Qasas by Rida Fatima episode 9…

قصاص قسط نمبر:9

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

قاسم اس وقت اپنے گھر میں تیار ہو رہا تھا ہیر کے گھر جانے کے لیے۔۔وہ اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا اور اپنے ہاتھ میں ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھا کر کوئی گھڑی پہن رہا تھا پھر اس نے ٹیبل پر پڑے پرفیوم کی قطار میں سے ایک پرفیوم اٹھا کر خود پر لگایا خوشبو پورے کمرے میں پھیل گئی تھی۔۔۔
آ خری نظر خود کو ائینے میں دیکھا بالوں کو اس نے جل سے سیٹ کر رکھا تھا سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔۔۔ یہ وہ قاسم خان لگتا ہی نہیں تھا جو رات کے اندھیرے میں موٹر سائیکل پر ایک
انسان کا قتل کر کے ایا تھا وہ بھی ملیشیا میں۔۔۔ اور اپنے ہی ہوٹل کی بلڈنگ سے ایک لڑکی کو دھکا دے کر اس نے اس کی جان لے لی تھی۔۔
قاسم آ بھی جاؤ باہر کب سے انتظار کر رہے ہیں اس کے بابا کی اواز آ ئی تو وہ فورا نکلا تھا۔۔۔
جی بس اگیا۔۔۔
چلو نکالو اب گاڑی۔۔
جی آجائیں اپ لوگ میں نکالتا ہوں گاڑی۔۔ قاسم باہر کی طرف جاتے ہوئے بولا تو اس کے ماں باپ بھی اس کے پیچھے ہی چل پڑے۔۔۔۔

لاہور ۔۔ دھوکے بازوں کا خوبصورت شہر ۔۔۔
یہ لاہور ڈی ایچ اے ہیون ہوٹل کے کیسی کمرے کا منظر تھا ۔۔ یوسف یاسر کے ساتھ کمرے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا ۔۔ ان کے سامنے ارسلان کھڑا تھا جس کا نمبر کچھ دیر پہلے یاسر نے ٹریس
کروایا تھا ۔۔ اور پتہ چلا تھا کے اج کل وہ یہاں پر ہی رہتا ہے یوسف ارسلان کے سامنے بیٹھا کافی کا گھونٹ لیتا بولا ۔۔
تو اب تم بتاؤ گے کے وہ لڑکی کہاں پر ہے ۔۔؟
میں نہیں جانتا ۔۔ ؟ارسلان نے مختصر جواب دیا۔۔۔
دیکھو مانا میں تمہارا کزن ہوں لیکن میں ایک پولیس افیسر بھی ہوں تو تم مجھے پاگل نہیں بنا سکتے ارسلان۔۔۔
تم لاہور میں رہ رہے ہو مطلب تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری سابقہ بیوی کہاں پر ہے۔۔ اور اگر نہیں پتہ تو یقینا تم اس کو ہی ڈھونڈنے کے لیے یہاں پر ائے ہو۔۔ تمہیں تھوڑی بہت تو انفارمیشن ضرور
ہوگی کہ وہ کہاں پر ہے۔۔۔ وہ امریکہ واپس نہیں گئی مطلب وہ یہیں پر ہے اور تم یہ بات جانتے ہو وہ الگ بات ہے تم بتانا نہیں چاہتے ہم پتہ لگوا لیں گے۔۔
دیکھو یوسف یہ میرا اور اس لڑکی کا مسئلہ ہے تمہارا نہیں۔۔ بہتر ہوگا تم بیچ میں نہ پڑو ۔۔۔
یہ صرف تمہارا مسئلہ نہیں ہے تمہارے گھر والوں کا بھی مسئلہ ہے اور تمہارے گھر والے میرے بھی کچھ لگتے ہیں۔۔۔ مجھے ان کا احساس ہے۔۔۔
اچھا تو یہ احساس اس وقت کہاں تھا جب وہ اکیلے پڑ گئے تھے تب تم کہاں پر تھے جب میں نے انہیں تنہا چھوڑا تھا ۔۔
اج یہ احساس ایک دم سے جاگ اٹھے ہیں کہیں تم اس لڑکی سے وہ ساری جائیداد ہتھیا کر بھاگنا تو نہیں چاہتے۔۔
ارسلان بولا تو اب کی بار یاسر نے اس کی بات کو روکا۔۔
تمہاری طرح گرے ہوئے نہیں ہیں ہمارے سر۔۔ کم سے کم تمہاری طرح بے غیرت تو نہیں ہے کہ اپنے ماں باپ کی پوری زندگی کی جمع پونجی اپنے عشق میں کسی لڑکی کے نام کر دیں۔۔۔
یاسر کے اس طرح بولنے پر ارسلان کو خاموش ہونا پڑا ۔۔۔
دیکھو ارسلان اگر تمہیں پتہ ہے کہ وہ لڑکی کہاں پر ہے یا وہ کہاں پر چھپی ہوئی ہے تو تم ہمیں بتا دو یقین مانو ہم تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے اور اگر تم نے نہیں بتایا تو ہمیں اور بھی بہت طریقے
اتے ہیں تم سے اس کا پتہ نکلوانے کے لیے ۔۔
بہتر ہوگا کہ ہم بیٹھ کر یہ معاملہ حل کر لیں۔۔
تم رشتے دار ہو اس لیے زور ازمائی نہیں کر رہا ۔۔۔
وہ یہاں ڈی ایچ اے میں ہی ہے اس نے کوئی چھوٹا سا اپارٹمنٹ لیا ہوا ہے کرائے پر۔۔ میرا ایک دوست ہے اس کے بہت سورسز ہیں ۔۔ وہ ارام سے پتہ لگوا کے دے سکتا تھا مجھے پتہ ہے اُس کا ایڈریس ۔۔۔
تو چلو پھر کب جا رہے ہیں ہم وہاں پر۔۔ یوسف کافی کا اخری گھونٹ لیتا ہوا کھڑا ہوا تھا۔۔
فی الحال تو نہیں جا رہے ۔۔ کیونکہ خبر ملی ہے کہ وہ اس وقت گھر پر نہیں ہوگی۔۔ اگر ہم اسے پکڑ پائے تو ٹھیک نہیں تو یہ اخری موقع ہے وہ کل صبح کی فلائٹ سے امریکہ جا رہی ہے۔۔اگر
ہم اسے ابھی نہیں پکڑ پائے تو مطلب میں بابا کی پوری جائیداد کھو دوں گا۔۔۔
ایسے کیسے نہیں پکڑ سکیں گے مجھے بھی
یوسف ملک کہتے ہیں۔۔ اس کے حلق سے تایا جان کے سارے پیسے نہیں نکل لیے تو کہنا ۔۔۔
اچھا اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ اتنی آسانی سے وہ گھر کے پیپر دے دے گی ۔۔اور یہ بھی بتا دے گی کہ اس نے سارے پیسے کہاں پر چھپا کر رکھے ہیں وہ ایسی نہیں ہے۔۔
ویسے میں تمہیں سیدھا سادہ سدھرا ہوا پولیس افیسر لگتا ہوں نا ارسلان۔۔
یوسف ارسلان کو باغور دیکھتے ہوئے بولا۔۔
ارسلان نے محض اسبات میں گردن ہلا دی
لیکن میں بھی ایسا نہیں ہوں جیسا نظر اتا ہوں۔۔۔ اور ایک بات تایا جان نے کہا تھا کہ وہ گھر اس لڑکی نے کسی اور کو بیچ
دیا ہے اور ابھی تم کہہ رہے ہو کہ گھر کے پیپرز اس کے پاس ہیں۔۔؟
نہیں اس نے نہیں بیچے اس نے میرے ساتھ جھوٹ بولا تھا اور میں نے بابا کو وہی بتا دیا۔۔ دوبارہ کبھی موقع ہی نہیں ملا بابا کو سچ بتانے کا۔۔ انہوں نے کبھی اپنے گھر داخل ہی نہیں
ہونے دیا۔۔۔۔
لازمی سی بات ہے تمہاری غلطی بھی تو اتنی بڑی تھی۔۔۔
خیر ابھی کے لیے ہم چلتے ہیں ہماری نظر رہے گی تم پر۔۔
تم نے اگر بھاگنے کی کوشش کی یہ اس لڑکی کو بچانے کی کوشش کی تو چھوڑوں گا تو میں تمہیں بھی نہیں۔۔
یوسف اور یاسر کمرے سے باہر نکلنے لگے تو ارسلان بول اٹھا۔۔۔
تو تم اس ساری جائیداد کا کیا کرو گے یوسف۔۔ ؟
کیا کرنا ہے تایا جان کو واپس کر دوں گا۔۔۔۔
اور میرا کیا ہوگا اس کے بعد میں کیا کروں گا کہ بابا مجھے گھر کے اندر دوبارہ داخل ہونے دیں گے۔۔
یہ تو میں نہیں جانتا تمہاری غلطی ہے ۔۔ تم ان سے معافی مانگو گے تو شاید وہ تمہیں معاف کر دے لیکن تمہاری وجہ سے جو ان کی حالت ہوئی ہے قسم سے مجھے افسوس ہوتا ہے کہ تم جیسا گھٹیا ادمی ان کا بیٹا ہے۔۔۔
یوسف کہتا ہوا باہر کی طرف نکل گیا تھا۔۔۔
اور لازمی سی بات ہے جہاں یوسف وہاں یاسر۔۔۔۔

سر جی اگر یہ جو لڑکا ہے ارسلان اس نے بھاگنے
کی کوشش کی تو کیا کریں گے۔۔
بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا۔۔

اور یاسر شام تک کی بات ہے تم سی سی ٹی وی روم میں جاؤ اور وہاں پر جا کر سکیورٹی کے ساتھ بیٹھ جاؤ اور ارسلان کے کمرے میں نظر رکھو ذرا سی کوئی گڑبڑ لگے تو مجھے ا کر بتانا ۔۔۔ بس
شام تک کا وقت ہے ۔۔۔ چار تو ویسے ہی بج رہے ہیں یوسف نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے سر۔۔۔ یاسر کہتا ہوا قدم اگے بڑھا گیا۔۔۔۔

یہ رات نو بجے کا وقت تھا جب قاسم خان اور اس کے امی ابو کامران خان کے گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
کامران خان نے بڑی گرم جوشی سے قاسم کو اور ادم خان کو گلے لگایا تھا۔۔۔
اور پھر ان کو ساتھ لے کر ہی اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
پھر ان کو لا کر لاؤنج میں بٹھایا۔۔۔ دلاور خان باہر ہی صوفے پر بیٹھا تھا۔۔ ان کو اتا دیکھ کر اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔
پھر باری باری ان دونوں کے گلے لگا حال احوال کے بعد وہ بیٹھ گئے تھے۔۔۔
ہیر کی امی نے سامنے پڑے ٹیبل کو چائے کے کپوں سے سجا دیا تھا ۔۔
اور بھی بہت چیزیں رکھی گئی تھیں ۔۔۔
اچھا تو اب تفصیل سے بتاؤ کیا ہوا تھا قاسم کے ہوٹل میں۔۔۔ کامران خان نے پریشانی سے واقعہ جاننے کی کوشش کی تو قاسم ذرا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھایا اور پہلا گھونٹ بھرا۔۔۔
وہ اس وقت انتہا کا پُر کشش لگ رہا تھا۔۔
کچھ بھی نہیں انکل ایک لڑکی کا قتل ہو گیا تھا ہمارے ہوٹل کی ٹیرس سے گر کر نیچے مری
تھی وہ۔۔۔ مجھے تو پتہ بھی نہیں ہے یہ سب کیسے ہوا تھا۔۔
میں نے ہی پولیس والوں کو فون کر کے بتایا تھا اس لڑکی کے گھر والے بہت پریشان تھے۔۔
وہ لڑکی کا باپ تو بول رہا تھا کہ وہ لڑکی ہی گھر کا خرچہ چلاتی تھی۔۔
میں نے بھی پھر بول دیا کہ کوئی بات نہیں میں اس لڑکی کی تنخواہ ہر مہینہ بھیجتا رہوں گا۔۔
یہ تو بہت اچھا کیا تم نے قاسم۔۔ کامران خان نے اس کو داد دی تھی۔۔۔ تب ہی ریحان اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا ان کو سامنے بیٹھا دیکھ کر وہ ان تک ایا ۔۔۔ ہلکا پھلکا سا حال احوال پوچھا اور پھر وہیں پر بیٹھ گیا۔۔ اس کو بھی ہیر خان کی
طرح ان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔
وہ تو بس اپنے بابا کے دوست کی وجہ سے بیٹھا تھا ۔۔البتہ قاسم کی اور اس کی ہلکی پھلکی ہی بات چیت ہوتی تھی جب بھی ہوئی تھی ۔۔ نہ ریحان قاسم کو زیادہ بلاتا تھا اور نہ ہی قاسم نے کبھی
ریحان سے بات کرنے کی کوشش کی تھی البتہ دلاور ۔۔۔
وہ کوئی نہ کوئی قصہ یا کوئی نہ کوئی بات یاد کر کے قاسم سے بات کر ہی لیتا تھا اور قاسم بھی اس کی بات کا ہلکا پھلکا جواب دے دیتا تھا۔۔
ہیر کہاں پر ہے نظر نہیں ارہی قاسم کی امی بولی تھی۔۔۔
وہ کمرے میں لیٹی ہوئی ہے اس کی طبیعت خراب ہے اس کے سر میں درد ہو رہی ہے۔۔
ریحان نے بتانا مناسب سمجھا تھا۔۔
ہیر کے بابا ایک دم سے پریشان ہو گئے۔۔۔ ؟
ہم کو کسی نے کیوں نہیں بتایا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس نے دوائی کھائی ہے کہ نہیں۔۔۔
جی بابا میں نے اس کو گولی دی ہے سر درد کی۔۔ وہ کہہ رہی تھی تھوڑا ارام کرے گی تو ٹھیک
ہو جائے گی۔۔
رکو ذرا میں دیکھ کر اتا ہوں اس کو زیادہ طبیعت خراب ہے تو اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے ہیں کامران خان اٹھتے ہوئے بولے
تو ان کے ساتھ ہی قاسم اس کے امی ابو بھی کھڑے ہو گئے تھے
کوئی بات نہیں بھائی صاحب ہم بھی جا کر خود ہی ہیر سے مل لیتے ہیں بچی کی طبیعت خراب ہے۔۔قاسم کی امی بولی تھی تو کامران
خان نے بس گردن ہلا دی۔۔لاؤنج کراس کرتے ہوئے ہیر کے کمرے کی طرف ائے۔۔ کمرے کا دروازہ کھولا اور پھر وہ کمرے میں داخل ہوئے کمرے میں اندھیرا تھا دروازہ کھلنے پر باہر کی مدھم
سی روشنیاں اندر ائی تھیں۔۔۔ پھر ریحان نے کمرے کی لائٹ جلائی تو کمرہ روشن ہو گیا۔۔
ہیر بستر پر گردن تک کمبل اوڑھے لیٹی تھی۔۔ چہرہ سرخ پڑ رہا تھا۔۔
سر پر دوپٹہ باندھے وہ انکھیں بند کیے لیٹی تھی لائٹ جلنے پر اس نے انکھیں کھول کر اپنے بابا کی طرف دیکھا اور پیچھے کھڑے قاسم اور اس کے امی ابو کو بھی وہ جیسے فکر مند ہوئے تھے۔۔
بابا اپ یہاں پر۔۔۔
السلام علیکم انٹی انکل۔۔۔ اس نے اٹھ کر بیٹھنا مناسب سمجھا۔۔
مجھے ریحان نے ابھی بتایا کہ تمہاری طبیعت خراب تھی تم نے ہم کو کیوں نہیں بتایا بیٹا کامران بولے تھے۔۔
ویسے ہی بابا اپ پریشان ہوتے۔۔
پریشان تو میں ابھی بھی ہوا ہوں ۔۔۔
قاسم کی امی ہیر کے پاس ا کر بیڈ پہ بیٹھی کیا ہو گیا ہے ہماری گڑیا کو۔۔
بھابھی اپ ہماری بچی کا خیال کیوں نہیں رکھتی ہماری امانت ہے یہ اپ کے پاس۔۔۔ قاسم کی امی ہیر کی امی کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔ بولی تو قاسم مسکرا اٹھا ۔۔

حال احوال پوچھنے کے بعد سب باہر چلے گئے تھے البتہ قاسم ریحان کے ساتھ کمرے میں ہی کھڑا تھا۔۔۔
تم دھیان رکھا کرو اپنا۔۔ قاسم بولا تو ہیر نے ایک نظر اس کو دیکھا۔۔۔
جی میں رکھتی ہوں اپنا دھیان بس اچانک سے طبیعت خراب ہو گئی تھی سر بہت دکھ رہا ہے۔۔
ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں تم ارام کرو۔۔ سوچا تھا ابھی ایا ہوں تو تھوڑی بہت باتیں کر کے جاؤں گا لیکن تمہاری تو طبیعت ہی خراب ہے تم ارام کرو پھر کبھی بات کریں گے۔۔۔
قاسم کہتا ہوا باہر کی طرف چلا گیا تو ریحان نے جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا اور ہیر نے کمبل اتارا۔۔
شکر ہے جان تو چھوٹی۔۔ ہیر کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔۔ تمہارا ائیڈیا تو کام کر گیا ریحان اب میں ذرا اپنا منہ دھو کر اتی ہوں کیونکہ بہت سرخ ہو گیا ہے بلش لگانے کی وجہ سے۔۔
تو کس نے کہا تھا اتنا زیادہ لگا دو لگ رہا تھا اوور ایکٹنگ ہی کر رہی ہو۔۔
زیادہ دماغ نہ کھاؤ بس جان چھڑوانی تھی ہمیں اس قاسم کے بچے سے ۔۔
چلو جان تو چھوٹ گئی نا تمہاری اب اس سے۔۔ اس کے بدلے مجھے کیا دو گی تم میں نے تمہاری مدد کی ہے۔۔۔
ویسے تمہیں دینا کچھ بنتا تو نہیں ہے کیونکہ ساری ایکٹنگ میں نے کی تھی۔۔۔
کیوں کچھ نہیں بنتا دینا اتنی مدد میں نے تمہاری کی ہے۔۔۔
اچھا چلو کیا ہی یاد کرو گے مانگو تمہیں کیا چاہیے۔۔
جو مانگوں گا وہ دے دو گی۔۔
ہاں دے دوں گی مانگو تو صحیح تم ۔۔۔
پکا دو گی یا یہ نہ ہو کہ پھر بعد میں تم مکر جاؤ۔۔
نہیں مکرتی لالا بتا دے کیا چاہیے۔۔۔
اپنی دوست کا نمبر دے دے۔۔ ریحان منہ بناتے ہوئے بولا۔۔
کس کا حیات کا۔۔ہیر کا پورا ارادہ تھا اپنے بھائی کو تنگ کرنے کا۔۔
مجھے اس کا نمبر نہیں چاہیے رخسار کا نمبر مانگ رہا ہوں دے دے۔۔
کیوں رخسار کا کیوں۔۔
کیونکہ تیری بھابھی جو بنانا ہے اس کو میں نے ۔۔
اور اگر میں نہ دوں تو۔۔۔؟
تو کیا ہے میں خود جا کر لے لوں گا۔۔
اتنی ہمت ہے۔۔ !
بہن صاحبہ جانتی نہیں میں کس کا بیٹا ہوں۔۔
جی جی پتہ ہے میرے ابا کے ہی بیٹے ہو چلو اج تمہاری ہمت دیکھتے ہیں تم جاؤ اس کے گھر اور جا کر اس کا نمبر مانگو دیکھتے ہیں
وہ تمہیں تھپڑ مارتی ہے یا اپنا نمبر دیتی ہے۔۔۔
اچھا تم ایڈریس بتاؤ میں جاتا ہوں اس کے گھر۔۔
ہیر نے ایڈریس بتایا اور ریحان نے اس کو فون پر لکھا۔۔۔
ریحان ابھی انتظار کر رہا تھا کہ قاسم کے گھر والے جائیں تو پھر وہ گھر سے باہر نکلے ۔۔۔
کیونکہ ابھی وہ گھر سے باہر نکلا تو یقینا کامران خان اس کو روک ہی لیتے کہ گھر میں مہمان ائے ہوئے ہیں اور ان کو چھوڑ کر اس طرح باہر جانا یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔۔۔
جیسے ہی قاسم کے گھر والے گئے تھے ریحان بھی اپنے کمرے سے باہر اگیا ۔۔
ہاتھوں میں گاڑی کی چابی پکڑے ۔۔
یہ تم کہاں پر جا رہے ہو اس وقت کامران خان نے پوچھا تھا۔۔۔
کہیں نہیں بابا ۔۔دوست کے گھر جا رہا ہوں اس نے بلایا ہے ۔۔
اچھا کب تک اؤ گے ۔۔
ا جاؤں گا جلدی ہی بس تھوڑی دیر کے لیے جا رہا ہوں۔۔
اچھا ٹھیک ہے جاؤ ۔۔۔
ریحان گھر سے باہر نکل آیا پھر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔ پھر گاڑی کو تیز رفتاری سے اگے۔۔
رات کا وقت ہو رہا تھا آسمان میں چاند چمک رہا تھا ہلکے ہلکے بادل ہو ہو رہے تھے ۔۔ جو کبھی کبھی چّاند کو چھپا بھی دیتے تھے ۔۔
چند ایک تارے اسمان میں ٹم ٹماتے نظر آ رہا اتے ۔۔ جو رات کو اور خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔۔
ریحان کسی گھر کے باہر کھڑا تھا خوبصورت عالیشان گھر ۔۔ یہ جھنگ کے خوبصورت گھروں میں سے ایک گھر تھا ۔۔ باہر سے دیکھنے پر ہی وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔
سیاہ عمارت جو بلب کی روشنیوں میں چمک رہی تھی ۔۔ کہیں کہیں سنہرا رنگ بھی نظر آ رہا تھا ۔۔۔
ریحان نے گاڑی باہر روکی تو گارڈ ایک دم جن کی طرح گیٹ کے پیچھے سے حاضر ہوا ۔۔
کون ہیں اپ۔۔ ؟
وہ میں۔۔ رخسار فار وق سے ملنے ایا تھا ۔۔
اپ کا نام کیا ہے گارڈ نے اگلا سوال پوچھا ۔۔
ریحان خان۔۔۔
اپ یہاں پر روکیں میں پوچھ کر اتا ہوں ۔۔
گارڈ اندر چلا گیا کچھ دیر بعد وہ واپس ایا تھا اور پھر
اس نے گیٹ کھول دیا ۔۔ ریحان گاڑی اندر لے ایا ۔۔
گاڑی کو پورچ میں روکا اور گاڑی سے نیچے اترا
پھر ایک قطار میں بنی سیاہ ٹائلوں پر چل نے لگا دونوں طرف سبز گھاس تھی ۔۔ وہ اندرون دروازہ عبور کر کے اندر داخل ہوا تو ایک
پل کو اس کی آنکھیں روشنی کی وجہ سے چندھیا گئی ۔۔۔
گارڈ نے اس کو صوفے پر بیٹھنے کا کہا اور ملازمہ سے کہہ کر رخسار کو بولنے کا کہا ۔۔
وہ ابھی بیٹھا ہوا تھا جب شاہان اپنے دھیان میں کمرے سے باہر نکل رہا تھا اور جب سوفے پر نظر پڑی تو کیسی کا وجود نظر ایا شاہان پہلے ٹھٹکا اور دبے پاؤں چلتا ہوا اس تک ایا شاہان کو پیچھے سے ریحان کی پشت ہی نظر آ رہی تھی ۔۔
شاہان نے بے ساختہ ریحان کے بال پکڑے تھے ۔۔ چوڑ چوڑ
ہمارے گھر میں چور اگیا ہے شاہان چلایا تھا اور ریحان ایک دم پلٹا تھا ۔۔ جس کے بال شاہان نے پکڑ رکھے تھے ۔۔
ابے چھوڑ بال میرے ۔۔ چوڑ نہیں ہوں میں ۔۔ریحان اپنے بال چھوڑواتا بولا ۔۔ شاہان نے اس کا چہرہ دیکھا تو روک گیا ارے ریحان بھائی اپ ۔۔۔ ؟
ہاں میں ۔۔ یار گھر ائے مہمانوں کی اس طرح سے عزت افزائی کرتے ہو تم لوگ۔۔
نہیں مجھے لگا کوئی چوڑ ہے ۔۔۔ شاہان اب اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولا جیسے اس نے یہ سب جان بوجھ کر کیا تھا۔۔

گارڈ کو باہر کھڑا تو کیا ہوا ہے سکیورٹی کے بعد بھی تمہیں لگتا ہے کوئی چور اندر ا سکتا ہے۔۔
اپ کی کمر نظر ارہی ہے پیچھے سے تو مجھے لگا کوئی چور ہے۔۔
چور ایسے کپڑے پہنتے ہیں ریحان نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا تو شاہان اس بار اپنی ہنسی روک نہیں پایا
سوری برو۔۔ میں تو بس مذاق کر رہا تھا اپ سے مجھے پتہ تھا گھر کے اندر ایسے تو کوئی نہیں ا سکتا۔۔ جو بھی ایا تھا یقینا جاننے والا تھا سوچا کیوں نہ کوئی مذاق کر لیا جائے لیکن پتہ نہیں تھا اپ ہوں گے۔۔
ویسے بڑی بات ہے اپ اگائے اب تو بہت دن گزر چکے ہیں جب ہم گھومنے پھرنے گئے تھے اس وقت دیکھا تھا اپ کو۔۔
بس وقت ہی نہیں ملتا۔۔
اچھا تو اج کیسے انا ہوا اپ کا ہمارے گھر اور ہیر اپی نہیں ائیں ۔۔۔
نہیں تمھاری ہیر ااپی نے چیلنج کیا تھا مجھے ۔۔۔
اچھا ایسا بھی کیا چیلنج کر دیا کہ اپ کو ہماری طرف انا ہی پڑ گیا۔۔
کیوں تمہیں کیوں بتاؤں تم ابھی چھوٹے بچے ہو ۔۔۔
ویسے میں اتنا بھی بچہ نہیں چلیں میں کافی جوس
منگواتا ہوں اپ کے لیے آپ بیٹھیں ۔۔ شاہان کہتا کچن کی طرف چلا گیا ۔۔۔
اور تب ہی رخسار اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی
السلام وعلیکم اس کو کمرے سے اتا دیکھ کر ریحان اٹھا کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔ اپ کھڑے کیوں ہو گئے ہیں بیٹھیں ۔۔۔۔
رخسار بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہمارے بابا نے سکھایا ہے جب پسندیدہ عورت کھڑی ہو تو بیٹھنا نہیں چاہئے ۔۔۔
اچھا تو یہ بات انہوں نے اپ کو خود سکھائی ہے اور میں اپ کی پسندیدہ عورت ہوں کیا ۔۔؟ اب کی بار رخسار مسکرائی تھی
نہیں میں نے اکثر بابا کو دیکھا ہے جب امی کھڑی ہوتی ہیں تو بابا بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ۔۔۔
اور میں نے کب کہا اپ میری پسندیدہ عورت ہیں ۔۔ ؟
ریحان نے بات بدلی ۔۔
اچھا تو پھر اگر پسندیدہ عورت نہیں ہوں تو کھڑے کیوں ہوئے اپ ۔۔؟
عورت تو ہیں نہ اپ ۔۔ اس لیے کھڑا ہونا مناسب سمجھا ۔۔
اب کی بار رخسار ہنس دی تھی ۔۔
اچھا تو یہاں کیسے انا ہو گیا اپ کا اور میری دوست کو کیوں نہیں لے کے ائے آپ ۔۔
کیوں کے اپ کی دوست نے کہا تھا کہ ہمت ہے تو میں اپ کے گھر اؤں ۔۔ اور خد اپ سے اپ کا فون نمبر مانگوں ۔۔
اچھا اتنی ہمت کہاں سے آگئی ۔۔ ؟
اپ کو نہیں پتہ رخسار صاحبہ پٹھان ہوں میں ۔۔۔۔ اور ہمت پیدا ہونے سے ہے مجھ میں ۔۔۔
اچھا جی تو اپ کو لگتا ہے میں اپ کو اپنا فون نمبر دے دوں گی ۔۔
دے تو دینا چاہیے نہیں تو میری کی بہن چیلنج جیت جائے گی اور میں یہ نہیں چاہتا ۔۔ لینے کو میں اپ کا نمبر آسانی سے لے سکتا ہوں ۔۔ اپ کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں تھی مجھے ۔۔
اچھا وہ کیسے ۔۔
وہ ایسے کے ذرا اپنے سیڈ ٹیبل پر دکھیں ۔۔ اپ کی امی یہ ابو میں سے کسی کا فون ہے شاید اور اس میں اپ کا نمبر تو ضرور ہوگا۔۔
رخسار نے دیکھا ۔۔ وہ اُس کی امی کا فون تھا
وہ باہر گئے تھے شاید وہ بھول گئی
فون لوک ہے ۔۔ رخسار فورا بولی

لاک کھولنا کون سا مشکل کام ہے ۔۔۔!
اب آپ دیں گی نمبر یا نہیں ۔۔۔ ؟
رخسار نے کچھ دیر سوچا ۔۔ دے دوں گی پہلے وعدہ کریں اگلی بار ہیر کو ساتھ لے کر ائیں گے ۔۔ ضرور لے کر اؤں گا ۔۔ نمبر بتائیں ۔۔؟
رخسار نے اپنا نمبر بتایا تو ریحان نے لکھ لیا اتنے میں اس کے لیے چائے وغیرہ بھی اگئی تھی جب رخسار کےامی ابو گھر کے
اندر داخل ہوئے تھے ۔۔ سامنے ریحان کو بیٹھے دیکھا تو روک گئے ۔۔ وہ شاید کسی دوست کے گھر ڈنر پر انوائیٹ تھے ۔۔
اور رخسار اور شاہان نے جانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔ ۔۔
ریحان ان کو دیکھ کر ایک دم کھڑا ہو گیا ۔۔ السلام علیکم انکل انٹی ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔
رخسار بیٹا یہ کون ہیں ۔۔ سلام کا جواب دینے کے بعد فاروق صاحب نے پوچھا تھا ۔۔
بابا یہ ہیر کے بھائی ہیں۔ ریحان خان ۔۔ مجھے اور شاہان سے ملنے ائے تھے ۔۔
اچھا ۔۔ کیسے ہو بیٹا ۔۔؟
جی میں ٹھیک ہوں اپ کیسے ہیں
اللہ کا کرم ہے بیٹا ۔۔ ڈنر کر کے جانا ۔۔
نہیں انکل بس جانے والا ہوں ۔۔
اچھا ۔۔ اور بتاؤ تمھارے بابا کیسے ہیں ۔۔
جی بابا بھی ٹھیک ہیں ۔۔
بہت اچھے آدمی ہیں تمہارے بابا بیٹا ۔۔ غریبوں کی بہت مدد کرتے ہیں ۔۔ ایک دو بار میری ملکات ہوئی ہے اُن سے سکول بنوا رہا تھا میں مجھے ان کی ضرورت پڑی تھی میں نے ان
کو یاد کیا ۔۔ انہوں نے بہت مدد کی تھی میری ۔۔
جی ۔۔ انکل ۔۔۔ ریحان کو جیسے عجیب ہی خوشی ہوئی اپنے بابا کی تعریف سن کر ۔۔
میری طرف سے کامران صاحب کو شکریہ بولنا ۔۔
جی میں ضرور کہوں گا ۔۔ اب میں چلتا ہوں ۔۔۔
ابھی تو ائے ہو بیٹھو نہ ۔۔ ؟
نہیں انکل بس ان دونوں سے ملنے ایا تھا ۔۔ ریحان نے کہا
اچھا کبھی اؤ ہمارے گھر اپنی فیملی کے ساتھ ۔۔ مجھے بہت خوشی ہو گی ریحان ۔۔
جی ضرور اؤں گا ۔۔ ابھی میں چلتا ہوں ۔۔
ٹھیک ہے بیٹا ۔۔
اللہ حافظ ریحان کہتا گھر سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔


شاہان اسکول میں تھا چھوٹی ہونے والی تھی بس کچھ وقت رہتا تھا ۔۔۔
شاہان ۔۔ بات سنو ۔۔۔ ایک لڑکی ۔۔ 17 18 سال کی اُس کے پاس ائی تھی ۔۔
ہاں بولو ۔۔ شاہان بولا تو اس لڑکی نے مسکرا کر اس کو دیکھا اج تم زیادہ ہینڈسم لگ رہے ہو ۔۔
میں روز ہی ہینڈسم لگتا ہوں رومیسا ۔۔۔
نہیں اج پتہ نہیں کیوں مجھے بہت ہینڈسم لگ رہے ہو ۔۔
اچھا شکریہ ۔۔
اچھا کیا تم نوٹس دو گے مجھے اپنے ۔۔ میں کل
نہیں ائی تھی اور مجھے پتہ نہیں ہے تھوڑی دیر میں سر نے نوٹس چیک کرنے ہیں اور میں نے تو لکھے بھی نہیں ہیں ۔۔
اب کلاس میں مجھے ڈانٹ پڑھے یہ تو اچھی بات نہیں ہے نا ۔۔
اوہ ۔۔ تو یہ سب تعریف نوٹس کے لیے تھی ۔۔ شاہان اج تم ہینڈسم لگ رہے ہو ۔۔
اب کی بار شاہان بری طرح اس کی نقل اتارتا بولا تھا اور وہ لڑکی اس کو گھور کر رہ گئی جس کا کوئی اثر نہیں لیا تھا شاہان فاروق نے ۔۔۔
دو گے نہ نوٹس ۔۔ وہ لڑکی اب کی بار تھوڑا گھور کر بولی ۔۔
نہیں دوں گا ۔۔ میں نے کہا تھا کل نہ اتی ۔۔؟ اور میں کیوں دوں تمھیں نوٹس ۔۔ اور اگر نوٹس چاہیے ۔۔ تو ایک نوٹ بک لو اور
اس پر تھوزنڈ ٹائم لکھو شاہان تم اج ہینڈسم لگ رہے ہو ۔۔۔
وہ لڑکی اس کو دیکھ کے رہ گئی ۔۔۔۔
رہنے دو ۔۔ مجھے نہیں چاہیے تمہارے نوٹس میں
کسی اور سے لے لوں گی ۔۔
ہاں تو جاؤ پلز ۔۔ روکا کس نے ہے ۔۔ جاؤ اور لے لو ۔۔
لیکن پورا سکول جانتا ہے میرے نوٹس پرفکٹ
ہوتے ہیں بنا کیسی غلطی کے ۔۔ ۔۔
وہ لڑکی اب کی بار کچھ نہیں بولی تھی ۔۔ اور چلی گئی ۔۔
شاہان بس ہنس دیا ۔۔ واللہ یہ لڑکیوں کو تنگ کرنے میں جو مزا ہے نہ شاہان اب کندھے پر بیگ ڈالے سکول سے باہر نکلا تھا

شام کا وقت تھا۔۔۔
لاہور میں شام چھا رہی تھی دن ڈھال رہا تھا ۔۔
ایک اپارٹمنٹ میں ایک لڑکی صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی سامنے کافی کا کپ پڑا تھا ۔۔ جب اس کے گھر کا دروازہ بجا تھا اس نے باہر کیمرے لگا رکھا تھا ۔۔ تا کے نظر رکھ سکے باہر کون
کھڑا ہے اس نے سکرین پر دکھا ۔۔ کوئی آدمی ہاتھ میں پیزا کا دبا پکڑے کھڑا تھا ۔۔ ڈلیوری بوی کے یونیفارم میں ۔۔
اس نے تو پیزا اوڈر نہیں کیا تھا ۔۔؟
شاید ڈلیوری بوی نے غلط جگہ بیل بجا دی تھی وہ کیسی اور کا اڈر تھا شاید ۔۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا ۔۔
يس ۔۔۔؟
میم اپ کا پیزا ۔۔۔
ڈیلیوری بوی بولا تھا ۔۔۔
لیکن میں نے کوئی ارڈر نہیں کیا تھا ۔۔
غلط ایڈریس پر ا گئے ہیں اپ ۔۔ وہ لڑکی انگریزی میں بولتی ہوئی پلٹنے ہی لگی تھی جب اس کے فلیٹ میں کوئی دو اور لوگ داخل ہوئے تھے ۔۔ ڈلیوری بوی کے ساتھ ۔۔
ایک تو ارسلان تھا ۔۔ دوسرا اے ایس پی یوسف ملک ۔۔۔
یوسف نے ڈلیوری بوی کو دیکھا ۔۔ ویل ڈن یاسر ۔۔!
یوسف بولا ۔۔ وہ لڑکی ایک دم ڈر گئی ۔۔ who are you وہ لڑکی چلاتے ہوئے بولی ۔۔
تیرا باپ ہوں ۔۔ یوسف بولا تھا اور وہ لڑکی ایک دم پیچھے ہوتی گئی ۔۔ یوسف آگے ا رہا تھا ۔۔ آخر پر وہ دیوار کے ساتھ جا لگی ۔۔ سیڈ پر ایک ٹیبل پڑھا تھا جہاں کچھ واز رکھے تھے
خوبصورتی کے لیے اس نے وہ واز اٹھا کر یوسف کو مارنا چاہا
اور یوسف برک رفتاری سے جھکا تھا ۔۔ کچھ
پل میں یہ سب ہوا تھا
یاسر اور ارسلان گھر کی تلاش لے رہے تھے ۔۔۔
یاسر کا دھیان یوسف پر بھی تھا۔۔ اُس لڑکی نے مارنے کی کوشش کی یوسف جس طرح بچا یاسر نے دیکھا ۔۔ یاسر سے رہا نہیں گیا
وہ سب چھوڑتا اس لڑکی تک ایا تھا ۔۔ تیری تو۔۔۔ یاسر ابھی بڑا ہی تھا کے یوسف نے اس کو روک دیا ۔۔
سر اس نے آپ پر ہاتھ اٹھایا ہے ۔۔
تو کوئی بات نہیں یاسر ۔۔ میں سنبھال لوں گا تیرے بھائی نے ٹریننگ کی ہے چنے نہیں بھونتا رہا ۔۔ تو تلاشی لے ۔۔
یاسر کو ٹھنڈا کرتا یوسف بولا تو یاسر پھر گھر کی تلاشی لینے لگا ۔۔۔
جب اُس لڑکی نے یوسف کو بے ساختہ دھکا دیا تھا ۔۔
ایک پل کو یوسف خود کو سنبھال نہیں پایا کیوں کے وہ خود کا وجود ڈھیلا چھوڑ کر کھڑا تھا ۔۔
یوسف نے نظر اٹھا کر اُس لڑکی کو دیکھا ۔۔
بس بہت ہو گیا ڈرما ۔۔ اب اگر مجھے ہاتھ لگایا تیری جان لے لوں گا میں ۔۔
عورت ہو اس کا مطلب یہ تو نہیں کے مارتی ہی جاؤ بہن یوسف چلاتا ہوا بولا تو ایک پل کو یاسر اور ارسلان اپنا کام چھوڑ کر اس کو دیکھنے لگے ۔۔ جب کے یوسف کے دہاڑنے پر وہ لڑکی ایک پل کو کانپ اٹھی تھی۔۔۔
Who are you….
وہ ہمت کرتے بولی ۔۔ تو یوسف نے اپنا کارڈ نکل کر دکھایا ۔۔
ASP Yousuf malik

And you are under arrest
لیکن میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔ ؟
تم نے اپنے شوہر کے ساتھ فراڈ کیا ہے ۔۔ تم اس کی جائیداد لے کر بھاگی ہو ۔۔۔
ہمارے پاس سارا ریکارڈ ہے ۔۔ تب ہی یاسر گھر کے پیپر ڈھونڈ کے لے ایا تھا ۔۔
سر جی یہ رہے گھر کے پیپر اور باقی کے ڈاکیومنٹس ۔۔۔
اور یہ کچھ رقم ہے یہ اس نے اپنے گھر کی الماری میں رکھی تھی۔۔۔
یاسر ساری چیزیں یوسف کو دیتا ہوا بولا۔۔
تم لوگ میرے ساتھ ایسے بدتمیزی کر کے مجھے نہیں لے کے جا سکتے۔۔ تم لوگوں پر کیس کر سکتی ہو تمہارے ساتھ کوئی لیڈی پولیس افیسر بھی نہیں ہے۔۔ یہ سراسر بدتمیزی ہے وہ عورت تلملاتی ہوئی بولی ۔۔
جب یوسف مسکرایا ۔۔
تمہیں لگتا ہے میں ایویں ہی پولیس افیسر بن گیا ؟
سائرہ ۔۔ یوسف نے باہر کے دروازے کو دیکھتے ہوئے کسی کو اواز لگائی تھی۔۔ تو ایک لیڈی پولیس اہلکار اندر داخل ہوئی
تھی یس سر ۔۔۔
سائرہ ان کو باعزت پکڑو اور تھانے لے کر چلو ۔۔۔ میڈم کو اریٹیشن ہوتی ہے کے کوئی مرد ان کو ہاتھ لگائے ۔۔۔۔
جی سر جیسا اپ کہیں سائرہ نے اُس کو پکڑا ۔۔ اور اگے کو چل پڑی ۔۔۔۔
تو ارسلان صاحب اپ کو ہوا لینی ہے
جیل کی اب کی بار یاسر تنگ کرنے کے لیے ایک دم سیدھا موں بنا کر بولا ۔۔
اجائیں ارسلان صاحب اپ کو تو میں خود تھانے کی ہوا کھیلتا ہوں ۔۔
یاسر بولا تو ارسلان نے یوسف کو دیکھا ۔
وہ مذاق کر رہا ہے اور کچھ نہیں یوسف نے یاسر کی ساری ایکٹنگ پر پانی کا جگ پھینک دیا
سر جی مذاق تو کرنے دیا کریں نا ۔۔یاسر موں بنایا بولا ۔۔۔


تمہارا بہت شکریہ یوسف ارسلان کہہ رہا تھا۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں اتی میں تمہارا کس طرح سے شکریہ ادا کروں اگر تم نہیں ہوتے تو نہ جانے کیا ہوتا میں تو امید ہی کھو بیٹھا تھا
شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔ یوسف باہر نکلتے ہوئے بولا تھا
ارسلان نے اس کو روکا۔۔
وہ پیپرز ڈاکیومنٹس تو دے دو۔۔ ارسلان یوسف کے ہاتھ کی
طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا یوسف نے ایک نظر اس کو دیکھا۔۔
کیوں نہ پہلے ہم تایا کے گھر چلیں اسلام اباد وہاں جا کر دے دوں گا۔۔ تایا کے ہاتھ میں۔۔۔
یوسف نے کہا تو ارسلان نے بس گردن ہلا دی۔۔۔

یہ لیں تایا یہ اپ کے گھر کے پیپر ہیں اور یہ اپ کی باقی جائیداد کے ڈاکومنٹس یوسف نے ایک فائل سامنے کی اس کے تایا کی انکھوں میں انسو بھر ائے ۔۔۔ جبکہ تائی خود حیران کھڑی تھی۔۔۔
اور یسرا انتہا کی خوش تھی وہ جس چیز کی امید چھوڑ بیٹھے تھے وہ چیز ایک بار پھر دوبارہ مل گئی تھی۔۔
ان کو ان کی جائیداد ایک بار دوبارہ واپس مل گئی تھی ۔۔۔
یوسف اس وقت اپنے تایا کے سامنے کھڑا تھا پاس میں شرمندہ سا ارسلان کھڑا تھا اور دائیں طرف یاسر کھڑا تھا جس کو ساری
باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی وہ تو بس یسرا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
یسرا کو پتہ تھا کے یاسر نامی ہوائی مخلوق انتہا کی دل پھنک لگتی تھی ۔۔۔
ہم سب مل کر بھی تمہارا شکریہ ادا کریں تو کم ہے تم نے ہماری بہت مدد کی ہے مجھے تو لگا ہی نہیں تھا تم یہ کر پاؤ گے مجھے سمجھ نہیں ارہی میں تمہارا کیسے شکریہ ادا کروں ۔۔”
شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تا یا یہ میرا فرض تھا جو میں نے نبھایا ہے اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔
یوسف نے پاس کھڑے ارسلان کو دیکھا۔۔
تمہیں کچھ نہیں کہنا کیا ارسلان۔۔۔ ؟
ب۔۔وہ۔و ۔۔بابا۔۔ وہ میں اپ سے معافی ۔۔ معاف مانگتا ہوں مجھے معاف کر دیں ۔۔
دوبارہ ایسی کوئی بھی غلطی نہیں کروں گا اپ کا جہاں دل کرے وہاں پر میری شادی کر دیجیے گا۔۔ دوبارہ ایسی کوئی غلطی نہیں کروں گا ایک بار مجھے معاف کر دیں۔۔۔ وہ بری طرح سے شرمندہ تھا۔۔۔ اس کے بابا نے ایک نظر اس کو
دیکھا اور اپنی بیوی کے سہارے سے اگے بڑھے کچھ دیر اس کو دیکھتے رہے ارسلان کو لگا وہ اب تھپڑ کھینچ کر اس کے منہ پر ماریں گے۔۔
باپ تھے ۔۔ دل موم ہو گیا تھا
انہوں نے ارسلان کو گلے لگا لیا ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا دیر ائے درست ائے مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ تمہیں صحیح اور غلط کی پہچان تو ہوئی۔۔۔

یوسف بھائی اپ رہیں گے نا اب ہمارے گھر یسرا بولی تھی۔۔۔
بالکل بھی نہیں۔۔
ارے کیوں۔۔۔؟
کیونکہ بہن صاحبہ فی الحال مجھے جا کر ڈیوٹی جوائن کرنی ہے ۔۔
یوسف بھائی ایک دو دن بعد چلے جانا۔۔۔
پھر کبھی اؤں گا فی الحال میرے پاس بالکل بھی ٹائم نہیں ہے یسرا۔۔۔
ہاں جی یسرا جی ہم پھر کبھی ائیں گے اب کی بار یاسر بولا تو یسرا نے اس کو دیکھا میں نے صرف یوسف بھائی کو کہا ہے
تو جہاں یوسف بھائی وہاں میں تو ہوں گا نا۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا تم بھی لازمی انا ۔۔ یسرا کی امی بولی تو یاسر مسکرا اٹھا۔۔ جی انٹی میں لازمی اؤں گا ائندہ سے تو۔۔۔
اور پھر کچھ دیر یوسف اور یاسر وہاں پر بیٹھے تھے۔۔ پھر اخری الوداع کہہ کر وہ اٹھ کر اگئے۔۔
کچھ دیر میں ان کی فلائٹ تھی جو کہ پہلے ہی وہ کروا چکے تھے۔۔۔
اب وہ ایئرپورٹ میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔۔۔

یاسر اب تو ڈر نہیں لگے گا نا فلائٹ میں بیٹھنے سے۔۔۔؟
سر جی کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن پوری کوشش کروں گا کہ اب کی بار نہ ڈروں۔۔۔
ویسے تو تم ہر چیز سے ڈرتے ہو جب اس لڑکی نے میرے پر حملہ کیا تب تمہیں ڈر نہیں لگا تم کس طرح سے غصے میں اگے بڑھے تھے
سر جی اپ کے معاملے میں میرا دل مضبوط ہو جاتا ہے اب بھائی جو ہیں ۔۔۔
اپ کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔
اچھا کیا کیا کر سکتے ہو ۔۔ کھانا پکا سکتے ہو ۔۔۔؟
کھانا بھی پکا سکتا ہوں اور وقت انے پر جان بھی داؤ پر لگا سکتا ہوں اور جان دے بھی سکتا ہوں


قاسم کے گھر والے ابھی گئے ہی تھے جب زرمان کا نام چمکا تھا ہیر کے فون پر ۔۔۔
چلے گئے ۔۔؟ اپ کے بابا کے دوست ۔۔
پہلا سوال جو زرمان نے پوچھا تھا وہ یہی تھا
ہاں تھوڑی دیر پہلے ہی گئے ہیں میں نے تو سر درد کا بہانہ کر لیا تھا تاکہ باہر جانا نہ پڑے اور ریحان نے بھی اس میں ساتھ دیا تھا اور ہوا بھی یہی ہمیں باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی الٹا وہ سب خود کمرے میں اگئے تھے ہا ل احوال
پوچھنے کے بعد پھر وہ خود ہی باہر چلے گئے تھے۔۔۔
چلیں یہ تو اچھا ہوا نا کم سے کم جان تو چھوٹی ہے اپ کی اس سے۔۔
ہاں مجھے کہہ رہا تھا کہ ویسے تو بات کرنی تھی لیکن ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے پھر کبھی بات کر لوں گا۔۔۔
کرنے دیتا ہوں میں اس کو بات اپ کو دوبارہ بات کرنے کا کہے نا تو میرا نمبر دے دینا میں کر لوں گا اس سے بات۔۔
بس پھر یاد رکھنا فون میں سے نکل کر تمہیں مارے گا۔۔
پتہ نہیں کیوں قاسم جب پاس ہوتا ہے تو عجیب لگتا ہے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے قاسم اچھا بننے کا دکھاوا کرتا ہے
اپ کا وحم ہو گا ہیر ۔۔ اپ کے ابو اگر اس سے شادی کرنا چاہتے ہے تو پتہ تو ہو گا اُن کو کے وہ کیسا ہے
اب ہر ایرے غائرے سے اٹھا کر تو اپ کی
شادی نہیں کر دیں گے نا
ہیر میں تو کہتا ہوں بھاگ چلتے ہیں کہیں پر۔۔
بھاگ کر شادی کر لیں گے۔۔
میں نے کب کہا کہ مجھے تم سے شادی کرنی ہے اور دوسری بات یہ کہ اگر بھاگ بھی نکلے نا تو دلاور بھائی نے ڈھونڈ کر بوٹی بوٹی کر دینی ہے ہماری تم جانتے نہیں ہو اُن کو ۔۔۔
چلیں پھر کوئی بات نہیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔
تم چھوڑو یہ ساری باتیں بتاؤ کیا کر رہے ہو تم۔۔
کچھ بھی نہیں اپ کو ہی سوچ رہا ہوں ۔۔
لیکن میں تو تم سے فون پر بات کر رہی ہوں۔۔
یہی سوچ رہا ہوں کہ مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے اپ کتنی پیاری لگ رہی ہوں گی
ہر وقت مذاق کرتے ہوئے تمہارا دل نہیں بھر جاتا کیا۔۔۔
نہیں میرا دل نہیں بھرتا۔۔
اوہ رکھو فون اب ۔۔ لگتا ہے امی ا رہی ہیں
ماں کی اواز سن کر ہیر نے فون بند کر دیا ۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *