Antal Hayat Last Episode written by siddiqui

انت الحیاۃ ( از قلم صدیقی )

باب اول : تُم میری محبت کی آخری وارث ہو آخری قسط۔۔۔۔

امن کے گھر آج خاصا شور برپا تھا۔ لانج میں سب لوگ جمع تھے اور فضا میں ایک عجیب سی ہلچل تھی۔ بوتیک والے آئے ہوئے تھے، ایک سے بڑھ کر ایک ڈیزائنر سوٹ دکھائے جا رہے تھے۔ رنگ، کڑھائی، کپڑا ہر چیز میں نفاست جھلک رہی تھی۔
یہ بات نہیں تھی کہ کسی کو کچھ پسند نہیں آ رہا تھا، بلکہ مسئلہ تو یہ تھا کہ سب کو کچھ نہ کچھ پسند آ ہی چکا تھا۔ مگر مشکل یہ تھی کہ کوئی بھی ایک ہی سوٹ پر متفق ہونے کو تیار نہیں تھا۔
سارا بیگم اور جنید صاحب نے اپنی پسند کا ایک الگ سوٹ منتخب کر رکھا تھا۔ تیمور صاحب، رخسار بیگم اور نہا بیگم کی رائے کچھ اور تھی؛ وہ تینوں ایک اور سوٹ کو بہترین قرار دے چکے تھے۔ ادھر آمنہ بیگم اور منتہا بیگم نے بالکل مختلف سوٹ پسند کر لیا تھا۔
اور رہی بات باقی بھائیوں کی، تو وہ سب بھی اپنی اپنی پسند کے سوٹ الگ الگ منتخب کر چکے تھے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہر کوئی اپنی پسند کو حتمی ثابت کرنے میں لگا تھا۔
لانج میں بحث زور پکڑتی جا رہی تھی۔
امن یہ والا پہنے گا۔۔۔
نہیں، اس پر تو دوسرا زیادہ جچے گا۔۔۔
ہر آواز میں اپنائیت بھی تھی اور ضد بھی،

جنید صاحب نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا
بس، اب مزید بحث نہیں کرو۔ امن کو بلا لیتے ہیں، وہ جس سوٹ پر ہاتھ رکھے گا، وہی فائنل سمجھا جائے گا۔

سارا بیگم نے فوراً تائید کی۔
ہاں، یہ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔
سب نے اس فیصلے پر رضامندی ظاہر کی۔ یوسف جلدی سے اٹھا اور تقریباً دوڑتا ہوا امن کے کمرے کی طرف گیا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ امن کو ساتھ لیے دوبارہ لانج میں نمودار ہوا۔ سب کی نظریں ایک ساتھ امن پر جا ٹھہریں،
امن نے سب کے چہروں پر چھائی سنجیدگی اور پھیلے ہوئے سوٹس کو دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔
کیا ہوا؟ آپ لوگوں نے سوٹ پسند کر لیا؟

دانیال فوراً بول پڑا
ہاں بھائی، یہ دیکھو، یہ میں نے اور یوسف نے پسند کیا ہے۔
دانیال نے سوٹ اٹھا کر امن کی آنکھوں کے سامنے کیا۔ آف وائٹ رنگ کی ہیوی ایمبرائیڈرڈ شیروانی تھی، جو بے حد ایلیگنٹ اور کلاسک لگ رہی تھی۔ اس کے ساتھ میچنگ اسٹریٹ پینٹس تھیں۔۔

ابھی امن کچھ کہتا کہ ازلان جھٹ سے بولا
ابے ہٹ چل، تیری پسند ہی بکواس ہے۔ بھائی، میری دیکھو۔۔۔
اس نے اپنا پسند کیا ہوا سوٹ آگے کیا۔ سفید بلیزر، اس کے ساتھ سفید شرٹ، ڈھیلی اسٹائل میں بلیک بو ٹائی، کمر پر بلیک کمر بند اور نیچے بلیک پینٹس تھیں۔۔۔

ارسل نے فوراً مداخلت کی۔
ہو گیا دکھا دیا؟ اب ہماری باری ہے۔
اس نے اپنا سوٹ اٹھا کر دکھایا۔
یہ ارحم اور میری پسند ہے۔
وہ سادہ شلوار قمیض تھی، جس کے اوپر سبز رنگ کا خوبصورت کڑھائی والا کوٹ تھا۔

ازلان ناک چڑھا کر بولا
ہٹ جا، ہر جگہ اپنا گرین کلر گھسا دیتا ہے۔

امن نے مسکراتے ہوئے نظریں گھمائیں۔
اور زاویار، تم دکھاؤ؟
زاویار نے خاموشی سے اپنا سوٹ آگے کیا۔ انتہائی سادہ گرے رنگ کا کوٹ پینٹ تھا۔۔۔

امن نے بھنویں اچکائیں۔
اتنا سادہ؟

زاویار فوراً بولا
کیوں، تم دلہن ہو؟

امن نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔
نہیں، میرا مطلب تھا ایسا سوٹ تو میں روز پہنتا ہوں۔

زاویار نے کندھے اچکائے۔
روز بلیک بلیک پہنتے ہو، انگیجمنٹ میں گرے پہن لو۔

ابرار فوراً بولا
بھائی، اس سے مت پوچھو، اس کی پسند بہت بیکار ہے۔

زاویار نے گھورتے ہوئے کہا
چپ رہو۔

امن نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا
اور؟

سارا بیگم نے فوراً سب کو نظر انداز کیا اور اپنے ہاتھ میں لیا ہوا سوٹ امن کی طرف بڑھایا۔
تو یہ دیکھ، سب کو چھوڑ۔
لائٹ بیج رنگ کا ایمبرائیڈرڈ شیروانی کوٹ تھا، جس پر فلورل اور لیف پیٹرن کی نفیس کڑھائی کی گئی تھی۔ اندر میچنگ پلین کرتا تھا، جس کا نیک لائن سادہ مگر نہایت ایلیگنٹ تھا، اور نیچے اسٹریٹ بیج ٹراؤزرز تھیں۔
اس کے بعد تیمور صاحب نے بھی اپنا پسند کیا ہوا سوٹ امن کو دکھایا، پھر آمنہ بیگم اور منتہا بیگم نے بھی اپنی اپنی پسند پیش کر دی۔

سارا بیگم نے فیصلہ کن انداز میں پوچھا۔۔
اب بتاؤ، کون سا پسند آیا ہے؟

جنید صاحب نے بھی بات آگے بڑھائی۔
ہاں، تم جو کہو گے، وہی سب فائنل کر لیں گے۔

امن نے ایک لمحہ سوچا، پھر بولا
آپ لوگوں میں سے کسی نے بلیک کلر کا سوٹ نہیں دیکھا؟

سارا بیگم نے فوراً تڑخ کر کہا
اَے! مار ڈالیں گے ہم اگر ادھر بلیک کو بیچ میں گھسایا تو۔۔۔

امن فوراً نرم لہجے میں بولا
دادی…

دانیال ہاتھ جوڑ کر بولا
بھائی، معاف کر دو بلیک کو، اس کی جان چھوڑ دو۔
یوسف نے بھی ساتھ دیا۔
ہاں نا بھائی، کیا ہر دفعہ بلیک بلیک، جان چھوڑ دو بلیک کی۔

ازلان نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔۔
سب سوٹ آگے لگا دو، اب کچھ نہیں ہو سکتا، یہ پہنے گے وہی بلیک۔

ابرار نے گہری سانس لی۔
اسی لیے میں نے کوئی سوٹ پسند ہی نہیں کیا تھا، مجھے پتا تھا یہی ہونا ہے۔

زاویار جھنجھلا کر بولا
میرا ٹائم ضائع کروا دیا۔

آخر میں جنید صاحب نے سخت لہجے میں کہا
اَے! ان سب میں سے کوئی ایک پسند کر لو، بس… بات ختم۔

امن نے تھکے ہوئے مگر سنجیدہ لہجے میں کہا
میں اگر کوئی ایک بھی پسند کر لوں تو دوسرے کا دل ٹوٹ جائے گا۔

آمنہ بیگم نے فوراً بات کاٹ دی۔
کسی کا دل نہیں ٹوٹے گا، تمہیں مہان بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

ابرار نے سیدھی بات کہی۔
بھائی، صاف صاف کہہ دو۔ تمہیں کوئی رنگ گوارا ہی نہیں، بلیک کے علاوہ تمہیں خود کو کسی اور رنگ میں دیکھنا پسند نہیں آتا۔

امن نے اسے گھورتے ہوئے کہا
چپ…
پھر سب کی طرف دیکھ کر نرم لہجے میں بولا
آپ سب پلیز کوئی بلیک کلر کا ہی سوٹ پسند کر لیں نا۔

دانیال فوراً بولا
بھائی نہیں، بس میرا والا پہنو۔

رخسار بیگم نے بھی تائید کی۔
ہاں، بلیک سے بہتر تو تم یہی والا پہن لو۔

امن نے سر ہلاتے ہوئے کہا
یہ بہت ہیوی ہے، یہ میں شادی میں پہن لوں گا۔

زاویار نے ناگواری سے کہا
بھائی، ان کو پہنا دو بلیک۔ یہ بلیک کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔

یوسف شرارت سے بولا
بھابی کو کال کرو اور ابھی کہو اس انسان سے منگنی توڑیں۔

امن چونک گیا۔
ارے؟

دانیال نے خفکی نے کہا
ہاں، ختم ختم، منگنی ختم۔

امن نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا پھر میں بلیک شادی میں پہن لوں گا۔۔

ازلان چیخ پڑا۔
نہیںییی! یہ غضب نہ کرو۔۔۔

دانیال نے بے بسی سے کہا۔
کیا یار بھائی…

امن نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کرایا۔
ہاں، دیکھو، میں بتاتا ہوں۔
وہ ایک ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
یہ تمہارا والا سوٹ بہت ہیوی ہے، یہ میں بارات میں پہن لوں گا۔ زاویار والا بہت سادہ ہے، یہ میں ڈیٹ فکس میں پہنوں گا۔ ابرار والا ولیمے میں۔ ارحم اور ارسام والا مایوں میں۔ اور دونوں چھوٹی ماما والا ڈھولکی میں پہن لوں گا۔۔ اور دادا دادی والا نکاح میں پہن لوں گا۔

دانیال نے ناراضی سے کہا
ایک ہی وقت میں سب نمٹا دیا، شادی میں کیا کرے گے؟

یوسف نے سر ہلاتے ہوئے کہا
یہ کیا بات ہوئی بھائی؟

امن نے اطمینان سے جواب دیا
بس، یہ ٹھیک ہے، سب سلیکٹ کر لو… اور ایک بلیک بھی پسند کر لو۔

ازلان نے بے بسی سے کہا
بلیک پہنا ہے لیکن…

ارحم نے بات سنبھالتے ہوئے کہا
چھوڑو یہ سب، ہم سب مل کر کوئی بلیک کلر کا ہی پسند کر لیتے ہیں، باقی شادی میں لڑ لیں گے۔

ارسل نے بھی تائید کی۔
ہاں، ابھی سب پسند نہیں کرو، کینسل کینسل… یہ بس منگنی کا آپشن تھا۔

سارا بیگم نے تڑخ کر کہا
اَے نااا!

امن بےبسی سے بولا
دادی، پلیز…

سارا بیگم نے غصے میں کہا
اَے جا، دفع ہو، اپنے کمرے میں ہی مر۔۔

جنید صاحب نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا
غلطی ہو گئی جو اسے بلا لیا، خود ہی ہم سب فیصلہ کر لیتے اور اسے ایک سوٹ پکڑا دیتے، وہی صحیح تھا۔

ازلان نے ہنستے ہوئے اضافہ کیا۔
ہاں، اب شادی میں بھی ایسا ہی کرے گا۔

اور امن، سب کی باتیں سنتا، مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد لانج میں پھر سے گہماگہمی شروع ہو گئی۔ اب سب بلیک کلر کے سوٹس پر ہی نظریں جما چکے تھے،

++++++++++++

۳۰ دسمبر ۲۰۲۵ رات سارے نو بجے۔۔۔۔۔
چاندنی ہال کی بڑی کھڑکیوں سے اترتی روشنی فرش پر دودھیا لکیریں بنا رہی تھی۔ سفید قمقموں کی نرم چمک میں گلاب اور موتیے کی خوشبو گھلی ہوئی تھی.. ہال میں آدھے مہمان آ چکے تھے، جبکہ باقیوں کی آمد کا سلسلہ اب بھی جاری تھا۔

اسٹیج پر امن خاموشی سے بیٹھا تھا۔ نفیس کٹ کا سادہ مگر شاہانہ سیاہ شیروانی اسٹائل کوٹ اس کے وجود پر خوب جچ رہا تھا لباس پر بکھری ہلکی سی شائن روشنی میں ٹھہر ٹھہر کر چمک اٹھتی، اور اندر پہنا ہوا ہموار سیاہ کُرتا اس کے انداز میں مزید سنجیدگی گھول رہا تھا۔ تراشی ہوئی داڑھی، سلیقے سے جَمے ہوئے بال، امن آج عام دنوں سے کچھ مختلف لگ رہا تھا۔

اس کے برعکس، ڈریسنگ روم میں ایک اور دنیا آباد تھی۔ حیات آئینے کے سامنے موجود تھی اس کے ساتھ امایا کھڑی تھی، کبھی مسکرا کر اُس سے بتاتے کرتی کبھی اُس کا بال، تو کبھی دوپٹہ ٹھیک کرتی۔۔۔ جبکہ عظمیٰ کبھی دروازے کی طرف جاتی، کبھی کسی کو آواز دیتی ،جیسے پورے انتظام کی ذمہ داری اسی کے کندھوں پر ہو۔

ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ امن کی فیملی ہال میں داخل ہوئی تھی۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی ماحول میں اور شور شامل ہوگیا تھا۔۔ نظریں اسٹیج کی طرف اٹھنے لگیں، سرگوشیاں بڑھنے لگیں، اور وقت آہستہ آہستہ اس لمحے کی طرف سرک رہا تھا جہاں دو زندگیاں ایک نئے رشتے میں بندھنے والی تھیں۔

رُخسار بیگم نے زنیب بیگم سے کہا
اچھا بھئی، اب حیات کو بلا لو تاکہ رسم پوری کی جائے۔

زینب بیگم نے فوراً تائید میں سر ہلایا۔
ہاں ہاں، بالکل۔
پھر انہوں نے اردگرد نظر دوڑائی اور عظمٰی کو آواز دی۔
عظمیٰ بیٹا، ادھر آؤ۔
عظمیٰ فوراً ان کے پاس چلی آئی۔
جاؤ بیٹا، حیات کو باہر لے آؤ۔

اوکے آنٹی، عظمیٰ مسکراتے ہوئے بولی اور پھر تیز قدموں سے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔

ڈریسنگ روم کا دروازہ کھولے عظمیٰ اندر آئی۔۔۔
اور اُس نے ہلکے سے مسکرا کر کہا،
چلو بھئی، اب دلہن کے باہر جانے کا وقت ہو چکا ہے۔

حیات نے جیسے سکھ کا سانس لیا۔
شکر… حیات تو یہاں بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی تھی۔ چلو، جلدی چلو۔

عظمیٰ نے فوراً ٹوکا،
ارے ارے، آہستہ! تم دلہن ہو، ذرا سنبھل کر۔

حیات نے آنکھیں گھمائیں،
ہاں ہاں، حیات کو پتا ہے

کمرے میں ہلکی سی ہنسی بکھر گئی۔ عظمیٰ نے آگے بڑھ کر اس کا دوپٹہ ٹھیک کیا، سر پر ذرا سا درست کیا، اور پھر حیات نے خود کو آئینے میں آخری بار دیکھا۔
وہ صرف تیار نہیں تھی۔۔۔
وہ ایک نئے رشتے، ایک نئی زندگی کی دہلیز پر کھڑی تھی۔
اور پھر،
دونوں نے ایک ساتھ دروازہ کھولا…
جہاں باہر روشنی، نظریں، اور قسمت اس کا انتظار کر رہی تھیں۔

وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلی تو لمحہ بھر کو سب کی نظریں حیات پر آ کر ٹھہر گئیں۔
وہ ہلکے گلابی اور سنہری جھلملاتے لہنگا فراک میں ملبوس تھی، جس کی قمیص پر نہایت باریک کڑھائی اس طرح پھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے بےحد صبر اور محبت سے خواب ٹانک دیے ہوں۔ نفیس کاریگری، نرم و لطیف کپڑا، اور نیچے پھیلتا ہوا گھیر ہر قدم کے ساتھ آہستہ آہستہ جنبش کر رہا تھا۔۔۔
اس کے سر پر رکھا دوپٹہ شفاف، ہلکے گلابی رنگ کا تھا، جس کے کناروں پر باریک سنہری گوٹے کا کام کیا گیا تھا۔
اس کے بال ہلکی ویوز میں کھلے ہوئے تھے، چہرے پر منگنی کے فنکشن کے حساب سے ہلکا سا میک اَپ تھا، اور لبوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ ٹھہری ہوئی تھی۔ہاتھوں میں مہندی رچی تھی، کلائیوں میں چوڑیاں تھیں، اور ان کے ساتھ ہی گجرے سجے ہوئے تھے۔۔۔

امن کی نظریں بھی اسی پر آ کر ٹھہر گئی تھیں۔
وہ لمحہ، جس کے بارے میں امن کو یقین تھا کہ عام سا ہی ہوگا—کہ وہ آئے گی، وہ اسے انگوٹھی پہنائے گا، اور بس۔ آخر وہ تو روز ہی اسے آفس میں دیکھتا تھا۔
مگر نہ جانے کیوں، اچانک وہ لمحہ غیرمعمولی بن گیا۔
وہ اُسے دیکھ کر، اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر، کبھی اپنے ہوش نہیں گوائے تھے۔ نہ ہی وہ اس کے حسن کا دیوانہ ہوا تھا۔۔ نہ ہی اُس کی خوبصورتی کی وجہ سے اُس کے محبت میں گرفتار ہُوا تھا۔۔
لیکن اس لمحے، اسی ایک لمحے میں، وہ اسے نہ جانے کیوں آج دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی لگ رہی تھی۔
خوبصورتی کا کیا کام محبت میں،
محبت جس سے ہو جائے
اُسے خود بخود
خوبصورت بنا دیتی ہے۔..

ابھی امن اسی منظر میں گم تھا کہ جیسے ہی حیات نے اسٹیج کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا، اس کا پاؤں مڑ گیا اور وہ پیچھے کی طرف لڑکھڑانے لگی۔ اگر اس کے دائیں بائیں امایا  اور عظمیٰ نہ ہوتیں تو شاید وہ گر ہی جاتی۔ دونوں نے فوراً اسے تھام لیا اور گرنے سے بچا لیا۔

کیا کر رہی ہو حیات، ذرا آرام سے… عظمیٰ نے گھبرا کر کہا۔
آہ… یار، حیات کا پاؤں مڑ گیا ہے۔ یہ سینڈل…حیات درد سے کراہتی ہوئی بولی۔

میں نے کہا بھی تھا سینڈل نہ پہناؤ اسے، اس سے چلا نہیں جاتا ہے۔۔۔
امایا نے عظمیٰ سے کہا

اچھا اب چلو، تھوڑی دیر کے بات تو ہے۔۔۔
عظمیٰ نے نرمی سے کہا

حیات نے دوبارہ قدم بڑھایا مگر اسی لمحے درد کی ایک تیز لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔
آہ… نہیں، حیات نہیں جا پا رہی۔

ہم نے پکڑا ہوا ہے نا، بس تین سیڑھیاں ہیں، پھر اسٹیج آ جائے گا، عظمیٰ نے حوصلہ دیا۔

تین ہی سیڑھیاں تو نہیں چڑھ پا رہی،

اسٹیج پر بیٹھا امن یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ابھی تک چڑھ کیوں نہیں رہی۔ اس نے حیات کا پاؤں مڑتے دیکھا تھا، اور پھر اُسے عظمٰی اور امایا نے سنبمال بھی لیا تھا۔۔ مگر وہ تینوں کیا بات کر رہی تھیں، یہ اس کی سماعت سے باہر تھا۔ وہ صرف حیات کے تاثرات سے سب سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

کیا ہوا حیات؟
زینب بیگم نے پیچھے بیٹھے بیٹھے فکر مندی سے پوچھا۔

کچھ نہیں آنٹی، امایا نے فوراً پیچھے مڑ کر کہا، پھر حیات کی طرف جھک کر آہستہ بولی، چلو بھی اب، ہمت کر ، سب دیکھ رہے ہیں، ڈراما مت کر، بےعزتی ہو رہی ہے۔

ہاں حیات، تھوڑی سی ہمت کرو، عظمیٰ نے بھی کہا۔

حیات کو درد ہو رہا ہے نا، حیات نہیں جا پا رہی، وہ تقریباً رونے کے قریب تھی۔

تبھی امن تیزی سے اپنی نشست سے اٹھا اور ان کی طرف بڑھا۔
کیا ہوا؟ آؤ، اس نے کہتے ہوئے حیات کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

حیات نہیں آ رہی، اس نے صاف انکار کردیا۔۔۔

کیوں؟ امن نے فوراً پوچھا۔

کیونکہ اس کا پاؤں مڑ گیا ہے، حیات کے بجائے امایہ نے جواب دیا۔

ہاں… اب حیات سے چلا نہیں جا رہا،

اچھا، اوپر تو اؤ۔۔۔ میں دیکھ لیتا ہوں، امن نے کہا۔

اوپر ہی تو حیات سے نہیں آیا جا رہا… درد ہو رہا ہے پاؤں میں، اس نے شکوہ کیا۔

امن نے کچھ نہ کہا۔ وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا، قریب رکھے ایک میز سے کرسی کھینچی۔۔

ارے، کیا کر رہا ہے؟؟ سارہ بیگم امن کو کُرسی کھینچتی فوراً بولیں۔

ایک منٹ دادی، امن نے مختصر جواب دیا۔
اس نے کرسی حیات کے پاس رکھی اور نرمی سے اسے بٹھا دیا۔
اب مجھے اپنا پاؤں دکھاؤ،
اردگرد بیٹھے لوگ حیرت سے امن اور حیات کو دیکھ رہے تھے۔

اسٹیج کے دوسری جانب امن کے سب بھائی کھڑے تھے۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس دانیال، یوسف، ابرار، زویار، اذلان، ارحم اور ارسل، سب ایک قطار میں یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔
دانیال نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
مبارک ہو بھائی لوگ، امن بھائی کی فیلڈنگ سیٹ ہو چکی ہے۔

سیٹ نہیں ہوئی، خود ہی سیٹ کی ہے… بڑے شوق سے، ابرار نے معنی خیز انداز میں کہا

اور وہ بھی میرے مشورے پر، زاویار نے فوراً کریڈٹ لیا۔

مجھے تو پہلے ہی پتا تھا کہ تیرے مشورے ایسے ہی ہوتے ہیں، اذلان نے طنزیہ نظر اس پر ڈالی۔

ایسے کیسے ہوتے ہیں؟ ارسل نے الجھ کر پوچھا۔

اذلان نے آنکھوں کے اشارے سے حیات کی طرف دیکھا،
ایسے…

کیسے؟ ارسل نے پھر پوچھا۔

مطلب بھابھی یار، ارحم نے ہنستے ہوئے بات واضح کی۔

کیا بھابھی؟ بھابھی تو اچھی ہیں، یوسف نے فوراً سنجیدگی سے کہا۔

بہت… دانیال نے معنی خیز انداز میں مُسکرا کر کہا

بس کرو تم لوگ، جو بھی ہیں اب یہ ہماری بھابھی ہیں، عزت دو انہیں۔۔۔ ارحم نے مصنوعی خفگی سے ٹوک دیا۔

بہت مشکل ہے، بھابھی والی کوئی بات نہیں ان میں، ابرار نے کندھے اچکائے۔

تم سب کیا بول رہے ہو؟ مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا، ارسل نے کنفیوز ہو کر کہا۔

بھا‌بھی کو گھر آنے دے، پھر سب خود سمجھ آ جائے گا، اذلان نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

کیا؟ ارسل نے آنکھیں پھیلا دیں۔

یہی کہ بھائی کی فیلڈنگ اب پوری طرح سیٹ ہو چکی ہے،
اذلان نے آخری جملہ فاتحانہ انداز میں ادا کیا۔

پھر امن نے جھک کر حیات کے پاؤں سے سینڈل اتاری، پھر اچانک ایک جھٹکے سے اس کا پاؤں موڑا۔ ایک تیز سی آواز آئی، جیسے ہڈی ٹوٹ گئی ہو۔

آہ! حیات کا پاؤں توڑ دیا۔۔۔۔ وہ چیخ اٹھی۔

اے کیا ہوا؟ سارہ بیگم پھر بولیں۔

کچھ نہیں دادی، بس اس کا پاؤں مڑا گیا تھا، امن نے اطمینان سے کہا۔
اس کے بعد اس نے سکون سے حیات کے پاؤں میں دوبارہ سینڈل پہنائی۔
اب کھڑے ہو کر دیکھو، کچھ نہیں ہوگا، اس نے یقین دلایا۔
اچھا؟
حیات نے ہچکچاتے ہوئے کھڑے ہونے کی کوشش کی، اور واقعی، درد غائب ہو چکا تھا۔
امن نے کرسی واپس اس کی جگہ رکھی، دوبارہ اسٹیج پر چڑھا، پھر مڑ کر حیات کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اس بار حیات نے بلا جھجھک، خوشی خوشی اس کا ہاتھ تھام لیا۔

یہ منظر جب ندیم صاحب کی آنکھوں نے دیکھا تو وہ آنکھیں بےاختیار نم ہو گئیں۔
دیر سے ہی سہی، مگر اب حیات کو ایک اچھا لائف پارٹنر مل چکا تھا۔
ندیم صاحب نے آہستہ سے سکون کی سانس لی اور دل ہی دل میں مطمئن ہو گئے کہ حیات اب
محض اُن کی ذمہ داری نہیں رہی تھی،
اب وہ کسی ایسے ہاتھ میں تھی
جو اسے تھامنا بھی جانتا تھا
اور سنبھالنا بھی۔

دونوں اب اسٹیج پر بیٹھ چکے تھے۔
تبھی حیات نے ذرا سا جھک کر امن کے کان میں سرگوشی کی،
میں آپ کو بتا دوں کہ اب آپ کو زیادہ اُڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حیات کو آپ اب بھی واہیات پرانے ہی لگتے ہیں۔

اچھا؟
امن نے ہونٹوں پر دبی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

ہاں، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ حیات یہ منگنی صرف اپنے بابا کی وجہ سے آپ سے کر رہی ہے۔ کسی غلط فہمی میں مت رہیے گا کہ آپ حیات کو اچھے لگنے لگے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔
وہ دبی دبی آواز میں، مگر پورے یقین سے بول رہی تھی۔

امن نے ایک لمحہ اس کی طرف دیکھا، پھر ہلکے سے سر ہلا دیا۔
ہاں… ٹھیک ہے، مان لیا۔ میں ایسے ہی گزرا کر لونگا۔۔۔

تھوڑی دیر بعد رسم شروع ہوئی۔
جنید صاحب نے انگوٹھی آگے بڑھائی۔
امن نے وہ انگوٹھی تھامی،
وہ مسکرایا،
حیات نے اپنا ہاتھ آگے کردیا۔۔۔
انگوٹھی اس کی انگلی میں پہناتے ہوئے امن نے بہت احتیاط برتی، جیسے صرف انگلی نہیں، کسی کی زندگی تھام رہا ہو۔
اور جب انگوٹھی اپنی جگہ پر ٹھہری، تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اب باری حیات کی تھی۔
اس نے انگوٹھی اٹھائی۔ ایک لمحے کو امن کی آنکھوں میں جھانکا، اور پھر آہستہ سے اس کے ہاتھ میں پہنا دی۔

ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا۔
قمقموں کی روشنی اور تیز لگنے لگی،
مسکراہٹیں پھیل گئیں،
مبارکباد کے جملے فضا میں گھلنے لگے۔

ہال میں موجود تقریباً ہر چہرے پر خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ سب مسکرا رہے تھے…
سب مطمئن تھے… سوائے ایک کے۔…
نتاشا۔
وہ ہال کے ایک کونے میں بیٹھی تھی،
چہرے پر جمے ہوئے بناوٹی سکون کے پیچھے
جلن کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی تھی۔
اس کی نظریں بار بار اسٹیج کی طرف اٹھتیں
اور ہر بار دل ہی دل میں حیات کو بددعائیں دیتی۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ کرے،
کوئی ہنگامہ، کوئی سازش، کوئی وار…
مگر وہ کیا کر سکتی تھی بھلا؟
سوائے جلنے کے،
سوائے حسد کے،
اور سوائے خود کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرنے کے۔
ادھر ایک اور چہرہ تھا…
جو خوشی کے اس شور میں بھی الجھا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
اور وہ چہرہ امایا کا تھا۔
حیات نے تو کہا تھا
کہ اس کی شادی اس کے باس سے ہو رہی ہے…
مگر امایا تو اب تک یہی سمجھتی رہی تھی
کہ حیات کا باس ابرار ہے۔
یہ کنفیوژن کافی دیر سے اس کے دماغ میں گھوم رہی تھی۔
آخرکار وہ خود چل کر
ابرار کے پاس آ ہی گئی۔

امایا نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا،
حیات کے باس تو آپ تھے نا؟

ابرار نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔
نہیں تو۔

امایا کی بھنویں مزید الجھ گئیں۔
پھر…؟

ابرار نے اسٹیج کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا۔
پھر جو دلہا ہے، وہی حیات کا باس ہے۔

امایا چونک گئی۔
تو پھر آپ…؟

ابرار نے مسکرا کر کہا،
آپ میرے آفس آئی تو تھیں۔

امایا نے فوراً بات جوڑی،
اوہ… تو آپ نے کہا تھا کہ آپ دونوں آفس کے باس ہیں…

ابرار نے سنجیدگی سے پوچھا،
میں نے ایسا کب کہا تھا؟

امایا نے چند لمحے سوچا،
پھر ہلکی سی شرمندگی کے ساتھ بولی،
اوہ… عجیب…

اس کی اس معصوم سی الجھن پر ابرار کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔

اسی لمحے امایا کی نظریں بےاختیار
دروازے کے قریب کھڑے ادھر اُدھر دیکھتے،
واضح طور پر الجھے ہوئے ایک اور لڑکے پر جا ٹھہریں۔
اس نے چونک کر آنکھیں پھیلائیں۔
اوہھ… وقاص۔۔۔

ابرار نے بھی اس کی نظر کا تعاقب کیا۔
دروازے کے پاس کھڑا وہ لڑکا اب اسے بھی صاف دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے ہلکی سی الجھن کے ساتھ پوچھا،
یہ کون ہے؟

امایا نے بنا رکے جواب دیا،
میرا فِیانسے۔
یہ کہتے ہی وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھ گئی۔

اور فِیانسے کا لفظ سنتے ہی
ابرار وہیں کا وہیں ساکت رہ گیا۔
ہال میں پھیلی خوشی، شور، ہنسی…
سب کچھ ایک لمحے کو اس کے لیے پس منظر میں چلا گیا۔
اس کی نگاہیں امایا کی پشت پر جمی رہ گئیں
جو وقاص کی طرف بڑھ رہی تھی۔..
نجانے کیوں،
دل کے کسی کونے میں
ایک انجانی سی چبھن نے سر اٹھایا۔
وہ خود ہی خود سے سوال کرنے لگا—
یہ احساس…
اب کہاں سے آ گیا تھا؟

ابرار نے بےاختیار مٹھی بھینچی۔
اسے خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی
کہ یہ دل میں اٹھنے والی الجھن کس بات کی تھی۔
امایا کی منگنی…
وہ تو ایک عام سی بات ہونی چاہیے تھی۔
پھر یہ بےنام سی کسک کیوں؟
اس نے نظر ہٹانے کی کوشش کی،
مگر نگاہیں پھر بھی دروازے کی سمت چلی جاتیں،
جہاں امایا وقاص کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔
وقاص نے چونک کر اسے دیکھا،
پھر مسکرا دیا۔
وہی مسکراہٹ
جو ابرار کو بلاوجہ کھٹکنے لگی۔

بہت دیر سے آئیں ہیں آپ،
امایہ نے خفکی سے اُس سے کہا

سوری۔۔۔
پھر وقاص نے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے کہا،
بہت بڑا فنکشن ہے۔

امایا نے ہاں میں سر ہلایا۔
ہاں… اس کے بابا کا دل تھا کہ سب اچھے سے ہو۔

ابرار کچھ فاصلے پر کھڑا
یہ سب دیکھ رہا تھا۔
وہ جانتا تھا۔۔۔۔
کہ اسے اس منظر سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔
مگر فرق پڑ رہا تھا۔
شاید اس لیے
کہ امایا کی ہنسی
کسی اور کے ساتھ دیکھنا
دل کو عجیب سا لگا تھا۔

اسٹیج کے قریب صوفوں پر امن کے سارے بھائی اس طرح بیٹھے تھے جیسے کسی غیر اعلانیہ محفل کا آغاز ہو چکا ہو۔ ایک صوفے پر ازلان اکیلا براجمان تھا، دوسرے پر ارحم بیٹھا تھا جبکہ امن کے برابر ارسل بھی موجود تھا۔ دانیال اور یوسف ازلان والے صوفے کے ساتھ ہی کھڑے تھے،
دانیال نے حیات کی طرف شرارتی سی مسکراہٹ اچھالی۔
بھابھی، ذرا غور سے دیکھ لیں ہم سب کے چہرے… میرا تو حسین چہرہ آپ پہلے ہی دیکھ چکی ہیں۔

یوسف فوراً بولا،
اور میرا بھی دیکھا ہوا ہے۔

دانیال نے اسے کہنی ماری۔
اوئے! سائیڈ پر ہو، انٹرو دینے دے، بھابھی کو۔۔

پھر اس نے ارحم کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ہیں ارحم… اور ان کے ساتھ جو بھائی کے پڑوس میں بیٹھا ہے، یہ ارسل ہے۔

ارحم اور ارسل نے بیک وقت کہا،
السلام علیکم بھابھی۔

حیات کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
وعلیکم السلام۔

دانیال نے فوراً اضافہ کیا،
یہ دونوں ٹوئنز ہیں، اوکے؟

پھر اس نے ازلان کی طرف رخ کیا جو پورے اطمینان سے صوفے پر قبضہ جمائے بیٹھا تھا۔
اور یہ جو کبیس صوفے پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے نا، یہ ہے نالائق، بےروزگار ازلان۔۔۔

ازلان تڑخ کر بولا،
ابے چپ کر! میں اپنا نام خود بتا سکتا ہوں۔

ارسل ہنستے ہوئے بولا،
رہنے دے، اب بتا ہی دیا اس نے۔

دانیال نے اچانک ادھر ادھر دیکھا۔
ویسے ابرار اور زاویار بھائی کہاں ہیں؟

امن نے سکون سے جواب دیا،
زاویار کیٹرنگ کے پاس ہوگا۔

ازلان نے طنز کیا،
ہاں، سب کو کھانا کھلا کر ہی آئے گا اب وہ۔۔۔
اتنے میں دانیال کی نظر دور کھڑے ابرار پر پڑی۔ اس نے اسٹیج سے ہی آواز لگائی، اور ایسی آواز کہ پورا ہال چونک گیا۔
ابرار بھائییی! یہاں آؤ۔۔۔
اور دانیال کی آواز ہو اور مطلوبہ شخص تک نہ پہنچے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اسپیکر جو فٹ تھا اُس کے آواز میں۔۔۔
ابرار نے مڑ کر دیکھا۔
ادھر آؤ۔۔۔۔ دانیال پھر چلایا۔
ابے جااا۔۔ ابرار نے منہ بنایا اور آگے بڑھ گیا۔
دانیال نے حیرت سے امن کی طرف دیکھا۔
عجیب بھائی ہیں، دیکھو ذرا۔۔۔
امن کے کہنے سے پہلے ہی حیات نے فوراََ کہا
چھوڑ دو اسے، حیات مل چکی ہے اس سے۔
ارحم چونکا۔
کب؟

آفس میں۔ ارحم نے فوراً سمجھتے ہوئے کہا،
تو جس سے ابرار کی بحث ہوئی تھی… وہ آپ تھیں؟

دانیال نے کہا
ہاں جی! اب پتا چلا تُجھے؟

ارحم نے کندھے اچکائے۔
ظاہر ہے، کسی نے بتایا تھوڑی تھا۔

ارسل نے تائید کی۔
مجھے بھی کسی نے نہیں بتایا۔

امن نے بات سمیٹتے ہوئے کہا،
بس، اب چھوڑو۔ اتنی سی بات پر بحث نہیں كرو۔

ارحم فوراً بولا،
ہم نے پکڑا کب ہے؟

دانیال نے دوبارہ حیات کی طرف توجہ کی۔
اچھا بھابھی، زاویار بھائی سے بھی آپ مل چکی ہوں گی۔ امن بھائی کے بعد سب سے بڑے وہی ہیں۔ امن اور زاویار میں بس ایک سال کا فرق ہے۔ پھر ابرار ہے،وہ بھی زاویار کے ہم عمر، دو تین مہینے چھوٹا۔

حیات نے دلچسپی سے پوچھا،
اچھا… اور؟

امن نے بھنویں چڑھائیں۔
تمہیں بہت انٹرسٹ ہے یہ جانے میں کون کتنا بڑا ہے؟

حیات نے فوراً جواب دیا،
ہاں تو! حیات بڑی بھابھی بننے والی ہے، سب کچھ پتا ہونا چاہیے۔

دانیال خوش ہو کر بولا،
سنیں پھر! ابرار کے بعد یہ دونوں، ارحم اور ارسل۔ پھر یہ خبیث ازلان۔ اس کے بعد میں، اور پھر یوسف۔ ہم دونوں میں بھی بس تین چار مہینے کا فرق ہے۔

حیات نے سر ہلایا۔
اچھا… اور تم دونوں کی عمر؟

تئیس۔

ہیں؟! حیات کے منہ سے بےساختہ نکلا۔

یوسف ہنسا۔ کیوں، کیا ہوا بھابھی؟

کچھ نہیں… کچھ نہیں۔

دانیال نے پلٹ کر سوال داغا۔
اور آپ کتنے سال کی ہیں؟

حیات نے فوراً سنجیدگی اوڑھ لی۔
حیات تم سب سے بڑی ہے، بس۔

دانیال نے آنکھیں تنگ کیں۔
تو… انتیس؟

ہاں ہاں، انتیس۔

امن فوراً بولا، جھوٹ مت بولو۔

حیات نے گھور کر دیکھا۔
آپ کو زیادہ پتا ہے میری عمر کا یا مجھے؟

یوسف نے معصومیت سے کہا،
بھابھی، بھائی بھی انتیس کے ہیں۔

ہیں؟! حیات نے چونک کر امن کو دیکھا۔
اتنے بڈھے ہیں آپ؟

دانیال نے مُسکراتے ہوئے کہا
اور جب تک شادی ہوگی نا، تب تک تیس کے ہو جائیں گے۔

حیات نے فوراً ہاتھ ہلایا۔
نہیں نہیں! کینسل کینسل! حیات کو اتنے بڈھے انسان سے شادی نہیں کرنی۔

بھابھی، آپ بھی بڈھی ہی ہیں، دانیال نے فوراً کہا۔

ہاں۔۔۔ یوسف نے ساتھ دیا۔

حیات نے آنکھیں نکالیں۔
حیات تم لوگوں کو کہاں سے بڈھی لگ رہی ہے، ہاں؟

دانیال نے کندھے اچکائے۔
عمر سے۔ ابھی تو آپ نے خود کہا آپ انتیس کی ہیں۔

حیات نے فوراً پلٹا کھایا۔
نہیں! حیات تئیس کی ہے۔

ازلان چونک گیا۔
ہیں؟ مجھ سے دو سال چھوٹی؟ اب میں بھابھی نہیں کہہ سکتا، سو سوری۔

حیات نے فوراً ہاتھ اٹھایا۔
ہاں بس، رشتہ ختم کرو، ختم، ختم

ارسل نے ہنستے ہوئے کہا،
بھائی، یہ تو اتنی سی بات پر رشتہ ختم کر رہی ہیں۔

حیات نے سنجیدگی سے جواب دیا،
یہ اتنی سی بات نہیں ہے۔

اور اسی لمحے، امنہ بیگم اور منتہا بیگم اسٹیج کی طرف بڑھی
امنہ بیگم نے ذرا خفگی سے سب کو دیکھا اور بولیں،
تم لوگوں کی ملاقات ہو گئی تو ہمیں بھی ملنے دو۔

منتہا بیگم نے فوراً تائید کی۔
ہاں بھئی، اب سب نیچے جاؤ۔ اور بھی مہمانوں کو ملنا ہے حیات سے۔۔۔۔

دانیال نے مصنوعی سنجیدگی سے حیات کی طرف دیکھا۔
لیجیے بھابھی، اب آپ ہماری منحوس رشتہ داروں سے ملیں۔
یہ کہتے ہوئے اس نے ازلان کے کندھے پر تھپکی ماری۔
چل، اٹھ! یہاں سے دفع ہو۔

ازلان نے آنکھیں گھما کر جواب دیا،
تو بھی ہو۔

دانیال نے فوراً کہا،
میں چلا گیا تو بھابھی کو انٹرو کون دے گا؟ میں تو اندر باہر، آگے پیچھے، ہر اینگل سے سب بتاؤں گا کہ کون کیسا ہے۔

یوسف نے ہنستے ہوئے ساتھ دیا۔
ہاں، اور میں بھی اس کی مدد کروں گا۔ تم سب جاؤ۔

ازلان نے بےزاری سے ہاتھ ہلایا۔
ابے جا، دفع ہو۔۔۔۔
اور یہ کہتے ہوئے وہ اسٹیج سے نیچے اتر گیا۔ ارحم اور ارسل بھی اس کے ساتھ ہی نیچے چلے گئے۔
دانیال نے اطمینان کا سانس لیا اور دوبارہ حیات کی طرف متوجہ ہوا۔
تو بھابھی، دادی اور دادا سے تو آپ مل چکی ہیں، اور سسر جی کو تو اچھی طرح جانتی ہی ہوں گی۔ اپنی پہلی ساس سے بھی مل چکی ہوں گی، لیکن میں دوبارہ انٹرو کرا دیتا ہوں۔ یار، امّاں کو تو بلا کر لاؤ؟

امنہ بیگم نے فوراً کہا،
ایسے ہی یہیں سے بتا دو۔ وہ ابھی نہیں آئیں گی، اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھ رہی ہیں۔

دانیال نے فوراً موقع لپکا۔
دیکھا بھابھی؟ آپ کو کتنی اچھی ساس ملی ہیں۔ بہت نرم مزاج، رشتہ داروں کا بڑا خیال رکھنے والی۔ بس گھر کے رسم و رواج اور کام کاج کے معاملے میں پوری دیسی ماما ثابت ہوں گی۔

حیات نے آہستہ سے کہا،
حیات کی ماما بھی ایسی ہی ہیں۔

اتنے میں نہا بیگم بھی اسٹیج کی طرف آ چکی تھیں۔
دانیال نے فوراً اعلان کیا،
اور یہ ہیں آپ کی دوسری نمبر والی ساس، نہا ماما۔ ہم سب انہیں ماما ہی کہتے ہیں۔

حیات نے ہلکا سا سر ہلایا۔
اچھا…
اسے بہت کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، مگر وہ پوری کوشش کر رہی تھی کہ سب ذہن میں بٹھا لے۔

دانیال نے جاری رکھا،
ان کو بس اپنے گھر اور اپنے بچوں سے مطلب ہے۔ رشتہ داروں کو زیادہ منہ نہیں لگاتیں، جو کہ بہت اچھی بات ہے۔

نہا بیگم نے بھنویں چڑھا کر کہا،
اور یہ بھی بتاؤ کہ کان کے نیچے لگا کر سیدھا بھی کرتی ہوں۔

دانیال نے فوراً منہ بنایا۔
ہوں! دانیال کو آج تک کوئی سیدھا نہیں کر سکا۔ بس اپنا وقت ضائع کرتی ہیں۔

منتہا بیگم نے فوراً کہا،
ارے بیٹا، میرے بارے میں بھی بتاؤ۔

دانیال نے ہاتھ اٹھایا۔
آپ صبر کریں، آپ سب سے لاسٹ ہیں۔

پھر فوراً بولا،
اور یہ ہیں ہماری امی، امنہ بیگم۔ تھوڑی سی بگڑی ہوئی ہیں۔

امن فوراً چونکا۔
کیا بول رہے ہو، دانیال؟

کیا بھائی، سچ ہی تو بول رہا ہوں۔ ان کا مزاج کسی سے نہیں ملتا۔ دانیال نے سادی سے کہا

امنہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا،
نہیں، ازلان سے ملتا ہے میرا مزاج۔

دانیال نے فوراً دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
معاف کریں۔۔۔۔
پھر تیزی سے بات بدلی۔
یہ ہیں ہم سب کی ممی۔ اور جیسے کہ بھابھی، آپ کو ان کی تیاری سے نظر آ ہی رہا ہوگا، عمر تو ہو چکی ہے، مگر جوانی جانے کا نام نہیں لیتی۔
دانیال ایک لمحہ رکا، پھر بولا،
باقی چھوٹی دادی آئیں گی تو ان سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔

حیات نے آہستہ سے کہا،
اچھا…
مگر اس کا دماغ اب بھی سب رشتوں کو ترتیب دینے کی کوشش میں الجھا ہوا تھا۔
اسی دوران نیچے کھانا لگ چکا تھا۔ مہمان آہستہ آہستہ اسٹیج سے اترنے لگے، اور پورا ہال مہمان نوازی کے شور میں ڈوب گیا۔

کُچھ دیر بعد۔۔۔۔۔
امان نے پہلو بدلتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا اور قدرے نرم آواز میں پوچھا،
بھوک لگی ہے تمہیں؟

حیات نے فوراً سر ہلایا۔ نہیں۔۔۔
امن چونکا۔ کیوں؟

حیات نے بالکل سنجیدگی سے جواب دیا،
کیونکہ حیات کو پتا تھا کہ حیات دلہن بننے والی ہے، اسی لیے پارلر جانے سے پہلے گھر سے بہت سارا کھانا کھا کر نکلی تھی۔

امن ہنس پڑا۔ تبھی میں سوچوں، تم شور کیوں نہیں مچا رہیں۔

حیات نے فوراً گھورا۔ زیادہ نہیں بولیں؟

امن نے مسکراتے ہوئے ہاتھ اٹھائے۔ اچھا بھئی، نہیں بولتا۔

حیات نے ایک نظر اسٹیج کے اردگرد ڈالی، جہاں اب کچھ ہی لوگ رہ گئے تھے۔
یہ سب حیات سے مل مل کر تو چلے گئے ہیں، لیکن حیات کو سمجھ نہیں آیا۔ اور آپ کے چچا وغیرہ کہاں ہیں؟ اور چھوٹی دادی کے شوہر؟

امن نے ذرا توقف کیا،
میں بتاتا ہوں۔ میرے دادا نے دو شادیاں کی تھیں۔ جو چھوٹی دادی تم سے مل کر گئیں نا، وہ میرے دادا کی دوسری بیوی ہیں، سلمیٰ جنید خان۔ ان کے دو بچے ہیں۔
حیات نے غور سے سنا۔
اور جو نتاشا سے ملی ہو نا؟

ہاں… حیات نے فوراً کہا۔

وہ ان کے بڑے بیٹے کی بیٹی ہے۔ اس کی بہن اور والدین دبئی میں ہیں، اس لیے یہاں موجود نہیں۔

اچھا، تو وہ اپنے دادا دادی کے ساتھ رہتی ہے؟

ہاں۔ اور زاویار کے والدین تم سے مل کر جا چکے ہیں۔

ہاں…

وہ دادا کے دوسرے بیٹے ہیں۔ اور ان کا ایک ہی بیٹا ہے، زاویار۔

حیات نے سر ہلایا۔
اچھا… اور آپ کے یہ سارے بھائی؟

امن نے ذرا آہستہ آواز میں کہا،
دادا کی پہلی بیوی، یعنی میری دادی، ان کا صرف ایک ہی بیٹا تھا… میرے ابو۔

حیات کو یہ بات پہلے سے معلوم تھی۔
ہاں، یہ تو حیات کو پتا ہے۔ تو یہ ساری امّیاں؟

امن نے سیدھا جواب دیا،
میرے ابو نے چار شادیاں کی ہیں۔

ہیں؟!
حیات جیسے کرسی سے اچھل پڑی۔ یہ محض حیرت نہیں تھا، یہ تو پورا جھٹکا تھا۔

امن نے نرمی سے کہا،
ہاں۔ اور ابھی تم جن سب سے ملی ہو نا، وہ سب میرے ابو کی بیویاں ہیں۔

اچھااا…
حیات کی آواز جیسے کہیں کھو گئی ہو۔

امن نے بات واضح کی،
جو تمہارے گھر آئی تھیں، وہ میری سگی ماں ہیں۔ اور میں ان کی اکلوتی اولاد ہوں۔ نہا ماما، ابرار اور یوسف کی سگی ماں ہیں۔ امنہ امّی، ارحم اور ارسل کی سگی ماں ہیں۔ اور منتہا ممی، ازلان اور دانیال
کی سگی ماں ہیں۔ اب سمجھ آئی؟

ہاں… حیات نے جواب تو دیا، مگر اس کا ذہن جیسے سن ہو چکا تھا۔ کہاں وہ، اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد، اوپر سے کوئی کزن بھی نہیں…
اور کہاں یہ، ایک پورا، پھیلا ہوا خاندان، رشتوں کی بھری ہوئی دنیا۔

کھانے پینے کے بعد تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ مہمان آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگے، اور ہال خالی ہونے لگا۔
ہر کوئی اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گیا،
اور حیات، دل میں سوالوں کا ایک نیا سلسلہ لیے،

+++++++++++++

دو دن بعد
گیارہ بجے کا وقت تھا جب حیات نے آئینے کے سامنے آخری نظر خود پر ڈالی۔ اس وقت وہ ہلکے پیلے رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس تھی، گلے پر ہلکا سا ڈیزائن بنا تھا۔ اسی کے ساتھ سیدھی شلوار اور اُسی رنگ کا دوپٹہ اس نے گلے میں ڈال رکھا تھا، اور کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھول کر باہر نکلی تو زینب بیگم کی تیز نگاہ فوراً اس پر جا ٹھہری۔
کہاں جا رہی ہو؟
زینب بیگم نے سوال کیا، مگر لہجے میں سوال کم اور تفتیش زیادہ تھی۔

حیات نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ شال کندھوں پر درست کی۔
بس… یہیں کہیں جا رہی ہوں،

زینب بیگم کی بھنویں تن گئیں۔
یہیں کہیں؟ یہ کون سی جگہ ہوتی ہے بھلا؟

حیات نے نظریں چرا لیں، جیسے سچ آنکھوں سے پھسل کر باہر آ جانا چاہتا ہو۔
واپس آ کر بتاؤں گی۔ بس آپ جلدی سے ناشتہ دے دیں، دیر ہو رہی ہے۔

زینب بیگم نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا۔
اچھا…
انہوں نے قدرے توقف کے بعد کہا،
بیٹھو۔
حیات نے سکون کا سانس لیا اور میز کے پاس آ کر بیٹھ گئی، مگر دل اب بھی بےچین تھا۔ وہ جانتی تھی، یہ یہیں کہیں دراصل ایک ایسے موڑ کی طرف جا رہا تھا جہاں سے واپسی شاید پہلے جیسی نہ ہو۔

تھوڑی دیر بعد وہ ناشتہ مکمل کر کے خاموشی سے گھر سے نکل گئی۔
آمن کے آفس کی عمارت میں قدم رکھتے ہی اس کے دل کی دھڑکن بےاختیار تیز ہو گئی۔
وہ سیدھی آفس کے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی۔
وہ ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ پیچھے سے ایک مانوس آواز نے اسے روک لیا۔

حیات…؟
حیات کے قدم یکدم رک گئے۔
اس نے پلٹ کر دیکھا، پھر آہستگی سے واپس کاؤنٹر کی طرف آ گئی۔
کیا ہے؟
اس کے لہجے میں عجلت نمایاں تھی۔

زارا نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
اتنی لیٹ؟

حیات نے ہلکا سا شانہ اچکایا۔
ہاں تو… حیات ابھی اٹھتی ہے۔

زارا مسکرا دی۔
لو، پھر سائن کرو۔
فائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے حیات نے بےدلی سے کہا،
جلدی کرواؤ، حیات کو جانا ہے۔
زارا نے فائل آگے کر دی۔ حیات دستخط کرنے لگی تو اچانک زارا کی نظر اس کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی پر جا ٹھہری۔
وہ لمحہ بھر کے لیے رک گئی۔
واو… تمہاری رِنگ کتنی پیاری ہے۔۔۔
اس کی آواز میں خالص حیرت تھی۔
ڈائمنڈ کی ہے؟
حیات نے نظر اٹھائے بغیر بس اتنا کہا،
ہمم…
اسی لمحے مایا بھی ان کی طرف متوجہ ہو گئی۔
مجھے بھی دکھاؤ نا۔
حیات نے خاموشی سے اپنا ہاتھ آگے کر دیا۔
مایا نے غور سے دیکھا، پھر چونک کر بولی،
تم تو رِنگز نہیں پہنتی تھیں… پھر یہ؟
زارا بھی فوراً بولی،
ہاں، پہلے تو میں نے تمہارے ہاتھ میں کبھی رِنگ نہیں دیکھی۔ نئی ہے نا؟
حیات نے قلم رکھتے ہوئے بےپرواہی سے کہا،
ہاں… بس، حیات کل اُتار دے گی۔۔
مایا نے فوراً اعتراض کیا۔
کیوں یار؟ اچھی لگ رہی ہے، پہنی رہو نا۔
یہ کہہ کر اس نے بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
دیکھو، میں نے بھی پہن رکھی ہے۔
حیات نے ایک نظر مایا کی انگوٹھی پر ڈالی۔
ہاں… اچھی ہے۔
پھر اس نے فائل زارا کی طرف بڑھائی اور مختصر سا جملہ کہتی ہوئی مڑ گئی۔
اب حیات جا رہی ہے۔
اور اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے نکل گئی۔۔۔

وہ بغیر دستک دیے آمن کے کیبن میں داخل ہوئی۔
قدم سیدھے میز کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے بےساختہ نکلا،
حیات کو آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔

آمن اس کی اچانک آمد پر چونکا، مگر صرف ایک لمحے کے لیے۔
اب وہ اس عادت کا عادی ہو چکا تھا۔
وہ جو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، بغیر اجازت چلی آتی تھی… وہ صرف حیات ہی تھی۔
حیات… السلام ؟؟؟

وعلیکم السلام۔
اس نے فوراً بات شروع کی۔
اب میری بات سنیں، میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔

آمن نے کرسی سے ٹیک ہٹاتے ہوئے کہا،
بولو، سن رہا ہوں میں۔
اگلے ہی لمحے حیات نے اپنے ہاتھ کی انگلی سے وہ انگوٹھی اتاری
جو اس کی اور آمن کی منگنی کی نشانی تھی،
اور میز پر رکھ کر آمن کی طرف بڑھا دی۔
حیات آپ سے منگنی توڑ رہی ہے۔
اس کی آواز میں کوئی لرزش نہ تھی۔
حیات کو آپ سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا۔

آمن کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
ک… کیا ہوا ہے، حیات؟

یہ حیات کا فیصلہ ہے۔
اس نے نظریں جھکا لیں۔
آپ یہ رِنگ اپنے پاس رکھیں، اور اپنی فیملی کو منع کر دیں۔

لیکن کیوں؟

بس… حیات کو آپ سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا۔

وجہ تو بتاؤ۔ کیا کسی نے تم سے کچھ کہا ہے؟

حیات نے مسکرا کر کہا،
حیات سے کوئی کچھ کہہ سکتا ہے بھلا؟

آمن کی آواز میں بےچینی اتر آئی۔
پھر کیا بات ہے؟

وہ لمحہ بھر رکی، پھر جیسے خود کو مضبوط کرتے ہوئے بولی،
آپ کسی اور سے شادی کر لیں…

آمن نے فوراً کہا،
لیکن مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔

حیات نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیوں؟

کیونکہ تم مجھے اچھی لگتی ہو۔

اس نے ناگواری سے جواب دیا،
اور آپ مجھے اچھے نہیں لگتے۔

حیات، یہ وجہ نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے۔
اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
اور حیات نے ابھی اپنے ماں باپ کو کچھ نہیں بتایا، وہ پریشان ہو جائیں گے۔ آپ اپنے دادا کو فون کر کے منع کر دیں۔ کچھ بھی کہہ دیں، کہ لڑکی ناسمجھ ہے، پاگل ہے، ہمارے گھر کے قابل نہیں… جو آپ کو ٹھیک لگے۔ کُچھ بھی بول دیں،
اور اب حیات جا رہی ہے۔ اللہ حافظ۔
اس نے بات ختم کی اور پلٹ گئی۔۔۔
وہ ابھی مڑی ہی تھی کہ آمن تیزی سے اپنی نشست سے اٹھا اور اس کے سامنے آ گیا۔
حیات، یہ وجہ نہیں ہے، میں جانتا ہوں۔
اس کی آواز میں بےچینی تھی۔
کچھ ہوا ہے۔ کسی نے کچھ کہا ہے۔ اُس دن تو تم خوش تھیں… آج اچانک کیا ہو گیا؟

آپ بہت ڈھیٹ انسان ہیں۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی۔
حیات جب کہہ رہی ہے تو۔۔۔

ادھر آؤ۔
آمن نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے صوفے کی طرف لے گیا۔
بیٹھو۔ اور آرام سے بات کرو۔
حیات خاموشی سے بیٹھ گئی۔
چند لمحے وہ کچھ نہ بولی…
اور آمن، خاموشی سے، اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔

چند لمحے گزرے۔ کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
کُچھ لمحے کی خاموشی کے بعد امن بولا
بولو حیات…؟
آمن کی آواز نرم تھی، مگر اندر چھپی بےچینی صاف جھلک رہی تھی۔
حیات نے نظریں جھکا کر کہا،
آپ دوسری شادی کر لیں گے۔

کیا…؟ وہ چونکا۔
اُسے ایک لمحے کو کچھ سمجھ نہ آیا۔
حیرت بھی ہوئی… اور بےساختہ ہنسی بھی آ گئی۔ ابھی تو شادی بھی نہیں ہوئی اور دوسری شادی تک پہنچ گئی۔۔۔۔

آپ کے دادا نے دو شادیاں کیں، آپ کے ابو نے چار…
حیات کی آواز میں کڑواہٹ تھی۔
تو پھر آپ پر کیا بھروسا؟ کل کو آپ بھی دو یا چار شادیاں کر لیں گے۔

آمن مسکراتے ہوئے بولا،
تین کروں گا۔

شوق سے کریں۔
حیات یکدم کھڑی ہو گئی۔
حیات آپ کو نہیں روک رہی۔
وہ جانے لگی تو آمن نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا
ارے، مذاق کر رہا ہوں میں۔
حیات نے سختی سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔
آپ کی دادی، آپ کی امی بہت صبر والی ہوں گی… میرے اندر اتنا صبر نہیں ہے۔
اس کی آواز لرز گئی۔
حیات نہ آج، نہ کل، نہ کبھی اتنی ظرف والی ہو سکتی ہے کہ اپنے حق میں کسی دوسرے کو شریک کرے۔

تو نہیں کروں گا۔۔۔ میں کسی کو شریک نہیں کروں گا، جو حق تُمہارا ہے تُمہارا ہے رہے گا۔۔۔ آمن فوراً بولا۔

آپ نہیں سمجھ رہے…
حیات کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
آپ کسی سے بھی شادی کر لیں… حیات سے نہیں۔ حیات سب کچھ برداشت کر سکتی ہے، مگر اپنے حق پر کسی اور کا حق نہیں۔

آمن نے نرمی سے اُس کی طرف دیکھتے کہا
تمہارے حق پر کسی اور کا حق ہوگا ہی نہیں۔ میں نہیں دوں گا۔ جو تمہارا ہے، وہ تمہارا ہی رہے گا، آج بھی، اور کل بھی۔

حیات نے تلخی سے مسکرا کر پوچھا،
حیات جب بوڑھی ہو جائے گی، تب بھی؟

ہاں… تب بھی۔۔۔
جس تیزی سے وہ اپنے ہر شک اور اندیشے اس کے سامنے رکھ رہی تھی، اُسی تیزی سے وہ اس کے ہر شک کا جواب دے رہا تھا اور ایک ایک کر کے سب اندیشے دور کررہا تھا۔

حیات کو آپ پر بھروسا نہیں ہے۔
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
حیات آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔ پلیز… حیات کو چھوڑ دیں۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھ گئی۔

نہیں چھوڑ سکتا میں تمہیں…
آمن کی آواز بھر آئی۔
مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔ تمہارے بغیر جینا حرام ہو گیا ہے، حیات…
دروازے کا پٹ کھولتے ہوئے حیات کے ہاتھ رک گئے۔
وہ پلٹی۔
ایک لمحے کو دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔۔
ایک کی آنکھوں میں صرف محبت تھی…
اور دوسری کی آنکھوں میں خوف، شک اور اندیشوں کا ہجوم۔۔۔

اور اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے باہر نکل گئی۔
وہ تقریباً دوڑتی ہوئی آفس سے باہر جا رہی تھی۔
اسی لمحے ناشتہ فائل لیے امن کے کیبن کی طرف آرہی تھی، اسے اس قدر تیزی سے نکلتے دیکھا حیران ہوئی، پھر اُسے لمحے امن بھی کیبن سے باہر آ گیا۔
باس…؟

بعد میں نتاشہ۔
وہ مختصر سا کہہ کر حیات کے پیچھے تیزی سے نکل گیا۔

+++++++++

پارکنگ ایریا تک پہنچتے ہی حیات رک گئی۔
اس نے بےچینی سے فون نکالا اور کیب بُک کرنے لگی ہی تھی کہ اچانک کسی نے اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا۔
وہ چونک کر خوف اور حیرت کے ملے جلے احساس کے ساتھ سر اُٹھا بیٹھی۔
آمن اس کے سامنے کھڑا تھا۔
کیا ہے؟
حیات کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔

ایسا مت کرو…
آمن نے آہستہ سے کہا۔
اس وقت اس کے لہجے میں اور اس کی آنکھوں میں بےبسی، کھو دینے کا خوف اور ایک لاچار سی محبت سمٹی ہوئی تھی۔
وہ اس کے معاملے میں ہمیشہ ہی بےبس ہو جاتا تھا۔
وہ صرف اس کے دل میں نہیں، اس کے حواس پر بھی سوار تھی۔
ایک تو وہ ہمیشہ اس کے پاس رہے،
اور دوسرا اسے کبھی کوئی تکلیف نہ ہو—
بس یہی اس کی خواہش تھی۔
اور جب ایسا نہ ہوتا،
تو اس کا دماغ جیسے کام کرنا چھوڑ دیتا۔
ساری دنیا دھندلا جاتی
اور اسے صرف حیات ہی نظر آتی تھی۔
اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ کہاں جائے، کیا کرے۔
اس لمحے اس کی ساری ذہانت ماند پڑ جاتی تھی۔

بہت پچھتائے گے آپ…
حیات نے سرد لہجے میں کہا۔

میں پچھتانا چاہتا ہوں…
آمن کی آواز میں سچائی تھی۔

حیات آپ کو برباد کر دے گی…
اس کی آواز میں انتباہ تھا۔

میں برباد ہونا چاہتا ہوں۔
آمن کے لہجے میں کوئی تذبذب نہیں تھا۔

حیات نے ناگواری سے ہونٹ بھینچے اور اگلا جملہ کچھ اس انداز میں کہا،
حیات بہت بڑی مصیبت ہے…

مجھے یہ مصیبت خوشی خوشی قبول ہے۔
امن نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔

حیات نالائق ہے…
یہ جملہ اس نے تلخی اور خود پر طنز کے ساتھ کہا۔

مجھے یہی نالائق لڑکی پسند ہے۔
وہ اب بھی سنجیدہ تھا۔۔۔

حیات پاگل ہے…
اب اس کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔۔

مجھے قبول ہے۔
وہ نرمی سے بولا۔۔

حیات بہت اَن میچیور ہے…
وہ تقریباً جھڑک کر بولی،

مجھے یہی اَن میچیور لڑکی پسند ہے۔
آمن کا لہجہ پُرسکون تھا، مگر اس یقین میں کوئی کمی نہیں تھی۔

حیات بہت کام بگڑتی ہے…
اس نے جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہا

میں حیات کا ہر بگڑا ہوا کام سنبھال لوں گا۔

حیات بہت موڈی لڑکی ہے…
حیات نے ناگواری سے اگلا جملہ کہا کِسی بات سے تو امن کو فرق پڑ جائے لیکن نہیں۔۔۔

آمن مسکرایا۔
میں حیات کے موڈ کے حساب سے خود کو ڈھال لوں گا۔

حیات نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر دھیمی مگر کانپتی آواز میں بولی،
اور اگر آپ نے دوسری شادی کر لی تو…؟

تو تم اجازت مت دینا۔

کسی چیز کے لیے مرد کو کب اجازت کی ضرورت پڑی ہے؟
اس نے تلخی سے کہا
جب وہ ٹھان لے تو کر گزرتا ہے۔ اور اگر آپ نے کر دکھایا تو حیات کیا کرے گی؟ اُس دن حیات مر جائے گی…حیات زندہ نہیں رہے گی پھر…
چند لمحوں کو وہ رُکی، پھر خود کو سنبھال کر بولی،
ویسے ابھی حیات کو فرق نہیں پڑتا۔
آپ حیات کو چھوڑ کر کسی اور سے شادی کر لیں
دو کریں، تین کریں یا چار…
حیات کی بلا سے۔۔۔ یہ آپ کی مرضی ہے۔۔

میں کہہ رہا ہوں نا، میں نہیں کروں گا…
آمن نے بےقراری سے کہا۔

آپ جتنا بھی کہہ لیں…
حیات نے تلخی سے کہا،
یہ آپ کے خون میں شامل ہے۔

آمن چونک گیا۔
خون میں شامل؟

ہاں… وہ بنا جھجک بولی۔
آپ کے دادا نے کیا، آپ کے بابا نے کیا،
اور اب آپ بھی کریں گے۔

آمن نے اس کی طرف دیکھا۔
تم نے ہمارا مستقبل بھی دیکھ لیا؟

ہاں…
وہ پُریقین تھی۔
حیات کی آنکھیں بہت تیز ہیں۔

وہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
کچھ زیادہ ہی تیز ہیں۔

حیات نے رخ موڑ لیا۔
اب ہٹیں یہاں سے۔ حیات کو جانے دیں۔

آمن نے نرمی سے کہا،
پانچوں انگلیاں کبھی برابر نہیں ہوتیں، حیات۔
ضروری نہیں کہ انہوں نے کیا تو میں بھی کروں۔
تم بس بہت زیادہ سوچ رہی ہو۔

وہ پلٹی، آنکھوں میں عجیب سی مضبوطی تھی۔
جو بھی ہو…
حیات کو آپ پر بھروسا نہیں ہے۔

آمن نے لمحہ بھر کو خاموشی سے اسے دیکھا، پھر دھیرے سے بولا،
نہیں کرو مجھ پر بھروسا…
آمن کی آواز دھیمی ہو گئی۔
لیکن مجھے ایک موقع تو دے سکتی ہو نا؟ صرف شک کی وجہ سے تم مجھے چھوڑ رہی ہو؟

حیات نے بغیر کسی تذبذب کے جواب دیا،
شک نہیں… یقین ہے۔

تو میری محبت پر یقین کر لو۔
حیات کی آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر آئی۔
نہ آپ پر حیات کو بھروسا ہے، نہ آپ کی باتوں پر… اور نہ ہی آپ کی محبت پر۔

آمن کی آواز بھر آئی۔
وہ اس کے سامنے کھڑا تھا، جیسے آخری بار خود کو اس کے سامنے رکھ رہا ہو۔
میرے لیے اگر میرے بھائیوں کے علاوہ کوئی سب سے زیادہ ضروری ہے، کوئی سب سے زیادہ اہم ہے… تو وہ تم ہو، حیات۔
وہ رُکا، پھر آہستہ سے بولا،
تم میری محبت کی آخری وارث ہو حیات۔۔. تمہارے ہوتے ہوئے میں کسی دوسری لڑکی سے شادی تو دور ،  اُس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔

میری محبت کا سلسلہ میرے بھائیوں سے شروع ہو کر تُم پہ تمام  ہوتا ہے، ایسے میں دوسری شادی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔

تم اپنے ذہن سے اس شک کو نکال ہی دو، آمن جنید خان تمہارے علاوہ کسی کو ، نہ چاہ سکتا ہے، نہ اپنا سکتا ہے۔

حیات نے امن کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ آنکھیں جو ہمیشہ پُرسکون رہا کرتی تھیں، آج بےقرار تھیں۔
وہ آنکھیں جو حساب، منطق اور کنٹرول جانتی تھیں، آج صرف محبت مانگ رہی تھیں۔

پھر حیات نے نظریں چرا لیں۔
لیکن حیات کو آپ سے محبت نہیں ہے۔

آمن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
میں جانتا ہوں۔۔۔ میں محبت مانگ بھی نہیں رہا۔۔۔محبت دے رہا ہوں۔۔۔ محبت کو قبول کرنے کا کہہ رہا ہوں۔۔۔۔

یہ کہہ کر امن نے اپنی بند مٹھی حیات کے سامنے بڑھائی اور آہستگی سے کھول دی۔
اس کی ہتھیلی میں وہی منگنی کی انگوٹھی رکھی تھی۔۔۔
پھر وہ دھیرے سے بولا۔۔
جو تُمہارا ہے وہ تمہارا ہی رہے گا۔۔۔ وہ تھوڑا سا بھی کسی اور کا نہیں ہوگا۔۔۔

چند لمحے دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔
پھر حیات نے خاموشی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔۔۔۔
امن نے مُسکراتے ہوئے رنگ اُسے واپس پہنا دی۔۔۔

وہ مسکراہٹ وعدہ تھی،
اور وہ انگوٹھی یقین۔
اس لمحے کسی نے کچھ نہیں کہا،
کیونکہ کچھ فیصلے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے۔
وہ بس محسوس کیے جاتے ہیں۔

تُم میری آخری محبت ہو
تُم میری آخری ضد ہو۔۔
تُم میرا شوق ہو آخری
تُم میری آخری حد ہو
تُم دِل میں دھڑک بن کر
ایک آخری دھڑکن ہو
تُم سوال بھی ہو تُم جواب بھی ہو
جو کہیں نہیں ملی راحت دِل کو
وہ بہکا سہ احساس بھی ہو
میرے پاس رہو ہر گھڑی تُم سے میرا دل نہیں بھرتا
۔۔ ہار اؤں دنیا جہاں سے میں
تُم میری جیتا کا ایک پیارا سا انعام بھی ہو
تُم ایک عادت ہو جو بگڑی ہوئی ہے۔۔۔
تُم ایک بات ہو جو اُلجھی ہوئی ہے۔۔۔۔
تُم ایک ہوا ہو جو مُجھے لگی ہے
تُم ایک راہ ہو جہاں چلنے کی اجازت مُجھے ملی ہے۔۔۔
چلو تُم آخری سفر تک میرے
رہو تُم آخری سانس تک میرے
سمجھو مُجھے آخری الفاظ تک میرے۔۔
پڑھو مُجھے آخری جذبات تک میرے۔۔
تُم میری آخری محبت ہو
تُم میری آخری حسرت ہو
تُم میری آخری چاہتا ہو
تُم میری آخری محبت ہو۔۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔

“انت الحیاۃ” کا اختتام یہاں نہیں ہوا…
یہ تو صرف باب اول کا اختتام تھا باب دوم کی کہانی ابھی باقی ہے۔۔۔

حیات اور امن کی شادی شدہ زندگی کی کہانی ابھی لکھی جانی ہے،
زاویار کی محبت کا سفر
ابھی اپنی منزل تک نہیں پہنچا،
اور ابرار اور امایا کے بیچ
دلوں کی وہ الجھن
جسے دونوں نے نظرانداز کیا،
ابھی اپنا سوال مانگتی ہے۔

باب دوم جلد آرہا ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *