تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۹
اسوان تقریباً دوڑتا ہوا ہسپتال پہنچا تھا۔
سانس بے ترتیب تھی، دل کسی انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔
پریشے کو ابھی ڈاکٹر چیک کر رہے تھے۔
کمرے کے باہر ایک بنچ پر مریم بیگم بیٹھی تھیں۔ ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے، لب زیرِلب ہل رہے تھے،
اور دوسری بینچ پر زیدان نظریں جھکائے زمین کو گھور رہا تھا۔
اسوان تیزی سے ان کے پاس آیا۔ ایک لمحے کو رکا، پھر بھاری آواز میں بولا، تھینک یو، زیدان…
زیدان نے کوئی جواب نہ دیا۔ نگاہیں اب بھی زمین کو گھور رہی تھیں۔ جیسے سن ہی نہ پایا ہو۔
کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا۔ ڈاکٹر باہر آئے۔
کوئی گھبرانے والی بات نہیں ہے،
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا۔
پیشنٹ اب خطرے سے بالکل باہر ہے۔ بس سر اور پاؤں میں چوٹ آئی ہے، جو جلد ٹھیک ہو جائے گی۔
ایک لمحے کا توقف— پھر ڈاکٹر نے بات مکمل کی،
البتہ اگر وقت پر ہسپتال نہ لایا جاتا تو حالت سنگین ہو سکتی تھی۔ اور آپ پیشنٹ سے اب مل سکتے ہیں لیکن پیشنٹ ابھی نیم بیہوشی کی حالت ہے۔۔۔
ڈاکٹر اپنی بات مکمل کرتے ہی یہاں سے تیزی سے نکل گئے۔۔۔
یہ سنتے ہی زیدان اچانک اپنی بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر تھکن اور بے نیازی کی ملی جلی پرچھائیں تھیں۔
اسوان کی طرف دیکھے بغیر بولا، اب سنبھالو اپنی بیوی کو۔
پھر وہ مڑا، اور سیدھا مریم بیگم کی طرف بڑھا۔ چلیں، گھر چلتے ہیں۔
مریم بیگم نے بے اختیار کہا،
پریشے کو ہوش میں تو آ جانے دو…
زیدان نے بے دلی سے جواب دیا،
بھائی ہے نا وہ، دیکھ لے گا۔ آپ چلیں۔
اسوان نے بھی دھیمے لہجے میں کہا،
ہاں پھپو، آپ گھر جائیں۔
کچھ لمحوں بعد— زیدان مریم بیگم کو اپنے ساتھ لے کر ہسپتال سے نکل گیا۔
راہداری میں ایک عجیب سی خاموشی رہ گئی۔
اسوان نے گہرا سانس لیا، اور آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا۔
پریشے بستر پر لیٹی تھی۔ آنکھیں بند۔ چہرہ زرد، سانس ہلکی ہلکی۔
ابھی تک ہوش میں نہیں آئی تھی۔
اسوان نے ایک کرسی کھینچی، اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔
نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں۔ دل میں شکر بھی تھا، اور ایک انجانا خوف بھی،
وہ وہیں بیٹھا رہا۔ خاموش۔ بس اس کی سانسوں کی آمد و رفت گنتا ہوا۔
تھوڑی دیر بعد پریشے کی آنکھ کھل گئی۔ اسوان عین اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ اور اُس کی نظریں اُس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی اسوان نے فکر مندی سے پوچھا،
کيسی طبیعت ہے؟
ٹھیک ہوں۔ پریشے نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
کیسے گری تھیں؟
پریشے نے ہلکا سا سر ہلایا۔ یاد نہیں مجھے۔
اچھا، آرام کرو۔
کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر پریشے بولی،
میں گھر جانا چاہتی ہوں۔
ابھی ڈاکٹر ڈسچارج کر دیں گے، پھر چلے جائیں گے۔
میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔
اسوان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
اس حالت میں؟
ہاں…
اس کی آواز میں ضد نہیں، بس ایک گہرا درد تھا۔ مجھے ماما، پاپا کے پاس جانا ہے…
اسوان نے لمحہ بھر سوچا۔
اچھا، میں کال کر کے انہیں یہاں بلا لیتا ہوں۔
وہ جیب سے فون نکال ہی رہا تھا کہ— پریشے نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا۔
نہیں… رہنے دیں۔
انہیں کال نہ کریں… وہ پریشان ہو جائیں گے…
اسوان نے اس کی طرف دیکھا۔
اچھا، پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ۔ پھر ان سے مل لینا…
یا جب ہم ہسپتال سے گھر جائیں گے تو انہیں بلا لینا۔
پریشے نے فوراً کہا، نہیں کہا نا… وہ پریشان ہوجائیں گے۔۔۔ میں انہیں کچھ نہیں بتاؤں گی…
اسوان نے اس کی طرف دیکھا۔
نہیں ہوں گے وہ پریشان، میں اُنہیں سمجھا دوں گا۔
کیا سمجھائیں گے۔۔؟؟ پريشے نے حیرانی سے پوچھا۔۔
اسوان نے دھیرے سے کہا، میں اُن سے کہوں گا کہ تمہیں کچھ نہیں ہوا۔ تم بالکل محفوظ ہو۔
اور میں ہوں نا… میں ان کی بیٹی کا خیال رکھ سکتا ہوں۔
پریشے کی آنکھوں میں اچانک ایک چمک سی ابھری تلخ، زخمی۔
اپنی بیٹی کا تو خیال رکھا نہیں گیا آپ سے…
اس کی آواز ہلکی تھی، مگر لفظ تیز۔ اُس کے لیے تو مجھے یہاں لائے ہیں۔
کسی اور کی بیٹی کا کیا خیال رکھیں گے آپ…؟
پریشے۔۔۔
اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ غصہ بھی آیا، مگر وہ اسے قابو میں رکھ گیا۔
پریشے نے نگاہیں اس پر جما دیں۔
میں آپ کو ایک سچ بات بتاؤں؟
بتاؤ…
اسوان نے گہرا سانس لے کر کہا۔
آپ نے پری کی تربیت ٹھیک نہیں کی۔
آپ نے اس کا صحیح طرح خیال نہیں رکھا…
اسوان ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔ پھر دھیرے سے بولا، میں جانتا ہوں…
اسی لیے تو تم سے شادی کی ہے۔
اس نے آہستہ سے پریشے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اچانک سے غصے کی جگہ آواز میں نرمی گھل گئی۔
پری کی اچھی تربیت صرف تم کر سکتی ہو۔
وہ مجھ جیسی ہے، خودغرض،
صرف اپنے بارے میں سوچنے والی،
اپنی خوشی کے لیے کچھ بھی کر گزرنے والی،
صحیح اور غلط کی پروا کیے بغیر۔
وہ ذرا رکا، پھر دھیمی آواز میں بولا،
لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ پریشے جیسی بنے،
نرم دل، سب کا خیال رکھنے والی، معصوم، سیدھی سادی، کسی کو دکھ نہ دینے والی…
پریشے نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اسوان کے ہاتھ سے نکال لیا۔
آنکھوں میں نمی تھی، مگر آواز حیرت انگیز طور پر مضبوط۔
پری کی اچھی تربیت آپ بھی کر سکتے ہیں…
وہ دھیرے سے بولی۔
اچھے اور بُرے کی تمیز تو آپ کو بھی ہے نا؟
تو وہی تمیز آپ اسے بھی سیکھا سکتے ہیں…
اسوان خاموش رہا۔ نگاہیں اس کے چہرے پر جم گئیں۔
پریشے نے بات جاری رکھی، میں پری کو صرف پیار دے سکتی ہوں، بس۔ میں اس کی سوتیلی ماں ہوں،
میری بات کا اسے بُرا لگ سکتا ہے… لیکن آپ کی بات کا نہیں لگے گا۔
اس کی آواز ذرا بھرا گئی۔
اچھے اور بُرے کی پہچان
صرف آپ ہی اسے سکھا سکتے ہیں…
اسوان نے کچھ کہنا چاہا، مگر پریشے نے اسے روک دیا۔
آپ کو پتہ ہے…
میں خود سیڑھیوں سے نہیں گری تھی…
اسوان کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔ پھر…؟
پریشے نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ بغیر جھجک، بغیر خوف
پری نے مجھے دھکا دیا تھا…
اسوان چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؟
پریشے کی آواز کانپنے لگی۔ پانچ سال کی ایک بچی…
نفرت میں اتنی آگے نکل چکی ہے
کہ کسی انسان کو آسانی سے جان سے مار سکتی ہے…
اسوان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کیا اسے اتنا بھی نہیں پتہ
کہ اگر میں سیڑھیوں سے گرتی
تو میری جان بھی جا سکتی تھی…؟
آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، مگر وہ جلدی سے پونچھ گئی۔
مجھے لگتا ہے…
وہ رُک کر بولی،
آپ نے کبھی اسے ڈانٹا نہیں… کبھی اسے یہ نہیں بتایا۔۔ کہ کیا صحیح ہے۔۔۔ اور کیا غلط…
اسوان کی نگاہیں جھک گئیں۔
پریشے نے آخری جملہ بہت دھیرے سے کہا، مگر وہ تیر کی طرح لگا۔
ہے نا…؟
اس کی اتنی ساری باتیں سننے کے بعد— یہاں تک کہ یہ سننے کے بعد بھی کہ پری نے اسے دھکا دیا تھا،
اسوان کے چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئی تاثر نہ آیا۔ نہ حیرت، نہ غصہ، نہ صدمہ۔
وہ پہلے کی طرح سنجیدگی سے پریشے کو دیکھتا رہا۔ نگاہیں گہری تھیں،
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دھیرے سے بولا،
میں پری سے اس بارے میں بات کروں گا۔
آواز میں نہ سختی تھی، نہ نرمی، بس ایک فیصلہ۔ تھا۔۔۔
آئندہ وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
پریشے نے حیرت سے اسوان کو دیکھا۔
وہ کیا کہہ رہی تھی، اور وہ کیا سمجھ رہا تھا؟
میں یہ کہہ رہی ہوں…
پریشے کی آواز میں بے بسی در آئی،
کہ صرف مجھے نہیں… کسی کو بھی…
وہ اپنی خوشی کے لیے نقصان نہ پہنچائے…
اسوان نے جیسے پوری بات سنی ہی نہ ہو۔ بس ہلکے سے گردن ہلائی۔
ہاں… ہاں…
وہ اٹھتے ہوئے بولا،
میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتا ہوں
تمہارے ڈسچارج کے بارے میں۔
اور وہ مڑ کر باہر چلا گیا۔
پریشے اسے جاتا ہوا دیکھتی رہ گئی۔ آنکھوں میں سوال تھے، دل میں خوف۔
اسوان نے اس کی بات صحیح طرح سمجھی نہیں تھی، یا سمجھ کر بھی نظر انداز کر گیا تھا۔
پریشے کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ حقیقت کیا ہے۔
اسے لگ رہا تھا کہ اب اسے خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔
پری کو ایک اچھا انسان بنانے کے لیے۔۔۔
کچھ دیر بعد نرس کمرے میں داخل ہوئی۔
پریشے نے اسے دیکھتے ہی کمزور آواز میں کہا،
یار… مجھے بہت درد ہو رہا ہے… دیکھو نا…
کوئی پین کلر دے دو پلیز…
اس نے بے اختیار آنکھیں موند لیں۔
مجھے ماما کے پاس جانا ہے…
آواز ٹوٹ گئی،
لیکن میں جا نہیں سکتی…
اور مجھے بہت تکلیف بھی ہو رہی ہے…
نرس نے اس کی طرف غور سے دیکھا،
اچھا میں دیکھتی ہوں ڈاکٹر سے پوچھ کر آپکو کوئی پین کلر دیتی ہوں۔۔۔
ہاں ہاں دیکھو نہ بہت درد ہورہاہے، مُجھے۔۔
نرس نے اس کی حالت دیکھ کر فوراً سر ہلایا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
پریشے نے آنکھیں بند کیے گہری سانس لی، مگر درد کم ہونے کے بجائے اور تیز ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے کمزور سا ہاتھ پیٹ پر رکھا اور کروٹ بدلنے کی کوشش کی، مگر ذرا سی حرکت پر ہی سسکی اس کے لبوں سے نکل گئی۔
++++++++++++
اس وقت گھر میں ایک الگ سا شور برپا تھا۔
وجہ صاف تھی، حریم پھوپو اپنے دونوں بچوں کے ساتھ ایئرپورٹ سے ابھی ابھی گھر پہنچی تھیں۔
لاؤنچ میں ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ مریم بیگم اور زیدان گھر میں داخل ہوئے۔
ارے زیدان۔۔۔
حریم پھوپو خوشی سے بولیں،
آؤ نا، اپنی پھوپو سے ملو…
وہ واقعی لندن کی کسی باوقار خاتون جیسی لگ رہی تھیں۔ ہلکے رنگ کا نفیس کوٹ، اندر سادہ مگر شاندار لباس، گردن میں باریک سا اسکارف، اور بال قرینے سے سنورے ہوئے۔ ان کے انداز میں خود اعتمادی بھی تھی اور شائستگی بھی، جیسے برسوں غیرملکی ماحول میں رہنے کی پہچان ہر قدم پر جھلک رہی تھی۔۔۔
لیکن زیدان بغیر ان کی طرف دیکھے، بغیر کسی جواب کے، سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دعا نے آنکھیں پھیلا دیں۔ ہاؤ روڈ؟
how’s Rude
وہ حریم پھوپو کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔ اس کے سر پر ہلکے سرمئی رنگ کی کیپ تھی، جس کے نیچے سے سنہرے بال نرمی سے کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ سیاہ کوٹ پہنے ہوئے وہ اندر ہلکی سرمئی شرٹ کے ساتھ سادہ مگر پُرکشش لگ رہی تھی۔ کندھے سے لٹکا سفید بیگ اس کے انداز میں مزید نفاست پیدا کر رہا تھا۔ اس کا گورا رنگ اور سلیقے سے سنورا ہوا حلیہ فوراً توجہ اُس کی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔
رضیہ بیگم نے بے نیازی سے کہا، یہ ایسا ہی ہے…
پھر اچانک رضیہ بیگم کی نظر مریم بیگم پر پڑی، اور ان کے کپڑوں پر لگے خون کے دھبوں پر۔
تجھے کیا ہوا ہے؟
وہ چونک کر بولیں۔
مریم بیگم نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا،
پریشے سیڑھیوں سے گر گئی تھی…
کیا؟!
عائشہ بیگم کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
رضیہ بیگم نے تیز لہجے میں کہا،
اے! کیا بک رہی ہے؟
حریم بیگم گھبرا گئیں۔ پریشے؟ کون پریشے؟
وہی دلہن؟ اسوان کی بیوی؟
مریم بیگم نے حیرانی سے کہا،
بھابھی نے آپ لوگوں کو بتایا نہیں…؟
رضیہ بیگم نے جھنجھلا کر کہا،
وہ زینب تو اپنے کمرے میں ہی مری پڑی ہوگی…
اے اُسے بُلا کر لا۔۔۔
عائشہ بیگم نے فوراً کہا، ہاں، میں بلا کر لاتی ہوں…
حریم بیگم نے فکر مندی سے کہا، اللہ خیر کرے…
ہمارے آتے ہی۔۔ بچی کے ساتھ یہ سب کیا ہو گیا…”
رضیہ بیگم نے سوال کیا، ابھی کہاں ہے؟
کون سے ہسپتال میں؟ اسوان اس کے ساتھ ہے نا؟
مریم بیگم نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
ہاں، ہسپتال میں ہے۔ اسوان ساتھ ہے…
اور شام یا رات تک پریشے بھی گھر آ جائے گی…
یہ کہتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
دعا نے افسردگی سے کہا،
اوہ… سو سیڈ۔۔۔ آئی ایم سیڈ
oh so sad۔۔۔I’m sad
دائم نے فوراً تبصرہ کیا، اسی لیے میں کہتا ہوں
گھروں میں سیڑھیاں ہونی ہی نہیں چاہئیں۔
بچے تو گرتے ہی گرتے ہیں، بڑے بھی گر جاتے ہیں…
دائم بے فکری سے صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیاہ جیکٹ اس نے بے ترتیبی سے پہن رکھی تھی، اندر گہرے رنگ کی شرٹ جس کے بٹن اوپر تک بند نہیں تھے۔ گردن کے گرد باریک سی چین جھلک رہی تھی، بال ہلکے سے الجھے ہوئے تھے، جیسے کنگھی سے زیادہ ہاتھوں نے انہیں سنوارا ہو۔ آنکھوں میں لاپرواہی جھلک رہی تھی، وہی لاپرواہی جو آوارہ نوجوانوں میں دکھائی دیتی ہے—نہ مکمل سنجیدگی، نہ مکمل بے پروائی، بس ایک بے نیاز سا انداز۔ بیٹھنے کا انداز ڈھیلا تھا، کندھے ذرا سے جھکے ہوئے، جیسے اسے کسی رسمی وقار کی پروا ہی نہ ہو۔
اس کا گندمی رنگ مصنوعی روشنی میں بھی نمایاں تھا، اور مجموعی حلیہ کسی حد تک بگڑا ہوا مگر پُرکشش لگ رہا تھا، ایسا انداز جو پسند بھی آئے اور کھٹکے بھی،
زارا نے فوراً اسے گھورا۔ ڈھکن…
وہ سیڑھیوں سے گر گئیں تو کیا
کیا سیڑھیاں ہی نہیں ہونی چاہئیں؟
دائم کندھے اچکا کر بولا، ہاں نہ۔۔۔ نہ رہیں گی سیڑھیاں نہ ہی گرے گا کوئی۔۔۔
دعا نے آنکھیں گھما کر کہا، ڈونٹ مائنڈ ہاں…
ہی اِز سو مینٹل…
Don’t mind han۔۔he is so mental۔۔
حریم بیگم نے گہرا سانس لے کر کہا،
چلو، اللہ کا شکر ہے۔۔۔
کہ بچی اب محفوظ ہے…
زارا نے اسے گھور کر دیکھا۔
دماغ کا علاج کروا لو جا کر اپنا…
دائم فوراً سنبھل کر بولا،
نہیں بھئی، اتنا قیمتی دماغ ہے میرا..
کوئی چرا لے گا…
دعا نے ہلکی سی تھکن بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
آئی ایم ٹائرڈ۔ آئی نیڈ ٹو ریسٹ ناؤ۔
I’m tired. I need to rest now.
دائم نے جمائی لیتے ہوئے کہا،
ہاں، تھک تو میں بھی گیا ہوں۔
راضیہ بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے کہا،
اے ہاں، جا تو سب آرام کر… شام میں بات کرتے ہیں پھر۔
ہاں چلو، میں تم دونوں کو تمہارا روم دکھاتی ہوں…
زارا اٹھتے ہی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
دائم نے فوراً چونک کر اُسے سیڑھیوں کی طرف بڑھتے دیکھ بولا۔۔۔
اوہ تیری! سیڑھیاں نہیں… کل کو میں کہیں اِن سیڑھیوں سے گر گیا تو؟
زارا نے مُڑ کر اسے گھور کر دیکھا۔
دعا نے ناک سکیڑ کر کہا،
یو آر سچ اے میڈ…
You are such a mad…
دائم فوراً بولا،
مجھے کوئی نیچے والا روم دے دو…
زارا نے صاف جواب دیا،
نیچے کا کوئی بھی روم خالی نہیں ہے۔
اوپر ہی ایکسٹرا روم ہے…
دائم نے منہ بنایا۔
نہیں، پھر میں یہیں لانج میں ایڈجسٹ کر لوں گا…
یا ماما کے روم میں…
زارا جھنجھلا کر بولی،
تم تھوڑے سے پاگل ہو کیا؟
دعا نے فوراً کہا،
ہی از ناٹ آ لِٹل میڈ، ہی از ٹوٹلی میڈ۔
He is not a little mad, he is totally mad.
دائم پھر منت پر آ گیا،
بس مجھے کوئی نیچے والا روم دے دو…
زارا نے غصے سے اُسے گھورتے کہا۔۔
تم رہو یہیں۔
دعا، چلو… میں تمہیں روم دکھاتی ہوں…
دعا مسکرا کر بولی،
Okay, let’s go.
اور وہ دونوں اُسے وہیں نیچے چھوڑ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
+++++++++++
زیدان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا، کائنات فوراً بیڈ سے اُٹھتی اس کی طرف بڑھی۔ چہرے پر صاف فکرمندی تھی۔
کیسی ہیں بھابھی؟
زیدان نے بنا رکے، بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا، ہاں، تم اپنی رکی ہوئی سانسیں بحال کر لو۔
میں صحیح وقت پر ہسپتال لے گیا تھا انہیں۔
وہ اب بالکل ٹھیک ہیں۔
یہ کہتے ہوئے وہ صوفے کی طرف بڑھ گیا اور بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔
کائنات پلٹ کر اس کی طرف مڑی۔ اور بولی۔۔۔
یہ بات آپ آرام سے بھی کہہ سکتے تھے۔
کہ بھابھی بالکل ٹھیک ہیں۔
طنز مارنے کی کیا ضرورت تھی؟
زیدان کے جوتے اتارتے ہاتھ رک گئے۔ وہ اسی حالت میں نظریں اٹھا کر کائنات کو دیکھنے لگا۔
اس وقت لڑنے کا دل کر رہا ہے تمہارا مجھ سے؟
کائنات نے فوراً جواب دیا،
میں بھلا کیوں لڑنے لگی آپ سے؟
زیدان نے سرد لہجے میں کہا،
پھر خاموشی سے کھڑی رہو۔
کائنات نے ناک سکوڑ کر رخ موڑ لیا۔ ہنہ…
اور دوبارہ پھر بیڈ پر اکر بیٹھ گئی۔۔۔ اور کتابیں کھول لی۔۔۔
نمرہ احمد کے اسلوب میں، زیدان کی بے حسی اور کائنات کی بے چینی کو سمیٹتے ہوئے منظر یوں بنتا ہے:
زیدان جوتے اتار کر سیدھا ہو گیا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔ ابھی اُس نے اپنی کمر سیدھی ہی کی تھی۔۔کہ
کائنات نے ایک بار پھر اس کی طرف رخ کیا۔
آپ کو پتہ ہے…؟
بھابھی سیڑھیوں سے کیسے گری تھیں…؟
زیدان نے بس ایک نظر اس کی طرف ڈالی۔ نگاہ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ نہ حیرت، نہ سوال۔
بھابھی سیڑھیوں سے گرے یا پنکھے سے لٹک جائے۔۔۔ مریں یا جئیں۔۔ اسے کیا فرق پڑتا تھا؟
اسے تو دنیا کی کسی شے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔
پھر بھی
وہ خاموش نظروں سے کائنات کو دیکھتا رہا— جیسے اس کی بات کا منتظر ہو۔
کائنات کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، پھر اچانک رخ موڑ لیا۔ دوبارہ کتاب پر نظریں جما دیں، جیسے بات وہیں ختم ہو چکی ہو۔
زیدان چونکا۔ کیا ہوا؟
بولو نا، آگے…؟
کائنات نے بنا دیکھے کہا، رہنے دیں۔
آپ کو ویسے بھی میری بات سننی نہیں ہے۔
زیدان نے ذرا سنجیدگی سے کہا،
میں تو انتظار کر رہا تھا کہ تم آگے بولو گی۔
کائنات نے کتاب بند کیے بغیر جواب دیا،
ہاں، مگر آپ نے خود تو کچھ نہیں کہا۔
نہ یہ کہ ‘ہاں بولو’
نہ یہ کہ ‘ہاں وہ کیسے گر گئی۔؟’ کُچھ بھی۔۔
زیدان نے قدرے بے زاری سے کہا،
تم مجھے بتا رہی تھیں نا
کہ بھابھی سیڑھیوں سے کیسے گریں…؟
کائنات نے فوراً سر اٹھایا۔ نہیں…
وہ تو میں آپ سے پوچھ رہی تھی۔
زیدان نے کندھے اچکائے۔ مجھے کیسے پتا ہوگا؟
میں تو اپنے کمرے میں تھا۔
کائنات نے مایوسی سے سر ہلایا، ہاں میں بھی اپنے کمرے میں ہی تھی…
چند لمحے کی خاموشی کے بعد زیدان بولا،
ویسے اتنی سوچنے والی بات نہیں ہے یہ۔
حادثہ ہوا ہے۔
اُن کا پاؤں پھسل گیا ہوگا…
اور وہ گر گئیں۔
کائنات نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
ہاں…لیکن پری…؟
یہ کہتے ہوئے وہ اچانک رک گئی۔ جیسے کسی بات نے اسے ایک دم یاد دلا دیا ہو۔
مجھے پری کو دیکھنا پڑے گا۔۔۔
وہ چونک کر بولی۔
وہ بھی تو وہیں کھڑی تھی…
کہیں رو تو نہیں رہی…؟
یہ کہتے ہی وہ بستر سے اٹھی، جلدی سے چپل پہنی، اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
زیدان بس اسے اٹھتے، اور جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔
اور سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔
++++++++++++
کائنات جب پری کے کمرے میں داخل ہوئی تو پری کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی ویڈیو گیم کھیل رہی تھی۔
اس کی انگلیاں تیزی سے کی بورڈ پر چل رہی تھیں، آنکھیں اسکرین میں گڑی ہوئی تھیں۔
کائنات آہستہ سے اس کے قریب جا کر رکی۔
پری… تم ٹھیک ہو؟
پری نے فوراً گیم روک دی اور پلٹ کر کائنات کی طرف دیکھا۔ چہرے پر کوئی گھبراہٹ نہ تھی۔
ہاں، کیوں؟ کیا ہوا؟
کائنات نے ایک لمحہ اسے غور سے دیکھا، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے کہا، نہیں… کچھ نہیں۔
تم گیم کھیلو…
یہ کہہ کر وہ واپس پلٹ گئی۔
+++++++++++
زارا جب دعا کو اس کے کمرے میں چھوڑ کر نیچے اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا تو میٹر ہی ہائی ہو گیا۔
اس کے بستر پر دائم بڑے اطمینان سے دراز تھا، جیسے یہ کمرہ اسی کی ملکیت ہو۔
تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو؟!
زارا غصے سے بولی۔
دائم نے سکون سے چھت کو دیکھتے ہوئے جواب دیا، یہ تمہارا کمرہ ہے کیا؟
زارا نے فوراً کہا، ہاں!
اور نہیں تو کیا؟اپنے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر دیکھو میری تصویر رکھی ہے..
دائم نے سائیڈ ٹیبل سے فریم اٹھایا اور زارا کی تصویر کو غور سے دیکھنے لگا، جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔
پھر سنجیدگی سے بولا، فوٹو میں تو کافی چینج لگ رہی ہو تم…
تم ہی ہو نا؟
زارا کا پارہ مزید چڑھ گیا۔ بدتمیزی! اٹھو میرے بیڈ سے…
مگر وہ اس کی بات نظر انداز کر کے ابھی بھی تصویر گھور رہا تھا۔
لگتا ہے تصویر میں میک اَپ زیادہ کیا ہوا ہے،
اسی لیے شکل چینج ہو گئی…
زارا تیزی سے اس کے پاس آئی، اس کے ہاتھ سے اپنی تصویر جھپٹ لی۔
چلو، نکلو میرے کمرے سے..
دائم اب اٹھ کر بیٹھ گیا۔ تمہارا کمرہ نیچے تھا؟
تم نے بتایا کیوں نہیں؟
یہ کوئی بتانے والی بات نہیں تھی…
زارا نے جھنجھلا کر کہا۔
دائم کندھے اچکا کر بولا،
اچھا ٹھیک ہے، جو بھی ہو۔
لیکن اب میں جب تک پاکستان میں ہوں،
اسی کمرے میں رہوں گا۔
زارا نے غصے سے کہا۔
کیوں بھائی؟
تمہارے باپ کا ہے یہ کمرہ؟
نہیں،
دائم فوراً بولا،
میری کزن کا ہے۔
ہاں۔۔۔
زارا نے دانت پیستے ہوئے کہا،
اور اب یہی کزن تمہیں کہہ رہی ہے
کہ میرے کمرے سے دفع ہو جاؤ۔۔۔
دائم بالکل مطمئن لہجے میں بولا،
نہیں بھائی۔۔۔ یہ کمرہ نیچے ہے۔۔۔ اور میں نیچے ہی رہوں گا۔۔۔ نانی نے خود کہا ہے۔۔۔ کہ یہیں رہ لو۔۔
تو اب میں یہیں رہوں گا۔
زارا نے غصے سے کہا، اوپر جا کر رہو۔۔۔
دائم فوراً بولا، وہاں تم رہ لو۔
مجھے اب اس گھر کی سیڑھیوں سے ڈر لگتا ہے۔
کہیں کل میں گر گیا تو…؟
زارا نے اسے گھور کر دیکھا۔
تم واقعی پاگل ہو۔۔ یا بس بننے کا شوق ہے؟
دائم مسکرا کر بولا، اس سے آپ کو کیا؟
آپ کو تو سیڑھیوں سے ڈر نہیں لگتا نا؟
پھر آپ ہی میرے کمرے میں رہ لیں…
زارا کا صبر جواب دے گیا۔
تم میرے کمرے سے دفع ہو رہے ہو یا نہیں؟!
نہیں… نہیں…
دائم نے فوراً کہا۔
ویسے تمہیں بھی سیڑھیوں سے ڈر لگتا ہے کیا؟
جو سب بچوں کے کمرے اوپر ہیں
تو تمہارا نیچے؟کیوں ؟
پاگل، جاہل کہیں کے۔۔۔
زارا تقریباً چیخ پڑی۔
مجھے بار بار اوپر نیچے جانا پسند نہیں،
اسی لیے میں نے اپنا کمرہ نیچے لے لیا۔۔۔
دائم نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔۔۔
اچھا الرائٹ لیکن میں پھر بھی یہیں رہوں گا۔۔۔
زارا نے غصے میں آ کر اس کا کالر پکڑ لیا۔
اترو میرے بیڈ سے…
وہ اسے کھینچتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتارنے لگی۔ دائم بھی اس کے ساتھ گھسٹتا چلا آیا۔
ارے یار۔۔
تم تو گنڈا گردی پر اتر آئی ہو۔۔۔
اور عین اسی لمحے
دونوں کے پاؤں پھسل گئے۔
اگلے ہی پل دونوں ایک ساتھ بستر پر جا گرے۔
ایک طرف دائم اور دوسری طرف زارا۔
اسی لمحے دروازہ کھلا۔
زینب بیگم اندر داخل ہوئیں۔
یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں؟!
ان کی آواز غصے سے بلند ہو گئی۔
دونوں چونک کر فوراً سیدھے کھڑے ہو گئے۔
زارا گھبرا کر بولی، ماما! یہ
اسے میرا کمرہ کس نے دیا ہے؟
زینب بیگم نے سخت نظروں سے دونوں کو دیکھا۔
حد ہے۔۔ ابھی اگر کوئی اور میری جگہ ہوتا نا،
تو تم دونوں کو پتا چل جاتا۔۔
پھر زارا کی طرف دیکھ کر بولیں، اور تم؟
بچوں کی طرح کمرے کے لیے اس سے لڑ رہی ہو؟
زارا نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ بولنے نہ دیں۔
کچھ دنوں کی ہی تو بات ہے۔ اوپر زرتاشا کے کمرے میں رہ لو۔
لیکن ماما۔۔ زارا نے احتجاج کیا۔ ضد مت کرو۔۔۔
زینب بیگم نے دو ٹوک کہا۔
اور اوپر جاؤ۔۔۔۔چند دنوں کی بات ہے،
پھر یہ واپس چلا جائے گا۔
دائم نے فوراً ادب سے سر ہلایا۔ ہاں ہاں، بالکل۔
کچھ دنوں کی ہی بات ہے، زارو…
شٹ اپ۔۔۔
زارا نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
وہ غصے سے پاؤں پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
زینب بیگم نے اب دائم کی طرف دیکھا۔
ذرا سا خیال رکھنا یہاں۔۔یہ تمہارا لندن نہیں ہے۔۔۔
پاکستان ہے۔
دائم نے فوراً سنجیدگی اختیار کی۔ جی… مامی۔
زینب بیگم بھی کمرے سے نکل گئیں۔
کمرہ خاموش ہو گیا۔
اور دائم ایک لمحہ رکا، پھر دوبارہ اطمینان سے بستر پر لیٹ گیا۔
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
++++++++++++
شام کے وقت
ڈاکٹر نے پریشے کو ڈسچارج کر دیا تھا۔
اس کے پاؤں میں پٹی بندھی ہوئی تھی اور سر میں چوٹ کے باعث وہ خود سے ٹھیک طرح چل بھی نہیں پا رہی تھی۔
اسوان نے اسے سہارا دے کر اندر لایا اور سیدھا صوفے پر بٹھا دیا۔
کال کر دوں؟ امی ابو کو؟
پریشے نے فوراً سر ہلا دیا۔ نہیں…
ملازمہ کے بتانے پر رضیہ بیگم فوراً اپنے کمرے سے باہر آئیں۔
اَے!۔۔۔۔ یہ کیا ہوا تجھے۔۔۔
سیڑھیوں سے کیسے گری تھی؟
دیکھ کر نہیں اتر رہی تھی؟
پریشے نے دھیرے سے جواب دیا، دادی…
پاؤں پھسل گیا تھا میرا۔۔۔
رضیہ بیگم نے فکرِ مندی سے کہا
دھیان رکھنا چاہیے تھا نا…
تھوڑی ہی دیر میں ایک ایک کر کے سب لانچ میں جمع ہو گئے۔ ہر کوئی اس کا حال احوال پوچھ رہا تھا۔۔۔
میں فریش ہو کر آتا ہوں…
اسوان یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
حریم پھپو مسکراتے ہوئے بولیں، ویسے جو بھی ہو،
دلہن ہے تو پیاری…
عائشہ بیگم نے فوراً تائید کی۔ ہاں، آخری پسند جو اسوان کی ہے۔ وہ تو ہمیشہ اپنے لیے ڈائمنڈ ہی پسند کرتا ہے…
سب باتوں میں لگے ہوئے تھے۔ پریشے مسکرا رہی تھی، خاموشی سے سب کی باتیں سن رہی تھی۔
اسی دوران کائنات کو پتا چلا کہ پریشے گھر آ چکی ہے، تو وہ بھی اپنے کمرے سے نکل کر نیچے اس کے پاس آ گئی۔
کیسی طبیعت ہے آپ کی اب؟
اب بہتر ہوں…
پریشے نے جواب دیا۔
کائنات بھی وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
حریم پھپو نے مسکرا کر پوچھا، ویسے آپ کہاں غائب تھیں؟ اتنی دیر بعد دیدار کروایا…
کمرے میں تھی…
کائنات نے مختصر جواب دیا۔۔
عائشہ بیگم ہنس پڑیں۔ ہاں، یہ ضرور زیدان کے پاس ہی ہوں گی۔ وہ تو اس کی جان ہی نہیں چھوڑتا۔
ذرا سی اِدھر اُدھر ہو جائے۔۔ تو دیکھ لو…
دائم نے مسکرا کر کہا، ویسے زیدان کی دلہن بھی بہت پیاری ہے…
دعا نے فوراً کہا، ائی ایگری۔۔۔
I agree.
دائم نے ہنستے ہوئے اضافہ کیا، بھائی صاحب کے نصیب کھل گئے ہیں…
کائنات نے ابرو چڑھائے۔ میں آپ لوگوں کی کزن بھی ہوں شاید؟ اور میرا نام کائنات ہے؟
دائم نے معصومیت سے کہا، ہاں، ہمیں پتا ہے…
تو کائنات بولا کریں نا، یہ ‘زیدان کی دلہن’ کیا ہے؟
ارے، وہ تو بس ویسے ہی…
دائم نے بات ٹال دی۔
دعا نے شوخی سے کہا
By the way, who is more beautiful?
Let’s do voting.
دائم نے فوراً اعلان کیا
Of course, our cousin.
دعا نے فوراً اختلاف کیا
No, Parisha bhabhi is more beautiful.
پھر وہ حریم پھوپو کی طرف مڑی۔ ماما، آپ کو کون زیادہ پیاری لگ رہی ہے؟
حریم پھوپو مسکرا دیں۔ مجھے تو دونوں ہی…
دعا نے فوراً زارا کی طرف دیکھ کر کہا
And you, Zara…?
زارا نے فوراً جواب دیا، میں خود…
جل گئی… دائم نے ہنستے ہوئے کہا۔
ایکسکیوز می؟ زارا نے آنکھیں دکھائیں۔
می… می…
دائم نے فوراً سنبھلتے ہوئے کہا،
ویسے ہماری ایک اور کزن… سب سے بڑی والی…
اس کی بھی شادی ہو گئی نا…؟
يس، زرتاشا،
دعا نے جواب دیا۔
زینب بیگم نے یاد دلایا، ہاں، کل ہمیں اسی کے ولیمے میں جانا ہے…
دعا فوراً خوش ہو گئی۔
اوہ واو، نائس…
زیدان صاحب کو بھی کوئی بلا لاؤ…
دائم نے کہا سب موجود تھے یہاں وہ ہی نہیں تھا۔۔۔
زینب بیگم نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
اس کی تو بات ہی مت کرو، وہ نیچے آہی نہیں جائے۔۔۔
عائشہ بیگم نے بھی تائید کی۔
ہاں بیٹا، اسے رہنے دو۔
دعا نے منہ بنایا۔
He is so rude
زارا فوراً بولی،
ہاں، ہم سے ہی کام چلا لو۔ وہ کسی سے بھی نہیں ملتا۔
دائم نے فوراً اعتراض کیا۔
میں کوئی ‘کسی’ تھوڑی ہوں، اس کا کزن ہوں۔۔۔
زارا نے بے نیازی سے کہا، اس کے لیے تو تم بھی ‘کسی’ ہی ہو۔
دائم نے ناک سکوڑی۔ بھئی… نخرے۔۔۔
ہاں، جو بھی سمجھو، زارا نے منہ موڑ لیا۔
ابھی یہ سب ہنسی مذاق میں مصروف ہی تھے کہ پری سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئی۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کی نظر سیدھی پریشے پر جا ٹھہری۔
اور پریشے وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ پھر پری نے اپنی نظریں موڑ لی۔۔۔
پھرلوگ کب آئے؟ پری نے قریب آ کر پوچھا۔
حریم پھوپھو مسکرا دیں۔ کافی دیر ہو گئی ہمیں آئے ہوئے۔ تم کہاں تھیں؟
کمرے میں… گیم کھیل رہی تھی۔ مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں، پری نے ہلکے سے شکوے میں کہا۔
دائم فوراً بولا، اب پتا چل گیا نا…
دعا نے پیار سے پوچھا،
How are you, Pari
I am good,
پری نے سادہ سا جواب دیا۔
اسی دوران پریشے نے صوفے سے اٹھنے کی کوشش کی۔ مجھے اب کمرے میں جانا ہے…
عائشہ بیگم فوراً بولیں،
ہاں ہاں، تم جاؤ اپنے کمرے میں۔ ہم نے تمہیں باتوں میں ہی لگا لیا،
رضیہ بیگم نے بھی کہا، اے ہاں، تو جا…
دائم نے فوراً کہا۔۔۔
چلا تو جا نہیں رہا آپ سے۔۔۔ سیڑھیاں کیسے چڑھے گی؟اسی لیے میں کہتا ہوں۔۔۔
وہ اپنا جملہ پورا بھی بھی کر پایا تھا کہ زارا بیچ میں بول پڑی، کہ گھروں میں سیڑھیاں ہونی ہی نہیں چاہئیں۔۔۔
دائم نے انگلی اٹھا کر کہا،
That’s my girl…
سمجھ گئی۔۔۔
شٹ اپ، پاگل کہیں کے۔۔۔ زارا نے غصے سے کہا۔
دعا ہنس پڑی اور بولی..
Oh ho, what’s the big issue?
Just call her husband, that’s it.
پریشے نے فوراً انکار کیا۔
نہیں، میں خود ہی آہستہ آہستہ چلی جاؤں گی…
عائشہ بیگم نے فوراً ٹوک دیا۔
ارے بیٹا، بیٹھ جاؤ۔ ابھی ہسپتال سے آئی ہو۔
میں اسوان کو ابھی بلاتی ہوں…
دائم فوراً بولا،
ارے اب آپ سیڑھیاں چڑھیں گی؟ کہیں آپ بھی گر گئیں تو؟ یہیں سے ہی آواز دے دیں…
یہ کہتے ہوئے وہ صوفے سے اٹھا اور سیڑھیوں کے پاس جا کر رک گیا۔
پھر پوری آواز میں چلایا، اسوان بھائییی…؟
اوپر سے فوراً تیز، کھردری آواز آئی،
مر گئےےےے۔۔۔
دائم چونک گیا۔ آنکھیں پھیلا کر سب کی طرف دیکھا۔
یہ کون تھا…؟
اسوانوبارہ زور سے بولا، اسوان بھائی…۔۔
مرپر سے پھر وہی آواز آئی، مر گئےےے۔۔۔
ابے کون ہے بے؟! دائم پھر چیخا۔
لاؤنج میں بیٹھے سب لوگوں کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ پھیل گئی۔
ابےر سے آواز آئی، ابے دفع ہو بے۔۔۔
دائم نے سر کھجاتے ہوئے کہا، اس کی آواز تو مجھ سے بھی زیادہ تیز ہے…
زینب بیگم نے سنجیدگی سے کہا، ہاں، اس کا روز کا کام ہے چیخنا۔
ہیں…؟
دائم نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
اتنے میں اسوان کمرے سے نکلا اور سیڑھیاں اترنے لگا۔
کیا ہوا…؟
دائم نے فوراً پوچھا، آپ چیخ رہے تھے کیا…؟
اسوان نے حیرانی سے کہا، میں کیوں چیخوں گا…؟
پھر کون تھا؟ دائم نے سوال کیا۔
زیدان… اسوان نے مختصر جواب دیا۔
اوہ…اس کی آواز میں تو واقعی دم ہے…
اسوان نے بے نیازی سے کہا،
صرف آواز میں ہی دم ہے… وہ نیچے آ چکا تھا۔
اب بتاؤ، آواز کیوں دے رہے تھے؟
دائم نے فوراً پریشے کی طرف دیکھتے کہا
یار، ذرا اپنی بیوی کا خیال کرو۔ نیچے چھوڑ کر بھاگ گئے ہو اسے…
کیوں؟ کیا ہوا؟
اسوان نے فوراً پریشے کی طرف دیکھا۔
عائشہ بیگم نے تنبیہ کی۔
اوپر لے جاؤ اسے اب۔ آرام کرے گی۔ ابھی ہسپتال سے آئی ہے…اور تم اسے یہاں بٹھا کر چلے گئے تھے…
اسوان نے فوراً وضاحت دی۔
چینج کرنے گیا تھا، آ گیا ہوں چینج کر کے…
وہ پریشے کے پاس آیا اور نرمی سے بولا،
چلو…
++++++++++++
پریشے کے بار بار انکار کے باوجود اسوان اسے اپنے کمرے میں لے آیا تھا۔
رات کا کھانا ہو چکا تھا،
گھر آہستہ آہستہ خاموشی کی چادر اوڑھ چکا تھا۔
سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کے لیے جا چکے تھے۔۔
کہ تب پری اسوان کے کمرے میں داخل ہوئی۔
اندر آتے ہی اس کی آواز میں خفگی تھی۔
آپ انہیں اپنے کمرے میں لے آئے…؟
اسوان نے سادہ سے انداز میں جواب دیا۔
ہاں۔ ماما کے پاؤں میں چوٹ لگی ہے نا، وہ بغیر سہارے کے چل نہیں سکتیں۔ ابھی انہیں کیئر کی ضرورت ہے۔
پریشے خاموشی سے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ باپ بیٹی کی گفتگو دیکھ رہی تھی۔۔
بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ سنے۔
اچھا… پری نے کچھ سوچ کر کہا، میں بھی یہیں سو جاؤں؟
اسوان نے چونک کر پوچھا۔ کیوں؟
ویسے ہی… پری نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔
آج دل کر رہا ہے آپ کے ساتھ سونے کا۔
اچھا، آ جاؤ۔ مجھے بھی تم سے بات کرنی ہے، اسوان نے فوراً کہا۔
کیا بات ہے بابا؟
پری بیڈ پر چڑھ کر اسوان اور پریشے کے درمیان بیٹھ گئی۔
اسوان کا لہجہ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔
تم نے پریشے کو سیڑھیوں سے دھکا دیا تھا؟
پریشے نے دل ہی دل میں کہا
لو… اب میرے سامنے ہی اس سے بات کرنے لگے۔۔۔
کہیں پھر یہ مجھے ہی غلط نہ سمجھ لے…
بابا… پری ذرا گھبرا گئی۔
پھر فوراً پلٹ کر غصے سے پریشے کو دیکھا۔
آپ نے بتا دیا نا؟
پریشے نے سکون سے جواب دیا۔
تو کیا نہیں بتانا تھا۔۔۔؟؟
پری کا غصہ اور بڑھ گیا۔ اس نے منہ موڑ لیا۔
بابا… یہ مجھے پسند نہیں۔۔۔ پلیز آپ سمجھیں نا…
یہ جہاں سے آئی ہیں۔۔۔وہیں واپس بھیج دیں۔
میں انہیں برداشت نہیں کر سکتی۔
اسوان نے گہری سانس لی۔
تم نے برداشت کرنے کی کوشش کب کی ہے، پری؟
پریشے نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔
ان سے نہیں ہو گا…
وہ آہستہ سے لیٹ گئی اور منہ دوسری طرف موڑ لیا۔
میں سونے لگی ہوں۔ آپ لوگ آہستہ بات کریں…
ہنہ… ڈرامے باز، پری نے بڑبڑایا۔ دیکھ لیں بابا۔۔یہ بلکل بھی اچھی نہیں ہیں۔۔۔
اسے چھوڑو، میری بات سنو، اسوان نے سخت لہجے میں کہا۔ میں نے تمہیں سب کچھ بتایا تھا، پھر بھی تم نے ایسا کیوں کیا؟
کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں۔۔۔ پری نے ضد سے کہا۔
تم اسے ایک موقع دو، شاید پسند آ جائے،
اسوان نے نرمی سے سمجھایا۔
بابا… وہ روہن سی آواز میں بولی۔۔۔
دیکھو… اسوان نے تحمل سے کہا،
میں اسے یہاں نکاح کر کے کس لیے لایا ہوں۔۔؟؟ تُمہارے لیے۔۔۔
نہیں، آپ اپنے لیے لائے ہیں، پری نے فوراً خفکی کہا۔
چلو، یہ بھی ٹھیک۔ اپنے لیے بھی… اور تمہارے لیے بھی،
اسوان نے بات سنبھالی۔
لیکن ہمیں کسی کی ضرورت نہیں تھی، پری نے پھر ناگواری سے کہا۔
کیوں؟ اسوان نے سوال کیا۔ جب کائنات، زارا یا زرتاشہ
روتی ہوئی اپنی ماں کے پاس جاتی ہیں۔۔۔ تو کیا تمہیں بھی اپنی ماما یاد نہیں آتی؟
نہیں… پری نے فوراً جواب دیا۔
اسوان ہلکا سا مسکرایا۔
مجھے پتا ہے، پری۔ تم مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی۔ بس ایک دفعہ اسے موقع دے دو۔
مجھے کسی ماما کی ضرورت نہیں۔ اور نہ آپ کو۔
ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے کافی ہیں،
پری نے ضدی لہجے میں کہا۔
تم پریشے سے نفرت کرتی ہو؟
اسوان نے سیدھا سوال کیا۔۔ یہ ایسے نہیں مانے گی اب اُسے کوئی اور طریقہ اپنانا پڑے گا۔۔۔ لیکن اُسے جیسے بھی کر کے اج رات اُسے سمجھنا ہی تھا کہ آئندہ وہ پریشے کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرے۔۔۔اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے،
ہاں…پری نے فوراً کہا۔
کیوں؟
کیونکہ میرے منع کرنے کے باوجود
آپ انہیں یہاں لے آئے۔
اب تو لے آیا نا؟ اسوان نے گہری آواز میں کہا۔
اب اسے خوش قسمتی سمجھو یا بدقسمتی—
یہ اب تمہاری ماما۔۔۔ اور میری بیوی بن چکی ہے۔
سوتیلی ماما… پری نے دانت پیس کر کہا۔
اور میری دوسری بیوی، اسوان نے واضح کیا۔
ہاں تو…؟ سوتیلی ہی سہی، لیکن اب یہ تمہاری ماما ہے۔ اور ہم اپنی چیزوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔
اب اُس نے اپنا دوسرا طریقہ اپنایا تھا۔۔۔ جس سے پری اُسے قبول تو نہیں کرے گی ہاں۔۔ یہ ضرور ہوگا کہ وہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔۔
اپنی… چیزوں کو؟ پری چونکی۔
نکاح نامہ دکھاؤں کیا؟ تم اس کے ساتھ ظلم کرو،
جان سے بھی مار دو۔۔۔لیکن یاد رکھنا۔۔۔ تم اپنی ہی چیز کو نقصان پہنچاؤ گی۔
ابھی اسے سیڑھیوں سے دھکا دیا…
تو کون گیا ہسپتال۔۔۔؟؟
آپ… پری نے آہستہ کہا۔
اور ہسپتال کا خرچہ کیا نے دیا۔۔۔
اپنے۔۔۔
اور اب خیال کون رکھ رہا ہے؟
آپ…
تو ذمہ داری کس کی ہوئی؟
آپ کی…
تو پھر یہ ہماری ہوئی یا نہیں؟
پری نے غور سے اسوان کو دیکھا۔ اب اسے بات سمجھ آ رہی تھی۔
اگر انہیں کچھ ہو گیا۔۔تو کسی کو فرق نہیں پڑے گا،
پری نے آہستہ کہا۔
ہاں، فرق کس کو پڑے گا؟ اسوان نے پوچھا۔
آپ کو…
ہمیں فرق پڑے گا، اسوان نے ٹھہر کر کہا۔
میری بیوی۔۔۔اور تمہاری ماما کو۔ تم مانو یا نہ مانو،
یہ اب بن چکی ہے۔۔۔ تمہاری ماما۔
ہاں ہاں… پری نے بے دلی سے کہا۔
تو اب…؟ اسوان نے سوال کیا۔۔۔
ٹھیک ہے، سمجھ گئی۔ اب میں انہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گی، پری نے ہار مان لی۔
ہم اپنی چیزوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، اسوان نے دوبارہ کہا۔
ہاں… پری نے سر ہلایا۔اسی لیے زیدان چاچو بھی کائنات کو کچھ نہیں کہتے۔ کیونکہ وہ ان کی بیوی ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا۔۔ کہ انہیں بھی کائنات پسند نہیں تھی…۔لیکن وہ اس کی بیوی ہے،۔اس کی چیز ہے…تو وہ انہیں نقصان نہیں پہنچاتے،
پری نے فوراً کہا۔
ہاں بابا،۔۔۔ میں سمجھ گئی… میں اب انہیں نقصان نہیں پہنچوں گی۔۔۔
گڈ گرل… اسوان نے نرمی سے کہا۔
اب آنکھیں بند کرو۔۔۔ اور سو جاؤ…
پریشے نے دل ہی دل میں کرب سے سوچا
چیزیں…؟
ہم اپنی چیزوں کو نقصان نہیں پہنچاتے…
یہ سمجھایا ہے؟
استغفراللہ!
کیا میں کوئی چیز ہوں؟
کائنات بھی چیز ہے…؟
یا صرف عورت ہونا ہی ان سب کے نزدیک
ایک ملکیت ہے…؟
ہائے اللہ…
میں کہاں آ کر پھنس گئی ہوں۔۔۔
باپ، بیٹی، چچا…
سب ایک جیسے ہیں،
خودغرض۔۔
ہائے اللّٰہ ایسا میں نے کونسا گناہ کردیا تھا جو ان کے بیچ پھس گئی میں۔۔۔۔
کیسا نکلو اب یہاں سے کہاں جاؤں۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں تڑپتی روتی سوچ رہی تھی۔۔۔
جو کچھ اُس کے ساتھ ہُوا تھا یہ کیا تھا۔۔ سزا، آزمائش یہ پھر تقدیرِ۔۔۔؟؟
++++++++++
کائنات الماری سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی۔۔
کہ اچانک پلٹ کر زیدان کی طرف دیکھا۔
آپ جائیں گے…؟
زیدان بیڈ پر بیٹھا موبائل میں مصروف تھا۔
اس نے نظر اٹھا کائنات کو دیکھا پھر فون سائیڈ پر رکھا۔ اور پوچھا۔
کہاں؟
ولیمے میں… کائنات نے فوراََ جواب دیا۔۔۔
کس کا ولیمہ؟
زرتاشا کا…
زیدان نے ایک لفظ میں جواب دیا۔
نہیں…
کائنات نے ذرا سا توقف کیا۔
اچھا… لیکن میں جاؤں گی۔
کیوں؟ مت جاؤ۔ زیدان نے سپاٹ لہجے میں کہا
دل چاہ رہا ہے۔
اور ویسے بھی دعا اور دائم۔۔ ضد کر رہے ہیں۔
بھابھی تو نہیں جا سکیں گی، تو
ہاں، تم کرلو سب کا خیال۔۔۔
زیدان نے طنزیہ انداز میں کہا۔
کائنات نے ہمت کر کے کہا،
آپ بھی میرے ساتھ چلیں نا…
نہیں، میں کسی کا خیال نہیں رکھ سکتا،
اس کا لہجہ بے حد سپاٹ تھا۔
اچھا، نہ کریں، کائنات نے ضبط سے کہا۔
لیکن میں جاؤں…؟
زیدان نے اسے گھور کر دیکھا۔
میں کہوں تو رک جاؤ گی؟
کائنات چونکی۔
آپ مجھے روکیں گے کیوں؟
ویسے ہی… میری مرضی،
اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
کائنات کا دل بے ترتیب دھڑکا۔
اچانک اسے وہ لمحہ یاد آ گیا
جب اس نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔ اُس کا دماغ گھوم گیا۔۔۔ وہ غصے سے فوراََ بولی۔۔۔
ایک تھپڑ مار دوں گی میں… بدتمیزی نہیں…
کیا…؟ زیدان نے اُسے گھورتے پوچھا۔
کُ… کچھ نہیں… وہ فوراً سنبھل گئی۔
مجھے کپڑا نہیں مل رہا۔۔۔ نیچے سے لے آتی ہوں…
یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
پیچھے رہ گیا تھا زیدان اور اس کے لبوں پر وہی مدھم سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
+++++++++++++
وہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔.
اس کا سوٹ آف وائٹ رنگ کا تھا۔ فراک کے اگلے حصے پر سنہری کڑھائی اور بھرا ہوا کام تھا، جس میں پھول دار نقش واضح تھے۔ آستینیں لمبی تھیں، ان پر بھی اسی انداز کی سنہری کڑھائی بنی ہوئی تھی۔
نیچے لمبی فراک تھی، جس پر ہلکے سنہری بوٹے بنے ہوئے تھے۔ گھیر کافی زیادہ تھا فراک کے کنارے پر موٹا سنہری بارڈر لگا ہوا تھا۔ دوپٹہ ہلکے کپڑے کا تھا، اسی رنگ میں، جس پر باریک کام اور سنہری بارڈر موجود تھا۔
اس نے آہستہ سے بالوں کی ایک لٹ درست کی، کانوں میں جھلملاتے جھمکے ہلکے سے بجے۔ کلائیوں میں بندھی چوڑیاں اس کی حرکت پر دھیمی آواز میں بول اٹھیں۔ آنکھوں میں ٹھہرا سکون اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی،
وہ ابھی مکمل تیار ہوچکی تھی، اور بے حد پیاری بھی لگ رہی تھی۔۔۔ لیکن آج تک اُس نے خود پر کبھی اتنا غور نہیں کیا تھا۔۔ کہ وہ واقعی ایک خوبصورت حسن رکھنے والی لڑکی تھی۔۔۔
اس کے حسن کی تعریف تو سب ہی کرتے تھے، لیکن وہ کبھی انہیں خاطر میں نہ لاتی۔ اس کی نظر میں حسن کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ اصل میں دل صاف ہونا چاہیے۔۔۔ دل میں محبت اور خلوص ہونا چاہیے۔
چہرے کے لحاظ سے تو سب ہی چہرے خوبصورت ہیں جنہیں اللہ نے بنایا ہے، لیکن اصل خوبصورتی کردار میں ہوتی ہے، سوچ میں ہوتی ہے اور دل کی سچائی میں ہوتی ہے۔
وہ اب پوری طرح تیار ہوکر پیچھے مُڑی تو زیدان اب تک ویسے کا ویسا ہی سویا پڑا تھا۔ وہ پچھلے تین گھنٹوں سے سو رہا تھا۔ جب وہ کمرے سے گئی تھی..پھر بہت دیر بعد واپس آئی تو وہ سو رہا تھا۔۔۔
پھر اُس نے تھوڑی سی پڑھائی کی، پھر تیار ہونے لگی۔۔ اور وہ اب تک سو رہا تھا۔۔۔
وہ اس کے پاس اس خیال سے گئی کہ شاید وہ جاگ گیا ہو، یا بس لیٹا ہوا ہو ۔۔۔ اسے زیدان کو بتانا تھا کہ وہ جا رہی ہے، لیکن وہ بدستور اونگھتا پڑا تھا۔
عجیب ہی تھا وہ بندہ۔ سارا دن گھر میں کیسے پڑا رہ سکتا تھا؟ نہ آفیس جاتا تھا، نہ کسی کام کا پتا۔۔ نہ ہی زیادہ دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا۔۔۔
کائنات نے یاد کیا، ہاں البتہ وہ ہر روز ناشتہ کرنے کے بعد کہیں ضرور جاتا تھا، کبھی جلدی، کبھی دیر سے۔ پھر ایک دو بجے کے قریب کھانے کے وقت واپس آتا تھا، پھر اسے کھانا چاہیے ہوتا تھا، اور کھانا کھانے کے بعد پھر سویا پڑا رہتا تھا۔
شام کے وقت باہر چلا جاتا تھا، لیکن جلد ہی واپس آ جاتا تھا۔ پھر گھر میں ہی پڑا رہتا، یا تو سوتا رہتا یا فون چلاتا رہتا۔ اور پھر اچانک کسی دن دورہ چڑھتا تو ساری رات باہر گزار لیتا۔۔۔۔
کائنات کا دل کیا کہ اسے اٹھا دے، لیکن پھر اسے یاد آ گیا کہ جب بھی اسے سوتے ہوئے کوئی جگاتا تھا تو وہ کتنا غصہ کرتا تھا۔ اگر اسے غصہ آ گیا تو وہ کچھ بھی کر بیٹھتا تھا، اسی لیے نہ اٹھانا ہی بہتر سمجھا۔
اَسوان بھائی تو جا ہی نہیں رہے تھے، اس لیے وہ اَسوان بھائی کو بتا کر چلی جائے گی کہ جب زیدان اٹھے تو وہ اسے بتا دیں۔
یہ سوچ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔
ولیمہ کی تقریب میں سب ہی کے جانے کا ارادہ تھا۔ پریشے تو جا نہیں سکتی تھی، اسی لیے اسوان نے بھی جانے سے انکار کر دیا۔ مریم بیگم جب سے ہسپتال سے آئی تھیں، انہیں ہلکا سا بخار ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ بھی نہیں جا رہی تھیں۔ اور نہ ہی زیدان جانے والا تھا۔
باقی گھر کے سب ہی افراد جا رہے تھے۔ دو گاڑیاں بُک ہوئی تھیں۔ ایک گاڑی میں رضیہ بیگم، عائشہ بیگم، زینب بیگم اور حریم بیگم بیٹھی تھیں، جبکہ دوسری گاڑی میں تمام بچے؛ دائم، دعا، زارا، کائنات اور پری شامل تھے۔۔۔
اور دونوں گاڑی اپنے سفر کو روانہ ہوگئی۔۔۔۔
++++++++++++
ولیمہ ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ داخلی دروازے پر پھولوں کی آرائش کی گئی تھی، سفید اور سنہری رنگ نمایاں تھے۔ مہمان آہستہ آہستہ آ رہے تھے، کوئی سلام دعا میں مصروف تھا تو کوئی اسٹیج کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ہادی نے آف وائٹ شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ قمیض سادہ اور نفیس سلائی میں تھی، جبکہ شلوار قرینے سے استری شدہ تھی۔ اس کے اوپر اس نے سی گرین رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا، جو شلوار قمیض کے ساتھ خوب جچ رہا تھا۔ کوٹ کی کٹنگ سادہ مگر باوقار تھی۔ بال سلیقے سے بنے ہوئے تھے اور داڑھی ہلکی تراشی ہوئی تھی،
زرتاشا نے سی گرین رنگ کا بھاری کام والا لباس پہنا ہوا تھا۔ قمیص پر چاندی اور ہلکے سنہری رنگ کی کڑھائی تھی، جس میں باریک نقش واضح تھے۔ دوپٹہ اسی رنگ کا تھا، بھاری کام کے ساتھ سر پر اوڑھا ہوا تھا، کناروں پر نفیس بارڈر لگا تھا۔ نیچے گھیر دار لہنگا تھا، جس پر پورا کام پھیلا ہوا تھا۔ زیورات ہلکے مگر مکمل تھے، ماتھے پر جھومر اور کانوں میں جھمکے تھے۔
اسٹیج کے پیچھے آئینوں اور پھولوں کی سادہ مگر خوبصورت سجاوٹ تھی، جس پر روشنی پڑتے ہی عکس بکھر رہے تھے۔ ہادی اور زرتاشا ساتھ بیٹھے مہمانوں کو خوش دلی سے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کوئی تصویر بنوا رہا تھا تو کوئی دعائیں دے رہا تھا۔
خواتین زرتاشا کے لباس اور اس کی نفاست کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکیں، بچے اسٹیج کے قریب آ کر رک جاتے، کبھی مسکرا کر دیکھتے اور پھر ہنستے ہوئے پیچھے ہٹ جاتے۔
ولیمہ کی تقریب اپنے عروج پر تھی، اور اسٹیج پر بیٹھا جوڑا اس خوشی کا مرکز بنا ہوا تھا۔
جب زینب بیگم اسٹیج پر زرتاشا کے پاس آئیں تو زرتاشا نے پوچھا،
بابا آئے ہیں کیا؟
زینب بیگم نے کہا، ہاں آئے تو ہیں، لیکن کونے میں بیٹھے ہیں۔ وہ دیکھو۔
زینب بیگم نے آنکھوں کے اشارے سے دکھایا۔ عدنان صاحب فیضان صاحب کے ساتھ ہی بیٹھے تھے، اور وہ دونوں ابھی ابھی آئے تھے۔
زرتاشا نے دھیمی آواز میں کہا، بابا خوش ہیں؟ ابھی بھی ناراض ہیں
زینب بیگم نے اسے تسلی دی، ہاں ناراض تو ہیں، لیکن تم فکر نہ کرو، جلد ہی مان جائیں گے۔ جب تمہیں وہ اپنے گھر میں خوش دیکھیں گے۔
زرتاشا نے آہستہ سے کہا، آئی ہوپ…
ولیمہ کی تقریب میں سب ہی بیٹھے خوش تھے، سوائے کائنات کے۔ وہ خوش نہیں تھی۔ اسے یہاں آنا نہیں چاہیے تھا، لیکن پھر بھی وہ آ گئی تھی۔ اب اس کے لیے خود کو سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
اسی دوران ارسم کائنات کے پاس آ گیا۔
کیسی ہو کائنات؟
کائنات نے آہستہ سے جواب دیا، میں اچھی ہوں، آپ کیسے ہیں؟
ارسم کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ میں تو اچھا نہیں ہوں۔
کائنات نے چونک کر دیکھا۔ کیا مطلب؟
مطلب تم اچھی ہو، میں بس ٹھیک ہوں، اچھا نہیں ہوں۔
کائنات نے بات بدلتے ہوئے کہا، سب ہی اچھے ہوتے ہیں۔۔
ارسم نے سر ہلایا۔ کہنے کی باتیں ہوتی ہیں۔ اور تمہاری میرجڈ لائف کیسی جا رہی ہے؟ خوش ہو؟
کائنات نے نظریں جھکا لیں۔ اچھی جا رہی ہے۔
ارسام نے دوبارہ پوچھا، اور پڑھائی؟
وہ بھی اچھی جا رہی ہے۔
نائس۔
کائنات نے ہلکے سے پوچھا، اب آپ زیادہ گھر نہیں آتے ہیں؟ کیوں؟
ارسم نے سادہ لہجے میں کہا، بس آفس کی مصروفیت ہے۔
کائنات نے کہا، پہلے بھی آپ آفس کی مصروفیت کی وجہ سے ہی آتے تھے شاید؟
ارسم نے اثبات میں سر ہلایا۔ ہاں، جب کام ہوتا تھا اسوان بھائی کے ساتھ۔ اب نہیں ہوتا ان کے ساتھ کام۔
اچھا۔۔۔
کائنات نے سر ہلایا۔۔
اور ارسم یہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔۔۔ وہ اب اپنی نظر اس لڑکی پر نہیں ڈال سکتا تھا یہ لڑکی اب اُس کی نہیں رہی تھی۔۔۔
تقریب اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ کھانا پینا ہو چکا تھا، اور سب ہی اب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے تھے۔۔
جب زینب بیگم نکلنے لگیں تو زرتاشا نے انہیں روک لیا کہ وہ ان کے ساتھ جائے گی۔ دعا اور دائم یہ سن کر خوش ہو گئے۔ ایک گاڑی میں آدھے لوگ پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے۔ اب ہادی اپنے ماما بابا کو لے کر نکل رہا تھا، جبکہ زرتاشا دعا اور دائم کے ساتھ تھی، زینب بیگم بھی انہی کے ساتھ تھیں، اور پری بھی۔
دعا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا،
Did Kainat and Zara leave?
زینب بیگم نے جواب دیا، ہاں، وہ دونوں اماں کے ساتھ پہلے ہی نکل گئی ہیں۔
دائم نے مسکراتے ہوئے کہا، چلو پھر ہم بھی نکلتے ہیں۔ ویسے دلہے صاحب، ابھی بھی موقع ہے، روک لو، ہم آپ کی دلہن کو لے کر جا رہے ہیں۔
ہادی نے بے فکری سے کہا، لے جاؤ۔
دعا نے آنکھیں گھما کر کہا،
Oh wow, show some interest at least.
ہادی ہلکا سا مسکرایا۔ کچھ دنوں کے لیے تو لے کر جا رہی ہو، واپس میرے پاس ہی آئے گی۔
دائم نے شرارت سے کہا، پھر بھی دو تین دن مس نہیں کریں گے آپ اسے۔
ہادی نے سادگی سے جواب دیا، میں کال کر لوں گا۔”l
دعا نے فوراً کہا،
Forget it, you are such an unromantic groom.
اسی دوران ارسم نے ناگواری سے دعا سے کہا، مجھے پتا چلا ہے کہ آپ لندن سے آئی ہیں، اردو میں بھی بات کر سکتی ہیں آپ۔
دعا نے فوراً کہا،
I don’t know Urdu.
دائم ہنستے ہوئے بولا، جھوٹی ہے ایک نمبر کی۔
دعا نے جھڑک کر کہا، شٹ اپ۔۔۔۔
ارسم نے ناگواری سے کہا، آپ اردو میں بات کر لیں گی تو آپ ہمیں کھا تو نہیں جائیں گی۔۔
دعا نے بے زاری سے کہا،
I don’t like Urdu.۔۔
I don’t like to talk to you.
وہ ناگواری اور بے بیزاری کے عالم میں کہتا تیزی سے ان سب کے بیچ سے نکل گیا۔۔۔
دعا نے پاؤں پٹخا اور جھنجھلاہٹ بھرے لہجے میں بولی،
Rude! When did I even talk to him?
دائم ہنستے ہوئے بولا، مزہ آیا۔
وہ دعا کو چھیڑتے ہوئے ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا۔
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا، جانے دو، تم دل پر نہ لو۔
دعا نے سر ہلایا۔۔۔اور پھر سب ہی ہال سے نکل گئے۔
+++++++++++
جب دعا، دائم، زرتاشا اور پری ہنسی مذاق کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو ان کے شور کی آواز زیدان کے کانوں تک جا پہنچی۔ تین بج رہے تھے اور وہ لوگ ابھی آئے تھے، جس پر زیدان کو سخت غصہ آ رہا تھا۔
وہ کمرے سے نکل آیا۔ سب لوگ نیچے جمع تھے.. ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔
کائنات کہاں ہے؟
وہ ریلنگ پر کھڑے ہو کر چلّایا۔۔
زینب بیگم نے فوراً کہا، کمرے میں ہوگی۔
زیدان کی آواز اور بلند ہو گئی۔ وہ ابھی تک آئی نہیں۔۔۔
دائم نے حیرت سے کہا، نہیں، وہ تو آ گئی تھی، بہت پہلے ہی۔
زیدان نے غصے میں کہا، چماٹ مار دوں گا۔۔۔
زینب بیگم نے دوبارہ یقین دلایا، ہاں، وہ پہلے ہی آ گئی تھی۔
زیدان نے چیختے ہوئے کہا، میں کہہ رہا ہوں کہ وہ نہیں آئی۔ کہاں ہے وہ؟
پھر وہ زور سے چلّایا، کائنات! کائنات۔۔۔
یہ سوچ کر کہ اگر وہ گھر میں کہیں ہوگی تو نکل آئے گی۔
لیکن وہ باہر نہ آئی۔ البتہ اس کی آواز پر گھر کے سب ہی لوگ کمروں سے باہر آ گئے۔ عائشہ بیگم، مریم بیگم، رضیہ بیگم، حریم پھپھو۔۔۔ اسوان، زارا۔۔ سب جاگ چکے تھے۔
گھر میں اچانک ایک بے چینی سی پھیل گئی۔
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
