Taqdeer e Azal Episode 21 written by siddiqui

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۱

کائنات ابھی تک سو رہی تھی،
اور وہ جاگ چکا تھا۔
اب وہ اٹھ گیا تھا تو کائنات کا سوتے رہنا ممکن نہیں تھا۔
کائنات…؟ کائنات…؟
وہ آہستہ آہستہ آوازیں دینے لگا۔
کائنات نے پلکیں جھپکائیں، آنکھیں کھولیں اور اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
اُس نے کائنات کے آنکھیں کھولتے ہی بے ساختہ کہا
ناشتہ…؟ مجھے بھوک لگ رہی ہے…
وہ بستر پر اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ بال سمیٹتے ہوئے جب گھڑی پر نظر پڑی تو چونک اٹھی۔
بارہ بج رہے تھے۔
میں اتنی دیر تک سوئی رہی… آپ کب اٹھے؟
ابھی ابھی۔۔۔ زیدان کا مختصر سا جواب تھا۔
کائنات کے ذہن میں رات کا منظر ایک لمحے کو گھوم گیا۔
اس نے فوراً نظریں جھکا لیں اور دھیمی آواز میں بولی،
تھینک یو…
کس لیے؟
مجھے بچانے کے لیے…
زیدان کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔
یہ تو میرا فرض تھا۔
کائنات نے سر ہلایا۔
نہیں… یہ احسان تھا۔
زیدان ہلکا سا مسکرایا۔
اچھا، پھر زیدان کسی پر احسان نہیں رکھتا۔
اب تم زیدان شاہ پر ایک احسان کر کے حساب برابر کرو۔
کائنات نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیسا احسان؟
اپنے ہاتھ کا ناشتہ…
وہ فوراً بولی، روز میرے ہاتھ کا ہی ناشتہ کرتے ہیں آپ۔
زیدان نے ذرا سا تیور بدلا۔تم اپنے ہاتھ سے ناشتہ بنا کر لاتی ہو؟
ہاں…
اچھا، تو آج بھی چیز اینڈ ویجیٹیبل آملیٹ، پراٹھا،
اور گرم گرم چائے بنا کر لادو۔
اچھا… وہ کہتے ہوئے بستر سے اتری،
اور چند لمحوں بعد کمرے سے باہر نکل گئی۔
اور جب وہ کچن میں آئی تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔ کچن خالی پڑا تھا۔ کھانا بن چکا تھا اور ملازمہ اب گھر کی صاف صفائی میں مصروف تھی۔
کائنات نے کسی کو آواز دیے بغیر خاموشی سے ناشتہ تیار کرنا شروع کر دیا۔
جب وہ ناشتہ بنا کر باہر نکلی تو اچانک زرتاشہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
وہ بھی ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی اور سیدھا اپنے کمرے سے نیچے آئی تھی۔
کیسی ہو؟ زرتاشا نے رسمی سا پوچھا۔
ٹھیک ہوں۔ کائنات نے مختصر جواب دیا۔
ابھی اٹھی ہو؟
جی۔
ناشتہ کرنے جا رہی ہو؟
ہاں۔
اچھا، لاؤ یہ مجھے دے دو۔ تم اپنے لیے دوبارہ بنا لینا۔
نہیں۔ کائنات نے فوراً کہا۔
مگر زرتاشا نے اس کے ہاتھ سے ناشتہ والی ٹرے چھین لی۔ اپنے لیے بنا لو۔ اُس کی آواز میں سختی تھی۔۔
اگر آپ کو ناشتہ کرنا ہی ہے تو کسی اور سے کہہ دیں۔ کائنات کی آواز میں اب ہلکی سی سختی آ گئی تھی۔
تم بنا لو اپنا، یہ میں کر لیتی ہوں۔
نہیں… یہ میرا ناشتہ نہیں ہے۔
تو کس کا ہے؟ زرتاشا نے ابرو اٹھائے۔
اُن کا۔
اُن کا؟ زرتاشا نے طنزیہ انداز میں دہرایا۔
زیدان کا؟
کائنات نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا۔
تو دوبارہ بنا لو نا۔ یہ کہتے ہوئے زرتاشا ٹرے لے کر میز پر بیٹھ گئی۔
وہ ابھی ٹرے میز پر رکھ ہی تھی کہ کائنات نے تیزی سے ٹرے دوبارہ اٹھا لی۔
آپ اپنا ناشتہ خود بنا لیجیے۔
ایکسکیوز می؟ ادھر دو یہ مجھے۔ زرتاشا نے غصے سے کہا
یہ عجیب بدتمیزی ہے۔ کائنات کا لہجہ اب واضح طور پر بدل چکا تھا۔
میں کہہ رہی ہوں ادھر دو۔ زرتاشا میز سے اٹھ کر اس کے ہاتھ سے ٹرے چھیننے لگی۔۔۔
مت کریں ایسا۔۔۔ کائنات نے تھوڑی خفکی سے کہا ٹرے کو ابھی بھی مضبوطی سے تھما ہُوا تھا۔۔۔
دھمکا رہی ہو مجھے…؟ زرتاشا نے آنکھیں سکیڑ کر کائنات کو گھورا، اس کی نگاہوں میں تحقیر اور غصے کی ملی جلی جھلک تھی۔
اسی لمحے سیڑھیوں پر تیز قدموں کی آواز ابھری۔
زرتاشا… زرتاشا…
زارا ہانپتی ہوئی بھاگتی چلی آ رہی تھی۔
کیا ہے؟ زرتاشا جھنجھلا کر چیخی۔
زارا اس کے پاس آ کر رکی اور فوراً اپنا فون اس کی طرف بڑھا دیا۔ ہادی کی کال آئی ہے…
زرتاشا کے چہرے پر ایک لمحے کو ناگواری ابھری۔ اس نے بے زاری سے فون زارا کے ہاتھ سے جھپٹا اور سخت لہجے میں بولی، حد ہے…! میں کیا کروں؟ سائیڈ پر رکھ دو۔ اس وقت مجھے اس سے بات نہیں کرنی۔
یہ کہتے ہوئے اس نے فون اپنے ہاتھ میں ہی دبا لیا،
کائنات خاموش کھڑی یہ سب دیکھتی رہی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں مگر ہاتھ اب بھی ٹرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ زرتاشا کا دھیان فون پر جاتے ہی اس نے آہستگی سے ایک قدم پیچھے لیا۔
اور تیزی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
پیچھے زرتاشا کی تیز آواز گونجی،
کائنات…
مگر اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔ اور تیزی سے اپنے کمرے میں گھس گئی۔۔۔
بس ان سب کی خدمات کرتی رہوں میں۔۔۔۔ وہ دروازہ بند کرتے ہی خود سے بڑبڑائی، اور ٹرے میز پر رکھتی بولی۔۔۔۔ یہ لیں آپکا ناشتہ۔۔۔۔
زیدان نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
کچھ ہوا ہے؟
نہیں… کُچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔  وہ خفکی سے بولی۔۔۔
لیکن میں آپ کو بتا دوں… ایک دن میں اس گھر سے چلی جاؤں گی۔
زیدان چونک گیا۔ کیوں؟
کیونکہ یہ منحوس گھر ہے… یہاں کسی کو میری پروا نہیں۔ وہ لمحہ بھر رکی۔ اور جس دن میں ڈاکٹر بن جاؤنگی، اس دن میں بھی کسی کی پروا نہیں کروں گی۔
زیدان خاموشی سے سنتا رہا۔
بس ایک دفعہ… کائنات کی آواز ہلکی سی لرز گئی،
بس ایک دفعہ آپ مجھے ڈاکٹر بن جانے دیں۔
پھر کیا کرو گی؟ زیدان نے آہستہ سے پوچھا۔
کائنات کے ہونٹوں پر ایک مدھم، مگر خوابوں سے بھری مسکراہٹ ابھری۔ پھر میں اپنا گھر لوں گی۔
وہاں رہوں گی… اور یہاں سے چلی جاؤں گی۔
ڈاکٹر بننے کے بعد تم واقعی چلی جاؤ گی؟
اس کی آواز غیر ارادی طور پر مدھم ہو گئی،
کائنات نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… کیونکہ تب میں کسی پر بوجھ نہیں رہوں گی۔
اپنی ماما کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلی جاؤں گی۔
وہ بھی ان سب پر بوجھ ہیں۔۔۔۔
اور میں؟ زیدان کے ہونٹوں سے بےساختہ نکل گیا۔
کائنات ٹھٹک گئی۔
وہ سوال اس نے سوچا نہیں تھا۔
آپ…
وہ لفظ ڈھونڈنے لگی۔ پھر کچھ یاد آنے پر خفکی سے بولی۔۔۔
آپ بھی مُجھے سے بس اپنی خدمات کرواتے ہیں۔۔۔
میں اگر آپکے یہ سب کام نہ کروں تو آپ بھی مُجھے جان سے مار دیں۔۔
کائنات جب تک لوگوں کے کام آتی رہے تب تک اچھی ہے۔۔۔۔ ورنہ کائنات کی کوئی حیثیت نہیں ہے کسی کی زندگی میں۔۔۔۔
کائنات اگر نخرے کرے تو اُنہیں اٹھنے والا کوئی نہیں ہوتا،
اگر کائنات ضد کرے تو بے تمیز۔۔۔
اگر کائنات کوئی کام کرنے سے انکار کر دے تو کائنات بری۔۔ اور اگر کائنات ہاں ہاں کرتی ساری باتیں مانتی جائے تو وہ بہت اچھی۔۔۔
وہ ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گئی تھی۔
ایسا لگا جیسے برسوں سے سینے میں جمع سارا بوجھ لفظوں کی صورت باہر آ گیا ہو۔
سانس پھول چکا تھا، ہونٹ لرز رہے تھے۔
لیکن جیسے ہی اس کی نظر زیدان کے چہرے پر پڑی،
اسے ایک دم احساس ہوا…
اسے یہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا۔
وہ شاید بہت کچھ غلط کہہ گئی تھی۔
زیدان کے چہرے کے تاثرات یکدم بدل گئے۔
وہ غصے سے اسے گھور رہا تھا۔
آنکھوں میں ابھرتی سرخی، بھینچے ہوئے ہونٹ اور جبڑے کی سختی صاف بتا رہی تھی کہ وہ خود پر حد سے زیادہ قابو رکھے ہوئے تھا۔
ہتھیلیاں آہستہ آہستہ مٹھیوں میں ڈھلنے لگیں،
جیسے ہر سانس کے ساتھ وہ اپنے اندر اٹھتے طوفان کو دبا رہا ہو۔
کائنات گھبرا گئی۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
وہ کچھ بولنے کے لیے منہ کھولنے ہی والی تھی کہ لفظ اس کے گلے میں ہی اٹک کر رہ گئے۔
زیدان اٹھا۔
غصہ اس نے بڑی مشکل سے قابو میں کر رکھا تھا۔
اس نے ناشتہ اٹھایا اور ایک جھٹکے سے واپس اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
اور پھر دھاڑ کر بولا،
لے جاؤ اپنا ناشتہ… اور دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے….
میں… وہ… کائنات کی آواز بمشکل نکلی۔
سچ کہا تم نے… زیدان کی آواز زہر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ میں چاہوں تو ابھی تمہیں جان سے مار سکتا ہوں… کاش میں شادی والی رات ہی تمہیں جان سے مار دیتا… وہ لمحہ بھر رکا، پھر سرد اور بےرحم لہجے میں بولا،۔اور سنو۔۔۔۔
زیدان شاہ کو کسی کی خدمت کی ضرورت نہیں۔
زیدان شاہ کو نہیں ضرورت تُمہاری، تُمہاری خدمت کی۔۔۔
جاؤ… یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔۔۔
میری زندگی سے نکل جاؤ۔۔۔
میں بہت برا انسان ہوں۔۔۔
وہ تقریباً چیخا۔۔
کائنات کے پیر کانپنے لگے۔
ہاتھ لرز رہے تھے، مگر قدم اب بھی وہیں جمے ہوئے تھے۔
جاؤ۔۔۔
وہ پھر دھاڑا۔
کائنات نے آنسوؤں سے دھندلائی آنکھوں کے ساتھ ایک آخری نظر اس پر ڈالی…
اور پھر خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
پیچھے سے زیدان نے دروازہ بند کردیا۔۔۔۔
دروازہ بند ہونے کی آواز ابھی مکمل طور پر فضا میں تحلیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ زیدان کا ضبط ٹوٹ گیا۔
آہ—— وہ گرجا۔
اگلے ہی لمحے اس کی مٹھی میز پر جا پڑی۔
شدت اتنی تھی کہ میز ہل کر رہ گئی۔
تو نے کیا سمجھ لیا ہے خود کو۔۔۔
وہ اپنے ہی الفاظ یاد کر کے دانت پیسنے لگا۔
اور پھر کمرے میں رکھی ایک ایک چیز اس کے غصّے کا نشانہ بننے لگی۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جکڑ لیے۔
آنکھوں کے سامنے کائنات کا لرزتا چہرہ گھومنے لگا،
کانوں میں اس کی بھری ہوئی آواز گونجنے لگی۔
بس اپنی خدمات کرواتے ہیں…
چپ۔۔۔
وہ چیخا، جیسے اس آواز کو اپنے دماغ سے نکال دینا چاہتا ہو۔
نفرت ہے مجھے خود سے۔۔۔
وہ دھاڑا۔
اگلے ہی لمحے اس نے سائڈ میز پر رکھی لیمپ اٹھا کر پوری قوت سے دیوار کی طرف اچھال دی۔
لیمپ ٹوٹنے کی آواز کمرے میں گونج اٹھی۔
زیدان ہانپتا ہوا وہیں کھڑا رہ گیا۔
میں برا ہوں…
اس نے سر جھکا لیا۔
واقعی بہت برا۔۔۔
کائنات نے جو کچھ کہا تھا، وہ سب اس نے اپنے اوپر لے لیا تھا۔
ایک ایک لفظ، ایک ایک الزام….
جیسے سب اسی کے لیے کہا گیا ہو۔
کیا واقعی…؟
اس کے ذہن میں ایک زہریلا خیال ابھرا۔
کیا واقعی وہ اسے اسی لیے زندہ رکھے ہوئے تھا
کہ وہ اس کے کام کرتی ہے…؟
کہ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتی ہے…؟
کہ وہ انکار نہیں کرتی…؟
اس کا دل زور سے دھڑکا۔
نہیں…
وہ بڑبڑایا۔
ایسا نہیں ہے…
مگر ضمیر نے فوراً جواب دیا۔
تو پھر کیوں نہیں ماری؟
کیوں آج تک اسے جانے دیا؟
اس سوال نے اس کے اندر کچھ توڑ دیا۔
وہ لڑکی…
جو نخرے نہیں کر سکتی تھی،
جو ضد نہیں کر سکتی تھی،
جو صرف ہاں کہنا جانتی تھی..
کیا وہ واقعی اسی لیے اس کی زندگی میں قابلِ برداشت تھی؟
زیدان نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
آنکھیں بند کر لیں۔…
وہ اپنے دل کے حال، دماغ کے فیصلوں اور کائنات کی باتوں کے بیچ الجھ کر رہ گیا تھا۔…

+++++++++++++++

دروازہ بند ہوتے ہی کائنات کے قدم لڑکھڑا گئے۔
وہ بمشکل خود کو سنبھالتی ہوئی راہداری کی دیوار سے ٹک گئی۔
سینے میں جیسے کوئی بھاری پتھر رکھ دیا گیا ہو، سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔
آنکھوں میں بھرے آنسو اب مزید رک نہ سکے۔
خاموشی سے گالوں پر بہنے لگے۔۔
بغیر سسکی، بغیر آواز کے۔
میں نے کچھ غلط نہیں کہا تھا…
وہ خود سے سرگوشی میں بولی،
مگر دل اسے ماننے کو تیار نہیں تھا۔
کمرے کے اندر سے اچانک کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔۔۔ وہ چونک گئی۔
پھر ایک اور آواز… اور پھر ایک اور۔
کائنات کا دل زور سے دھڑکا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
یا اللہ…
وہ بے اختیار بڑبڑائی۔
میں نے اُنہیں غصہ دلا دیا…
وہ دروازے کی طرف ایک قدم بڑھانے ہی والی تھی کہ رک گئی۔
زیدان کا غصّہ اُس کی دھاڑ یاد آگئی۔۔۔۔ اور پھر وہ پلٹ گئی۔۔۔
+++++++++++
زارا کے کمرے میں خاموشی تھی۔ وہ بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی، موبائل اسکرین میں گم تھی کہ اسے کِسی نے پکارا۔۔
زارادائم کی آواز تھی۔
اس نے پلکیں اٹھائے بغیر ہی کہا،
دروازہ نوک کر کے آیا کرتے ہیں۔
دائم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
کھلے دروازے پر کون نوک کرتا ہے؟
زارا نے موبائل ایک طرف رکھا، اسے دیکھا اور بےنیازی سے بولی،
رہنے دو تم… بولو کیا کہنے آئے تھے؟
دائم نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر گویا ہوا،
چلو باہر چلتے ہیں۔
زارا چونکی۔ باہر؟ کیوں؟
دائم نے کندھے اچکائے، کیوں؟ باہر کیوں جاتے ہیں؟ گھومنے پھرنے…
وہ اسے گھورنے لگی۔ اچھا تو گھومنے پھرنے جانا ہے… مگر کہاں؟ کون سی جگہ؟
دائم نے ہنستے ہوئے کہا، یہ تو تم بتاؤ گی نا۔ میں کون سا پاکستان کا ہوں۔ اصولاً تو تمہیں مجھے پورا شہر گھمانا چاہیے تھا، لیکن…
اس نے مصنوعی افسوس کے ساتھ سانس بھری،
مہمان خود آ کر کہہ رہا ہے کہ مہمان کو گھمانے لے جاؤ۔
زارا نے ناک چڑھائی۔ ہاں، مہمان میں غیرت جو نہیں ہے۔
دائم کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔ مہمان میں بہت غیرت ہے، میزبان میں ذرا سی بھی شرم نہیں۔ یاد ہے جب تم لندن آئی تھیں؟ میں نے کتنا گھمایا تھا تمہیں… بھول گئیں؟
زارا نے فوراً جواب دیا، مجھے نہیں، پری کو گھمایا تھا۔
وہ ہنسا۔ تم کیا اُس وقت گھر میں بیٹھی تھیں؟ ہمارے ساتھ ہی تو گئی تھیں۔
وہ لمحہ بھر کو خاموش رہی، پھر ہار مانتے ہوئے بولی،
ویسے گھومنا پھرنا تو میری کمزوری ہے۔ اب تم نے کہہ ہی دیا ہے تو… چلتے ہیں کہیں۔
دائم کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔
ہاں، چلو۔ تیار ہو جاؤ۔
زارا اٹھتے ہوئے بولی، تم دعا کو کہہ دو، میں زرتاشہ کو کہہ دیتی ہوں تیار ہونے کو۔
دائم نے یاد دہانی کروائی،
اور بھابھی؟ اور کزن؟
وہ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے رکی۔
بھابھی کا مشکل ہے، اُن کا پاؤں ابھی ٹھیک نہیں ہوا۔ ہاں، کائنات کو کہہ کر دیکھ لو۔ اور ہاں…
وہ پلٹ کر بولی،
پری کو بھی لازمی کہنا۔
دائم نے سر ہلایا۔
ہاں، ٹھیک ہے۔۔۔۔
دائم نے جب کائنات سے پوچھا تو اُس نے دو ٹوک انداز میں انکار کر دیا۔
مجھے کہیں نہیں جانا، تم لوگ جاؤ، اس کا لہجہ فیصلہ کن تھا، جیسے مزید بات کی کوئی گنجائش ہی نہ ہو۔
دائم نے شانے اچکائے اور دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ کچھ لوگوں کا مزاج ہی ایسا ہوتا ہے، خاموش، خود میں سمٹے ہوئے۔
آخرکار طے یہی پایا کہ دعا، زرتاشہ، زارا اور پری ہی اس چھوٹی سی آؤٹنگ کا حصہ ہوں گے۔
کچھ ہی دیر میں گھر کے صحن میں ہلچل مچ گئی۔ ہنسی، باتیں، جوتوں کی آوازیں اور تیاری کا شور سب کچھ مل کر ایک خوشگوار منظر بنا رہا تھا۔
گاڑی چل پڑی۔
شام کا سورج آہستہ آہستہ ڈھل رہا تھا، سڑکوں پر روشنی اور سائے ایک دوسرے میں گھل رہے تھے۔ دعا کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی، زرتاشہ خاموش مگر مسکراتی ہوئی، زارا کی باتوں نے فضا کو زندہ رکھا ہوا تھا، اور پری کی ہنسی ہر چند لمحوں بعد ماحول میں رنگ بھر دیتی تھی۔ اور دائم کار چلا رہا تھا

++++++++++++

کائنات پریشے کے کمرے میں داخل ہوئی۔
وہ بیڈ کے سرہانے ٹیک لگائے بیٹھی تھی، ہاتھ میں ایک کتاب تھی، مگر آنکھیں لفظوں پر کم اور خیالوں میں زیادہ الجھی ہوئی تھیں۔
کائنات نے اُسے دیکھتے ہی پوچھا،
آپ نہیں گئیں…؟ اُن لوگوں کے ساتھ…؟
پریشے نے نظر اُٹھا کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
تم بھی تو نہیں گئیں۔
کائنات کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی۔
میرا دل نہیں کیا۔
سیم… پریشے نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔
کائنات چند لمحے خاموش رہی، پھر نرمی سے بولی،
آپ کی طبیعت کیسی ہے؟
مجھے لگا تھا پاؤں کی چوٹ ابھی ٹھیک نہیں ہوئی ہوگی۔ تبھی آپ نہیں گئی۔۔۔تو خریت پوچھنے آگئی میں۔۔۔
پریشے نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔
نہیں، اب تو بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔
کائنات نے حیرت سے پوچھا،
پھر بھی آپ کمرے سے باہر نہیں نکلیں؟
چل پھر سکتیں ہیں نا؟
ابھی نہیں…پریشے کے لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ کھیل گئی۔
کیوں ؟ کائنات چونکی۔
ابھی ذرا اور اپنی خدمت کروانی ہے۔
کائنات ہنس پڑی۔ اچھا، ایسے مزہ آ رہا ہے۔
ہاں نا… پریشے نے سر ہلایا، پھر موضوع بدلتے ہوئے پوچھا، <spa>ویسے تم بتاؤ، شادی ہال سے کہاں غائب ہو گئی تھیں؟
کائنات نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
غائب تھوڑی ہوئی تھی… یہ لوگ مجھے چھوڑ کر آ گئے تھے۔
پریشے کی پیشانی پر بل پڑے۔
اتنے بڑے ہال میں تمہیں اکیلا کیسے چھوڑ دیا؟
کائنات نے گہرا سانس لیا۔
اصل میں میں پہلے ہی نانی کے ساتھ گاڑی میں آ رہی تھی۔ لیکن جب بیٹھنے لگے تو گاڑی میں جگہ نہیں تھی۔ نانی نے کہا دائم لوگوں کے ساتھ آ جانا۔
میں واپس ہال میں چلی گئی ادھر اُدھر گھومتی رہی۔ وہ لوگ جانے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ پھر میں واش روم چلی گئی…
اور جب باہر نکلی تو ہال بالکل خالی تھا۔
پریشے نے چونک کر دیکھا۔
اور جب تم رات کو گھر پہنچیں، کسی نے پوچھا نہیں؟ کہ کہاں تھیں، کیا ہوا؟
کائنات کے لہجے میں تلخی گھل گئی۔
اگر انہیں میری فکر ہوتی تو پوچھتے نا…
پریشے نے ہچکچاتے ہوئے سوال کیا،
پھر… تم زیدان سے ہال میں ملیں؟
کائنات نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں۔ ہال خالی دیکھ کر میں باہر نکل آئی تھی۔
سوچا خود ہی گھر چلی جاؤں گی۔ شاید یہ میری غلطی تھی… مجھے کسی سے فون لے کر کال کر لینی چاہیے تھی۔ مگر وہاں زیادہ تر مرد تھے، میں گھبرا گئی تھی… اسی لیے جلدی سے باہر نکل آئی۔
پریشے کی آواز میں بےچینی تھی۔
پھر…؟
کائنات کی آواز دھیمی ہو گئی۔
پھر مجھے لگا میں گھر پہنچ جاؤں گی، مگر باہر کچھ لڑکے تھے… مجھے دیکھ کر میرے پیچھے لگ گئے…
پریشے کا دل زور سے دھڑکا۔
پھر تم بچی کیسے…؟
اچانک کمرے میں ایک اور آواز شامل ہوئی۔
پھر وہاں… وہ پہنچ گئے تھے۔
پریشے چونک کر پلٹی۔
وہ کون…؟ زیدان؟
کائنات نے نظریں جھکا کر آہستہ سے کہا،
ہاں…
پریشے نے بے اختیار شکر کا سانس لیا۔
شکر ہے… وقت پر پہنچ گیا وہ۔
کائنات نے سر ہلایا۔
ہاں…

++++++++++

رات کے ٹھیک آٹھ بجے اسوان گھر آیا تو فضا میں ایک عجیب سی خاموشی بسی ہوئی تھی۔
ڈرائنگ روم سے گزرتے ہوئے پری کے روم سے پری کو تلاش کرتے ہوئے۔ وہ اپنے روم میں آیا۔۔۔ دروازہ کھولا۔۔
پریشے بستر کے سرہانے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ گود میں ایک کتاب کھلی تھی، مگر آنکھیں سطروں پر ٹھہری ہوئی نہ تھیں۔ جیسے وہ پڑھ نہیں رہی تھی، بس وقت گزار رہی ہو۔
یہ پری کہاں ہے؟
گھر میں کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔
پریشے نے نظریں کتاب سے اٹھائے بغیر جواب دیا،
گھومنے گئی ہے… دائم لوگوں کے ساتھ۔
اسوان ٹھٹکا۔۔تم نہیں گئیں؟
پریشے خاموش رہی۔
اسوان نے کچھ لمحے اُسے دیکھا، پھر نرم لہجے میں بولا، اب تو تمہارا پاؤں کافی حد تک ٹھیک ہو چکا ہے۔ اچھا چلو، میں تمہیں لے کر چلتا ہوں۔ آج ہم باہر ڈنر کرتے ہیں۔
کوئی جواب نہ آیا۔
کتاب ویسے ہی کھلی رہی، اور کمرے میں خاموشی مزید گہری ہو گئی۔
کیا ہوا ہے؟
اسوان کے لہجے میں اب ہلکی سی بےچینی شامل ہو چکی تھی۔
پھر بھی کوئی جواب نہ ملا۔
ناراض ہو؟
خاموشی۔
اسوان آہستہ سے اس کے قریب آ بیٹھا۔ اُس نے بڑے پیار سے پریشے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ لمس میں نرمی تھی، لہجے میں وہی مانوس اپنائیت تھی
میرا جو کچھ بھی ہے نا، اب تمہارا ہی تو ہے۔
وہ دھیرے دھیرے بولا۔
تمہیں کیا ضرورت ہے پڑھائی کرنے کی؟ آرام سے گھر پر رہو، گھومو پھرو، کھاؤ پیو…
پریشے نے نہ ہاتھ کھینچا، نہ نظریں اٹھائیں۔ بس خاموش رہی۔۔۔
تم پڑھائی کرو گی تو سارا دھیان اُسی پر رہے گا۔
وہ مسلسل بولتا رہا۔
پھر تمہیں کسی اور چیز کے لیے وقت ہی نہیں ملے گا…
وہ بولتا رہا، سمجھاتا رہا، یقین دلاتا رہا۔
اور پریشے سنتی رہی، بغیر کچھ کہے۔
بہت دیر بعد اس نے آہستہ سے کہا،
میں کچھ دن کے لیے اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔
جب پاؤں بالکل ٹھیک ہو جائے گا، واپس آ جاؤں گی۔ پڑھائی کی نہیں سہی… بس اس کی اجازت دے دیں۔
اسوان چند لمحے خاموش رہا۔ پھر جیسے فیصلہ کر لیا ہو۔
اچھا ٹھیک ہے۔ وہ بولا۔
اس کے بعد ناراض تو نہیں رہو گی نا؟
پریشے نے سر ہلایا۔ نہیں۔
چلو، جیسی تمہاری خوشی۔اسوان نے کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔۔ کل چھوڑ آؤں گا تمہیں۔
پریشے نے کچھ نہ کہا۔
دل ہی دل میں بس ایک جملہ گونجا۔۔
ساری خوشیاں چھین کر کہتے ہیں… جیسی تمہاری خوشی۔
مگر وہ جملہ لبوں تک نہ آ سکا۔
وہ جانتی تھی، اس وقت کچھ بھی کہنا اسے ناراض کر سکتا ہے۔ اور پھر وہ اُسے گھر جانے نہیں دے گا۔۔۔
اور اُسے ہر حال میں گھر جانا تھا۔
++++++++++++

وہ صبح سے اپنے کمرے سے نکلی تھی تو پھر لوٹ کر نہیں گئی تھی۔ سارا دن وہ نیچے اپنے روم میں رہی۔۔۔
اور اب… رات کے سناٹے میں وہ آخرکار باہر نکلی۔
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی وہ راہداری میں آگے بڑھی۔ دل میں ایک انجانا سا خوف تھا جو سانسوں کے ساتھ بھاری ہوتا جا رہا تھا، مگر پھر بھی اُس نے خود کو سنبھالا۔
ہمت کر کے… وہ اُس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ہر قدم کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔
دروازے کے سامنے رکی۔
ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر اس نے آہستگی سے دروازہ کھولا۔
کمرے میں اندھیرا اور خاموشی تھی۔
اُس کی نظر سب سے پہلے بستر کی طرف گئی۔۔۔
مگر وہ وہاں موجود نہیں تھا۔
اس نے بے اختیار اِدھر اُدھر دیکھا۔
پردے، کرسی، میز…
مگر وہ کہیں بھی نہیں تھا۔
وہ کمرے میں تھا ہی نہیں۔
ایک لمحے کو دل جیسے سینے میں بیٹھ سا گیا۔
وہ اندر چلی گئی، قدموں کی آواز بھی خود کو چبھ رہی تھی۔
پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا۔
شیشے کی ہر چیز زمین پر گری ہوئی تھی۔۔
ٹوٹے ہوئے ٹکڑے قالین پر پھیلے تھے،
جیسے کسی طوفان نے اس خاموش کمرے سے گزر کر سب کچھ تہس نہس کر دیا ہو۔
سائیڈ ٹیبل اُلٹا ہوا تھا،
دروازے کے پاس شیشے کے ننھے ننھے ٹکڑے چمک رہے تھے،
وہ ملازمہ کی مدد سے پورا روم واپس سے سیٹ کرواتی۔۔۔ پھر اُس کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
بہت دیر تک۔
مگر وہ نہ آیا۔
نہ اُسے معلوم تھا کہ وہ کب نکلا تھا،
نہ یہ کہ کہاں گیا تھا۔
اُس نے اُسے جاتے ہوئے دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔
وہ کب سوگئی اُسے پتہ نہیں چلا۔۔۔اب جب اُس کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے کمرے میں تھی۔۔۔ وہ چونک اٹھی۔
یہ زیدان کا کمرہ نہیں تھا۔
یہ اُس کا اپنا کمرہ تھا… نیچے والا۔
لیکن… وہ تو رات زیدان کے کمرے میں سوئی تھی…
پھر یہاں کیسے؟
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
اُس نے دماغ پر زور ڈالا کہ شاید وہ خود ہی نیچے آکر سوگئی ہو۔۔۔۔
مگر نہیں۔
اُسے یاد تھا، صاف یاد تھا،
وہ وہیں سوئی تھی، زیدان کے کمرے میں۔
تو پھر…؟
اس کے دل میں ایک خیال نے آہستہ سے سر اٹھایا، اور پھر پورے وجود میں پھیل گیا۔
کیا زیدان…؟
کیا وہ اسے یہاں لے آیا تھا؟
مگر کیوں؟
اور کیسے؟
اگر وہ آیا تھا تو اس کی آنکھ کیوں نہ کھلی؟
وہ تو ہلکی سی آہٹ پر بھی جاگ جایا کرتی تھی…
پھر آج اتنی گہری نیند؟
اس نے اپنے اردگرد دیکھا، جیسے کمرہ اس کے سوالوں کا جواب دے دے گا۔
مگر دیواریں خاموش تھیں۔۔۔۔
پھر وہ آہستہ سے بستر سے اُٹھ گئی۔
اور واش روم میں چلی گئی۔ ٹھنڈے پانی نے چہرہ چھوا تو کچھ لمحوں کے لیے ہوش سا لوٹ آیا،
فریش ہو کر اُس نے گھڑی دیکھی۔
صبح کے سات بج رہے تھے۔
وہ باہر نکلی۔ پورا گھر ابھی سو رہا تھا۔
کچھ لمحے ہچکچائی…
پھر اُس کے قدم خودبخود اوپر کی طرف اُٹھنے لگے۔
زیدان کے کمرے کی طرف۔
دروازے کے سامنے آ کر وہ رکی، سانس کو قابو میں کیا اور آہستگی سے دروازہ کھولا۔
کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
زیدان بستر پر سو رہا تھا۔
آدھا کروٹ لیے، آدھا سیدھا۔۔
جیسے نیند بھی اُس پر پوری طرح مہربان نہ ہو سکی ہو۔
ایک لمحے کو اُس کے دل کو عجیب سا سکون ملا۔
وہ یہاں تھا۔۔۔۔گھر میں تھا۔
مگر اگلے ہی لمحے… اُس کی نظریں ایک جگہ پر جم گئیں۔
سائیڈ ٹیبل پر رکھی شیشے کی بوتل۔
شراب کی بوتل۔
دل جیسے ایک جھٹکے سے بیٹھ گیا۔۔۔۔
نظر مزید نیچے گئی تو سانس رک سی گئی۔۔
بوتل کے کچھ ٹکڑے زمین پر بکھرے پڑے تھے،
اور قالین پر چنے چور کے ذرات جیسے گواہی دے رہے ہوں
کہ یہاں رات خاموش نہیں گزری تھی۔
وہ وہیں ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔

++++++++++++
اسوان کائنات کو کالج چھوڑنے کے بعد گھر ہی میں موجود تھا۔۔
آج وہ آفیس دیر سے جانے والا تھا، کیونکہ پریشے کو میکے جانا تھا، اور وہ اُسے گیارہ بارہ بجے کے قریب چھوڑ کر ہی آفس جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
کائنات اُس سے کہہ کر گئی تھی کہ وہ جارہی ہے زیدان کا ناشتہ اُس کے روم میں وہ لے جائیں۔۔۔
اسی لیے وہ ناشتہ لے کر اوپر زیدان کے کمرے کی طرف آ گیا۔
دروازہ کھلا تھا۔
زیدان جاگ چکا تھا۔ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، آنکھوں میں نیند کی بھاری تہہ ابھی باقی تھی۔ اسوان کو دیکھتے ہی اُس نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھ کر بولا
تم نے میرا روم سیٹنگ کروایا ہے؟
اسوان ایک لمحے کو ٹھٹکا۔
رات کی حالت… وہ کچرا جو زیدان نے خود پھیلایا تھا
وہ سب اب موجود نہیں تھا۔
زمین صاف تھی۔
بوتل کے ٹوٹے ہوئے شیشے کہیں نہیں تھے۔
قالین پر کچھ بھی بکھرا ہوا نہ تھا۔
کمرہ ترتیب سے سجا ہوا تھا، جیسے یہاں کبھی کوئی بدنظمی ہوئی ہی نہ ہو۔
اور سائیڈ ٹیبل پر… وہی شراب کی بوتل۔
ویسی ہی رکھی ہوئی۔۔۔
جیسے کل رات بھی وہیں تھی،
اور اب بھی وہیں تھی۔
اسوان نے نظر بوتل پر ٹکائی، پھر زیدان کی طرف دیکھا۔
نہیں۔ اُس نے سادہ لہجے میں جواب دیا۔
میں نے کچھ نہیں کروایا۔۔۔۔ کائنات نے کیا ہوگا۔۔۔
زیدان پھر خاموش رہا کُچھ نہیں بولا۔۔۔
اسوان نے ناشتے کی ٹرے میز پر رکھتے بولا۔۔۔
یہ کو ناشتہ کرلو اور میں نے کائنات کو کالیج چھوڑ دیا ہے۔۔۔جیسے کے آپ نے کہا تھا۔۔۔
وہ اب بھی خاموش رہا اور اسوان چپ چاپ روم سے نکل گیا۔۔۔
+++++++++++++

وہ کالج سے واپسی پر بھی اسوان کے ساتھ ہی آئی تھی۔ راستے بھر اسوان نے معمول کی باتیں کیں، مگر کائنات خاموش رہی، جیسے ذہن کہیں اور اٹکا ہو۔
گھر پہنچتے ہی وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
دروازہ کھولا تو اُسے وہیں پایا۔
زیدان اس وقت گھر پر ہی تھا۔
وہ بستر پر نیم دراز تھا، تکیہ صوفے پر رکھا ہوا، اور ہاتھ میں موبائل تھا۔ اس کی نظریں اسکرین سے ذرا بھی نہ اٹھیں، جیسے کائنات کمرے میں داخل ہی نہ ہوئی ہو۔
کائنات چند لمحے وہیں کھڑی اُسے دیکھتی رہی۔
شاید انتظار تھا کہ وہ خود ہی سر اٹھا کر دیکھ لے،
یا کم از کم اُس کی موجودگی کا احساس تو کرے۔
مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔
آخرکار اس نے دھیرے سے پوچھا،
ناشتہ کر لیا آپ نے؟
خاموشی۔
کائنات کے دل میں ہلکی سی ٹیس اٹھی، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔
میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں…
تب زیدان نے موبائل سے نظر ہٹائے بغیر، سرد اور بےحس لہجے میں کہا،
اپنا کام کرو۔۔۔ الفاظ مختصر تھے، مگر لہجہ کاٹ دار۔
کائنات نے پھر کوئی جواب نہ دیا، بس خاموشی سے پلٹی۔ اور کپڑے بدلنے کے لیے واش روم میں داخل ہو گئی۔

++++++++++++

اسوان نے جیسے ہی گاڑی پریشے کے محلے میں روکی، محلے کے بچے خوشی سے شور مچاتے ہوئے دوڑ آئے۔ کسی نے گاڑی کے آگے ہاتھ پھیلا دیے، کسی نے پیچھے سے گھیر لیا, چند لمحوں میں گاڑی بچوں کے دائرے میں آ چکی تھی۔
اسوان نے بےساختہ ماتھا پکڑا۔
ایک تو تمہارے محلے کے بچے۔۔۔ وہ بڑبڑایا۔
پریشے مسکرائی۔ اچھا ہے نا؟ پھر بچوں کی طرف دیکھ کر بولی، بچے مجھے مس کر رہے ہوں گے۔
وہ گاڑی سے اتری تو بچے اس کے گرد جمع ہو گئے۔ کوئی ہاتھ ملانے لگا، کوئی لپٹ گیا، خالص، بےلوث خوشی سے۔۔
میں تم لوگوں کے لیے چاکلیٹ لائی ہوں۔۔۔۔ پریشے نے اعلان کیا۔
سچ میں، آپی؟ سب ایک ساتھ چیخ اٹھے۔ خوشی ان کے چہروں سے چھلک رہی تھی۔
پریشے نے گاڑی سے شاپر نکالا۔ اس میں ڈھیروں چاکلیٹس تھیں۔
لیکن یہ چاکلیٹ ایک شرط پر ملے گی۔
وہ کیااا؟ سب نے ایک ساتھ پوچھا۔
پریشے ہنسی۔ ایک پیار۔۔۔۔ ایک چاکلیٹ۔
ایک شرارتی بچے نے فوراً کہا، دو پیار تو دو چاکلیٹ؟
پریشے نے ہنستے ہوئے سر ہلایا۔
ہاں ہاں،
بچے خوشی سے آگے پیچھے ہونے لگے۔ پریشے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ بچے ایک ایک کر کے اس کے گلے لگتے، پیار دیتے اور اپنی چاکلیٹ لے کر دوڑ جاتے، کوئی دو لیتا، کوئی تین۔
اور اسوان…
گاڑی میں بیٹھا یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
یہ منظر وہ تین سال پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔
جب وہ اپنے کام کے سلسلے میں اسی محلے میں آیا تھا—
شاید کسی فلیٹ کی فروخت کے معاملے میں۔۔۔
تب اس کی نظر پہلی بار بچوں کے ساتھ کھیلتی، ہنستی پریشے پر پڑی تھی۔
اور اسی لمحے، نہ جانے کیوں، اس کے دل نے فیصلہ کر لیا تھا۔
اپنی بیوی کے روپ میں…
اور پری واش کی ماں بن کر…
وہ اسی لڑکی کو اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اس فیصلے کے بعد ایک پورا سال۔۔۔ خاموش تعاقب، باریک مشاہدہ، ہر عادت، ہر حرکت، ہر پہلو پر نظر رکھتا۔۔
سادہ لفظوں میں کہا جائے تو اس نے اسے اسٹاک کیا تھا۔۔۔ اُس کی ایک ایک تفصیل نکالی، اُس کے گھر میں کون کون ہے، وہ کہاں جاتی ہے کہاں آتی ہے، اُس کی ساری عادتیں، اُسے کیا پسند ہے، کیا نہیں، اور جب مکمل تسلی ہو گئی۔۔۔۔کہ وہ ایک اچھی لڑکی ہے۔۔۔
تب جا کر رشتہ بھیج دیا۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی تھی۔
پریشے کی ضد نے اسے مزید دو سال انتظار کروایا۔
اور آج…
وہی منظر ایک بار پھر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔
فرق صرف اتنا تھا
کہ اب وہ لڑکی اس کی بیوی بن چکی تھی۔
اسوان کے چہرے پر ایک گہری، مطمئن سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
بھلا اسوان جسے چاہے…
وہ اسے نہ ملے۔۔۔
ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔

وہ ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ اچانک شیشے پر جھکی پریشے کی آواز آئی۔
گھر جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا؟
اسوان نے باہر دیکھا۔ بچے اب ایک طرف بیٹھے خوشی سے چاکلیٹ کھا رہے تھے۔
وہ پریشے کی طرف مڑا۔
کب لینے آؤں؟ کل آ جاؤں؟
پریشے نے بےفکری سے کہا، جمعہ کو۔
اسوان چونکا۔ آج تو ہفتہ ہے۔ اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات، اور پھر جمعہ پانچ دن بعد؟
ہاں… پریشے نے اطمینان سے جواب دیا۔
نہیں، میں کل لینے آ جاؤں گا۔ اسوان نے فیصلہ سنایا۔
پریشے نے کچھ نہ کہا۔ بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ دی اور گھر کی طرف بڑھ گئی۔
اسوان نے خود سے بڑبڑایا،
یہ جان بوجھ کر مجھے تنگ کرتی ہے…
مگر اس کے لہجے میں شکایت سے زیادہ مسرت تھی۔

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *