کیا میں بھی لکھاری بن سکتا/سکتی ہوں؟
اُردو آرٹیکل بقلم: عائشہ آفتاب
اسلام و علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
کیا میں بھی لکھاری بن سکتی ہوں؟
یا کیا آپ بھی لکھاری بن سکتے ہیں؟
اکثر لوگ اپنے اندر لکھنے کا شوق محسوس کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا میں واقعی لکھ سکتا ہوں ؟
سچ بتاؤں تو میں اس موضوع پر لکھتے ہوئے بہت الجھن میں تھی۔ لیکن مجھے لکھنے کا شوق کیسے ہوا؟
جب میں پانچویں جماعت میں اسکول کی طالبہ تھی ۔ تب ہماری ایک نئی اُردو کی ٹیچرآئی تھی، کلاس میں آتے ہی انھوں نے ہمیں ایک کاغذ اور قلم دیا اور کہا کہ سب بچے اپنے بارے میں اس کاغذ پر لکھ کر دو اس طرح ہمارا ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا تعارف بھی ہو جائے گا۔
ہم سب یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کیونکہ ہماری اردو بہت زیادہ کمزور تھی۔ ہم نے ٹیچر سے پوچھا کہ ہم اپنے بارے میں کیا لکھیں؟
تو ہماری ٹیچر نے جواب دیا: جو تم سب کو پسند ہے جو نا پسند ہے تم لوگ اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہو؟
کیا بننا چاہتے ہو؟
سب اس میں لکھ دو۔ اور سب سے پہلے اپنا نام لکھو۔ خیر اپنی ٹیچر کی بات مانتے ہوئے میں نے اور سب بچوں نے لکھنا شروع کر دیا اور میں کب اپنے بارے میں اتنا لکھتی گئی کہ وہ کاغذ ختم ہوگیا اور مجھے آگے لکھنے کیلئے ایک اور کاغذ کی ضرورت پڑ گئی۔ میں نے ٹیچر سے کاغذ مانگا تو سب بچوں کی نظریں میری طرف اُٹھی۔
میری دوست نے تو سب سے پہلے مجھ سے پوچھا ایسا کیا لکھ رہی ہو تم جو تمھیں ایک اور کاغذ چاہیے؟
اب ٹیچر میری طرف آئیں اور انھوں نے کہا کہ لاؤ دکھاؤ کیا لکھا ہے تم نے؟۔
یہ سن کر میں تو ڈر گئی کہ اب جو کچھ میں نے اپنے بارے میں لکھا ہے وہ ٹیچر خود بھی پڑھیں گی اور میری لکھی ہوئی آپ بیتی اب پوری کلاس بھی سنے گی۔ جیسے جیسے ٹیچر میرا لکھا ہوا پڑھ رہی تھی میرا دل کر رہا تھا کہ میں یہاں سے غائب ہو جاؤں۔ پورا پڑھنے کے بعد ٹیچر نے میری طرف دیکھا اور کہا تم بہت اچھا لکھتی ہو ۔
بس یہ ایک جملہ کافی تھا میرے لیے۔میں نے پہلی دفعہ جب لکھا تھا تو کسی خاص موضوع یا کسی کہانی ، کوئی آرٹیکل کسی کے بارے میں نہیں لکھا تھا۔ میں نے سب سے پہلے اپنے بارے میں لکھا تھا۔ کیونکہ لکھاری بننے کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی، ہاں جس ٹوپک پر لکھ رہے ہوتے ہیں اُس کے بارے میں معلومات ہونا ضروری ہوتا ہے۔
اگر آپ بھی لکھاری بننا چاہتے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ آپ کوئی خاص کہانی لکھیں یا آپ کچھ بہت بڑا لکھیں۔ آپ سب سے پہلے خود کے بارے میں بھی لکھ سکتے ہیں جو آپ نے اپنی زندگی سے سیکھا ، اور جو آپ نے دوسروں سے سیکھا یا جو آپ سیکھ رہے ہیں۔
آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کا مشاہدہ کریں ، اُن سے سیکھیں اور پھر اُس پر لکھیں۔لکھنا ایک لمبا سفر ہوتا ہے۔ آپ اپنا پہال لفظ لکھتے ہی کوئی مشہور لکھاری نہیں بن جاتے۔
اور یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ جو لکھ رہے ہیں وہ بالکل پرفیکٹ کہانی ہوں آپ کی لکھی ہوئی تحریر میں کوئی غلطی ہی نہ ہو۔ ہر کہانی میں کچھ نہ کچھ کمی رہ ہی جاتی ہے ۔ ہر لکھاری غلطیاں کر دیتا ہے اور ایک اچھا لکھاری وہ نہیں ہوتا جو غلطی ہی نہیں کرتا بلکہ ایک اچھا لکھاری وہ ہوتا ہے جو غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ضروری بات یہ ہے کہ آپ اپنے ارادے کو مضبوط رکھیں ۔
اگر آپ ایک لکھاری بننا چاہتے ہیں تو کوئی چیز آپ کو نہیں روک سکتی ۔ آپ کے لکھے ہوئے الفاظ آپ کی پہچان بنتے ہیں اور آپ لکھاری تب بنتے ہیں جب آپ اپنے الفاظ پر دل سے یقین کرتے ہیں۔ اگر آپ دل سے لکھتے ہیں تو آپ بھی لکھاری بن سکتے ہیں۔
شکریہ۔
ختم شدہ۔
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
