Qasas by Rida Fatima episode 7…

قصاص قسط نمبر:7

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔   

                                                                                                                                              یہ شام کا وقت تھا وہ تقریبا شام کے قریب گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔۔
کھانا انہوں نے باہر سے ہی کھا لیا تھا۔۔پہلے گھر میں رخسار داخل ہوئی پیچھے حیات پھر ریحان داخل ہوا اس کے بعد ہیر داخل ہوئی اور پیچھے زرمان ۔۔۔
شاہان البتہ اخر میں اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔
وہ اندر داخل ہوئے اور جب ہیر اندر داخل ہوئی تو ہیر کا دوپٹہ بے ساختہ سرک کر چہرے سے ہٹا تھا ۔۔۔ سامنے لگے شیشے میں ہیر نے اپنا عکس دیکھا ۔۔۔ اور فورا اپنا دوپٹہ واپس اپنے چہرے پر لیا ۔۔۔ ہیر کو محسوس بھی نہیں ہوا تھا اس کے پیچھے اتے شخص نے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔
اور پھر اس میں ہمت ہی نہیں ہوئی اگلا قدم اٹھانے کی ۔۔۔ سب زرمان سے اگے نکل گئے تھے اور زرمان کے قدم تھم گئے تھے
محبوب کا دیدار اس طرح سے ہونا تھا سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ بس ایک پل لگا تھا اس کا چہرہ دیکھنے کو۔۔۔۔ اور ایک بار پھر وہ چہرہ چادر میں چھپ چکا تھا ۔۔۔ زرمان کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا۔۔۔ سانسوں نے رکنے کا اعلان کیا تھا۔۔۔
اور زر مان راجپوت نے فورا اپنے قدم گھما دیے
ریحان اور وہاں کسی بھی انسان کو بیٹھے ہوئے سمجھ نہیں ائی تھی وہ باہر کو کیوں گیا تھا۔۔۔
ریحان اٹھا اور اس کے پیچھے گیا کہاں جا رہے ہو تم اس نے پوچھا۔۔۔
ن ۔۔ نہ۔۔ نہیں ک۔ب۔بس گھر جا رہا ہوں
کیوں کیا ہو گیا ہے اتنا اچانک سے کیوں جا رہے ہو۔۔
ن۔۔ نہیں بس امی۔۔انتظار کر رہی ہوں گی۔۔
اس بار ریحان نے اس کو روکا نہیں اور وہ تیز تیز قدم اٹھاتا چلا گیا۔۔۔

ابو ہمیں ذرا کام کے سلسلے میں باہر جانا ہے
کس کام کے سلسلے میں باہر جا رہے ہو قاسم خان
ایسے ہی ابو بس ایک زمین دیکھی ہے وہاں پر کوئی ریسٹورنٹ وغیرہ کھولنے کا ارادہ کیا ہے۔۔۔
اچھا کہاں جا رہے ہو جگہ تو بتاؤ۔۔
مری جا رہا ہوں۔۔ قسم بولا ۔۔ کل صبح کی فلائٹ ہے میری۔۔
اچھا کب تک واپس اؤ گے
ایک دو دن لگ سکتے ہیں لیکن جلدی واپس اجاؤں گا ۔۔۔
ٹھیک ہے چلے جانا ۔۔
قاسم انتہا کا فرمابردار تھا ۔۔ اُس نے گردن ہلا دی اور کمرے میں چلا گیا ۔۔
ابھی اس کو پیکنگ بھی کرنی تھی جب اس کا فون بجنے لگا اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔
ہاں بس ۔۔ کل پہنچ جاؤں گا ۔۔
کیا برف باری ہو رہی ہے ۔۔
اچھا صحیح ۔۔ نہیں کام کر کے جلدی واپس انا ہے ۔۔ میں سنبھال لوں گا اُس کو ۔۔
قاسم فون کان سے لگاکر کہہ رہا تھا ۔۔ اور کچھ دیر بعد اس نے فون بند کر دیا ۔۔۔

زرمان اپنے گھر آ یا ۔۔ اتنی دیر کیوں لگا دی کہاں پر تھے تم۔۔
امی صبح بتا کر گیا تھا کہ گھومنے جا رہے ہیں۔۔ اچھا صحیح میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی بہت دیر لگا دی تم نے۔۔
امی میرا سر درد کر رہا ہے بہت تھک گیا ہوں ذرا ارام کرنا چاہتا ہوں زرمان نے کہتے ہوئے قدم کمرے کی طرف بڑھا دیے۔۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا اس نے لائٹ نہیں جلائی
وہ خاموشی سے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔۔
اور پھر کچھ دیر بعد وہ بیڈ پر لیٹ گیا تھا اب وہ اندھیرے میں چھت کو گھور رہا تھا۔۔۔
اس کو خود سمجھ نہیں ائی تھی وہ وہاں سے ایا کیوں تھا۔۔۔ اس کو سمجھ نہیں ائی تھی اس کے ساتھ ہوا کیا تھا ۔۔ بس اس کا دل کیا کے اگر ایک
پل وہ وہاں روکتا تو اس کے دل کو کچھ ہو جاتا ۔۔ اس کا دل دھڑکنا بند ہو جاتا ۔۔
اکثر محموب کے دیدار پر ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔

ہیر ویسے ہی بہت تھک گئی تھی اس لیے کمرے میں اگئی تھی ۔۔
ریحان اپنے بابا کے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔
تمھارا دوست نہیں ایا ۔۔
کون سا دوست ۔۔
وہ لڑکا ریحان جو صبح تمہارے ساتھ ایا تھا
جی بابا وہ ایا تھا بس ابھی کچھ دیر پہلے ہی گیا ہے ریحان نے فورا سے کہا
اچھا بہت اچھا لڑکا لگتا ہے۔۔
جی وہ واقعی بہت اچھا اور سلجھا ہوا ہے اپ کو تو پتہ ہے میں بگڑے ہوئے دوست نہیں بناتا
ہاں یہ تو پتہ ہے مجھے۔۔ چلو اچھی بات ہے
کبھی اس کو کھانے پر بلاؤ ہماری طرف ہم پٹھانوں کی بھی مہمان نوازی دیکھے وہ ذرا۔۔۔
جی بابا ضرور بلاؤں گا کبھی اس کو جب اسے ٹائم ملے گا۔۔ ریحان نے فی الحال بات بدلنے کی کوشش کی۔۔۔

یہ رات کا وقت تھا ۔۔ حیات ہیر کے گھر سے نکلی تھی رخسار جلدی چلی گئی تھی جبکہ حیات ہیر کے پاس ہی تھی وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر سے نکلی تھی۔۔۔۔
وہ اپنی گاڑی لے کر ائی تھی اس وقت وہ اپنی گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی رات چھا رہی تھی
اس کا خیال تھا کہ وہ جلدی ہی گھر پہنچ جائے گی۔۔ سنسان علاقے پر گاڑی دوڑاتے ہوئے اس کو احساس ہوا تھا کہ کوئی دو موٹر سائیکل پر کوئی لوگ اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔۔۔
حیات کا رنگ ہوا ہو گیا اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی تھی۔۔۔ اب وہ موٹر سائیکل پر بیٹھے لڑکے اونچی اونچی اواز میں نارے لگانے
شروع کر چکے تھے وہ شاید اس کو ہی بلا رہے تھے۔۔۔
گاڑی تو روکو میڈم۔۔
وہ بولے اور حیات کے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی خوف تھا دماغ میں ۔۔ کہ اگر کچھ ہو گیا تو۔۔۔

اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ فورا فون اٹھایا تھا اس کو سمجھ نہیں ارہی تھی وہ کس کو مدد کے لیے بلائے دماغ کام کرنا بند ہو گیا تھا۔۔
نمبر دیکھتے ہوئے سکرین پر یوسف کا نمبر نظر ایا تو اس نے فورا نمبر ملایا۔۔ پہلی بیل گئی دوسری بیل حیات کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی کہ وہ
فون اٹھا لے بس رات بہت ہو رہی تھی وہ بائیک والے اب رفتار بڑھاتے
ہوئے اس کے قریب ا پہنچے تھے۔۔۔
پہلی بیل گئی دوسری بیل اور پھر فون اٹھا لیا گیا تھا۔۔
حیات کی انکھوں میں بری طرح سے انسو انے لگے تھے جب اس نے یوسف کی اواز سنی تھی جی بولیں حیات اتنی رات کو فون کیا۔۔
یوسف۔۔ یو۔۔ یوسف مجھے بچا لیں میرے پیچھے کوئی لوگ لگے ہوئے ہیں
پلیز جلدی ا جائیں۔۔
حیات انسوؤں اور خوف کے درمیان چلاتے ہوئے بولی۔۔ اپ کہاں پر
ہیں یوسف واقعی پریشان ہوا۔۔۔
م۔۔ میں ہیر کے گھر سے تھوڑا ہی دور ہوں میں واپس اپنی گاڑی نہیں گھما سکتی وہ پیچھے ہیں میرے۔۔
اور پھر یوسف ملک نے فورا اپنا فون بند کیا تھا۔۔ کسی کے باپ میں دم نہیں ہے یوسف ملک کی محبت کو کوئی ہاتھ بھی لگا سکے وہ منہ میں کوئی گالی دیتا ہوا اٹھا تھا۔۔
وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں ہی تھا وہ اپنے افس سے باہر نکلا اور یاسر کو کہا۔۔
گاڑیاں نکالو ہمیں جلدی جانا ہے۔۔
کیوں سر خیریت ہے۔۔
جتنا کہا ہے یاسر فی الحال اتنا کرو۔۔ یوسف
نے کہتے ہوئے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے اور پھر جا کر فورا اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔۔

اس وقت وہ تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا ساتھ میں یاسر اس کی گاڑی میں بیٹھا تھا جبکہ اس کے پیچھے تین گاڑیاں پولیس والوں کی اور تھی۔۔
اور وہ پوری رفتار سے ہیر کے گھر والی سڑک پر جا رہا تھا۔۔۔
جب راستے میں اس کو کوئی گاڑی رکی ہوئی دکھائی دی تھی۔۔۔
چیخنے کی اواز ائی تو یوسف نے بے ساختہ اپنی گاڑی کو بریک لگائی تھی ۔۔
جب حیات کی گاڑی نظر ائی تو یوسف فورا اپنی گاڑی سے اترا۔۔
کچھ لوگ موٹرسائیکل سے اتر کر حیات کی گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہے تھے جس کو حیات نے لاک کیا ہوا تھا ۔۔۔
یوسف کو دیکھ کر حیات کو سکون ایا تھا۔۔
یوسف پلیز مجھے بچا لیں۔۔۔
یوسف تیز قدموں سے چلتا ہوا ان میں سے ایک کی طرف ایا۔۔۔
جو حیات کی طرف کا دروازہ کھولنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔۔ وہ لڑکا جتنے میں مُڑ کر یوسف کی طرف دیکھتا یوسف پیچھے سے اس کا گریبان پکڑ چکا تھا۔۔۔
خبیث کے بچے ۔۔
یوسف نے پکڑتے ہوئے پہلا مُکہ اس کے منہ پر مارا تھا جس سے اس کے ناک سے بے سختا خون نکلنے لگا تھا اور یقینا اس کی ناک کی ہڈی بھی
ٹوٹ چکی تھی۔۔۔
تیری ہمت کیسے ہوئی اس کو ہاتھ لگانے کی۔۔
یوسف اب بری طرح اسے مار رہا تھا اور گالیاں دے رہا تھا جبکہ باقی کے تین لڑکے پولیس والوں نے گھیر لیے تھے۔۔
حیات اپنی گاڑی سے باہر نکلی تھی انکھوں میں لگا کاجل اس وقت پھیل چکا تھا ۔۔۔
اور یوسف ملک بری طرح اس لڑکے کو مار رہا تھا
بتا تیری ہمت کیسے ہوئی۔۔ اس کا پیچھا کرنے کی
تو نے میری حیات کا پیچھا کیا ۔۔ میری محبت کو نکسن پہنچانے کی کوشش کی تیری جان لے لوں گا میں کمینے ۔۔ اور یوسف کو سمجھ ہی نہیں ارہی تھی وہ غصے میں کیا کچھ بول گیا تھا کس بات کا اقرار کر گیا تھا۔۔
پاس کھڑی حیات نے یوسف کا چہرہ دیکھا۔۔
یو۔۔ یوسف ۔۔ ب۔۔بس کریں چھوڑ دیں
و۔۔ وہ مر۔مر جائے گا چھوڑ دیں ۔۔
مارنے ہی تو ایا ہوں ۔۔ وہ نہیں سن رہا تھا ۔۔
جب اُس لڑکے میں جان ختم ہونے کے قریب پہنچی تو یوسف نے اس کو چھوڑ دیا وہ بھی اس لیے کیونکہ یاسر پاس اگیا تھا اور بولا تھا۔۔
سر جی بس کریں اس کو تو حوالات کی سیر کروائیں گے اور اس کے کہنے پر یوسف نے اپنے ہاتھ روک دیے تھے۔۔۔
یوسف کے ہاتھ اس وقت بری طرح سے زخمی ہوئے تھے۔۔۔
چلیں بیٹھیں گاڑی میں۔۔
اس نے حیات کو دیکھتے ہوئے کہا تو حیات خاموشی سے جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی جس کی ڈرائیونگ سیٹ یوسف نے سنبھالی تھی یاسر اس
وقت یوسف کی گاڑی لے کر جا چکا تھا

اپ کو کس نے کہا تھا اتنی رات کو گھر سے باہر نکلے دماغ درست ہے اپ کا۔۔۔
اب باری تھی حیات کی یوسف اب اس پر غصہ کر رہا تھا
ہم باہر گئے تھے گھومنے۔۔ تو میں ہیر کے گھر تھی۔۔
تو میں جب واپس ارہی تھی ہیر کے گھر سے تو مجھے سمجھ ہی نہیں ائی میرے پیچھے یہ موٹر سائیکل والے لوگ لگ گئے میں نہیں جانتی یہ کیوں ہوا یوسف۔۔۔
کیوں ہوا کیا اپ کو نہیں پتہ یہ کیوں ہوا۔۔ ادھی رات کا وقت ہو سنسان سڑک پر کوئی لڑکی گاڑی چلا رہی ہو اور ایسا واقعہ نہ ہو اپ کو لگتا ہے ایسا
ہو سکتا ہے۔۔
اپ پاگل ہو گئی تھی جو اتنی رات کو ہیر کے گھر سے بھی باہر نکلی۔۔
میری غلطی نہیں ہے۔۔
اپ کی غلطی نہیں ہے تو کس کی غلطی ہے۔۔۔
اپ ایسی حرکت کیسے کر سکتی ہیں حیات چھوٹی بچی تو نہیں ہے اپ۔۔ یوسف بری طرح سے جھنجھلایا ہوا تھا۔۔
ا۔۔ اپ م۔مجھے کہاں لے کے جا رہے ہیں
فکر نہ کریں اپ کے گھر ہی چھوڑنے جا رہا ہوں اپ کو۔۔ ساتھ میں اپ کی امی ابو کو کہوں گا کہ اپ کو گھر پر رکھیں۔۔ حیات اب کی بار خاموش ہو گئی تھی
کچھ دیر بعد یوسف ملک نے پہلی بار حیات کے گھر میں قدم رکھا تھا۔۔۔
وہ حیات کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔۔ حیات کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ کر اس کے امی ابو حیران تھے ۔۔ اس کی امی ابو سے یوسف کا غائبانہ تعارف تو سن رکھا تھا لیکن کبھی دیکھا نہیں تھا
دراز قد اور کثرتی جسامت والا وہ شخص جب اندر داخل ہوا۔۔ اس کے پیچھے ہی حیات داخل ہوئی تھی۔۔
السلام علیکم انکل۔۔
اس نے اندر جاتے ہوئے کہا تھا تو حیات کے ابو نے اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھا
حیات بیٹا یہ کون ہے
بابا یہ یوسف ہے۔۔
جی میں یوسف انکل حیات نے اپ کو بتایا تو ہوگا
اچھا تم یوسف ہو حیات کے ابو نے کہا ۔۔
جی میں ہی ہوں ۔۔
اؤ نا بیٹا بیٹھو کھڑے کیوں ہو
ان کے کہنے پر یوسف نے اگے قدم بڑھا دیے اور جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
تو بتاؤ بیٹا اج کیسے انا ہوا۔۔ ؟
کچھ نہیں انکل بس اپ کو یہ کہنے ایا تھا کہ حیات صاحبہ کو سنبھال کر رکھیں اور اگر نہیں سنبھالی جا رہی تو بے شک ان کی شادی کر دیں۔۔
اس کے الفاظ پر پاس میں بیٹھی حیات کے ساتھ اس کے امی ابو بھی حیران ہوئے تھے۔۔
کیوں ایسا کیا کر دیا ہے ہماری بیٹی نے
اپ کی بیٹی نے کچھ نہیں کیا لیکن اپ کی بیٹی کو اپنی جان کی پرواہ نہیں ہے
رات کے 11بج رہے ہیں اتنی رات کو وہ ہیر کے گھر سے باہر نکلی ہیں وہ بھی اکیلی۔۔ اپ کو ذرا سا بھی اندازہ ہے ان کے ساتھ کیا ہونے
والا تھا۔۔
کوئی لڑکے ان کے پیچھے لگ گئے تھے اگر یہ مجھے فون نہ ملاتی تو نہ جانے ان کا نام و نشان بھی ملتا یا نہیں۔۔۔ یا خدانخواستہ کیا ہو جاتا ہے ان کے ساتھ۔۔۔
اس کے امی ابو سچ میں انتہا کے پریشان ہوئے تھے۔۔۔ ہمیں نہیں پتہ تھا بیٹا ایسا کچھ ہو جائے گا اور ہمیں تو لگا تھا کہ یہ رات کو ہیر کے پاس
ہی رہے گی شاید۔۔۔
جو بھی ہیں انکل دھیان رکھیں اگے سے ان کا حالات اچھے نہیں ہیں۔۔
ہر کوئی میری طرح نہیں ہوتا کہ ان کو بچانے کے لیے ا جائے دوبارہ کبھی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے غلطی سے میں فون نہیں اٹھاتا تو یہ کیا کریں گی ۔۔۔
اگر میں ان کی مدد کے لیے نہیں اتا تو کون ائے گا ان کی مدد کے لیے ہر دفعہ کوئی بچانے کے لیے نہیں اتا انکل۔۔۔
اور بیٹیاں انمول تحفہ ہوتی ہیں۔۔ ان کو سنبھال کے رکھنا چاہیے۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں ارہی یوسف میں تمہارا شکریہ ادا کیسے کروں تم نے میری بیٹی کی جان بچائی۔۔۔ میں یہ احسان تمہارا کبھی بھی نہیں بولوں گا بیٹا
حیات کے ابو بول رہے تھے
شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور میں نے کوئی بھی احسان نہیں کیا اپ پر۔۔ ان کو بچانا میرا فرض تھا جب اتنے لوگوں کی جان بچاتا
ہوں تو ان کی بھی بچا سکتا ہوں۔۔۔
یہ لڑکی تو ہے ہی پاگل اسے تو خیال ہی نہیں ہے کسی کا۔۔ اب حیات کی امی بری طرح سے حیات کو ڈانٹ رہی تھی اور حیات خاموشی سے ان کی ڈانٹ سن رہی تھی۔۔۔
میں تو کہتی ہوں جلدی ہی اس کی شادی کر دیتے ہیں۔۔۔
ویسے بھی پڑھائی تو مکمل ہونے والی ہے اس کی رشتہ تو دیکھنا شروع کرتے ہیں نا اس کا۔۔۔
حیات کی امی اب ماں والی سوچ لے کر بات کر رہی تھی۔۔
بات تو صحیح ہے تمہاری بیگم لیکن فی الحال کوئی اچھا رشتہ نظر نہیں ارہا۔۔۔
اس پاس دیکھ لیں انکل نظر ا جائے گا یہ اواز یوسف کی تھی اور حیات نے انکھ اٹھا کر یوسف کو دیکھا۔۔ وہ غصے میں نہیں تھا۔۔
بیٹا آس پاس کہاں سے دیکھوں بہت رشتے دیکھے ہیں کوئی اچھا ہی نہیں ہے۔۔۔
حیات بیٹا اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو ہمیں بتا دو۔
نہیں مجھے کوئی بھی پسند نہیں ہے البتہ ایک پولیس والا میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔۔۔
حیات واقعی منہ پھٹ تھی ۔۔ اس کے اس طرح بولنے پر یوسف گڑبڑایا تھا۔۔
ت۔۔ ٹھیک ہے انکل میں چلتا ہوں
وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور پھر فورا سے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے تھے اس نے پانی تک نہیں پیا تھا ۔۔۔

حیات اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی
اس کو یوسف کے الفاظ یاد ائے۔۔ یوسف کو شاید وہ الفاظ یاد نہیں تھے یہ شاید یاد تھے اور وہ یاد نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔۔
اس نے جانے انجانے میں غصے میں اپنی محبت کا اقرار کر دیا تھا۔۔۔ وہ اس طرح سے اپنی محبت کا اقرار کرے گا اتنی اچانک حیات کو بھی
اندازہ نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی۔۔۔

یہ ملیشیا کی کسی سڑک کا منظر تھا رات چھا رہی تھی اور برف باری اسمان سے برس رہی تھی۔۔۔ ملیشیا کو برف نے اپنے لپیٹ میں لے رکھا تھا۔۔ سفید چادر زمین نے اوڑ رکھی تھی۔۔
ملیشیا اس وقت بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔ رات بہت ہو رہی تھی تقریبا دو بجے کا وقت۔۔۔ اور اس رات میں ایک سنسان سڑک پر کوئی ہیوی بائک چل رہی تھی پوری رفتار سے۔۔ چلانے والے کا چہرہ نظر نہیں ارہا تھا ہیلمٹ کی وجہ سے۔۔کچھ وجود بھی واضح نہیں ہو رہا تھا اندھیرے میں۔۔۔ہاں جب کسی روشنی کی جگہ سے بائیک گزرتی تو ہلکا سا وجود واضح ہوتا کثرتی جسم۔۔۔ بائک اس وقت پوری رفتار سے چل رہی تھی۔۔۔ بائک چلانے والے کے ہاتھ میں یقینا کچھ تھا کوئی بندوق یا پھر شاید کوئی چاکو۔۔ چاکو لے کر بائک چلانے والا ادھی رات کو کیا کر
رہا تھا یا کیا کرنے والا تھا یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔۔ ملیشیا میں سناٹا چھایا ہوا تھا چرند پرند ہر چیز اس وقت ارام کر رہی تھی۔۔۔ اور اس ارام کرنے کے وقت میں ایک سنسان سڑک پر ایک موٹر سائیکل والا اپنی بائیک دوڑا رہا تھا۔۔۔ وہ کون تھا کوئی نہیں جانتا تھا وہ اس ملک کا تھا بھی یا نہیں یا وہ اس شہر کا بھی تھا یا نہیں یہ بھی کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔ وہ ہاتھ میں
چاکو لے کر کیا رہا تھا دیکھنے والا یقینا یہی سوچتا۔۔۔ اس کے ہاتھ میں ایک
تیز دھار چاکو تھا۔۔۔ ایک ہاتھ سے اس نے بائیک کا ہینڈل سنبھال رکھا تھا۔
پوری رفتار سے بائیک چلاتے ہوئے وہ کسی کے پاس سے گزرا تھا کوئی ادمی۔۔
کوئی 37 38 سال کا ادمی۔۔ وہ ادمی فون بوتھ کے اندر داخل ہونے ہی والا تھا۔۔ جب اس کے پاس سے ایک بائیک گزری تھی۔۔ جب
وہ بائک اس کے پاس سے گزری تو اس کو اپنے جسم میں کوئی چیز دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اور پھر اسے اندازہ ہی نہیں ہوا وہ بے
ساختہ زمین پر گرا تھا۔۔ ایک پل لگا تھا۔۔ اس کی کمر سے خون نکلنے لگا تھا چاکو اس کی کمر پر لگا تھا۔۔۔ البتہ چاکو مارنے والے نے چاکو کو
چھوڑا نہیں تھا۔۔ وہاں پر کوئی ثبوت نہیں تھا۔۔ علاقے میں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ بھی نہیں تھا۔۔ کسی نے اس کو دیکھا بھی نہیں تھا۔۔
وہ ادمی زمین پر گرا پڑا تھا۔۔ یقینا وہ ادمی مر چکا تھا۔۔۔ چاکو اتنا تیز دھار تھا کہ بچنا تو ناممکن تھا۔۔۔
زمین پر خون کے نشان نظر ارہے تھے۔۔۔ صبح کو جب اس کی لاش وہاں پڑی ملتی تو پورے ملیشیا میں یقینا شور مچا ہونا تھا لیکن قاتل کا کوئی بھی پتہنہیں لگا سکتا تھا۔۔۔۔ مارا کس نے تھا یہ کوئی بھی پتہ نہیں لگا سکتا تھا کوئی سراخ ہی نہیں تھا قاتل کو پکڑنے کے لیے ۔۔۔ ہیوی بائک دور جا رہی تھی اس ادمی نے اپنی بند ہوتے ہوئے انکھوں سے ہیوی بائک کو دور جاتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔ ہیوی بائک ایک بلڈنگ کے سامنے ا کر رکی۔۔۔ موٹر سائیکل پر بیٹھے ہیلمٹ والے انسان نے اپنے چہرے سے ہیلمٹ اتارا اور بائیک پر ٹانگا۔۔۔ اس کی پشت نظر اتی تھی۔۔ اندھیرے میں چہرہ ابھی بھی واسع نہیں
ہو رہا تھا۔۔ وہ بلڈنگ کے اندر جا رہا تھا۔۔ ۔۔۔ بلڈنگ کی جلتی مدھم
روشنیوں میں اس کا ہلکا سا چہرہ واضح ہوا تھا۔۔۔ یقینا وہ انسان سفید رنگ کا تھا۔۔ اس کے گلے کی رگیں نظر اتی تھی۔۔۔ اس کے
ہاتھوں کی بھی رگیں نظر اتی تھی۔۔ اس کے ہاتھ بہت خوبصورت تھے۔۔ کم سے کم دیکھنے والا یہی سوچتا لیکن ان ہاتھوں سے کچھ دیر پہلے وہ کیا کارنامہ سرانجام دے کر ایا تھا یہ کسی کو نہیں پتہ تھا۔۔۔ اس نے جب قدم بلڈنگ کی لفٹ میں رکھا تو اس کا چہرہ روشنی میں صحیح سے
واضح ہوا تھا۔۔۔ زرد روشنی میں اس کا چہرہ چمک اٹھا تھا
سفید رنگت اور بھوری انکھیں۔۔۔ سیا کالے بال۔ ۔۔جو زیادہ نہیں ہلکے گھنگرالے تھے ۔۔۔۔ کثرتی جسم چوڑا سینہ لگتا تھا یقینا وہ ورزش
کا عادی تھا۔۔۔ سیاہ پینٹ شرٹ میں ملبوس ۔۔۔ اور سیاہ جوگرز پہنیں
وہ واقعی بائیک رائڈر لگتا تھا۔۔ لیکن قاتل نہیں لگتا تھا۔۔۔ دیکھنے
والوں نے اس کا چہرہ دیکھ رکھا تھا۔۔۔ وجیہہ نقوش کا مالک ۔۔۔
وہ کوئی اور نہیں قاسم خان تھا
واللہ قاسم خان ملیشیا میں یہ کیسے ہو سکتا تھا وہ تو مری جا رہا تھا پھر ملیشیا۔۔۔ ؟
لیکن وہ قاسم خان تھا۔۔ معصوم ۔۔ شریف مدھم سا لہجہ رکھنے والا قاسم خان کوئی توقع بھی نہیں کر سکتا تھا وہ ایک قاتل بھی تھا۔۔۔ وہ فلیٹ میں داخل ہوا اس فلیٹ میں پہلے سے ہی کوئی موجود تھا۔۔ شاید کوئی بوڑھا ادمی ۔۔ وہ اس کے پاس جا کر بیٹھا ۔۔۔
کام ہو گیا تمہارا ۔۔
تمہارا بہت شکریہ قاسم تم نہیں ہوتے تو میں بہت پریشان رہتا اس ادمی کی وجہ سے۔۔ وہ انتہا کا بلیک میلر تھا ۔۔۔ وہ بلیک میل کرتا تھا کہ
وہ پولیس میں جا کر بتا دے گا کہ میں ڈرگ سمگل کرتا ہوں وہ بوڑھا ادمی بول رہا تھا۔۔۔
خیر اپنی یہ فضول باتیں چھوڑو ۔۔ مجھے میرے پیسے دو ۔۔۔ قاسم کے لہجے سے کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ یہ وہی قاسم تھا جو ہیر کے گھر میں بیٹھا تھا ۔۔ سلجھا ہوا تمیزدار لڑکا یہ وہ قاسم نہیں تھا لیکن یہ وہی قاسم۔۔۔
دے دوں گا میں کون سا تمہارے پیسے کھانے والا ہوں لڑکے ۔۔۔
جو بھی ہے تمہارا کام ہو گیا ہے نا تو مجھے میری قیمت ادا کرو کچھ وقت میں مجھے واپس پاکستان بھی جانا ہے ۔۔۔ میرے پاس زیادہ فالتو کا وقت نہیں ہے تم جیسے لوگوں کے لیے۔۔۔
تم پیسے کے پیچھے بہت بھوکے ہو قاسم۔۔۔
بھوکا نہیں ہوں میری محنت کی کمائی ہے اتنا تو بنتا ہے قتل کرنا اسان نہیں ہوتا۔
تم کر کے دکھاؤ ان بوڑھی ہڈیوں میں کسی کا قتل تو پھر تمہیں مانو۔۔
قاسم کے کہنے پر وہ بوڑھا ادمی خاموش ہو گیا تھا کیا ہی بولتا اب وہ اس کو۔۔
کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اگر وہ اس کو کچھ بولتا
تو شاید کچھ دیر بعد اس کی لاش بھی اس فلیٹ میں پڑی ملنی تھی
پھر اس نے ایک نوٹوں سے بھرا بیگ قاسم کو تھما دیا۔۔۔ اس نے بیگ پکڑا اور پھر فلیٹ سے باہر نکل گیا۔۔۔ وہ نیچے ایا اور واپس اس نے اپنے چہرے پر ہیلمٹ پہنا بائک سٹارٹ کی اور بائیک کو تیز رفتاری سے اگے لے گیا چہرہ اب نظر نہیں ارہا تھا پہچاننے والا پہچان نہیں سکتا تھا وہ کون تھا۔۔۔۔
اور جیسا سوچا تھا صبح کو وہی ہوا قاتل کا کوئی نام ونشان نہیں ملا تھا پولیس قاتل کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ لیکن کچھ پتہ نہیں تھا
وہ ادمی مرا ایسی جگہ پر تھا جہاں پر نہ کوئی کیمرہ تھا اور نہ ہی اس پاس کوئی گھر۔۔ نہ ہی کوئی ایسی جگہ ایسا سراخ کچھ بھی نہیں تھا بس ایک چاقو کا نشان تھا لیکن چاکو وہاں موجود نہیں تھا۔۔ کہ چاکو پر لگے فنگر پرنٹ ہی کسی سے میچ ہو جاتے۔۔۔ وہ قاسم خان تھا وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر نہیں جاتا تھا۔۔۔ اس کو پکڑے جانے کا خوف نہیں تھا۔۔ لیکن وہ خود کو بچانا اچھے طریقے سے جانتا تھا۔۔۔ یہ قاسم خان کا پہلا قتل نہیں تھا جو اس نے کیا تھا اس سے پہلے وہ کئی لوگوں کو مار چکا تھا۔۔۔ لیکن سب کی نظر میں قاسم خان کا رویہ اور امیج بالکل صاف تھی۔۔۔ وہ ایک شریف اور تمیزدار پٹھان تھا۔۔۔ کوئی سو بار بھی اگر کہہ دیتا کہ قاسم خان نے کسی کا قتل کیا ہے تو نہ تو قاسم کے گھر والے مانتے اور نہ ہی اس کے جاننے والے۔۔۔ اور سب کے منہ پر یہی ہوتا قاسم ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتا وہ ایسا لڑکا ہی نہیں ہے۔۔۔ اور وہ کیسا لڑکا ہے یہ کوئی
بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔ اس کو بس پیسوں سے غرض تھی ۔۔ ہاں وہ ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا جس کا نام ہیر خان تھا۔۔۔ اور وہ اس محبت کو پانا جانتا تھا اپنا بنانا جانتا تھا لیکن فی الحال وہ اس پر غور نہیں کر رہا تھا۔۔۔ فیحال قاسم کا کوئی دھیان نہیں تھا اس کی طرف۔۔فی الحال قاسم خان کو اور بھی بہت کام تھے کرنے کے لیے۔۔۔ ابھی تو قاسم خان نے واپس
جا کر۔۔ ایک لڑکی کا جنازہ اٹھانا تھا۔۔۔ اور اس لڑکی کو اس بات کی خبر بھی نہیں تھی کہ اس کی موت اس کے قریب اتی جا رہی تھی وہ یہ
بات جانتی بھی نہیں تھی۔۔ جان جاتی تو وہ قاسم کے قریب انا بھی پسند نہ کرتی۔۔۔۔ اگلے دو دن گزارنے کے بعد جب ملیشیا کے حالات
تھوڑے ٹھیک ہوئے اور فلائٹ وغیرہ کھل گئیں ۔۔ تو قاسم واپس اگیا تھا البتہ اس کے گھر والوں نے پوچھا ضرور تھا کہ اتنا وقت کیوں
لگا دیا مری گئے تھے انڈیا تو نہیں چلے گئے تھے۔۔۔ اور قاسم صاحب نے اگے سے کہہ دیا تھا کہ بس ایسے ہی ۔۔ گھومنے پھرنے کا دل کر پڑا تھا اس لیے نہیں ایا۔۔ ادم خان کے حساب سے قاسم خان دنیا کا سب سے فرمانبردار اور اچھا بیٹا تھا لیکن صرف بیٹا۔۔ وہ صرف اچھا بیٹا تھا
اچھا انسان۔۔ یہ تو توقع ہی کوئی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ جو اس کی حقیقت جانتا تھا وہ ۔۔۔۔۔


یہ صبح کا وقت تھا ہیر اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی یونیورسٹی جانے کے لیے۔۔جب اس کو باہر رخسار کی اواز سنائی دی تھی ساتھ میں ہی حیات بھی تھی وہ نہ جانے اتنی صبح صبح کیوں اگئی تھی اس کی طرف ہیر نے دوپٹہ لیا سر پر اور قدم کمرے سے باہر رکھے۔۔۔ لاؤنج میں وہ دونوں
بیٹھی ہوئی تھی اور ہیر کی امی ان کو پانی وغیرہ دے رہی تھی۔۔
تم لوگ یہاں پر کیوں اگئی ہو یونیورسٹی وغیرہ نہیں جانا کیا۔۔
نہیں جانے کا دل نہیں ہے کیوں نہ ہم گھر پر رہیں۔۔
تمہارا دماغ ٹھیک ہے خراب تو نہیں ہو گیا۔۔۔ یونیورسٹی نہ گئے نا تو پروفیسر نے وہ حشر کرنا ہے نا کہ یاد رکھو گی۔۔
میں تو نہیں جا رہی جو کرنا ہے کر لو اج میرا کوئی موڈ نہیں ہے کہیں پر بھی جانے کا اج میں پورا دن تمہارے گھر پر رہوں گی انٹی سے باتیں کروں گی اور بس۔۔ رخسار نے اپنا پلان بتایا تھا جبکہ حیات بھی اس پلان میں شریک تھی۔۔
اچھا مطلب سچ میں تم لوگ نہیں جاؤ گے یونیورسٹی۔۔
ہاں تو ہم کیا مذاق کر رہی ہیں تمہارا ہمارا مذاق بنتا ہے کیا لڑکی اس بار رخسار بولی تھی تو ہیر نے
اس کو گھورا۔۔۔
اچھا مطلب چلو اب تم لوگ نہیں چا رہی تو پھر میں اکیلی وہاں جا کر کیا کروں گی
اکیلی کہاں ہوگی زرمان بھائی ہیں تو اس بار حیات قریب ہو کر انکھ مارتی ہوئی بولی تو ہیر نے اس کو گھور کر دور کیا تو حیات سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
ہاں تم اکیلی ہی تو ہو گئی کوئی ضرورت نہیں ہے جانے کی گھر پر ہی رہو
ویسے بھی کون ہے تمہیں وہاں یاد کرنے والا نہ کسی کو تم سے محبت ہے نہ کوئی تمہیں وہاں یاد کرتا ہے کہ تم نظر نہیں اؤ گی تو پاگل ہو جائے گا یا تمہیں فون کر دے گا یا پھر کوئی میسج ہی کر دے گا حیات اب بولے جا رہی تھی
اور ہیر نے دل میں سوچا تھا کہ اگر کوئی اگیا تو بس اج وہ نہیں بچے گی ۔۔
چپ کرو لڑکی دماغ درست ہے تمہارا پاگل ہو گئی ہو کیا بول رہی ہو۔۔۔
تو میں تو سچ بول رہی ہوں ابھی وہ باتیں کر ہی رہی تھی جب ریحان بھی اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا وہ اتنا شور سن کے اٹھا تھا اور اس وقت اس نے اپنا چہرہ تک نہیں دھویا تھا وہ انکھیں ملتا ہوا باہر ایا ۔۔
یار کیا شور مچایا ہوا ہے رات کو ہم بہت لیٹ سویا تھا ذرا تو ارام کرنے دیا کرو۔۔
ریحان بولا تو رخسار کی نظر اس پر گئی اور جب ریحان نے اپنی انکھیں مل کے انکھیں کھولیں تو رخسار کا چہرہ دیکھ کر وہ واپس اندر کمرے میں
بھاگا تھا اس کو یہ توقع نہیں تھی وہ اس کو اس حالت میں دیکھے گی اجڑی ہوئی حالت میں ۔۔۔ کچھ دیر بعد جب وہ کمرے سے باہر ایا تھا تو نہ وہ
نائٹ ڈریس میں تھا اور نہ ہی اس کے بال بکھرے پڑے تھے ۔۔۔
جب وہ باہر ایا تھا تو وہ شلوار قمیض میں تھا ۔۔۔ بالوں کو اس نے کنگھی سے سیٹ کیا ہوا تھا ہیر نے اس کو دیکھا ایک دم سے اندر کیوں
بھاگ گئے تھے تم۔۔۔نہیں بس ویسے ہی ایسی شکل لے کر تو باہر ا کر بیٹھ نہیں سکتا
اچھا شکل بدلنے گئے تھے اندر ہیر مذاق کرنے کے موڈ میں تھی۔۔۔
زیادہ بولو نہیں اپنی شکل دیکھی ہے پورا پورا چمچ بھر کر تو تم اپنی انکھوں میں یہ کالا یہ کیا ہے لگایا انکھوں میں تم نے ۔۔
کاجل کہتے ہیں اس کو ۔۔۔ رخسار فورا بولی ۔۔ ہاں وہی کاجل چمچ چمچ بھر کر تم نے اپنی انکھوں
میں کاجل ڈالا ہوا ہے ہیر۔۔ ریحان نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا تو حیات اور رخسار کی ہنسی نکل گئی۔۔۔
ہمارا مذاق تو تم بعد میں بنانا پہلے میک
اپ کی چیزوں کا نام تو صحیح سے لینا سیکھ لو۔۔۔۔ اپنی بیوی کو کیا لا کے دو گے جب وہ مانگے گی کہ ہم کو کاجل چاہیے ۔۔ یا پھر فاؤنڈیشن لا کے دو۔۔
فاؤنڈیشن کا ہم کو پتہ ہے یہ وہی چونا ہوتا ہے جو تم لوگ اپنے منہ پر لگاتی ہو ۔
ریحان بولا تو ہیر گہرا سانس لے کر رہ گئی تم سے بات کرنا ہی فضول ہے
تم ہماری میک اپ کی چیزوں کو چونا بولتے ہو۔۔۔
ہاں تو اور کیا بولے کیا فضول چیزیں اپنے چہرے پر لگاتی رہتی ہو۔۔۔ ہم تو کوئی فضول چیز
نہیں لگاتی اپنے چہرے پر ہیر پورا مقابلہ کر رہی تھی اپنے بھائی سے۔۔۔
اور رخسار خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی نظر ریحان پر پڑتی تو نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا تھا کبھی کبھی محبوب کا بس سامنے ہونا بھی کتنا سکون دیتا ہے نا۔۔۔
بس بھی کر دو اب لڑنا چھوٹے بچے نہیں ہو تم لوگ بڑے ہو گئے ہو ہیر کی امی ا کر بولی تو دونوں ہی چپ ہو گئے تھے۔۔۔
بابا کہاں پر ہے ریحان نے پوچھا تھا۔۔۔
وہ ارام کر رہے ہیں ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
ریحان اج تمہیں جانا ہے دلاور کے ساتھ زمین پر۔۔۔
ویسے دلاور بھائی کے ساتھ جانے کا تو کوئی ارادہ نہیں ہے میرا امی لیکن بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو میں چلا جاؤں گا ریحان نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کر دی۔۔۔
اور پھر اٹھ کر اپنے ابو کے کمرے میں اگیا وہ ارام کر رہے تھے ان کی طبیعت خراب تھی انہیں ہلکا بخار ہو رہا تھا اور سر میں بھی درد تھا سردی کے مہینے چل رہے تھے ۔۔۔
دسمبر کی اخری راتیں تھیں ۔۔ اور تھنڈ اپنے عروج پر تھی اسے موسم میں تو کوئی بھی بیمار پڑ سکتا تھا۔۔۔ پھر چاہے وہ کامران خان ہوں ۔۔۔
یہ پھر زرمان راجپوت۔۔۔ زرمان کے گھر بھی یہی حال تھا زرمان کو اس وقت نزلہ لگا ہوا تھا اور اس کی طبیعت شدید خراب تھی سردی کی
وجہ سے ۔۔۔ رات جب نیند نہیں ائی تو وہ اٹھ کر چھت پر چلا گیا تھا۔۔
اور یقینا تیز ہوا اور دھند کی وجہ سے اس کو سردی لگی تھی۔۔۔ صبح کو جب یہ اٹھا تھا تو اس کی طبیعت شدید خراب تھی اس کی امی واقعی بہت پریشان ہوئی تھی ۔۔ اور وہ بیماری کی حالت میں بھی بار بار اپنی ماں کو یہی تسلی دے رہا تھا کہ کچھ نہیں ہوتا امی میں ٹھیک ہو جاؤں گا ہلکا سا بخار ہے ہلکا سا نزلہ ہے وغیرہ وغیرہ
اور زرمان کی ماں کبھی قہوہ پکا کر زرمان کو دیتی تھی تو کبھی میڈیسن کا پتہ سامنے لا کر رکھ دیتی تھی جو کچھ دیر پہلے ہی لے کے ائی تھی وہ
خود جا کر ویسے وہ گھر سے کم ہی باہر نکلا کرتی تھی۔۔ لیکن اج زرمان کی طبیعت خراب تھی اس لیے ان کو خود ہی جانا پڑا تھا زیادہ تر زرمان
خود ہی باہر سے چیزیں لے ایا کرتا تھا جو بھی چاہیے ہوتی تھی۔۔۔
چلو منہ کھولو ۔۔
امی بس کریں مجھے نہیں پینی کوئی بھی دوائی۔۔
اس کی امی بچوں کی طرح اپنے بیٹے کو اس وقت ایک سیرپ پلا رہی تھی وہ کہتے ہیں نہ اولاد جتنی بھی بڑی ہو جائے ماں کے لیے تو چھوٹی
ہی رہتی ہے۔۔۔ یہی حال فی الحال زرمان راجپوت کا ہو رہا تھا۔۔۔
میں نے کہا ہے نا اپنا منہ کھولو تمہیں کس نے کہا تھا کہ ادھی رات کو چھت پر چلے جاؤ وہ ساتھ ساتھ اس کو ڈانٹ رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس
کو دوائی دے رہی تھی وہ ایک لوتا سہارا تھا ان کے پاس اگر اس کو کچھ ہو جاتا یا وہ ذرا بھی ان سے دور ہوتا تو ان کو اس کی فکر کھانے لگتی تھی۔۔۔
ایک واحد زرمان تھا اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔۔ زرمان راجپوت پوری دنیا تھا اپنی ماں کی ۔۔۔ اور زرمان کی پوری دنیا اس
کی ماں تھی لیکن دل میں کوئی لڑکی بسنے لگی تھی یہ بات اس کی ماں اچھے سے جانتی تھی۔۔۔
میڈیسن دے کر اس کی امی اس کے کمرے سے باہر اگئی تھی کہ۔۔۔ اب تم ارام کرو ۔۔۔ اس کے دماغ میں تھا کہ ہیر کالج میں کیا کر رہی
ہوگی یا وہ اج کالج ائی بھی تھی یا نہیں لیکن اس کو خبر ہی نہیں تھی کہ وہ تو گھر میں تھی ۔۔۔۔


یہ شام کا وقت تھا ہیر کے ابو کامران خان کی حالت سنبھلی تو وہ کمرے سے باہر ائے تھے ۔۔۔ اور پھر اپنی بیوی کو بلایا۔۔ بیگم کل کھانے
کا خاص انتظام رکھنا ادم خان ا رہا ہے۔۔۔
بابا بس ادم انکل ا رہے ہیں یا پھر قاسم بھی ساتھ ا رہا ہے ریحان نے پوچھا تھا۔۔۔
لازمی سی بات ہے قاسم اور اس کی امی بھی ساتھ ہی ا رہی ہیں۔۔
اچھا صحیح ریحان برا سا منہ بنا کر سائیڈ پر ہو گیا تھا جبکہ ہیر کا تو پہلے ہی موڈ خراب ہو گیا تھا۔۔۔ وہ
خاموشی سے اٹھی اور اپنے کمرے میں اگئی ریحان کو پتہ تھا کہ اس کا موڈ خراب ہو گیا ہے حیات اور رخسار بھی اٹھ کر ہیر کے ساتھ ہی کمرے میں اگئی تھی۔۔ریحان جب کمرے میں داخل ہوا تو سامنے بیڈ پہ بیٹھے ہیر کو دیکھا ۔۔
اب تمہارا منہ کیوں سوجھ گیا ہے ریحان اندر اتے ہوئے بولا
بس ایسے ہی کل وہ قاسم کا بچہ ارہا ہے۔۔ اور کل پھر ہم کو اس کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا کبھی چائے دینے کے لیے تو کبھی اس کے ماں باپ کا حال احوال پوچھنے کے لیے ۔۔
اور ہم کو اس میں بالکل بھی دلچسپی نہیں ہے ریحان ۔۔۔
پتہ ہے تمہیں اس میں دلچسپی نہیں ہے لیکن تمہیں پتہ ہے نا بابا تمہارا رشتہ قاسم خان سے کرنا چاہتے ہیں ۔۔
بابا کرنا چاہتے ہیں ریحان لیکن ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے اس میں ہم شادی ہی نہیں کرنا چاہتی ابھی ۔۔۔ کیوں ہم پر زور دیتے ہیں سب ہی مل کر ۔۔۔
میں تم پر زور نہیں دے رہا میں نے تو نہیں کہا کہ تم شادی کرو یا نہ کرو۔۔۔ تمہیں جو صحیح لگتا ہے تم وہ کرو۔۔
ہر کوئی تمہاری طرح نہیں ہے نہ ریحان۔۔ہیر بولی ۔۔
حیات جو خاموش بیٹھی تھی بول اٹھی ۔۔ تو تم جا کر منع کیوں نہیں کر دیتی اپنے بابا کو۔۔۔
منع کیا تھا تبھی تو انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی پڑھائی کے بعد شادی کریں گے لیکن قاسم خان سے ہی کریں گے ۔۔۔ تم نہیں جانتی بابا اپنی دوستی توڑنا نہیں چاہتے اور اگر اس رشتے سے انکار ہو گیا تو یقینا ادم انکل سے بابا کی دوستی ٹوٹ جائے گی اور اس سے بابا کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے یہ کوئی بھی نہیں سوچ سکتا۔۔
کیا تمہارے بابا تم سے پیار نہیں کرتے ہیر
رخسار بولی تو ریحان اس کی بات پر مسکرایا وہ بہت پیار کرتے ہیں ہم تینوں سے وہ بہت پیار کرتے ہیں ریحان بولا۔۔
لیکن وہ ایک باپ ہونے کے ساتھ ساتھ کامران خان بھی تو ہیں۔۔ اور پٹھانوں کی انا تو ویسے ہی بہت اونچی ہوتی ہے ۔۔ اپ نہیں جانتی رخسار صاحبہ۔۔
بات تو ویسے صحیح ہے ریحان اپ کی لیکن اپ میں تو وہ انا نہیں ہے۔۔
مجھے تو اپ کے بھائی کیا نام ہے ان کا دلاور خان خاصہ اکڑو لگتے ہیں۔۔
اور صحیح بات بولوں تو مجھے ایک انکھ نہیں بھاتے وہ۔۔
اس کی بات پر ریحان اور ہیر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرائے۔۔۔ اپ کی نسبت وہ بہت عجیب ہے ۔۔۔ اپ میں انا کم ہے یہ شاید ہے ہی نہیں اپ کو لڑکیوں کی عزت کرنا اتی ہے لیکن دلاور خان کو میں نے دیکھا ہے وہ تو ہیر سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔۔
وہ ایسے ہی ہیں ان کو شروع سے عادت ہے وہ سڑے ہی رہتے ہیں ریحان بولا تھا تو رخسار
اور حیات ہنس پڑی
اب تم لوگوں میں سے کوئی بتائے گا کہ جب وہ لنگور کا بچا ائے تو ہم کیا کریں ہیر بولی تھی تو ریحان نے اس کو دیکھا ۔۔۔
کچھ بھی نہیں کرو گی بس کوئی بہانہ بنا دینا تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک۔۔ یا پھر یہ کہہ دینا کہ تمہارے سر میں درد ہے یا پھر میں جا کر بابا کو باہر کہہ دوں گا کہ تمہیں بخار بہت ہو رہا ہے
یقینا پھر بابا تمہیں نہیں بلائیں گے۔۔
ہاں یہ ائیڈیا ٹھیک ہے ہیر نے فورا سے ہاں کر دی تھی۔۔
بس پھر تیار رہنا جب وہ ائے تو ایکٹنگ اپنی شروع کر دینا کہ تمہاری طبیعت بہت خراب ہے تمہیں بخار ہو رہا ہے اور تمہارے سر میں بھی بہت درد ہے۔۔۔
لیکن اگر کسی نے چیک کیا بخار کا تو ہمیں تو
بخار ہی نہیں ہوگا تو کیا کروں گی میں۔۔
وہ تم چھوڑو میں دیکھ لوں گا کیا کرنا ہے بخار کا بہانہ نہیں بنائیں گے بول دیں گے تمہارے سر میں شدید درد ہو رہی ہے بس سر درد کا بہانہ ٹھیک ہے ہیر نے گردن ہلا دی ریحان بھرپور ساتھ دینے والا تھا۔۔۔
ان سب باتوں کے بعد کچھ دیر بعد حیات اور رخسار واپس چلے گئی تھی جبکہ ہیر کا پورا ارادہ تھا کہ وہ ایک بار دوبارہ سو جائے گی ویسے بھی اج چھٹی کر لی تھی تو اس کا ارادہ تھا ارام کرنے کا
ریحان بھی اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ ریحان اپنے کمرے میں ایا ایک نظر خود کو ائینے میں دیکھا پتہ نہیں کیا لیکن اس کو شدید خوشی ہوئی تھی کہ رخسار نے دلاور کی نہیں اس کی تعریف کی تھی جبکہ ریحان کو خدشہ تھا کہ شاید رخسار دلاور کو پسند کرنے لگی ہے لیکن ایسا نہیں تھا لیکن یہ بھی پکا نہیں تھا کہ وہ اس کو بھی پسند کرتی تھی یا صرف تعریف ہی کر رہی تھی ریحان کو اب یہی پتہ لگانا تھا کہ وہ اس کو پسند کرتی تھی یا نہیں اور ابھی وہ اسی بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ یہ بات کیسے پتہ لگائے لیکن اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ بات پتہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں تھی یہ بات خود ہی سامنے ا جانی تھی کہ رخسار کو یہ پسند تھا یا پھر نہیں ۔۔۔۔

یہ شام کا وقت تھا یوسف اس وقت اپنے کمرے میں کھڑا کچھ کپڑے اپنے بیگ میں پیک کر رہا تھا یقینا اس کا ارادہ تھا کہیں جانے کا لیکن کہاں یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
یاسر پاس کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں اپنا بیگ تھا اور جہاں یوسف ہو وہاں یاسر نہ ہو ایسا تو ہو ہی
نہیں سکتا تھا ۔۔۔
ان کا ارادہ تھا اسلام اباد جانے کا ائڈیالہ جیل میں ۔۔۔
بس ایسے ہی یوسف کا دل کیا اور اوپر سے بھی ارڈرز تھے کہ ایک بار جا کر ذرا جیل کا معائنہ کراؤ ۔۔۔ تو یوسف اسی لیے تیار تھا وہ پہلی بار اسلام اباد نہیں جا رہا تھا اکثر جاتا تھا اور اکثر انہی کاموں کے لیے وہ جاتا تھا ویسے یہ کام اس کا نہیں تھا ۔۔ لیکن پھر بھی اگر مہینے یا سال میں کبھی کسی دوسرے شہر جانے کا موقع ملے تو یقینا وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے تو نہیں دے گا۔۔ بے شک پھر وہ موقع ڈیوٹی کی وجہ سے ان کیوں نہ ملتا ہو۔۔۔ اور وہ صرف اسلام اباد جیل دیکھنے ہی تو نہیں جا رہا تھا ۔۔ وہ جب بھی اسلام اباد جاتا تھا تو اکثر گھومتا تھا۔۔
یوسف کے ایک تایا وہاں پر رہتے تھے لیکن یوسف کبھی ان کے گھر نہیں گیا تھا کیونکہ یوسف
کو کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی ان کے گھر جانے کی۔۔ لیکن اس بار یوسف کا ارادہ تھا کہ وہ ان کے گھر جائے گا یقینا پہلے تو وہ اس کو پہچان
ہی نہیں پائیں گے کیونکہ اب سے چھ سال پہلے یوسف ان کے گھر گیا تھا اس وقت نہ یوسف ایسا کثرتی جسم رکھتا تھا اور نہ ہی ایسا چہرہ رکھتا تھا ۔۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ اور خوبصورت ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ اور بدلتا بھی جا رہا تھا۔۔۔
کچھ گھنٹوں بعد اس کی فلائٹ تھی۔۔۔

جب وہ فلائٹ میں ا کر بیٹھے تھے تو یاسر کو ونڈو سیٹ ملی تھی۔۔ اور یاسر تقریبا پہلی بار ہی جہاز میں بیٹھ رہا تھا۔۔ یوسف سکون سے بیٹھا ہوا تھا اس کو عادت تھی۔۔۔ یاسر اکثر پہلے بھی اس کے ساتھ جھنگ سے اسلام اباد اتا جاتا رہتا تھا لیکن بائی روڈ ۔۔بائی ایئر وہ پہلی بار کہیں جا رہا تھا ۔۔ یوسف سکون سے بیٹھا ہوا تھا جہاز میں اناؤنسمنٹ جاری تھی ۔۔۔
جب جہاز چلنے لگا تو یاسر کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔۔۔
سر جی جہاز کو رکوا دینا اس نے یوسف کو دیکھتے ہوئے کہا یاسر کا رنگ اڑا ہوا تھا ۔۔
خدا کا خوف رکھو یاسر کیا حالات کر لیے ہیں اپنے چھوٹے بچے تو نہیں ہو تم جو اس طرح سے ڈر رہے ہو رنگ دیکھو اپنا پھیکا پڑ گیا ہے۔۔
سر جی پہلی بار بیٹھا ہوں بہت ڈر لگتا ہے سرجی
یاسر کچھ نہیں ہوتا میں ساتھ ہوں نا ۔۔
سر جی اگر ہم ہوا میں اڑتے اڑتے گر گئے تو ۔۔۔
کیا فضول کی باتیں کر رہا ہے یار بھائی ۔۔۔ جہاز اب پرواز بھرنے کو تیار تھا اور یاسر نے بے ساختہ یوسف کا بازو پکڑا تھا اتنی زور سے کہ یاسر
کے ناخن یوسف کے بازو میں دھنسے تھے ۔۔۔ اور یوسف کراہ کر رہ گیا تھا ۔۔
یاسر نے زور سے اپنی انکھیں بند کر رکھی تھیں۔۔۔ جب جہاز ہوا میں پرواز کر گیا یاسر کو جب سب کچھ ٹھیک لگنے لگا تو اس نے اپنی پہلے ایک انکھ کھول کے دیکھا پھر دوسری کھولی اور یوسف کے چہرے کو دیکھا یوسف اسی کو گھور رہا تھا ۔۔۔
میں تیرا شوہر ہوں جو میرا ہاتھ اس طرح پکڑ کر رکھا ہے ۔۔
یا تو میری بیوی ہے بھائی جو اتنا ڈر رہی ہے پہلی بار جہاز پہ بیٹھنے پر ۔۔ یاسر مرد بن مرد کو ڈر نہیں لگتا بھائی ۔۔
سر جی مرد کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے۔۔
یہ جھوٹ ہے سر جی کے مرد کو درد نہیں ہوتا مرد کو ڈر نہیں لگتا ۔۔ مجھے ڈر بھی لگتا ہے اور درد بھی ہوتا ہے ۔۔۔ یاسر یوسف کا بازو چھوڑتا بولا تو یوسف کی اس بار ہنسی نکل گئی ۔۔اتنا سچ نہیں بولنا تھا بھائی۔۔۔
سر جی سچ بولنا اچھی بات ہے منا ہم پولیس والیں ہیں لیکن سر جی ہم سچے اور اچھے پولیس والے ہیں ۔۔ اس کی بات پر یوسف اب ہنستا
جا رہا تھا۔۔۔

جہاز اسلام اباد کی زمین پر اترا ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ ایئرپورٹ سے باہر نکلے ۔۔۔
پہلے ان کو ہوٹل جانا تھا اور اس کے بعد جیل۔۔۔ یہ دونوں ہوٹل پہنچے
اپنے اپنے روم میں چلے گئے کچھ دیر بعد فریش ہو کر کھانا وغیرہ کھا کر باہر ائے یوسف کو اسلامباد پولیس اسٹیشن کی طرف سے گاڑی دی گئی تھی ۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھا اور کچھ دیر بعد وہ اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے تھے ۔۔۔
پھر ایک کانسٹیبل ان کو اپنے ساتھ لے کر اندر داخل ہوا ساتھ ساتھ یوسف جیل دیکھ رہا تھا قیدیوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اور اُن کے بارے میں پوچھ بھی رہا تھا ۔۔۔ جب ایک جیل کے پاس سے گزرا تو اس نے کانسٹیبل سے پوچھا ۔۔
یہ یہاں کب سے ہے اور کیوں ایا ہے یہاں ۔۔۔
سر جی اس کو یہاں پر تین سال ہو گئے ہیں ۔۔ کونسٹیبل نے بتایا ۔۔
اور یہ قتل کے کیس میں یہاں پر ایا تھا ۔۔
اچھا کس کا قتل کیا تھا اس نے۔۔۔سر جی اس نے اپنی بہن کا قتل کیا تھا اپنے ہونے والے بہنوئی کے ساتھ مل کر اس کی بہن کسی لڑکے
کو پسند کرتی تھی۔۔ وہ لڑکا رشتہ لے کر ان کے گھر ایا تھا لیکن اس کے گھر والوں نے منع کر دیا تھا۔۔ اس کی بہن بھاگ نکلی تھی۔۔
اُس کی بہن نے شادی کر لی تھی لیکن یہ لوگ اس کو ڈھونڈ رہے تھے
تقریبا دو سال کے بعد اس کی بہن کا پتہ لگ گیا تھا ان لوگوں کو ۔۔۔ پھر اس نے اپنی بہن اور اس کے شوہر کو گولی مار دی تھی اس لڑکے
کو جس سے اس کی بہن محبت کرتی تھی ۔۔۔ اس کا ہونے والا بہنوئی مطلب وہ لڑکا جس سے یہ لوگ اپنی بہن کی شادی کرنا چاہتے تھے وہ بھی بیچ میں شامل تھا ۔۔۔ اس سے کچھ پوچھو تو ہر بات پر یہی کہتا ہے کہ غیرت کے نام پر مارا ہے ہماری غیرت کو مٹی میں ملا دیا تھا ۔۔
اور اس کو تو کوئی غم نہیں ہے اس کے مر جانے کا ۔۔۔
یوسف نے اس کو دیکھا وہ خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا ۔۔ اور اس قیدی کے چہرے سے حقیقت میں نہیں لگ رہا تھا کہ اسے کوئی غم تھا اپنی
بہن کو مارنے کا۔۔۔
مرد بھی ایک دن اپنی انا لے کر مر جائیں گے یوسف نے کہنا شروع کیا اس قیدی نے چہرہ اٹھا کر یوسف کے چہرے کو دیکھا
وہ لوگ جن کو اپنی انا سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے جو اپنی انا کے لیے دنیاوی عزت کے لیے کسی کو بھی مار سکتے ہیں وہ بھی ایک دن مر جائیں گے۔۔
تم نے میں نے سب نے ایک دن مر جانا ہے۔۔۔ یہ ہمارا معاشرہ ہے
جس میں ایک عورت کھل کر جی نہیں سکتی یہ ہمارے معاشرے میں رواج ہے محبت ہو جائے تو جان سے مار دو اب کی بار یوسف تنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔
ایسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو کیوں نہیں مارتا محبت ہونے پر کوئی ماں کیوں لعنت و ملامت نہیں کرتی اپنے بیٹے کو محبت کر بیٹھنے پر کوئی بہن اپنے بھائی کی جان کیوں نہیں لے لیتی غیرت کے نام پر۔۔۔
اج کے دور میں جو ہو رہا ہے وہ نبی کے دور میں نہیں ہوتا تھا نبی کے دور میں عورتوں کو جینے کا حق تھا ہمارے نبی کے دور میں ایک عورت ہمارے
نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر اپنا ہی رشتہ لے کر گئی تھی ہمارے نبی نے حضرت فاطمہ مطلب اپنی بیٹی سے پوچھا تھا کہ فاطمہ علی کا رشتہ ایا ہے ہاں کر دوں ۔۔تمہیں قبول ہے۔۔۔لیکن اج کے دور میں یہ نہیں ہوتا اج کے دور میں عورت کو گولی مار دی جاتی ہے زہر دے دیا جاتا ہے ۔۔یا جلا دیا جاتا ہے غیرت کے نام پر ۔۔۔ ایسی غیرت کو تم لوگوں نے بھی ایک دن مٹی میں لے کر مر جانا ہے یوسف تیکھے الفاظ بول رہا ۔۔ یوسف سچ دکھا رہا تھا وہاں کھڑے ہر انسان کو ۔۔۔ میں سب مردوں کی بات نہیں کر رہا لیکن مردوں کی غیرت بہن بیٹی اور ماں پر ہی کیوں جاگتی ہے ۔۔۔ تب غیرت کہاں ہوتی ہے جب تم لوگوں کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے تب خیال نہیں اتا کہ جس سے محبت ہوئی ہے وہ بھی کسی کی
بیٹی ہے کسی کی بہن ہے اس کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر اس کا نام بدنام کرتے ہوئے تم لوگوں کی غیرت کہاں پر چلی جاتی ہے ۔۔۔
سکول کالج کے باہر کھڑے ہو کر لڑکیوں کو اواز دیتے ہو نارے لگاتے ہو کبھی مکا فات عمل کا نام سنا ہے ۔۔۔ جو بیج بہو گے اسی کو کاٹو گے نا ۔۔
تم دوسروں کی بہن بیٹی کی عزت نہیں کرتے اور تمہارے دماغ میں ہوتا ہے کہ تمہاری بہن بیٹی اور ماں کو سب عزت دیں ۔۔۔ تمہیں احساس ہے تم نے اپنی بہن کا قتل کیا ہے ۔۔۔ وہ بہن جو تمہارے ساتھ پروان چڑھای ۔۔۔ اس نے گناہ نہیں کیا تھا ۔۔۔ اس نے شادی کی تھی نکاح کیا تھا۔۔۔ تم نے اس کو اس جہان سے تو ختم کر دیا۔۔ لیکن اگلے جہان میں وہ اس مرد کی ہی بیوی کہلائے گی۔۔۔
وہ ان 70 حوروں کی سردار ہوگی ۔۔۔ جو ایک مرد کو اللہ جنت میں دیں گے ۔۔۔ تمہیں ذرا شرم نہیں ائی اس وقت تمہاری غیرت کہاں
تھی کہ یہ تمہارے ساتھ پروان چڑھی بہن ہے تمہاری۔۔ تم اپنی انا کے پیچھے اپنی بہن کی جان کیسے لے سکتے ہو ۔۔۔ تم غیرت مند سمجھتے
ہو خود کو اسی لیے تمہیں دکھ نہیں ہے لیکن اصل میں تم بے غیرت انسان ہو تم جیسا ہر انسان بے غیرت ہے جو انا کے نام پر ایک جان قربان کر دے ۔۔
تم لوگوں کو کوئی حق نہیں ہے کسی کی جان لینے کا اللہ نے دی ہے یہ جان انسانوں کو ۔۔ تو تم لوگ کون ہوتے ہو مارنے والے ۔۔ اسلام
نے ایک عورت کو حق دیا ہے ۔۔ اپنی پسند سے نکاح کرنے کا ۔۔ پھر تم لوگ کون ہوتے ہو اواز اٹھانے والے یا اس عورت کو کچھ کہنے والے ایک مرد جوانی میں اپنی بیٹی کے نصیب لکھتا ہے۔۔ اپنا نہیں اپنے بیوی بچوں کا خیال کر لیتے ۔۔۔
تم جیسے وجود سے بھی گھن اتی ہے ۔۔ جس کو نہ اپنی بہن سے پیار تھا نہ اپنے گھر والوں کا اپنے
بوڑھے ماں باپ کا احساس۔۔ سر پر چڑھی ہوئی
تھی تو صرف تم لوگوں کی غیرت تم لوگوں کی انا جو قتل کروا سکتی۔۔۔
بے غیرت انسان ۔۔
یوسف کہتا اب اگے بڑھ گیا تھا لیکن وہ ادمی جو جیل میں بیٹھا تھا وہ خاموشی سے یوسف کے الفاظ سوچ رہا تھا۔۔ اور پھر وہ اپنے سر پر اپنے ہاتھ پیٹتا رونے لگا ۔۔ ی۔۔ یہ م ۔۔ میں
نے کیا کر دیا۔۔ م ۔۔ میں نے ۔۔اپنی پھول ج۔۔ جیسی بہن کی جان لے لی ۔۔ اللہ میری بہن ۔۔ میری گڑیا۔۔۔ اللہ ۔۔ مجھے معاف کر دے ۔ ۔ یہ پھر مجھے اٹھا لے ۔۔ وہ اب رو رہا تھا ۔۔ لیکن بعد میں پچھتانے کا یا
غم منانے کا کیا فائدہ ۔۔۔ انا کو افضل رکھ کے ایک پھول کو تو ختم کر دیا نہ ۔۔۔۔
ماڈرن زمانہ گزر چکا ہے ۔۔۔ یہ زمانہ جاہلیت ہے ۔۔ یہ وہ زمانہ ہے جس زمانے سے ہمارے نبی نے مسلمانوں کو باہر نکالا تھا۔۔ یہ وہ زمانہ
ہے جب بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا یا جلا دیا جاتا تھا۔۔ وہ زمانہ ہے جب عورت کو کمتر سمجھا جاتا تھا ۔۔۔ ہم کیسے مسلمان ہے۔۔۔ ہمیں اللہ نے قرآن دیا ہے ۔۔ ایک بار اپنی انا اور غیرت کو ایک طرف رکھ کر قرآن کو کھولو ایک مسلمان کی طرح ۔۔۔ اور اس کو پڑھو سمجھو ۔۔ تا کہ سمجھ ائے کے اُس میں اللہ نے کیا لکھا ہے ہمارے لیے ۔۔ اور کچھ لوگ ہوتے ہیں ۔۔ جو قرآن پڑتے ہیں اُس پر عمل نہیں کرتے ۔۔۔
اُس کو سمجھ کر پڑھو ۔۔ عربی پرلینے سے ثواب ملتا ہے لیکن سمجھ کر پڑنے سے شعور ملتا ہے ۔۔ عربی سکھ لو ۔۔ نہیں اتی تو ترجمہ پڑھو ۔۔۔
لیکن سمجھو تو صحیح ۔۔ ہمارے نبی کا اخری خطبہ تھا۔۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو اور وہ بھی تم پر حق رکھتی ہیں ۔۔۔
جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تو تم بھی ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو ۔۔۔ عورتوں کے معاملے میں نرمی اختیار کرو ۔۔۔
کیونکہ وہ تمہاری شریکتدار ہیں اور بے لوث خدمت گزار ہیں ۔۔۔
اور یہ صرف ایک میاں بیوی کے لیے نہیں ہے یہ ہر عورت اور مرد کے لیے ہے کے عورتوں کے معاملے میں نرمی اختیار کرو ۔۔۔۔

یوسف جب ہوٹل میں واپس ایا تھا تو اس نے یاسر کو دیکھا ۔۔۔ یاسر تم اب ارام کرو مجھے کیسی کام سے باہر جانا ہے
کہاں جانا ہے سر جی میں بھی ساتھ چلوں گا
ضرورت نہیں ہے یاسر میں چلا جاؤں گا ۔۔
نہیں لیکن مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے سر
اچھا ٹھیک ہے ۔۔ پھر تیار ہو جاؤ ۔۔
کیوں سر میرا رشتا دیکھنے جا رہے ہیں ۔۔۔ ؟
نہیں رشتا دیکھنے نہیں اپنے تایاکے گھر جا رہا ہوں یاسر چل اب ۔۔
اچھا ٹھیک ہے سر جی ۔۔کچھ دیر بعد یاسر تیار تھا
اس وقت وہ یونیفارم میں نہیں بلکہ عام سے حلیے میں تھا۔۔۔ پینٹ شرٹ پہنے ۔۔ بالوں کو کنگھی سے ایک طرف سیٹ کیے ۔۔۔
وہ ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔۔

یوسف نے اپنے تیا کے گھر کا دروازہ بجایا ۔۔
دروازہ کھولا گیا ۔۔ ۔ جی اپ کون ۔۔ گھر کا ملازم بولا تھا ۔۔
یہ میرے تیا کا گھر ہے میں اُن سے ملنے ایا ہوں
اپ شمس صاحب کے بھتیجے ہیں ۔۔
جی ۔۔۔
جی آجائیں اندر ۔۔ میں بولا کے لاتا ہوں صاحب کو ۔۔ ملازم کہتا جا چکا تھا اور یوسف اور یاسر کو اس نے لاؤنج میں بیٹھنے کو کہا تھا وہ اس
وقت لاونچ میں بیٹھے گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔۔۔
جب ایک ادھیڑ عمر ادمی چلتے ہوئے اپنی بیوی کے ساتھ کمرے سے لاؤنج کی طرف ائے۔۔
اُن کی بیوی نے اُن کو سہارا دے رکھا تھا یقینا ان کو چلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔
یوسف تم اتنے بڑے ہو گئے ہو وہ اس کی طرف اتے ہوئے بولے۔۔
یوسف اٹھ کر کھڑا ہو گیا پہلے تو یوسف ان کے گلے ملا اور پھر وہ بیٹھ گئے ان کا گھر کوئی اتنا بڑا نہیں تھا چھوٹا سا گھر تھا جبکہ یوسف نے بہت پہلے جب انہیں دیکھا تھا تو یہ ایک عالیشان گھر میں رہتے تھے۔۔ لیکن اب ایسا کچھ نہیں تھا ۔۔۔
جی اپ بتائیں کیا حال ہے اپ کا ۔۔ اور یہ کیا ہوا ہے اپ کو اپ صحیح سے چل نہیں پا رہے
بس پریشانیاں مار گئی بیٹا ۔۔ تم بتاؤ کیا حال ہے تمہارا ۔۔
جی میں تو ٹھیک ہوں ۔۔ لیکن یہ کیا ہوا ہے اپ کو یوسف کو بھی ان کے لیے برا لگ رہا تھا۔۔
تمہیں ارسلان کا تو پتہ ہے نہ ۔۔
جی اپ کا بیٹا ۔۔
بس اُس کی وجہ سے ہی ہوا ہے ۔۔۔
اُس نے کیا کر دیا ایسا تایا ۔۔۔؟
ایک انگریز لڑکی سے اُس نے شادی کر لی تھی ۔۔پتہ نہیں فون پر دوستی لگی تھی ۔۔ وہ پاکستان اگئی ۔۔ ہم نے بھی اس کی خوشی کے لیے
شادی کر دی ۔۔۔ وہ لڑکی کچھ وقت ٹھیک رہی تھی بیٹا ۔۔ لیکن پھر
اس نے اپنا رنگ دیکھا دیا ۔۔ کبھی میری بیٹی سے لڑتی تو کبھی میری
بیوی سے ۔۔۔
اور الزام ان دونوں پر ہی ڈال دیتی تھی ارسلان کے سامنے ۔۔۔
تو آپ نے اپنے بیٹے کو کیوں نہیں بتایا کہ وہ غلط ہے ۔۔
بتانا کیا تھا ۔۔ بیٹا ۔۔
وہ ہماری کسی بات پر یقین ہی نہیں کرتا تھا اس عورت کے پیار کا بھوت اس کے سر پر چڑھا ہوا تھا۔۔۔ اور وہ لڑکی ہمارے اکلوتے بیٹے کو ہم سے کے کر چلی گئی ۔۔۔
کہاں چلی گئی ۔۔؟
کہاں جانا ہے پاکستان میں ہی ہے ۔۔ لاہور میں
تو آپ کا بیٹا آپ سے ملنے نہیں ایا کیا ۔۔
جب گیا تھا ہماری جمع پونجی بھی ساتھ لے گیا میں نے اپنا گھر اُس نے نام کر دیا تھا ۔۔ اُس نے وہ بیچ دیا ۔۔ میری جائیداد میں نے اُس کے
نام کر دی تھی ۔۔ اور اس نے وہ گھر اور اپنی ادھی جائیداد اس عورت کے نام کر دی ۔۔میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ایک بیٹی اور بیوی کے علاوہ ۔۔
یہ گھر کرائے کا ہے مشکل سے گزرا ہو رہا ہے ۔۔ میرے میں تو کام کرنے کی ہمت نہیں ہے ۔۔ ٹینشن اور فکر ڈپریشن کی وجہ سے فالج کا اٹیک پڑا تھا ۔۔ تب سے معذور ہو کے رہ گیا ہوں ۔۔ کیسی کا سہارا چاہیے ہوتا ہے کھڑے ہونے کے لیے بھی۔۔
تو تایا اب وہ کیا کرتا ہے ۔۔ اور میں نے پوچھا تھا کے وہ ایا نہیں ۔۔؟
ایا تھا یوسف بیٹا روتا ہوا گڑگڑاتا ہوا ۔۔
کہہ رہا تھا اُس کی بیوی بھاگ گئی ہے
بہت لعنت و ملامت کر رہا تھا اُس کو ۔۔ کہہ رہا تھا اُس کی آدھی جائیداد لے کر بھاگ گئی ہے وہ گھر جو نام کیا تھا جو میں نے اپنے بیٹے کے نام کیا تھا اُس عورت کے نام کر دیا اُس عورت نے اگے وہ کیسی کو بیچ دیا اُس کے پیسے بھی لے کر بھاگ گئی اس نے طلاق لے لی ارسلان سے ۔۔
تو آپ نے اس کو اپنے گھر رکھنے کے لیے نہیں کہا دوبارہ ۔۔
نہیں اُس وقت غصے میں تھا میں ۔۔ اور غصے میں خیال ہی نہیں ایا ۔۔۔
وہ یہاں سے روتا ہوا ہی چلا گیا تھا دوبارہ کوئی فون وغیرہ نہیں کیا اس نے نہ ہی ملنے ایا ۔۔
اگر اپ کہیں تو میں اس کیس کو سالو کروں ۔۔ اس عورت کو میں ڈھونڈ نکالوں گا
دیکھ لو بیٹا اگر تم سے ہوتا ہے تو کر لو۔۔ ہم بہت مشکل میں ہیں ۔۔۔
میں کوئی کام کر نہیں سکتا میری بیٹی ہی کماتی ہے ۔۔ ایک چھوٹی سی بیکری میں کام کر کے۔۔۔ یاسر اس سارے میں بیٹھا خاموشی سے
بات سن رہا تھا وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے میں سنبھال لوں گا۔۔ اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
سارے پیسے نہیں تو کسی حد تک اپ کو اپ کی رقم واپس کروں گا نہیں تو اپ کو اپ کا بیٹا تو کم سے کم لا کر دوں گا۔۔۔
بس وہ گھر ا جائے ہمیں اور کچھ بھی نہیں چاہیے
تایا وہ واپس ا جائے گا
ارسلان کی امی چائے لے ائی تھی یوسف اور یاسر نے خاموشی سے بیٹھ کر چائے پی تب ہی شمس بولے تم دونوں یہاں پر رہو گے نا ہماری طرف۔۔
نہیں بس تھوڑی دیر میں چلے جائیں گے اپ سے ملنے کے لیے ائے تھے
بڑی بات ہے یوسف تمہیں بھی ہمارا خیال نہیں ایا
جب سے بھائی صاحب اور بھابھی ہمیں چھوڑ گئے ہے تم نے تو ہمارا خیال ہی چھوڑ دیا
ہے تم بتا دو ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا۔۔
ایسی بات نہیں ہے تایا اپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ۔۔ اسلام اباد میں میں رہ نہیں سکتا جھنگ میں کام کرتا ہوں۔۔یہاں بہت کم ہی انا جانا
ہوتا ہے۔۔ لیکن اب سے وعدہ کرتا ہوں جب بھی ایا جایا کروں گا اپ سے ملا کروں گا۔۔ میں معافی چاہتا ہوں کبھی اپ لوگوں کی طرف
میرا دھیان نہیں گیا۔۔۔ امی ابو کے باد مجھے لگا کوئی اپنا ہے ہی نہیں
تم ایسا کیوں بولتے ہو۔۔ ہم تمہارے اپنے ہیں یوسف۔۔
اس بار شمس کی بیوی بولی تھی۔۔۔
اب کی بار یوسف خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔
تب ہی گھر کا دروازہ کھلا تھا اور کوئی لڑکی اندر داخل ہوئی تھی۔۔ ہاتھ میں ہینڈ بیگ پکڑے۔۔ تھکی اور سست سی لڑکی۔۔۔
یوسف نے اس کی طرف دیکھا اور یاسر نے بھی پیچھے گھوم کے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
یہ میری بیٹی ہے یسرا۔۔۔
اس کو دیکھ کر یاسر کے چہرے پر مسکراہٹ ائی تھی۔۔ جس کو خود یاسر نے بھی محسوس کیا تھا اور پاس میں بیٹھے یوسف نے بھی۔۔
یوسف نے یاسر کو بازو پہ ہلکی سی چٹکی کاٹی تھی۔۔
بہت خوبصورت لگی ہے کیا تجھے بہن ہے میری۔۔
سر جی خوبصورت تو ہے اپنا جیجو بنا لے مجھے ۔۔
دفع ہو جاؤ یاسر ۔۔
ارے سر جی مذاق کر رہا ہوں۔۔
وہ لڑکی چلتی ہوئی اپنے امی ابو کے قریب ائی
پھر جب نظر ان پر پڑی تو اپنے ماں باپ کا چہرہ بھی دیکھا یہ کون ہے۔۔
یوسف ہے تمہارا کزن ۔۔ اور یہ یاسر ہے۔۔یہ یوسف کا دوست ہے ۔۔
اچھا صحیح ۔۔۔
یسرا نے ایک نظر ان کو دیکھا تھا۔۔ اور پھر خاموشی سے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔
کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر کمرے سے باہر ائی تھی بالوں کو ڈھیلے جڑے میں باندھ رکھا تھا۔۔
ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور دوپٹے کو گلے میں ڈال رکھا تھا۔۔
اپ لوگ کچھ کھانا پسند کریں گے یسرا نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
نہیں تمہارا شکریہ یوسف نے منع کر دیا۔۔
یہاں تو اؤ بیٹھو بھائ۔۔ اتنے وقت پہلے تمہیں دیکھا تھا چھوٹی سی تھی تو اس وقت یوسف بول رہا تھا۔۔
وہ مسکراتی ہوئی یوسف کے پاس ا کر بیٹھ گئی۔۔
شکر ہے اپ کو یاد تو ہے یوسف بھائی۔۔ مجھے لگا اپ بھول ہی گئے کبھی اپ نے ہمارے گھر کی طرف رخ ہی نہیں کیا تھا۔۔
نہیں میں بھولا نہیں ہوں بس کبھی وقت نہیں ملا انے کا
تو اج کیسے وقت مل گیا اپ کو۔۔
بس اسلام اباد ایا ہوا تھا سوچا کیوں نہ تم لوگوں کی طرف بھی ا جاؤ۔۔ یوسف نے مسکراتے ہوئے اب اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔ یاسر خاموشی سے بس اس لڑکی کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔
ہاں جی تو یسرا صاحبہ اپ اتنی بڑی ہو گئی ہیں کہ اب اپ جاب بھی کرنے لگی ہیں۔۔
کہاں بڑی ہو گئی ہوں بھائی چھوٹی سی تو ہوں۔۔۔ بس ایک بیکری میں جاب مل گئی تھی ۔۔۔
ویسے بہت اچھا کیا۔۔۔
یوسف اور یسرا بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور یاسر بس خاموشی سے دل میں اپنا اور یسرا کا نام جوڑ رہا تھا۔۔۔
یاسر یسرا۔۔۔ یسرا یاسر۔۔۔ کتنا پیارا لگتا ہے نا
فی الحال یاسر کے دماغ اور دل میں یہی چل رہا تھا
اپ لوگ یہاں پر رہیں گے نا
نہیں ہم بس تھوڑی دیر میں چلے جائیں گے
ایک بات تو مجھے بتاؤ کیا تم نے مجھے پہچانا نہیں تھا جو تمہیں ایک دم سے بولی کہ ہم لوگ کون ہیں۔۔
میں اپ کو پہچان گئی تھی یوسف بھائی۔۔ بس ایسے ہی اپ سے ناراض تھی سو جا تھوڑا سا اپ کو تنگ کر لو کبھی اپ ملنے ہی نہیں اتے۔۔
نہیں اب سے ایا کروں گا جب بھی اسلام اباد ایا کروں گا تم لوگوں سے مل کر جایا کروں گا پکا۔۔
چلیں یہ تو اچھا ہے بس اپنے یہ پاس میں بیٹھے ہوائی شکل کے دوست کو نہ لے کے ائیے گا دوبارہ۔۔۔یسرا اب مذاق کے موڈ میں تھی اور یاسر نے اس کو دیکھ کر منہ بنا لیا تھا۔۔
کیوں یہ میرا بہت اچھا دوست ہے یاسر۔۔
جی اپ کا اچھا دوست ہوگا لیکن دکھنے میں چھچورا لگ رہا ہے یسرا اب کی بار تھوڑا یوسف کے کان کے قریب ہوتے ہوئے بولی تو یوسف
ہنس پڑا۔۔۔
لیکن یہ تو ہمیشہ میرے ساتھ ہی ایا کرے گا۔۔
چلیں صحیح ہے میں گزارا کر لوں گی۔۔
تمہیں گزارا کرنا ہی پڑے گا۔۔
اچھا چلیں اپ بتائیں اپ کے لئے کچھ بناؤں ۔۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ہم بس جانے ہی والے ہے۔۔۔
اتنی جلدی کیوں۔۔
بس کام ہی بہت ہے ۔۔۔
جی جی اب تو اپ اے ایس پی یوسف ملک ہو گئے ہیں۔۔ ائے دن کوئی نہ کوئی اپ کا انٹرویو دیکھتے رہتے ہیں ہم ٹی وی پر۔۔ میں تو ہمیشہ مما بابا کو کہتی تھی اپ یوسف بھائی ہیں لیکن وہ مانتے ہی نہیں تھے کہتے تھے نہیں اپ وہ نہیں ہیں۔۔
یوسف خاموشی سے بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔
اپ کچھ کھائیں گے یاسر بھائی۔۔۔ یسرا بولی تو یاسر کے خوابوں پر پانی پھر گیا۔۔
استغفراللہ لا حول ولاقوۃ ۔۔ اس طرح بھائی کہہ کر شرمندہ تو نہ کریں۔۔
تو اپ یوسف بھائی کے دوست ہیں تو اپ کو بھی بھائی ہی کہوں گی نا۔۔
یسرا کا چہرہ اب بنا کسی تاثر کے تھا ۔۔۔
نہیں اپ بس مجھے یاسر ہی کہہ کر بلا لیں اپ سے بس کوئی دو تین سال ہی بڑا ہوں گا میں۔۔
چلیں ٹھیک ہے۔۔ یاسر ہی صحیح ۔۔۔
تو اپ کچھ لیں گے یاسر۔۔
جی اپ کا ہاتھ ۔۔
کیا۔۔ اب کی بار یسرا حیران ہوئی تھی
نہیں میرا مطلب ہے اپ کے ہاتھ کا جوس بنا دیں
ویسے آپ خوبصورت ہے ۔۔
جی مجھے پتہ ہے آپ نہ بتائیں ۔۔
نہیں لیکن یہ میرا فرض ہے ۔۔ کے اپ کو بتاؤں اپ خوبصورت ہے ۔۔ اب کی بار یسرا مسکرا کر اٹھ گئی ۔۔
اور یوسف نے اس کی طرف دیکھا دماغ صحیح رکھ
تھپڑ تیرے منہ پر مار دے گی۔۔
پولیس والا ہے تو یاسر ایسے کسی پر فدا نہیں ہو سکتا ۔۔
بس کریں سر اپ مجھے نہ ہی بتائیں تو زیادہ بہتر ہے۔۔ویسے تو اپ بھی حیات میڈم کو بچانے کے لیے فورا سے نکل گئے تھے۔۔ اتنی جلدی تو
اپ نے کبھی کوئی کیس سالو نہیں کیا جتنی جلدی اپ ادھی رات کو ان کو بچانے کے لیے نکلے تھے۔۔ اب میں اس کو پاگل پن کہوں یا پھر محبت۔
یوسف اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا وہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ یاسر اس طرح سے بول دے گا ۔۔
ی۔۔ نہ۔۔ نہیں یاسر ایسے کوئی بات نہیں
ہے۔۔
جی سر بالکل ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔
یاسر نے اب اپنا چہرہ ہلاتے ہوئے اس کو دیکھا تو یوسف خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔
تجھے میں بعد میں بتاؤں گا تو ایک بار جھنگ چل۔۔
وہ تو جب جھنگ جائیں گے تو پھر اپ مجھے بتائیں نا فلحال کے لیے اپ مجھے کچھ نہیں بتا سکتے کیونکہ ابھی اپ وردی میں نہیں ہے سر کہ میں اپ
کا حکم مانوں۔۔
فی الحال اپ یوسف ہیں اور میں یاسر۔۔
یوسف اب گردن ہلاتا رہ گیا۔۔
ویسے میری ہی غلطی ہے جو تجھے ساتھ لے کر اگیا تھا ۔۔۔۔
اس پر تو میں اپ کو خاص شکر ادا کرنا چاہتا ہوں میرا تو دل کر رہا ہے ان کے گھر ہی رہ جاؤں سر
شرم کر یاسر۔۔۔
وہ کیا ہوتی ہے سر ۔۔ شرم اور ہم پولیس والوں میں۔۔ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
تب ہی یسرا اگئی تھی ہاتھ میں جوس کے دو گلاس پکڑے۔۔
ایک اس نے یوسف کی طرف بڑھایا اور ایک یاسر کی طرف دونوں نے ہی گلاس اٹھا لیے تھے
اور اب خاموشی سے بیٹھ کر جوس پی رہے تھے البتہ یسرا بیچ میں تھوڑی بہت باتیں دونوں سے کرتی رہی لیکن یاسر کو وہ زیادہ بھاؤ نہیں دے
رہی تھی۔۔ یوسف تو پھر اس کا بھائی تھا اور یسرا کی نظر میں فی الحال کے لیے یاسر ایک چھچھورا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔

یہ اگلے دن کی صبح تھی۔۔ زرمان اپنے کمرے میں تیار کھڑا تھا یونیورسٹی جانے کے لیے اس کی طبیعت تھوڑی خراب تھی لیکن کل سے بہت بہتر تھی۔۔۔ وہ زیادہ دن ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اس کی امی نے کہا تھا کہ اب رک جاؤ ایک دو دن ارام کرو پھر چلے جانا یونیورسٹی لیکن اس نے کہا کہ نہیں اتنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اور اس نے افس بھی چلے جانا تھا یونیورسٹی سے انے کے بعد اس پر بھی اس کی ماں
راضی نہیں تھی انہوں نے اس بات پر کہا کہ چلو

یونیورسٹی چلے جاؤ لیکن اج افس نہ جاؤ اور اس پر بھی زرمان راجپوت نے یہی کہا تھا کی سیلری
کٹے گی اگر افس نہیں گیا تو ایک دن کی چھٹی بہت ہے۔۔
پھر ماں خاموش ہو گئی تھی اب وہ اپنے بیٹے کو کہتی ہی کیا۔۔۔ ابھی وہ گھر سے نکل ہی رہا تھا جب اس کے فون پر ریحان کی کال ائی تھی
اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔ دوسری طرف سے ریحان نے سلام لیا تھا اور اس نے اس سلام کا جواب دیا تھا۔۔
ہاں بولو کیا ہو رہا ہے
نہیں کچھ بھی نہیں ہو رہا بس حال چال پوچھنے کے لیے فون کیا تھا۔۔
حال تو پوچھو ہی مت ریحان طبیعت شدید خراب ہو رہی تھی۔۔
کیوں کیا ہوا ہے
تمہیں تو پتہ ہے موسم کا بس بخار ہو گیا ۔۔۔
اچھا تو اب کیسی ہے تمہاری طبیعت میڈیسن وغیرہ لی ہیں تم نے ڈاکٹر کے پاس گئے ہو۔۔۔
نہیں ڈاکٹر کے پاس تو نہیں گیا تھا فارمیسی سے امی نے میڈیسن لا کے کھلا دی تھی۔۔
تو ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں گئے
بس ویسے ہی دل نہیں کیا سوچا تھا خود ہی گھر میں ٹھیک ہو جاؤں گا
اور ہوا بھی یہی ہے اب میری طبیعت پہلے سے بہت بہتر ہے ۔۔۔۔
چلو یہ تو اچھی بات ہے تمہیں چاہیے تم اپنا خیال رکھا کرو موسم ویسے ہی بہت خراب چل رہا ہے۔۔
ہاں میں اپنا خیال رکھتا ہوں بس کل اچانک سے طبیعت خراب ہو گئی تھی۔۔۔
اچھا تم سے ایک بات پوچھوں مجھے سمجھ نہیں ائی تھی کہ کل تم گھر میں اندر داخل بھی نہیں ہوئے اور ایک دم سے مڑ گئے تھے۔۔۔
بس ویسے ہی۔۔۔
ویسے ہی تو نہیں تم ایسے کر سکتے رات کو بھی میں تمہیں فون کرتا رہا تھا یہی پوچھنے کے لیے اور تم نے فون بھی نہیں اٹھایا تھا تمہیں پتہ ہے امی اس بارے میں بہت حیران ہوئی تھی کہ تم ایسے کیسے جا سکتے تھے۔۔۔
انٹی کو میری طرف سے سوری بولنا پھر کبھی اؤں گا۔۔
ہاں میں تمہیں بتانا بھول گیا بابا کہہ رہے تھے کہ جب وقت ملے تو انا ہماری طرف ڈنر پر۔۔۔
ہاں میں ضرور اؤں گا لیکن بات یہ ہے کہ فی الحال میرے پاس ٹائم نہیں ہے انشاءاللہ جب فارغ ہوا تو ضرور اؤں گا۔۔۔
چلو پھر ٹھیک ہے ہمیں انتظار رہے گا۔۔۔
اور بتاؤ اج تمہاری کیا مصروفیات ہیں زرمان نے پوچھا تھا۔۔
کوئی خاص مصروفیات نہیں ہیں بابا کے دوست اور ان کی فیملی ہماری طرف ارہی ہیں۔۔۔
اچھا صحیح ملنے ا رہے ہیں نا۔۔ اس نے پوچھا
زرمان یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہیر کا رشتہ مانگا تھا۔۔ بابا کا پورا ارادہ ہے اس طرف رشتہ کرنے کا۔۔ لیکن ہیر نہیں مان رہے اپنی پڑھائی کی
وجہ سے اور اس کو لڑکا بھی پسند نہیں ہے۔۔۔
دیکھا جائے تو مجھے بھی کوئی خاص نہیں لگا۔۔ ہاں سلجھا ہوا تو ہے لیکن ہیر کی جب رضامندی
نہیں ہے تو اس لیے مجھے بھی اچھا نہیں لگا۔۔۔
دوسری طرف زرمان کا سانس تھما۔۔۔ مطلب یونیورسٹی کے بعد ان کی شادی اس سے۔۔؟
زرمان نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
ویسے کہہ تو سکتے ہو تم یہی کہ بابا کا تو پورا ارادہ ہے یہ کرنے کا۔۔
۔ کیا ہیر منع نہیں کر سکتی صاف صاف۔۔۔
وہ کتنی بار منع کرے اس نے بہت بار منع کیا ہے لیکن اس کی کوئی سنے تو تب نہ۔۔۔
تو اب ۔۔۔ ؟
تو اب کیا ہمارے گھر اؤ جاؤ میرے بابا کو پسند اؤ تو پھر ہو سکتا ہے کہ وہ تمہیں پسند کر لے لیکن میرا نہیں خیال وہ تمہیں پسند کریں گے تم پٹھانوں
کے خاندان سے نہیں ہو۔۔۔ اور دوسری بات یہ ۔۔۔ کہ بابا نے وہاں پر وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ ہیر کی شادی وہیں پر کریں گے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنا وعدہ توڑ دیں۔۔۔
لیکن اب میں کیا کروں گا مجھے سمجھ نہیں ارہی۔۔۔
کرنا کیا ہے جو اللہ کو منظور ہوا وہی ہوگا میں تو بس تمہیں بتا رہا تھا۔۔۔
چلو تمہارا بہت شکریہ بتانے کے لیے لیکن بتا کر میرے دل پر خنجر چلائے ہیں تم نے۔۔۔
میں معافی چاہتا ہوں میرا اس طرح تمہیں بتانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا تم نے پوچھا کہ اج کل کیا
مصروفیات ہیں تو میں نے بتا دی کہ یہ مصروفیات ہیں۔۔۔
چلو صحیح ہے ریحان پھر بات ہوگی زرمان نے یہ کہتے ہوئے ہی فون بند کر دیا تھا ریحان کی بنا کسی بات سنے۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                            

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *