محبت عبادت قسط نمبر:2
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
ان کو واپسی ائے پورا دن گزارنے گیا تھا ۔۔ سب کام معمول پر ہونے لگ گئے تھے ۔۔ معراج کالج جانا شروع ہو گئی تھی ۔۔اور رحال اپنی یونیرسٹی ۔۔۔ لیکن سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا تھا ۔۔۔ ایسا نہیں تھا کے رحال کو کبھی کسی نے پسند نہیں کیا تھا ۔۔ رحال خوبصورت تھی لوگ اس کو چاہتے تھے ۔۔ نہ جانے کتنے ہی گھروں سے اس کے لیے رشتے ائے تھے ۔۔ اور سب کو منا کر دیا جاتا تھا کے وہ ابھی پڑھائی کر رہی ہے ۔۔۔ اور رشتے والے کہتے منگنی کر دیتے ہیں ۔۔۔لیکن سلیماں بیگم ہمیشہ کہتی نسبت کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ کل کو ذرا سی کوئی بات ہوئی منگنی ٹوٹ جائے گی اور منگنی ٹوٹنے کا الزام ہماری بچی پر ائے گا کے ضرور لڑکی زبان دراز تھی یہ بد تمیز تھی ۔۔ اور یہی وجہ سے سلیماں نے اس کا کہیں رشتا نہیں کیا تھا ۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں سلیماں کو علی مصطفیٰ اپنی بچی کے لیے بہت پسند تھا ۔۔اور پھر وہ بھانجا بھی تھا اور لاڈلا بھانجا ۔۔۔ سلیماں کو 99 فیصد یقین تھا کے علی رحال کو پسند کرتا ہے ۔۔ لیکن 1 فیصد یقین ڈگمگا جاتا تھا ۔۔۔
ان کو انتظار تھا کے کب علی خود رشتا بھیجے گا ۔۔
اور کب یہ اپنے شوہر سے اس بارے میں بات کریں گی ۔۔ اور وہ نہ جانے کب ہونا تھا ۔۔
یہ شام کا وقت تھا رحال اپنے کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔اور سکون کر رہی تھی ۔۔ ویسے ہی یہ بہت تھک گئی تھی ۔۔۔
رحال کی کوئی دوست تو تھی نہیں جس کو وہ اپنے دل کی باتیں بتاتی ۔۔ اور اگر یہ باتیں وہ میراج کو بتاتی تو سمجھو میراج گھر کی وہ اواز تھی جس کو اسپیکر کی ضرورت نہیں تھی ۔۔ اور یہی وجہ تھی رحال کچھ نہیں بتاتی تھی ۔۔ دوستیں بنانا رحال کو پسند نہیں تھا ۔۔ وجہ صرف ایک ۔۔۔
ہم جس سے دوستی کرتے ہیں اس کو بھی چاہیے کے وہ بھی بس ہمارا دوست رہے ۔۔ لیکن ہمارے سب سے اچھے دوست کا بھی کوئی پسندیدہ دوست ہوتا ہے ۔۔ اور بدقسمتی سے وہ پسندیدہ دوست ہم نہیں ہوتے ۔۔ یہی وجہ تھی رحال کی کوئی دوست نہیں تھی ۔۔۔
رحال کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔ خیال تو لاہور کے کیسی بادشاہ پر اٹک گیا تھا ۔۔
وہ کیا کر رہا ہو گا ۔۔؟ اس نے گہرا سانس لیا ۔۔
رحال ۔۔۔ یہ تو کیا سوچ رہی ہے ۔۔ وہ جو بھی کریں ۔۔ تیرا کیا لینا دینا اس سب سے ۔۔؟
لیکن امی نے کہا کہ وہ ۔۔ مجھے پسند کرتے ہیں ۔۔
رحال کے رخسار سرخ ہو گئے ۔۔ وہ اٹھی آئینے میں خود کو دیکھا ۔۔ چہرے پر مسکراہٹ اگئی جس کو اس نے جلدی سے روک لیا اور مسکراہٹ روکنے کے چکر میں گال سرخ ہو رہے تھے ۔۔
رحال ۔۔۔۔ وہ تُجھے پسند نہیں کرتے ۔۔ تو اتنی خوبصورت نہیں ہے کے وہ تُجھے پسند کریں ۔۔
رحال اب خود سے باتیں کر رہی تھی ۔۔
تب ہی کمرے کا دروازہ کھولا میراج اندر داخل ہوئی ۔۔۔
رحال گھبرا گئی ۔۔ میراج نے اس کو دیکھا ۔۔
تمھیں کیا ہوا ۔۔؟ میراج نے غور سے اس کو دیکھ کے پوچھا ۔۔
ک۔۔ کچھ نہیں ۔۔م مجھے کیا ہونا ہے ۔۔
رحال بیڈ پر جا کے بیٹھ گئی ۔۔۔
وہی تو پوچھ نہیں ہوں تمھیں کیا ہوا ہے طبیعت ٹھیک ہے ۔۔ چہرہ سرخ ہو رہا ہے بخر تو نہیں ہے کیا ۔۔ میراج نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کے بخر چیک کیا ۔۔
بخر تو نہیں ہے تمھیں تو پھر لال کیوں ہو رہی ہو ؟
ع۔۔ ایسے ہی گرمی بہت ہے نہ اس لیے۔۔
میراج کی آنکھیں ایک دم گول ہوئی حیرانی کی وجہ سے ۔۔ گرمی۔۔۔؟ دسمبر کے مہینے میں تمھیں گرمی لگ رہی ہے لڑکی ۔۔ دماغ ٹھیک ہے تمھارا
ہ۔۔ ہاں ٹھیک ہے ۔۔تم کیوں اتنے سوال پوچھ رہی ہورحال اب خود کو سنبھال چکی تھی
نہیں بس ایسے ہی ۔۔ میراج نے اس کو دیکھا
تمھیں پتہ ہے ۔۔ امی کی زرینہ خالا سے بات ہوئی تھی ۔۔۔
اچھا ۔۔ تو ۔۔؟
تو ۔۔یہ کے ۔۔ میراج اب سسپنس کریٹ کر رہی تھی ۔۔۔
جلدی بولو ۔۔۔ رحال کا سانس تھم گیا ۔۔
وہ کہہ رہی تھی کے ۔۔ زرینہ خالا کو پکا یقین ہے کہ بھائی علی تمھیں پسند کرتے ہیں۔۔ رحال نے حیران ہو کر اس کو دیکھا ۔۔
و۔۔وہ کیسے ؟
وہ ایسے کے ۔۔ جس شام ہم واپس نہیں ائے تھے ۔۔ تمھیں پتہ ہے ہمیں اسلامباد انے تک بہت رات ہو گئی تھی ۔۔ خالا نے ابھی بتایا کے بھائی علی بہت پریشان ہو گئے تھے ۔۔ تمھیں پتہ ہے جب گاڑی میں سگنل بند ہو گئے تھے ۔۔
ہاں ۔۔!
تب بھائی علی بہت پریشان ہوئے تھے ۔۔ اور بار بار ۔۔ کہہ رہے تھے ۔۔ کے فون نہیں لگ رہا
خالا فون نہیں اٹھا رہیں ۔۔۔ پتہ نہیں رحال ٹھیک ہو گی کے نہیں ۔۔ زرینہ خالا بولی ۔۔ کے میں نے علی سے پوچھا ۔۔ کے تُجھے بس رحال کی پروا ہے تو وہ ایک دم گربرا گیا ۔۔ اور کہنے لگا
نہیں امی ۔۔ ایسا نہیں ہے ۔۔
تمھیں پتہ ہے خالا نے کیا کہا ۔۔ خالا بولی اتنی صفائیاں وہی انسان دیتا ہے ۔جس کے دل میں ضرور کچھ ہو ۔۔
تمھارا وہم ہے ۔۔معراج کی بات پر اس نے خود کو کہتے سونا ۔۔ جب کے وہ جانتی تھی ۔۔ معراج نے تو سو جانا تھا ۔۔ اس نے پوری رات جاگ کے اب یہ ساری باتیں سوچنی تھی ۔۔۔
اور یہی ہوا تھا ۔۔۔ معراج سو گئی تھی ۔۔
اور رحال صاحبہ ۔۔ ساری رات جاگتی رہی ۔۔
کروٹیں لیتی رہی اور نیند تھی کے ا ہی نہیں رہی تھی ۔۔
یہ صبح کا دُھند بھرا موسم تھا۔۔ لاہور ہو اور سردیوں میں دھند نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔۔ علی مصطفیٰ ۔۔مصطفیٰ محل سے باہر نکلا تھا اور اپنی گاڑی میں ا کر بیٹھا تھا ۔۔ اج وہ سیاہ پینٹ شرٹ میں تھا ۔۔ اُس نے گھڑی کی سیٹ سنبھالی اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔
اس کی سلیماں خالا کو گئے پورا مہینہ گزر چکا تھا ۔۔
وہ اپنی روٹین میں اگیا تھا ۔۔۔
اس نے گاڑی کمپنی کی طرف بڑھا دی ۔۔
گاڑی ایک عالیشان عمارت کے باہر روکی ۔۔
شیشے کے دروازوں والی کمپنی کے باہر کھڑے دو گارڈز میں سے ایک نے بھاگ کر گاڑی کا دروازہ کھولا ۔۔ گاڑی سے عام سے حلیے والا علی مصطفیٰ باہر نکلا ۔۔ وہ عام سے کپڑوں میں تھا ۔۔ لیکن پھر بھی وہ سب سے خاص تھا ۔۔
چہرہ سپاٹ تھا ۔۔ انکھوں میں چمک ۔۔ ہاتھوں میں چمکتی گھڑی۔۔۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر داخل ہوا ۔۔
سارے ایپلائیز نے اس کو سلام کیا ۔۔ یہ عمارت علی مصطفیٰ نے اپنے دم پر کھڑی کی تھی ۔۔ اور اس عمارت کو کھڑا کرنے میں ایک بڑا نام کمانے میں علی کو چار سال لگے تھے ۔۔۔ اور وہ چار سال علی نے اپنی ہوش نہیں کی تھی ۔۔ اور اج وہ پاکستان کی بیسٹ پرفیوم کمپنی کا مالک تھا ۔۔
اُس کے اندر داخل ہوتے ہی افس میں ایک عجیب سنجیدگی اگئی تھی ۔۔ علی کا کیبن اوپر والے فلور پر تھا ۔۔ سیاہ شیشوں والا کیبن ۔۔ نیچے ہر طرف چیئر ڈیسک لگے تھے ۔۔ جہاں لوگ بیٹھے کام کر رہے تھے ۔۔ کوئی فائلز چیک کر رہا تھا کوئی لیپ ٹاپ کھول کے بیٹھا تھا ۔۔
سب سے حیران کرنے والی بات اس کمپنی کا نام تھا ۔۔۔ علیحال ۔۔۔ Alihal perfumes
اس کا نام علی مصطفیٰ نے خود رکھا تھا ۔۔۔ کیسی کو سمجھ نہیں ائی تھی علی تو ٹھیک ہے لیکن حال ؟
یہ عجیب تھا ۔۔۔
اعلی اپنے افس میں سکون سے بیٹھا تھا کے اس کے اسسٹنٹ زوہیب نے افس کا دروازہ بجایا اور اندر اگیا ۔۔
علی اپنی چیئر پر ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا
سر یہ فائل ہے اپ اس کو سائن کے دیں اور شام 5 بجے اپ کی میٹنگ ہے ۔۔ مسٹر شیروز سے ۔۔۔
میٹنگ کینسل کر دو زوہیب ۔۔ علی نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔۔ لیکن سر وہ بہت فورس کر رہے ہیں ۔۔ کے ایک بار اپ اُن کی کمپنی میں انویسٹ کریں ۔۔ اُن کے ساتھ انویسٹ کر کے مجھے یہ میری کمپنی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔۔ اور جہاں فائدہ نا ہو میں ایسا کام نہیں کرتا زوہیب اس لیے کینسل کر دو میٹنگ ۔۔ اور بول دو میری طرف سے صاف جواب ہے اُن کو ۔۔
زوہیب نے کچھ دیر علی کو دیکھا ۔۔ اور پھر خاموشی سے باہر چلا گیا ۔۔۔ زوہیب اپنے کیبن میں ایا اور شروز صاحب کی اسسٹنٹ کو کال ملائی دوسری طرف سے فورا ہی فون اٹھا لیا گیا تھا
ہیلو ۔۔ میں مسٹر علی کا اسسٹنٹ بات کر رہا ہوں
دوسری طرف سے خوشگوار اواز گونجی ۔۔
جی کہیں زوہیب صاحب ۔۔ سن رہی ہوں میں اپ نے یہی بتانے کے لیے فون کیا ہو گا کے میٹنگ اور وقت سے آجائیں ہم ۔۔ وہ لڑکی بولی تو زوہیب نے بات کاٹ دی ۔۔
نہیں ۔۔ یہ کہنے کے لیے فون نہیں کیا ۔۔ بلکہ میں نے اپ کو بتانا تھا کے علی صاحب نے میٹنگ کینسل کر دی ہے ۔۔۔ ۔۔
لیکن کیوں ۔۔ دوسری طرف سے اب کی بار پریشانی بھری اواز ائی تھی۔۔۔
اُن کو اپ کے ساتھ انویسٹ کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔ اور جس کام میں اُن کو فائدہ نہیں ہوتا وہ نہیں کرتے۔۔۔ زوہیب نے علی کے کہے الفاظ ہی بول دیے تھے ۔۔۔
شروز صاحب کی اسسٹنٹ نے کچھ کہنا چاہا اور زوہیب نے کال کٹ کر دی ۔۔ فون بند کرنے کے باد وہ واپس علی کے افس میں ایا ۔۔
سر میں نے منا کر دیا ہے میٹنگ کے لیے ۔۔
اعلی نے بس گردن ہلا دی ۔۔
زوہیب ذرا آگے ایا اور ہاتھ میں پکڑی نیلے رنگ کی فائل علی کے سامنے رکھی ۔۔ سر اس پر آپ کے سائن چاہیے ۔۔ زوہیب نے فائل سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔۔ علی جو لپٹ ٹاپ سامنے کھولے بیٹھا تھا ۔۔ ایک نظر کھلی فائل ڈالی اور پھر سائن کر کے دوبارہ نظر ہٹا دی ۔۔ کچھ دیر ایسے ہی گزر گئی ۔۔ ۔۔ بولو زوہیب کچھ کہنا ہے ۔۔؟
علی نے دیکھا زوہیب ابھی تک کھڑا ہی تو علی نے اس کو مخاطب کیا ۔۔
س ۔۔سر وہ ۔۔ سیلری جلدی مل سکتی ہے کیا ؟
کب تک چاہیے ۔۔؟علی نے اگلا سوال کیا ۔۔
س۔۔سر ۔وہ اج ہی ۔۔ امی کی کچھ طبیعت خراب ہے ۔۔ ٹھیک ہے مل جائے گی ۔۔۔ علی نے جلدی سے کہا ۔۔ اور زوہیب شکریہ ادا کرتا باہر نکل گیا ۔۔
زوہیب کی بس امی ہی تھی بابا اس کے بچپن میں اللہ کا پیارے ہو گئے تھے ۔۔ زوہیب اکلوتا بیٹا تھا ۔۔ ماں نے لوگوں کے گھروں میں صفائیاں کر کر کے بیٹے کو جوان کیا تھا پڑھایا تھا ۔۔ اور اب زوہیب حسن ۔۔علی مصطفیٰ کا اسسٹنٹ تھا ۔۔ ۔۔
جب سے علی نے کپمنی بنائی تھی ۔۔ پہلے دن سے لے کے زوہیب اور ہانیہ علی کے ساتھ تھے ۔۔
اب سب سوچیں گے ہانیہ کون ہے؟
تو ہانیہ وہ آفات ہے جو ایک ہفتے کی چوٹی پر گئی تھی اور کل اُس نے اجانا تھا ۔۔۔ وہ علی کے افس کی چلتی پھرتی مشین تھی ۔۔ اور کوئی عام مشین نہیں ۔۔ مشین گن ۔۔ “
کیسی پر بھی برس پڑتی تھی ۔۔۔ سب اُس سے بچ کے ہی رہتے تھے ۔۔ سب سے وہ گئی تھی تب سے اب کو سکون تھا ۔۔ لیکن اب سکون ختم ہونے والا تھا ۔۔
وہ واپس آنے والی تھی ۔۔۔ ہانیہ کون تھی ۔۔
وہ علی مصطفیٰ کی سیکٹری تھی ۔۔
اور علی کے حساب سے وہ لڑکی پاگل تھی ۔۔ لیکن علی کا بس کام کی حد تک اُس سے تعلق تھا وہ فضول میں لوگوں کے ساتھ رشتے داریاں نہیں پالتا تھا ۔۔ اور ہانیہ ۔۔ وہ پہلے دن سے علی مصطفیٰ پر فدا تھی ۔۔ علی کو اس نے کبھی بتایا نہیں تھا ۔۔ لیکن علی جانتا تھا ۔۔
ہانیہ ایک امیر گھرانے سے تھی ۔۔ جوب کرنے کے تو ضرورت ہی نہیں تھی ۔۔ لیکن وہ علی کی وجہ سے جوب کرتی تھی ۔۔۔
زوہیب باہر چلا گیا اور علی اپنے کام میں لگ گیا ویسے ہی اپ کا دن مصروف تھا ۔۔
اور ہانیہ کے نہ ہونے کی وجہ سے بہت کام زوہیب کے ذمے اگیا تھا ۔۔ اور وہ بیچارہ ہر طرف سے پس رہا تھا ۔۔۔
یہ سبز اور خوشحال سویرا تھا ۔۔ جیسے اسلام باد میں ہوا کرتا تھا ۔۔ اور رحال اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔ آنکھیں نیند سے جاگنے کی وجہ سے سوجی پڑی تھی ۔۔ جب معراج نے اس کو دوبارہ ہلایا ۔۔ اٹھ جاؤ ۔بیٹھی بیٹھی سو رہی ہو کیا اب ۔
یونیوسٹی نہیں جانا کیا 15 منٹ رہ گائے ہیں ۔۔۔
معراج کندھے پر بیگ ڈالے تیار کھڑی تھی کالج جانے کے لیے ۔
معراج کے کہنے پر رحال ہڑبڑا کر اٹھی ۔۔ 15 منٹ ۔۔ 15 منٹ رہ گئے ہیں ۔۔
وہ بعد سے نیچے اُتری اور باتھ روم کی طرف بھاگی
کچھ دیر بعد وہ باہر ائی تھی بال گیلے تھے ۔۔ اُس نے اپنے بال سکھائے۔۔ اور خود کو آئینے میں دیکھا ۔۔ بنا کیسی میک اپ کے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
جلدی سے اس نے عبایا پہنا۔۔ سر پر ڈوبتا لے کے گلے میں گھمایا ۔۔ خد کو آئینے میں دیکھا اور بیگ پکر کے باہر نکل تو ۔۔۔ پھر گاڑی میں ا کے بیٹھی ۔۔ ڈرائیور نے گاڑی اگے بڑھا دی ۔۔
کچھ دیر بعد وہ یونیورٹی میں داخل ہو رہی تھی ۔۔ وہ یونی میں داخل ہوئی ۔۔ اور کلاس روم کی طرف بھاگی ۔۔
کلاس شروع ہو گئی تھی ۔۔ جب اس نے دروازہ بجایا ۔۔۔ سامنے کھڑے پروفیسر نے اس کو دیکھا اور اندر انے کو کہا ۔۔ رحال اتنی لیٹ ائی ہو تم بچے ۔۔ سفید داڑھی والے پروفیسر نے کہا ۔۔
رحال نے موں بنایا ۔۔ سر ۔۔ وہ آنکھیں دیر سے کھلی تھی ۔۔ اس کے کہنے پر پوری کلاس میں مدھم سی ہنسنے کی سرگوشی کی اواز ائی ۔۔ ۔۔
ٹھیک ہے کوئی بات نہیں رحال جاؤ بیٹھو اپنی جگہ پر ۔۔
رحال نے گردن ہلائی اور اگے بڑ گئی ۔۔ جب وہ اپنی چیئر کے قریب ائی ۔۔ تو اس نے دیکھا اس کی جگہ پر تو کوئی اور بیٹھا تھا ۔۔ رحال نے اُس کو دیکھا ۔۔ کیا آپ کہیں اور بیٹھ سکتے ہیں یہ میری جگہ ہے ۔۔؟
کیوں اپ کا نام لکھا ہے یہاں ۔۔ ؟وہ لڑکا جس کا چہرہ نیچے کو جھکا ہوا تھا ۔۔ سر اٹھا کے بولا ۔۔
چہرے پر تنگ کرنے والی مسکراہٹ ۔۔ ہلکی نیلی آنکھوں میں عجیب سی چمک ۔۔۔ سفید رنگت
ہلکی شیو ۔۔ سیاہ بال جو پیشانی پر بکھرے پڑے تھے ۔۔اور سیاہ پینٹ شرٹ ۔۔ ہاتھوں میں سیاہ گھڑی ۔۔ پاؤں میں سیاہ جوگر ۔۔
وہ سب سے الگ اور پرکشش لگ رہا تھا ۔۔ لیکن جس نے علی مصطفیٰ کو دیکھا ہو ۔۔۔ اُس کو کوئی اور اچھا لگ ہی نہیں سکتا تھا ۔۔ اور رحال کو کوئی اور اچھا نہیں لگ سکتا تھا ۔۔
دیکھیں یہ میری جگہ ہے یہاں میں بیٹھتی ہوں اس لیے آپ کہیں اور جا کے بیٹھ جائیں ۔۔ ویسے بھی اتنی سائٹس خالی ہیں ۔۔
اس نے ایک بار پھر کوشش کی ۔۔
سامنے والا پھر بولا ۔۔
کیوں اپ کا نام لکھا ہے یہاں پر جو میں کہیں اور جا کے بیٹھ جاؤں ۔۔ اگر آپ کا نام لکھا ہے یوں مجھے دکھائیں کہاں لکھا ہے ۔۔ میں دیکھیں کے بعد اٹھ کے چلی جاؤں گا ۔۔۔
وہ بولا تو رحال نے غور سے اس کو دیکھا وہ تھا کون ۔۔ ؟
وہ اس کے جواب کا انتظار کرتا اس کو دیکھ رہا تھا
رحال نے پروفیسر کو دیکھا ۔۔
سر ان کو کہیں میری جگہ چھوڑیں ۔۔ وہ موں بناتی چھوٹے بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی ۔۔
پروفیسر نے نیلی آنکھوں والے لڑکے کو دیکھا
قیسن اٹھ جاؤ بیٹا کیوں تنگ کر رہے ہو ۔۔؟
وہ خاموشی اٹھ کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا
رحال نے اس کو گھور کے دیکھا اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی ۔۔ وہ اب رحال کی بائیں طرف بیٹھا تھا
لیکچر پھر شروع ہو گیا ۔۔ رحال خاموشی سے سونے لگی ۔۔
ویسے محترمہ پوچھ سکتا ہوں نام کیا ہے تمھارا ۔۔؟
کیوں اپ میرے چچا کے بیٹے ہیں جو نام بتاؤں ؟
ٹھیک ہے نہ بتاؤ میں محترمہ کہہ کے بلایا کروں گا ٹھیک ہے ۔۔؟
دیکھیں اپنے کام سے کام رکھیں۔۔ مجھے بولنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔رحال گھور کے دیکھا
قیسن نے مسکرا کر اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔ واللہ
ایسے موں بناتے کتنی پیاری لگتی ہو ۔۔ جیسے چھوٹا جنگلی بھالو ہو
وہ اس کو دیکھ کے بولے جا رہا تھا ۔۔
رحال تنگ اگئی۔۔ اف یہ کتنا بولتا تھا ۔۔ اور ایک علی تھا وہ فضول بات بھی نہیں کرتا تھا ۔۔
وہ کتنا الگ تھا ۔۔۔
رحال نے اس کو اگنور کرتے ہوئے کلاس پر دھیان دینا شروع کیا .. کچھ دیر بعد وہ خود ہی خاموش ہو گیا ۔ ۔
کلاس ختم ہوئی تو رحال کلاس سے باہر اگئی ۔۔ جب قیسن بھی اس کے پیچھے ایا ۔۔
چھوڑو میں تمھیں اپنا تعارف کرواتا ہوں ۔۔ میرا نام قیسن ہے ۔۔ قیسن کمیار ۔۔۔ میں نیا ایا ہوں یہاں ۔۔ پروفیسر حیدر کو پہلے سے جانتا ہوں ۔۔
تم مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہو ۔۔ ؟ رحال نے تنگ آ کر کہا ۔۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ۔۔۔ دونوں کے ہاتھ میں اپنی کتابیں تھی اور ایک کندھے پر لٹکتا بیگ ۔۔
بس ایسے ہی کے شاید تم میرے سے کوئی بات تو کرو ۔۔
میں کیوں کروں تم سے بات ۔۔ دماغ خراب نہ کرو اب جاؤ ۔۔ رحال نے روک کر کہا اور اگے بڑ گئی ۔۔
نیلی آنکھوں والا لڑکا وہیں روک گیا ۔۔
بیٹا ابھی تو شروط ہے ۔۔ میرے سے تو اچھے اچھے تنگ آجاتے ہیں تم کس جنگل کی بھالو ہو ۔۔
وہ ایک ادا سے اپنے بالوں میں ہاتھ چلتا اگے بڑ گیا
وہ کوئی عام لڑکا نہیں تھا ۔۔ یہ کہہ سکتے ہیں وہ اسلام باد کے ایک امیر گھر کا اکلوتا چراغ تھا ۔۔
اکلوتا وارث ۔۔ لیکن اس کی حرکتوں سے لگتا تھا
جیسے وہ پاگل کھانے سے بھگا ہوا مریض ہو ۔۔
اج اس کا پہلا دن تھا اور اس سے جو جو اج ملا تھا دوبارہ تو ملنا ہو نہیں چاہتا تھا ۔۔ توبہ کرنا دماغ کھاتہ تھا وہ ۔۔۔
یونی کے باد جب وہ گھر واپس ائی ۔۔ تو سارا دن کا قصہ معراج کو بتایا ۔۔۔ معراج تو ہنس ہنس کے دوہری ہو رہی تھی ۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھے چپس کھا رہی تھی ۔۔ اور ساتھ ساتھ رحال موں بنائے سارا واقعہ بتا رہی تھی ۔۔
ارے مطلب کے وہ تیرے علاوہ بھی سب کو تنگ کرتا رہا ۔۔؟
ہاں تو اور کیا ۔۔ دماغ خراب کر دیا ۔۔ میری زبان میں اُس کو کہیں گے کھسکا ہوا انسان ۔۔
غلط بات ہے بہن ایسے نہیں کہتے ۔۔ تم خود پاگل ہو ایک پاگل دوسرے پاگل کی برائی نہیں کرتا بری بات ۔۔ معراج نے کہا
تو رحال نے اس کو دیکھا ۔۔ زیادہ بولو نہیں حرکتیں تو اس کی تمھارے جیسی تھی ۔۔ اب دماغ کھاتہ چھوڑو اور سو جاؤ اب ۔۔ میں سونے لگی ہوں ۔
تم نے کھانا نہیں کھانا کیا رحال ۔۔؟
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے تم جاؤ جا کے کھا لو امی پوچھیں تو کہہ دینے دل نہیں ہے ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ معراج باہر چلی گئی ۔۔
ڈائننگ میں کھانا لگ چکا تھا ۔۔ سلیماں بیگم اور دونوں بھائی ٹیبل پر کھانے کے لیے موجود تھے
عثمان بولا ۔۔ رحال کہاں ہے ؟
وہ اس کو بھوک نہیں ہے اس لیے نہیں ائی
اچھا ٹھیک ہے ۔۔ طبیعت ٹھیک ہے اُس کی؟
سلمان نے پوچھا ۔۔
ہاں ٹھیک ہے وہ بھائی ۔۔
اچھا چلو کھانا کھاؤ اور جلدی سو جانا معراج ۔۔
میں کمرے میں ا کے چیک کروں گا ۔۔ تمھیں سوئی ہو کے نہیں ۔۔
ٹھیک ہے بھائی سو جاؤں گی ۔۔ ہے وقت جاسوس کی طرح نظر ہی رکھتے رہتے ہو ۔۔ معراج نے موں بناتے ہوئے کہا اور کھانا کھانے لگی ۔۔۔
کھانے کے بعد معراج کمرے میں ائی تھی لیٹ بند تھی ۔۔ رحال سو چکی تھی ۔۔ معراج بھی خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی ۔۔
اور کنزا سے فون پر بات کرنے لگی ۔۔
سب کا حل احوال پوچھا وہاں کے حالات پوچھے تو کنزا نے بتایا ۔۔
ماما اور بھائی کی طبیعت کچھ خراب ہے ۔۔
معراج پریشان ہوئی ۔۔ کیا ڈاکٹر کے پاس گئے وہ دونوں ۔۔؟
ہاں گئے تو ہیں بس ارام کر رہے ہیں اب ۔۔
اچھا تم خیال رکھنا ۔۔ خاص کر کے بھائی کا
ہاں میں خیال رکھ رہی ہوں پریشان نہ ہو تم ۔۔
اور خلا کو بھی کہنا میڈیسن کھا لیں ۔۔
ہاں معراج میں نے کھلا دی تھی دونوں کو دوا ۔۔
چلو یہ تو صحیح ہے ۔۔ اچھا اپ اللہ حافظ میں سونے لگی ہوں ۔۔ تم بھی سو جاؤ ۔۔ صوبہ تمھیں یونی بھی تو جانا ہے اور میں نے کالج جانا ہے
ہاں ٹھیک ہے سو جاؤ ۔۔ کنزا نے خدا حافظ کا میسیج سینڈ کیا تو معراج نے بھی فون رکھ دیا ۔۔۔
اور بیڈ سیڈ لیمپ آف کیا اور کمبل سر تک لے کے سو گئی ۔۔۔
قیسن اپنے بیڈ پر بیٹھا تھا ۔۔ فون کے روشنی چہرے پر پر رہی تھی کمرے میں اندھیرا تھا ۔۔
اور اس وقت وہ کیسی کی انسٹا پروفائل چیک کر رہا تھا ۔۔
رحال شخ کی ۔۔ اس کے لیے اس کی پروفائل ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا ۔۔ اور پوری پروفائل پر بس شعری اور فسانے اور غزلیں ہی نظر آ رہی تھی ۔۔ ہاں پروفائل ڈی پی پر رحال کی ابائے میں بیک سیڈ کی پک تھے ۔۔ وہی عبایا جو وہ صبح پہن کے ائی تھی ۔۔
گھنٹہ بھر چیک کرنے کے بعد اس نے اُس کو ڈی ایم کی ۔۔۔
کوئی جواب نہیں ایا تھا ۔۔ انا بھی نہیں تھا وہ جانتا تھا ۔۔ اچھی لڑکیاں جلدی سو جاتی ہیں ۔۔
اس لیے اس نے انتظار نہیں کیا تھا ۔۔ ویسے بھی وہ انتظار کرنے کا عادی نہیں تھا ۔۔
اُس کے ان باکس میں کون سا بس رحال ہی ایک لڑکی تھی ۔۔ اور بھی بہت سی لڑکیاں تھی ۔۔
شاید جن کو وہ تنگ کرتا تھا اور کچھ وہ جو اس پر فدا ہو کے اس کو میسیج کرتی تھی۔۔۔
فلحل اس کو بس ایک سے بات کرنی تھی ۔۔ جو اس وقت اپنے کمرے میں سکون سے سو رہی تھی
پتہ نہیں کیوں قیسن کو بہت مزا ایا تھا اُس اباۓ والی لڑکی کو تنگ کر کے ۔۔ اس کے علاوہ اس کو رحال سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔۔
یہ صبح کا وقت تھا ۔۔
رحال ہمیشہ سب سے پہلے اپنے فون چیک کرتی تھی ۔۔ اُس نے ہمیشہ کی طرح اج بھی فون چیک کیا تو کیسی کا انسٹا پر میسیج نظر ایا ۔۔
رحال نے چیٹ دیکھ تو لی لیکن کوئی جواب نہیں دیا ۔۔
رحال ایسے ہی کرتی تھی ۔۔ وہ کیسی فضول انسان کو جواب نہیں دیتی تھی اور قیسن جیسے کو تو بالکل نہیں ۔۔۔
میسیج تو ویسے ہی فضول تھا ۔۔ بس لکھا تھا ۔۔
ٹیڈی بیر کیسی ہو ۔۔ اور رحال کوئی جواب نہیں دیا ۔۔ کیسی پاگل کو وہ جواب دے بھی کیوں
اج وہ جلدی یونی کے لیے نکل گئی تھی
اور کلاس شروع ہونے میں بھی ابھی وقت تھا
رحال خاموشی سے خالی کلاس میں بیٹھی تھی کتاب انکھوں کے سامنے کھلی پڑی تھی لیکن دل دماغ کہیں اور تھا ۔۔۔لاہور میں ۔۔
اُن کو کہاں رہتا ہے احساس کیسی اور کا
جن کا اپنا محبوب ہو شہرِ لاہور کا
جب قیسن پاس ا کے بیٹھ گیا اس کو پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔ تم میرے خیالوں میں گم ہو کیا ۔۔؟ اُس نے رحال کو دکھ کے پوچھا ۔۔
نہیں ۔۔ رحال نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا ۔
ارے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ جانتا ہوں میں بہت خوبصورت ہوں ۔۔ میرے پر سب فدا ہو سکتے ہیں ۔۔۔
میں سب میں نہیں اتی مسٹر ۔۔ تم جیسے پر فدا تو کیا تمہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کروں ۔۔
اچھا جی ایسا ہے کیا ۔۔ ؟ اُس نے لڑکیوں جیسی اواز میں کہا ۔۔
رحال کی بے ساختہ ہنسی نکل گئی ۔۔ وہ کیا چیز تھا اخر ۔۔۔؟
اُس کے ہنسنے پر قيسن نے ایک اور لائن بولی ۔۔
نیلی پری نیلی پری کمرے میں بند ہے ۔۔۔ مجھے رحال پسند ہے۔۔” اب کی بار رحال ہنسی نہیں تھی ۔۔
قسین گڑبڑا گیا ۔۔ ارے سچ کہہ رہا ہوں جھوٹ نہیں بول رہا جنگلی بھالو ۔۔ تم پسند ہو مجھے ۔۔
رحال نے اس کو دیکھا۔۔ دماغ نہ کھاؤ میرا اور جاؤ یہاں سے ۔۔
قیسن کو محسوس ہوا ۔۔ رحال کو یہ مذاق پسند نہیں ایا تھا ۔۔
اوہ مذاق کر رہا ہوں یار ۔۔ چھوڑو یہ باتیں ۔۔ تم بتاؤ گھر میں انکل انٹی کیسے ہیں ۔۔ وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے برسوں سے رحال کو جانتا ہو ۔۔ لیکن وہ ایسا ہی تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے وہ اب جاؤ ۔۔ رحال نے گھور کے کہا ۔۔ اچھا جا رہا ہوں جنگلی بھالو ۔۔ بس یہ بتانے ایا تھا کے تمھارے لیے ایک سرپرائز ہے ۔۔کلاس ختم ہونے کے بعد ۔۔ گارڈن میں انا
قیسن کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھی ۔۔
میں نہیں ا رہی اب جاؤ ۔۔
پلز آجاؤ نہ بچے کی اتنی سی بات نہیں مان سکتی تم ظلم عورت ۔۔۔ وہ موں بنایا بولا ۔۔
رحال نے اس کو دیکھا لیکن خاموش رہی ۔۔
قیسن اٹھ کے باہر چلا گیا ۔۔
رحال خاموش بیٹھی تھی کچھ دیر بعد کلاس ہوئی خاموشی سے کلاس لینے کے بعد رحال گارڈن میں اگئی ۔۔۔وہ دیکھنا چاہتی تھی وہ پاگل اب کیا کر رہا تھا ۔۔ وہ باہر ائی نیلی آنکھوں والا لڑکا چلتا ہوا اس تک ایا ۔۔ اور پھر ایک گھٹنے کے بل رحال کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔ رحال ساکت رہ گئی سب اس کو دیکھنے لگ گئے ۔۔ یہ انسان پاگل تھا سچ میں ۔۔ آئی لو یو ۔۔رحال ۔۔ میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔۔ بہت زیادہ ۔۔
رحال خاموش کھڑی تھی ۔۔ نیلی آنکھوں والا لڑکا اٹھا ۔۔ رحال ساکت ویسے ہی کھڑی رہی جیسے جسم سے جان نکل رہی ہو ۔۔
تمھیں کیا لگا بھالو میں ایسا کہوں گا ۔۔ ؟
میں نے تو بس یہ کہنے کے لیے بلایا تھا کے تھوڑا کم کھایا کرو ۔۔ دکھو ٹیڈی بیر بنی ہوئی ہو ۔۔ ساری لڑکیوں کو دیکھو قیسن نے وہاں کھڑی سب لڑکیوں کی طرف اشارہ کیا ۔۔ دیکھو کوئی بھی تم جیسی نہیں ہے ۔۔ بلکہ سب اسمارٹ اور حسین ہیں ۔۔ تم ٹیڈی بیر ہو ۔۔۔ وہ کہتا جا رہا تھا سب وہاں کھڑی ہنسنے لگے ۔۔ اور رحال ۔۔ وہ ساکت کھڑی رہی ۔۔۔
اس کا اس طرح کا مذاق کیسی نے کبھی نہیں بنایا تھا ۔۔ وہ موٹی نہیں تھی ۔۔بس چھوٹے بچوں کی طرح کیوٹ تھی ۔۔
وہ نہ پتلی تھی نہ بہت موٹی ۔۔ لیکن قیسن کمیار نے اُس کا مذاق بنا کے رکھ دیا تھا ۔۔
قیسن بس مذاق کر رہا تھا شرارت ۔۔ لیکن یہ مذاق سامنے ساکت کھڑی لڑکی کے لیے مذاق نہیں تھا ۔۔ایسا کبھی کسی نے اُس کا مذاق نہیں بنایا تھا ۔۔ پہلے پرپوز ۔۔ اور بعد میں مذاق؟
سب ہنس رہے تھے ۔۔ قیسن سامنے کھڑا ہنس رہا تھا ۔۔ رحال نے کچھ بھی کہے بغیر اپنے قدم یونیرسٹی سے باہر کی طرف گھما دیے ۔۔۔
اس کی آنکھیں سرخ اور آنسوؤں سے بھر گئی تھی
قیسن اس کے پیچھے ایا اس کو روکنا چاہا ۔۔ لیکن وہ کچھ نہیں سن رہی تھی خاموشی سے بس چلتی گئی ۔۔۔ ویسے بھی ڈرائیور باہر انتظار کر رہا تھا وہ گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اگے بڑ گئی ۔۔ قیسن پیچھے کھڑا پریشانی سے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ اُس کا ارادہ نہیں تھا رحال کو رُلانے کا ۔۔وہ تو بس مذاق کر رہا تھا ۔۔ وہ بُرا نہیں تھا بس اُس کی باتیں اور حرکتیں کبھی کبھی عجیب ہو جاتی تھی ۔۔
وہ پیچھے کھڑا رہ گیا ۔۔ اس کو اب احساس ہوا تھا اس نے کتنا غلط کیا تھا ۔۔
وہ اب رو رہی ہو گی ۔۔۔
ہاں وہ گاڑی میں بیٹھی روتی رہی ۔۔ وہ گھر جانے کے بعد فورا اپنے کمرے میں ہی گئی تھی بنا کسی سے بات کی ہے باہر لاؤنج میں بیٹھی اس کی امی پریشان تو ہوئی تھی ۔۔۔ انہوں نے پوچھا بھی کہ رحال کیا ہوا ہے لیکن اس نے کچھ نہیں بتایا اور سر درد کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی۔۔ معراج جو پہلے سے ہی کمرے میں موجود تھی۔۔اپنی بہن کی انکھوں میں انسو دیکھ کر وہ اس کے پاس ائی۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو۔۔۔
پلیز تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر چلی جاؤ۔۔۔ میں فلحال کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔
لیکن رحال ہوا کیا ہے بتاؤ تو کسی نے کچھ کہا ہے یونیورسٹی میں۔۔۔۔۔
میں نے کہا نا معراج کچھ دیر کے لیے باہر چلی جاؤ میں کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی وہ اب چیخ پڑی تھی اور چیختے ہوئے اس کی انکھوں سے انسو نکلنے لگے۔۔۔
اچھا اچھا جا رہی ہوں رونا بند کرو۔۔
معراج کہتی کمرے سے باہر چلی گئی اور رحال نے اندر سے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
اور پھر باہر ا کے اس نے ماں کو رحال کے بارے میں بتایا۔۔
کوئی بات نہیں تم فکر نہ کرو وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔
ہو سکتا ہے کسی سے لڑائی ہو گئی ہو یونیورسٹی میں اس کی۔۔ تھوڑی دیر اس کو ارام کرنے دو اس کا موڈ ٹھیک ہوگا تو وہ خود ہی باہر ا جائے گی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے معراج ۔۔۔
میرے خیال سے امی اپ صحیح کہہ رہی ہیں۔۔
معراج کہتے ہوئے خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی
رحال ابھی کمرے میں بیٹھی رو ہی رہی تھی جب اس کے فون پر بار بار میسج کی ٹیون بچنے لگی رحال نے اپنا فون پکڑا اور سکرین ان کر کے میسج چیک کیے۔۔ قیسن میسج کر رہا تھا۔۔اور ہر میسج میں بار بار ایک ہی الفاظ۔۔۔ مجھے معاف کر دو میں نے تو بس مذاق کیا تھا۔۔میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔
فلحال وہ بس سکون چاہتی تھی۔۔۔
وہ واش روم میں گئی فریش ہو کر باہر ائی۔۔
خود کو ائینے میں دیکھا کیا وہ سچ میں موٹی تھی۔۔
لیکن وہ موٹی لگتی نہیں تھی۔۔ اس کو کبھی کسی نے موٹے ہونے کا طعنہ نہیں دیا تھا۔۔
ہمیشہ اس کو سب یہی کہتے تھے کہ چھوٹی سی پیاری سی لگتی ہے۔۔۔
اس کو کبھی کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ موٹی لگتی ہے ۔۔ لیکن قیسن ۔۔اس نے اس کے ساتھ مذاق کیا وہ بھی اتنا برا مذاق۔۔۔
وہ میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی ۔۔ اور بہت ذہین اور بہت بہادر تھی ۔۔ لیکن ایک چھوٹی سی بات نے اس کا دل توڑ کے رکھ دیا۔۔
اور پھر پورے دو گھنٹے کمرے میں روتے رہنے کے بعد اس نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ یونیورسٹی نہیں جائے گی ۔۔
کم سے کم وہ اس یونیورسٹی میں تو نہیں جائے گی۔۔ وہ اس شخص کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
لیکن ایسا نہیں ہونے والا تھا۔۔
قیسن کتنی ہی دیر بار بار اسے میسج کرتا رہا لیکن رحال نے اس کے میسج کا کوئی جواب نہیں دیا
وہ پہلے ہی اس سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کر رہی تھی وہی فری ہو رہا تھا۔۔ لیکن یہ اس کی غلطی تھی کہ وہ اس کے کہنے پر گارڈن چلی گئی تھی اس کو تو پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ کیا مذاق کرنے والا تھا۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ کمرے میں بیٹھی روتی رہی پھر خاموشی سے اٹھی اور دروازہ کھول دیا۔۔
اپنے بال جوڑے کی شکل میں باندھے اور کمرے سے باہر اگئی اپنے اپ کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے بھی اس کی انکھیں سوجھی ہوئی اور سرخ لگ رہی تھی۔۔۔
اب بتاؤ کہ یونیورسٹی میں کیا ہوا تھا معراج جو باہر صوفے پر بیٹھی انتظار کر رہی تھی اس کو باہر اتا دیکھ کر پوچھ لیا۔۔۔
کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔۔
کچھ تو ہوا تھا کیا تمہارا جھگڑا ہوا ہے کسی سے
ہاں بس یہی سمجھ لو ایک پاگل سے جھگڑا ہو گیا تھا
تو اس میں رونے والی کون سی بات تھی ۔۔
تم تو رونے والوں میں سے نہیں ہو۔۔۔
انسان ہوں میں رونا آجاتا ہے پتھر کا دل نہیں ہے میرا ۔۔ اس نے تنگ آ کر کہا ۔۔۔
اور خاموشی سے کچن میں چلی گئی ۔۔۔
کھانا لیے اور واپس کمرے میں اگئی ۔۔
کھانا کھایا اور پھر خاموشی سے لیٹ گئی ۔۔صبح ہوئی ۔۔ وہ جاگتے ہوئے بھی یونی نہیں گئی
اُس کو بخار نے آگھیرا تھا ۔۔ اور یہ خبر لاہور تک نہ جائے یہ تو ہو نہیں سکتا تھا ۔۔ سلیماں اپنی بیٹی کے بارے میں اپنی بہن کو فون پر بتا رہی تھی
زرینہ بہت پریشان ہو گئی ۔۔ ساری بات سن کے ۔۔ لیکن اصل معاملہ نہیں پتہ تھا یونی میں ہوا کیا تھا ۔۔
اور پھر زرینہ نے تو بات اپنی دونوں بری بیٹیوں کو بتائی ۔۔
پھر جب علی گھر ایا ۔۔ اُس کو بھی خبر مل ہی گئی
وہ نارمل سے انداز میں رہا اُس نے اپنی ماں کو بس اتنا ہی کہا ۔۔
کچھ نہیں ہوتا ٹھیک ہو جائے گی وہ اپ فکر نہ کریں
خلا کو کہیں ڈاکٹر کے پاس لے کے جائے اس کو
علی کہتا کمرے میں اگیا ۔۔ کمرے میں ا کے اُس نے گہرا سانس لیا ۔۔ چہرے پر پریشانی تو صاف نظر آ رہی تھی اور زرینہ نے بھی یہ پریشانی دیکھ لی تھی ۔لیکن خاموش رہی ۔۔
وہ کمرے میں ایا ۔ اور خود سے خلا کو فون ملایا ۔۔
پہلی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا ۔۔
ہاں علی بیٹا کیسے ہو ۔۔
میں ٹھیک ہوں اپ کیسی ہیں خلا ۔۔
ہیں میں ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے ۔۔ کوئی کام تھا کیا علی ؟
ج۔۔ جی وہ خلا ۔۔ رحال امی نے بتایا کے طبیعت خراب ہے ؟
علی نے کبھی رحال کے بارے میں بات نہیں کی تھی ۔۔ لیکن اج ۔۔ اج فکر ہو رہی تھی ۔۔
ہاں بس اُس کی طبیعت خراب ہے
تو میڈیسن کھائی اُس نے ۔۔
ہاں علی کھلا دی تھی میں نے بس یونی میں لڑائی جھگڑا کر کے اگئی ہے تمھیں تو پتہ ہے کتنی لڑاکو ہے بس کیسی کے بات کرنے کی دیر ہوتی ہے اور وہ شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔ ہو سکتا ہے کسی پروفیسر نے کچھ کہہ دیا ہو ۔۔ کیسی نے ڈانٹ دیا ہو ۔۔؟
خلا اپ برا نہ مانے تو میں ایک بات کہوں ۔۔
ہاں کہو نہ بیٹا ۔۔
خلا وہ کیسی کی ڈانٹ سے یہ لڑائی جھگڑے سے رونے والی لڑکی نہیں ہے ۔۔ مجھے لگتا ہے کوئی اور بات ہوئی ہے ۔۔
تمھیں کیا لگتا ہے علی ۔۔؟
پتہ نہیں بس ایسے ہی مجھے لگا اپ پوچھ لیجئے گا اس سے ۔۔
ہاں میں کوشش تو کر رہی ہوں لیکن وہ کچھ بتاتی ہی نہیں ہے تم اُس سے پوچھ کے دیکھو کیا پتہ تمھیں بتا دے ۔۔۔”
م ۔۔میں ۔۔ علی ایک دم بولا ۔۔
ہاں تم بیٹا ۔۔ سلیماں نے کہا ۔۔
ل۔۔ لیکن خلا ۔م۔۔ میں کیسے ۔۔میں کیسے بات کر سکتا ۔۔ مطلب میں کیسے پوچھ سکتا ۔۔؟
ارے کیوں نہیں پوچھ سکتے ۔۔ بچپن سے جانتی ہو اُسے ۔۔ ہو سکتا ہے تمھیں بتا دے ۔۔ مجھے اور معراج کو تو نہیں بتا رہی ۔۔
میں فون اُس کے پاس لے کے جا رہی ہوں ۔۔
علی خاموش رہا ۔۔ کچھ دیر بعد رحال کی اواز گونجی
ہیلو خالا ۔۔ رحال کو لگا خلا ہے ۔۔
علی بات کر رہا ہوں ۔۔ رحال نے آنکھیں کھولے اپنی ماں کو دیکھا جو پاس کھڑی تھی ۔۔
ج۔۔ جی السلام علیکم۔۔ رحال جلدی سے بولی جیسے کوئی بچہ اپنے ٹیچر کو بولتا ہے ۔۔
ہاں وعلیکم السلام ۔۔ ک۔کیسی ہو ۔۔
م۔۔میں ٹھیک ہوں ۔۔ ا۔۔اپ کیسے ہیں
الحمدُللہ ٹھیک ۔۔ وہ اتنا ہی بولا ۔۔
تمہاری طبیعت کیوں خراب ہوئی رحال ۔۔ اُس نے پہلی بار بچپن کے بعد پہلی بار ۔۔ کئی سالوں کے بعد پہلی بار رحال کے سامنے اُس کا نام لیا تھا ۔۔رحال ساکت تھی ۔۔
م۔۔ پتہ نہیں ۔۔ خود کو سنبھال کے بولی
یونی میں کیا ہوا تھا ۔۔؟ اب وہ پوچھ رہا تھا ۔۔
و۔۔ ک۔کچھ نہیں ۔۔ کچھ نہیں ہوا تھا ۔۔
کچھ تو ہوا تھا جو تم کیسی کو نہیں بتا رہی ۔۔
وہ کیسے اس کی آن کہیں باتیں جان جاتا تھا ۔۔
اگر یہاں رحال ساکت ہوئی تھی اپنا نام اُس کے لبوں سے سونے پر تو وہاں علی بھی حیران تھا اپنے لبوں سے اس کا نام پکڑنے کے بعد
رحال کی ماں اب باہر جا چکی تھی ۔۔۔
دیکھو تم مجھے بتا سکتی ہو ۔۔ کسی کو نہیں بتاؤں گا ۔۔
و۔وہ یونی میں ایک لڑکے نے میرا مذاق اڑایا کے میں بہت موٹی ہوں ۔۔وہ پھر رونے والی ہو گئی تھی ۔۔ علی کو بُرا لگا ۔۔۔مجھے تو نہیں لگتی موٹی
بلکہ کیوٹ لگتی ہو ۔۔علی بے ساختہ بولا ۔۔اور بعد میں وہ پچھتایا ۔۔اپنے الفاظ پر وہ کیسے اتنا فری ہو سکتا تھا۔۔۔
ہاں نہ ۔۔ لیکن اس نے کہا میں موٹی ہوں ۔۔
اپ بتائیں موٹی لگتی ہوں کیا میں ۔۔ بچپن سے ایسی ہو میں۔۔ہاں بلکہ بچپن میں زیادہ پیاری تھی
رحال کے گال سرخ ہونے لگے ۔۔
وہ اتنا غصے والا نہیں تھا جیسا لگتا تھا ۔۔
م۔۔۔میرا مطلب ہے پہلے جیسی ہی ہو تم ۔۔ علی جلدی سے بولا ۔۔
اچھا بس اتنی ہی بات ہوئی تھی ۔۔؟
ج۔۔ہاں بس اتنی ہی ۔۔
تو تم نے اس کو کچھ کہا نہیں ۔۔؟
ن۔۔نہیں
کیوں ۔۔ ؟
تمھیں کہنا چاہیے تھا ۔۔ تمھیں کہنا چاہیے کہ کے میں تمہارے گھر سے نہیں کھاتی تمھیں اس کو تھپڑ تو مارنا چاہیے تھا ۔۔ وہ پہلی بار اتنی باتیں کر رہا تھا ۔۔وہ بھی بس دوسری طرف بیٹھی روتی ہوئی چھوٹی سی لڑکی کا موڈ اچھا کرنے کے لیے ۔۔۔
و۔۔ وہ اپ امی سے بات کریں ۔۔ اپنی ماں کو کمرے میں اتے دیکھ کے رحال نے فون اُن کو سے دیا ۔۔ کچھ دیر بعد علی نے فون بند کر دیا تھا
علی اپنے بیڈ پر خاموش لیٹا تھا ۔۔
انکھوں میں چمک ۔۔ لیکن پریشان ۔۔
رحال ۔۔۔ اُس نے بے ساختہ نام پُکارا ۔۔
وہ کبھی اس کا نام نہیں لیتا تھا۔۔رحال نے کبھی اج اس اپہلے اُس کے لبوں سے اپنا نام نہیں سنا تھا ۔۔
اور جہاں تک بات تھی علی مصطفی کی۔۔ تو علی مصطفیٰ کو لگتا تھا کے اگر وہ اس کا نام پُکارے گا تو اپنا دل ہار بیٹھے گا ۔۔۔ رحال کا نام علی مصطفیٰ کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کرنے کے لیے کافی تھا
دوسری طرف بیٹھی رحال کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا گلابی سرخ ۔۔ عجیب سا اپنا پن تھا اُس ادمی میں ہاں وہ اپنا ہی تو تھا ۔۔
اج سے پہلے کبھی اس نے اس سے صحیح سے بات نہیں کی تھی ۔۔ اور اس نے تو کبھی بلایا ہی نہیں تھا اُس کو ۔۔ لیکن اج ۔۔ اج کا دن الگ تھا ۔۔۔ اُس نے اس کو چُپ کروایا تھا ۔۔ جو بات وہ گھر میں کسی کو کہہ نہیں سکی وہ اس نے علی کو کہہ دی تھی ۔۔
کیوں کے وہ جانتی تھی ۔۔ گھر میں کسی کو بتایا تو سب نے بھڑک جانا تھا ۔۔ اور پھر اس لڑکے کا جو حال ہونا تھا وہ رحال جانتی تھی ۔۔ اُس نے کسی کو نہیں بتایا ۔۔ اُس نے علی کو بتا دیا ۔۔۔کیوں کے اعلی ۔۔ کوئی بھی کام سوچے بغیر نہیں کرتا تھا وہ جانتی تھی ۔۔
اور دیکھو ایک طرف قیسن ۔۔اس نے مجھے موٹی کہا میرا مذاق اڑایارحال اب سوچے جا رہی تھی۔۔ اور ایک طرف یہ ہیں ۔۔ علی اس کے چہرے پر مسکراہٹ ائی ۔۔ انہوں نے مجھے ایسا کچھ نہیں کہا ۔۔؟
بلکہ انہوں نے کہا میں پیاری لگتی ہوں
اس نے اٹھ کے خود کو ائینے میں دیکھا۔۔
چہرہ سرخ اور عجیب چمک اگئی تھی انکھوں میں
وہ واپس بیٹھ گئی اب وہ ٹھیک تھی ۔۔ اب اس کی طبیعت بھی ٹھیک تھی ایک مرہم کی ضرورت ہی تو تھی ۔۔۔ اور وہ مرہم اس کے پسندیدہ انسان نے رکھا تھا ۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
