگم نے بلا تردد جواب دیا،
ہاں، تم میں۔

زیدان نے حیرانی سے اُنہیں گھورتا رہا۔۔۔

مریم بیگم نے اسے غور سے دیکھا، پھر اچانک پوچھا
یہ کیوں رو رہی تھی؟
تم نے اسے مارا ہے کیا؟
یا اس پر غصہ کیا ہے؟

زیدان چونکا۔
نہیں تو۔۔۔

مریم بیگم کی پیشانی پر فکر کی لکیریں ابھریں۔
پھر یہ کیوں رو رہی تھی؟

زیدان نے انگلیوں سے بالوں پر ہاتھ پھیرا،
اور خشک سے لہجے میں بولا
اسے رونے کے دورے پڑتے ہیں…

یہ کہہ کر وہ اچانک پلٹا۔
اور وہ بغیر کچھ مزید سننے یا کہنے کے
تیزی سے باہر نکل گیا—
ایسے جیسے وہاں رُکے رہنا اس کے لیے مشکل ہو…

++++++++++

صبح کے ٹھیک نو بجے پریشے کی آنکھ کھلی۔
وہ آہستہ سے اٹھ بیٹھی۔ پھر پری کو آواز دی۔۔۔

پری… اُٹھ جاؤ، صبح ہو گئی ہے…
لیکن پری تھی کہ بستر میں ٹَس سے مَس نہ ہوئی۔۔۔

اتنے میں کمرے کا دروازہ بغیر آواز دیے کھل گیا۔

پریشے نے بھنویں اچکا کر دروازے کی طرف دیکھا۔
روم نوک کرتے ہیں پہلے… اس نے سرد سے لہجے میں کہا۔

اسوان دروازے کے چوکھٹ پر کھڑا بےنیاز سا مسکرایا۔
مجھے کیا ضرورت ہے اپنی بیٹی کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے کی؟

پریشے نے چادر درست کرتے ہوئے بولی
اب میں بھی رہتی ہوں شاید… آپ کی بیٹی کے ساتھ۔

اسوان نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
اور تم بھی شاید… میری کچھ لگتی ہو؟ نہیں…

اپنا کام کریں،۔۔۔ وہ ناگواری سے بولتی اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔۔

اسوان کی نظریں پری پر ٹھہر گئیں، جو اب بھی معصومیت سے بیڈ میں گہری نیند سو رہی تھی۔
پھر پریشے کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ نیچے زمین پر بچھا بستر درست کر رہی تھی۔
صاف ظاہر تھا…
پری نے اسے اپنے ساتھ سونے نہیں دیا تھا۔۔
تو وہ بیڈ نے نیچے اپنا بستر بچھا کر سو رہی تھی۔۔۔

اسوان نے تھوڑا سا تیور چڑھایا، بھنویں سخت ہوئیں۔
اور اپنا بیڈ چھوڑ کر یہاں زمین پر سو رہی ہو؟
اس کی آواز میں تحکمانہ سا طنز بھی تھا اور ایک انجانی بےچینی بھی… جو وہ خود بھی شاید سمجھ نہ پایا تھا۔

وہ اسوان کی طرف دیکھ بے نيازی سے بولی۔۔
آپ کو مسئلہ؟ میں آسمان پر سوؤں یا زمین پر…آپ کا matter نہیں ہے یہ۔۔۔۔

اسوان کا جبڑا ایک دم سخت ہوا اُس نے دانت بھینچ کر کہا
تمھیں بار بار سمجھنا پڑے گا کہ مجھے سے زبان سنبھال کر بات کیا کرو 

پریشے نے کمبل ایک طرف رکھا، اپنے بال کان کے پیچھے کیے، اور نہایت سکون سے بولی،

میں کون سی الٹی سیدھی بات کی ہے کہ مجھے زبان سنبھال کر بات کرنے کی ضرورت پڑے؟ اور ہاں… اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اپنا منہ بند رکھوں اور آپ کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملاتی رہوں… ‘جی سرکار، جو آپ کہیں، جو آپ حکم دیں’…

پریشے نے سر ذرا سا جھکا کر، مصنوعی فرمانبرداری کے انداز میں گردن ہلائی، بالکل ویسے جیسے پرانے زمانے میں بادشاہ کے سامنے اس کا وزیر سر جھکا کر، احترام میں دوہرا ہو کر حکم بجا لاتا تھا۔

اس کے اس طنزیہ انداز اور اس انداز پر سر خم کرنے پر اسوان بےاختیار مسکرایا۔۔

لیکن اگلے ہی لمحے سیدھی ہوئی اسوان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔
تو سوری ٹو سے… میں آپ کی کوئی غلام نہیں ہوں۔
مجھے تو شروع سے عادت ہے اپنی مرضی چلانے کی… اور آپ کو عادت ہے دوسروں پر حکم چلانے کی۔ اور پھر چاہتے بھی ہیں کہ سب آپ کے حکم پر ‘ہاں جی ہاں جی’ کرتے رہیں…

پریشے نے سر جھٹکا،اور پھر بولی۔۔۔۔
میں تو ایسا ہرگز نہیں کر سکتی… کبھی بھی نہیں۔

اسوان آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا۔
یہ بات میں جانتا ہوں… اس کی آواز دھیمی مگر وزن دار تھی۔
اور تم نے بالکل صحیح کہا—میں حکم چلاتا ہوں۔ اور یہ بھی چاہتا ہوں کہ سب میرے حکم کے مطابق چلیں۔

پریشے نے آنکھیں سکیڑ لیں، مگر قدم اپنی جگہ جمے رہے۔

اسوان اس کے اب بہت پاس آچکا تھا۔۔۔
اور اگر کوئی میرے حکم کے مطابق نہیں چلتا… وہ لمحہ بھر کو جھکا، آواز سرگوشی سے بھی نیچی ہو گئی۔۔۔
تو پتا ہے میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں؟

مجھے فرق نہیں پڑتا۔ آپ جو بھی کریں…
پریشے نے کاٹ دار لہجے میں کہا

اسوان نے ایک گہری سانس لی، نظریں ابھی بھی پريشے پر ہی تھی، گہرائی سخت نظریں، اور انہیں سخت نظروں سے تو پریشے کو پیار ہُوا تھا، جب اُن میں اس نے اپنے لیے پہلی بار
محبت اور فکر دیکھی تھی۔
اور اُسے اب بھی ان نظروں میں اپنے لیے محبت نظر آرہی تھی۔۔۔
عجیب تھا۔۔۔
اسوان نے اسے کیسا اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا۔
اُس کے منہ سے سچ سن لینے کے بعد بھی،
پریشے اب بھی اس کی محبت کے سحر میں گرفتار تھی۔

سُن تو لو۔
ایک دفعہ دھوکا کھا چکی ہو۔
بار بار کھانا چاہتی ہو…؟

اس ایک جملے نے پریشے کی پوری ہمت کو جیسے جڑ سے ہلا دیا۔
اس کے چہرے سے تیزی سے رنگ اتر گیا۔
جو تیز لہجہ، جو طنز، جو مضبوطی ابھی تک اس کی آواز میں تھی،
سب ایک لمحے میں ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا۔

وہ بولنا چاہتی تھی… مگر الفاظ گلے میں پھنس گئے۔
ایک چبھتا ہوا درد، اُس کے سینے میں اس وقت اٹھتا تھا۔۔۔

آنکھوں کے کنارے یکایک جلنے لگے۔
اُس کا دل چاہا… وہ رو پڑے۔
سچ میں، اسے اس وقت بہت… بہت زور سے رونا آرہا تھا۔
وہ بس ایک لمحے کو اس کے سینے سے لگ کر
اُسی کے دیے ہوئے زخموں کا شکوہ کرنا چاہتی تھی۔
اُسی سے جس نے درد دیا تھا…
اُسی سے مرہم بھی مانگنا چاہتی تھی۔

اس وقت… اسوان اُس سے دنیا کی ساری دولت، ساری خوشیاں اس سے چھین لے،
لیکن بس وہ یہ ایک بات کہہ دے۔۔۔
کہ وہ… سچ میں…
اس سے محبت کرتا ہے۔۔۔

پریشے نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں
اور بڑی مہارت سے اپنے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکتی رہی۔
پلکیں سختی سے بھینچ کر وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اسوان نے اس کی جھکی پلکوں کی کپکپاہٹ محسوس کی۔
وہ بےاختیار ہاتھ بڑھا کر اس کا چہرہ اوپر کرنا چاہتا تھا۔
اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا تھا۔

ہاتھ ابھی اس کے گال کو چھونے ہی والا تھا کہ

کہ اچانک پیچھے سے پری کی آواز آئی
بابا۔۔۔۔

اسوان چونک گیا، ہاتھ فوراََ پیچھے ہُوا۔۔۔اور وہ
فوراً پیچھے مڑا۔

پری بستر پر بیٹھ چکی تھی،
آنکھیں آدھی نیند میں،
چہرہ ناراضی سے بھرا ہوا۔
آپ دونوں کو دکھ نہیں رہا کہ میں یہاں سو رہی ہوں؟ پلیز باہر جا کر لڑیں۔۔۔

پریشے نے فوراً موقع غنیمت جانا
اور جلدی سے واشروم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

اسوان بےاختیار اسے جاتا دیکھا۔۔۔
پھر آہستہ سے پری کے پاس آبیٹھا۔

باہر جا کر کیوں لڑیں؟ صبح ہو چکی ہے۔
یہ اٹھنے کا وقت ہے، پری۔

پری نے آنکھیں مشکل سے کھول کر کہا،
بابا پلیز… مجھے سونے دیں…
اور پھر وہ دوبارہ کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔

اسوان نے مُسکراتے ہوئے کہا
اچھا… سو جاؤ۔ بابا آفیس جا رہے ہیں۔
وہ جھک کر اس کے ماتھے پر نرم سا بوسہ دیا،
اس کا کمبل اچھی طرح ٹھیک کیا،
اور اٹھ کھڑا ہوا۔

دروازے کی طرف جاتے ہوئے
ایک آخری نظر واش روم کے دروازے پر ڈالی۔۔
پھر سر جھٹکا۔۔ باہر نکل گیا۔۔۔۔

+++++++++++++

پیپر کے بعد وہ کالج کی کینٹین میں حرا کے ساتھ بیٹھی تھی۔
کینٹین میں طلبہ کی ہلکی سی گہماگہمی تھی، مگر کائنات کے دل میں عجیب سی گھبراہٹ بسی ہوئی تھی۔

حرا نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا،
پیپر تو ٹھیک جا رہے ہیں نا تمہارے؟

کائنات نے آہ بھری۔
ہاں… لیکن یار، مجھے نہیں لگتا مجھے اسکالرشپ ملے گی۔ نہ ہی میرے اتنے اچھے نمبر آئیں گے۔

حرا نے فوراً تسلی دی،
اللہ سب بہتر کرے گا، یار۔ کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آئے گا۔

کائنات کی آواز میں خوف اُتر آیا۔
اور اگر میں فیل ہو گئی تو…؟

اللہ نہ کرے۔۔۔
حرا چونک کر بولی۔
کیسی باتیں کر رہی ہو؟

کائنات نے نظریں جھکا لیں۔
یار، کوئی مجھے سکون سے پڑھنے بھی تو نہیں دیتا…
پھر جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو، وہ آہستہ سے بولی،
تمہیں پتا ہے کل رات میرے ساتھ کیا ہوا؟

کیا ہوا؟

کائنات نے سانس بھری۔
ہماری تو فورسڈ میرج ہوئی تھی نا… وہ بھی یہ شادی نہیں چاہتے تھے۔ اسوان بھائی نے زبردستی کی تھی ان کے ساتھ۔
لیکن کل رات… پتا ہے انہوں نے کیا کہا؟

کیا؟
حرا پوری طرح متوجہ ہو گئی۔

He accepted me… as a wife.

حرا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
مطلب انہوں نے تمہیں واقعی اپنی بیوی مان لیا؟

ہاں یار، ہاں…
کائنات کی آواز کانپنے لگی۔
اب مجھے ڈر لگ رہا ہے، یا اللہ! میں کیا کروں؟ میں تو بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہوں۔
مجھے ان سے الگ ہونا ہے، مجھے طلاق چاہیے…
لیکن وہ مجھے بیوی قبول کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ اب تو وہ مجھے آسانی سے چھوڑیں گے بھی نہیں۔

حرا نے نرمی سے کہا،
ارے، جب تم خود انڈیپنڈنٹ ہو جاؤ گی، اور خود کھڑی ہو کر بات کرو گی، تو ایسا کیسے نہیں چھوڑیں گے؟

کائنات نے بے بسی سے سر ہلایا۔
تم نہیں سمجھ رہیں…

حرا نے ذرا سوچ کر پوچھا،
اچھا یہ بتاؤ… کیا وہ تمہیں مارتے ہیں؟

نہیں…
کائنات نے فوراً جواب دیا۔

ڈراتے ہیں؟ دھمکاتے ہیں؟

نہیں… ابھی تک تو انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

حرا نے حیرت سے کہا،
لیکن تم تو کہتی تھیں وہ وحشی ہیں، غصہ آئے تو کسی کو نہیں چھوڑتے؟

کائنات نے تلخی سے مسکرا کر کہا،
ارے، انہیں غصہ تب ہی آتا ہے جب میں کوئی موقع دوں۔
میں بس ان کا کام کرتی رہوں، وقت پر کھانا اور سونے دوں… تو وہ ٹھیک رہتے ہیں۔

حرا نے فوراً نتیجہ نکالا،
تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

کیا مطلب؟
کائنات نے چونک کر پوچھا۔

حرا نے سمجھاتے ہوئے کہا،
دیکھو، اگر انہوں نے تمہیں قبول کر لیا ہے تو کرنے دو۔
کم از کم تم اس شادی کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے طعنے اور ظلم تو برداشت نہیں کرو گی۔

کائنات کی آنکھوں میں خوف تیر گیا۔
تو کیا میں اب ساری زندگی انہی کے ساتھ رہوں؟

حرا نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
ارے نہیں! ساری زندگی کی بات کون کر رہا ہے؟
بس تب تک… جب تک تم ڈاکٹر نہ بن جاؤ، جب تک کامیاب نہ ہو جاؤ۔
پھر اس نے سنجیدگی سے کہا،
دیکھو، ابھی تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
اگر ابھی طلاق لے لو گی تو سب کچھ دوبارہ ریپیٹ ہو جائے گا،
اور پھر تمہیں وہی اپنی ماں والی زندگی جینی پڑے گی۔

کائنات نے بےچینی سے کہا،
نہیں… نہیں… میں اس گھر میں ساری زندگی نہیں رہنا چاہتی۔

حرا نے مضبوط لہجے میں کہا،
تو پھر ابھی جو چل رہا ہے، اسے چلنے دو۔
ایک دفعہ تمہارے ہاتھ میں ڈگری آ گئی،
پھر تمہارا شوہر ہو یا اسوان بھائی، کوئی بھی تمہیں کچھ نہیں کہہ سکے گا۔۔۔

کائنات نے آہستہ سے پوچھا،
تو ابھی میں کیا کروں؟

ابھی تم خاموشی سے اس کی بیوی بنی رہو،
گھر میں رہو، پڑھتی رہو…
اور اس کے کام بھی کرتی رہو۔

پھر اس نے حقیقت پسندانہ انداز میں کہا،
ویسے بھی ابھی تم اس گھر سے نکل کر کہیں جا نہیں سکتیں۔
میں بھی تمہیں زیادہ دن اپنے گھر نہیں رکھ سکتی۔
لیکن اگر تم ڈاکٹر بن گئیں… تو پھر تمہارے لیے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔

کائنات نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا،
مطلب ابھی مجھے خاموش رہنا ہوگا…

حرا نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں…

لیکن ڈاکٹر بننے میں تو بہت وقت لگے گا…
کائنات کی آواز بھر آئی۔

حرا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
بس چار سال، یار۔
ویسے میں کوشش کروں گی کہ دو سال بعد ہی تمہیں کسی ہسپتال میں جاب دلوا دوں۔
لیکن کم از کم سیٹل ہونے میں دو سے تین سال تو لگیں گے نا۔
اس نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا،
بس مایوس مت ہونا۔ اللہ پر یقین رکھو۔
ایک دن کامیابی تمہارا مقدر بنے گی۔

کائنات نے گہری سانس لی۔
اب انتظار اور محنت ہی کرنی پڑے گی…
اس کے علاوہ میرے پاس اور کوئی راستہ بھی تو نہیں۔

حرا نے نرمی سے کہا۔۔
بس اللہ پر امید رکھو…

+++++++++++

ابھی وہ گھر پہنچی تو عجیب سی طمانیت دل میں اتر آئی تھی۔
حرا نے جو باتیں اسے سمجھائی تھیں، وہ اب اس کی سمجھ میں آ چکی تھیں۔
فی الحال کوئی جذباتی قدم نہیں اٹھانا تھا۔
بس خاموش رہنا تھا… اور اپنا سارا دھیان پڑھائی پر  رکھنا ہے۔۔۔

وہ دروازہ پار کر کے اندر داخل ہوئی ہی تھی کہ ایک ملازمہ فوراً اس کے قریب آ گئی۔
آپ کا کھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگا دیا ہے۔

کائنات نے چونک کر اسے دیکھا۔
میں نے تو نہیں کہا تھا؟

ملازمہ نے ادب سے جواب دیا۔
مجھے معلوم ہے، آپ تھک کر آئی ہوں گی، اس لیے آپ کو دیکھتے ہی کھانا لگا دیا۔

کائنات نے اِدھر اُدھر دیکھتے پوچھا
بُوا کہاں ہیں؟

وہ تو گاؤں چلی گئی ہیں، اب مشکل ہی لگتا ہے کہ واپس آئیں۔

اچھا…
ایک لمحے کو اس کے لہجے میں بے نیازی در آئی۔

ملازمہ جیسے کچھ یاد کر کے بولی۔
اور ہاں، بیگم صاحبہ نے کہا ہے کہ جلدی سے کھانا کھا کر تیار ہو جائیں۔

کائنات نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کیوں؟

حریم بیگم صاحبہ اور ان کے بچے آ رہے ہیں نا، سب لوگ ائیرپورٹ انہیں لینے گئے ہیں۔

سب؟
اس کی آواز میں ہلکی سی حیرت شامل ہو گئی۔

جی… بس چھوٹی بیگم صاحبہ اور دلہن بی بی گھر پر ہیں۔

اچھا… میں روم سے چینج کر کے آتی ہوں۔۔۔ پھر کھانا کھاؤں گی۔۔۔
وہ کہتی زینے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

+++++++++++++

وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ پیچھے سے  کمرے کا دروازہ کھلنے کی ہلکی سی آواز آئی۔

پریشے نے مڑ کر دیکھا تو ننھی پری دروازے کے فریم میں کھڑی تھی۔ ابھی نیند اس کی آنکھوں سے پوری طرح اتری بھی نہ تھی۔ بال بکھرے ہوئے، چہرہ معصوم سا۔

پریشے سیڑھیوں کے کنارے ہی رک گئی۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔

میڈم جی کی تو ابھی ابھی صبح ہوئی ہے…
وہ ہنستی ہوئی بولی۔

پری نے گردن ہلائی۔ ہاں…
اور پھر وہ تیزی سے اس کے قریب آئی۔

پری، جلدی اٹھ جایا کرو نا…
یہ جملہ ابھی اُس نے بولا ہی تھا۔۔۔ کہ—

اچانک
ایک زور دار دھکا لگا۔

اتنا غیر متوقع… اتنا اچانک… کہ
پریشے کی چیخ اس کے گلے میں ہی کہیں دفن ہو گئی۔ قدم ہوا میں لڑکھڑائے۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ بے رحم رفتار سے سیڑھیوں سے نیچے لڑھکنے لگی۔

ہر سیڑھی پر اس کا جسم مڑتا، ٹکراتا، ٹوٹتا چلا گیا۔ آوازیں گونجتی رہیں۔۔۔ اور آخرکار وہ سیڑھیوں کے دامن میں آ کر زور سے گری۔

سانس سینے میں اٹک گئی۔ درد اس کے وجود میں راکھ کی طرح پھیل گیا۔ آنکھیں اندھیرے میں ڈوبنے لگیں۔

اور اوپر سیڑھیوں کی آخری زینے پر کھڑی تھی پری۔
پانچ سال کی ننھی سی بچی۔ ماتھے پر بکھری زلفیں۔ ننگے پاؤں۔
مگر اس کی آنکھوں میں… نہ خوف تھا، نہ معصومیت، نہ پچھتاوا۔
صرف ایک عجیب سا، سرد، خون اترا ہوا جلال۔

چہرہ بالکل سپاٹ۔ جیسے اس ننھے وجود میں کوئی سایہ اتر آیا ہو۔ جیسے احساس نام کی کوئی شے وہاں باقی ہی نہ رہی ہو۔

وہ ایک لمحے کو بھی نہیں ہلی۔ بس نیچے دیکھتی رہی۔۔ جہاں پریشے سنگِ مرمر کے فرش پر بے حس و حرکت پڑی تھی۔

پھر اس نے آہستہ سے سر جھکایا۔۔ اور اتنی مدھم آواز میں بولی کہ شاید صرف دیواروں نے سنا…

یہ میرا گھر ہے… اور میرا بابا بھی صرف میرے ہیں… کوئی نہیں لے سکتا انھیں مجھ سے…

اگلے ہی لمحے ملازمہ کی چیخ نے پورے گھر کو ہلا دیا۔

یا اللہ!!!۔۔۔

مریم بیگم کچن سے بھاگتی ہوئی نکلیں۔ زنیب بیگم اپنے روم سے بھاگتی ہوئی آئی اور کائنات بھی گھبرا کر اپنے کمرے سے باہر آئی۔

مگر پری وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔ ساکت۔ خاموش۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

++++++++++

پریشے فرش پر بے حس و حرکت پڑی تھی۔
اس کے سر کے پچھلے حصے سے خون بہہ کر سنگِ مرمر پر پھیل رہا تھا…
گاڑھا، گرم، خوفناک۔

ایک لمحہ۔
بس ایک لمحے نے پورے گھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

مریم بیگم اور زنیب بیگم سب سے پہلے اس تک پہنچی تھیں۔
ملازمہ نے گھبراہٹ میں ڈوپٹہ کھینچ کر مریم بیگم کے ہاتھ میں تھمایا۔

جلدی سے ان کے سر پر باندھ… خون بہت تیز بہہ رہا ہے…

مریم بیگم نے کپڑا پریشے کے سر پر دبایا تو اس کی ہتھیلی ایک لمحے میں سرخ ہو گئی۔
یا اللہ… یہ تو ہوش میں بھی نہیں… پریشے… آنکھیں کھولو…
مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔

خون اس طرح بہہ رہا تھا جیسے اس کا جسم زندگی کا بوجھ ایک دم سے اُتار دینا چاہتا ہو۔

کائنات ہانپتی ہوئی پہنچی،
کیا— کیا ہوا ہے! یہ ایسے کیسے۔۔۔

کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔

کائنات نے گھبرا کر کہا،
ہمیں بھابھی کو فوراً ہسپتال لے جانا ہوگا! خون نہیں رک رہا ہے۔۔۔۔

مریم بیگم نے نے پریشان ہو کر اوپر دیکھا،
اس حال میں کیسے لے جائیں؟ یہ بے ہوش ہے…

زنیب بیگم کے ہاتھ لرز رہے تھے۔
فون پکڑے پکڑے وہ بولی،
میں اسوان کو کال کر رہی ہوں… اللہ کرے وہ جلدی اٹھا لے…

لیکن جیسے توقع تھی…
اسوان کا فون رن تو ہو رہا تھا…
اٹھ نہیں رہا تھا۔

مریم بیگم نے بے بسی سے کہا،
اُسے آنے میں وقت لگے گا۔ وہ آفس میں ہوگا… مگر ہم انتظار نہیں کر سکتے! خون جتنا زیادہ بہے گا… اتنی ہی اس کی حالت بگڑے گی۔۔۔

پریشے کے ہونٹوں سے ایک مدھم سی کراہ نکلی—
اتنی ہلکی کہ شاید صرف رب نے سنی ہو۔

مریم بیگم تڑپ اٹھیں۔
جلدی کرو! کوئی گاڑی نکالو! اسے ہسپتال لے کر چلو ابھی— اسی وقت۔۔۔۔

مگر اس ساری چیخ و پکار، بھاگ دوڑ اور خوف کے درمیان…

پری؟

وہ اب تک سیڑھی کی آخری زینے پر کھڑی تھی۔
ننھا وجود…
ساکت۔
بالکل ساکت۔
اس کا چہرہ کسی پتھر کی طرح جم گیا تھا۔
جیسے اس ننھی عمر میں وہ جرم اور معصومیت کی سرحد عبور کر چکی ہو۔
اس کی آنکھوں میں ابھی تک وہی سردی تھی—
وہی سختی—
وہی عجیب، خطرناک جلال۔
کسی نے اسے کچھ نہیں کہا۔
کسی نے اس پر شک بھی نہ کیا۔
لیکن وہ…
بس دیکھ رہی تھی۔
++++++++++++

اسوان اپنی کرسی پر جھکا بیٹھا تھا، ہاتھ میں فائل تھی… مگر نظر فائل پر نہیں، کہیں اور ٹھہری ہوئی تھی۔
پچھلے تین دنوں سے کمپنی میں عجیب سا مسئلہ چل رہا تھا۔
پروڈکشن یونٹ میں مسئلہ، ڈیلیوری میں مسئلہ… اور سب سے بڑھ کر واپسی۔

سامنے کھڑے فواد نے گہری سانس لے کر کہا،

سر… آج پھر دو بڑے کلائنٹس نے مال واپس بھیج دیا ہے۔
کہہ رہے ہیں کہ معیار ٹھیک نہیں… اور ڈیل cancel کر رہے ہیں۔

اسوان نے آنکھیں میچ لیں۔

Impossible.
اس نے مٹھی بھینچ کر میز پر دے ماری۔
۔Quality control خود میں دیکھتا ہوں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔

فواد نے جھجکتے ہوئے کہا،
سر… لگتا ہے کوئی اندر سے ہی sabotage کر رہا ہے۔یہ اتنی بڑی غلطیاں accident نہیں ہو سکتیں۔

اسوان تیزی سے کھڑا ہوگیا۔
کھڑکی کے پاس جاکر سختی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔

Already hum clients lose
کر رہے ہیں… market میں rumors پھیل رہے ہیں…
اور اب یہ؟

فواد خاموش کھڑا تھا، اسے اسوان کے غصے کے نیچے چھپا بےحد دباؤ صاف دکھ رہا تھا۔

اسوان نے گہری سانس لی اور کہا—
Urgent meeting arrange کرو.
مجھے پتا چلنا چاہیے کہ…
غلطی ہو رہی ہے یا کروائی جا رہی ہے۔

اسی لمحے
اس کے موبائل پر تیزی سے vibration ہوئی۔

اسوان نے فون اٹھایا، مگر اگلے ہی پل اس کے ماتھے پر شکن پڑ گئی۔
Zainab chachi calling…
اسوان نے کال اٹھائی۔

دوسری طرف زینب بیگم کی بے قابو، ہانپتی ہوئی آواز تھی
 اسوان…… جلدی آؤ… بہت جلدی… پریشے۔۔۔۔

وہ ایک دم سیدھا ہو کر بولا
کیا ہوا پریشے کو؟

دوسری طرف سے زینب بیگم کی آواز آئی۔۔۔۔
گر… گئی ہے… سیڑھیوں سے… بہت خون بہا رہا ہے اس کا بہت زیادہ… تم جلدی آؤ… اُسے جلدی ہی ہسپتال لیے کر جانا پڑے گا۔۔۔۔

اسوان کی دنیا ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
فون ہاتھ سے پھسلتے پھسلتے رکا۔
فائلیں زمین پر گر گئیں۔
اور اس کی سانس جیسے کسی نے اندر ہی قید کر دی ہو۔
میں… میں آ رہا ہوں۔۔

اسوان نے دھاڑ کر کہا
اور بنا ایک لمحہ ضائع کیے آفیس سے دوڑتا ہوا باہر نکل گیا۔

پیچھے فواد کھڑا رہ گیا۔۔۔
سر… میٹنگ؟

لیکن اسوان کی ساری دنیا میٹنگ، کمپنی، نقصان، sabotage…
سب چھوڑ کر اب صرف ایک نام پر آ کر ٹھہر گئی تھی
پریشے۔
اس لمحے اسے صرف ایک خوف کھا گیا تھا۔۔۔۔
کہ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔۔۔

++++++++++++

زیدان اپنے کمرے کی مدھم روشنی میں، بستر پر نیم دراز، موبائل میں کسی بے معنی ویڈیو پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔
دنیا، مسئلے، گھر سب اس لمحے اس کے لیے بے وزن تھے۔

دروازہ ایک دم زور سے کھلا۔
کائنات ہانپتی ہوئی، پریشان، آنکھوں میں خوف لیے اندر آئی۔
جلدی کریں… اٹھیں… پریشے بھابھی سیڑھیوں سے گر گئی ہیں۔ اُنہیں فوراً اسپتال لے کر چلیں…

زیدان نے پلک تک نہ جھپکی۔
صرف موبائل کا والیم کم کیا…
اور بڑے سکون سے بولا
بھائی کو کال کر دو۔ وہ آ جائے گا۔

جیسے کوئی معمولی سا مسئلہ بتا رہی ہو وہ۔
جیسے نیچے کوئی لڑکی بے ہوش نہیں پڑی، کسی کی جان پر بنی نہیں۔

کائنات تڑپ کر اس کے بستر کے کنارے آئی۔
اُن کے سر سے خون بہہ رہا ہے، بہت زیادہ۔ اور مسلسل! پلیز… سمجھنے کی کوشش کریں—انھیں ابھی اسپتال لے جانا ضروری ہے۔۔۔۔

اس کا لہجہ طنز سے بھی زیادہ سرد تھا۔
اِس گھر میں اور لوگ نہیں؟ سب مر گئے؟ میں کیوں جاؤں؟

کائنات کے لب کانپے۔
دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔
نیچے سے رونے، چیخنے، بدحواسی کی آوازیں ابھی تک آ رہی تھیں۔

نہیں ہیں… وہ سر ہلا کر رہ گئی، سارے گھبرا گئے ہیں… کوئی آگے نہیں بڑھ رہا… کوئی ہاتھ نہیں لگا پا رہا… پلیز … اُٹھ جائیں…

زیدان نے چہرے پر وہی بے نیازی۔
نہیں… میں نہیں جا رہا۔ مرنے دو جسے مرنا ہے۔ مجھے کیوں گھسیٹ رہی ہو ان کے ڈرامے میں۔
یہ کہتے ہوئے اس نے دوسری طرف کروٹ لے لی۔
جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

پلیز… اُٹھ جائیں… میرے لیے…
پلیز… اُنہیں لے جائیں اسپتال…
وہ گھبراتا میں بولی جارہی تھی۔۔۔۔
اسوان بھائی کو کال کی ہے۔۔۔ لیکن وہ اب تک پہنچے نہیں۔۔۔۔پلز۔۔۔

پلز۔۔۔۔ اٹھتے نہ۔۔۔۔۔

زیدان، جو ابھی پل بھر پہلے بے نیازی کی چادر اوڑھے لیٹا تھا، آہستہ… بہت آہستہ سے پلٹا۔
اس کی نظریں سیدھی کائنات کے چہرے پر جم گئیں۔

وہ کھڑی تھی،
سانس پھولا ہوا، آنکھیں بھیگتی ہوئی، ہاتھ کانپ رہے تھے…

پلز۔۔۔ اُن کی حالت بہت سیریز ہے۔۔۔۔
وہ روہانسی آواز میں دوبارہ بولی۔۔۔۔

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
پھر اچانک… موبائل دور پھینک دیا۔
بستر سے اٹھ گیا۔
اور ایک جھٹکے سے جوتے پہنے۔

کائنات چونکی۔
وہ خود سمجھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔

چلو۔۔۔۔ ورنہ تُم اِدھر کھڑی کھڑی مر جاؤ گی۔۔۔۔

کائنات نے حیرت سے اسے دیکھا۔
اس کے ہونٹ کپکپائے۔
آپ…؟

زیدان اس کی طرف ایک قدم بڑھا۔
آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔
چلو کائنات… دیر ہو رہی ہے۔

وہ باہر نکلا۔ قدم تیز، سخت، مضبوط۔۔۔۔۔

نیچے پہنچتے ہی منظر اس پر بجلی بن کر گرا..
پریشے خون میں بھیگی فرش پر بے ہوش پڑی تھی۔
مریم بیگم کپڑا دبا رہی تھیں، مگر خون رکتا ہی نہیں تھا۔

زیدان نے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔
بغیر اجازت۔۔۔
بغیر ایک لفظ کہے۔۔۔
جھک کر پریشے کو اٹھا لیا۔
مریم بیگم بھی فوراََ زیدان کے پیچھے بھاگی۔۔۔
کائنات بھی اُن کے پیچھے تھی۔۔۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی زیدان نے کائنات کو روک دیا۔۔۔
تُم نہیں اؤ میں دیکھ لونگا۔۔۔۔

پکّا آپ سنبمال لیں گے نہ۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔۔۔

ہاں۔۔ اسوان بھائی کو کال کر کے بتا دینا۔۔۔وہ سیدھا ہسپتال ائے۔۔۔
پھر گاڑی کا دروازہ بند ہوا۔
زیدان نے ایک آخری نظر پیچھے کائنات پر ڈالی…
اور پوری رفتار سے گاڑی اسپتال کی طرف دوڑا دی۔

کہاں زیدان تھا…
جس کے دل میں اپنوں کے لیے بھی کوئی دروازہ نہیں کھلتا تھا۔
جس کے اندر محبت کا نہیں، بس بےحسی کا شہنشاہ بیٹھا تھا۔
جسے تعلق، رشتہ، خون… کسی چیز کی حرارت چھو تک نہیں سکتی تھی۔
جس کے لہجے میں ہمیشہ ایک ساٹھی ہوئی سردی رہتی تھی،
اور قدموں میں وہ بے نیازی، جیسے دنیا اس کے لیے کچھ ہو ہی نہیں۔

اور کہاں کائنات…
جس کے دل میں جگہ ہی جگہ تھی۔
اتنی کہ دشمن رکھ لے تو بھی خالی نہ ہو۔
جس کے لہجے میں نرمی، مزاج میں شفقت…
اور اُس کی آنکھوں میں دوسروں کا درد اپنے درد سے بڑھ کر بس جاتا تھا۔
جو چھوٹی سی تکلیف بھی دیکھ نہ سکتی،
اور جسے ہر رشتہ اپنی روح کا ٹکڑا لگتا تھا، چاہے اپنوں کا ہو یا غیروں کا۔

ایک طرف وہ زیدان تھا۔۔۔۔
جس نے کبھی کسی کے لیے ایک قدم نہ اٹھایا تھا۔
دوسری طرف کائنات۔۔۔۔
جو دوسروں کے درد پر اپنے گھٹنوں تک ٹوٹ جاتی تھی۔

کہاں زیدان کی بند دنیا۔۔۔۔
اور کہاں کائنات کا پھیلا ہوا آسمان۔

لیکن تقدیر کبھی کبھی…
دو انتہاؤں کو ایک ہی چوٹی پر کھڑا کر دیتی ہے۔

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

1 Comment

  1. Ohh 😮 pari neee ye kayyy kiyaaaaaa 🙂🤌🏻jesa bap wesi beti sahi kaha tha aswan ne pari us jesi ha huh

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *