Qasas episode 8 written by Rida Fatima…

قصاص قسط نمبر؛٨

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

یہ صبح کا وقت تھا زرمان اس وقت اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا۔۔وہ پہلے ہی لیٹ ہو گیا تھا گھر سے نکلنے میں اور اوپر سے راستے میں ٹریفک بھی بہت تھی ۔۔۔ اس نے اج سیاہ رنگ کی ٹراؤزر شرٹ بہن کے رکھی تھی عام سے حلیےمیں اج وہ شلوار قمیض میں نہیں تھا۔۔۔ ہاتھ میں گھڑی
پہن رکھی تھی اور بالوں کو کنگھی سے پیچھے کی طرف سیٹ کیا ہوا تھا ۔۔۔ وہ بنا کسی محنت کے بھی پرکشش لگ رہا تھا۔ جبکہ اس کے برعکس لڑکے یونیورسٹی میں اچھا خاصا تیار ہو
کر اتے تھے تاکہ لڑکیوں کی نظر ان پر ہی رہے۔۔
لیکن زرمان راجپوت ایسا نہیں تھا۔۔۔ اس کو کسی سے غرض ہی نہیں تھی ۔۔۔
وہ یونیورسٹی میں داخل ہوا اس کی پہلی کلاس مس ہو چکی تھی۔۔ ہیر گارڈن میں رخسار اور حیات کے ساتھ کتابیں کھول کر بیٹھی ہوئی تھی تھوڑی دیر میں ان کی دوسری کلاس شروع ہونے والی تھی دور سے انہوں نے زرمان کو اتے
دیکھا۔۔
تو حیات بے ساختہ بولی۔۔ لے اگیا تیرا رانجھا۔۔
ہیر نے ایک نظر حیات کو گھور کر دیکھا۔۔ جس کا حیات نے کوئی اثر نہیں لیا تھا۔۔۔
وہ دور سے چلتا ہوا ان تک ا رہا تھا نظریں اس کی ہیر خان پر ہی تھی ۔۔
پھر وہ ان کے پاس ا کر بیٹھ گیا۔۔
اتنی دیر کیوں لگا دی تم نے اج یونیورسٹی انے میں پہلی کلاس تم نے مس کر دی ہے زرمان۔۔
ہیر بولی تھی ۔۔۔
بس راستے میں بہت ٹریفک تھی اس لیے نہیں سکا میں جلدی۔۔ اور انکھ بھی بہت لیٹ کھلی ہے۔۔۔
اچھا صحیح چلو اب باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے اپنی کتابیں سمیٹو اور اٹھو۔۔
ہیر اپنی کتاب بند کرتی اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔
اس کے ساتھ ہی باقی سب بھی کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
اور پھر وہ کلاس کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
سارے سٹوڈنٹ باری باری کلاس میں داخل ہو رہے تھے۔۔ سنسان کلاس اب بڑھنے لگی تھی
یہ ان کی میتھ کی گلاس تھی۔۔ اور میتھ ہیر کو شدید بری لگتی تھی۔۔ کچھ دماغ میں ہی نہیں پڑتا تھا۔۔۔
چلو دیکھتے ہیں ہیر اب تمہارا کیا ہوتا ہے رخسار اندر جاتے ہوئے بولی۔۔
کیونکہ مجھے جہاں تک پتہ ہے تمہاری میتھ بہت کمزور ہے۔۔۔
یقینا تم نے اسئنمنٹ صحیح سے نہیں کیا ہو گا
تمہیں پتہ ہے ہمیں میتھ کیوں بری لگتی ہے رخسار
کیوں بری لگتی ہے ؟
وہ اس لیے کہ چلو مانا گنتی بیچ میں ضروری ہے میتھ کے۔۔ لیکن یہ جو انگریزی ڈالی ہے نا بھلا انگریزی کا کیا کام۔۔ ؟ یہ چیز شدید بری لگتی ہے۔۔ اس کی بات پر رخسار اور
حیات تو ہنسی ہی تھیں جبکہ ان کے پیچھے والی چیئر پر بیٹھا زرمان بے ساختہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسا تھا۔۔۔
اس کے ہنسنے پر ہیر نے پیچھے مڑ کر اس کو دیکھا تھا اور بس ایک نظر گھور کر دیکھا تھا زرمان فورا خاموش ہو گیا تھا۔۔۔
ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے جب ان کی کلاس میں کوئی شخص داخل ہوا تھا۔۔
سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس۔۔۔
سانولی رنگت لیکن پرکشش نائن نقش والا۔۔۔ سیاہ کالی انکھوں کا ملک اور انکھوں میں چمک ایسی تھی جیسے اندھیری رات میں چاند کی چمک ہو بالوں کو جیل سے ایک طرف سیٹ کیے ۔۔
ہیر اور سب کو وہاں پر بیٹھے پہلے لگا کہ شاید یہ کوئی نیا
سٹوڈنٹ ہے۔۔
لیکن جب سامنے کھڑے اس نے اپنی بات شروع کی تو سب کو سمجھ اگیا ہے کہ وہ کوئی نیا سٹوڈنٹ نہیں تھا۔۔۔
ہیلو ایوری ون ۔۔ میں ہوں افق مصطفیٰ اپ کا نیا متھ پروفیسر ۔۔اج سے میں اپ کو متھ پڑھاؤں گا ۔۔
اور دوسری بات آپ سب اپنا تعارف کروا دیں ۔۔ ۔۔
افق کا نام سن کر تو کچھ لڑکے لڑکیاں حیران رہ گئے تھے ۔۔
س ۔۔ سر اپ ۔تو رائٹر ہیں نہ ۔۔ ایک لڑکا اٹھ کر بولا تھا ۔۔
اس کی بات پر افق مسکرایا ۔۔ جی رائیٹر ہی ہوں ۔۔
سر اپ نے ہی وہ ڈراما لکھا تھا نہ میں تیری جوگن
جی میں نے ہی لکھا تھا اب آپ بیٹھ جائیں ۔۔
لیکن زیادہ تر سٹوڈنٹ باری باری کھڑے ہو کر اس کی کچھ ناولز کچھ کہانیاں ڈرامے سب کے نام لے رہے تھے ۔۔
سر ہم اپ کے بہت بڑے فین ہیں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اپ ہمارے پروفیسر بنیں گے۔۔
ہمارے ساتھ اکثر وہی ہوتا ہے جو ہم نے سوچا نہیں ہوتا ۔۔ چلیں اب پڑھائی کی طرف دھیان دیتے ہیں۔۔
وہ خوش تھا اپنے فین دیکھ کر لیکن ہیر اور اس کے ساتھ بیٹھی حیات اور رخسار ۔۔ تو اس کا نام ہی پہلی بار سن رہی تھی شاید ۔۔ اور زرمان خود جانتا نہیں تھا اس کو ۔۔۔۔
چلیں اپ سب اپنا تعارف کروا دیں ذرا۔۔ افق بولا تو سب باری باری کھڑے ہو کر اپنا نام بتانے لگے ۔۔
اور پھر رخسار کی باری ائی ۔۔
اس نے بنا کوئی اور بات کے اپنا نام بتایا
میں رخسار فاروق ہوں ۔۔۔
پھر حیات کی باری ائی اس نے بھی جلدی سے
اپنا نام بتایا اور بیٹھ گئی پھر زرمان سے پوچھا گیا جو کہ ان کے پیچھے بیٹھا تھا۔۔
میرا نام زر مان راجپوت ہے ۔۔
نائس نیم زرمان ۔۔۔ افق نے کہا تو زرمان شکریہ کہتا ہوا واپس بیٹھ گیا۔۔۔
ہیر اپنا نام بتانے کھڑی ہوئی تو سب نے افق مصطفی کو ساکت ہوتے دیکھا تھا۔۔ ہیر نے اپنا نام بتایا وہ بیٹھ گئی ۔۔ لیکن افق وہ کچھ بول نہیں سکا ۔۔۔ وہ پہلی بار اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس کی بس آنکھیں نظر اتی تھی ۔۔ وہ عمر میں اُس سے دور چھوٹی تھی ۔۔ لیکن پھر یہ دل ۔۔ یہ دل کیوں رفتار پکڑ رہا تھا ۔۔
افق نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اُس کا دل نہیں دھڑکتا ۔۔ وہ کہانیاں دماغ سے لکھتا ہے ۔۔۔ لیکن اج وہ دن تھا جب افق مصطفیٰ نے اپنے دل کی دھڑکن محسوس کی تھی ۔۔ ہیر خان کے دیدار پر افق مصطفی کا دل دھڑکنے لگا تھا۔۔
دل میں جان اگئی تھی ۔۔ روح نے محسوس کیا تھا ۔۔ اور دور بیٹھی ہیر جانتی ہی نہیں تھی اُس کی انکھوں نے کیسی کے دل پر کیا اثر کیا تھا ۔۔
وہ ایسی ہی تھی ۔۔ اُس میں طاقت تھی کیسی کا بھی دل دھڑکانے کی ۔۔ وہ یہ کر سکتی تھی
وہ یہ جانتی نہیں تھی ۔۔ اُس نے ایک بے جان دل کو زندہ کیا تھا ۔۔
افق جب ہوش کی دنیا میں ایا تو اس نے کلاس میں دیکھا سب کی نظر اس کی طرف ہی تھی ۔۔۔
اس نے خود کو سنبھالا ۔۔ چلیں سٹوڈنٹس پھر کتابیں کھول لیں اپنی۔۔ اب ذرا پڑھائی پر دھیان دیتے ہیں۔۔۔
اب سب کتابیں کھول کر اپنی پڑھائی پر دھیان دے رہے تھے ہیر کی نظر بھی اب کتابوں میں گڑی ہوئی تھی۔۔۔
زرمان گاہے بگاہے نگاہ اٹھا کر ہیر کو دیکھتا تھا جبکہ افق ۔۔۔ اس کی تو بات ہی نہ کرو۔۔۔ اس کی نگاہ ہی نہیں ہٹ رہی تھی۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی نگاہ پھسل کر ہیر کی انکھوں پر چلی جاتی تھی۔۔۔ نہ جانے کیوں اس کو بار بار اپنی ماں
کے الفاظ یاد ارہے تھے ۔۔
کبھی سوچا ہے افق اپ اتنی کہانیاں لکھتے ہیں ۔۔۔ کبھی سوچا ہے جب ایک مصنف کو محبت ہو گی تو کیا ہو گا ۔۔
بس کریں امی یہ ساری باتیں محض کہانیوں میں ہوتی ۔۔ میں کہانیوں سے کھیلتا ہوں کہانیاں میرے ساتھ نہیں کھیل سکتی ایک مصنف کو اچھے طریقے سے اتا ہے اپنے کرداروں کے ساتھ کھیلنا ۔۔۔ اور امی مجھے محبت نہیں ہو گی ۔۔
میں پہلے بتا چکا ہوں نہ کے میں دل سے نہیں دماغ سے لکھتا ہوں میری کہانیاں محض دل بہلانے کے لیے ہوتی ہیں ۔۔ میں ایسی کہانیاں لکھتا ہوں کے پڑنے والا کچھ پل کے لیے حقیقت بھول جاتا ہے۔۔ لیکن میں حقیقت نہیں بھولتا ۔۔۔ مجھے میرے بنائے کرداروں سے کھیلنا ہے ۔۔کسی حقیقت کے کردار میں کھونا نہیں ہے ۔۔۔
اور اس کی ماں اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی تھی اور پھر وہ مسکرائی تھی۔۔ اس ساری بات میں جو اخری الفاظ ان کے لبوں سے نکلے تھے وہ یہ تھے۔۔ کے دیکھنا افق ۔۔
کوئی لڑکی تو ائے گی جو آپ کو محبت کرنا سکھائے گی ۔۔ ۔۔۔
اور پھر کرداروں کے ساتھ کھیلنے والا افق مصطفی خود ایک کردار میں کھو جائے گا ۔۔۔
اور ان کی بات پر افق مسکرا دیا تھا ایسا کچھ نہیں ہوگا امی۔۔۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ بات اس طرح یونیورسٹی کی ایک کلاس میں کھڑے ایک لڑکی کو دیکھنے کے بعد اس طرح سے وہ بات اس کو یاد ائے گی اتنے سالوں کے بعد۔۔۔
افق کی عمر 38 سال تھی وہ پرکشش بھی تھا 10 سال پہلے اس نے لکھنے کا آغاز کیا تھا ۔۔ اور 10 سال بعد افق مصطفی کا اچھا خاصا مقام تھا کہانیوں کی دنیا میں ۔۔ وہ ذہین بھی تھا ۔۔ شروع میں جب افق کی پہلی کتاب بنی تھی اور بعد میں اس پر ایک ڈرامہ بنایا گیا تھا اُس کہانی
کے باد افق کو انٹرویو میں دیکھا گیا تھا اور کروڑوں لڑکیاں افق مصطفی کے پیچھے دیوانی ہوئی تھی اس انٹرویو میں اس سے پوچھا بھی گیا تھا کہ اپ نے شادی کرنے کا کیوں نہیں سوچا۔۔ اور ہوسٹ کی بات پر افق مسکرایا تھا ۔۔
کیونکہ ابھی تک کوئی ایسی لڑکی ملی ہی نہیں جو اچھی لگی ہو۔۔ اور شاید میرے لیے کوئی لڑکی بنی ہی نہیں ہے یا میں کسی کے لیے نہیں بنا ۔۔ اس کے جواب پر سامنے بیٹھی ہوسٹ بھی مسکرا دی تھی۔۔۔
افق کا کوئی ارادہ نہیں تھا یونیورسٹی میں جوب کرنے کا ۔۔ وہ رائٹر تھا اور وہ اپنا نام کما بیٹھا تھا ۔۔ یونیورسٹی میں جاب کرنا محض ایسے ہی دماغ میں ایا تھا ۔۔ جو تنخا اس کو یونیورسٹی میں ایک مہینے کی ملنی تھی ۔۔۔ اس سے کئی زیادہ وہ ہفتے میں کما لیتا تھا ۔۔۔
ا فق کا دہان اب ان کو پڑھانے میں تھا سب سٹوڈنٹ خاموشی سے کتابیں کھول کر بیٹھے ہوئے تھے۔۔ رخسار کو کچھ بھی سمجھ نہیں ارہی تھی ۔۔۔ اب میتھ کس کو ہی پسند ہوتی ہے ۔۔۔؟ مولا میں کیا کروں ۔۔ دماغ گھوم کر رہ گیا ہے ۔۔۔ رخسار بولی تو ان کے اگے والی
بینچ پر بیٹھی لڑکی نے گھوم کر اس کو دیکھا ۔۔ تم شیعہ ہو ۔۔؟
اس کی بات پر رخسار بری طرح سے گڑبڑائی تھی۔۔ ن۔۔ نہیں ۔۔کیوں ۔۔۔؟
مجھے لگا تم شیعہ ہو وہ لڑکی بری طرح منہ بناتے ہوئے بولی
تو اگر میں ہوتی بھی تو کیا تھا ۔۔ افق کی نظر اب ان پر گئی تھی لیکن افق کچھ بولا نہیں ۔۔۔
اگر تم شیعہ ہوتی تو تمہیں کلاس میں کون بیٹھنے دیتا ہم سب سنی ہیں ۔۔ وہ لڑکی بولی تو ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔ ۔۔ ہیر ذرا آگے ہوئی
مجھے ایک بات بتاؤ یہ شیعہ یا سنی ہونے میں کیا برائی ہے ہیر بولی تو اس لڑکی نے اس کو دیکھا۔۔ بس ہم سنی ہے ہمیں شیعہ نہیں پسند ۔۔ یہ لوگ ماتم کرتے ہے اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔
اب کی بار ہیر کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی تھی ۔۔۔
اچھا تو کیا سنی یہ وہابی کسی اپنے کے مر جانے پر ماتم نہیں کرتے کیا ۔۔ یہ روتے نہیں ہے ۔۔۔ ؟ نہیں ایسا نہیں ہے دکھ میں کہاں کسی کو ہوش رہتا ہے وہ لڑکی بولی تھی افق اور زرمان خاموشی سے اب ان کی باتیں سن رہے تھے ۔۔۔
ہاں تو ان کو بھی ہوش نہیں رہتا دکھ میں ۔۔ اخر کس کو دکھ نہیں ہے نبی کے نواسوں کا لڑکی ہر مسلمان کو دکھ ہے بس ظاہر کرنے کا انداز الگ ہے ۔۔۔
اور میں صرف تمہاری بات نہیں کر رہی میں نے اور بھی بہت لوگ دیکھے ہیں ۔۔ جو ہمارے نبی کے نواسوں کا نام اتے ہی اپنا چہرہ بگاڑ لیتے ہیں ۔۔۔ وہ ہمارے نبی کے لاڈلے تھے اور جن سے ہمارے نبی کو اتنا پیار تھا ہمیں ان سے پیار نہ ہو تو ہم کیسے مسلمان ہیں۔۔۔؟ افق خاموشی سے سینے پر اپنے کثرتی بازو باندھے کھڑا ان کی باتیں
سن رہا تھا ۔۔۔
یہ جو شیعہ سنی وہابی بنے پھرتے ہیں یہ صرف دنیاوی باتیں ہیں مرنے کے بعد کوئی فرقہ نہیں ہوگا ۔۔ مرنے کے بعد انسان بس مسلمان ہوگا۔۔۔

اور دوسری بات جب اللہ نے حضرت علی کو شیر خدا کا لقب دیا ہے تو تم لوگ کچھ کہنے والے کون ہوتے ہو ۔۔۔ اور جب ہمارے نبی نے کہا ہے کہ جس کا میں مولا اس کا علی مولا تو پھر بات ہی ختم کر دی نا انہوں نے پھر یہ فرقے بنانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔۔
ہمارے نبی کو پتہ تھا کہ انے والے وقت میں مسلمان فرقوں میں اتنا گم ہو جائیں گے کہ انسانیت ہی بھول جائیں گے۔۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے لگیں گے کمتر سمجھنے لگیں گے۔۔۔ اس لیے انہوں نے کوئی فرقہ نہیں رکھا ۔۔۔
کیا اتنا کافی نہیں ہے کہ تم سب مسلمان ہو۔۔۔
اور حضرت علی کا تو نام خود ہمارے نبی نے رکھا تھا حیدر کیا تم سب وہ قصہ بھول گئے ہو کے حضرت علی کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی تھی کیا تم وہ سب بھول گئے ہو جب حضرت علی نے سانپ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا اور
ہمارے نبی نے اُن کو حیدر کہا تھا ۔۔۔۔
اور حضرت علی کو محبت تھی ہمارے نبی سے اور
ہمارے نبی کے لاڈلے تھے حضرت علی تو پھر بات ہی ختم یہ فرقے بنانے والے تم لوگ کون ہوتے ہو۔۔۔؟
ہاں یہ بات غلط ہے کہ ماتم کرنا گناہ ہے بین ڈالنا غلط بات ہے اس کو ہمارے اللہ نے منع کیا ہے۔۔۔
اس کو ہمارے نبی نے بھی منع کیا تھا ۔۔۔ کسی اپنے کے چلے جانے پہ انکھوں سے انسو تو نکلتے ہیں نکالو انسو جتنا رونا ہے رو ۔۔ لیکن یہ بین نہیں ڈالو ۔۔۔
اور سب نے ایک دن چلے جانا ہے اس دنیا سے
یہ دنیا محض ایک قید خانہ ہے ۔۔
یہ فرقے انسانوں نے خود بنائے ہیں اللہ نے نہیں کہا تھا قران میں نہیں لکھا یہ ہمارے نبی نے فرقے نہیں بنائے تھے حضرت علی نے نہیں بنائے فرقے ۔۔۔ یہ ہماری خود کی ایجاد ہے ۔۔۔ سورہ الانعام ( 6:159 ) میں ہے کے
کہ جو لوگ اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔۔
وہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذمے نہیں ۔۔۔
اور ان کا فیصلہ اللہ کی سپرد ہے ۔۔۔۔

کیا اب بھی کچھ باقی رہتا ہے ۔۔؟
میرے خیال سے کچھ باقی نہیں رہتا ۔۔ ہیر اب کی بار خاموش ہو گئی تھی ۔۔ وہ لڑکی بھی اب سوچ میں پر گئی تھی ۔۔ اور افق اور زر مان ۔۔ وہ بس ہیر کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
ان کی کلاس ختم ہوئی افق کلاس سے باہر نکل گیا زرمان اب ہیر کی تعریف کر رہا تھا۔۔۔
اپ نے بہت اچھا کیا ہے سیکھ دے کر۔۔ نہیں تو اج کے دور میں سب لوگ گمراہی کے راستے پر چل رہے ہیں۔۔
میں نے کچھ بھی نہیں کیا میں بس بات کی وضاحت کر رہی تھی کیسےاس نے رخسار کو دیکھ کر کہا کہ تم شیعہ ہو۔۔۔ اگر وہ ہے بھی یا نہیں بھی تو اس میں برائی کیا ہے ۔۔۔؟
وہ مسلمان ہے بس اور کچھ بھی نہیں۔۔۔ میں بھی مسلمان ہو ۔۔۔ بات ختم ۔۔۔
وہ اپ کے بھائی نے بتایا تھا۔۔کہ۔۔ کے اپ کے گھر اپ کے بابا کے کوئی دوست ارہے ہیں رات کو ڈنر پر ۔۔
زر مان کو ایک دم ریحان کی بات یاد ائی
ہاں وہ بابا کے پرانے دوست ہیں وہ اور ان کا بیٹا اپنی فیملی کے ساتھ ارہے ہیں ہیر نے کہا ۔۔۔
ا۔۔ ت۔ تو کیا ۔وہ ۔۔ا۔اپ کا رشتا۔۔ ؟
تمہیں ریحان نے بتایا ہے ۔۔
نہیں ایسا نہیں ہے اُس نے نہیں بتایا میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا ۔۔
ہیر نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا زرمان کا رنگ اڑا ہوا تھا۔۔
چلو پھر میں ہی بتا دیتی ہوں ہاں انہوں نے میرا رشتہ مانگا تھا۔۔
لیکن میں نے انکار کر دیا تھا اور اب وہ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں ہاتھ دھو کر میرے خیال سے وضو کر کے ۔۔۔
لیکن میرا کوئی ارادہ نہیں ہے ان کے بیٹے سے شادی کرنے کا ہیر بولی تو زر مان مسکرا دیا ۔۔ پکا۔۔۔ ؟
ہاں پکا ۔۔ اور یہ تمہارا شکل کیوں پیلا پڑا ہوا ہے ۔۔
نہیں بس میں رات سے سوچ رہا تھا کہ صبح اپ سے پوچھوں گا کہ اخر وہ کیوں ارہے ہیں ۔۔ چلیں کم از کم یہ تو معلوم ہوا کہ اپ وہاں پر شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔
وہاں پر کیا میں کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی فی الحال ۔۔
میرے سے کر لیں شادی زرمان بولا تو رخسار اور حیات بے ساختہ اٹھ گئی ۔۔
حیات میں تو کہتی ہوں ہمیں یہاں سے جانا چاہیے ان دونوں کی پرسنل باتیں ہیں ہے رخسار بولی تھی ۔۔
ویسے تم صحیح کہہ رہی ہو ہم کیوں کباب میں ہڈی بن رہے ہیں ۔۔ وہ دونوں کہتی اٹھی ۔۔ پھررخسار زر مان کے کان کے قریب ہوئی ۔۔ کر دو پروپوز ۔۔ زندہ بچ
گئے تو اگلی کلاس میں ا جانا رخسار کہتی حیات کے ساتھ ہی باہر کی طرف گئی تھی ۔۔
ی۔۔ یہ کیا بول کے گئی ہے تمہارے کان میں ۔۔ کچھ بھی نہیں کہہ رہی تھی بھابھی اچھی لگ رہی ہیں اج ۔۔ بہن ہے نہ وہ میری اس لیے ۔۔۔
ہیر نے اب کی بار زر مان کو گھور کے دیکھا ۔۔ زیادہ بولو نہیں ہمیں نہیں کرنی تمہارے ساتھ بھی شادی ۔۔۔
میں پشتو بھی سیکھ لوں گا پکا بس اب میرے سے شادی کر لیں۔۔۔ اب کی بار نقاب کے اندر سے ہیر مسکرائی۔۔ تھی تم پاگل ہو لڑکے دماغ درست ہے تمہارا ۔۔ یا نسوار ڈالی ہوئی ہے تم نے منہ میں ۔۔ زر مان کا بے ساختہ قہقہہ گنجا ۔۔ یہ تو پٹھانوں کا کام ہے پنجابیوں کا نہیں ہیر صاحبہ ۔۔۔
زیادہ بولو نہیں تھوڑی دیر میں اگلی کلاس شروع ہو جائے گی
چلو اب اٹھو ۔۔ ہیر کہتی اٹھی تو زرمان بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ کر کھڑا ہو گیا چلیں کہاں جانا ہے۔۔
کہاں جانا ہے کیا اگلی کلاس میں چلو۔۔۔
اچھا جی چلیں۔۔ زر مان اب اس کے ساتھ ساتھ چلنے
لگا البتہ بیچ میں تھوڑا فاصلہ رکھا تھا۔۔۔
اپ کو ایک بات کہوں میں ۔۔ وہ ساتھ ساتھ چلتا بول رہا تھا ۔۔
ہاں کہو ۔۔۔۔
اپ مجھے اچھی لگتی ہیں ہیر ۔۔۔
ہیر کے قدم لڑکھرے ۔۔
اپ کو کب ہو گی میرے سے محبت ۔۔۔ زرمان اب امید سے پوچھ رہا تھا۔۔
کبھی نہیں ۔۔ ہیر نے اس کی امید پر پانی پھیرا تھا۔۔
چلیں کوئی بات نہیں میں انتظار کر لوں گا ۔۔ لیکن شادی اپ سے ہی کروں گیا ۔۔۔
اچھا ۔۔ تمھیں مجھ میں کیا اچھا لگتا ہے ۔۔
اپ مجھے پوری اچھی لگتی ہیں ۔۔ لیکن اپ کی آنکھیں ۔۔۔ بہت خوبصورت ہے
پوری تو ایسے بول رہے ہو جیسے تم نے ہمارا چہرہ دیکھا ہوا ہے انکھوں کے علاوہ تمہیں نظر کیا اتا ہے اسی لیے تمہیں انکھیں ہی اچھی لگتی ہیں ہماری۔۔۔
میں نے اپ کو دیکھا ہے۔۔ زرمان بولا تو ہیر نے اس کی طرف دیکھا ۔۔
کہاں ۔۔ ؟
و۔۔ وہ جب آپ اپنے گھر داخل ہوئی تھی ۔۔ جب ہم ہیر کے مزار پر گئے تھے واپسی پر جب اپ اپنے گھر داخل ہوئی تھیں اور سامنے ائینے میں جب اپ کا دوپٹہ اپ کے چہرے سے سرکہ تھا ۔۔
ہیر اب خاموشی سے کچھ دیر اس کو دیکھتی رہی ۔۔۔ پھر آگے چل پڑی ۔۔
کیا ہوا اپ ناراض ہو گئی ہیں اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔
ہیر اب سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ ۔۔۔ زرمان بھی اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔۔
اچھا ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔ تمھیں میں بس اچھی لگتی ہوں اس لیے شادی کرنا چاہتے ہو ۔۔
زرمان نے کچھ دیر سوچا پھر بولا۔۔
جی اپ اچھی ہی لگتی ہیں محبت کا مطلب میں نہیں جانتا ۔۔ اگر تو یہ محبت ہے تو بے حساب ہے ۔۔ اگر یہ عشق ہے تو بے پناہ ہے ۔۔
لیکن اپ مجھے اچھی لگتی ہیں ۔۔۔
ہیر اس کی بات پر ہنسی ۔۔۔ اچھے لگنے سے کیا ہو گا ۔۔ راستے میں کوئی بلی کا بچہ میں دیکھ لوں تو مجھے وہ بھی اچھا لگتا ہے ۔۔
اچھا لگنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔ “
اچھا لگنا ہی سب کچھ ہوتا ہے ہیر ۔۔۔ میری نظر میں محبت سے بڑ کر کیسی کو پسند کرنا ہوتا ہے ۔۔ اُس کا اچھا لگنا دل کو ۔۔ اُس کی مجودگی میں دل دھڑکنا ۔۔ اُس کے ہونے سے بہار انا ۔۔
میری نظر میں اچھا لگنا سب کچھ ہے ۔۔۔ اپ میرے دل کو اچھی لگتی ہیں ۔ اور اس اچھے لگنے پر میں قربان ۔۔
اپ اچھی لگتی ہیں اس لیے ہی شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
ہیر خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی جب رخسار اور حیات پاس ائی حیات نے اس کا کندھا ہلایا کن خیالوں میں گم ہو گئی ہو اٹھو ۔۔کلاس شروع ہو گئی ہے تمہیں ہی لینے ائے ہیں ۔۔۔
ایک تو تم دونوں ہر دفعہ ہی اکثر کلاس میں لیٹ ہو جاتے ہو اپنا یہ پیار محبت بعد میں کر لینا رخسار بولی تو ہیر نے اس کو دیکھا۔۔ ایسے جیسے کہہ رہی ہو لعنت ہے تم پر ۔۔۔
ویسے افسوس ہوتا ہے کہ تم میری دوست ہو ۔۔
بعد میں منا لینا افسوس ۔۔پہلے کلاس میں چلو ۔۔۔
ان کی کلاس بھی شروع ہو گئی تھی ۔۔ وہ کلاس سے فارغ ہوئی تھی جب کوئی لڑکا کلاس میں ا کر اس کا نام لے کر بولا تھا ۔۔
ہیر خان اپ کو پروفیسر افق مصطفی نے بلایا ہے ۔۔ اپ اُن کے افس جائیں ۔۔۔
ہیر حیران تھی اس کو کیوں بلایا تھا اخر پھر اس نے پوچھنا مناسب سمجھا۔۔مجھے کیوں بلایا ہے۔۔
مجھے نہیں پتہ بس انہوں نے کہا کہ ہیر کو بلا کر لائیں۔۔۔ وہ لڑکا کہتا ہوا کلاس سے باہر نکلا اور ہیر بھی اٹھ کر اس کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔۔ ہیر کو افق کا افس
دیکھا کر وہ لڑکا اگے چلا گیا ہیر نے دروازہ ناک کیا۔۔۔
پہلے کوئی جواب نہیں ایا۔۔۔ ہیر نے دوبارہ سے دروازہ بجایا۔۔
اجائیں اندر۔۔۔ اندر سے افق کی گمبھیر اواز ائی تھی۔۔۔
ہیر نے کچھ ہچکچاتے ہوئے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی
پروفیسر اپ نے مجھے بلایا۔۔
جی ہیر ائیں بیٹھے۔۔۔
وہ جا کر افق کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔۔
افق نے کورٹ اتار رکھا تھا جو اس کی چیئر کی پشت پر رکھا تھا وہ اس وقت شرٹ میں تھا جس کی استینے اس نے کہنیوں تک موڑ رکھی تھی۔۔۔
اس نے دو کپ کافی منگوائی تھی۔۔۔
کافی اب سامنے ٹیبل پر پڑی تھی ایک ہیر کے سامنے اور دوسری افق کے سامنے۔۔۔ اور افق مصطفی خاموشی سے ہیر خان کا جائزہ لے رہا تھا
پروفیسر اپ نے مجھے کیوں بلایا ہے ہیر نے کہا تو افق نے اس کو دیکھا۔۔۔ پھر اپنی چیر سے ذرا آگے ہو کے بیٹھا اور اپنے ہاتھ ٹیبل پر رکھے
کیوں میں اپ کو ایسے نہیں بلا سکتا۔۔۔
ایسے بلانے کا ویسے کوئی مقصد تو نہیں بنتا پروفیسر ۔۔ ہیر شدید ہچکچا رہی
تھی وہ اس کے انداز پر مسکرایا تھا۔۔
بس ویسے ہی بلایا ہے کچھ بات کرنی تھی اپ سے۔۔۔
جی کریں۔۔
کیا ہو گیا ہے ہیر اتنی جلدی کیوں ہے جانے کی۔۔
مجھے گھر جانا ہے پروفیسر ۔۔ پلز اپ جلدی بات کریں ۔۔
اچھا میں نے بس اپ سے پوچھنا تھا کہ اتنی ذہین اپ کیسے ہیں لیکچر تو میں نے دینا تھا کلاس میں اپ نے ہی سب کو لیکچر دے دیا تھا اج۔۔
ہیر شرمندہ ہوئی اسے پتہ چل گیا وہ کس بارے میں بات کر رہا تھا۔۔
ایم ریلی سوری سر
میرا وہ مقصد نہیں تھا کہ میں اپ کا لیکچر ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی وہ لڑکی بولی تھی تو میرے سے رہا نہیں گیا کیا کروں سر باتیں برداشت نہیں
ہوتی۔۔
ایک منٹ ۔۔ روکو لڑکی ۔۔ افق اس کی بات کٹ کر بولا ۔۔ کیا ہو گیا ہے اپ کو ہیر اپ نروس لگ رہی ہیں ۔۔۔
اور میں نے اپ کو ڈانٹنے کے لیے نہیں بلایا ۔۔ اپ نے اچھا کیا اپ نے ایک سیکھ دی ہے سب کو۔۔۔
اچھا ویسے اپ سے پوچھنا پسند کروں تو اپ نے کبھی میری کہانی پڑھی ہے کوئی بھی کہانی جو میں نے لکھی ہو
میں اس بارے میں بھی معافی چاہتی ہوں۔۔مجھے
کتابیں پڑھنے کا شوق ضرور ہے لیکن مجھے وقت نہیں ملتا اور میں اپ کا نام بھی پہلی بار ہی سن رہی ہوں یا شاید پہلے سنا ہو تو مجھے یاد نہ ہو کچھ کہہ نہیں سکتے۔۔۔
اس کی بات پر افق مسکرایا
ویسے مجھے پسند ایا اپ کا انداز جس طرح سے اپ بات کرتی ہیں اور جس طرح سے اپ بات کا جواب دیتی ہیں۔۔
بہت صاف گوہ معلوم ہوتی ہیں اپ ۔۔
جی کچھ ایسا ہی سمجھ لیں بات کو گھما پھر ا کر کرنا میری عادت نہیں ہے۔۔۔
میں جاؤں اب۔۔
نہیں روکیں ۔۔ میں نے پوچھنا تھا کہ اپ کس طرح کی کہانیاں بڑھتی ہیں اگر اپ کو کتابوں سے لگاؤ ہے تو۔۔
زیادہ کچھ نہیں ایسی کہانیاں جن سے سیکھ ملتی ہے۔۔۔ ایسی کہانیاں جو ہمیں کچھ سکھاتی ہیں ہمیں شعور دیتی ہیں۔۔ ایسی کہانیاں جو اللہ کے قریب رکھتی ہیں نہ کہ ایسی جو اللہ سے دور کر دیں گمراہ کر دیں چیپ قسم کی کہانیاں مجھے پسند
نہیں ہیں۔۔
اب کی بار افق کچھ گڑبڑایا تھا۔۔۔ مطلب اپ کو اسلامک کہانیاں پسند ہے۔۔
کچھ یہی سمجھ لیں۔۔
اچھا مجھے لگا کہ شاید اپ ہر طرح کی کہانی پڑھتی ہیں۔۔۔ اور اگر اپ ہر طرح کی پڑھتی ہوتی تو یقینا اپ میرے نام سے بخوبی واقف ہوتی۔۔۔ میں بھی کہوں ایسا کون ہے
جو میرے جیسے مشہور رائٹر کا نام نہیں جانتا۔۔ اور یقینا وہ اپ ہی ہو سکتی ہیں جو اسلامک کہانیاں پڑھتی ہیں۔۔۔
وہ اب خاموشی سے ہیر کو دیکھ رہا تھا جو انتہا کی کنفیوز تھی۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اٹھ کر کہیں پر بھاگ جائے افق کی نظروں سے۔۔۔۔
سر اب میں جاؤں ہیر بولی تو افق نے کچھ دیر اس کو دیکھا ویسے میں کوئی مگر مچھ تو نہیں ہوں کہ
اپ کو کھا جاؤں گا لیکن فی الحال اپ نہایت کنفیوز نظر ارہی ہیں کوئی بات نہیں جائیں ہیر ویسے بھی اب تو روز ملاقات ہو گی میں نے بس اپ کو اتنا ہی کہنے کے لیے بلایا تھا کہ اپ نے اچھا کام کیا سب کو کلاس میں سیکھ دے کر۔۔ میں
بہت متاثر ہوا ہوں اس بات سے اپ جا سکتی ہیں افق نے کہا تو ہیر فورا سے اٹھ کر باہر کی طرف چلی گئی کافی ویسی کی ویسی ہی رہ گئی تھی ہیر نے اس کو چھوا تک نہیں تھا۔۔۔۔افق خاموشی سے ٹیبل پر ہاتھ رکھے ہیر کو ہی سوچ رہا تھا پھر بے ساختہ وہ مسکرا اٹھا۔۔۔
افق کے بابا باہر کے ملک میں رہتے تھے وہ اپنے گھر کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔ گھر میں بس اس کی امی اور یہ ہی رہتے تھے ۔۔

کیوں بلایا تھا پروفیسر نے تجھے حیات اور رخسار ساتھ ساتھ چل رہی تھی جب رخسار بولی زرمان ان کے پیچھے تھا کچھ نہیں بس ویسے ہی بلایا تھا مجھے تو سمجھ نہیں ارہی بات بات پر سوال جواب پوچھ رہا تھا اپ میری کہانیاں پڑھتی ہیں
نہیں پڑھتی وغیرہ وغیرہ پتہ نہیں کیا کیا۔۔۔ پھر پوچھ رہا تھا کہ میں کون سی کہانیاں پڑھتی ہوں بھلا بندہ پوچھے پروفیسر ہیں ہمیں پڑھانے کی طرف دھیان دیں اور اخر میں بولا کہتا
ہے میں کوئی مگرمچھ تو نہیں ہوں کہ اپ کو کھا جاؤں گا اپ جا سکتی ہیں۔۔۔
اس کی بات پر رخسار اور حیات ہنسے جا رہی تھی مجھے تو لگتا ہے پروفیسر لٹو ہو گیا ہے تیرے پر۔۔
ویسے بھی اتنا حسین پروفیسر ہے ۔۔رخسار بولی پیچھے چلتے زرمان کے رنگ ہوا ہوئے تھے
اوہو ایسی کوئی بات نہیں ہے اس نے اخر میں یہ بھی کہا تھا کہ کلاس میں نے ایک لڑکی کو لیکچر دیا تھا وہ اس کے بارے میں بھی بات کر رہا تھا کہ میں نے بہت اچھا کام کیا تھا ہر انسان کو میری طرح ہی ہونا چاہیے۔۔
اچھا ایسی بات ہے تو اتنی دیر کیوں لگا دی تھی۔۔بس ویسے ہی وہ اپنی کہانیوں کے بارے میں بھی بتا رہا تھا بول تو رہی ہوں اس وقت سے میرے پیچھے پڑ گئی ہو تم دونوں۔۔
وہ چلتے ہوئے اگے جا رہے تھے جب زرمان نے اس کو اواز دی تھی ہیر رک گئی تھی۔۔
ہاں بولو کیا ہوا ہے اب تمہیں ۔۔
ہیر کچھ نہیں میں بس اپ سے بولنا چاہتا تھا کہ اپ پروفیسر افق سے ذرا دور رہیں۔۔
کیوں اب ایسا بھی کیا ہو گیا ہے۔۔۔ن
ہیں بس ویسے ہی کہیں اپ انہیں پسند نہ جائیں اس لیے بات کر رہا تھا۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے تمہیں میں پسند اگئی ہوں اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہر کسی کو پسند ا جاؤں گی۔۔
اپ ہر کسی کو پسند ا سکتی ہیں ہیر صرف مجھے ہی نہیں۔۔ اپ ہر کسی کا دل چرا کے لے کے جانے کی طاقت رکھتی ہیں اور یہ بات اپ نہیں جانتی لیکن اپ ان سے دور رہیں۔۔
زرمان کے ماتھے پر اب سلوٹیں تھی ۔
نہیں میں تمہاری بات مانوں کیوں کیا لگتے ہو تم میرے ہیر تو اب ضد پر اتر ائی تھی اس کو اچھا لگ رہا تھا زرمان کو تنگ کرنا اس کو اچھا لگ رہا تھا زرمان جیلس ہو رہا تھا۔۔۔
میں اپ کا کلاس میٹ ہوں اور ایک عدد دیوانہ بھی یہ الفاظ زرمان ہیر کے قریب ہوتے بولا تھا۔۔۔ اور اتنی ہلکی اواز میں
بولا تھا کہ نہ تو حیات کو سنائی دی تھی نہ ہی ساتھ میں چلتی رخسار کو۔۔۔ اس لیے میں یہ برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی بھی اپ کے قریب ائے۔۔یا اپ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش کرے۔۔۔
او مجنو زیادہ اڑتے نہ پھرو۔۔ اپنی پڑھائی پر دھیان دو ۔۔ ہیر فورن بولی زرمان خاموش
ہو گیا تھا۔۔ہیر بھی بنا کچھ کہے چلنے لگی تھی۔۔۔تم لوگ بھی چلو نا ہمارے گھر ہیر نے رخسار اور حیات کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
نہیں اج نہیں پھر کسی دن چلیں گے۔۔میں
مما بابا کو بتا کر نہیں ائی تھی۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔
اور رخسار نے بھی منع ہی کیا تھا

یہ ہوٹل کا منظر تھا۔۔۔ رات چھا رہی تھی گہری اندھیری رات۔۔ اسمان میں ہلکے ہلکے بادل ہو رہے تھے جو چاند کو چھپا رہے تھے۔۔ہوٹل میں کوئی داخل ہوا تھا۔۔۔ سیاہوڈی پہنے۔۔۔ اندھیرے میں چہرہ واضح نہیں ہوتا
تھا لیکن سب اس کو پہچانتے تھے۔۔۔وہ چلتا ہوا لفٹ تک ایا پھر بٹن دبایا لفٹ کھلی وہ اندر گیا۔۔۔ اور جب دوبارہ کچھ دیربعد لفٹ کھلی تو وہ ٹیرس پہ کھلی تھی ہوٹل کا ٹیرس۔۔ وہ لفٹ سے باہر نکلا اس کو اندھیرے میں چلتا کسی لڑکی کا وجود نظر ارہا تھا۔۔۔
وہ چلتا ہوا اس تک ایا وہ لڑکی تیز تیز کبھی ادھر تو کبھی ادھر ٹہل رہی تھی۔۔۔۔ جیسے وہ کسی کا انتظار کر رہی تھی۔۔ شاید اسی کے انے کا انتظار ۔۔ اس کو اپنی طرف اتا دیکھ کر وہ تھمی۔۔۔ ٹیرس پر کوئی کیمرہ وغیرہ نہیں لگے ہوتے تھے
اور اس پاس کی بلڈنگ کے بھی کیمرے خراب تھے۔۔۔
جو کہ سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔
کب سے انتظار کر رہی ہوں اپ کا کہاں رہ گئے تھے اپ۔۔
کہیں نہیں بس ا ہی رہا تھا تھوڑی دیر لگا دی میں نے معافی چاہتا ہوں۔۔۔
اس نے اپنے سر سے ہڈی اتارتے ہوئے کہا۔۔۔ ٹیرس کی مدھم روشنیوں میں اس کا چہرہ واضح ہوا تھا۔۔۔
قاسم خان کا چہرہ۔۔۔
قاسم اپ نے مجھے یہاں پر کیوں بلایا ہے۔۔۔ بس ایسے ہی تم ہی تو کہتی ہو کہ میں کبھی تم سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا سوچا کیوں نہ اج سیدھے منہ بات کر لوں
سمین مسکرائی تھی۔۔۔
چلیں شکر ہے اپ کو ذرا تو خیال ایا میرا بھی۔۔ اپ جانتے بھی ہیں کہ میں اپ کو پسند کرتی
ہوں۔۔۔
ویسے تمہیں نہیں لگتا تم نے غلط کیا ہے مجھے
پسند کر کے۔۔۔؟
نہیں مجھے اپ پر یقین ہے اپ بہت اچھے ہیں اپ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔۔۔
اور میں یہ بھی جانتی ہوں اپ مجھے پسند کرتے ہیں لیکن اپ افس کے کام کی وجہ سے شاید اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پا رہے قاسم۔۔۔۔
تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے سمین
جو جیسا نظر اتا ہے لازمی تو نہیں وہ ویسا ہی ہو۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔؟
مطلب یہ کہ میں جیسا تمہیں دکھتا ہوں لازمی تو نہیں ہے کہ میں ویسا ہی ہوں یہ بھی تو ہو سکتا ہے
میں کوئی قاتل ہوں۔۔۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم ابھی مرنے والی ہو۔۔۔
وہ گرل کے بالکل پاس کھڑی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بول پاتی یا کچھ سمجھ پاتی قاسم نے اسے دھکا دے دیا تھا۔۔
وہ بے ساختہ گرل سے نیچے کو گری تھی۔۔۔اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد یقینا کوئی بھی نہیں بچ سکتا تھا۔۔۔
وہ چھ منزلہ اونچی عمارت تھی
اور یقینا سمین مر گئی تھی۔۔۔ قاسم خان نے گرل پر ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے کی طرف دیکھا پھر ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
بیچاری۔۔کتنی بار کہا تھا کہ دور رہے مجھ سے لیکن اپنی موت کو خود ہی دعوت دے دی ۔۔ ہر وقت میرے پیچھے ہی پڑی رہتی تھی ۔۔ کوئی کام سکون سے نصیب نہیں ہوتا تھا
تم تو جانتی بھی نہیں ہے مجھے بس خود سے پیار ہے ۔۔۔
مجھے بس پیسے سے محبت ہے ۔۔۔ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ تم نے مجھے پسند کیا سمین۔۔
قاسم اب اوپر سے نیچے دیکھتا سمین کی لاش کو بول رہا تھا ۔۔
جس کے سر سے خون نکلا زمین پر پڑا تھا ۔۔ یقینا اس کا سر بری طرح سے پھٹا تھا۔۔ اتنی بری طرح کے اوپر سے نیچے گرتے ہی اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔۔
جیسے ہم نظر اتے ہیں ویسے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔!!!!!

یہ صبح کا وقت تھا قاسم کے ہوٹل میں پولیس والوں کا رش تھا ۔۔کوئی پولیس افیسر ہوٹل کے باہر پڑی کسی لڑکی کی لاش کی تفتیش کر رہا تھا۔۔
پھر اٹھا اور قاسم کی طرف ایا۔۔۔ جو حیران کھڑا تھا ۔۔
تو قاسم صاحب اپ نے فون کیا تھا ہمیں ۔۔
جی انسپیکٹر میں نے ہی فون کیا تھا۔۔۔
تو آپ بتائیں گے یہ لڑکی کون ہے قاسم ۔۔
سر یہ سمین ہے ہماری ریسپشنسٹ بہت اچھی لڑکی تھی سر۔۔ مجھے تو خود پتہ نہیں چلا یہ کیسے ہو گیا۔۔ میں کل ہوٹل نہیں ایا تھا ۔۔
طبیعت ٹھیک نہیں تھی میری اور صبح مجھے گارڈ نے فون کر کے بتایا کہ سمین کی موت ہو گئی ہے۔۔ سر یہ بہت اچھی تھی مجھے بہت افسوس ہوا ہے اس کی موت کا ۔۔
قاسم کیا اپ کو کسی پر شک ہے کے اس کا کوئی دشمن تھا ۔۔ یہ کوئی ایسا جو اس کو پسند نہ کرتا ہو ۔۔ نہیں سر ایسا ہو ہی نہیں سکتا سمین اتنی اچھی تھی اس کا کوئی دشمن ہو ایسا نہیں ہو سکتا وہ کسی سے بدتمیزی نہیں کرتی تھی سب سے اچھے سے بات کرتی تھی۔۔ وہ بہت اچھی تھی سر ۔۔۔
قاسم اپ کے ہوٹل کے اس پاس کے کیمرے خراب ہیں کیا اپ کو نہیں لگتا یہ سوچی سمجھی سازش ہے۔۔
سمین کے ماں باپ خاموش کھڑے تھے۔۔۔ ان کی انکھوں کے انسو اب سوکھ چکے تھے۔۔۔
میں نہیں جانتا سر اس بارے میں کچھ بھی۔۔میں خود اس بات پر حیران ہوں کہ سب کیمرے ایک ساتھ کیسے خراب ہو سکتے ہیں
اور تو اور میرے خود کے ہوٹل کے کیمرے بھی صحیح سے کام نہیں کر رہے سر کوئی تو ہے ہوٹل میں جس نے شاید اس کو مارا ہے یا پھر سر اس نے خودکشی کی ہے۔۔۔
خود کشی تو نہیں لگتی قاسم یہ لیکن اچھا کیا اپ نے ہمیں بتا دیا۔۔ہم اس کیس کو سالو کرنے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔۔
جی سر اپ لازمی کوشش کریں میری نظر میں سمین کی بہت عزت تھی وہ بہت اچھی لڑکی تھی ہم نے ایک جان کھو دی ہے سر اپ کو ضرور تفتیش کرنی چاہیے اس کے پیچھے کون ہے اور اگر اس نے خودکشی بھی کی ہے تو کیا وجہ بنی خودکشی کرنے کی۔۔۔

ہم دیکھ لیں گے قاسم یہ ہمارا کام ہے۔۔ لیکن اپ ٹیرس پر بھی کیمرہ وغیرہ لگوائیں اپ کی سب سے بڑی غلطی ہی یہ ہے کہ اپ نے چھت پر کیمرہ نہیں لگوایا۔۔۔ اگر اس کو کسی نے قتل کیا ہے تو یقینا قاتل پکڑا ہی جائے گا۔۔
مجھے بھرپور امید ہے سر کے قاتل پکڑا جائے یہ ہمارے ہوٹل کی عزت کا سوال ہے۔۔۔ میں نے اتنے سال لگا کر اپنے ہوٹل کا نام بنایا ہے میں نہیں چاہتا میرے ہوٹل کا نام خراب ہو۔۔۔
قاسم کو شدید صدمہ تھا سمین کے مر جانے کا ۔۔۔ قاسم چلتا ہوا سمین کے ماں باپ کی طرف ایا ۔۔ جو خاموش کھڑے تھے ۔۔ قاسم نے اس کے بابا کو گلے لگایا ۔۔
انکل ہمت رکھیں مجھے بہت افسوس ہے ۔۔ قاسم کی انکھوں میں انسو تھے ۔۔۔
اور سمین کے بابا بے ساختہ رو پڑے ۔۔ ہمارا ایک ہی سہارا تھی ہماری بیٹی ۔۔ سر جی ۔۔ وہ ایسے کیسے جا سکتی ہے ہمیں چھوڑ کر ۔۔ ہم کیا کریں گے اب ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا انکل میں ہوں نہ ۔۔ میں اپ کو کبھی اکیلا نہیں ہونے دوں گا ۔۔
قاسم خان اپ کا خیال رکھے گا انکل ۔۔
اپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ میں اپ کو سمین کی تنخواہ بھیجتا رہوں گا ۔۔ اپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
اپ بہت اچھے ہیں سر جی ۔۔ لیکن ہماری بیٹی تو چلی گئی نہ ۔۔
تو کیا میں اپ کا بیٹا نہیں ہوں انکل ۔۔ قاسم اب انکھوں میں امید لیے بولا ۔۔ میں بھی تو اپ کا بیٹا ہوں نہ انکل ۔۔
بوڑھے آدمی نے گردن ہلا دی ۔۔
بس پھر میں ہمیشہ اپ کے لیے حاضر ہوں اپ جب بھی بلائیں میں آجاؤں گا ۔۔ ابھی اپ گھر جائیں ۔۔۔
اپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے ۔۔ اپ ارام کریں گھر جا کے ۔۔ میں قاتل کا پتہ ضروری لگاؤں گا ۔۔
میں سمین کو انصاف ضرور دلواوں گا ۔۔۔
ہمیں اپ پر یقین ہے سر جی ۔۔ سمین بھی اپ کی بہت تعریف کرتی تھی کے اپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔
میں اچھا نہیں ہوں انکل جی ۔۔ سمین اچھی تھی اس کے ساتھ ہر انسان اچھا رہتا تھا ۔۔ لیکن جو بھی ہے جس نے بھی اس معصوم کو مارا ہے میں اس سے بدلہ لوں گا سمین کا اور اگر سمین نے خودکشی کی ہے تو میں وجہ جانوں گا کہ اس نے خود کشی کیوں کی تھی میں پیچھے نہیں ہٹوں گا انکل
جی میں سنبھال لوں گا۔۔۔
قاسم نے اس کے ماں باپ کو حوصلہ دیا اور پھر ان کو ڈرائیور کے ساتھ اپنی گاڑی میں گھر بھجوا دیا۔۔۔
کچھ پولیس افیسرز ابھی تک تفتیش کر رہے تھے گرل پر لگے فنگر پرنٹس لے رہے تھے ۔۔ اور جو فنگر پرنٹس ملے تھے وہ خود سمین کے تھے
سر مجھے لگتا ہے قتل نے ہاتھوں۔ میں دستانے پہن رکھے تھے ۔۔
اگر اس لڑکی کا قتل ہوا ہے تو ۔۔ ؟ ایک
کونسٹیبل اپنے سینیئر سے بول رہا تھا ۔۔۔ قاسم کو کوئی دلچسپی نہیں تھی ساری تفتیش میں ویسے بھی اخر پہ خودکشی ہی ثابت ہونی تھی۔۔۔ قاتل کا تو کچھ پتا ملنا ہی نہیں تھا۔۔۔

قاسم کے اپنے گھر والوں کو بھی پتہ تھا کہ ہوٹل میں کیا حادثہ ہوا تھا قاسم کے اپنے گھر والے بھی اچھے خاصے پریشان تھے اس کی امی ابو خاصے پریشان تھے جب کہ اج ان کو ہیر کی طرف اس کے گھر ڈنر پر بھی جانا تھا۔۔۔۔ قاسم اپنے گھر میں داخل ہوا اس کی امی ابو پریشان سے
صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اس کو اندر اتا دیکھ کر اٹھ کر کھڑے ہو گئے
کیا بنا قاسم کیس کا کچھ پتہ چلا کیا ہوا ہے وہ لڑکی
کیسے مری تھی اور کیوں مری
میں نہیں جانتا بابا فی الحال تو پولیس تفتیش کر رہی ہے دیکھتے ہیں پولیس والوں کا کہنا ہے کہ وہ قتل ہوئی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس نے
خودکشی کی ہے بابا اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے اس کی موت کی وجہ سے میرا ہوٹل کافی خطرے میں پڑ گیا ہے بس اب دعا کریں کہ کیس جلدی سالو ہو جائے اور پتہ چل جائے کہ قاتل کون ہے نہیں تو اگر اس نے خودکشی بھی کی ہے تو خودکشی کی وجہ کیا تھی اگر یہ پتہ چل جائے تو اچھا ہی
ہے نہیں تو پہلے ہی میرے ہوٹل کا بہت نام خراب ہو چکا ہے اتنے سالوں کی محنت میری پانی میں مل جائے گی بابا
کچھ نہیں ہوتا قاسم تم ہمت رکھو پتہ چل جائے گا کہ اس لڑکی نے خودکشی کیوں کی تھی یا پھر اسے کس نے مارا ہے وہ کیسے مری تھی اس کے بابا نے قاسم کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا ۔۔
ٹھیک ہے میں فلحال جا رہا ہوں اپنے کمرے
میں تیار ہونے کے لیے۔۔ویسے بھی ابھی ہم نے جانا ہے نا ہیر کی طرف ڈنر پر کچھ دیر میں
ہاں جانا تو ہے تمہارا پورا دن ویسے ہی پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹتے کاٹتے اور اپنے ہوٹل کی طرف جاتے جاتے گزر گیا ہے تم تھوڑی دیر ارام کرو میں کامران کو بتا دیتا ہوں کہ ہم تھوڑا سا لیٹ ائیں گے ان کا ارادہ ویسے سات بجے کے قریب جانے کا تھا لیکن اب انہوں نے نو بجے جانے کا فیصلہ کیا تھا ڈنر پر انہوں نے کامران خان کو فون کر کے بتا دیا تھا اور کامران خان اور ان کے گھر والے سب ہی پریشان تھے قاسم کے
گھر میں ہوئے اس حادثے کے بارے میں
ٹھیک ہے ادم کوئی بات نہیں تم لوگ نو بجے کے قریب ا جانا ہم لوگ انتظار کریں گے تمہارا
قاسم سیدھا اپنے کمرے میں اگیا تھا ویسے ہی اس کے سر میں بہت درد ہو رہی تھی صبح سے اس کو دماغ کھپانا پڑا تھا بندہ ایک قتل کیا کر دے۔۔پولیس والوں کے سوال جواب
کا پہاڑ ہی ٹوٹ پڑتا ہے قاسم دل میں یہی سوچ رہا تھا۔۔
اور جہاں تک رہی اس لڑکی کی موت کی بات میں نے کہا تھا میرے پیچھے پڑے ہر وقت فون پہ فون۔۔ہر وقت تنگ اس کو لگتا تھا جیسے میں ہر وقت فارغ گھومتا رہتا ہوں اس کی طرح اور تو کوئی کام تھا نہیں بس ایک چیئر پر بیٹھ کر کام کرنا بھی کوئی کام ہے ۔۔ قاسم نے اپنے بیڈ سائیڈ
ٹیبل کی ڈرا رسے ایک میڈیسن نکالی تھی سر درد کی اور وہ کھا کر کچھ دیر بیڈ پر لیٹ گیا تھا فی الحال اس کا ارادہ تھا ارام کرنے کا۔۔۔۔

ہیر کے گھر والوں کو سب کو پتہ تھا کہ قاسم خان کے گھر والے اب تھوڑا دیر سے ائیں گے ہیر تو دعائیں مانگ رہی تھی کہ اللہ کرے ان کا ارادہ ہی بدل جائے انے کا قاسم کو بخار ہو جائے یا پھر اس کا سر درد سے پھٹ جائے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا تھا۔۔۔
ہیر اس وقت کچن میں کھڑی اپنی ماں کے ساتھ سارے کھانے کا سامان فرج میں رکھ رہی تھی جو کہ اب ٹھنڈا ہی ہو چکا تھا انہوں نے کھانا پہلے ہی بنا لیا تھا اور اب بعد میں جب قاسم کے گھر والوں نے انا تھا تو کھانا گرم کر کے بس
ان کے اگے رکھنا تھا سب کھانا تیار تھا۔۔۔

ہیر اس وقت سیاہ شلوار قمیض میں تھی سر پہ دوپٹہ لیے۔۔۔ انکھوں میں ہلکا کاجل ڈالے۔۔ روز کی طرح ہلکا گلابی رنگ کا لپ گلوس لگائے۔۔۔ وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
اور پھر ہیر سارا کھانا فرج میں رکھنے کے بعد اپنے کمرے میں ا کر بیٹھ گئی۔۔جب اس کے فون پر زرمان کا میسج ایا تھا وہ پوچھ رہا تھا۔۔۔
چلے گئے اپ کے بابا کے دوست۔۔۔؟
میسج دیکھ کر ہیر کے چہرے پر مسکراہٹ ائی وہ جیلس ہو رہا تھا کیا۔۔۔
چلے کیا گئے فی الحال تو ائے ہی نہیں ہے ان کے بیٹے کی طبیعت خراب ہو گئی تھی کچھ۔۔۔
اللہ کرے ائیں ہی نہ اگلا میسج زرمان نے فورا سے کیا تو ہیر مسکرا اٹھی۔۔۔
ویسے اس کو بدمائیں تو میں بھی یہی دے رہی ہوں لیکن مجھے لگتا ہے قبول نہیں ہوگی۔۔۔
اچھا چلیں کوئی بات نہیں۔۔ اپ بتائیں اپ کی طبیعت ٹھیک ہے کیا حال ہے اپ کا زرمان پوچھ رہا تھا
میں ٹھیک ہوں اب موبائل رکھو کیونکہ ہم کو باہر جانا ہے۔۔۔
اب کہاں باہر جانا ہے اپ نے۔۔
کہیں نہیں باہر لاؤنج میں جانا ہے اماں کی اواز ارہی ہے بار بار ۔۔
اچھا جائیں ۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔۔
زرمان نے کہتے ہوئے فون رکھ دیا ہیر اٹھ کر باہر اگئی۔۔۔ 8:30 ہو رہے تھے۔۔۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا اور پھر اخر کار کچھ دیر رہ گئی تھی قاسم خان کے انے میں۔۔۔ اور ہیر کی کوفت بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
اب وہ ائے گا اور نہ جانے پھر کیا کہے گا اور کیا کرے گا۔۔۔ اور بس اب اللہ کرے کہ اس کے ماں باپ پھر دوبارہ رشتے کی کوئی بات نہ چھیڑ دیں۔۔ ہیر کے دماغ میں یہی چل رہا تھا۔۔۔

اور اپنے گھر اپنے کمرے میں تیز تیز ٹہلتا زرمان راجپوت دماغ میں سوچ رہا تھا کہ جانے اب کیا ہونے والا تھا ۔۔ اگر کہیں ہیر کے بابا نے ہاں کر دی رشتے کے لیے تو۔۔۔ لیکن ہاں تو کی ہوئی ہے پہلے سے ہی زرمان اکیلے ہی بڑبڑائے
جا رہا تھا
اللہ جی پلیز بس ایک کام کر دیں میرا۔۔ اس طرف سے رشتے کی نہ ہو جائے۔۔۔ انکار ہو جائے ہیر کے رشتے کے لیے ۔۔۔
پلیز بس ایک دعا سن لیں میں اپ کا اچھا بندہ ہوں نہ ۔۔ زرمان اپنے کمرے میں تیز تیز ٹہلتا خود ہی بڑھائے جا رہا تھا اور نہ جانے وہ اللہ کو اپنی کیا کیا اچھائی یاد کروا رہا تھا۔۔۔

 جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *