تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۷
رات کے تقریباً دس بج رہے تھے۔
زیدان آئینے کے سامنے کھڑا اطمینان سے تیار ہو رہا تھا۔ گھڑی پہنی، جیکٹ درست کیا اور کمرے سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ کائنات کی آواز سنائی دی۔
آپ کہاں جا رہے ہیں؟
زیدان نے بغیر رکے مختصر سا جواب دیا۔
باہر۔
کائنات نے ہلکا سا ہچکچاتے ہوئے پوچھا،
کب آئیں گے؟
فجر سے پہلے آ جاؤں گا، بس۔
کائنات کے لب ہلے۔ لیکن…
زیدان رک گیا۔ آہستہ سے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔
لیکن کیا؟
کائنات خاموش ہو گئی۔
اس کے دل میں ایک ساتھ کتنے ہی خیال ٹکرا گئے۔
اگر یہ اتنی رات گئے باہر جا رہے ہیں تو یقیناً باہر کوئی الٹا سیدھا اِرادہ ہوگا ان کا کرنے کا۔۔۔
لیکن میں روکوں تو کیسے؟
کہہ دوں مت جائیں؟
یا جلدی واپس آنے کو کہہ دوں؟
اور اگر غصّہ کر گئے تو؟
پچھلی بار کی طرح سخت بول دیا تو؟
وہ خود ہی اپنے خیالوں میں الجھ گئی۔
بولو بھی، کیا ہوا؟
زیدان کی آواز نے اسے حال میں کھینچ لیا۔
کائنات نے نظریں جھکائیں، پھر آہستہ سے بولی،
وہ… آپ جلدی آ جائیے گا نا؟
زیدان نے بھنویں اٹھائیں۔ وہ کیوں؟
بارہ بجے سے پہلے…
کیوں؟
کائنات نے ہمت جمع کی۔ کیونکہ… مجھے ڈر لگتا ہے۔
زیدان چونکا۔ کیا؟
ہاں… اس نے دھیرے سے وضاحت کی،
گھر میں سب سو جاتے ہیں، پورا سناٹا ہو جاتا ہے۔ نانی باہر کی ساری لائٹس بھی بند کروا دیتی ہیں۔ اکیلے کمرے میں ڈر لگتا ہے۔
زیدان نے لاپروائی سے کہا،
تو ابھی سو جاؤ۔ سوتی رہو گی تو ڈر نہیں لگے گا۔
کائنات فوراً بولی، ابھی نیند نہیں آ رہی… اور وہ مجھے تیاری بھی کرنی ہے۔
کس چیز کی تیاری؟ پیپر تو ختم ہو گئے ہیں۔
کائنات نے فوراً جواب دیا،
ٹیسٹ کی۔ ٹیسٹ دوں گی تو ڈاکٹر بنوں گی نا۔
زیدان نے پیشانی مسلی۔
ایک اور سر درد… پھر جیسے کوئی حل سوچ کر بولا،
اچھا، آج پھپھو کے پاس جا کر سو جانا۔ میں روز تو نہیں جاتا نہ۔۔ اج جانا ضروری ہے۔۔۔
کائنات نے ہلکی سی نفی میں سر ہلایا۔
وہ جلدی سو جاتی ہیں نا… اور میں پڑھوں گی تو وہ ڈسٹرب ہوں گی۔
زیدان نے ذرا سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
اچھا… ان کی ڈسٹربنس کا اتنا خیال ہے، اور میرا کیا؟ میں جلدی آ کر تمہیں پڑھتا ہوا دیکھوں گا؟
کائنات نے فوراً کہا، نہیں، آپ آ کر سو جائیے گا۔
تو میں تمہاری پڑھائی سے ڈسٹرب نہیں ہوں گا؟
وہ ذرا ہچکچائی، پھر سچ بول دیا،
نہیں… آپ کو تو عادت ہے۔ لائٹ ہو یا نہ ہو، شور ہو یا نہ ہو، جب آپ کو سونا ہوتا ہے آپ سو ہی جاتے ہیں۔
زیدان نے آنکھیں سکیڑیں۔
طنز کر رہی ہو؟
کائنات نے فوراً صفائی دی،
نہیں… تعریف کر رہی ہوں۔ ہر کسی کے پاس یہ ٹیلنٹ تھوڑی نہ ہوتا، مُجھے ہی دیکھ لے، مُجھے تو جلدی نیند آتی ہی نہیں۔۔۔ لائٹ کے ساتھ تو اور نہیں سو سکتی میں۔۔۔
زیدان کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
ٹھیک ہے، میں جلدی آ جاؤں گا۔
کائنات نے فوراً یاد دہانی کروائی،
بارہ بجے سے پہلے…
اوکے۔
وہ کہتے ہوئے اپنی بائک کی چابی کو انگلی میں گھماتا ہوا باہر نکل گیا۔
اور کائنات نے سکون کا سانس لیا۔۔۔
+++++++++++
کائنات نے خاموشی سے اپنا رزلٹ مریم بیگم کے سامنے رکھا۔
چند لمحوں تک وہ کاغذ کو غور سے دیکھتی رہیں، پھر اچانک ان کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
ماشاءاللہ…!۔اتنے اچھے نمبر؟ میری بچی…!
کائنات کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر وہ مکمل نہیں تھی۔
اما… ایک مسئلہ ہے۔
مریم بیگم نے فوراً کاغذ ایک طرف رکھا۔
کیا؟
ابھی ٹیسٹ بھی دینے ہیں… اور فیس؟ آگے بھی بہت خرچہ ہوگا۔
مریم بیگم چند لمحے خاموش رہیں، پھر آہستہ سے بولیں،
تم مجھ سے ناراض تھیں نا… کہ میں نے تمہاری شادی کیوں کروائی؟
کائنات نے سر جھکا لیا۔
اسی لیے کروائی تھی۔
میریئم بیگم کی آواز بھاری ہو گئی۔
جب مجھے سچ کا علم ہوا، میں نے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ تب اسوان میرے پاس آیا… دھمکیاں دیں۔ کہا اگر شادی نہیں کروائی تو تمہارے ساتھ بہت برا کرے گا۔
کائنات کی آنکھیں پھیل گئیں۔
میں ڈر گئی تھی، کائنات۔ پھر میں کیا کرتی؟
انہوں نے گہری سانس لی۔
پھر میں نے تمہارے ڈاکٹر بننے کی شرط پر ہاں کردیا۔
وہ لمحہ بھر کو رُکیں، پھر تلخی سے مسکرائیں۔
شادی کے بعد وہ تمہیں پڑھنے بھی نہیں دیتا۔۔ مُجھے یہ انداز اُس کی باتوں سے ہوگیا تھا۔۔۔ وہ چاہتا ہے نہیں تھا۔۔۔ کہ تم ان چار دیواریوں سے آگے بھی نکلو۔۔۔
کائنات خاموش رہی۔
لیکن میں نے شرط رکھی تھی۔
مریم بیگم نے نرمی سے کہا۔
اب فکر مت کرو، اسوان تمہیں پڑھائے گا… اور ساری فیس بھی وہی دے گا۔
یہ سن کر بھی کائنات کے چہرے پر خوشی نہیں آئی۔
مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آپ نے میرے لیے اسٹینڈ لیا… وہ دھیرے سے بولی۔
کاش آپ نے یہ بات پہلے بتا دی ہوتی۔ میں خامخاں آپ سے اتنے دِن ناراض رہی۔۔۔
میں بتانا چاہتی تھی… مریم بیگم کی آواز نرم ہو گئی۔ مگر اس وقت تم سننے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ اور تب یہ بات تمہیں اتنی خوشی بھی نہ دیتی جتنی اب دے رہی ہے۔
کائنات نے آہستہ سے کہا،
مجھے خوشی صرف اس بات کی ہے کہ آپ نے میرے لیے اسٹینڈ لیا… بس۔
وہ رکی، پھر صاف لفظوں میں بولی،
لیکن میں اب اسوان سے مزید پیسے نہیں لے سکتی۔
کیوں؟
کائنات کی آنکھوں میں عجیب سی سختی آ گئی۔
میرا اُن سے اب دل خراب ہو گیا ہے، میں اُنہیں نہ اپنا بھائی مانتی ہوں، نہ ہی کزن۔ مجھے اُن سے اب اپنائیت نہیں رہی۔ مجھے اُن کو دیکھ دیکھ کر نفرت سی محسوس ہوتی ہے۔
پہلے میں اُن سے اپنی ہر بات شیئر کر لیتی تھی، تب مجھے وہ میرے لگتے تھے، میرے اپنے، میرا خیال رکھنے والے۔۔۔ لیکن اب نہیں۔ میں اُن کا اب ایک بھی پیسہ نہیں لینا چاہتی ہوں۔
مریم بیگم نے ذرا سوچ کر کہا، اچھا… تو زیدان سے لے لو۔
اما؟ کائنات نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
کیا ہوا؟ اتنی حیران کیوں ہو؟ وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
ویسے بھی آج کل وہ تمہاری بات سننے لگا ہے۔ کہہ دو۔
کائنات ہنس دی۔ آپ بھول گئی ہیں؟ وہ کماتے نہیں۔ بس گھر بیٹھ کر مفت کی روٹیاں توڑتے ہیں۔
مریم بیگم قہقہہ لگا کر ہنسیں۔
مفت کی روٹیاں نہیں، اسوان کے پیسوں کی روٹیاں توڑتا ہے۔۔۔۔ ہاہاہا وہی صحیح ہے۔۔۔ اسوان کو بلکل سیدھا کر کے رکھتا ہے۔۔۔
ہاں اما، اسی لیے۔ کائنات نے سنجیدگی سے کہا۔
زیدان سے مانگوں یا اسوان سے، بات ایک ہی ہے۔
تو تُم زیدان سے کہو نہ کہ وہ کوئی کام کرے۔
کائنات نے آہستہ سے سر ہلایا۔
ہاں کہوں گی، لیکن ابھی نہیں، دھیرے دھیرے۔۔۔ میں چاہتی ہوں وہ میرے لیے کچھ نہ کرے، اپنے لیے کرے، خود سے کرے۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
لیکن پھر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ کبھی خود کے لیے کچھ نہیں کرے گا۔
پھر اچانک جھنجھلا کر بولی،
اما، وہ مجھے لیکچر ایسے دیتے ہیں… اور اپنی باری آئے تو۔۔۔ وہ رک گئی۔ چھوڑیں۔
وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ مریم بیگم نے کہا۔
ہاں، معلوم ہے۔ کائنات نے دھیرے سے کہا۔
ہاں معلوم ہے، اسی لیے میری خوشی ہوتی ہے کہ میں اُنہیں ہر اُس کام سے ایسے روکوں جیسے میں نے تو نہیں روکا؟ لیکن ہاں، میں نے روکا ہے۔
مریم بیگم چونکیں۔ اُن کو بات کُچھ سمجھ نہیں ائی۔۔۔
کیا بول رہی ہو؟
کچھ نہیں… کائنات نے بات بدل دی۔ میں ان سے بھی پیسے نہیں لے سکتی۔
مگر بیٹا، پھر ڈاکٹر…؟
کائنات نے فوراً کہا،
ماما بابا نے میرے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑا ہوگا نا؟ ہم اس وقت اتنے غریب تو نہیں تھے؟
نہیں…
تو پھر؟
تمہارے بابا کا بزنس تھا۔
کون سا؟
رضوان بھائی کے ساتھ پارٹنرشپ میں۔
اور وہ بزنس؟
پتہ نہیں… شاید رضوان بھائی کے پاس ہو۔ اور ہمارا ایک گھر بھی تھا۔
وہ گھر کہاں گیا؟
خاموشی۔
کائنات نے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔
اوہ ماما، اوہ۔۔۔ آپ وہاں سے خالی ہاتھ آ گئیں، کچھ نہیں لے کر آئیں، اپنا ایک حصہ بھی نہیں۔
نہیں، تمہیں لے آئی تھی نا ساتھ۔ پتا ہے، تمہاری دادی زندہ تھیں اُس وقت، انہوں نے مجھے بہت روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن مجھے لگا میں وہاں غیروں میں بوجھ بن جاؤں گی، اسی لیے اپنوں کے پاس آ گئی، تمہیں لے کر۔۔۔ لیکن غیروں سے زیادہ اپنوں کے پاس بوجھ بن گئی۔
کائنات تڑخ کر بولی،
اما، کچھ تو لیتی نا!
میں کیا لڑتی؟ وہ تھک کر بولیں۔
کائنات نے سر جھٹکا۔
بڑے ہی بےوقوف ہیں ہم دونوں امّاں، سچ میں۔۔۔ نہ یہاں ہم نے اپنا کچھ لے سکا، نہ وہاں۔
کیا؟
کچھ نہیں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
کل میں تایا ابو کے گھر جاؤں گی۔
کس لیے؟
اپنا حصہ لینے۔ کچھ بھی نہیں دیا ہمیں۔۔۔ یتیم تو تھی ہی میں، قریب بھی بنا کے چھوڑ دیا سب نے۔
لیکن…
اما، ڈرنا چھوڑ دیں۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
مریم بیگم وہیں بیٹھی سوچتی رہ گئیں۔
اسے کیا ہو گیا ہے؟ بڑی شیرنی بن گئی ہے…
پھر چونک کر بولیں،
یہ زیدان نے کچھ کھول کر تو نہیں پلا دیا اسے؟؟
وہ گہری سوچ میں ڈوب گئیں۔
+++++++++++++++
زیدان کی بائیک ہوا سے باتیں کرتی ہوئی سڑک پر رواں دواں تھی۔
اچانک۔۔۔ چاروں طرف سے سائے حرکت میں آ گئے۔
ایک، دو… نہیں۔ چھ لوگ۔ کالی جیکٹس، چہرے آدھے ڈھکے ہوئے،
ہاتھوں میں لوہے کی راڈ، چین اور ڈنڈے۔
زیدان نے بریک دبائی۔
انجن بند ہوا۔
سڑک میں اب صرف سانسوں کی آواز تھی۔
اوئے ہیرو…
ایک آواز طنزیہ ہنسی کے ساتھ ابھری۔
آج ذرا سبق سکھانا ہے۔
زیدان آہستہ سے بائیک سے اترا۔ ہیلمٹ زمین پر رکھا۔
اور سیدھا کھڑا ہو گیا۔
سبق؟ اس نے گردن ذرا سا ایک طرف جھکائی۔
ٹھیک ہے… آ جاؤ۔
اگلا لمحہ
ایک ڈنڈا پوری قوت سے اس کی طرف آیا۔
مگر زیدان نے لمحے کے فرق سے جھک کر سامنے والے کی کلائی پکڑی۔۔ اور ایک ہی جھٹکے میں اسے زمین پر دے مارا۔
چیخ۔ دوسرا بندہ پیچھے سے چین لے کر لپکا۔
زیدان گھوما، چین کو بازو پر لپٹنے دیا۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے پورے وزن کے ساتھ اسے دیوار سے دے پٹخا۔ تیسرا، چوتھا ایک ساتھ بڑھے۔
اس نے ایک کو گھٹنے سے مارا،
دوسرے کی گردن پکڑ کر
زمین پر گھسیٹا۔
لوہے کی راڈ اٹھی۔۔۔
اور زیدان کے ہاتھ میں آ گئی۔
ایک… دو… تین۔ اور پھر لگاتار وہ وار کرتا تھا۔۔۔
جس میں صرف ہڈیاں بول رہی تھیں۔
چھٹا بندہ پیچھے ہٹنے لگا۔
ڈر اس کی آنکھوں میں صاف تھا۔
زیدان نے دو قدم آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا۔
اور اسے دیوار سے لگا دیا۔
کون ہو۔۔؟ کس لیے آئے ہو۔۔۔
اس کی آواز آہستہ تھی، مگر اس میں موت کا وعدہ تھا۔ بندہ ہانپتا ہوا بولا،
ہمیں معاف کردو جانے دو بس۔۔۔ ہم کرائیں کے بندے ہیں۔۔
تو بھوکا نہ پھر۔۔۔ كس کے بندے ہو۔۔۔
زیدان نے اس کے گردن پر دباؤ ڈالا۔۔۔
نہیں جانتے۔۔۔ ہمارے باس نے بس فوٹو دیکھائی۔۔۔اور کہا اس انسان کو مارنا ہے، اور ہمارے باس کو جس نے آپکی سپاری دی، ہم اُنہیں بھی نہیں جانتے۔۔۔پلز ہمیں جانے دو۔۔۔
اُس کا جملہ سنتے ہی زیدان چونک گیا۔ اُس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے، جیسے یکدم آس پاس کی ساری آوازیں ماند پڑ گئی ہوں۔ اُس کی زندگی میں لڑائیاں نئی بات نہیں تھیں، بہت سے چھوٹے موٹے لوگ اُس کے پیچھے لگے تھے، مگر ہمیشہ صرف سبق سکھانے کے لیے۔ یہ پہلی بار تھا کہ خطرہ اس حد تک قریب محسوس ہوا تھا۔
یہ کون ہے… جو اُسے جان سے مارنا چاہتا ہے؟
یہ کون ہے…
جو اُس کے وجود سے اس حد تک خوفزدہ ہے؟
اس نے اسے چھوڑ دیا۔ بندہ زمین پر گرا، کانپتا ہوا۔
جاؤ۔ اور بول دو اپنے باس کو، کے زیدان کی موت کِسی کے ہاتھوں نہیں لکھی، اور اُس جیسے چھچھوندر میرا کُچھ بھی نہیں بیگار سکتے۔۔۔
زیدان نے سرد لہجے میں کہا..
وہ لڑکا جسے زیدان نے چھوڑا تھا، چند لمحے زمین پر ہی بیٹھا رہا۔ سانسیں بے ترتیب تھیں، سینہ یوں اوپر نیچے ہو رہا تھا جیسے ابھی بھی زندگی اُس سے روٹھ جائے گی۔ اس کی نظریں بار بار اردگرد بکھری لاشوں جیسے وجودوں پر پڑتیں… وہ سب جو ابھی کچھ لمحے پہلے خود کو طاقتور سمجھ رہے تھے، اب زمین پر بے ہوش گرے پڑے تھے۔
اُس نے کانپتے ہاتھوں سے خود کو دیوار کے سہارے کھڑا کیا۔ ٹانگیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں، گھٹنے لڑکھڑا رہے تھے، مگر خوف نے حوصلہ دے دیا تھا۔ اس نے پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں کی، وہ جانتا تھا، اگر ایک لمحے کو بھی رُکا تو شاید دوبارہ زمین سے نہ اُٹھ پائے۔
وہ لڑکھڑاتا ہوا بھاگا۔
گلی کے موڑ تک پہنچتے ہی اُس نے دوڑ لگا دی، جیسے موت اُس کے پیچھے سانس لے رہی ہو۔ قدم بے ترتیب تھے، دل حلق میں اٹکا ہوا تھا، اور ذہن میں صرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔۔۔
آج وہ بچ گیا تھا…
مگر زیدان سے ٹکرانے کے بعد کوئی کبھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔
پیچھے سڑک پر وہ سب ابھی تک زمین پر بے ہوش پڑے تھے،
زیدان نے ایک لمحے کو خود پر نظر ڈالی۔
بازو پر سے خون رس رہا تھا۔۔۔ ہلکی پھلکی چھوٹ پاؤں اور سر پر بھی لگی تھا۔۔۔
اس نے گہری سانس لی، گردن ذرا سا گھمائی۔
ہڈیاں احتجاج کر رہی تھیں، مگر آنکھوں میں وہی ٹھہرا ہوا سکون تھا۔
زمین پر بکھرے وجود اب بھی بے سدھ پڑے تھے۔
کسی نے کراہنے کی بھی ہمت نہیں کی۔
زیدان آگے بڑھا۔
ہیلمٹ اٹھایا، ہاتھ کی پشت سے اس پر جمی مٹی صاف کی۔ بائیک کے پاس پہنچ کر وہ ایک لمحے کو رکا،
پھر زخموں کے ساتھ، تھکن کو نظر انداز کرتے ہوئے
وہ بائیک پر سوار ہوا۔
انجن اسٹارٹ ہوا۔
آواز سناٹے کو چیرتی ہوئی فضا میں پھیل گئی۔
زیدان نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔
بائیک آہستہ آہستہ سڑک پر آگے بڑھی،
ہوا اس کے زخموں سے ٹکراتی تو درد بڑھتا، مگر رفتار کم نہ ہوئی۔
وہ زخمی حالت میں نکل گیا۔۔۔
+++++++++++++
زیدان اب اپنے مقصود مقام پر پہنچ چکا تھا۔
جیسے ہی اس نے کلب کے اندر قدم رکھا،
اس کی حالت دیکھ کر اس کے سب دوست اس کے آگے پیچھے جمع ہو گئے۔
اوئے یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟
کس کے گلے پر پھر سے ہاتھ ڈال کر آیا ہے؟
زیدان نے کچھ نہیں کہا۔
خاموشی سے اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔
اس کے اردگرد لمحوں میں ہجوم لگ گیا۔
نائٹ کلب لڑکوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔
کسی کے ہاتھ میں شراب کی بوتل،
کسی کے ہونٹوں پر سلگتی سگریٹ۔
یہ سب زیدان جیسے ہی تھے۔
نہ دنیا کی پروا، نہ انجام کا خوف۔
دن بھر سوئے پڑے رہنا،
اور رات بھر آوارہ گردی اور نشہ۔
نہ کسی رشتے کو اہمیت دیتے تھے، نہ کسی احساس کو مانتے تھے۔ یہاں تک کہ لڑکیوں کو بھی نہیں، نہ دل لگی، نہ تفریح، بس ان کی نظر میں سب کچھ وقتی اور بے معنی تھا۔
زیدان نے گردن سیدھی کی، آنکھوں میں وہی ٹھنڈا پن تھا۔
کوئی ہے… اس نے آہستہ کہا،
جو زیدان کی جان کا دشمن بنا پھر رہا ہے۔
ایک دم شور تھم گیا۔
ہین… کیااا؟
سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
کچھ حیرت میں،
اور کچھ کے چہرے پر خون فوراً کھول اٹھا۔
اوئے کون ہے؟
بس نام بتا۔۔۔
ابھی سالے کو جہنم پہنچاتے ہیں۔۔۔۔
کچھ مٹھیاں بند ہو چکی تھیں، کچھ بوتلیں زور سے میز پر رکھی گئیں۔ زیدان نے سب کو دیکھا۔۔ ایک ایک کو۔
نام نہیں معلوم۔ پھر ذرا رک کر بولا،۔مگر تم لوگ ڈھونڈو۔ ایک لمحے کی خاموشی، پھر ایک آواز ابھری
ہو جائے گا کام۔۔ دو دن دے بس۔
ابھی تیرے قدموں میں اُس انسان کو لا کر رکھ دیں گے۔
زیدان نے سر ہلایا۔۔ہاں… اسی لیے بتایا ہے۔
دو دن تم لوگوں کے پاس ہیں۔ اگر نہ ہوا…
تو پھر میں اپنے طریقے سے ہینڈل کر لوں گا۔
ابے بھائی، اُسے بول دے نا…
وہ تو ایک سیکنڈ میں سب پتہ لگا لے گا۔ ہجوم کے بیچ میں سے ایک لڑکا بولا۔۔۔
زیدان نے آنکھ اٹھا کر دیکھا۔ کون؟
سید سنان حیدر۔ فوراََ جواب آیا۔۔۔
زیدان فوراََ بولا۔۔۔۔ کہاں ہے وہ؟
سب لڑکے راستے سے ہٹ گئے۔
دور، ایک کرسی پر سنان بیٹھا تھا۔۔۔
ٹانگ پر ٹانگ رکھے، فون اسکرول کرتا ہوا،
جیسے آس پاس کچھ ہے ہی نہیں۔ نہ شور، نہ لوگ، نہ مسئلہ سب سے بے نیاز۔
زیدان نے کچھ دیر انتظار کیا
کہ وہ خود سر اٹھا کر دیکھے گا۔
مگر سنان تو اپنے فون میں ہی گم رہا۔
آخر زیدان خود بولا،
تم کراچی سے فیصل آباد کس لیے آئے ہو؟
سنان نے آہستہ سے نظر اٹھائی، ایک لمحہ زیدان کو دیکھا، پھر بالکل بے دلی سے بولا گِلی ڈنڈا کھیلنے آیا ہوں۔
زیدان کی بھنویں تن گئیں۔ بکواس مت کر۔
سنان نے کندھا جھٹکا۔ ابے جا، نکل…
اور دوبارہ فون میں مصروف ہو گیا۔
اسی لمحے ان میں سے ایک لڑکا بولا،
بھائی، زیدان کے پیچھے کوئی لگا ہوا ہے۔
سنان سر اٹھائے بغیر بولا ابے جا…۔کتا سب کے پیچھے لگتا ہے، کتے کے پیچھے کوئی نہیں لگتا۔
زیدان نے تیز آواز میں کہا اوئے مٹر سے نکلے ہوئے کیڑے… سیدھا سیدھا جواب دیا کر۔
سنان نے کندھا اچکایا۔ ابے مٹر مجھے پسند نہیں۔
اُن کے ساتھ کھڑا یاور بولا پڑا۔۔۔
بھائی نہیں کیا مطلب؟ تمہیں مٹر پسند ہوتا تو تُم واقعی اُس کے کیڑے ہوتے۔۔۔؟؟
سنان نے یاور کی طرف دیکھا اور بولا۔۔۔
ابے نکل۔۔۔۔
اُسے چھوڑ اور پتہ لگا کون مجھے مارنے کے پیچھے لگا ہے۔ زیدان بولا۔۔۔
ابے نکل۔۔ تیرے باپ کا نوکر نہیں ہوں میں۔۔۔۔
وہ کہتا دوبارہ فون میں مصروف ہوگیا۔۔۔
+++++++++++++
وہ بارہ بجے سے پہلے ہی اپنے دوستوں سے نکل کر
اسی حالت میں گھر پہنچ چکا تھا۔
جیسے ہی وہ کمرے کے اندر داخل ہوا،
کائنات نے اُسے دیکھا
اور فوراً اس کی طرف لپکی۔
یہ کیا ہوا؟ یہ سب کیسے ہوا؟ کس سے لڑ کر آئے ہیں؟
کسی سے نہیں… وہ اندر آیا اور خاموشی سے بستر پر بیٹھ گیا۔
کائنات نے اس کے چہرے اور بازوؤں کی طرف دیکھا۔
ہاں تو یہ چوٹیں خود ہی لگ گئیں ہوں گی نا؟
اسی لمحے کائنات کے اندر کا ڈاکٹر جاگ اٹھا۔
وہ بغیر کچھ کہے مرہم اور پٹیاں لے آئی۔۔۔ اور اس کے زخموں کی مرہم پٹی کرنے لگی۔
زیدان خاموش بیٹھا رہا۔ نہ مزاحمت، نہ شکایت۔
کیسے ہوئی لڑائی؟ کائنات نے آہستہ سے پوچھا۔ کیا کیا تھا اپنے…؟
زیدان نے مختصر سا جواب دیا یہ مت پوچھو۔ میں نہیں بتاؤں گا۔
کائنات رک گئی۔ اسے گھور کر دیکھنے لگی۔
ولیما والے دن بھی اس کی حالت کچھ ایسی ہی خراب تھی، اور اُس دن بھی زیدان نے کچھ نہیں بتایا تھا۔
آپ سب سے بلا وجہ کیوں لڑتے ہیں؟ اس کی آواز میں فکر تھی۔
زیدان نے کندھا ذرا سا اچکایا۔ مزا آتا ہے۔
کائنات نے پٹی باندھتے ہوئے کہا یہ چوٹیں لگوا کر؟
زیدان نے بےپرواہی سے جواب دیا یہ تو معمولی سی چوٹیں ہیں…
یہ معمولی سی چھوٹے ہیں؟؟ آپ کا نہ کچھ نہیں ہو سکتا… وہ غصے سے بولی۔۔۔
زیدان نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں وہی لاپرواہ سی چمک تھی اچھی لگ رہی ہو۔
کائنات نے چونک کر نظر اٹھائی۔
کیا…؟ آنکھیں چھوٹی چھوٹی کر کے اُسے گھورا
زیدان ہلکا سا مسکرایا۔
تمہارا غصہ بھی تمہاری طرح ہے، معصوم سا…
یہ کہہ کر وہ مسکرا دیا۔
کائنات نہ چاہتے ہوئے بھی شرما گئی۔
نظریں جھکا لیں۔ دل ہی دل میں سوچا
کیا عجیب سنکی انسان ہے یہ…
سب ٹھیک ہی کہتے تھے۔
یہاں اس کی اتنی چوٹیں لگی ہیں،
خون، نیل، درد اور اسے ابھی بھی مذاق اور تعریف سوجھ رہی ہے۔
پاگل ہیں آپ… وہ بڑبڑائی، مگر ہاتھوں کی گرفت اور نرم ہو گئی۔
++++++++++++
آفیس کے حالات کی وجہ سے اسوان کو رات بھر نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ کروٹیں بدلتا رہا…
کبھی دائیں، کبھی بائیں۔
بس ایک ہی سوچ بار بار ذہن میں گونج رہی تھی،
جو پلان اس نے بنایا تھا وہ کسی طرح کامیاب ہو جائے۔
اسی خیال کے ساتھ دل میں عجیب سی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔
ایسی بےچینی جو آنکھیں بند کرنے نہیں دیتی
اور دل کو قرار نہیں لینے دیتی۔
پریشے نے اس کی آہٹ محسوس کی تو آنکھیں کھول لیں۔۔۔
کوئی پریشانی ہے؟
جب اسوان نے اس کی طرف رخ کیا تو وہ آنکھیں کھولے اسے غور سے دیکھ رہی تھی،
نہیں… سو جاؤ۔
پریشے نے اسے غور سے دیکھا۔
کیا بات پریشان کر رہی ہے؟
اسوان لمحہ بھر خاموش رہا۔ پھر بولا۔۔۔
تم مجھے جانتی ہو نا؟
ہاں… شاید۔ پریشے نے دھیرے سے کہا۔
اسوان نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے سوال کیا،
تو بتاؤ… آسوان کو کون سی بات اتنا پریشان کر سکتی ہے، کہ اسے رات کو نیند نہ آئے؟
پریشے نے ایک لمحہ سوچا، پھر دھیرے سے کہا،
پیسہ…
اسوان چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
پیسوں کا کوئی معاملہ ہے؟
تمہیں…؟ اس نے بےاختیار پوچھا۔
پریشے نے مدھم سی آواز میں کہا،
جو آپ کو جانتا ہے، وہ یہ بات جانتا ہے۔
پیسہ آپ کی کمزوری بھی ہے، اور طاقت بھی۔
اسوان نے گہری سانس لی، اور خاموش ہو گیا۔
پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا،
اور پیسہ تو آنے جانے والی چیز ہے…
آج ہے، کل نہیں،
اسوان نے پہلو بدلا۔ آنکھیں بند تھیں،
مگر نیند اب بھی دور تھی۔
پیسہ ایک سحر ہے، پریشے نے دھیرے سے کہا،
آپ جتنا اس کے پیچھے بھاگیں گے،
اتنا ہی یہ آپ کو اپنے پیچھے بھگائے گا۔
اسوان نے آنکھیں کھولیں۔
اس کی نظر چھت سے ہٹ کر پریشے کے چہرے پر آ ٹھہری۔ جو بھی ہو پیسہ ہی سب کچھ ہے، پیسے سے انسان کو چاہے وہ کرسکتا ہے، یہ پیسہ ہی ہے جس کی وجہ سے دنیا اسوان کے سامنے جھکتی ہے۔۔۔
پریشے آہستہ سے مسکرائی۔ اگر پیسہ ہی سب کچھ ہوتا… پریشے نے دھیرے مگر واضح لہجے میں کہا،
تو اللہ قرآن میں مال کو آزمائش نہ کہتا۔
اسوان ذرا چونکا۔ خاموش رہا۔
پریشے نے آہستہ سے آیت پڑھی، آواز میں ٹھہراؤ تھا..
تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو بس آزمائش ہیں،
اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ (سورۃ التغابن۔۔ آیت نمبر ۱۵ (۶۴:۱۵)
وہ رکی۔ پھر اسوان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
آزمائش، آسوان… انعام نہیں۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
دنیا آپ کے سامنے جھکتی ہے، تو یہ اللہ کی دی ہوئی مہلت ہے، یا پھر اللّٰہ کی دی ہوئی عزت ہے،
اسوان نے بےچینی سے کروٹ بدلی۔
مگر بغیر پیسے کے عزت نہیں ملتی۔ اور اگر اسوان کے پاس پیسہ نہیں ہو تو وہ ایک بہت ہی بےکار شے بن جائے گا۔۔۔ اور کوئی یہ بات جان چُکا ہے۔۔۔ تبھی وہ مجھے برباد کرنا چاہتا ہے۔۔۔
پریشے خاموشی سے اُسے دیکھے گئی کُچھ نہیں بولی،
کیوں کہ وہ اسوان کو سمجھنا چاہ رہی تھی،
پیسے ضرورت پوری کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔۔ لیکن اتنا بھی کہ انسان اپنی ساری قیمت صرف پیسے سے ناپنے لگے نا،
لیکن اسوان کی بات سن وہ خاموش ہوگئی تھی۔۔۔
کیوں کہ پیسہ اب اس کے لیے ایک ذریعہ نہیں رہا تھا،
وہ اس کا نام، اس کی پہچان،
اور اس کے وجود کا ثبوت بن چکا تھا۔
اسی لیے اسے کھونے کا خوف
صرف نقصان کا خوف نہیں تھا،
یہ خود کو کھو دینے کا ڈر تھا
جو اسے اندر ہی اندر بےچین کیے جا رہا تھا۔
++++++++++++
کائنات نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
ایسا ہی چلتا رہا تو آپ کو کچھ ہو ہی جائے گا…
نہیں ہو گا… پھر ذرا سا مسکرایا۔ میں اس کا حل نکال رہا ہوں۔
کائنات چونک گئی۔
کیا…؟
کہ اب آپ لڑائی نہیں کریں گے؟
نہیں نہیں… یہ تو ناممکن ہے۔ زیدان نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
کائنات نے سنجیدگی سے کہا، میں بتا رہی ہوں آپ کو… آپ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے نہ تو۔۔
زیدان نے بھنویں اٹھائیں۔ نہیں آیا تو؟
کائنات نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا،
نہیں آئے تو میں خود لڑنے پہنچ جاؤں گی۔
ایک لمحے کو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر… زیدان مسکرا دیا۔
اچھا… اب احتیاط کروں گا۔ زیادہ نہیں لڑوں گا۔
ٹھیک ہے؟
کائنات نے سکھ کا سانس لیا۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
ہاں… پرفیکٹ۔ گُڈ۔
زیدان نے اس کی طرف دیکھا، جیسے دل ہی دل میں کچھ اور کہہ رہا ہو، مگر زبان پر بس یہی آیا۔
کائنات نے آخری پٹی باندھی، اور آہستہ سے کہا،
بس یہی سننا تھا…
اور زیدان پھر مسکرا دیا۔۔۔۔
+++++++++++
زرا اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
کمرے کی لائٹ مدھم تھی اور پردوں کے پار رات خاموشی سے پھیلی ہوئی تھی۔
تبھی فون کی اسکرین روشن ہوئی۔
دائم کالنگ…
زرا نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں۔
یا خدا… اب رات میں بھی اسے سکون نہیں ہے۔
اس نے تھکے ہوئے دل سے کال اٹھا لی۔
ہاں، بولو۔
ہیلوو… کیسی ہو؟
دائم کی آواز ہمیشہ کی طرح ہلکی اور مانوس تھی۔
بہت پریشان ہوں، زرا نے بنا کسی تمہید کے کہا۔
ارے، کیا پریشانی ہے؟ ابھی بتاؤ، ابھی دور کرتا ہوں تمہاری پریشانی۔
تم ہو پریشانی۔ دور کرو خود کو۔ زرا نے بے ساختہ کہا۔
دائم ہنس دیا، مگر ہنسی میں اس بار شوخی کم تھی۔
بس، میں تمہیں اپنے علاوہ ہر پریشانی سے دور کر سکتا ہوں۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ زرا جھنجھلا گئی۔ اتنی رات کو کیوں کال کی ہے؟ دماغ خراب ہے کیا تمہارا؟
ارے، رات کو نہیں نا… شام کو کی ہے۔
ہاں، دو بجے شام ہوتی ہے نا۔۔۔ زرا نے طنز کیا۔
دائم ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔
اوہ۔۔۔ سوری، سوری۔ تم سو رہی تھیں کیا؟
مجھے وقت کا دھیان ہی نہیں رہا… یہاں اور وہاں کے فرق میں۔ یہاں تو شام کے چھ بج رہے ہیں نا… واقعی سوری۔
زرا خاموش ہو گئی۔ اس نے پہلی دفعہ نوٹ کیا کہ وہ اس بات پر کتنا سنجیدہ ہو گیا تھا۔ ورنہ دائم تو عموماً اس کی ہر بات کو ہنسی میں اُڑا دیا کرتا تھا،
ہوا میں تحلیل کر دیتا تھا۔ اور یہی بات اسے ذرا سی الجھن میں ڈال گئی۔
نہیں، میں سو نہیں رہی تھی۔ زرا نے قدرے سنبھل کر کہا۔
دائم نے فوراً کہا، کیوں نہیں سو رہی تھیں؟ وقت دیکھا ہے؟
زرا کے لہجے میں جھنجھلاہٹ لوٹ آئی۔
بس، بس۔ اب زیادہ میرے ابا بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری مرضی ہے، جب سوؤں، جب جاگوں۔
دائم ہلکا سا ہنسا، مگر اگلا جملہ کہتے ہوئے وہ ذرا رک گیا۔
اور میری مرضی ہے کہ میں جب چاہوں کال کروں…
اسے یہ بات واقعی سن کر سکون آیا ہو.. کہ وہ سو نہیں رہی تھی۔ تبھی وہ اب دوبارہ سے ہلکا پھلکا ہوگیا تھا۔۔۔
مجھے لگتا ہے تمہیں بلاک کرنا ہی پڑے گا،
زرا نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا،.ورنہ تم سدھرو گے ہی نہیں۔
دائم ہنس دیا۔ ارے، میں بگڑا ہوا کب ہوں؟
دائم، پلیز… زرا کی آواز اب احتجاج سے زیادہ درخواست لگ رہی تھی۔.فون بند کرو، رکھو۔ مجھے سونے دو۔
اچھا، اچھا۔ سو جاؤ۔.اس بار اس کا لہجہ نرم تھا۔
گڈ نائٹ… سویٹ ڈریمز۔
اور اس سے پہلے کہ زرا کچھ اور کہتی،
اس نے خود ہی فون کاٹ دیا۔..
اور زرا نے اپنے فون میں وقت دیکھا۔
دو بج رہے تھے۔ اس نے ایک گہری سانس لی…
اور پھر دوبارہ فون میں مصروف ہو گئی۔
مگر اس بار اسکرین پر چلتی چیزوں سے زیادہ اس کے ذہن میں چلتی باتیں تھیں۔
++++++++++++
تین دن گزر چکے تھے۔
priority
آرڈر مکمل ہو چکا تھا۔
ڈسپیچ ہو گیا۔ خاموش لاگ بند ہو چکے تھے۔
اسوان اکیلا اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔ کمپیوٹر اسکرین پر لاگز کھلے ہوئے تھے۔ ہر کلک، ہر ترمیم، ہر وقت کا ریکارڈ۔
پروڈکشن ہیڈ؟
فائل کھولی، ہدایات کے مطابق کام کیا، بند کر دی۔
کوالٹی کنٹرول؟
دو بار فائل دیکھی، معمول کے مطابق رپورٹس اپڈیٹ کیں۔
ڈسپیچ؟
وہی پروسیس، وہی طریقہ۔
کوئی غیر معمولی چیز نہیں۔
اسوان کی بھنویں آہستہ سے سکڑیں۔ یہ ممکن نہیں تھا۔ فرق موجود تھا۔ اتنا باریک، کہ اگر کسی نے جان بوجھ کر نظر ڈالی ہوتی… تو وہ پکڑا جانا چاہیے تھا۔
مگر لاگ خاموش تھے۔
فواد دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آیا۔
سر… کلائنٹ کی کال آئی ہے۔
اسوان نے سر نہیں اٹھایا۔ بولنے کا اشارہ کیا۔
فواد نے ایک لمحہ ہچکچاہٹ کے بعد کہا،
سر… وہ آرڈر بھی return ہو رہا ہے۔
اسوان نے پہلی بار چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
فواد نے فائل آگے بڑھائی۔
وہی مسئلہ۔ وہی defect۔
اسوان نے فائل لی۔ صفحے پلٹے۔
اس کا ہاتھ رک گیا۔
یہ defect…
تینوں فائلوں میں مشترک نہیں تھا۔ یہ وہ فرق نہیں تھا.. جو اس نے پلان میں ڈالا تھا۔ یہ کسی اور لیئر پر تھا۔ کچھ ایسا… جو کاغذ سے اوپر تھا۔ سسٹم سے باہر۔
اسوان کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
تو مسئلہ فائل میں نہیں ہے… اس نے آہستہ سے خود سے کہا،
مسئلہ عمل میں ہے۔ یا… لوگوں سے بھی آگے۔
اس نے دوبارہ لاگز دیکھے۔ ہر چیز صاف تھی۔ بہت زیادہ صاف۔
ایک لمحے کو وہ رکا۔ پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
یہ پہلا موقع تھا..
جب اسوان کا منصوبہ فیل ہوا تھا۔
مگر اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ نہیں تھی۔
بلکہ تصدیق تھی۔
جو یہ کر رہا ہے… وہ جانتا تھا کہ میں کیا کروں گا۔
اسوان نے نوٹ پیڈ کھولا۔
پچھلی لسٹ کے نیچے ایک نئی لائن لکھی۔۔
Process Outside Files
پھر قلم روکا۔
اس نے فون اٹھایا۔
اس بار وہ کسی ڈیپارٹمنٹ کو کال نہیں کر رہا تھا۔
وہ سپلائر کا نمبر ملا رہا تھا۔.
+++++++++++
اسوان نے سپلائر کو بلانے میں جلدی نہیں کی۔
اس نے پہلے پچھلے آرڈرز کی رپورٹس نکلوائیں۔
چھ مہینوں کا ریکارڈ۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ خرابی ہر بار کیوں نہیں آتی اور کب آتی ہے۔ ایک بات صاف تھی۔ وہی خام مال کبھی ٹھیک نکلتا تھا اور کبھی خراب۔ اس کا مطلب تھا… کہ مسئلہ صرف مال میں نہیں تھا۔ اسوان نے دوسرا پلان بنایا۔ اس بار اس نے سپلائر سے ایک ہی گریڈ کا خام مال دو حصوں میں منگوایا۔ دونوں کاغذوں میں ایک جیسے تھے۔
کوئی فرق نہیں لکھا گیا۔ پلان سادہ تھا۔ اگر خام مال خراب ہے تو دونوں حصوں میں خرابی آنی چاہیے تھی۔
اگر خام مال ٹھیک ہے تو دونوں ٹھیک نکلتے۔
پہلا حصہ عام اسٹور میں رکھا گیا۔
دوسرا حصہ سیدھا پروڈکشن میں چلا گیا۔
اسوان خود فلور پر موجود تھا۔
خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا۔
پروڈکشن شروع ہوئی۔
اسٹور والا مال استعمال ہوا…
کوئی خرابی نہیں۔
دوسرے حصے سے بنا مال آیا….
وہی defect۔
اسوان چونک گیا۔
خام مال تو ایک جیسا تھا۔
تو فرق کہاں تھا؟
اسی وقت ایک سپروائزر آیا۔
سر… مشین نمبر چار رک گئی ہے۔
اسوان فوراً وہاں پہنچا۔
مینٹیننس رپورٹ دیکھی گئی۔
مشین کی سیٹنگ بالکل درست تھی۔
پچھلی سروس بھی وقت پر ہوئی تھی۔
کوئی گڑبڑ نظر نہیں آئی۔
اسوان نے آہستہ سے کہا،
تو مسئلہ نہ سپلائر ہے، نہ مشین۔
یہ پلان بھی غلط ثابت ہوا تھا۔
اسی لمحے فواد دوبارہ آیا۔
سر…۔ایک اور آرڈر میں بھی شکایت آ گئی ہے۔
اسوان نے گہری سانس لی۔
دو پلان۔۔دونوں ناکام۔
مگر اب ایک بات صاف تھی۔
خرابی کسی ایک جگہ نہیں ہو رہی۔
کوئی ایسا ہے، جو صحیح چیز کو غلط وقت پر غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔
یہ کام وہی کر سکتا ہے۔۔۔جو پورا عمل جانتا ہو۔
++++++++++++
ٹھنڈی شام کی مدھم روشنی کمرے میں اتر چکی تھی۔ کھڑکی کے پردے ذرا سے ہلے تو باہر ڈھلتے دن کی سنہری اداسی اندر پھیل گئی۔ کائنات پلنگ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھی تھی اور اس کے سامنے حِرا حسبِ معمول بےتکلف انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی، بالکل ویسے جیسے برسوں پہلے ہوسٹل کے کمرے میں بیٹھا کرتی تھی۔
حِرا نے کمرے پر ایک سرسری نظر ڈالی، پھر مسکرا کر بولی، یار ماننا پڑے گا، شادی کے بعد تو تیرے مزے ہی مزے ہو گئے ہیں۔
کائنات نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ کیوں بھئی؟
ارے دیکھ نا، کہاں وہ تنگ سا کمرہ… اور کہاں یہ اتنا بڑا، کھلا ہوا کمرہ۔ اسٹور روم سے سیدھا محل میں شفٹ ہو گئی ہو۔
کائنات کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ وہ اسٹور روم نہیں تھا، حِرا۔
حِرا نے فوراً بات کاٹ دی۔ جس حساب سے اس کا سائز تھا، وہ اسٹور روم ہی تھا۔ ہم مڈل کلاس لوگوں کے کمرے بھی اس سے بڑے ہوتے ہیں۔
پھر ذرا سنجیدہ ہو کر بولی،
ویسے سچ کہوں؟ امیروں کے دل بہت سخت ہوتے ہیں۔
کائنات نے گہری سانس لی۔ ہاں… جیسے جیسے پیسہ آتا ہے نا، دل پتھر ہوتے جاتے ہیں۔
حِرا ہنس پڑی۔ تو پھر ڈاکٹر بننے کے بعد ہمارے دل بھی سخت ہو جائیں گے کیا؟
کائنات فوراً بولی، نہیں نہیں، اللہ نہ کرے۔۔۔
حِرا نے اچانک پراسرار انداز میں آنکھیں سکیڑ لیں۔ اچھا… میں ایک گُڈ نیوز دینے آئی ہوں۔
کائنات کے چہرے پر ہلکی سی شرارت آ گئی۔
کیا؟ رشتہ آ گیا ہے تمہارا؟
اللہ توبہ۔۔۔۔ حِرا نے جھٹ سے کہا۔۔ابھی ڈاکٹر بننے سے پہلے مجھے شادی وادی کا کوئی شوق نہیں۔
تو پھر؟
حِرا نے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ایک فارم نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ یہ تمہارے لیے لائی ہوں۔
کائنات نے الجھ کر دیکھا۔ کس کا فارم؟
ایم کٹ کے ٹیسٹ کا۔
کائنات یکدم سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ تم نے؟ تم نے بھروا دیا؟
حِرا نے فاتحانہ انداز میں سر ہلایا۔ اور نہیں تو کیا! میں کب تک تمہارا انتظار کرتی؟ پتہ چلتا تاریخ ہی نکل جاتی۔ اس لیے میں اپنا لینے گئی تھی، تمہارا بھی بھروا دیا۔ اب بس ایڈمٹ کارڈ کا انتظار کرو۔
کائنات کی آواز میں فکر جھلکنے لگی۔ اور پیسے؟ یار میں انتظام کر رہی تھی…
حِرا نے بےپرواہی سے ہاتھ ہلایا۔ ارے کر لینا انتظام، میں نے کب روکا ہے۔ جب ہو جائیں تو مجھے واپس دے دینا۔ پورے نو ہزار دیے ہیں میں نے۔
کائنات کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ آگے بڑھی اور حِرا کو گلے لگا لیا۔“تھنک یو سو مچ…
حِرا ہنستے ہوئے اسے تھپتھپانے لگی۔ اچھا اچھا، اب رونا بند کرو۔ کچھ کھلاؤ بھی، اتنی دور سے آئی ہوں۔
کائنات نے اچانک سوال کیا، لیکن اتنے سارے پیسے تمہارے پاس آئے کہاں سے؟
حِرا نے نرمی سے جواب دیا، دیکھو، اپنی فیس کے پیسے تو میں نے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر جمع کر لیے تھے۔ باقی تمہارے، وہ بھائی سے لیے ہیں۔ جب تم دو گی تو میں بھائی کو واپس کر دوں گی۔
کائنات کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک پڑا۔
تُم بہت اچھی ہو۔۔۔۔
حِرا نے مصنوعی خفگی سے کہا، بس بس، اب جذباتی مت ہو۔ کچھ کھلا پلا بھی دو۔
کائنات اٹھتے ہوئے بولی، ہاں ہاں، تم یہیں بیٹھو، میں ابھی آتی ہوں۔
پیچھے سے حِرا کی آواز آئی، ویسے تمہارا وہ وحشی ہسبنڈ کہاں ہے؟
کائنات نے مسکرا کر پلٹ کر دیکھا۔ گھر پر نہیں ہیں… اور ابھی آنے والے بھی نہیں۔ تم سکون سے بیٹھی رہو۔
حِرا نے اطمینان سے لمبی سانس لی۔ اچھا ہے،
++++++++++++++
کائنات کچن میں آئی تو اس کے قدموں میں عجیب سی عجلت تھی۔ دل میں خوشی بھی تھی اور بےچینی بھی۔ اس نے فوراً ملازمہ کو ہدایت دی،
جلدی جلدی میکرونی بنا لو، اور کچھ کباب فرائی کر دو۔
یہ کہہ کر وہ خود بھی آستینیں چڑھا کر کام میں لگ گئی۔ چولہے پر برتن چڑھاتے ہوئے اسے حِرا کا مسکراتا چہرہ یاد آ رہا تھا وہی حِرا جو بنا سوچے سمجھے اس کے لیے نو ہزار کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لائی تھی۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کچن کے دروازے پر زینب بیگم نمودار ہو گئیں۔ ان کی نگاہ پہلے برتنوں پر پڑی، پھر کائنات پر۔
تمہیں اب تھکن نہیں ہو رہی؟
ان کی آواز میں طنز ہلکا سا چھپا ہوا تھا۔
جو اپنی دوست کے لیے اتنے انتظامات کر رہی ہو؟
کائنات نے پلٹ کر دیکھا، آواز میں نرمی مگر لہجے میں یقین تھا۔
کیونکہ وہ اس کی حقدار ہے، مامی۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے دل کرتا ہے اپنی ساری تھکن بھلا دی جائے۔
زینب بیگم نے ناگواری سے ہونٹ سکیڑے۔
بس بس، زیادہ فلسفہ نہ جھاڑو۔ اور یہ تم کس حق سے ان سے اتنا سب کچھ بنوا رہی ہو؟ صرف چائے بسکٹ دے کر فارغ کرو۔
کائنات کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔ اس نے دھیرے سے مگر صاف لہجے میں کہا،
کیا آپ اپنی دوست کو صرف چائے بسکٹ دے کر فارغ کر سکتی ہیں؟
زینب بیگم کی آنکھوں میں ناگواری گہری ہو گئی۔
میری دوست کو بیچ میں مت لاؤ۔ میری دوست کا ایک اسٹیٹس ہے۔ وہ اعلیٰ اعلیٰ، بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہیں۔
پھر ایک سرد سی نظر کائنات پر ڈال کر بولیں،
اور تمہاری دوست؟ بھکاری گری پڑی سی ہے۔
کائنات کے دل میں جیسے کسی نے خنجر گھونپ دیا ہو۔ اس نے بمشکل خود کو سنبھالا۔
مامی، زیادہ نہیں بولیں… پلیز۔
لیکن زینب بیگم کہاں رکنے والی تھیں۔
سچ ہی تو کہہ رہی ہوں۔ وہ اتنی لوئر کلاس ہے کہ ہمارے گھر کے اتنے مہنگے دودھ کی چائے بھی شاید اسے کبھی نصیب نہ ہوئی ہو۔
پھر اچانک ہاتھ اٹھا کر حکم دیا،
بس، یہ سب بنانا چھوڑ دو۔
انہوں نے ایک ایک کر کے ساری ملازمہ کو روک دیا۔۔۔
+++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
