انت الحیاۃ ( از قلم صدیقی )
باب اول قسط نمبر ۲۴
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
می آئی کم اِن سر…؟
سمیر نے نہایت ادب سے کہا۔
زاویار نے تیز نگاہوں سے اسے دیکھا،
ہممم… آ جاؤ۔
سمیر آہستہ قدموں سے اندر آیا۔
سر، آپ نے بلایا تھا…؟
زاویار نے میز پر رکھی فائل اٹھائی اور بے نیازی سے اس کی طرف بڑھا دی۔
یہ لو، اس میں سارا کام، ٹائمنگ، رولز سب لکھا ہوا ہے۔ پڑھ لو اور کام شروع کرو۔
سمیر نے فائل تھام لی اور فوراً اس کے صفحات پلٹنے لگا۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی، پھر زاویار کی بھاری آواز گونجی۔
نام کیا ہے تمہارا…؟
سمیر چونکا، پھر فوراً بولا۔
سمیر علی، سر۔
زاویار نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا،
ٹھیک ہے سمیر، اب کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کا سارا کام تمہارے حوالے ہے۔ کون سی پوسٹ کب ڈالنی ہے، کون سی ڈیل کب لانچ کرنی ہے، آفس سے ریلیٹڈ ساری پوسٹس، نیوز—سب کچھ تم نے مینیج کرنا ہے۔ باقی جا کر فائل پڑھ لو۔
جی سر….
سمیر نے سر ہلایا اور جانے کے لیے مڑا۔
اور ہاں…
زاویار نے اسے روک لیا۔
کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کاؤنٹر کے برابر میں ہے، وہیں جانا۔
جیسا آپ کہیں۔
ہمم… جاؤ اب۔
سمیر باہر کی طرف بڑھا تو دل ہی دل میں سوچنے لگا۔
عجیب آدمی ہے… سمجھ نہیں آ رہا، اس کے اندر اتنا اٹیٹیوڈ ہے یا بس نیچر ہی ایسا ہے۔ ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا۔ اس سے بات کرتے ہوئے بھی عجیب سا ڈر لگ رہا ہے۔ اب سمجھ آ رہا ہے، عشاء اتنی پینک کیوں کر رہی تھی…
وہ سوچوں میں گم کمرے سے باہر نکل آیا۔
سامنے عشاء کھڑی تھی۔
آ گئے…؟
اس نے بے صبری سے پوچھا۔
سمیر نے شرارت سے کہا،
نہیں، ابھی اندر ہی ہوں۔
ہاں…؟!
عشاء نے غصے سے اسے گھورا۔
ارے مذاق کر رہا ہوں، باہر ہی کھڑا ہوں، مطلب آ گیا۔
ہم… کیا کہا اس نے؟
کچھ نہیں، بس کام بتایا اور کہا کہ کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ میں ہی جانا ہے۔ بس۔
بس…؟
ہاں۔
عشاء نے سکون کا سانس لیا۔
ٹھیک ہے، اب تم جاؤ، اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ غصہ کرے۔
سمیر مسکرایا۔
ہم… جا رہا ہوں۔ گڈ لک۔۔۔
یہ کہہ کر وہ کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا۔
اور عشاء زاویار کے کیبن کے دروازے پر آ کر رک گئی۔
اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے دستک دی…
س… سر، میں آ جاؤں…؟
عشاء نے ہچکچاتے ہوئے دروازے کی اوٹ سے کہا۔
زاویار نے نظریں اٹھائے بغیر مختصر سا جواب دیا۔
ہممم۔۔۔
وہ اندر آئی اور اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔
انہیں ہی بلانا تھا مجھے… یا اللہ مجھ پر رحم فرما…
عشاء نے دل ہی دل میں دعا کی۔
زاویار نے میز سے ایک اور فائل اٹھائی اور بے دلی سے اس کی طرف بڑھا دی۔
یہ لو۔
عشاء نے الجھن سے فائل کی طرف دیکھا۔
یہ… کیا ہے؟
زاویار نے سرد اور غصے بھرے لہجے میں کہا،
میری شادی کا کارڈ۔
ہیں…؟!
عشاء کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
زاویار نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
مذاق نہیں کر رہا۔ اس فائل میں لکھا ہے کہ تمہیں کیا کام کرنا ہے اور کیا نہیں۔ کھول کر پڑھ لینا۔
پھر ایک لمحہ رکے بغیر بولتا چلا گیا۔
اور ہاں، مجھے آفس میں کسی بھی قسم کی ڈسٹربنس نہیں چاہیے۔ آپ یہاں کام کرنے آئی ہیں، کام کیجیے اور گھر جائیے۔ بیٹھ کر فضول باتیں کرنے سے گریز کیجیے گا… کیونکہ خواتین کی عادت ہوتی ہے فرصت سے بیٹھ کر گو سپ کرنے کی۔
اور دوسری بات…
زاویار کی نظریں تیز ہو گئیں۔
آنکھیں کھول کر چلیے گا۔
ایک ہی سانس میں کہی گئی باتوں نے عشاء کو گنگ کر دیا۔ اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے۔
ج… جی۔
اس نے نظریں جھکا کر کہا
اور اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو پوچھ لینا۔
زاویار نے پیچھے سے کہا۔
جی… تھینک یو۔
عشاء نے جلدی سے کہا اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
کیا بندہ ہے یار یہ…
اس نے گہری سانس لیتے ہوئے خود سے کہا۔ زاویار کے سامنے تو جیسے اس کی سانس ہی اٹک گئی تھی۔
وہ سیدھی کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کی طرف آ گئی۔
وہاں سمیر اپنے ٹیبل پر لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا فائل پڑھ رہا تھا۔ عشاء اس کے برابر والے ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئی۔
سمیر نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا،
کیسا رہا پھر…؟
عشاء نے چونک کر دیکھا۔
کیا…؟
سر کے ساتھ میٹنگ…
سمیر نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
عشاء نے فائل میز پر رکھتے ہوئے مختصر جواب دیا،
بیکار۔
سمیر ہنس پڑا۔
کیوں… انہوں نے تمہارے بالوں کا مذاق اُڑا دیا کیا…؟
عشاء نے فوراً ناگواری سے اسے دیکھا۔
مذاق؟ سیریسلی؟ تمہیں واقعی لگتا ہے وہ مذاق بھی کرتے ہوں گے؟ ہر وقت تو غصہ ان کی ناک پر ہوتا ہے۔ شاید ہی کبھی مسکراتے بھی ہوں…
سمیر نے ہلکا سا سر ہلایا۔
ہمم… بات تو صحیح ہے۔
ہاں، روبوٹ ہیں، پورے روبوٹ۔۔
عشاء نے جھنجھلاہٹ سے کہا۔
اور چاہتے ہیں کہ اب ہم سب بھی ان ہی کی طرح بن جائیں۔
سمیر نے قدرے سنجیدگی سے کہا،
لیکن انہوں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا۔
عشاء نے گہری سانس لی۔
کچھ باتیں کہی نہیں جاتیں، لہجے سے خود ہی پتا چل جاتا ہے۔
سمیر نے مسکراتے ہوئے چھیڑا،
اوہو… واہ! آپ تو بہت بڑی گیانی ہیں۔
عشاء نے تیز نگاہوں سے اسے گھورا۔
بدتمیز! چپ سے اپنا کام کرو، ورنہ پتا چلا یہاں آ کر سنائیں گے۔۔۔
سمیر کی مسکراہٹ مدھم ہو گئی۔
تو تم ان سے ڈرتی ہو…؟
عشاء نے بلا جھجھک سچ کہہ دیا۔
ہاں۔ تو میں کیا، ان سے تو دنیا کا ہر انسان ہی ڈرتا ہوگا۔ اور ہاں، میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو ترم خان بنی پھرتی ہیں کہ مجھے کسی سے ڈر نہیں لگتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے بھئی… اور جو بھی سچ تو یہی ہے۔
وہ بولتی رہی، مگر اسے خبر نہ ہوئی کہ سمیر اپنی میز سے ٹیک لگائے، خاموشی سے اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔۔۔
چند لمحوں بعد وہ آہستہ سے بولا،
اچھا… اور کیسی ہیں آپ…؟
عشاء نے فوراً رُخ مڑا
جیسی بھی ہوں، تم سے کیا مطلب؟ اپنا کام کرو۔
سمیر اس بار سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
یہ کیا بات ہوئی…؟
عشاء نے سرد لہجے میں کہا،
ہر بار بات ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
سمیر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
معاف کر دیجیے گا، میری ہی خطا ہے جو میں نے آپ سے بات کی۔
عشاء نے مختصر سا جواب دیا،
ہمم… جاؤ، معاف کیا۔ اب اپنا کام کرو۔
سمیر نے رسمی انداز میں کہا،
جی، جیسا آپ کہیں۔
یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنی اسکرین میں گم ہو گیا،
اور عشاء نے بھی خاموشی سے فائل کھول لی۔
+++++++++++++
کنووکیشن ختم ہو چکی تھی۔ ہال سے باہر آتے ہوئے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں تھیں، کہیں خوشی تو کہیں فخر۔
امایا اور عظمیٰ اپنے والدین کے ساتھ جا چکی تھیں، جبکہ حیات زینب بیگم کے ساتھ باہر گاڑی کے پاس کھڑی تھی، کیونکہ ندیم صاحب پارکنگ سے گاڑی لینے گئے تھے۔
اسی دوران امن بھی جانے ہی والا تھا کہ حیات اور زینب بیگم کو وہاں کھڑا دیکھ کر رک گیا اور ان کی طرف بڑھا۔
السلام علیکم آنٹی۔
امن نے نہایت ادب سے زینب بیگم کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام۔۔۔
زینب بیگم خوش دلی سے بولیں۔
ارے بیٹا، تم نے تو کیا خوبصورت اسپیچ دی ہے۔ دل جیت لیا تم نے… سب کا۔۔
امن نے عاجزی سے مسکرا کر کہا،
ارے آنٹی، میں تو بس سچ بول رہا تھا۔
ہاں بیٹا، مگر جس انداز سے بول رہے تھے نا، دل کو چھو گئے تمہارے الفاظ۔
اوہ، تھینک یو۔۔۔
امن فوراً بولا۔
حیات نے تیور بدلے۔
اس میں تھینک یو کیا تھا؟
امن نے معصومیت سے کہا،
انہوں نے میری تعریف کی ہے، اسی لیے شکریہ کہا۔
آپ کی تعریف نہیں کی، الفاظ کی تعریف کی ہے۔
حیات نے فوراً وضاحت دی۔
امن نے بھنویں اٹھائیں۔
اور وہ الفاظ کس کے تھے؟
جس نے اردو زبان ایجاد کی ہے، اُس کے۔۔۔
اچھا، تو میں نے ان کی طرف سے شکریہ ادا کر دیا۔
حیات نے تیز نظروں سے اسے دیکھا۔
کیوں؟ ان کے پاس منہ نہیں ہے؟
امن فوراً بولا،
ان کے پاس منہ ہے، آپ کے پاس دماغ نہیں ہے۔
کوئی سینس ہے اس بات کی؟!
حیات تڑپ اٹھی۔
نہیں، یہ بات بھی آپ کی طرح سینس لیس ہے۔
ہاہاہا… بالکل بھی ہنسی نہیں آئی۔۔۔
زینب بیگم نے فوراً بیچ بچاؤ کروایا۔
بس کرو تم دونوں! ذرا سی بات پر لڑنے لگ جاتے ہو۔
یہ ہیں ہی لڑاکو۔۔۔
حیات نے فوراً الزام لگایا۔
امن نے ڈرامائی انداز میں ہاتھ جوڑے۔
جی جی، ساری غلطی میری ہی ہے۔
ہاں تو…
حیات نے بات آگے بڑھائی۔
امن مسکرا کر بولا،
اچھا آنٹی، اب میں چلتا ہوں۔
ٹھیک ہے بیٹا، گھر چکر لگانا۔
جی، وقت ملا تو ضرور آؤں گا۔
یہ کہہ کر امن وہاں سے چل دیا۔
امن کے جاتے ہی زینب بیگم بولیں،
کتنا اچھا بچہ ہے نا۔۔۔
حیات نے فوراً منہ بنایا۔
ہاں، آپ کو اپنی اولاد کے سوا سب ہی اچھے لگتے ہیں۔
ارے ایسی بات نہیں ہے بیٹا، تم بھی بہت اچھی ہو۔
انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
ہاں، تو حیات کو پتا ہے کہ حیات بہت اچھی ہے۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ بھی گھر کی طرف روانہ ہو گئیں۔
++++++++++++
دوسری طرف جب امن گھر پہنچا تو عجیب سا سناٹا تھا۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی ہلچل۔
اس وقت گھر میں اتنا سناٹا کیوں ہے؟
امن نے حیرت سے خود سے کہا۔
دانیال کی بھی آواز نہیں آ رہی… لگتا ہے سب کہیں گئے ہوئے ہیں۔
یہ سوچ کر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا ہی تھا کہ اوپر سے ارحم اترتا دکھائی دیا۔
کہاں جا رہے ہو؟ امن کو دیکھتے ہی اس نے سوال کیا
کمرے میں۔
امن نے مختصر جواب دیا۔
پہلے نیچے چلو۔
کیوں؟ امن نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا
ارحم نے سنجیدگی سے کہا،
کیونکہ تمہارے لیے نیچے میٹنگ بیٹھی ہے۔ ڈرائنگ روم میں۔ بہت کلیش کے بعد دادی نے گھر کے تمام افراد کو بلایا ہے، سب وہیں ہیں۔
امن نے پیشانی مسلی۔
اب کیا ہو گیا؟
وہ تو دادی ہی بتائیں گی۔
افف! کسی دن تم لوگوں کے مسئلے نمٹاتے نمٹاتے میں خود ہی نمٹ جاؤں گا۔۔۔
ارحم جاتے جاتے رک گیا۔
بھائی، دانیال سے دور رہا کرو۔
کیوں؟
صحبت کا اثر ہو رہا ہے۔۔۔
یہ کہہ کر وہ نیچے چلا گیا۔
امن نے گہری سانس لی۔
عجیب سارے پاگل میرے ہی نصیب میں آ گئے ہیں۔۔
وہ بھی نیچے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔
وہاں عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
سب بڑے صوفوں پر بیٹھے تھے،
جبکہ دانیال، یوسف، اذلان، اور ارسال زمین پر بیٹھے تھے۔
جنید صاحب اور تیمور صاحب بھی وہیں موجود تھے۔
امن نے ایک نظر سب پر ڈالی…
پتہ نہیں۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔ویسے اگر کوئی چھوٹا موٹا کلیش ہوتا تو دادا اور ڈیڈ یہاں نہیں ہوتے۔۔۔پتہ نہیں۔۔کیا بات ہے۔۔۔
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔
یہاں سب امن کو گھور رہے تھے۔۔۔
کیا ہوا ہے آپ سب کو؟ مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہیں؟
امن نے الجھن سے پوچھا۔
سارہ بیگم نے گہری نظر سے اسے دیکھا۔
تو ہی بتا…
میں کیا بتاؤں؟
اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔
سارہ بیگم نے بات سیدھی دل پر ماری۔
یہی کہ تیرا شادی وادی کرنے کا کوئی ارادہ ہے بھی یا نہیں۔ سب کو گھما کے رکھا ہوا ہے تُو نے۔ اگر تیرے کو نتاشا سے شادی کرنی ہے تو اسی سے کر لے، مگر اب مجھے اس گھر میں تیری بیوی اور بہو چاہیے۔ سمجھا؟ اب تو فیصلہ کر لے۔ اگر نتاشا پسند ہے تو بتا، ہم اسی سے تیرا نکاح کروا دیں گے۔
امن چونک اٹھا۔
کیوں؟ میں نے ایسا کب کہا کہ مجھے نتاشا سے شادی کرنی ہے؟
دانیال فوراً بول پڑا۔
ہاں تو بھائی، تم نتاشا کی یاد میں مرے مِٹے جا رہے ہو، اسی لیے شادی ہی نہیں کر رہے۔
امن نے اسے گھورا۔
اب یہ تم سے کس نے کہہ دیا؟
یوسف نے فلسفیانہ انداز میں کہا،
کچھ چیزیں کہی نہیں جاتیں، محسوس کی جاتی ہیں۔
چپ کرو تم دونوں۔۔۔
امن نے جھنجھلا کر کہا۔
جنید صاحب نے نرمی سے بات سنبھالی۔
بیٹا، دیکھو، ہم تم پر کوئی زبردستی نہیں کر رہے۔ تم جس سے شادی کرنا چاہتے ہو، کر لو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔
تیمور صاحب نے سنجیدہ لہجے میں کہا،
ہاں، فیصلہ کرو۔ فضول میں میرے دوست کی بیٹی کو بھی بیچ میں لٹکا کے رکھا ہوا ہے تم نے۔ اس کی بھی گریجویشن ہو چکی ہے۔ اگر تمہیں نتاشا سے ہی شادی کرنی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، حیات کو منع کر دو اور نتاشا سے شادی کر لو۔
امن کا صبر جواب دے گیا۔
یہ کیا آپ لوگ نتاشا نتاشا کی رٹ لگا کے رکھے ہوئے ہیں۔۔۔
وہ چڑ کر بولا۔
اذلان نے منہ بنا کر کہا،
کیا زمانہ آ گیا ہے، اب لوگ اپنے دادا اور ڈیڈ پر بھی چِلّائیں گے… تُھو تُھو تُھو۔۔۔
ارسال نے طنز کیا،
دیکھو تو، بول بھی کون رہا ہے۔
اوئے ڈھکن، چپ رہ۔۔۔
اذلان جھنجھلا گیا۔
ارحم فوراً بولا،
زیادہ میرے بھائی سے بدتمیزی مت کر۔۔۔
اذلان نے للکارا۔
کیوں، کیا کر لے گا تو؟
دانیال نے مزے لیتے ہوئے کہا،
یار ایسے نہیں لڑا کرو، مارا ماری کرو سیدھی… ایسے مزہ نہیں آتا۔۔۔
کمرے کا ماحول مزید بگڑنے ہی والا تھا کہ تیمور صاحب کی گرجدار آواز گونجی،
تم چاروں اپنا منہ بند کرو گے۔۔۔
یہ اچانک آپ لوگوں کو میری شادی کا خیال کہاں سے آ گیا ہے؟ امن نے حیرت سے سب کی طرف دیکھ پوچھا۔۔۔
سارہ بیگم فوراً بولی۔
اے جہاں سے بھی آیا ہے، تجھ سے جو پوچھا ہے اُس کا جواب دے۔۔۔
امن نے ایک لمحہ بھی سوچے بغیر صاف صاف کہہ دیا،
نہیں… مجھے نتاشا سے شادی نہیں کرنی۔
سارہ بیگم چونکیں۔
تو پھر ہم تیرے لیے کوئی اور لڑکی دیکھیں؟
امن حیرت سے بولا،
کیوں؟
سارہ بیگم نے طنزیہ انداز میں کہا،
اے تو کیا تُو شادی بھوتنی سے کرے گا؟
امن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور اس نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا،
ہاں… اور اُس بھوتنی کا نام حیات ہے۔
یہ وہ الفاظ تھے جو سارہ بیگم، جنید صاحب اور گھر کے تمام افراد کب سے سننا چاہتے تھے۔
آخرکار… آج امن نے مان ہی لیا تھا کہ وہ حیات سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
سارہ بیگم کی آنکھوں میں خوشی جھلکنے لگی۔
اے! تُو سچ بول رہا ہے؟
امن نے سر ہلا دیا۔
ہاں۔
سارہ بیگم نے خوشی سے ہاتھ اٹھا لیے۔
اے چل پھر، تیری شادی کی تیاریاں کرتے ہیں۔۔
ہمم۔۔۔۔
امن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
جہاں سارہ بیگم ، جنید ، تیمور صاحب اور امن کے سارے بھائی اس فیصلے پر بے حد خوش تھے،
وہیں رخسار بیگم کے چہرے پر ہلکی سی ناراضی نمایاں تھی۔
مگر یہ امن کا فیصلہ تھا۔۔
اور اس کے فیصلے ہمیشہ اٹل ہوا کرتے تھے۔
اب صرف ایک دل کی رضا باقی تھی…
حیات کی۔
++++++++++++
حیات دروازہ بند کرتے ہی سیدھا صوفے پر آ کر ایسے گری جیسے ساری تھکن ایک دم جسم چھوڑ گئی ہو۔
مزہ آ گیا۔۔۔۔
وہ پھیل کر لیٹتے ہوئے بولی۔
زینب بیگم مسکرا دیں۔
ہاں، arrangement واقعی بہت اچھی تھی
حیات نے فوراً ناک سکیڑی۔
ہاں تو حیات سے پیسے لیے تھے انہوں نے اس ارینجمنٹ کے، اچھا نہیں ہوگا تو کیا ہوگا۔۔۔
پھر بھی…
زینب بیگم کہا
ندیم صاحب خاموشی سے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔
زینب بیگم نے ان کی خاموشی نوٹ کی۔
آپ کو کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں۔
انہوں نے مختصر جواب دیا۔
حیات نے شرارت سے کہا،
ارے بتا دیں، شرمائیے مت۔۔
زینب بیگم ذرا فکر مند ہوئیں۔
وہاں کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟
ندیم صاحب نے چونک کر دیکھا۔
نہیں، وہاں مجھے کوئی کیوں کچھ کہے گا؟
تو بزنس میں لاس ہو گیا ہے؟
نہیں…
انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔
حیات نے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا،
ہو گیا آپ دونوں کا؟
کیا مطلب؟
زینب بیگم چونکیں۔
حیات اٹھ کر ندیم صاحب کے قریب آ گئی۔
کچھ نہیں، آپ ہی بتائیں کیا ہوا ہے آپ کو؟ ایسے منہ کیوں لٹکائے ہوئے ہیں؟
ندیم صاحب نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔
کچھ نہیں بیٹا، بس…
بس کیا؟ جو بات ہے بتائیے۔۔۔
حیات ضدی انداز میں بولی۔
ندیم صاحب نے گہری سانس لی۔
مجھے تمہاری ٹینشن ستا رہی ہے۔
حیات چونکی۔
کیوں؟ حیات کیا پہاڑوں پر چڑھائی کرنے جا رہی ہے؟
نہیں بیٹا، دیکھو اب تمہاری پڑھائی بھی مکمل ہو گئی ہے…
حیات نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔
ہاں تو، وہ ایک نہ ایک دن تو ہونی ہی تھی۔
ندیم صاحب نے آہستگی سے کہا،
ہاں… اب مجھے لگتا ہے تمہیں شادی کر لینی چاہیے۔ تم میری اکلوتی بیٹی ہو، نہ کوئی بھائی ہے نہ بہن۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تمہارا کیا ہوگا؟
حیات کا چہرہ یکدم بدل گیا۔
آپ کو کیوں کچھ ہونے لگا ہے؟
بیٹا، وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔
حیات جھنجھلا گئی۔
آپ وہاں سے آ کر ایسی بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہے ہیں؟ شادی وادی… نہیں کرنی حیات کو۔۔۔
یہ کہہ کر وہ غصے میں اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
زینب بیگم نے ندیم صاحب کو گھور کر دیکھا۔
آپ بھی نا… موقع دیکھ کر بات کرنی چاہیے تھی۔
ندیم صاحب نے تھکی ہوئی آواز میں کہا،
اب دیکھو، اسے منانا پڑے گا۔
ہاں، دیکھتے ہیں۔ فی الحال اس موضوع کو یہی ختم کر دیجیے۔
ہمم۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ اپنا کوٹ اٹھاتے ہوئے کمرے کی طرف چلے گئے۔
اور ڈرائنگ روم میں ایک ان کہی فکر خاموشی کی صورت رہ گئی۔
+++++++++++++
حیات آفس جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے ڈائننگ ٹیبل کی طرف آئی تو ندیم صاحب پہلے ہی وہاں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ حیات نے کرسی کھینچی ہی تھی کہ ندیم صاحب نے سر اٹھا کر کہا،
آج آفس نہیں نہیں جاؤ۔۔ تُم۔۔۔
حیات نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
ندیم صاحب کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
آج ہم کہیں گھومنے جائیں گے۔ شام میں اچھی طرح تیار ہو جانا۔ وہ جو میں نے تمہیں برتھ ڈے پر پنک والا سوٹ دیا تھا نا، وہی پہن لینا۔ میں آفس سے جلدی آ جاؤں گا۔
ڈائننگ ٹیبل کے دوسری طرف زینب بیگم نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
رات تک تو آپ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
ندیم صاحب نے چائے کی کپ اُٹھتے ہوئے کہا،
نہیں… اب میں سوچ رہا ہوں کہ میری بیٹی نے گریجویشن کر کے مجھے اتنی بڑی خوشی دی ہے، تو کیوں نہ اسے گھمانے لے جاؤں۔
حیات خوشی سے بول اٹھی،
ہاں ہاں! یہ بہت اچھا آئیڈیا ہے۔ حیات تیار ہو جائے گی۔
زینب بیگم نے ذرا فکر مندی سے کہا،
لیکن ابھی تو کل ہی ہم کنووکیشن سے آئے ہیں۔ کچھ دن بعد بھی تو جا سکتے ہیں۔
حیات نے فوراً منہ بنایا۔
آپ کو کیا مسئلہ ہے، ماما؟ جب حیات ریڈی ہے تو۔۔
ندیم صاحب نے بات کاٹ دی۔
ہاں بس، ٹھیک ہے۔ تم تیار رہنا، پانچ بجے میں آ جاؤں گا، پھر چلیں گے۔
+++++++++++++
وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔
اُس کے سامنے زاویار کرسی پر بیٹھا تھا،
امن نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا،
میں نے اپنا فیصلہ گھر والوں کو سنا دیا ہے۔
زاویار نے ہلکی سی نظر اٹھائی۔
پھر…؟
امن کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ آ گئی۔
آج دادی جائے گی حیات کے گھر۔
زاویار نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر بے اختیار بولا،
یہ تو اچھی بات ہے۔
امن نے فوراً بات کا رخ موڑ دیا۔
اب تم اپنے بارے میں سوچو۔
زاویار نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
خود تو کنویں میں گھُت رہے ہو، اور چاہتے ہو کہ میں بھی ڈبکی لگا دوں؟
امن نے بے نیازی سے کہا،
ہاں۔
زاویار کرسی سے سیدھا ہو بیٹھا۔
نہیں بھائی، نہیں۔ سب کو پتا ہے شادی بربادی ہے، مگر پھر بھی لوگ بربادی کو خوشی خوشی گلے لگا لیتے ہیں۔ لیکن میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں۔۔۔مجھے میری آزادی بہت عزیز ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔
امن نے سنجیدگی سے کہا،
میں شادی کر رہا ہوں نا… تو اب تمہیں بھی کرنی پڑے گی۔
عجیب خود بربادی کو خوشی سے گلے لگاؤ، مجھ سے نہیں کھاؤ۔ بھائی، مجھے معاف کرو۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کھڑا ہوا۔
میں چلا۔
یہ کہہ کر وہ آفس سے باہر نکل گیا۔
اور امن اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔۔۔
+++++++++++++++
شام کے ٹھیک پانچ بجے حیات بالکل وقت پر تیار ہو چکی تھی۔
بس حیات کو کہیں گھومنے پھرنے کا کہہ دو، پھر دیکھو—
اس معاملے میں وہ ہمیشہ وقت پہ تیار ہوجاتی تھی۔۔۔
زینب بیگم بھی تیار ہو چکی تھیں۔ دل میں ایک
اتنے میں ندیم صاحب گھر میں داخل ہوئے۔
چلیں…؟
زینب بیگم نے فوراً پوچھا۔
ندیم صاحب نے اردگرد نظر دوڑائی۔
حیات کہاں ہے؟
کمرے میں۔
تیار ہو گئی وہ؟
زینب بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
ہاں، وہ تو چار بجے سے ہی تیار ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بہت پیاری لگ رہی ہے… شلوار قمیص اس پر واقعی بہت سوٹ کرتا ہے۔
ندیم صاحب نے سر ہلایا۔
اچھا،
زینب بیگم نے ہچکچاتے ہوئے سوال کیا،
لیکن ہم باہر اس وقت جا کہاں رہے ہیں…؟
ندیم صاحب ایک لمحہ رکے، پھر آہستہ سے بولے،
ہم کہیں نہیں جا رہے۔
زینب بیگم چونکیں۔
تو پھر…؟
ندیم صاحب نے گہری سانس لی،
ہمارے گھر مہمان آ رہے ہیں۔
کون سے مہمان؟
امن کی فیملی آ رہی ہے… امن کے لیے حیات کا رشتہ مانگنے۔ امن کو حیات پسند آ گئی ہے۔
یہ سنتے ہی زینب بیگم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
آنکھوں میں چمک آ گئی، جیسے دل کا ایک بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔
سچ…؟
ان کی آواز خوشی سے بھر گئی۔
ندیم صاحب نے اثبات میں سر ہلایا، مگر لہجے میں فکر صاف جھلک رہی تھی۔
ہاں… لیکن مجھے حیات کا ڈر ہے۔ اگر اس نے امن کے رشتے سے انکار کر دیا تو… امن سے بہتر لڑکا اس کے لیے کوئی نہیں ہے۔
زینب بیگم نے فوراً تسلی دی۔
وہ انکار نہیں کرے گی۔ اور اگر کیا بھی… تو ہم منا لیں گے۔
ندیم صاحب نے دل پر ہاتھ رکھا۔
بس… حیات امن کے رشتے کے لیے مان جائے نا، تو میرے سر سے بہت بڑا بوجھ اتر جائے گا۔
زینب بیگم نے پورے یقین سے کہا،
ان شاء اللہ، ایسا ہی ہوگا۔ وہ مان جائے گی۔
اور اوپر کمرے میں،
آئینے کے سامنے کھڑی حیات
بالکل بے خبر تھی۔۔۔۔
کہ جس شام کو وہ ایک عام سی سیر سمجھ رہی تھی،
وہی شام اس کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ بننے والی ہے۔
+++++++++
کچھ دیر بعد زینب بیگم آہستہ سے حیات کے کمرے میں آئیں۔
حیات آئینے کے سامنے کھڑی آخری بار دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی۔
تیار ہو گئی؟
زینب بیگم نے نرمی سے پوچھا۔
حیات فوراً پلٹی۔
ہاں… بابا آ گئے؟
ہاں، وہ بھی تیار ہو رہے ہیں۔
اچھا، ٹھیک ہے۔
حیات نے بے صبری سے جواب دیا۔
زینب بیگم نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر پوچھا۔۔۔
ایک بات پوچھوں…؟
حیات نے شیشے میں اپنے بال ٹھیک کرتے ہوئے کہا
پوچھیں۔۔۔؟
زینب بیگم نے دھیرے سے کہا
امن تمہیں کیسا لگتا ہے حیات۔۔؟؟
حیات نے بھنویں چڑھائیں۔
کیا مطلب ہے آپ کا، ماما؟
تم امن سے اتنا لڑتی ہو؟ جب وہ گھر آیا تھا تب بھی، یونیورسٹی میں بھی، اور آفس میں بھی شاید تمہارا رویہ ویسا ہی ہوگا اس کے ساتھ ؟۔
حیات نے فوراً منہ بنایا۔
ہاں، کیونکہ وہ ایک نمبر کے واہیات پارانی ہے۔۔۔
زینب بیگم چونکیں۔
واہیات پارانی؟ مطلب؟
حیات نے کندھے اچکائے۔
واہیات پارانی مطلب واہیات پارانی۔۔
زینب بیگم نے ہنستے ہوئے کہا،
پاگل۔۔۔
حیات فوراً پلٹی۔
حیات پاگل نہیں ہے۔۔۔
زینب بیگم نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
سچ سچ بتاؤ… تمہیں واقعی امن پسند نہیں؟
حیات نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
میں کیوں اُنہیں پسند کرنے لگی ؟ ان میں ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے۔۔ جس کی وجہ سے انہیں پسند کیا جائے۔۔۔
زینب بیگم نے حیرت سے آنکھیں پھیلا دیں۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا؟ تم امن جنید خان کے بارے میں کہہ رہی ہو کہ اس میں کوئی خاص بات نہیں؟
حیات نے پورے اعتماد سے کہا،
ہاں! اور نہیں تو کیا۔ اب جائیں اور بابا کو دیکھیں، جلدی ان سے تیار ہونے کو کہیں۔ حیات سے انتظار نہیں ہو رہا۔۔
زینب بیگم نے اس کی بات پر خاموشی اختیار کر لی، مگر دل ہی دل میں سوچنے لگیں۔۔۔
اللہ معاف کرے… جیسے یہ امن کے بارے میں زہر اگلتی ہے، کہیں مان ہی نہ جائے اس کے رشتے کے لیے۔
اوپر سے اس کے ابا نے جھوٹ بھی بول دیا ہے… کہ ہم کہیں گھومنے جا رہے ہیں، حالانکہ آج تو اس کے رشتے والے آنے والے ہیں…
+++++++++
کچھ ہی دیر بعد حیات کے گھر کے دروازے کی گھنٹی بجی۔
ملازمہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سامنے جُنید صاحب، سارہ بیگم، تیمور صاحب اور رخسار بیگم کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں تحفوں تھے اور چہروں پر خلوص بھری مسکراہٹیں۔
وہ سب نہایت وقار کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوئے۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہی ندیم صاحب اور زینب بیگم بھی آ گئے۔
جنید صاحب نے رسمی انداز میں گفتگو کا آغاز کیا۔
تیمور بیٹا نے فون پر تو سب کچھ بتا ہی دیا ہوگا، مگر پھر بھی ہم عزت کے ساتھ، پورے پیار اور خلوص کے ساتھ… حیات بیٹی کے لیے اپنے پوتے امن جنید خان کا رشتہ مانگنے آئے ہیں۔ ہم حیات بیٹی کو اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے ہیں۔
ندیم صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
اور میں آپ کے احترام میں، اسی پیار اور خلوص کے ساتھ یہ رشتہ قبول کرتا ہوں۔
تیمور صاحب کے چہرے پر خوشی صاف جھلک رہی تھی۔
میں آج بہت خوش ہوں کہ ہماری دوستی اب رشتہ داری میں بدلنے جا رہی ہے۔
ندیم صاحب مسکرا دیے۔
میں بھی بہت خوش ہوں۔
جنید صاحب نے ایک نظر سب پر ڈالی۔
تو آپ لوگوں کو اب کوئی اعتراض نہیں؟
سارہ بیگم نے فوراً کہا،
جب کوئی اعتراض نہیں تو جلدی سے ہمیں منگنی کی تاریخ بھی دے دیجیے۔
رخسار بیگم نے قدرے مسکراتے ہوئے کہا،
لیکن پہلے مجھے حیات کو تو دکھا دیں۔
زینب بیگم نے خوش دلی سے کہا،
ہاں ہاں، میں حیات کو بلا کر لاتی ہوں۔
یہ کہہ کر وہ ڈرائنگ روم سے نکلیں اور حیات کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی حیات نے خوشی سے پوچھا،
چلیں؟
زینب بیگم نے آہستہ سے کہا،
ابھی نہیں جا سکتے۔
حیات چونک گئی۔
کیوں؟
گھر میں مہمان آ گئے ہیں۔
کون مہمان؟
حیات نے حیرانی سے پوچھا۔
زینب بیگم نے مسکرا کر کہا،
چلو نیچے، خود ہی دیکھ لو۔
حیات نے بے زاری سے منہ بنایا۔
ارے یار! جب ہمیں کہیں نہیں جانا ہوتا نا، تبھی مہمان گھر میں ٹپک پڑتے ہیں۔ آپ نے ان لوگوں سے کہا نہیں کہ ہم گھومنے جا رہے ہیں؟
زینب بیگم نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
اب چپ چاپ، تمیز سے نیچے آ جاؤ۔
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں۔
حیات نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر آخری بار بالوں میں کنگھی پھیری اور ان کے پیچھے پیچھے نیچے آ گئی۔
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی اس نے دھیمے لہجے میں کہا،
السلام علیکم۔
سلام کر کے وہ آ کر زینب بیگم کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
وعلیکم السلام بیٹا، کیسی ہو؟
تیمور صاحب نے شفقت سے پوچھا۔
الحمدللہ… آپ کیسے ہیں؟
الحمدللہ۔ پڑھائی مکمل ہو گئی؟
جی۔
حیات نے مختصر سا جواب دیا۔
سارہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا،
بس ٹھیک ہے، ہمیں تو حیات بہت پسند ہے۔
جنید صاحب نے بات آگے بڑھائی،
ہاں، اب آپ ہمیں منگنی کی تاریخ دے دیں۔
حیات چونک اٹھی۔
منگنی…؟
اس کا دل زور سے دھڑکا، مگر وہ خاموش رہی۔
ندیم صاحب نے سنجیدگی سے کہا،
جیسا آپ لوگوں کو مناسب لگے۔
تیمور صاحب نے پرجوش انداز میں کہا،
دیکھیں، فی الحال ہم اسی آنے والے جمعہ کو ان دونوں کی منگنی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں ہمارا خاندان کتنا بڑا ہے، اوپر سے یہ ہمارے گھر کی پہلی شادی ہے، تو سب ہی دلہن کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی منگنی کی تقریب ہو جائے، جس میں سب لوگ حیات سے مل لیں اور حیات بھی ہمارے خاندان والوں کو جان لے۔ پھر آرام سے چھ یا سات مہینے بعد شادی کی تاریخ رکھ لیں گے۔ ویسے بھی شادی کی تیاری کے لیے وقت تو چاہیے ہوتا ہے۔
ندیم صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہی بہتر رہے گا۔
جنید صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا،
تو پھر آنے والے جمعہ کی منگنی کی تاریخ پکی سمجھیں؟
زینب بیگم نے ہلکی سی ہچکچاہٹ سے کہا،
آنے والا جمعہ… کچھ زیادہ جلدی نہیں ہے؟
سارہ بیگم نے فوراً جواب دیا،
کیوں؟ ابھی پورا ہفتہ ہے، چھ دن ہیں۔ آرام سے تیاری ہو جائے گی۔
ندیم صاحب نے فیصلہ کن انداز میں کہا،
ہاں، ٹھیک ہے۔ ہم تیاری کر لیں گے، کوئی مسئلہ نہیں۔
تیمور صاحب خوشی سے بولے،
بس پھر… اب گلے ملو اب۔۔
وہ خوشی سے کھڑے ہوئے ندیم صاحب بھی خوش دیلی سے آگے بڑھیں۔۔
کمرے میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔
مبارک بادیں دی جانے لگیں۔
اور حیات…
وہ سب کے درمیان بیٹھی مسکرا تو رہی تھی،
مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا شور برپا تھا۔۔
کیونکہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ
اس سے پوچھے بغیر طے ہو چکا تھا۔۔۔
+++++++++++
وہ سب جا چکے تھے، مگر حیات اب بھی اسی صوفے پر، اسی حالت میں بیٹھی تھی۔
زینب بیگم نے دروازے تک اُن کو چھوڑ کر آنے کے بعد حیات کو ایسے بیٹھے پایا ۔۔ تو اس کے پاس آکر نرمی سے پوچھا۔۔۔
کیا ہوا؟ پوچھو گی نہیں کس کا رشتہ آیا ہے؟
ندیم صاحب بھی اس کے برابر آ کر بیٹھ گئے۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور نرمی سے بولے،
بیٹا، امن بہت اچھا لڑکا ہے۔
حیات نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نظریں اب بھی خالی خلا میں جمی تھیں۔
زینب بیگم نے فکر مندی سے کہا،
کیا ہوا ہے بیٹا؟ کچھ تو بولو۔
ندیم صاحب کی آواز میں تھکن اور محبت دونوں شامل تھے،
میں تمہاری مرضی کے خلاف نہیں ہوں، بیٹا، مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے بعد تمہارا خیال رکھنے والا کوئی ہو۔ میں ساری زندگی تمہارے ساتھ تو نہیں رہوں گا نا۔
حیات چونکی۔
بابا…؟ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔ مجھے ابھی آپ کا آفس سنبھالنا ہے۔
ندیم صاحب مسکرا دیے،
میرے بعد میرا آفس تمہارا ہی ہے، حیات۔ سنبھالتی رہنا۔ اور آفس تو تم شادی کے بعد بھی سنبھال سکتی ہو نا۔
لیکن بابا…
زینب بیگم نے بات کاٹ دی،
تو کب کرنی ہے تم نے شادی؟ ایک سال بعد؟ دو سال بعد؟ تین یا چار؟ ایک نہ ایک دن تو بیٹا تمہیں شادی کرنی ہی ہے نا، تو ابھی کیوں نہیں؟
حیات کی آواز دھیمی ہو گئی،
مجھے ڈر لگتا ہے شادی سے، بابا۔
زینب بیگم مسکرا کر بولیں،
ڈرنا تو ان لوگوں کو چاہیے جن کے گھر تم جا رہی ہو۔
ماما… اُس نے ناراضی سے زینب بیگم کی طرف دیکھا۔۔
ندیم صاحب ہلکے سے ہنسے،
ویسے بات تو تمہاری ماما کی ٹھیک ہے۔ تم ڈرنے کے لیے نہیں، ڈرانے کے لیے پیدا ہوئی ہو۔
حیات کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی،
لیکن بابا…؟
ندیم صاحب نے اس کے ہاتھ پر دباؤ دیا،
پلیز بیٹا، مجھے تمہاری بہت ٹینشن ہے۔ پلیز اپنے بابا کو ایسے مایوس مت کرو۔ مان جاؤ۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
چند لمحوں بعد حیات نے آہستہ سے کہا،
اچھا… ٹھیک ہے۔ کر لیتی ہوں شادی۔
ندیم صاحب کے چہرے پر سکون اُتر آیا،
That’s my good girl
۔ دیکھنا، تم اپنے گھر میں بہت خوش رہو گی۔
زینب بیگم نے فوراً ہاتھ اٹھائے،
یا اللہ، تیرا شکر۔
حیات نے دھیرے سے پوچھا،
یہ ان کے دادا دادی تھے؟
ہاں، زینب بیگم نے کہا، دادا دادی اور امی ابو۔
حیات نے ایک لمحہ توقف کے بعد کہا،
کیا وہ مان گئے؟
ندیم صاحب نے سر ہلایا،
ہاں، تبھی تو اس کی فیملی آج ہمارے گھر آئی۔
حیات نے نظریں جھکا لیں،
اچھا… ٹھیک ہے۔
یوں امن کا نام حیات نے اپنے نام کے ساتھ جوڑنے پر مان گئی تھی۔۔۔
++++++++++
زینب بیگم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
مجھے تو یقین ہی نہیں آیا کہ حیات اتنی جلدی مان جائے گی۔
ندیم صاحب نے آہستہ سانس لی۔ یقین مجھے بھی نہیں آیا، مگر میری بیٹی بہت سمجھ دار ہے۔
ہاں، بہت سمجھ دار ۔. زینب بیگم نے طنز کیا۔۔ حیات اور سمجھدار ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ سمجھداری کا س بھی اُس میں نہیں تھا۔۔
ندیم صاحب کچھ سوچتے ہوئے بولے، شاید اسے بھی امن اچھا لگتا ہو۔
زینب بیگم فوراً بول پڑیں، اللہ معاف کرے، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ امن کے خلاف اتنا زہر اگلتی ہے کہ آپ سن لیں تو حیران رہ جائیں۔ میں نے خود اس سے پوچھا تھا۔ تو کہتی اُن میں ایسی کونسی خاص بات ہے جس کی وجہ سے اُنہیں پسند کیا جائے۔۔۔ بتائے ذرا ۔۔۔ جس میں ساری کوالٹی ہے کہ اسے پسند کیا جائے۔۔۔ بار بار کیا جائے ہزار بار کیا جائے۔۔۔اوپر سے ہر وقت اس سے لڑتی رہتی ہے۔
ندیم صاحب نے الجھن سے پوچھا،
پھر اس نے ہاں کیوں کی؟
زینب بیگم نے نرمی سے جواب دیا،
شاید آپ کی وجہ سے کی ہو۔
ندیم صاحب نے سر ہلایا۔
ہمم… ہو سکتا ہے۔ بس اللہ میری بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔
زینب بیگم نے دل سے کہا، آمین۔
+++++++++++++
منگنی کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ دونوں گھروں میں خوشیوں کی لہر دوڑ رہی تھی، مگر حیات ان سب ہنگاموں سے دور، امایا کے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی۔
بار بار گھنٹی بجانے کے بعد آخرکار امایا کی بہن نے دروازہ کھولا۔
حیات نے جھنجھلا کر کہا، کیا ہے، فائزہ آپی؟ پاؤں جل گیا حیات کا، دھوپ میں کھڑے کھڑے۔ جلدی دروازہ نہیں کھول سکتی تھیں؟
فائزہ نے حیرت سے اُسے دیکھا، پھر دروازے کے اوپر بنے چھجے کی طرف نگاہ اٹھائی، جو دروازے اور سیڑھیوں پر صاف سایہ کیے ہوئے تھا۔
پاؤں کہاں سے جل گیا تمہارا؟ یہاں تو سایہ ہے۔
حیات نے بیزاری سے کہا، ہٹے راستے سے۔ باہر بہت گرمی ہے۔ آپ سے بس بحث کروا لو۔
یہ کہہ کر وہ فائزہ کو ایک طرف ہٹاتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہو گئی۔
فائزہ نے بے بسی سے سر ہلاتے ہوئے خود سے کہا، اس لڑکی کا تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔
حیات سیدھی کچن کی جانب گئی۔
السلام علیکم آنٹی، حیات آئی ہے۔ اور اب حیات امایا کے کمرے میں جا رہی ہے۔ اللہ حافظ۔
وہ امایا کی امی، فرحانہ بیگم، کو بتا کر تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
فرحانہ بیگم بس سر ہلا کر رہ گئیں۔
حیات امایا کے کمرے میں داخل ہوئی۔ دروازہ کھولتے ہی اپنی منگنی کا کارڈ اس کی طرف اچھال کر بولی،
یہ لے بھکاری، میری منگنی میں آ جانا، ورنہ کہے گی بریانی مس ہو گئی۔
یہ کہہ کر وہ بستر پر ڈھیر ہو گئی۔
امایا پہلے ہی بستر پر بیٹھی تھی۔ اس نے فوراً موبائل ایک طرف پھینکا، کارڈ اٹھایا اور اچھل کر چیخی،
تو شادی کر رہی ہے؟!
حیات نے ناک چڑھائی۔
جاہل، صحیح سے پڑھ۔ شادی نہیں، منگنی۔
ایک ہی بات ہے۔ منگنی ہو گئی تو شادی بھی ہو ہی جائے گی۔ امایا نے فوراً کہا۔
اب آنٹی سے اجازت لے اور میرے ساتھ چل۔ گھر میں بہت کام ہے۔ حیات بولی۔
امایا نے کارڈ میں دلہے کا نام پڑھا تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مایوسی آ گئی۔
امن جنید خان؟ وہی جو تمہارے باس ہیں؟
حیات نے فخر سے کہا،
ہاں۔ ان کا دل پِھسل گیا ہے میرے اوپر۔ حیات ہے ہی اتنی حسین کہ سب کا دل آ جاتا ہے۔
امایا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
مبارک ہو۔
خیر مبارک۔ اب گھر چل۔ حیات نے کہا۔
امایا نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
میرا بھی ایک رشتہ آیا ہے۔ اب تم شادی کر رہی ہو تو میں بھی ہاں کر دوں گی۔
حیات چونکی۔
تو میرا انتظار کر رہی تھی؟
ہاں نا۔ امایا بولی۔
حیات نے سر ہلایا۔
پھر ٹھیک ہے، ہاں کر دے، مگر ابھی نہیں۔ پہلے حیات کی منگنی ہونے دے، پھر اپنی منگنی گھسانا۔
اچھا اچھا۔ امایا ہنس دی۔
کس سے کرے گی شادی؟ حیات نے پوچھا۔
میرا کزن ہے۔ امایا نے سادگی سے جواب دیا۔
گڈ۔ اب چل میرے گھر۔ حیات اٹھتے ہوئے بولی۔
امایا نے خوشی سے کہا،
ہاں چلو، یہ گڈ نیوز ماما کو دیتے ہیں۔۔۔
+++++++++++
جب نتاشا کے ہاتھ میں امان کی منگنی کا کارڈ آیا تو اُس کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔
جس بات کا اُسے ڈر تھا، بالکل وہی ہو گیا تھا۔
حیات…
اُس نے امن پر، اُس کے امن پر، قبضہ کر لیا تھا۔
نتاشا کے تن بدن میں آگ سی لگ گئی، مگر اس لمحے وہ کر بھی کیا سکتی تھی؟
بس خاموشی سے جلنا… اور اندر ہی اندر ٹوٹ جانا۔
اسی لمحے زاویار کمرے میں داخل ہوا۔
ابھی بھی بیٹھ کر کارڈ کی شکلیں دیکھ رہی ہو؟ کام کرو، نالائق…
اُس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
نتاشا نے بے بسی اور غصے کے ملے جلے احساس کے ساتھ کہا،
تمہیں پتہ ہے باس اُسی پاگل لڑکی سے شادی کر رہے ہیں… حیات سے…
زاویار نے بے پرواہی سے کندھے اچکائے،
ہاں تو؟
اُن دونوں کا کوئی میچ ہی نہیں بنتا..
نتاشا کے لہجے میں جھنجھلاہٹ تھی۔
پھر؟
زاویار نے سرد مہری سے پوچھا۔
باس کے لیے کوئی اور زیادہ سوٹیبل لڑکی ہونی چاہیے، کوئی اچھی، پرفیکٹ، میچور لڑکی…
پھر؟
زاویار نے فائل پلٹتے ہوئے کہا۔
پھر باس کو سمجھاؤ….
زاویار نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،
تمہارے پاس بہت فارغ وقت ہے نا؟ تم جا کر سمجھا دو۔ میں بہت بزی ہوں۔ مجھے 202 والی فائلز دو، ابھی.
نتاشا نے دانت پیستے ہوئے فائل اس کی طرف بڑھائی۔
یہ لو….
وہ فائل لے کر کمرے سے نکل گیا۔
عجیب آدمی ہے… جاہل کہیں کا…
نتاشا نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھی، کیبن سے نکلی اور سیدھا امن کے کیبن کے سامنے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔
سر، مے آئی کم؟
یس۔۔۔
اندر سے امن کی آواز آئی۔
نتاشا اندر آئی اور کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی،
سر… یہ؟
امن نے ایک نظر کارڈ پر ڈالی،
تمہیں مل گیا؟ فی الحال آفس میں شور نہیں کرنا۔ آفس کے بس چند لوگوں کو ہی انوائٹ کیا ہے۔ چھوٹی سی منگنی ہے۔ اسی وجہ سے۔۔
نتاشا نے ہمت جمع کر کے پوچھا،
باس… آپ واقعی حیات سے شادی کر رہے ہیں؟
امن نے سر اٹھا کر اسے دیکھا،
ہاں، کیوں؟ کوئی مسئلہ ہے؟
آپ اُس سے کیسے شادی کر سکتے ہیں باس۔۔۔ وہ بہت امیچیور لڑکی ہے… اوپر سے اُس کی الٹی سیدھی حرکتیں۔۔
نتاشا کے لہجے میں حقارت تھی۔
امن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی،
تو کیا ہوا؟ اُس کا نیچر ہی ایسا ہے۔
نتاشا نے نرمی سے کہا،
ہاں، نیچر تو ہے… وہ جیسی بھی ہے، ٹھیک ہے، لیکن جو بھی ہو، وہ آپ کو ڈیزرو نہیں کرتی باس۔
امن کی آنکھوں میں اب وہ نرمی نہیں رہی تھی۔ اُس نے کرسی سے ذرا سیدھا ہو کر نتاشا کی طرف دیکھا، لہجہ پرسکون تھا مگر الفاظ میں وزن آ گیا تھا۔
تمہیں کس نے یہ حق دیا کہ تُم یہ فیصلہ کرو کہ کون مجھے ڈیزرو کرتا ہے اور کون نہیں؟
نتاشا ایک لمحے کو خاموش ہو گئی۔ شاید اُسے اندازہ نہیں تھا کہ بات یہاں تک پہنچ جائے گی۔
میرا مطلب تھا باس کہ—
میں سمجھ گیا ہوں تمہارا مطلب۔
امن نے اُسے بات مکمل کرنے نہیں دی۔
اور ایک بات اچھی طرح ذہن میں رکھ لو، میں اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے کسی اور کی پسند یا ناپسند پر نہیں کرتا۔
نتاشا نے ہونٹ کاٹ لیے۔
میں تو بس آپ کا بھلا چاہتی ہوں…
میرا بھلا مجھے خود سمجھ آتا ہے۔ اور حیات کے بارے میں دوبارہ اس لہجے میں بات مت کرنا۔ وہ میری ہونے والی بیوی ہے۔
اُس کی آواز میں اب نرمی نہیں، ایک واضح حد بندی تھی۔
وہ جیسی بھی ہے، میری پسند ہے۔ اور میری پسند پر کوئی سوال نہیں کر سکتا۔۔
یہ آخری جملہ نتاشا کے دل پر کسی ہتھوڑے کی طرح لگا۔
سوری باس۔۔۔
اُس کی آواز مدھم ہو چکی تھی۔
تم جا سکتی ہو۔
امن نے فائل کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا،
نتاشا نے سر جھکا لیا۔
اوکے باس…
وہ آہستہ سے بولی۔
نتاشا مڑی، دروازے کی طرف بڑھی۔ قدم لڑکھڑا رہے تھے، مگر اُس نے خود کو سنبھال لیا۔
دروازہ بند ہوا تو اُس کے اندر بندھن ٹوٹ سا گیا۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر ہونٹوں پر انا کی سختی جم گئی۔
حیات…
اُس نے دانت پیستے ہوئے نام دہرایا۔
تم نے وہ چھینا ہے جو میرا ہونا چاہیے تھا۔
++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
