Mohabbt ibadat by Rida Fatima episode 5…

محبت عبادت قسط نمبر:5

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔


آسمان میں بادل تھے گاڑی سرمئی سڑک پر رواں دواں تھی ۔۔۔۔ معراج خاموش سی پیچھے بیٹھی گانے سن رہی تھی رحال علی کے ساتھ آگے بیٹھی تھی علی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسلام آباد کی خوبصورت سڑک سے گزرتے ہوئے جب وہ فیصل مسجد پہنچے، تو سفید سنگِ مرمر کی بلند و بالا مینار آسمان کو چھوتے محسوس ہو رہے تھے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ مسجد ایک عجیب سا سکون اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھی۔
تینوں نے کافی دیر تک مسجد کے وسیع و عریض صحن میں چہل قدمی کی۔ رحال اور معراج تصاویر بنوانے میں مصروف تھیں، جبکہ علی بڑے اطمینان سے مسجد کے طرزِ تعمیر کو دیکھ رہا تھا۔

عصر کا وقت ہوا تو مسجد کے لاؤڈ اسپیکرز سے بلند ہوتی اذان کی آواز پہاڑیوں سے ٹکرا کر ایک سحر انگیز گونج پیدا کرنے لگی۔ علی وضو کرنے کے لیے چلا گیا، جبکہ رحال اور معراج صحن کے ایک کونے میں رک گئیں۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد علی مسجد کے بیرونی صحن میں ہی جائے نماز بچھا کر نمازیوں کے ساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ عصر کی دھیمی ہوتی دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی جو وضو کے پانی سے چمک رہا تھا۔۔۔۔
رحال ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگائے خاموشی سے علی کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ علی جب رکوع میں جاتا تو کتنا باوقار لگتا، اور جب وہ سجدے میں گیا تو جیسے وقت تھم گیا۔ علی کے سجدے بہت طویل تھے۔ وہ جیسے اپنے خالق کے سامنے اپنی تمام فکریں اور دعائیں رکھ رہا تھا۔۔۔۔رحال کے دل میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا: “نماز پڑھتا ہوا پسندیدہ مرد انتہا کا خوبصورت لگتا ہے۔” اس کے دل میں علی کے لیے احترام اور محبت کی ایک نئی لہر ابھری۔۔۔۔
دوسری طرف معراج بھی ساکت کھڑی علی کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں علی کے ہر عمل کا پیچھا کر رہی تھیں۔ جب علی سجدے سے کافی دیر بعد سر اٹھاتا تو معراج کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کاش علی اپنی دعاؤں میں اسے مانگ لے۔ ان دونوں بہنوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر ان کی نظریں ایک ہی مرکز پر جمی تھیں۔۔۔۔۔
نماز کے بعد وہ چلتا ہوا ان دونوں تک ایا ۔۔ بیٹھی کیا ہو چلو ۔۔۔ لیک ویو نہیں جانا کیا رات ہو رہی ہے جلدی گھر میں جانا ہے
وہ دونوں اٹھ خری ہوئی اور پارکنگ کی طرف بڑ گئی ۔۔ گاڑی وہیں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
علی ان کے پیچھے چل رہا تھا ۔۔۔۔۔

مسجد سے نکل کر وہ ‘لیک ویو پارک’ پہنچے۔ سورج ڈھلنے کے قریب تھا اور راول جھیل کا پانی سنہری رنگت اختیار کر رہا تھا۔
وہ ایک موٹر بوٹ پر سوار ہو گئے۔ علی خود چپو چلانے کی ضد کرنے لگا (اگرچہ وہ موٹر بوٹ تھی پر وہ بس ہنسی مذاق کر رہا تھا)۔ بوٹ جب جھیل کے درمیان پہنچی تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے معراج کا غصہ اور اداسی مکمل طور پر ختم کر دی۔
“علی بھائی! دیکھیں وہ پرندے!” معراج نے دور اشارہ کیا، اس کے لہجے میں اب پہلے جیسی چہک واپس آگئی تھی۔
“ہاں، اور اگر تم نے زیادہ ہل جل کی تو ہم سب ان پرندوں کے پاس پانی میں ہوں گے،” علی نے اسے ڈرایا تو رحال زور سے ہنسی۔
جھیل کے بیچوں بیچ، ڈھلتے سورج کے سائے میں، علی نے ایک بار پھر ان دونوں بہنوں کے درمیان توازن پیدا کر دیا تھا۔ وہ کبھی رحال سے چھیڑ چھاڑ کرتا تو کبھی معراج کو اپنی باتوں سے ہنساتا۔ جھیل کے پانی پر پڑتی سنہری روشنی ان کے چہروں پر بھی جھلملا رہی تھی۔
واپسی پر علی نے ان دونوں کو ان کی پسند کی آئس کریم کھلائی۔ گھر پہنچتے پہنچتے رات ہو چلی تھی، مگر ان تینوں کے دلوں میں اس دن کی یادیں نقش ہو گئی تھیں۔ رحال کے ذہن میں اب بھی علی کا وہ لمبا سجدہ محفوظ تھا، اور معراج کے پاس علی کے وہ لاڈ بھرے جملے تھے جو اس نے اسے منانے کے لیے کہے تھے۔۔۔۔۔

اسلام آباد کی وہ آخری صبح خاصی ہلچل بھری تھی۔ گھر کے ہر کونے میں پیکنگ کا شور اور لاہور جانے کی خوشی نمایاں تھی۔ سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہی سب بیدار ہو چکے تھے کیونکہ طویل سفر سامنے تھا۔
علی اپنے کمرے میں بیڈ پر اٹیچی کیس کھولے سامان ترتیب دے رہا تھا۔ ویسے تو وہ صرف دو جوڑے لے کر اسلام آباد آیا تھا، یہ سوچ کر کہ جلد واپس لوٹ جائے گا، مگر اب اسے خالہ اور کزنز کے ساتھ لاہور جانا تھا۔
اس نے الماری سے وہ نئے سوٹ نکالے جو رحال اور معراج اس کے لیے لائی تھیں۔ جب وہ دونوں ‘نوز پریسنگ’ کروانے گئی تھیں، تو سلیماں بیگم کے کہنے پر انہوں نے علی کے لیے بھی شاپنگ کی تھی۔ علی نے گہرے نیلے رنگ کا کرتہ ہاتھ میں تھام کر دیکھا، اس کے لبوں پر ایک ستائشی مسکراہٹ آگئی۔ اسے معلوم تھا کہ رحال کی پسند بہت نفیس ہے، اور یہ رنگ واقعی اس پر جچنے والا تھا۔ اس نے بڑے احترام سے وہ کپڑے پیک کیے، جیسے وہ محض لباس نہیں بلکہ ان کی محبت کا عکس ہوں۔
دوسری طرف رحال اور معراج کے کمرے میں الگ ہی سماں تھا۔ بیڈ پر کپڑوں اور جوتوں کا ڈھیر لگا تھا۔ اگرچہ بڑی شاپنگ انہیں لاہور جا کر اپنی نانی کے گھر سے کرنی تھی، جہاں زارا اور سارہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں، مگر پھر بھی لڑکیوں کی پیکنگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔
“معراج! یہ والا جوڑا رکھ لوں یا وہ پنک والا؟” رحال نے دو سوٹ دکھاتے ہوئے پوچھا۔
معراج، جو اپنے میک اپ بیگ کو ترتیب دے رہی تھی، سر اٹھا کر بولی، “دونوں رکھ لو رحال! وہاں نانی کے گھر اتنے فنکشنز ہوں گے، کپڑے کم ہی پڑ جائیں گے۔”
دونوں بہنوں کے دلوں میں ایک عجیب سا ارمان تھا—شادی کا گھر، ڈھولک کی تھاپ، اور سب کزنز کا اکٹھا ہونا۔ معراج اب کافی پرسکون لگ رہی تھی، شاید اس لیے کہ علی اب ان کے ساتھ ہی رہنے والا تھا۔
سلیماں بیگم اور زرینہ بیگم اپنے کمرے میں مصروف تھیں۔ وہ گھر کی بڑی تھیں، اس لیے انہیں صرف اپنے ہی نہیں بلکہ گھر کے مردوں کے کھانے پینے اور پیچھے رہ جانے والے انتظامات کی بھی فکر تھی۔
فرحان صاحب لاؤنج میں بیٹھے انہیں ہدایات دے رہے تھے۔ وہ، سلمان اور عثمان ابھی لاہور نہیں جا رہے تھے۔ ان کے آفس کی مصروفیات تھیں، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ شادی سے صرف دو دن پہلے پہنچیں گے۔ ابھی تو شادی میں دس دن باقی تھے، اس لیے یہ دس دن ان تینوں مردوں نے گھر میں اکیلے گزارنے تھے۔
“سلیماں! سب کا خیال رکھنا اور پہنچ کر فون ضرور کرنا،” فرحان صاحب نے کہا۔
“آپ فکر نہ کریں، علی ساتھ ہے نا، وہ سب سنبھال لے گا،” سلیماں بیگم نے اطمینان سے جواب دیا۔
باہر گاڑی کھڑی تھی اور علی سامان ڈگی میں رکھنے لگا تھا۔ اسلام آباد کی ٹھنڈی ہوا انہیں الوداع کہہ رہی تھی اور لاہور کی تپتی ہوئی خوشیاں ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ رحال نے ایک آخری نظر اپنے کمرے پر ڈالی اور دل ہی دل میں سوچا کہ یہ سفر اس کی زندگی میں کیا نئے موڑ لائے گا۔۔۔۔

اسلام آباد سے لاہور کی موٹروے پر سفید رنگ کی گاڑی بڑی روانی سے دوڑ رہی تھی۔ علی مصطفیٰ ڈرائیونگ سیٹ پر پوری مہارت سے اسٹیرنگ سنبھالے ہوئے تھا، جبکہ اس کے برابر والی سیٹ پر سلیماں بیگم اور پیچھے رحال، معراج اور زرینہ بیگم براجمان تھیں۔ پانچ گھنٹے کا یہ طویل سفر علی کی زندہ دلی کی وجہ سے محض چند منٹوں کا لگ رہا تھا۔
“ویسے خالہ! آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی ان دونوں بیٹیوں نے پچھلے دو گھنٹے سے جو ریڈیو اسٹیشن کھول رکھا ہے، اس پر اب تھوڑی دیر کے لیے اشتہارات آ جانے چاہئیں؟” علی نے آئینے میں پیچھے بیٹھی رحال اور معراج کو دیکھ کر شرارت سے کہا۔۔۔
علی کو خود اندازہ نہیں ہوا وہ ان دو دنوں میں ان کے ساتھ کتنا بولنے لگ گیا تھا ۔۔ پتہ ہی نہیں چلا تھا بچپن والا علی واپس آگیا تھا لیکن یہ روپ بس رحال کے لیے تھا ۔۔۔۔۔
اوہو علی بھائی! ہم تو بس شادی کے پلانز ڈسکس کر رہے ہیں۔ آپ کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟ آپ خاموشی سے ڈرائیونگ کریں،” معراج نے فوراً جواب دیا اور رحال کے کندھے سے لگ گئی۔
“تکلیف؟” علی نے ایک قہقہہ لگایا۔ “تکلیف تو ان بے چارے کزنز کو ہوگی جو ہمارے لاہور پہنچتے ہی تم دونوں کے فرمائشی پروگراموں کی زد میں آئیں گے۔ مجھے تو ابھی سے ان پر ترس آ رہا ہے۔”
آپ اپنا ترس اپنے پاس ہی رکھیں
رحال نے چھیڑتے ہوئے کہا۔ “ہمیں پتا ہے آپ کو جلن ہو رہی ہے کیونکہ لاہور جا کر آپ کی اہمیت تھوڑی کم ہو جائے گی، وہاں سب کزنز ہوں گے نا۔”
“میری اہمیت؟” علی نے مصنوعی حیرت سے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ “بی بی! علی مصطفیٰ جہاں کھڑا ہوتا ہے، اہمیت وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ تم دیکھنا، وہاں بھی تم دونوں کو میری ہی خوشامد کرنی پڑے گی جب تمہیں بازار جانے کے لیے ڈرائیور کی ضرورت ہوگی۔”
“ہمیں کسی کی خوشامد کرنے کی ضرورت نہیں، ہم خود گاڑی چلا لیں گی،” معراج نے سینہ تان کر کہا۔
علی نے فوراً بریک پر ہلکا سا پاؤں رکھا جیسے گاڑی رکنے والی ہو۔ “اچھا؟ تو پھر یہیں سے ٹرائی شروع کریں؟ میں پیچھے بیٹھتا ہوں اور تم گاڑی چلاؤ۔ پر ہاں، پہلے بتا دوں کہ موٹروے کی دیواریں بہت مضبوط ہیں، ان کا کچھ نہیں بگڑے گا، گاڑی کا سوچ لو۔”
اس بات پر پوری گاڑی قہقہوں سے گونج اٹھی۔ زرینہ اور سلیماں بیگم، جو خاموشی سے ان کا تماشہ دیکھ رہی تھیں، وہ بھی اپنی ہنسی نہ روک سکیں۔
“علی! بس کر دو اب، بچوں کو اتنا بھی تنگ نہ کرو،” زرینہ بیگم نے ہنستے ہوئے اپنے بیٹے کو ٹوکا۔
“امی! یہ بچے کہاں ہیں؟ یہ تو ‘ٹربو انجن’ ہیں، ایک بار شروع ہو جائیں تو رکنے کا نام نہیں لیتے۔ رحال کو تو دیکھیں، جیسے ہی لاہور کا نام آیا ہے، اس کے دماغ میں چوڑیاں اور مہندی کے ڈیزائن گھومنے لگے ہیں۔”
رحال نے پیچھے سے علی کی سیٹ کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔ “آپ بہت برے ہیں ۔۔۔
میں نے تو سوچا تھا آپ کو اپنے گروپ میں شامل کروں گی، پر اب آپ اکیلے ہی رہیے گا۔”
“ارے نہیں نہیں! گروپ سے باہر نہ نکالنا، ورنہ میں واپسی کا ٹکٹ کٹوا لوں گا،” علی نے ہنستے ہوئے ہار مان لی۔
راستے میں بھیرہ کے مقام پر رک کر انہوں نے چائے پی اور ڈھیر سارے سموسے کھائے۔ پورے سفر میں علی نے کبھی معراج کے بالوں کے اسٹائل کا مذاق اڑایا تو کبھی رحال کی شاپنگ کی لسٹ پر تبصرہ کیا۔ پانچ گھنٹے کب گزرے، کسی کو پتا ہی نہیں چلا۔ جیسے ہی لاہور کی حدود شروع ہوئیں اور شہر کی مانوس خوشبو اور رونق نظر آئی، سب کے چہروں پر ایک نئی چمک آگئی۔
علی نے گاڑی کی اسپیڈ تھوڑی کم کی اور مسکرا کر آئینے میں دونوں بہنوں کو دیکھا۔ “خوش آمدید ٹو لاہور لیڈیز! اب تیار ہو جاؤ، کیونکہ اصل جنگ تو اب شروع ہونے والی ہے۔”۔۔۔

لاہور کی سڑکوں پر دوڑتی گاڑی جب بالآخر نانی کے پرانے اور کشادہ گھر کے سامنے رکی، تو وہاں کا منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ گھر کے صدر دروازے پر گیندے کے پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں اور اندر سے ڈھولک کی تھاپ کے ساتھ لڑکیوں کے گانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
جیسے ہی علی نے گاڑی روکی، زارا اور سارہ بھاگتی ہوئی باہر آئیں اور اپنی پھو پھو زاد بہنوں سے گلے ملنے لگیں۔ ان کے پیچھے ہی ان کے دو بھائی، ارسلان اور شان بھی نمودار ہوئے۔ ارسلان (جو رحال سے بڑا تھا) خاصا خوش شکل اور پُر اعتماد تھا، جبکہ شان (جو معراج سے چھوٹا تھا) کافی شریر اور باتوں کا دھنی تھا۔۔۔۔۔
گاڑی سے سامان نکالتے ہوئے ارسلان فوراً رحال کے قریب پہنچا۔ “رحال! یقین نہیں آ رہا کہ یہ تم ہو،” اس نے ایک خاص انداز سے مسکراتے ہوئے کہا۔ “اسلام آباد کی ہواؤں نے تو تمہیں واقعی کسی پری جیسا بنا دیا ہے۔ ویسے اتنی خوبصورتی کے ساتھ لاہور میں گھومنا خطرناک ہو سکتا ہے، کہو تو میں تمہارا پرسنل باڈی گارڈ بن جاؤں؟”
رحال اُس کی حرکت پر ہنس دی وہ ہمیشہ سے ایسا تھا ، مگر علی، جو ڈگی سے سامان نکال رہا تھا، اس کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ اس کے ماتھے پر فوراً بل پڑے اور اس نے ارسلان کو ایک تیکھی نظر سے دیکھا۔۔۔
ارسلان میاں! باڈی گارڈ کی ضرورت تو انہیں ہوتی ہے جو خود کی حفاظت نہ کر سکیں،” علی نے بیچ میں لقمہ دیا اور ارسلان کے کندھے پر زور سے ہاتھ رکھا۔ “رحال کے ساتھ میں ہوں نا، تم بس یہ اٹیچی کیس اٹھانے کی پریکٹس کرو، سنا ہے تمہارے مسلز کچھ ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔”
ارسلان نے ہنستے ہوئے جواب دیا، “علی بھائی! آپ تو ابھی سے پہرہ دینے لگے۔ میں تو بس رحال کی تعریف کر رہا تھا۔”
“تعریف دور سے بھی ہو سکتی ہے ارسلان، اتنے قریب آؤ گے تو نظر لگ جائے گی،” علی نے طنزاً کہا اور رحال کا بیگ خود اٹھا کر آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
دوسری طرف چھوٹا کزن شان معراج کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ “ویسے معراج ! آپ کے لیے میں نے ایک خاص پلان بنایا ہے۔”
معراج نے آنکھیں سکوڑ کر پوچھا، “کون سا پلان شان؟”
“یہی کہ شادی کے سارے فنکشنز میں آپ میرے ساتھ ڈانس پریکٹس کریں گی۔ آخر میری جوڑی بھی تو کسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ ہونی چاہیے نا،” شان نے شرارت سے آنکھ ماری۔
معراج، جو علی کے ارسلان کو دیے گئے جوابات سن کر اندر ہی اندر خوش ہو رہی تھی، ہنس کر بولی، “شان! تم ابھی چھوٹے ہو، جاؤ جا کر زارا کی مدد کرو۔”۔۔۔
اندر لاؤنج میں سب بیٹھ کر چائے پی رہے تھے، مگر علی کی نظریں ارسلان پر جمی تھیں جو بار بار رحال سے باتیں کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا۔
“رحال، تمہیں پتا ہے یہاں نیا مال کھلا ہے؟ کل ہم سب وہیں چلیں گے،” ارسلان نے بڑے مان سے کہا۔
علی نے فوراً جواب دیا، “بالکل چلیں گے! میں نے بھی اپنی گاڑی کی سروس کروانی ہے، تم سب کو وہیں ڈراپ کر دوں گا اور خود وہیں بیٹھا رہوں گا تاکہ تم لوگوں کو واپسی پر رکشہ نہ کرنا پڑے۔”
سارہ نے چھیڑتے ہوئے کہا، “علی بھائی! آپ تو ایسے کر رہے ہیں جیسے رحال اور معراج پہلی بار لاہور آئی ہوں۔”
“پہلی بار نہیں آئی ہیں سارہ، پر اب ‘شکاری’ بڑھ گئے ہیں نا، تو احتیاط لازم ہے،” علی نے مسکرا کر ارسلان کی طرف دیکھا، جس کا مطلب ارسلان بخوبی سمجھ گیا تھا۔۔۔۔۔
ویسے علی بھائی آپ کب سے اتنا بولنے لگ گئے ۔۔۔ اپ تو بہت ہی خاموش طبیعت کی مالک ہیں ۔۔ ذارا نے کہا ۔۔ بس سوچا کبھی کبھی عادتوں کو بدل لینا چاہیے ۔۔۔۔
رحال نے خاموشی سے علی کی طرف دیکھا اور اس کے چہرے پر چھائی وہ ‘محبت بھری جلن’ دیکھ کر اسے ایک عجیب سا سکون ملا۔ اسے احساس ہوا کہ لاہور میں اسے ارسلان کی فلرٹنگ سے زیادہ علی کی یہ ‘حفاظت’ عزیز ہے۔
رات کی محفل جمی تھی اور پورا گھر مہمانوں اور کزنز کے قہقہوں سے گونج رہا تھا۔ ارسلان نے جیسے ہی دیکھا کہ رحال اکیلی صوفے پر بیٹھی موبائل دیکھ رہی ہے، وہ کسی منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح موقع پا کر اس کے ساتھ والی جگہ پر آ بیٹھا۔
“رحال، تمہیں پتا ہے؟ لاہور میں ایک بڑی مشہور جگہ ہے جہاں کی کافی پی کر انسان اسلام آباد کی سردی بھول جاتا ہے۔ اگر کہو تو کل شام…” ارسلان ابھی اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پایا تھا کہ ایک زوردار ‘دھپ’ کی آواز آئی۔۔۔
علی مصطفیٰ نے ایک کرسی گھسیٹی اور عین ان دونوں کے درمیان لا کر رکھ دی، جیسے کوئی غیر مرئی دیوار کھڑی کر دی ہو۔
“اوہ ارسلان! کافی کی بات کر رہے ہو؟ زبردست! ویسے میرا بھی گلا کچھ خراب لگ رہا ہے، تو کل ہم تینوں چلیں گے۔ کیوں رحال؟” علی نے بڑے معصومانہ انداز میں رحال کی طرف دیکھا، مگر اس کی آنکھوں میں ارسلان کے لیے واضح ‘وارننگ’ تھی۔
ارسلان نے تھوڑا کھسیانا ہو کر کہا، “علی بھائی، وہ… میں سوچ رہا تھا رحال کو تھوڑا شہر دکھا دوں، آپ تو ویسے بھی یہاں بور ہو جائیں گے۔”
“بور؟ میں؟” علی نے حیرت کا ایسا ڈرامہ کیا کہ رحال کو ہنسی آ گئی۔ “ارسلان میاں، لاہور میری رگوں میں دوڑتا ہے۔ اور رہی بات رحال کو شہر دکھانے کی، تو بھائی! اسے نقشے کی ضرورت ہے، گائیڈ کی نہیں۔ اور نقشہ میرے موبائل میں اپڈیٹڈ ہے۔ تم بس اپنی پڑھائی پر توجہ دو، سنا ہے تمہارے سپلی آنے کے چانسز ہیں؟”
وہ سپلی نہیں تھی علی بھائی، وہ بس ایک پیپر میں ایشو تھا،” ارسلان نے دفاعی انداز اپناتے ہوئے کہا۔
“ایشو ہی تو نہیں ہونے دینا ہم نے،” علی نے تیکھے لہجے میں مگر مسکرا کر کہا۔ “اسی لیے تو میں سائے کی طرح ساتھ ہوں۔ اب دیکھو نا، تم یہاں رحال کو کافی کے خواب دکھا رہے ہو اور وہاں باہر تمہارا چھوٹا بھائی شان، معراج کا سر کھا رہا ہے۔ جاؤ، جا کر اپنے بھائی کو سنبھالو، کہیں وہ معراج کے ہاتھوں پٹ نہ جائے۔”
رحال نے ہنستے ہوئے لقمہ دیا، “ارسلان، علی صحیح کہہ رہے ہیں ۔۔ویسے بھی مجھے اکیلے کافی پینا پسند نہیں، جب تک پوری پلٹن ساتھ نہ ہو۔”
ارسلان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ “علی بھائی، آپ بڑے سخت ‘باؤنڈری لائن’ لگاتے ہیں۔ بندہ تھوڑا سا فلرٹ بھی نہ کرے؟”
“فلرٹ؟” علی نے آنکھیں سکوڑ کر اسے دیکھا۔ “ارسلان، تم نے شایدسنا نہیں؟ ہم جس چیز کی حفاظت کرتے ہیں، اس کی طرف دیکھنے والے کو پہلے ہم سے ‘این او سی’ لینا پڑتا ہے۔ اور تمہاری فائل تو ابھی پروسیسنگ میں بھی نہیں آئی۔”
“اچھا بابا ہار مانی!” ارسلان ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ “آپ کے ہوتے ہوئے تو رحال سے بات کرنا ایسا ہے جیسے بارڈر کراس کرنا۔ میں جا رہا ہوں، کم از کم شان کی مدد ہی کر دوں۔”
ارسلان کے جاتے ہی علی نے سکون کا سانس لیا اور رحال کی طرف مڑا۔ “دیکھا؟ اسے کہتے ہیں ‘فلڈنگ’۔ ایک بھی رن نہیں لینے دیا میں نے۔”
رحال کھلکھلا کر ہنس پڑی۔بیچارہ ارسلان تو بس باتیں ہی کر رہا تھا۔”
“باتوں سے ہی تو بات بگڑتی ہے رحال،” علی نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ “اور میں نہیں چاہتا کہ میری موجودگی میں کوئی تمہارا سر کھائے۔۔۔
کیوں؟؟ اس نے علی کو دیکھ کے پوچھا ۔۔ علی گربرایا ۔۔۔ و۔۔ وہ تم میری کزن ہو نہ اس لیے۔ ۔۔۔
رحال نے خاموشی سے علی کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھے۔ اسے پتا تھا کہ یہ صرف ‘حفاظت’ نہیں تھی، یہ کچھ اور تھا جس کا اعتراف علی ابھی زبان سے نہیں کر رہا تھا، مگر اس کی ‘تکرار’ سب کچھ بیان کر رہی تھی۔۔۔۔۔
رات کی سیاہی میں نانی کا صحن برقی قمقموں اور گیندے کے پھولوں کی مہک سے مہک رہا تھا۔ ڈھولک کی تھاپ پورے گھر میں گونج رہی تھی اور ہر طرف ہنسی مذاق اور گہما گہمی تھی۔ یہ مہندی کی پہلی باقاعدہ ڈھولکی تھی جس کا سب کو شدت سے انتظار تھا۔
علی مصطفیٰ نے آج سفید کلف لگی شلوار قمیض زیب تن کر رکھی تھی، جس کے ساتھ اس نے سیاہ چمڑے کی کلاسک پشاوری چپل پہنی تھی۔ سفید رنگ اس کی گندمی رنگت اور سنجیدہ شخصیت پر بلا کا جچ رہا تھا۔ وہ جب چلتا تو اس کے قد و قامت اور وقار سے ایک رعب جھلکتا تھا۔ اس نے اپنی آستینیں تھوڑی اوپر چڑھا رکھی تھیں، جو اسے ایک لاپرواہ مگر دلکش لُک دے رہی تھیں۔۔۔۔
دوسری طرف رحال کسی خواب جیسی لگ رہی تھی۔ اس نے ہلکے زرد (Lemon) رنگ کا کامدار کرتا اور چوڑی دار پاجامہ پہن رکھا تھا، جس کے ساتھ اس نے کٹی ہوئی نیٹ کا دوپٹہ سرسری طور پر کندھے پر ڈال رکھا تھا۔ اس کا میک اپ بہت ہلکا اور قدرتی تھا—بس آنکھوں میں گہرا کاجل، تھوڑی سی مسکارا کی تہہ اور ہونٹوں پر ہلکی گلابی لپ گلوس۔ بالوں کو اس نے ایک طرف کر کے ڈھلا سا جوڑا بنایا ہوا تھا جس میں موتیوں کی ایک کلی ٹکی ہوئی تھی۔ وہ جب مسکراتی تو علی کی نظریں وہیں ٹھہر جاتیں۔۔۔
معراج نے فیروزی رنگ کا خوبصورت لباس پہنا تھا، مگر اس کے چہرے پر تھوڑی بے چینی تھی۔ وہ ڈھولک کے پاس بیٹھی تھی جہاں شان اس کے سائے کی طرح چپکا ہوا تھا۔
“معراج ! آپ اس رنگ میں بالکل کسی سمندری شہزادی جیسی لگ رہی ہیں، بس کمی ہے تو ایک ادنیٰ غلام کی،
اور وہ میں حاضر ہوں،” شان نے شرارت سے آنکھ ماری۔
معراج نے بیزاری سے اسے دیکھا۔ “شان! تم جا کر ذرا مہمانوں کو پانی پلاؤ گے؟ میرا سر نہ کھاؤ۔”
اسی وقت علی وہاں سے گزرا۔ شان کو معراج کے اتنا قریب دیکھ کر وہ رکا اور ہنستے ہوئے بولا، “اوئے شان! باز آ جا چھوٹے، میں تجھے بڑے بھائی ہونے کے ناطے مشورہ دے رہا ہوں کہ اس سے دور ہی رہ۔ یہ جتنی پیاری لگ رہی ہے نا، غصے میں اتنی ہی خطرناک ہے۔ ذرا سی بات ہوئی نہیں اور اس نے تجھے کچا کھا جانا ہے۔ پھر نہ کہنا کہ علی بھائی نے بتایا نہیں تھا۔”
شان نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی، “اوہو علی بھائی! اتنا خطرہ؟ پھر تو مجھے واقعی انشورنس کروا لینی چاہیے۔” معراج علی کی بات پر مسکرا تو دی، مگر اس کے دل میں وہی ہوک اٹھی کہ کاش علی یہ سب مذاق میں نہیں، بلکہ حق سے کہہ رہا ہوتا۔۔۔
زارا اور سارہ، جو اس محفل کی اصل رونق تھیں، سرخ اور سنہری کامدار جوڑوں میں ملبوس تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں گہری مہندی لگی تھی اور وہ دونوں مسلسل اپنی کزنز کے ساتھ گانے گانے میں مصروف تھیں۔ زارا کی ہنسی پورے صحن میں گونجتی تو سارہ شرما کر اپنی بہن کو ٹوکتی۔ ان دونوں کی خوشی دیکھ کر پورا خاندان نہال ہو رہا تھا۔۔۔۔
ڈھولک کی تھاپ تیز ہوئی تو رحال نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، اور علی، جو دور کھڑا ارسلان پر نظر رکھے ہوئے تھا، لاشعوری طور پر رحال کی تال پر سر ہلانے لگا۔ ارسلان اب بھی دور سے رحال کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا، مگر علی کی موجودگی ایک ایسی سرحد تھی جسے پار کرنے کی ہمت وہ آج نہیں کر پا رہا تھا۔
فضا میں محبت، رقابت اور خوشی کے رنگ ایسے گھلے ملے تھے کہ ہر لمحہ ایک نئی کہانی سنا رہا تھا۔ رحال نے ایک لمحے کے لیے نظریں اٹھائیں تو سامنے علی کو خود کو دیکھتے ہوئے پایا۔ سفید لباس میں وہ اسے دنیا کا سب سے معتبر مرد لگا۔ اس نے جلدی سے نظریں جھکا لیں، مگر اس کے دل کی دھڑکنیں ڈھولک کی تھاپ سے بھی تیز ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔۔

ڈھولکی کی محفل اب اپنے عروج پر تھی، گانوں اور تالیوں کا شور فضا میں رچا ہوا تھا۔ اس ہنگامے کے درمیان رحال تھوڑی دیر کے لیے سانس لینے کے لیے صحن کے دور افتادہ کونے میں لگے ایک بڑے سے پیڑ کے سائے تلے جا کھڑی ہوئی، جہاں روشنی ذرا مدھم تھی۔
علی، جس کی نظریں مسلسل رحال کا تعاقب کر رہی تھیں، موقع پا کر دھیرے سے اس کے پیچھے جا پہنچا۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس علی اس وقت کسی خواب ناک کردار کی طرح لگ رہا تھا۔ رحال نے محسوس کیا کہ کوئی اس کے قریب ہے، اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے علی کو پا کر اس کے دل کی دھڑکن ایک دم بے ترتیب ہو گئی۔
“تھک گئیں؟” علی نے بہت نرمی سے پوچھا۔ اس کی آواز میں وہ رعب نہیں تھا جو وہ ارسلان کو دکھاتا تھا، بلکہ ایک ایسی مٹھاس تھی جو رحال کو اندر تک بھگو گئی۔
“نہیں۔۔۔ بس تھوڑا شور زیادہ تھا تو یہاں
آگئی،” رحال نے نظریں جھکا کر اپنے دوپٹے کے کونے کو انگلیوں پر لپیٹتے ہوئے کہا۔
علی ایک قدم اور قریب ہوا۔ فضا میں خاموشی چھا گئی، صرف دور سے آتی ڈھولک کی مدھم تھاپ سنائی دے رہی تھی۔ علی نے گہرا سانس لیا، آج اس کے دل میں جذبات کا طوفان تھا جو زبان تک آنے کے لیے بے چین تھا۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ رحال، اس لباس میں، اس مہندی کی مہک میں، تم مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی سچائی لگ رہی ہو۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ ارسلان تو کیا، میں دنیا کے کسی بھی شخص کو تمہاری طرف دیکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ تم صرف میری ہو۔
رحال۔۔۔” علی نے اس کا نام اتنے مان سے لیا کہ رحال کا دل لرز گیا۔ اس نے پلکیں اٹھا کر علی کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں آج صرف حیا نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا اقرار تھا جسے لفظوں کی ضرورت نہیں تھی۔ علی نے اپنے لب کھولے، جیسے وہ ابھی سب کچھ کہہ دے گا، اس کا ہاتھ لاشعوری طور پر رحال کی طرف بڑھا۔۔۔
لیکن عین اسی لمحے، جب محبت کا اعتراف علی کے لبوں تک پہنچ چکا تھا، ایک زوردار آواز نے سحر توڑ دیا۔
“اوہو! تو یہاں چھپ کر مشورے ہو رہے ہیں؟” ارسلان بڑے فاتحانہ انداز میں ہنستا ہوا ان کے پاس آ پہنچا۔ اس کے پیچھے شان، زارا اور سارہ بھی تھے۔
علی نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ اس کے چہرے پر ایک دم وہی پرانا سنجیدہ ماسک آ گیا۔
“چلیں چلیں علی بھائی! رحال! اب دیر ہو رہی ہے،” ارسلان نے ان دونوں کے درمیان آ کر رحال کا بازو پکڑنے کی کوشش کی مگر علی کی تیکھی نظر دیکھ کر رک گیا۔ “نانی بلا رہی ہیں، وہ کہہ رہی ہیں کہ اب سب مل کر کھانے کی میز پر آئیں ورنہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اور زارا کہہ رہی ہے کہ جب تک علی بھائی اور رحال نہیں آئیں گے، وہ لڈو تقسیم کرنا شروع نہیں کرے گی۔”
“ہم بس آ ہی رہے تھے ارسلان، تم چلو،” علی نے کزازی لہجے میں کہا۔
“نہیں نہیں! میں آپ دونوں کو اکیلے چھوڑ کر نہیں جا رہا، پتا نہیں آپ لوگ یہاں کیا کھچڑی پکا رہے ہیں،” ارسلان نے شرارت سے کہا اور رحال کی طرف مڑ کر بولا، “رحال، چلو ناں! تم نے ابھی تک میری وہ نئی تصویر نہیں دیکھی جو میں نے کزن گروپ کے لیے لی ہے۔”
ارسلان زبردستی ان دونوں کو ساتھ لے کر محفل کے بیچ میں لے آیا۔ علی خاموشی سے اس کے پیچھے چل رہا تھا، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ارسلان کو وہیں سے کہیں دور بھیج دے۔ اس نے ایک نظر رحال پر ڈالی، جس کے چہرے پر ابھی بھی وہی شرمیلی مسکراہٹ تھی جو علی کی ادھوری بات کی وجہ سے آئی تھی۔ علی کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی؛ اسے دکھ تھا کہ وہ اعترافِ محبت جو اس کی زبان پر تھا، ارسلان کی آمد نے ایک بار پھر نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ محبت نے آج دستک تو دی تھی، مگر دیوار کے پار ارسلان کھڑا تھا۔۔۔۔
اس نے ارادہ بدل دیا ۔۔۔ خیال ایا وہ کیا کہنے جا رہا تھا اگر سامنے سے انکار ملا تھا ۔۔۔
اللہ ۔۔۔ میں۔نے ایسا کچھ نہیں کہنا اب ۔۔ وہ کزن ہے میری اور کچھ نہیں ۔۔۔۔


لاہور کی یہ صبح خاصی ہنگامہ خیز تھی۔ نانی کے بڑے سے گھر میں ہر طرف گہما گہمی تھی، کہیں برتنوں کے بجنے کی آوازیں تھیں تو کہیں کزنز کی ہنسی اور لڑائی جھگڑے۔ سورج کی کرنیں جب صحن میں لگے نیم کے درخت سے چھن کر لاؤنج میں آئیں تو وہاں ناشتے کا دسترخوان سج چکا تھا۔۔۔۔
علی مصطفیٰ سب سے پہلے تیار ہو کر لاؤنج میں پہنچ چکا تھا۔ آج اس نے گہرے بھورے رنگ کا کرتا پہنا تھا، بال ابھی گیلے تھے اور چہرے پر وہی مخصوص وقار۔ وہ کرسی پر بیٹھا اخبار دیکھ رہا تھا، مگر اس کی نظریں بار بار سیڑھیوں کی طرف اٹھ رہی تھیں، جہاں سے رحال کو آنا تھا۔
تھوڑی دیر میں رحال نیچے آئی۔ نیلا سادہ سا سوٹ، بالوں کی لمبی چٹیا اور بغیر کسی میک اپ کے وہ صبح کی روشنی میں بہت تروتازہ لگ رہی تھی۔ علی نے اسے دیکھا اور ایک لمحے کے لیے اخبار اس کے ہاتھ میں ساکت ہو گیا۔ رحال نے بھی علی کو دیکھا اور اسے کل رات کا وہ ادھورا لمحہ یاد آگیا جب علی کچھ کہنے والا تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں، مگر اس سے پہلے کہ کوئی بات ہوتی، ‘طوفان’ داخل ہوا۔۔

صبح بخیر سب کو! اور خاص طور پر میری فیورٹ کزن رحال کو،” ارسلان بڑے سٹائل سے بال بناتا ہوا آیا اور رحال کے عین برابر والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
علی نے اخبار زور سے میز پر رکھا۔ “ارسلان! تمہارے نزدیک فیورٹ کی تعریف کیا ہے؟ جو تمہیں صبح صبح ناشتے میں پراٹھا رول بنا کر دے؟”
ارسلان نے قہقہہ لگایا۔ “نہیں علی بھائی! جو دیکھنے میں اسلام آباد کی صبح جیسی ٹھنڈی اور پیاری ہو۔ کیوں رحال؟” اس نے رحال کو آنکھ ماری۔
رحال نے چائے کی پیالی سنبھالتے ہوئے دھیمے سے کہا، “ارسلان، تم ناشتے پر توجہ دو، ورنہ پراٹھا ٹھنڈا ہو جائے گا۔”
“دیکھا علی بھائی؟ کتنا خیال ہے اسے میرا،” ارسلان نے سینہ تان کر کہا۔
علی نے ایک کباب اٹھایا اور ارسلان کی پلیٹ میں ‘دھپ’ سے رکھا۔ “یہ کھاؤ ارسلان، اس میں مرچیں زیادہ ہیں، شاید تمہاری زبان تھوڑی دیر کے لیے لگام پا لے۔”

دوسری طرف شان نے معراج کے سامنے بیٹھ کر اس کا آملیٹ اپنی طرف کھسکا لیا۔ “معراج ! یہ آپ کے لیے بہت ہیوی ہے، میں آپ کی ڈائیٹ کا خیال رکھ رہا ہوں۔”۔۔۔
معراج، جس کی نظریں مسلسل علی پر تھیں جو رحال اور ارسلان کے درمیان ہو رہی گفتگو پر کڑھ رہا تھا، اس نے بیزاری سے شان کو دیکھا۔ “شان! اگر تم نے میرا ناشتہ واپس نہیں کیا تو میں نے نانی سے تمہاری کل والی ویڈیو کی شکایت کر دینی ہے جو تم ڈانس پریکٹس کے نام پر بنا رہے تھے۔”
شان نے فوراً آملیٹ واپس کیا اور علی کی طرف دیکھ کر بولا، “علی بھائی! بچائیں مجھے، آپ کی یہ ‘بہن’ تو بالکل پولیس افسر بنتی جا رہی ہے۔”
علی نے مسکرا کر معراج کو دیکھا۔ “معراج، اسے بخش دو، یہ ابھی چھوٹا ہے۔ پر ہاں، اگر یہ زیادہ تنگ کرے تو بتانا، اسے پھر میں اپنے طریقے سے سمجھاؤں گا۔”
میز کے دوسرے کونے پر سلیماں اور زرینہ بیگم بیٹھی چائے پی رہی تھیں اور بچوں کی ان حرکتوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔
“دیکھ رہی ہو سلیماں؟” زرینہ بیگم نے سرگوشی کی۔ “ارسلان تو بالکل ہاتھ دھو کر رحال کے پیچھے پڑ گیا ہے، اور علی کا چہرہ دیکھو، جیسے ابھی ارسلان کو کچا چبا جائے گا۔”
سلیماں بیگم نے ایک گہرا سانس لیا۔ “ہاں باجی، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ لڑکے کہیں شادی کے فنکشن میں آپس میں ہی نہ بھڑ جائیں۔ علی رحال کے معاملے میں بہت پوزیسو ہے۔”
ناشتے کے آخر میں ارسلان نے کہا، “رحال، آج ہم سب انارکلی بازار جا رہے ہیں شاپنگ کے لیے، تم میرے ساتھ میری بائیک پر چلنا، لاہور کی ہواؤں کا مزہ آئے گا۔”
علی نے اطمینان سے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور بولا، “ارسلان! تم اپنی بائیک پر شان کو بٹھاؤ۔ رحال اور معراج میرے ساتھ گاڑی میں جائیں گی۔ لاہور کی ہواؤں میں مٹی بہت ہے، میں نہیں چاہتا کہ میری کزنز کی طبیعت خراب ہو۔ اور ہاں، گاڑی میں اے سی بھی ہے اور میری ‘حفاظت’ بھی۔”
ارسلان موں بنا کے ره گیا ۔۔۔۔۔۔
ناشتے کی اس چہل پہل سے دور، علی مصطفیٰ اپنے کمرے میں آ گیا۔ اس نے کمرے کا دروازہ ہلکا سا بند کیا اور بیڈ پر ٹیک لگا کر اپنا لیپ ٹاپ آن کر لیا۔۔۔
ابھی اس نے ای میلز چیک کرنا شروع ہی کی تھیں کہ اس کے آئی فون کی اسکرین روشن ہوئی اور اس پر ‘ہانیہ اسسٹنٹ’ کا نام چمکنے لگا۔ علی نے ایک گہرا سانس لیا اور کال ریسیو کی
ہاں کہو ۔۔۔۔۔؟
کوئی ارجنٹ بات ہے؟” علی کا لہجہ پیشہ ورانہ اور سپاٹ تھا۔
“تم تو لاہور واپس ا کر مجھے بھول ہی گئے ہو ۔۔۔۔ ایسا بھی کیا شادی میں مگن ہو گئے ہو کہ افس نہیں ا سکتے۔۔
دوسری طرف سے ہانیہ کی کھنکتی ہوئی آواز آئی، جس میں کام سے زیادہ اپنائیت اور ہلکی سی شوخی تھی۔ ” تمھارے بغیر آفس بالکل سونا سونا لگ رہا ہے۔۔
علی نے نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جمائے رکھیں اور بالکل نظر انداز کرتے ہوئے کہا، “ہانیہ، میں یہاں فیملی فنکشن میں ہوں اور کافی مصروف ہوں۔ براہِ کرم کام کی بات کرو ۔۔۔۔
ہانیہ نے دوسری طرف ایک سرد آہ بھری۔ وہ علی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی، مگر علی ہمیشہ اس کے گرد ایک فولادی دیوار کھڑی کر دیتا تھا۔۔۔
تم ہمیشہ اتنے ‘سنجیدہ’ کیوں رہتے ہو ؟ تھوڑی تعریف تو کر دیا کرو کہ تمہارے بغیر ہم کام کیسے سنبھال رہے ہیں،” ہانیہ نے پھر سے فلرٹ کرنے کی کوشش کی۔ “ویسے آج میں نے وہی پرفیوم لگایا ہے جو تم نے ڈیزائن کیا تھا، سب کہہ رہے ہیں میں بہت اچھی لگ رہی ہوں، کاش تم یہاں ہوتے…”
میرا وقت ضائع نہ کرو ۔۔۔ اور جو نیا فارمولا ہم نے ‘فرانسیسی لیوینڈر’ کے ساتھ تیار کیا تھا، اس کے سیمپلز کہاں تک پہنچے؟”

ہانیہ سمجھ گئی کہ علی اس وقت کسی بھی قسم کی فضول بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہے
بزنس کی اپڈیٹ یہ ہے کہ جو نیا پرفیوم ہے، اس کی بوتلوں کی ڈیزائننگ فائنل ہو گئی ہے۔ بس تمھارے کے دستخط کا انتظار ہے تاکہ ہم پروڈکشن شروع کر سکیں۔”
ٹھیک ہے، مجھے تمام فائلز ای میل کر دو، میں ابھی چیک کر لوں گا۔ اور سنو، اگلی بار صرف کام کے لیے فون کرنا،” علی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے جیسا تم کہو۔۔۔
ہانیہ نے بوجھل دل کے ساتھ کال ختم کر دی۔
علی نے فون میز پر رکھا اور سامنے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ اس کے ذہن میں ایک پل کے لیے رحال کا خیال آیا۔ ہانیہ جیسی لڑکیاں اسے ہزاروں ملی تھیں، جو اس کی کامیابی اور شخصیت پر مرتی تھیں، مگر رحال کی وہ خاموش حیا اور اس کی معصومیت علی کے لیے کسی قیمتی عطر کی طرح تھی، جس کی خوشبو وہ کبھی کھونا نہیں چاہتا تھا۔
اس نے دوبارہ کام پر توجہ مرکوز کر لی، مگر اب اس کے چہرے پر ہانیہ کی باتوں والی سختی نہیں تھی، بلکہ رحال کے تصور سے ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

وقت کا پتہ ہی نہیں چلا کیسے بیت گیا صبح سے رات ہو گئی تھی۔۔۔ علی کو واپس لاہور ائے ہوئے چار دن ہو گئے تھے ۔۔

اسلام آباد کی اس خاموش دوپہر میں قیسن اپنے کمرے میں بیڈ پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔ سامنے لیپ ٹاپ کھلا تھا، مگر اس کی نظریں موبائل کی اسکرین پر جمی تھیں، جہاں وہ بار بار رحال کا “لاسٹ سین” (Last Seen) چیک کر رہا تھا۔
“عجیب بات ہے، یہ لوگ لاہور پہنچ کر تو بالکل ہی غائب ہو گئے ہیں،” قیسن نے بڑبڑا کر کروٹ بدلی۔ “وہ علی مصطفیٰ تو خود کو پتا نہیں کیا سمجھتا ہے۔ جیسے رحال کا باڈی گارڈ نہیں، اس کا سایہ ہو۔”
قیسن کے ذہن میں بار بار وہی منظر گھوم رہا تھا جب علی نے اسے گھر میں ذلیل کیا تھا۔ اسے رحال پر غصہ کم اور علی پر زیادہ آ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ علی کے ہوتے ہوئے وہ کبھی رحال کے قریب نہیں جا پائے گا۔
اس نے ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا موبائل اٹھایا اور رحال کو میسج ٹائپ کرنے لگا:
“سنا ہے لاہور کی رونقوں میں اسلام آباد کے دوستوں کو بھولنے کی روایت پرانی ہے
لیکن میں سوچ رہا ہوں کیوں نا میں تمہاری کزن کی شادی میں شرکت کروں۔۔۔۔
میسج بھیج کر اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور خود سے باتیں کرنے لگا۔ “رحال تو شاید جواب نہ دے، پر علی کو اگر پتا چلا تو اس کا بلڈ پریشر ضرور ہائی ہو جائے گا، اور یہی تو میں چاہتا ہوں۔”
قیسن کا ارادہ صاف تھا۔ وہ رحال کو پسند تو کرتا تھا، مگر اس کی پسند میں سنجیدگی سے زیادہ ایک ضدی پن تھا کہ وہ علی جیسے “سخت گیر” انسان کو ہرا کر رحال کی توجہ حاصل کرے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا اسے بھی ایک چکر لاہور کا لگانا چاہیے؟
“اگر میں وہاں پہنچ گیا تو مزہ آئے گا،” اس نے ہنستے ہوئے سوچا۔ “مہندی کا فنکشن، ڈھولک کی تھاپ اور میرا وہاں اچانک پہنچ جانا۔۔۔ علی مصطفیٰ کا چہرہ دیکھنے والا ہوگا!”
قیسن کی فطرت میں جو “کارٹون پن” اور چالاکی تھی، وہ اب ایک نئی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ اسے دعوت دی گئی ہے یا نہیں، اسے بس وہاں پہنچ کر علی کو تڑپانا تھا۔۔۔۔
لیکن اگر علی نے نکل دیا گھرسے تو ۔۔۔
یہ سوچ کے قیسن خاموش ہو گیا وہاں جانا صحیح نہیں تھا ۔۔۔۔
رحال کا موبائل میز پر پڑا تھا اور وہ خود کچن میں خالہ کی مدد کر رہی تھی۔ علی، جو اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آیا تھا، اس کی نظر اچانک رحال کے موبائل پر پڑی جو لگاتار وائبریٹ کر رہا تھا۔ اسکرین پر قیسن کا نام اور میسج کا کچھ حصہ واضح نظر آ رہا تھا۔
علی کے ماتھے پر غصے کی لہر دوڑ گئی۔ “یہ لڑکا باز نہیں آئے گا!” اس نے بڑبڑا کر موبائل اٹھایا۔ قیسن کا طنزیہ میسج پڑھ کر علی کا خون کھول اٹھا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہیں کھڑے کھڑے جواب ٹائپ کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔

قیسن صاحب! لاہور کی روایتیں ہوں یا اسلام آباد کے اصول، بدتمیز اور بن بلائے مہمانوں کے لیے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔
آئندہ میسج کرنے سے پہلے اپنی اوقات اور ہمارا غصہ یاد رکھنا۔ بہتر ہوگا کہ اپنی توانائیاں کہیں اور صرف کرو، یہاں تمہاری دال نہیں گلنے والی۔”
میسج سینڈ کرنے کے بعد علی نے رحال کا موبائل وہیں رکھا اور اسے بلاک کرنے ہی والا تھا کہ پھر رک گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ قیسن کو پتا چلے کہ وہ کس سے ٹکرا رہا ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد میں بیٹھا قیسن جیسے ہی یہ میسج پڑھا، اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا واسطہ اتنے ‘کڑک’ جواب سے پڑے گا۔ علی کے الفاظ نے اس کی تمام شرارتوں کو جیسے ایک جھٹکے میں ختم کر دیا تھا، مگر اس کے دل میں انتقام کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔
علی نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ رحال کی طرف دیکھا جو ابھی کچن سے باہر آ رہی تھی۔ اسے علم بھی نہیں تھا کہ علی نے ابھی ابھی اس کی زندگی کے ایک بڑے ‘سر درد’ کو کتنے سخت طریقے سے ڈیل کیا ہے۔

علی خاموشی سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل کر صحن میں اگیا سب وہیں بیٹھے تھے ۔۔۔ رحال سب کچھ چائے دے رہی تھی
پھر کپ علی کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔ یہ لیں اپ کی چائے۔۔۔۔ علی نے خاموشی سے کپ پکڑ لیا ۔۔۔۔
علی کو لگا اُس کے سامنے کھڑی لڑکی کی طبیعت بوچل سی ہے ۔۔۔
علی نے اُس کو دیکھا ۔۔ تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟
ج۔۔ جی ۔۔۔بس سر درد کر رہا ہے ۔۔۔
اچھا تم جاؤ ارام کرو ۔۔ بلکہ سو جاؤ ۔۔۔
وہ گردن ہلائی کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔علی اُس کو کمرے میں جاتا دیکھ رہا ٹھا پھر کمرے میں جا کر اس نے دروازہ بند کر دیا ۔۔
معراج اندر لیٹی تھی جو تھوڑی دیر پہلے ہی کمرے میں ائی تھی ۔۔۔۔۔ شاید وہ سو رہی تھی ۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *