بت سازوں کی دنیا
از قلم مریم۔۔۔۔
میں ماثیل ہوں۔
آپ ماثیل ہیں! ہم سب ماثیل ہیں۔
ماثیل کسے کہتے ہیں؟ ماثیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں بت ساز، یعنی بت بنانے والا۔ اور بت پرست کسے کہتے ہیں؟ بتوں کی پوجا کرنے والے کو بت پرست کہتے ہیں۔ بت ساز کا کام ہے بت بنانا اور بت پرست بتوں کی پوجا کرتا ہے۔ اور دوسرے معنوں میں پوجا عبادت ہی ہے اس کی جسے ہم خدا (معبود) مانتے ہیں۔
مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں جبکہ ہندو بتوں کی پوجا یعنی (عبادت) کرتے ہیں۔ جو لوگ کافر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے ناواقف ہیں، اس لیے اپنے ہی بنائے ہوئے بتوں کو خدا مان کر ان کی پرستش کرتے ہیں۔
لیکن مسلمان تو اللہ تعالیٰ کو جانتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں تو وہ بت ساز اور بت پرست کیسے ہوئے؟ یہی سمجھانے کے لیے میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اچھے سے معلوم ہے کہ شرک کیا ہے، مگر ہم نہیں جانتے کہ درحقیقت شرک کیا ہے؟
ہماری نظر میں شرک وہ ہے جو کافر کرتے ہیں یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ شرک سے مراد یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی دوسری شے کو شریک کرنا، اسے لائقِ عبادت سمجھنا، اس کی ذات و صفات میں کسی دوسرے کو اس کے برابر سمجھنا۔ ہاں! یہی ہے شرک کی تعریف، لیکن ہم آج تک اس کو بھی صحیح سے سمجھ نہیں سکے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں سب پتا ہے کہ شرک کیا ہے۔
شرک صرف کافر ہی نہیں کرتے بلکہ ہم بھی کرتے ہیں۔ ہاں، ہم مسلمان ہی ہیں اور ہمیں علم ہی نہیں ہے کہ ہمارا شرک ان سے کئی گنا بڑا ہے۔ بت صرف پتھر کی مورتی کو ہی نہیں کہتے بلکہ ہر وہ چیز جو ہمیں اللہ کی یاد سے غافل کر دے وہ ہمارا طاغوت (بت) ہے۔
ہمارے ذہنوں میں بت پرستی کا تصور کیا ہے؟ یہی کہ بت پرست صرف وہ ہے جو پتھر کے مجسموں کی پرستش کرے، وہی بت جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں تھے جن کو انہوں نے توڑا تھا۔ نہیں! وہ اس زمانے کے بت تھے۔ ہمارے دور کے لوگوں کی جس طرح ترجیحات بدلی ہیں اسی طرح ہمارے بت بھی بدل چکے ہیں۔
کیسے ہیں ہمارے دور کے بت؟
جس کی بات کو ہم نے اللہ کی بات سے اوپر رکھا وہ ہے ہمارا بت۔ ہماری وہ خواہشات جن کی وجہ سے ہم نے اللہ کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا، وہ ہے ہمارا بت۔
جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث میں فرمایا کہ ہم اس وقت تک کامل مومن نہیں بن سکتے جب تک کہ ہمیں اپنے والدین، اولاد، یہاں تک کہ اپنی جان سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت عزیز نہ ہو جائے۔
تو کیا واقعی ہم مومن ہیں؟ ہرگز نہیں، مومن ایسے نہیں ہوتے۔ اور مومن کیسے ہوتے ہیں؟ کیسے ہوتے ہیں وہ مومن جن کا ذکر قرآنِ مجید میں کیا گیا ہے؟
ترجمہ:
“مومن تو بس وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ آیات ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں، اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔”
یہ ہوتے ہیں مومن! کیا ہم ان میں سے ایک بھی کام صحیح سے کرتے ہیں؟ کیا ہم اللہ سے ڈرتے ہیں؟ ہمارے سامنے قرآن پڑھا جائے تو کیا ہمارا ایمان بڑھتا ہے؟ ہم اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں؟ باقاعدگی سے نماز قائم کرتے ہیں؟ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں؟
کیا واقعی ہم اللہ سے ڈرتے ہیں؟ اگر ڈرتے تو شاید کبھی اس کی نافرمانی نہ کرتے، اس کے حکم کو اپنی خواہش سے اوپر رکھتے۔
ہاں، ہم مسلمان ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں، لیکن کیا وہ نماز سچ میں نماز ہوتی ہے؟ یا پھر خیالات کا مجموعہ؟ جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو نہ جانے کتنے خیالات ہمارے ذہنوں میں گھومتے رہتے ہیں۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نماز پڑھنا چھوڑ دیں۔ اگر آپ بالکل پرفیکٹ نماز نہیں پڑھتے تو آپ نے پڑھنی ہی نہیں ہے، ایسا کرنے سے تو آپ کا دل سیاہ ہوتا جائے گا۔ آپ نے اپنے ان خیالوں سے لڑنا ہے، اور مومن تو وہ ہے جو اپنے نفس سے لڑے، اور سب سے افضل جہاد نفس کے خلاف جہاد ہے۔
جن مومنوں کا ذکر قرآنِ مجید میں کیا گیا ہے، ان کی پہلی خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ اور اگر ہم ان میں سے پہلا کام ہی کر لیتے تو اگلے کام خود بخود ہو جاتے، مگر ہم نے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔
تبھی تو ہم ایسے گناہ کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے جن کو کرنے سے ہمارا ایمان ہی زائل ہو جاتا ہے۔
ایسا گناہ جس کی معافی بھی نہیں ملتی، اور وہ گناہ کوئی عام گناہ نہیں ہے۔ یہ وہ گناہ ہے جسے قرآنِ مجید میں ظلمِ عظیم کہا گیا ہے۔
شرک کرنے سے ہم کسی کی جان پر نہیں بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ ہم نے جس کسی کی بھی بات کو اللہ کی بات سے اوپر رکھا تو ہم نے اسے اپنا بت بنایا اور ہم نے شرک کیا۔ چاہے وہ آپ کو شرک لگتا ہے یا نہیں، وہ شرک ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے احکام بتائے ہیں کہ ہم ان پر عمل کریں، لیکن اگر ہم اس میں سے کسی ایک حکم کو بھی نہیں مانتے، اپنی خواہش یا کسی بھی وجہ سے، تو ہم نے اللہ کے حکم کو رد کیا۔ ہم نے اپنی خواہش کو اوپر رکھا، اللہ کی بات کو پسِ پشت ڈالا، تو ہم نے شرک کیا کیونکہ ہم نے اس کے حکم کے مقابلے میں کسی اور شے کو آگے لے آئے۔
ترجمہ:
“اور کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کا فیصلہ یا حکم فرما دیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار رہے۔”
اب اس کے بعد کیا واقعی کوئی جواز باقی رہتا ہے؟
ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں کس طرح اپنی خواہشات کو آگے لاتے ہیں؟ میں اس کو ایک مثال سے واضح کروں گی۔
جیسے کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا، سورۃ النور میں، کہ اپنی زیب و زینت کو نامحرم کے سامنے ظاہر نہ کریں۔
ترجمہ:
“اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنی ازواجِ مطہرات سے فرما دیں، اور اپنی صاحبزادیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں۔ یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں کہ وہ شریف عورتیں ہیں تاکہ انہیں ستایا نہ جائے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔”
تو چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ پردہ واجب ہے یا مستحب، یا چہرے کا ہے یا نہیں؟ اور اگر ہم اس وجہ سے پردہ نہیں کرتے کہ ہم سے برداشت نہیں ہوتی، گرمی لگتی ہے، گھٹن ہوتی ہے، سانس بند ہوتا ہے، یا جو بھی دلیل آپ خود کو دیتے ہیں کہ فلاں فلاں وجہ سے نہیں کر سکتی، تو آپ نے اپنی بات، اپنی خواہش، اللہ کے حکم سے اوپر رکھی۔
تو پھر سوچیں، کیا آپ نے شرک نہیں کیا؟
خود سے سوال کریں کہ ایسی اور کون کون سی خواہشات ہیں جنہیں ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے رکھ دیا ہے؟ کیا آپ نے اپنی خواہشات کا جائزہ لیا؟ خود سے سوال کیا کہ آپ نے اپنی کون کون سی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے رکھا ہے؟
یہ آپ کے لیے ایک کام ہے جو آپ نے کرنا تھا، لیکن اگر آپ نے نہیں کیا تو اب کر لیں، ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، اور آپ کے پاس اس وقت تک مہلت ہے جب تک آپ کی سانسیں ہیں۔
اور جس دن یہ سانسیں آپ سے چھین لی گئیں تو آپ کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہے گا، اس لیے ابھی بھی وقت ہے، اپنا محاسبہ کر لیں۔
ابھی تک ہم نے سمجھا کہ بت سازی اور بت پرستی کیسی ہوتی ہے اور شرک درحقیقت کیا ہے، اور اب باری ہے اپنے بتوں کو پہچاننے کی۔ وہ بت جو آپ نے، میں نے، ہم سب نے بہت عرصے سے بنا رکھے ہیں، اور جب تک ہم انہیں پہچانیں گے نہیں، تب تک ہم انہیں توڑ بھی نہیں پائیں گے۔
شیطان انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے فتنے ایجاد کرتا ہے، اور ان فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ دولت کا فتنہ ہے۔ جی ہاں، دولت۔
دولت کمانا کوئی بری بات نہیں ہے اور نہ ہی دولت کی خواہش رکھنا غلط ہے، لیکن مال و دولت کی محبت فتنہ اس وقت بنتی ہے جب یہ حد سے زیادہ بڑھ جائے۔ کوئی بھی چیز جب اپنی حد سے تجاوز کرتی ہے تو وہ نقصان دیتی ہے، اور دراصل اسلام کے احکام بھی تو وہ حدود ہیں جو اللہ نے ہمارے لیے مقرر کی ہیں، اور ہمیں ان حدود کو توڑنے سے خود کو روکنا ہے۔
فرض کریں آپ ایک بہت ہائی ویلیو شخص ہیں اور آپ نے ہر جگہ، ہر رشتے میں کچھ باؤنڈریز سیٹ کی ہوئی ہیں، اور آپ کو یہ پسند نہیں کہ کوئی آپ کی وہ باؤنڈری لائن کراس کرے جو آپ نے بنائی ہے۔
لیکن ایسے میں آپ کا کوئی بہت قریبی شخص آپ کی باؤنڈری کراس کر دے، یہ جاننے کے باوجود بھی کہ یہ چیز آپ کو سخت ناپسند ہے کہ کوئی آپ کی حدود کو توڑے، تو آپ اس صورتحال میں کیا کریں گے؟ چونکہ آپ کو سخت ناپسند ہے تو آپ شدید ری ایکٹ کریں گے۔
لیکن کیا آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ جو حدود اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے بنائی ہیں، جب ہم وہ حدود توڑتے ہیں تو وہ ایسا کیوں نہیں کرتا؟
کیونکہ وہ اللہ ہے، وہ ہم انسانوں کی طرح ری ایکٹ نہیں کرتا۔ اس نے ہمیں بنایا ہے اور وہ ہمیں جانتا ہے کہ ہم انسان ہیں، وہ انسان جس کے بارے میں بناتے ہی کہا گیا کہ انسان جلد باز ہے، انسان ناشکرا ہے، انسان خطا کا پتلا ہے۔
ہم خطائیں کریں گے، ہم غلطیاں بھی کریں گے، لیکن ہم اپنے رب کی طرف، اپنے خالق کی طرف ہی لوٹیں گے، طوعاً یا کرہاً، خوشی سے یا ناخوشی سے، ہم واپس لوٹیں گے اگر ہمارے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہوگا۔
سب سے پہلا فتنہ اور بت دولت ہے، اور ہمارے معاشرے میں بہت سی سنگین برائیاں اور گناہ اسی کی بدولت جنم لیتے ہیں۔ جیسے چوری، پیسے کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ قتل، جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، وہ بھی مال و دولت، وراثت و جائیداد کی وجہ سے عام ہوتے جا رہے ہیں۔
اور تکبر بھی انسانوں میں اکثر اوقات کثیر دولت آ جانے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اور تکبر کیا ہے؟ تکبر وہ ہے جس کو کرنے سے انسان اشرف المخلوقات کے درجے سے ہی گر جاتا ہے۔
اور تکبر کے بارے میں تو سب جانتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم جانے انجانے میں اس کا ارتکاب کر جاتے ہیں۔ ہم نے ایک نہیں، کئی بت بنائے ہوئے ہیں: دولت کے بت، انا کے، حسد کے، جھوٹ کے، خود غرضی کے، نفس کے، خواہشات کے، اور یہاں تک کہ انسانوں کے۔
اور ہر گھڑی ہم اپنے بتوں کی پرستش میں اس قدر مصروف ہیں کہ اپنے رب کو، اپنے خالق کو بھلا بیٹھے ہیں۔
جب ہم اللہ کو بھول جاتے ہیں تو پتا ہے کیا ہوتا ہے؟
ترجمہ:
“اور ان لوگوں میں سے نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا۔”
جب ہم اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں تو اللہ ہمیں ہماری ذات سے بھی غافل کر دیتا ہے۔ پھر ہمیں نہ ہی اپنا ہوش رہتا ہے، نہ اپنے اعمال کا، اور ہم ایسے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
اندھیروں کے راستے بہت کٹھن ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم ان راستوں پر چل کر ان میں گم ہو جائیں، ہمیں ان راستوں سے پلٹ جانا چاہیے۔ اور پلٹ آنے والوں کے لیے اللہ کا در ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
لیکن ہماری پستی کی انتہا تو یہ ہے کہ ہم اللہ کو جاننے اور اس کے وجود کو ماننے کے باوجود بھی اس سے غافل ہوتے جا رہے ہیں، اپنے نفس اور خواہشات کے تابع ہو کر خود کو دن بدن زوال کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
جو لوگ پیروں، مریدوں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں، ان کے پیچھے بھاگتے ہیں، ان پر شرک کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ چلو، وہ تو کھلے عام شرک کرتے ہیں، مگر ہم جیساں کا کیا جو نماز، قرآن، روزہ، زکوٰۃ، تمام فرائض کی ادائیگی کرتے ہیں؟
لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے خود کے بت بنائے ہوئے ہیں، تو کیا ہم ماثیل نہیں؟ ہم بت پرست نہیں؟ تو ہم جیساں پر کیوں نہیں فتوے لگائے جاتے؟
ہم کیا سمجھتے ہیں کہ نماز پڑھنے، روزے رکھنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور حج و عمرہ کرنے سے ہم نے سارا دین مکمل کر لیا؟ تمام احکام پورے کر دیے؟ ہرگز نہیں!
کیا یہی وہ دین ہے جس کی تبلیغ کی ذمہ داری ہمارے پیارے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امتِ مسلمہ کے علماے کرام کو دی ہے؟ نہیں، یہ وہ دین، وہ مذہب نہیں ہے جس کے لیے زمانۂ عرب کے لوگ تکالیف برداشت کرتے تھے، جنہیں تپتی ریت پر لٹایا جاتا تھا، جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے۔
اور یہ ظلم ان پر کیوں کیے جاتے تھے؟ صرف اس لیے کہ محمد کو اور اس کے رب کو چھوڑ دو، مگر وہ اس کے باوجود بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔
اگر آپ موجودہ دور میں صحیح دین پر چلنے کی کوشش کریں گے یا کر رہے ہیں تو آپ کو طنز و طعنے سہنے ہوں گے اور تکالیف بھی برداشت کرنی ہوں گی، کیونکہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ جو ایمان لاتے ہیں انہیں ضرور آزمایا جائے گا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ابلیس کا بھی ایک بت تھا جس کو اس نے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر فوقیت دی؟ اور وہ بت کیا تھا؟ وہ بت تکبر کا بت تھا۔ جی ہاں، تکبر کا بت، اس پتھر کے بت سے بھی بڑا بت جس کی لوگ پرستش کرتے ہیں۔
جو لوگ پتھر کے بت بنا کر انہیں پوجتے ہیں وہ اللہ کے برابر کسی بے جان بت کو لے کر آتے ہیں، لیکن تکبر وہ بت ہے جس میں ابلیس خود (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے برابر آ گیا۔ اس نے یہ سمجھ لیا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے بہت بڑا ہے، وہ کیوں انہیں سجدہ کرے؟
مگر وہ اپنے تکبر میں اس قدر اندھا ہو گیا کہ اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ وہ کس ہستی کا حکم ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ جس اللہ نے اسے سجدے کا حکم دیا، وہ تمام جہانوں سے بڑا ہے۔
لہٰذا کبھی بھی اپنے اندر تکبر کا بت نہ بنانا۔ تکبر وہ شے ہے جس کی وجہ سے بڑی بڑی قومیں فنا ہوئیں، وہ قومیں جن کے سامنے پہاڑ بھی کنکر کی مانند تھے، جن کو اپنی طاقت پر بہت ناز تھا، ان کو بھی ملیا میٹ کر دیا صرف اور صرف تکبر نے۔
آج کل ہمارے اندر ایک تکبر بہت عام ہوتا جا رہا ہے کہ کیا ہوا اگر ہم نے گناہ کر دیا؟ کیا ہوا اگر ہم سے غلطی ہو گئی؟ ہم تو امتِ محمدی ہیں نا، ہماری بخشش تو ہو ہی جائے گی، ہماری سفارش تو ہمارے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کریں گے، ہے نا؟
لیکن کیا ہم نے امتِ محمدی والے کام بھی کیے ہیں؟ کیا ہم نے ایسے کام کیے ہیں کہ اگر ہم روزِ محشر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جائیں تو ہمارا سر اٹھ سکے گا؟
اب اپنا بت پہچاننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے توڑا کیسے جائے؟
جب آپ اپنا بت پہچان لیں، چاہے وہ کوئی چیز ہو، عادت ہو یا انسان ہو، آپ نے اسے اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کرنا ہے۔ اس کے بارے میں قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
ترجمہ:
“جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان نہ کرو گے، ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے۔”
غلطیاں، گناہ، یہ سب بنی آدم کی فطرت میں ہیں، لیکن مومن تو وہ ہیں جو بار بار غلطیاں کر کے بھی اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ جب بھی ان سے گناہ سرزد ہو جائے تو ان کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے، اور یہی مومن کی پہچان ہے کہ تمہارا ایمان باقی ہے، تمہارا ضمیر زندہ ہے۔
پھر جو وقت رہتے لوٹ آئے اپنے رب کی طرف، اسے دھتکارا نہیں جاتا کیونکہ دھتکارنے والی مخلوق ہے، خالق نہیں۔
آخر کب تک ہم اپنے گناہوں کو جسٹیفائی کرتے رہیں گے؟ کب تک بے کار کی توجیہات دیتے رہیں گے؟ پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہمیں ہمارا گناہ، گناہ لگنا بند ہو جائے گا، ہمارا ایمان ختم ہو جائے گا اور ہمارا ضمیر اپنی موت آپ مر جائے گا۔
ہمیں اس دن سے ڈرنا چاہیے، ہمیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔
اب آپ نے سوچنا ہے کہ آپ ماثیل ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو آپ کو بت شکن بننا ہوگا، تبھی تو خود کو خدا کو پاؤ گے۔
ختم شدہ۔۔۔
