تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
آخری قسط
کائنات جب زیدان کو لیے اپنے ساتھ گھر پہنچی تو اُس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا…
کہ اُس کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا۔
کمرے میں عجیب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
کائنات آہستہ قدموں سے اُس کے قریب آئی…
اور پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھایا۔
بس… calm down… کچھ نہیں ہوا…
سب کچھ ٹھیک ہے…
زیدان نے سر اٹھا کر اُسے گھورا۔
اُس کی نظریں اس بار پہلے سے زیادہ سخت تھیں…
مگر کائنات…
اس بار پیچھے نہیں ہٹی۔ ہلکی سی سہمی ضرور تھی…
مگر وہیں کھڑی رہی…
گلاس اب بھی اُسی طرح اُس کے ہاتھ میں تھا۔
زیدان کی آواز دھیمی مگر بھاری تھی۔
تم… مجھے چھوڑنے کا تو نہیں سوچ رہی؟
کائنات نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں…
زیدان کی نظریں اُس کے چہرے میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔
جیسے تم نہیں چاہتی تھی نہ کہ مجھ سے تمہاری شادی ہو… اور دعائیں کر رہی تھی… ویسے کہیں اب بھی… دعائیں تو نہیں کر رہی نا…؟ کہ تُمہاری جان چھوٹ جائے مُجھے سے۔۔۔
کائنات کے لب ہلکے سے کانپے۔
ن… نہیں…
زیدان ایک قدم آگے بڑھا۔
کرنا بھی نہیں…
کیونکہ میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
جیسے بھی ہوں… تمہارا ہوں۔
اور تمہیں… میرے ساتھ ہی رہنا پڑے گا…
ساری زندگی…
چند لمحے کی خاموشی کے بعد اُس نے کہا
بولو… منظور ہے؟
کائنات نے دھیرے سے سر ہلا دیا۔
زیدان آہستہ سے اٹھا… اور اُس کی طرف بڑھا۔
پہلے تو تم سے تمہاری مرضی نہیں پوچھی گئی تھی نا… اور اُس نے اُس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑ سائڈ میز پر رکھ دیا۔۔۔ اور اُس کے قریب آیا…
تو کائنات کے قدم خودبخود پیچھے ہٹ گئے۔
نہیں…
وہ ایک اور قدم آگے بڑھا…
بھائی نے زبردستی کی تھی نہ تُمہارے ساتھ۔۔
اور کائنات ایک اور قدم پیچھے ہٹی۔
ہاں۔۔۔۔
وہ ایک اور قدم آگے بڑھا…
کسی نے تُم سے تُمہاری مرضی نہیں پوچھی تھی نہ۔۔
اور کائنات ایک اور قدم پیچھے ہٹی۔
نہیں۔۔۔۔
وہ ایک اور قدم آگے بڑھا…
سب نے تمہیں مجبور کیا تھا نہ۔۔۔
کائنات ایک اور قدم پیچھے ہٹی۔
ہاں۔۔۔
وہ ایک اور قدم آگے بڑھا…
کسی نے تُمہاری بات نہیں سنی تھی نہ۔۔
اور کائنات ایک اور قدم پیچھے ہٹی۔ اور اُس کی پشت الماری سے جا لگی۔ اب وہ کہیں نہیں جا سکتی تھی۔
نہیں۔۔۔۔
زیدان نے ایک ہاتھ الماری پر رکھا… اور جھک کر اُس کی طرف دیکھا۔ نظریں اب بھی اُس کے چہرے پر جمی تھیں۔
اب… میں پوچھ رہا ہوں… اُس کی آواز نرم ہو گئی تھی… تم سے… تمہاری مرضی…
کائنات نے آنکھیں بند کر لیں۔
دل کی دھڑکن بے قابو ہو چکی تھی۔
زیدان کی آواز اُس کے کانوں میں گونجی۔۔
کیا تمہیں زیدان شاہ… اپنی ساری زندگی…
تمہارے شوہر کے روپ میں قبول ہے؟
کائنات نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔
آنکھیں نم تھیں۔۔۔
مگر اُن میں ایک عجب سا سکون تھا۔
اُس نے زیدان کو دیکھا…
پھر دھیرے سے کہا
قبول ہے…
یہ دو لفظ جیسے سیدھا زیدان کے دل میں اتر گئے۔
اُس کے اندر کا سارا طوفان ایک لمحے میں تھم گیا۔
اور وہ اُسے تھوڑی دیر دیکھتا۔۔۔
پھر فوراََ پیچھے ہٹا…
اور جا کر بیڈ پر لیٹ گیا۔
+++++++++++
تھوڑی دیر بعد کائنات آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی اُس کے پاس آئی۔
زیدان اب بھی خاموش بیٹھا تھا…
چہرے پر وہی سختی… آنکھوں میں اُلجھے ہوئے خیالات۔ کائنات اُس کے سامنے آ کر رکی…
چند لمحے اُسے دیکھتی رہی…
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
ہو گیا غصہ ٹھنڈا…؟
زیدان نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا…
جیسے اُسے امید ہی نہ ہو کہ وہ ابھی تک وہیں ہوگی۔
وہ کُچھ نہیں بولا بس خاموشی سے اپنی نظریں دوسری طرف کرلی۔۔۔
کائنات نے اُس کے چہرے کے تاثرات پڑھتے ہوئے کہا۔
یہی سوچ رہے ہیں نا…
کہ میں اب تک کمرے میں کیوں نہیں گئی…؟
وہ ایک قدم اور قریب آئی۔
تو سن لیں…
اب نہیں جاؤں گی…
زیدان کی نظریں دوبارہ اُس پر اٹھیں۔
جب ایک لڑکی اپنی مرضی سے ‘قبول ہے’ کہہ دیتی ہے نا… وہ آہستہ سے بولی۔ تو پھر جیسے بھی حالات ہوں… وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر نہیں جاتی…
زیدان کے دل میں جیسے کچھ ہلا۔
کائنات نے نظریں جھکا کر سچ مان لیا۔
پہلے دل سے قبول نہیں کیا تھا…
تبھی بھاگتی تھی…
پھر اُس نے سر اٹھایا…
اور پہلی بار پوری مضبوطی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
اب نہیں بھاگوں گی…
وہ آہستہ سے اُس کے قریب بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔
پہلے زبردستی سب مجھے آپ کے پاس بھیجتے تھے…
ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے لبوں پر آئی۔
اب… اپنی مرضی سے آپ کے پاس آؤں گی…
پہلے ڈر کر بھاگتی تھی…
وہ ایک لمحہ رکی…
اب… ڈر کر بھی نہیں بھاگوں گی…
یہ کہتے ہوئے اُس نے نظریں جھکا لیں۔
میں جھوٹ نہیں بولوں گی…
لیکن ہاں میں سوچتی تھی آپ کو چھوڑ دوں گی…
وہ ایک لمحے کو رکی… جیسے خود اپنے الفاظ کو محسوس کر رہی ہو۔
ابھی بھی… ہاں اور ناں کے بیچ میں پھنسی ہوئی تھی…
زیدان خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
لیکن… آپ نے موقع دے دیا…
اور میں صحیح فیصلہ لے پائی…
زیدان نے گہری سانس لی۔
میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتا… لیکن۔۔
کائنات نے فوراً اُس سے ٹوکا۔۔
میری سنیں…
اُس کی آواز میں پہلی بار ایک مضبوطی تھی…
جو پہلے کبھی نہیں تھی۔
مجھے آپ کی بات کا مطلب سمجھ آ گیا ہے…
زیدان نے ہلکا سا چونک کر پوچھا۔
کون سی بات؟
کائنات کی نظریں نرم ہو گئیں…
یہ کہ…
ہم اپنی محدود سوچ سے فیصلے کرتے ہیں…
لیکن وہ اللّٰہ مکمل علم سے کرتا ہے…
ہم ایک لمحہ دیکھتے ہیں… وہ پوری زندگی دیکھتا ہے…
زیدان نے سر ہلایا۔۔
کائنات نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
اور پھر میں نے آپ سے کیا کہا تھا…؟
زیدان خاموش ہو گیا۔
کائنات کی آواز دھیمی ہو گئی…
میں نے کہا تھا… کہ میں یہ سب جانتی ہوں…
کہ جو دعائیں ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتیں… اللہ انہیں پوری نہیں کرتا…
مگر… اگر مجھے صاف صاف اپنی آنکھوں سے نظر آ رہا ہو کہ وہ دعا میرے حق میں بہتر تھی…
تو پھر اللہ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا…؟
کمرے کی فضا بھاری ہو گئی۔
کیوں مجھے وہ دے دیا…
جس کا سب سے زیادہ خوف تھا مجھے…
جو مجھے نہیں چاہیے تھا…
زیدان کے دل میں جیسے کچھ چبھ گیا۔
کائنات نے اب سکون سے کہا۔
مجھے اس کا جواب مل گیا…
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
آپ نے صحیح کہا تھا…
ہم صرف وہ دیکھتے ہیں جو ہماری آنکھوں کو نظر آتا ہے…
مگر اللہ وہ بھی دیکھتا ہے جو آگے ہونے والا ہے…
اور وہ بھی… جو ہم نہیں دیکھ سکتے…
ایک ہلکی سی سانس اُس کے لبوں سے نکلی۔
مجھے جواب مل گیا…
اللہ نے مجھے آپ کا ساتھ کیوں دیا…
زیدان نے بےاختیار پوچھا۔
میں نے کیا کیا…؟
کائنات کی آنکھوں میں نمی سی آگئی… مگر لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
سب کو لگتا ہے… میرے اندر کوئی کمی نہیں…
میں ایک پرفیکٹ انسان ہوں… ایک اچھی لڑکی۔۔۔
وہ آہستہ سے سر ہلانے لگی۔
لیکن نہیں… مجھ میں بہت سی کمزوریاں تھیں…
اُس کی آواز تھوڑی بھاری ہو گئی۔
اگر میری شادی آپ سے نہیں ہوتی…
کسی اور سے ہو جاتی…
تو میرے اندر کوئی تبدیلی نہیں آتی…
میں ویسی کی ویسی رہتی…
ان گھر والوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آتی…
اور نہ میرے اندر اتنی طاقت آتی…
آپ کو پتا ہے…؟
آپ کے آنے سے پہلے میں نے کیا کیا…؟
میں نے ارسم کو تھپڑ مارا… آپ یقین کریں گے کہ میں نے کائنات نے کسی کو تھپڑ مارا۔۔۔ کائنات اتنی بہادر کب سے ہوگئی۔۔۔
زیدان کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔
اس شادی کے بعد میں نے انکار کرنا سیکھا
پہلے… میں بیمار ہوتی تھی… یہاں تک کہ مر رہی ہوتی… پھر بھی مامی کی بات سنتی تھی…
ان کی مار کھاتی تھی… گھر والوں کے طعنے سنتی تھی… اور سمجھتی تھی… کہ میں صبر کر رہی ہوں…
اُس کی آواز بھرائی… مگر وہ رکی نہیں۔
مجھے لگتا تھا وہ مجھ پر احسان کر رہے ہیں…
پھر اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
آپ غصہ بھی کریے گا یہ سننے کے بعد۔۔۔
کہ اس کے پہلے ارسم نے مجھے پروپوز بھی کیا تھا…
اور میں نے اُس کے منہ پر انکار کیا…
زیدان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے… مگر وہ خاموش رہا۔
کائنات نے بات جاری رکھی۔
اور آج… یونیورسٹی میں…۔جب ٹیچر نے میرا انٹرو مانگا…
اُس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
میں نے پورے اعتماد سے جواب دیا…۔میری زبان ذرا بھی نہیں لڑکھڑائی…
ورنہ… میں کالج میں ٹاپ سٹوڈنٹ تھی…
لیکن ٹیچر کے سامنے بول ہی نہیں پاتی تھی…
وہ اب خود پر حیران سی لگ رہی تھی۔
اور پھر… میں نے تایا سے بھی اپنے حصے کی بات کی… وہ مجھے ملا نہیں… وہ الگ بات لیکن میں نے پوری ہمت سے بات کی… ذرا بھی نہیں ڈری…
کائنات نے آہستہ سے کہا۔
میں بدلی نہیں ہوں مکمل… ابھی بھی ڈر لگتا ہے…
پھر اُس نے زیدان کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
لیکن اب اعتماد آگیا ہے۔۔۔۔ اب… جب تھک جاتی ہوں… تو ‘نہیں’ بھی کہہ سکتی ہوں…
ویسے تو مجھے کام کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں…
لیکن جب میں تھک جاتی ہوں…
تو اب میں انکار کر سکتی ہوں…
کائنات نے آہستہ سے اُس کی طرف دیکھا…
آپ نے نانی کا رویہ دیکھا ہے…؟ میرے ساتھ بہت اچھا ہو گیا ہے…
وہ ہلکا سا مسکرائی۔ عائشہ بیگم کا بھی…
وہ سمجھتی ہیں کہ میں آپ کو سنبھال کر کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہی ہوں…
شروع میں تو میں نے اُن پر چیخا بھی تھا…
لیکن اُنہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا…
وہ ایک لمحہ رکی…
اور زینب بیگم بھی ٹھیک ہو گئی ہیں…
ہاں… اب بھی اُن کی زبان تھوڑی کڑوی ہے…
لیکن اب میں اُنہیں جواب دے دیتی ہوں…
اور اچھی بات یہ ہے کہ بغیر بدتمیزی کے…
اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
میں اب بھی اچھی ہوں…
زیدان خاموشی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
کائنات نے دھیمی آواز میں کہا
جب آپ بیمار ہوں… اور کسی دوسرے کی مدد نہ کر سکیں… تو اللہ بھی یہ نہیں کہتا کہ کرو… کرو…
اللہ کہتا ہے نرمی سے انکار کرنا بہتر ہے…
اور اُس کے بعد جو ہو… اُس پر صبر کرنا ہے…
وہ اب جیسے خود کو سمجھا رہی تھی…
انکار کرنا غلط نہیں ہے…
انکار کرنے کے بعد جو ہوگا… اُس پر صبر کرنا ہے…
اُس کی آواز میں ہلکی سی ندامت آ گئی۔
اگر میں اچھی ہوتی تو… تو صبر وہ ہوتا…
جو میں نکاح کے وقت انکار کر کے کرتی…
بھلے پھر مار مار کے مجھ سے زبردستی نکاح کروایا جاتا… تو وہ صبر ہوتا…
وہ آہستہ سے بولی
میں نے خاموشی کو صبر کا غلط مطلب دے دیا تھا… آپ نے اُس دن مُجھے سمجھایا بھی تھا، مُجھے اچھے سے یاد ہے آپکی بات۔۔۔
اور پتا ہے کیا…؟
مجھے یہاں تک آپ کے علاوہ کوئی نہیں لا سکتا تھا…
اُس کی آواز نرم ہو گئی۔
اور کچھ میرے دل کی آزمائش بھی تھی…
جس میں میں بری طرح فیل ہو گئی…
وہ ہلکا سا مسکرائی… مگر آنکھوں میں نمی تھی۔
لیکن خیر…میں اللہ سے معافی مانگ لوں گی…
وہ آہستہ سے بولتی گئی
میں نے اپنی ساری خوشی ایک ہی انسان سے منسلک کر لی تھی… جیسے وہ مل جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا… لیکن کچھ ٹھیک نہیں ہوتا…
بس گھر بدل جاتا ہے…
میں تو ویسی کی ویسی ہی رہتی نا… سب کچھ ٹھیک تھا اور مجھے لگا سب خراب ہوچکا ہے۔۔ خراب تو تب ہوتا جب اللّٰہ میری دعائیں قبول کر لیتا۔۔ اور میں اور پھر میں کسی ایک انسان پر ڈپیند ہوجاتی، وہ پڑھاتا تو پڑھتی، وہ جو کہتا وہ کرتی، وہ بھی ٹھیک تھا لیکن جو چینج میرے اندر آیا ہے وہ نہیں آتا کبھی بھی۔۔۔ اور نہ ہی کبھی اس گھر والوں سے پیار ملتا مُجھے۔۔۔ ویسے اندر ہی اندر میری بھی خواہش تھی کہ نانو مُجھے سے بھی پیار کریں مُجھے بھی اس گھر میں وہ عزت اور محبت ملے جو زارا اور زرتاشا کو ملتی ہے۔۔۔
زیدان اب بھی خاموش تھا…
مگر اُس کی نظریں اُس سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔
کائنات نے پھر کہا
اب آپ یہ نہیں سمجھئے گا…
کہ آپ کو میری ضرورت نہیں تھی…
آپ کو بھی میری اتنی ہی ضرورت تھی…
جتنی مجھے آپ کی…
وہ چند لمحے رکی… پھر بہت یقین کے ساتھ بولی
اللہ کبھی کسی پارٹنر کو دوسرے پارٹنر پر بوجھ نہیں بناتا…
زیدان نے اُسے غور سے دیکھا…
اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی سنجیدگی اُتر آئی تھی۔
کسے اِتنی شدت سے مانگتی ہے…؟
کائنات ایک لمحے کو رکی…
پھر ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے لبوں پر آئی۔
آپ تو نہ پوچھیں یہ…
زیدان نے نظریں سکیڑتے ہوئے کہا۔
ارسم تو نہیں تھا وہ…؟
کائنات نے فوراً سر ہلا دیا۔
نہیں…
زیدان نے دوبارہ پوچھا…
اب تو نہیں چاہتی نا…؟
کائنات نے بغیر جھجک کے جواب دیا۔
نہیں…
پھر …
زیدان آہستہ سے اُس کے قریب آیا…
اور اُس کی گود میں اپنا سر رکھ دیا۔
آنکھیں بند کر لیں…
جیسے بہت دیر بعد سکون ملا ہو۔
کائنات ایک لمحے کو چونکی…
پھر اُس کے بالوں میں آہستہ سے انگلیاں پھیرنے لگی۔
جیلس تو نہیں ہو رہے آپ…؟
زیدان نے آنکھیں بند رکھ کر ہی جواب دیا۔
ہو رہا ہوں…
کائنات ہنس پڑی۔
اب کا کچھ نہیں ہو سکتا…
زیدان نے ہلکی سی آنکھ کھول کر اُسے دیکھا۔
آئندہ ذکر نہ کرنا…
کائنات نے مسکرا کر کہا۔
فکر نہ کریں…
+++++++++++
اسوان آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔
جوتے پہنتے ہوئے اُس نے سر اٹھا کر یمنٰہ سے پوچھا۔
پری اسکول چلی گئی؟
یمنٰہ نے بے پرواہی سے جواب دیا۔
ہاں… چلی گئی ہے۔
اسوان نے کچھ اور نہیں کہا۔
بس خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
مگر جیسے ہی وہ باہر نکلنے لگا…
اُسے زیدان کے کمرے کی طرف سے ہلکی سی آواز سنائی دی۔
ایک لمحے کو اُسے یوں لگا… جیسے وہ پری کی آواز ہو۔
وہ ٹھٹک گیا۔
چند لمحے دروازے کے باہر کھڑا رہا…
پھر آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر آ گیا۔
اندر زیدان صوفے پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا…
اور کائنات بیڈ پر بیٹھی تھی۔
زیدان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
کیا ہوا؟
اسوان ایک لمحہ رکا۔
کچھ نہیں… مجھے لگا…
زیدان نے ابرو اٹھائے۔
کیا لگا؟
اسوان نے فوراً بات ٹال دی۔
کچھ نہیں۔
وہ پلٹ کر جانے ہی والا تھا کہ اچانک اُس کی نظر دروازے کے پیچھے پڑی۔
وہاں پری کا اسکول بیگ رکھا تھا۔
اسوان نے حیرانی سے بیگ اٹھایا۔
پری یہاں ہے؟
زیدان نے پرسکون لہجے میں کہا۔
نہیں… اسکول میں ہے۔۔۔
اسوان نے بیگ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اچھا… تو پھر اُس کا بیگ یہاں کیا کر رہا ہے؟
اُس کی آواز میں شک صاف محسوس ہو رہا تھا۔
اسی لمحے…
بیڈ کے نیچے سے ہلکی سی حرکت ہوئی۔
اور چند سیکنڈ بعد پری آہستہ سے باہر نکلی۔
اسکول یونیفارم پہنے…
بالکل تیار۔
اسوان چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا۔
یمنٰہ نے تو کہا تھا تم اسکول گئی ہو…
زیدان نے ناشتہ کرتے ہوئے جواب دیا۔
نہیں گئی۔ بھاگ کر یہاں آ گئی تھی۔
اسوان نے گہرا سانس لیا۔
ایسا کیوں کر رہی ہو پری تم؟
کائنات فوراً بول پڑی۔
اِسے کچھ مت کہیے۔
آفس کے کام میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں آپ کہ آپ کو یہ بھی نہیں پتا آپ کی بیٹی کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔
اسوان نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
کیا ہو رہا ہے؟
زیدان ہلکا سا مسکرایا۔
زیادہ کچھ نہیں… جو میرے ساتھ ہوتا تھا… وہی۔
اسوان نے الجھن سے پوچھا۔
تمہارے ساتھ کیا ہوتا تھا؟
زیدان نے مختصر سا جواب دیا۔
یاد کرو…
کائنات نے بات آگے بڑھائی۔
وہ اس کا دھیان نہیں رکھ رہی۔
بس چاہتی ہے اسے ادھر اُدھر بھیج کر جان چھڑواتی رہے۔ ابھی چھوٹی سی تو ہے یہ…
اور آپ نے جیسے اسے گھر پر آزاد رکھا ہوا تھا، اچانک اسکول بھیج دیا۔
چھوٹے بچوں کو اسکول سے شروع میں چھوٹ ملتی ہے…
کہ جلدی چھٹی ہو جائے تاکہ بچے کا دل لگے۔
لیکن یہاں تو ایک بجے چھٹی ہوتی ہے…
پھر دو بجے مدرسہ… پھر تین بجے واپسی…
چار بجے ٹیوشن… اور آٹھ بجے واپس۔ پھر آٹھ بجے سے یہ سوئی رہتی ہے۔
کائنات نے پری کے سر پر ہاتھ رکھا۔
مانا بچے پڑھتے ہیں… مگر اس طرح نہیں۔
چار پانچ گھنٹے کا کونسا ٹیوشن ہوتا ہے…
اور باقی سارا دن وہ کیا کرتی ہیں… پتا ہے آپ کو؟
اسوان نے پوچھا۔ کیا؟
کائنات کی آواز سخت ہو گئی۔
گھومنا پھرنا… اور کچھ نہیں۔ آپ کو نہیں لگتا بھائی… سب مجبور ہو سکتے ہیں… مگر ایک ماں نہیں۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو پیدا ہوتے ہی چھوڑ سکتی ہے… تو بعد میں اُس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اُس کا خیال رکھے گی؟
اسوان نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا۔
میں گیا تھا پریشے کو لینے۔
لے آؤں گا اسے… ایک دو دن میں۔
یہ سنتے ہی زیدان نے غصے سے اسوان کی طرف دیکھا۔ پھر سرد لہجے میں بولا۔
پاپا والی غلطی مت دہرانا۔
پری کا خیال کائنات رکھ سکتی ہے۔
کائنات فوراً بولی۔
ہاں… پری کا خیال میں رکھ سکتی ہوں۔
آپ پری کی ذمہ داری مجھے دے دیں۔
صرف پری کی وجہ سے پریشے بھابھی کو واپس لانے کی ضرورت نہیں ہے۔
پری فوراً بولی۔
لیکن وہ میری ماما…
کائنات نے فوراً اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
خاموش رہو۔۔۔
اسوان نے یہ منظر دیکھا…
اور کچھ کہے بغیر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
وہ سیدھا یمنٰہ کو ڈھونڈنے لگا۔
مگر یمنٰہ اپنے کمرے میں نہیں تھی۔
وہ پری کے کمرے میں گیا۔
وہاں بھی نہیں۔
اسوان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
کہاں گئی یہ…؟
اُس نے فوراً فون نکالا اور یمنٰہ کو کال کرنے لگا۔
مگر فون کی رِنگ اسی کمرے کے اندر سے سنائی دی۔
اسوان چونک گیا۔
وہ آواز کی سمت بڑھا اور چیزوں والی دراز کھولنے لگا۔
فون تو نہیں ملا…
مگر دراز میں اُسے ایک اور چیز نظر آئی۔
نیند کی گولیاں۔
اسوان کے ہاتھ وہیں رک گئے۔
اُس نے ٹیبلیٹس نکالی اور چند لمحے تک گھورتا رہا۔
نیند کی گولیاں…؟
اُس کی نظریں آہستہ آہستہ سخت ہوتی گئیں۔
پری کے کمرے میں…؟
اُس کے دل میں ایک عجیب سا خدشہ جاگا۔
…یہ کیا کر رہی تھی؟
اسوان غصے میں یمنہ یمنہ چیختا کمرے سے نکلا اور سیدھا لاؤنج میں آ گیا۔
یمنٰہ کچن سے باہر آئی۔ کیا ہوا…؟
اسوان کو ایسے چیختے دیکھ گھر کے باقی افراد بھی اپنے اپنے کمروں سے باہر آگئے تھے۔۔۔
اسوان نے بغیر کچھ کہے نیند کی گولیوں کی ٹیبلیٹس اُس کی آنکھوں کے سامنے کر دی۔
یہ کیا ہے؟
یمنٰہ ایک لمحے کو رکی… پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔ اوہ… یہ؟ یہ تو میں لیتی ہوں۔ مجھے رات کو نیند نہیں آتی نا…
اسوان کی نظریں تیز ہو گئیں۔ تو یہ پری کے کمرے میں کیوں تھا؟
یمنٰہ نے فوراً کہا غلطی سے رکھ دیا ہوگا میں نے…
اسوان نے ایک اور سوال داغ دیا۔ اور تمہارا فون کہاں ہے؟
کمرے میں ہی ہوگا… کیا ہو گیا ہے تمہیں اسوان؟ تم مجھ پر شک کر رہے ہو؟
اسوان کی آواز سخت ہو گئی۔
تم پری کا خیال نہیں رکھتی نا۔
یمنٰہ فوراً جھنجھلا گئی۔ ہاں نہیں رکھتی۔۔۔۔تو پھر کون رکھتا ہے؟ فضول سوال مت کرو مجھ سے۔۔
یہ فضول سوال نہیں ہے یمنٰہ۔۔۔
اسوان اب غصے میں آ چکا تھا۔
اگر یہ نیند کی گولیاں تم لیتی ہو… تو رات بھر سوتی کیوں نہیں ہو؟ اُس وقت تو تم فون میں لگی ہوتی ہو۔۔۔۔
یمنٰہ نے جلدی سے جواب بنایا۔
ہاں… نیند نہیں آتی مجھے۔ کھانے کے باوجود بھی تین چار گھنٹے بعد سوتی ہوں۔
اتنے میں زینب بیگم کی آواز آئی۔
ایک نمبر کی جھوٹی ہے یہ۔۔۔ یہی دیتی ہوگی پری کو نیند کی گولی… تبھی تو وہ پری کو اتنی نیند آتی ہے اور وہ سارا دن سوئی پڑی رہتی ہے۔۔۔۔
زارا نے حیرت سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
ماما… ابھی اُس دن تو آپ اس کے ساتھ تھیں؟
زینب بیگم فوراً بولیں۔
چپ رہو۔۔۔ میں اپنی بیٹیوں کے علاوہ کسی کی سگی نہیں ہوں۔ مجھے تو بس مرچ مصالحہ لگانے میں مزہ آتا ہے۔۔۔
زارا نے ناگواری سے کہا توبہ ہے ماما…
عائشہ بیگم بھی آگے بڑھیں، اُن کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ مجھے بھی یہی لگ رہا ہے…
یمنٰہ اب گھبرا گئی تھی۔
آپ سب کو کیا ہو گیا ہے؟ میں ایسا کیوں کروں گی؟
میں اُس کی ماں ہوں۔۔۔
اسوان کا صبر ٹوٹ گیا۔
اور تم باہر کہاں پھرتی رہتی ہو؟ گھر پر ٹِکا نہیں جاتا تم سے۔۔۔
اسوان! کیا ہو گیا ہے تمہیں؟
تم پری سے اپنی جان چھڑوانا چاہتی ہو۔۔۔
میں ایسا کیوں چاہوں گی؟!
راضیہ بیگم نے آتے ہی کہا۔
اے… ہوا کیا ہے؟
اسوان نے غصے سے اُن کی طرف دیکھا۔
آپ گھر پر رہتی ہیں… اس پر نظر نہیں رکھ سکتیں؟
راضیہ بیگم بھی بھڑک اٹھیں۔
اے میرے پر کیوں چِلّا رہا ہے؟ خود ہی تو اسے گھر پر رکھا ہے۔۔۔
ادھر زارا بھی اپنے کمرے سے نکل آئی تھی۔
صورتِ حال دیکھتے ہی اُس نے فوراً زرتاشہ کو میسج کیا۔
یہاں معاملہ بہت گرم ہے…
چند ہی سیکنڈ میں جواب آ گیا۔
تو آگ لگا دو…
زارا کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اوکے…
زارا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے اسوان…
پھر وہ اُس کے قریب آئی۔
میں نا کہتی تھی… یہ چیٹر ہے…
یہ کہتے ہوئے اُس نے اپنا فون اسوان کے سامنے کر دیا۔
اسکرین پر دائم کی آئی ڈی کھلی ہوئی تھی…
اور اُس کے اندر یمنٰہ کے ساتھ سینکڑوں میسجز۔
ہر میسج… ہر لفظ… ایک سچ چیخ چیخ کر بتا رہا تھا۔
کہ یمنٰہ نے خود کو سنگل بتایا ہوا تھا۔۔۔ اور بھی پتہ نہیں کیا کیا۔۔۔
زارا نے سکون سے کہا۔
میں نے دائم سے اُس کی آئی ڈی کا پاسورڈ لیا…
پھر اسی آئی ڈی سے اسے میسج کیا…
اور اب آپ خود دیکھ لیں…
یمنٰہ نے غصے سے زارا کو گھورا۔
کون دائم؟
زارا نے بے نیازی سے جواب دیا۔
اسوان بھائی کا کزن… آپ کی شادی میں آیا تھا۔
شاید آپ بھول گئی ہیں…
یمنٰہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
تو تم… مجھے پاگل بنا رہی تھی؟
زارا نے ہنستے ہوئے کندھے اُچکائے۔
ہاں جی… آئی ڈی دائم کی تھی… لیکن سارے میسجز میں نے کیے تھے…
اسوان کے ہاتھ میں فون تھا…
اور اُس کی نظریں ایک ایک میسج پر جمتی جا رہی تھیں۔
اور پھر…
اُسے جیسے صرف ایک موقع چاہیے تھا۔
اُس نے آہستہ سے سر اٹھایا…
اور سیدھا یمنٰہ کی طرف دیکھا۔
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں…
یمنٰہ کے وجود میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔
اسوان نہیں… مجھے معاف کر دو…
وہ دوڑ کر اُس کے پاس آئی۔۔ اُس کے منہ پر ہاتھ رکھنا چاہا لیکن اسوان نے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا۔۔۔
طلاق دیتا ہوں…
اسوان کی آواز اور سخت ہو گئی۔
طلاق دیتا ہوں…
خاموشی…
بھاری… دم گھونٹتی ہوئی خاموشی چھا گئی۔
اسوان نے گہری سانس لی۔
مجھے معلوم تھا… تم مجھے کسی مجبوری میں نہیں… بلکہ اپنی خواہش کے ہاتھوں چھوڑ کر گئی تھی۔ پھر بھی میں نے تمہیں معاف کر دیا۔
لیکن تمہاری فطرت نہیں بدلی…
اُس کی آنکھوں میں سردی اتر آئی۔
ہماری لڑائیاں بھی اسی وجہ سے ہوتی تھیں نا…؟
یاد ہے؟ اب تو تمہیں اپنی حرکتوں سے باز آ جانا چاہیے تھا… لیکن نہیں…
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا۔
جاؤ… اب خوش رہو… اور جس جس کے ساتھ ٹائم پاس کرنا ہے کرو۔۔۔
یمنٰہ کی آواز ٹوٹ گئی۔
تم مجھے ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔ میں پری کو اپنے ساتھ لے جاؤں گی… میں اُس کی ماں ہوں۔۔۔
اسوان نے بغیر اُس کی طرف دیکھے کہا۔
زارا… اسے باہر نکال دو پلیز…
یمنٰہ اب پاگلوں کی طرح بول رہی تھی۔
مجھے اچھی طرح پتا ہے! یہ سب اُس چڑیل کی وجہ سے ہوا ہے! اسی کی وجہ سے تم نے مجھے چھوڑا ہے!
جو محبت تم مجھ سے کرتے تھے… وہ رہی ہی نہیں!
ہر وقت تو تمہاری زبان پر پری… پری ہوتا ہے اسی کی فکر رہتی ہے ہر وقت۔۔۔ اور دل میں پریشے۔۔۔ تُم کُچھ ظاہر نہیں کرتے ہو تو کیا۔۔۔ لیکن تُمہارا رویے اور تُمہاری یہ آنکھیں چیخ چیخ کر کہتی ہیں۔۔ کہ تُم اُس کے بغیر مر رہے ہو۔۔۔
زارا نے فوراً کہا۔
توبہ ہے… اپنی بیٹی سے بھی کوئی جلتا ہے؟
اسوان کی آواز خطرناک حد تک نیچی ہو گئی۔
زیادہ مت بولو… ورنہ یہاں سے گھر جانے کے بجائے تمہیں سیدھا جیل بھیجوا دوں گا…
زیدان نے پیچھے سے کہا۔ سوچو نہیں بھائی… بسم اللہ کرو… وہ زینے پر کھڑا مزے سے اس منظر سے لطف اندوز ہوتا تھا۔۔۔
کائنات نے فوراً اُسے گھورا۔
تمیز… وہ بھی اُس کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔۔۔
زارا نے یمنہ کا ہاتھ پکڑتے کہا چلو… ٹائم پورا ہوا جاتا ہے…
اور یمنہ نے تیزی سے اپنا ہاتھ اُس کی پکڑ سے چھڑوالیا۔۔۔
زینب بیگم آگے بڑھیں۔
تم رہنے دو… اسے تو میں نکالتی ہوں…
اور واقعی…
وہ یمنٰہ کے بال پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانے لگیں۔
چھوڑیں مجھے! کیا کر رہی ہیں آپ؟! میں چھوڑوگی نہیں آپکو۔۔۔
پہلے ہی عزت سے نکل جاتی… اب ایسے ہی نکلنا پڑے گا۔۔۔
چند لمحوں بعد…
یمنٰہ گھر سے باہر نکال دی گئی۔
لاؤنج میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
اسوان نے زارا کی طرف دیکھا۔
تم نے یہ سب کیوں کیا؟
اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے؟
زارا نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… زرتاشہ کے کہنے پر کیا…
زرتاشہ…؟
کافی بدل گئی ہے میری بہن…
پتا نہیں ہادی بھائی نے اُس پر کون سا منتر پڑھ کے پھوکا ہے…
اسوان ہلکا سا مسکرایا۔
منتر تو اِدھر بھی کسی نے کسی پر پڑھا ہے…
زارا نے فوراً پوچھا۔
کس نے کس پر…؟
بکواس نہ کرو…
زیدان یہ کہتے ہوئے تیزی سے باہر نکل گیا۔
اور کائنات…
وہ بھی فوراً نظریں چرا کر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
اسوان ہلکا سا ہنسا۔ شرما گیا…
زارا بھی مسکرا دی۔ وہ بھی…
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسوان نے سنجیدگی سے کہا۔
سوری… میں نے تمہاری فیلنگ کی قدر نہیں کی…
زارا نے بھنویں چڑھائیں۔
کون سی فیلنگ؟ ارے وہ فیلنگ نہیں تھی…
بس ایک خواہش تھی… کہ کوئی میرا بھی ایسے خیال رکھے… جیسے تم اپنے لوگوں کا رکھتے ہو…
اسی لمحے زارا کے فون پر کال آئی۔ اسکرین پر نام چمکا۔۔۔
دائم کالنگ…
اسوان نے مسکرا کر کہا۔۔
لو…خواہش پوری ہوئی…
زارا نے حیرانی سے پوچھا۔
کیا مطلب؟
مگر اسوان بغیر جواب دیے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
زارا نے فون کان سے لگاتے ہی تیور چڑھا لیے۔
ٹائمنگ بہت غلط ہے تمہاری کال کرنے کی…
دوسری طرف سے ہلکی سی ہنسی آئی۔
اچھا… ایسا ہے کیا؟
بالکل ایسا ہی ہے… زارا نے بے ساختہ کہا، پھر لہجہ بدل گیا۔ اچھا سنو… کام ہو گیا۔ تھینک یو… مدد کرنے کے لیے…
دائم نے فوراً بات پکڑی۔ ایسے نہیں… اُس طرح بولو…
زارا نے آنکھیں گھمائیں۔ کس طرح؟
اچھا جی… جزاک اللہ… تھینک یو سو مچ…
زارا ہنس پڑی۔شٹ اپ…
جو حکم۔۔۔ دائم نے مسکرا کر کہا۔
زارا نے تھوڑا سنجیدہ ہو کر پوچھا۔
ویسے… کوئی کسی کو اپنی انسٹا کا پاسورڈ کیسے دے سکتا ہے؟
دائم کی آواز میں ہلکی سی گہرائی آ گئی۔
کوئی کسی کو نہیں دیتا…
وہ ‘کوئی’… ‘کسی’ نہیں ہوتے…
زارا ایک لمحے کو خاموش ہو گئی۔
میں تمہاری اتنی بھی کوئی خاص دوست نہیں ہوں…
دائم نے ہنستے ہوئے بات ہلکی کر دی۔
ارے… صرف انسٹا آئی ڈی دی ہے…
کون سا اپنی پوری جائیداد تمہارے نام کر دی ہے میں نے…
زارا کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
پاگل…
آپ کے پیار میں…
زارا فوراً چونک گئی۔
کیا بول رہے ہو؟
دائم نے فوراً بات سنبھالی۔
ارے ڈائیلاگ تھا… ڈونٹ ٹیک اٹ سیریس…
زارا نے ہلکا سا سر ہلایا۔
اب فون رکھو… مجھے زرتاشہ کو بھی کال کرنی ہے…
دائم نے ڈرامائی انداز میں کہا۔
ہائے ظالم… بس فون رکھنے کا نہ کہا کرو…
زارا نے مسکراتے ہوئے کال کاٹ دی۔
مگر فون بند ہونے کے بعد بھی…
اُس کے لبوں پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ باقی تھی…
++++++++++++
کائنات کمرے میں آئی تو پری بیڈ پر ہی بیٹھی ہوئی تھی۔
وہ ابھی تک باہر نہیں آئی تھی… کیونکہ کائنات نے اُسے منع کیا تھا۔
پری نے فوراً سوال کیا۔
کیا ہوا…؟.بابا کیوں چیخ رہے تھے…؟
کائنات نے ہلکے سے جواب دیا۔
تمہاری ماما چلی گئی گھر سے…
پری کی آنکھیں ذرا سی پھیل گئیں۔
نکال دیا پاپا نے…؟
ہاں…
پری کچھ لمحے خاموش رہی….پھر دھیمی آواز میں بولی۔ اب پریشے ماما واپس آجائیں گی…؟
کائنات نے نرمی سے کہا۔ ہاں… آ سکتی ہیں…
پری فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
کال ملائیں اُنہیں… گڈ نیوز دیں۔۔۔
کائنات ہلکا سا مسکرائی۔ ہاں… ملاتے ہیں…
اُس نے فون نکالا… اور پریشے کو کال ملا دی۔
دوسری ہی رنگ پر کال اٹھا لی گئی۔
دوسری طرف سے نیند بھری… مدھم سی آواز آئی۔
ہاں…
کائنات نے کہا۔
السلام علیکم… سو رہی تھیں…؟
ہاں… خیریت…؟
یونیورسٹی نہیں جانا کیا…؟
جانا ہے… ابھی اُٹھوں گی… ابھی تو آٹھ بجے ہیں…
کائنات نے فون اسپیکر پر کر دیا۔
یہ لیں… آپ کی بیٹی آپ سے بات کرنا چاہتی ہے…
پریشے فوراً بولی۔
اسے تو ایک لگاؤ… میری طرف سے۔۔۔
پری فوراً چیخی۔ کیوں بھئی…؟
تمہیں ابھی یاد آئی میری…؟
پری نے منہ بنایا۔ نہیں… پہلے بھی آ رہی تھی… کسی نے ملنے ہی نہیں دیا…
بس بس ڈرامے نہ کرو میرے آگے… اچھی طرح جانتی ہوں میں تمہیں… چالاک بلی! کیسے اپنی ماں کو دیکھتے ہی بھاگ کے اُن سے لپٹ گئی تھی… اُن کے پاس ہی رہو اب…
کائنات نے فوراً ٹوکا۔
کیسے بات کر رہی ہیں آپ بچی سے…؟
پریشے نے ہنستے ہوئے کہا۔
بچی نہیں ہے یہ…بہت بڑی ہے…
اچھا خاصا بڑوں والا دماغ ہے اس کا…
پری نے فوراً جواب دیا۔
اور آپ کا۔۔ اپنا بتائے بڑے ہو کے بچوں والا دماغ ہے۔۔۔
اوہ میڈم… سائنس کی اسٹوڈنٹ ہوں میں…
بہت دماغ ہے میرے پاس…
پری نے ناک چڑھائی۔
اتنا دماغ ہے تو استعمال کیوں نہیں کرتی…؟
ہاں استعمال کرتی ہوں… تبھی تو یونیورسٹی تک پہنچی ہوں…
پری فوراً بولی۔ چیٹنگ کر کے پہنچی ہوں گی۔۔۔
تم کروانے آئی تھی مجھے چیٹنگ…؟
نہیں… میں ایسے کام نہیں کرتی…
کائنات نے ہنس کر کہا۔
ارے لڑنے کے لیے فون ملایا ہے…؟
پری نے منہ بنایا۔ انہیں سمجھائیں… تمیز ہی نہیں انہیں کوئی…
پریشے فوراً بولی۔
دیکھو تو بول کون رہا ہے…
سب جانتے ہیں یہاں کون کتنا تمیزدار ہے…
پری نے سینہ تان لیا۔
ہاں! میں بہت تمیزدار ہوں۔۔۔
جی جی… بہت تمیزدار ہیں آپ…
تو پھر اس بدتمیزی کو کال کیوں کی ہے…؟
پری کا چہرہ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔
یاد آ رہی ہے آپ کی… واپس آجائیں نہ۔۔…
یہ سنتے ہی دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
پری نے آہستہ سے کہا۔ کیا ہوا…؟
کائنات نے بھی پوچھا۔ ہیلو… آواز آ رہی ہے…؟
کچھ لمحوں بعد پریشے کی ہلکی سی آواز آئی ہمم… ہاں بولو…
پری نے جلدی سے کہا۔
میری سگی ماما چلی گئی یہاں سے… نکال دیا بابا نے اُنہیں… اب آپ واپس آ جاؤ نا…
پریشے نے ٹھہر کر پوچھا۔ ہاں کیوں…؟
وہ… آپ مجھ سے ملو تو بتاؤں نا…۔وہ میرا ذرا بھی خیال نہیں رکھتی… مجھے اسکول لگا دیا…
پریشے نے مُسکراتے ہوئے کہا
ہاں تو پڑھو گی نہیں…؟
پڑھو گی لکھو گی… بنو گی نواب…
کھیلو گی کودو گی ہو گی خراب…
پری نے منہ بنایا۔ یار…
کائنات ہنسی روک کر بولی۔ اب میں فون پر کیسے بتاؤں…
پریشے نے کہا۔
اچھا… پھر ملنے آ جاؤ… جب دل کرے آ جانا میرے گھر… لیکن پری… تم سن لو… اُس کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔ میں واپس نہیں آؤں گی…
پری چونک گئی۔ کیوں…؟
کیونکہ میں آنا نہیں چاہتی…
کائنات نے نرمی سے بات سنبھالی۔
اچھا ہم ملنے آئیں گے کسی دن…
ہاں آ جانا…
ٹھیک ہے… آپ جائیں یونیورسٹی…
تیار ہو جائیں… اللہ حافظ…
پری نے فوراً کہا۔ لیکن… واپس۔۔۔
کائنات نے فوراً اُسے چپ کروایا۔ شش…
اللہ حافظ… اور کال کٹ گئی۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پری نے فوراً کائنات کی طرف دیکھا۔ یہ کیا کیا…؟۔اب وہ واپس کیسے آئیں گی…؟
کائنات نے سکون سے کہا۔ تم نے معافی تو مانگی نہیں…
پری نے فوراً جواب دیا۔ وہ ناراض تھوڑی ہیں…
کائنات نے نرمی سے سمجھایا۔
پھر بھی…تم نے اُنہیں ہِرٹ کیا ہے… جب ملنے جائیں گے نا… تو اُن سے معافی مانگنا…
پری نے فوراً پوچھا۔
تو پھر کیا وہ واپس آ جائیں گی…؟
کائنات نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
شاید…
پری نے سر ہلا دیا۔
ٹھیک ہے… پھر مانگ لوں گی…
کب لے کر جائیں گی آپ مجھے…؟
کل… یا پرسوں…
پری کے چہرے پر ہلکی سی امید آ گئی۔
ٹھیک ہے…
+++++++++++
ارسم ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا…
حالت انتہائی خراب تھی۔
ہاتھ پر پٹی… سر پر بینڈیج…
اور چہرے پر جگہ جگہ چوٹوں کے نشان۔
سانس لینا بھی جیسے اُس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔
اگر کائنات بیچ میں نہ آتی…
تو شاید آج وہ زندہ بھی نہ ہوتا۔
زیدان کے ہاتھوں وہ واقعی مارا جاتا…
کمرے میں سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
رضوان صاحب اُس کے پاس کھڑے تھے…
چہرے پر سختی صاف نظر آ رہی تھی۔
میں نے منع کیا تھا نا تمہیں…
ان دونوں پاگل بھائیوں سے دور رہنے کا کہا تھا نہ…
اُن کی آواز میں غصہ بھی تھا اور فکر بھی۔
اب اسی حالت میں لندن جاؤ گے تم…
میں تمہیں مزید یہاں نہیں رہنے دوں گا…
ارسم نے تکلیف سے کروٹ لینے کی کوشش کی…
مگر درد سے کراہ اٹھا۔
مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا…
اس حالت میں اکیلے دوسرے ملک کیسے جاؤں گا…؟
رضوان صاحب نے فوراً کہا۔
یہ تو تمہیں کائنات کے یونیورسٹی جانے سے پہلے سوچنا تھا نا۔۔۔
ارسم نے آنکھیں بند کر لیں… پھر آہستہ سے بولا۔
میں اُسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔۔۔ ہادی نہیں آیا…؟ میں تین دن سے ہسپتال میں ہوں… وہ مجھ سے ملنے نہیں آیا…
رضوان صاحب نے نظریں چرا لیں۔
میں نے اُسے تمہارے بارے میں نہیں بتایا…
میں نے کہا… تم لندن جا چکے ہو…
ارسم نے فوراً آنکھیں کھولیں۔
لیکن کیوں…؟
رضوان صاحب نے قدرے سخت لہجے میں جواب دیا۔
ہاں گھر میں بتا دیتا…
تاکہ تمہاری ماں یہاں آ کر آنسو بہاتی…
اور پھر تمہیں جانے بھی نہ دیتی…؟
ارسم خاموش ہو گیا…
مگر اُس کی آنکھوں میں بے بسی صاف نظر آ رہی تھی۔
کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا…؟ رہنے دیں مجھے یہیں…
رضوان صاحب نے گہری سانس لی۔
تاکہ جان چلی جائے تمہاری…؟ تم تو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے…
ارسم کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔
وہ زیدان… میری خوشیاں کھا گیا…
رضوان صاحب نے فوراً سختی سے کہا۔
کوئی کسی کی خوشیاں نہیں کھاتا…
وہ ایک ایک لفظ زور دے کر بولے۔
اپنے دل و دماغ سے یہ بات نکال دو…
کہ اُس نے تمہارا نصیب تم سے چھینا ہے…
کوئی کسی کا نصیب نہیں چھین سکتا…
کمرے میں ایک بھاری سی خاموشی چھا گئی۔
پھر اُنہوں نے آخری فیصلہ سنایا۔
اب مزید بحث نہیں کرنی… میں نے سب انتظامات کر دیے ہیں… یہاں سے سیدھا تم ایئرپورٹ جاؤ گے…اور پھر لندن… 9 بجے کی فلائٹ ہی تُمہاری
وہ ذرا نرم پڑے… اور تمہاری حالت کی وجہ سے… آفس کا ایک بندہ تمہارے ساتھ جا رہا ہے…
جب تک تم مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتے…
وہ وہیں تمہارے ساتھ رہے گا…
ارسم نے آنکھیں بند کر لیں…۔شاید درد جسم سے زیادہ… دل میں ہو رہا تھا۔
+++++++++++++
تین دن بعد…
اسوان، پریشے کی یونیورسٹی کے باہر آ کر رُک گیا۔
اس نے اُس دن اُسے یونیورسٹی سے واپس آتے دیکھا تھا۔۔ تو وہ سمجھ گیا تھا کہ پریشے یونیورسٹی واپس جانے لگی ہے۔۔۔ تو وہ اُس کے یونیورسٹی آگیا تھا
کالی BMW سڑک کے کنارے خاموش کھڑی تھی…
مگر اُس کے اندر بیٹھا شخص…
بےحد بےچین تھا۔
جیسے ہی پریشے یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلی…
اُس کی نظر اُس گاڑی پر پڑی
اور ایک لمحے میں…
اُس کے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔
دل زور سے دھڑکا…
اور قدم خودبخود پیچھے ہٹ گئے۔
وہ فوراً مُڑی…
اور تیز قدموں سے سائیڈ سے نکل کر بھاگنے لگی۔
بغیر پیچھے دیکھے…
بس بھاگتی چلی گئی…
یہاں تک کہ یونیورسٹی کافی پیچھے رہ گئی۔
جب سانس جواب دینے لگی…
تو وہ رک گئی۔
ہانپتے ہوئے اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا—
کوئی نہیں تھا۔
اُس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی…
تو تب احساس ہوا
وہ غلط راستے پر آ گئی تھی۔
اُس کے گھر کا راستہ تو سامنے والی سڑک سے تھا…
اور وہ پیچھے کی سڑک پر نکل آئی تھی۔
وہ کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی…
اپنی بکھری سانسیں سنبھالتی ہوئی…
تبھی
اُس کے برابر میں ایک بلیک کار آ کر رُکی۔
شیشہ آہستہ سے نیچے ہوا۔
اسوان کی نظریں سیدھی اُس پر تھیں۔
تمہیں لگتا ہے…؟
تم میری نظروں سے بھاگ سکتی ہو…؟
پریشے خاموش کھڑی رہی…
بس اُسے دیکھتی رہی۔
پھر اُس نے دھیمی آواز میں کہا
میری زندگی کیوں مشکل میں ڈال رہے ہیں…؟
سنبھال تو سکتے نہیں مجھے…
چھوڑ بھی نہیں رہے ہیں…
اسوان دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکلا۔
چند قدموں میں اُس کے قریب آ گیا۔
بغیر کچھ کہے اُس کا ہاتھ پکڑا…
اور اُسے اپنی طرف گھما کر گاڑی کی دوسری سائیڈ لے آیا۔
دروازہ کھولا۔
بیٹھو…
پریشے نے ایک لمحہ اُسے دیکھا…
پھر خاموشی سے جا کر بیٹھ گئی۔
اسوان بھی دوسری طرف آ کر بیٹھا…
اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ گاڑی سڑک پر چل پڑی۔
پریشے نے نظریں کھڑکی کے باہر جما دیں…
جیسے اُس کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہو…
مگر وہ خود کو روک رہی ہو۔
پھر آخرکار اُس نے بول ہی دیا
اس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں…
میں کسی بھی طرح اب آپکو معاف نہیں کر سکتی۔۔
ایک موقع تو دے ہی سکتی ہو…
سوری…
اسوان نے اچانک گاڑی سائیڈ پر روک دی…
اور اُس کی طرف مُڑا۔ اُس کی آنکھوں میں بےچینی صاف تھی۔
تمہیں سمجھ نہیں آ رہا…؟ میں مر رہا ہوں…
مجھے سکون نہیں مل رہا…
اُس کی آواز اونچی ہو گئی۔
پاگل ہو گیا ہوں میں تمہارے پیچھے…
مجھے لگا تھا… میں تمہارے ساتھ پیار کا ڈرامہ کر رہا تھا… لیکن میں خود ہی خود کو دھوکا دے رہا تھا…
وہ ایک سانس میں سب کہتا چلا گیا۔
یمنہ واپس آ گئی… زیدان آفیس آنے لگا…
آفس میں بھی سب ٹھیک ہو گیا… سب کچھ ٹھیک ہو گیا… سب پہلے جیسا ہو گیا…
لیکن تم… میں تمہیں بھول نہیں پایا…
نہیں بھول پا رہا…
پھر اچانک اُس نے شدت سے کہا
تمہارے پاس واپسی کا راستہ نہیں ہے…
تمہیں میرے ساتھ ہی چلنا پڑے گا۔۔۔
اُس کی آواز گاڑی میں گونج گئی۔
پریشے اُسے دیکھتی رہی… پھر… جیسے ہر بار ہوتا تھا
وہ اس بار بھی اُس کے سامنے ہار گئی۔
اور اچانک پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
کہاں پھنس گئی ہوں…
وہ روتے ہوئے سامنے ڈیش بورڈ پر سر مارنے لگی۔
اسوان فوراً گھبرا گیا۔
کیا کر رہی ہو یہ…؟!
وہ فوراً اپنا ہاتھ آگے لے آیا… تاکہ وہ خود کو زخمی نہ کر لے۔
پریشے کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
کیوں آئے آپ میری زندگی میں…؟ کیوں آئے…؟
اچھی بھلی تھی میں… آپ دیکھیں… کیسی ہو گئی ہوں میں…
اسوان کی آواز نرم پڑ گئی۔
سوری…
وہ آہستہ سے بولا۔
بس ایک… ایک چانس دے دو… میں سب ٹھیک کر دوں گا…
پریشے نے فوراً سر ہلایا…
نہیں…
اسوان نے بےبسی سے اُس کی طرف دیکھا…
اُس کی آنکھوں میں اب غرور نہیں تھا… صرف التجا تھی۔
تم جیسے کہو گی… میں ویسا بن جاؤں گا…
اُس کی آواز آہستہ مگر ٹوٹتی ہوئی تھی۔
تم جیسا بولو گی… ویسا ہی کروں گا…
بس ایک بار پریشے… ایک بار…
میں بدل لوں گا خود کو…
پریشے نے آنسو صاف کیے… اور اُسے غور سے دیکھا۔
محبت کرتے ہیں مجھ سے…؟
اسوان نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے کہا
بہت…
پریشے کی آنکھوں میں ہلکی سی تلخی آ گئی۔
پہلے بھی تو یہی کہا تھا آپ نے…
اسوان نے فوراً جواب دیا
اُس وقت بھی سچ کہا تھا…
وہ ایک لمحہ رکا…
پہلے دن سے ہی کرتا تھا…
پریشے نے فوراً سوال کیا
یمنہ سے بھی تو محبت کرتے تھے…؟
تبھی تو اُسے دیکھتے ہی… مجھے جانے کا کہہ دیا…
پہلی دفعہ… پہلی دفعہ میں نے اپنا نہیں سوچا تھا…
وہ آہستہ سے بولا تمہارا سوچا تھا…
پریشے خاموش ہو گئی۔
اسوان کی نظریں اُس پر ٹکی تھیں۔
اُس دن… جب میں نے سنا کہ یمنہ آ گئی ہے…
وہ ایک لمحہ رکا…
میں خوش نہیں ہو پایا تھا…
حالانکہ مجھے خوش ہونا چاہیے تھا…
اُس کی آواز میں الجھن تھی۔
لیکن میں نہیں ہو پایا… پتا نہیں کیوں…
میں خود بھی نہیں سمجھ پایا…
پھر مجھے لگا…
تم ویسے بھی میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی…
وہ تلخ سا مسکرایا۔
اُس وقت میرے دل نے کہا…
کہ خودغرض ہو جاؤ…
ایک بار پھر سے تمہیں کہیں جانے نہ دو…
وہ چند لمحے خاموش رہا…
لیکن پھر میں نے سوچا…
کہ تم… ایسے شخص کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے…
اکیلی خوش رہ سکتی ہو…
تُم میرے قابل نہیں ہو میں جانتا ہوں یہ بات۔۔۔
لیکن میں نے خود کو تُمہارے قابل بنا دوں گا۔۔۔
میں اس بار پھر خودغرض ہو کر تُمہارے پاس آیا ہوں۔۔
پریشے نے فوراً اُس کی بات کاٹ دی۔
اور آپ چاہتے ہیں… میں پھر اس بار آپ کا سوچ لوں…؟
اسوان نے آہستہ سے سر ہلایا۔
نہیں…
وہ ایک لمحہ رکا… پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا اپنا سوچو…
کیا تم رہ لو گی میرے بغیر…؟
پریشے نے لمبے وقت تک اُسے دیکھا…
جیسے اُس کے پار دیکھ رہی ہو…
پھر آہستہ سے کہا
ہاں…
اسوان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
کیونکہ وہ جانتا تھا… وہ ذرا بھی نہیں بدلی…
مر جائے گی… مگر یہ کبھی اقرار نہیں کرے گی…
کہ وہ اُس پر جان وارتی ہے۔
اسوان نے پھر آہستہ سے کہا
پھر سوچ لو میرا… ترس کھا لو مجھ پر…
پریشے کے چہرے پر حیرت اُتر آئی۔
ترس…؟ یہ اسوان دیار شاہ کو کیا ہو گیا ہے…؟
وہ کسی عام سی لڑکی سے کہہ رہا ہے…
کہ وہ اُس پر ترس کھائے…؟
اسوان نے بغیر جھجک کے کہا
ہاں… کھا لو ترس مجھ پر…
اُس کی آواز میں اس بار انا نہیں تھی…
صرف محبت تھی… اور بےبسی۔..
پریشے نے سنجیدگی سے اُس کی طرف دیکھا…
آپ چاہتے ہیں میں آپ کی زندگی میں واپس آ جاؤں…؟
آپ کو معاف کر دوں…؟
اسوان نے فوراً کہا ہاں…
پریشے نے گہری سانس لی۔ تو میری ایک شرط ہے…
اسوان چونکا۔ کیسی شرط…؟
پریشے کی آنکھوں میں اس بار نرمی نہیں…
فیصلہ تھا۔
مجھے اس بار گارنٹی چاہیے…
کہ میری آپ کی زندگی میں کیا حیثیت ہے…
اسوان نے بغیر سوچے کہا بتاؤ… کیا کروں میں…؟
پریشے نے نظریں ہٹا لیں…
میں یونیورسٹی اسکالرشپ پر چائنا جا رہی ہوں…
اسوان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
تم… تم چائنا کیسے جا سکتی ہو…؟
پریشے نے سختی سے کہا میری پوری بات سنیں…
اسوان خاموش ہو گیا۔
تقریباً چار سے پانچ سال کے لیے…
وہ ایک لمحہ رکی… اب مجھے جانے دیں…
اب پانچ سال تک تمہارا انتظار کروں…؟
پریشے نے سیدھا جواب دیا
ہاں… اور صرف میرا نہیں…
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
پری کا بھی نہیں…
اسوان چونک گیا۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں واپس آؤں…
تو آپ کو پری کو میرے ساتھ بھیجنا پڑے گا…
کیا…؟ اسوان نے حیرت سے کہا
پریشے نے ایک ایک لفظ واضح کہا اور بغیر کوئی سوال کیے… اور جب تک میں نہ چاہوں… آپ پری سے کوئی رابطہ نہیں کر سکتے…
میں تمہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں… اور تم خود سے تو کیا… پری سے بھی دور کرنا چاہتی ہو…؟
اسوان کی آواز میں بےبسی تھی۔۔
پریشے نے بےرحمی سے کہا ہاں… کیونکہ یہ آپ کی سزا ہے… وہ ذرا قریب ہوئی… مجھے پروف بھی تو چاہیے… کہ آپ واقعی بدلنا چاہتے ہیں…
اُس کی آواز نرم ہوئی… مگر مضبوط رہی
یہ آپ کی سزا ہے… اگر آپ نے یہ کر لیا… تو میں بھی ویسی ہی ہو جاؤں گی… جیسی آپ نے مجھے شادی سے پہلے پایا تھا…
پھر وہ پیچھے ہٹی۔
سوچ لیں… اگر نہیں… تو…
اسوان نے مشکل سے پوچھا
کیا پری تمہارے ساتھ چلی جائے گی…؟
پریشے نے بےپرواہی سے کہا
وہ آپ کا مسئلہ ہے… میرا نہیں…
وہ دروازہ کھول کر گاڑی سے اُتر گئی۔
پھر مُڑ کر گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھتی بولی۔۔
پری کو میرے ساتھ بھیج دیں، یا ہمیشہ کے لیے مجھے بھول جائیں…
اور وہ گاڑی کا دروازہ بند کرتی چلی گئی… اسوان وہیں بیٹھا رہ گیا…
پریشے کو یقین تھا…
وہ نہیں بھیجے گا۔ کچھ دن پہلے ہی وہ پری سے ملی تھی…
اور اُس کی باتیں سننے کے بعد…
اُسے احساس ہوا۔۔ مسئلہ صرف یمنہ نہیں تھی…
مسئلہ پری کے رویے کا بھی تھا۔۔۔
جیسے اُس نے پریشے کو تنگ کیا تھا…
ویسے ہی شاید یمنہ کو بھی کیا ہوگا۔
پریشے کے دل میں فکر تھی…
مگر اُس سے زیادہ… وہ پری کو بدلنا چاہتی تھی۔
اور وہ جانتی تھی، اسوان کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں… وہ ہر بات پر اُس کا ساتھ دیتا تھا…
اُسے کبھی روک نہیں پایا۔
اگر اسوان مان جاتا۔۔ تو یہ اُس کا موقع ہوگا…
پری کو سنبھالنے کا… اُسے بہتر بنانے کا۔
اور اگر نہ مانا تو… وہ اس رشتے سے آزاد ہو جائے گی۔
ہاں… تکلیف ہوگی… بہت ہوگی… مگر وہ سنبھل جائے گی۔ اور آسانی سے اُس کی اسوان سے جان بھی چھوٹ جائے گی۔۔۔
لیکن کہیں نہ کہیں…اُسے یقین تھا۔۔۔
اسوان نہیں بھیجے گا… کیونکہ پری…
اُس کی زندگی کی سب سے قیمتی چیز تھی۔
وہ کیسے اُسے… پریشے کے ساتھ… وہ بھی اکیلے…
اور وہ بھی چائنا… بغیر کسی رابطے کے بھیج سکتا تھا…؟
++++++++++++
اسوان گھر آیا تو اُس کے قدموں میں وہ مضبوطی نہیں تھی جو ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔
آج وہ بے حد فکرمند تھا… بے حد بےچین… جیسے دل کے اندر کوئی جنگ چل رہی ہو۔
وہ آ کر لاؤنج کے صوفے پر بیٹھ گیا… سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
کیا کروں…؟ بھیج دوں… یا نہ بھیجوں…؟
نہیں… نہیں بھیج سکتا…
مگر اگر نہ بھیجا تو… وہ ہمیشہ کے لیے چلی جائے گی…
وہ انہی خیالوں میں گم تھا کہ اچانک چھوٹے قدموں کی چاپ سنائی دی۔
باباااا…!
پری دوڑتی ہوئی اُس کے پاس آئی اور سیدھا اُس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
آپ آگئے…؟ ماما کو ساتھ نہیں لائے…؟
اسوان نے سر اٹھا کر اُسے دیکھا… چند لمحے خاموش رہا… پھر دھیمی آواز میں بولا،
نہیں…
پری کے چہرے کی چمک ایک لمحے میں مدھم پڑ گئی۔
لیکن… میں تو اُن سے مل کے آئی ہوں… میں نے معافی بھی مانگی… اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ آ جائیں گی…
اسوان کے چہرے پر حیرت ابھری۔
تم گئی تھی اُس سے ملنے…؟ کب…؟
کچھ دن پہلے… چاچی کے ساتھ…
اسوان چند لمحے اُسے دیکھتا رہا… پھر نظریں ہٹا لیں۔
وہ… باہر جا رہی ہے نا… پڑھنے کے لیے…
پری نے فوراً سوال کیا،
کیوں…؟
اسوان نے گہری سانس لی۔
پڑھائی کے لیے…
پری نے فوراً کہا،
تو آپ روک لیں نا… نہیں جانے دیں…
اسوان کے لبوں پر ایک کڑوی سی مسکراہٹ آئی۔
تمہیں اُن کے ساتھ جانا ہے…؟
پری تھوڑی دیر چپ رہی… پھر معصومیت سے پوچھا،
اور آپ…؟
اسوان کا دل جیسے کسی نے زور سے مروڑ دیا ہو۔
میں تو نہیں جا سکتا نا… مجھے آفس کا کام ہوتا ہے…
پری کی آنکھوں میں نمی سی آگئی۔
تو پھر…؟
اسوان نے مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا،
تم اُن کے ساتھ جانا چاہتی ہو تو بتاؤ… ورنہ وہ اکیلی چلی جائے گی…
اور آپ…؟
میں یہی ہوں گا… تم مجھ سے کال پر بات کرتی رہنا…
پری نے ہونٹ کاٹتے ہوئے پوچھا،
کتنے دن کے لیے جا رہی ہیں…؟
جب تک اُن کی پڑھائی مکمل نہیں ہوتی…
پری نے آہستہ سے سر ہلایا… پھر چند لمحے خاموش رہی۔
اچھا… اگر میں نہ جاؤں تو…؟
اسوان نے آنکھیں بند کر لیں… جیسے یہ سوال وہ سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔ پھر بمشکل بولا،
تو… وہ واپس کبھی نہیں آئیں گی…
پری چونک گئی۔
کیوں…؟
شَرط رکھی ہے اُس نے… اسوان کی آواز بھاری ہو گئی،
اگر میں تمہیں اُس کے ساتھ جانے دوں… تو وہ مجھے نہیں چھوڑے گی…
پری کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
یہ کیسی شرط ہے…؟
اسوان نے نظریں اُس پر جمائیں۔
تم بتاؤ… جانا ہے…؟
پری نے کچھ لمحے سوچا… پھر آہستہ سے بولی،
میں چلی جاتی ہوں نا… پھر ماما آپ کو بھی نہیں چھوڑیں گی…
اسوان کے دل میں جیسے کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔
وہ بس اُسے دیکھتا رہ گیا…
ہاں… اُس نے دھیرے سے کہا۔
اگلے ہی لمحے پری اُس کے گلے لگ گئی۔
میں چلی جاؤں گی بابا… آپ پریشان نہ ہوں…
اسوان نے بھی اُسے زور سے اپنے ساتھ لگا لیا… مگر اُس کے ہاتھوں میں وہ مضبوطی نہیں تھی…
اُس کے دل میں اب بھی ایک جنگ جاری تھی…
باپ ہونے کی… اور محبت کرنے والے انسان ہونے کی…
اور وہ… ابھی تک فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا… کہ ہار کس کی ہونی ہے۔
+++++++++++
اسوان کیفے کے ایک کونے میں بیٹھا تھا…
سامنے رکھی کافی کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی مگر اُس کے ذہن میں چلنے والے طوفان کو کوئی تھام نہیں پا رہا تھا۔
وہ بار بار ایک ہی سوال میں الجھ رہا تھا…
کیا میں صحیح کر رہا ہوں…؟
اسی کشمکش میں اُس کی نظر اچانک کیفے کے پچھلے حصے پر پڑی…
اور وہاں…
یمنہ بیٹھی تھی… کسی اجنبی لڑکے کے ساتھ۔
ایک لمحے کو اسوان کے اندر کچھ ہلا…
مگر اگلے ہی لمحے اُس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آگئی۔
یہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی…
وہ بغیر کسی ردِعمل کے اُٹھا…
اور خاموشی سے اپنی جگہ بدل کر ایسے کونے میں جا بیٹھا جہاں سے یمنہ اُسے دیکھ نہ سکے۔
اب اُس کے لیے وہ سب ختم ہو چکا تھا…
نہ کوئی سوال… نہ کوئی شکوہ… نہ کوئی تعلق۔
چند لمحوں بعد…
کیفے کے دروازے سے وہ اندر آئی…
پرِیشے۔
سادگی میں لپٹی…
مگر ہمیشہ کی طرح پُرسکون اور پُراعتماد۔
وہ سیدھا اُس کے سامنے آ کر رُکی۔
السلام علیکم… فرمائیے… کیا سوچا آپ نے؟
اسوان نے ہلکا سا سر اٹھایا…
وعلیکم السلام… بیٹھو۔
وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسوان بولا…
تم… گھر سے جانے کے بعد بیمار ہو گئی تھی؟
پرِیشے نے چونک کر اُسے دیکھا۔
آپ کو کس نے بتایا؟
اسوان کی آواز سخت ہو گئی…
جو پوچھا ہے… اُس کا جواب دو۔
پرِیشے نے بس سر ہلایا۔۔۔
اسوان نے آہستہ سے کہا…
سوری…
وہ لمحہ بھر رُکا… پھر بولا،
تم چُپ چاپ کیوں چلی گئی… چیختی… چِلاتی… مجھے پر، تھپڑ مار دیتی… ہمیشہ سے تُم ایسا ہی کرتی ہو، تو اُس دِن پھر کیوں تُم چپ چاپ چلی گئی۔۔۔
پرِیشے نے فوراً جواب دیا،
آپ کو تھپڑ کھانے کا بہت شوق ہے؟
اسوان ہلکا سا مسکرایا…
نہیں… شاید اُسی وقت میرے ہوش ٹھکانے آ جاتے…
اسوان نے موضوع بدلا…
تم نے تو پڑھائی چھوڑ دی تھی… پھر یہ یونیورسٹی اچانک؟
پرِیشے کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اگر آپ اسوان ہیں… تو میں بھی پھر پرِیشے ہوں… چُپکے سے جاتی تھی یونیورسٹی… آپ کے گھر سے ہی…
اسوان جیسے سُن ہو گیا۔
کیا…؟ میرے گھر میں… میری مرضی کے بغیر۔
میری مرضی کے بغیر میرے گھر میں ایک صوفہ تک نہیں بدلتا… اور تم؟!
پرِیشے نے سکون سے کہا،
پریشے کو نہیں سننے کی عادت نہیں ہے۔۔۔
لیکن مجھے پتہ کیسے نہیں چلا۔۔۔
اپنے آفس جانے کے بعد گھر سے نکلتی تھی اور آپ کے آفیس آنے سے پہلے ہی گھر واپس آجاتی تھی۔۔ سارے گھر والوں کو بھی پتہ تھا۔۔ سب کو لگا آپ نے اجازت دی ہے… لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا…
اسوان نے گہری سانس لی۔
بہت چالاک ہو تم…
آپ سے سیکھی ہے چالاکی…
چند لمحے خاموشی میں گزرے… پھر اسوان نے سیدھا سوال کیا،
پری کو ساتھ کیسے لے جاؤ گی؟ اسکالرشپ پر؟
پرِیشے فوراً سنبھل گئی۔
پرنسپل میم سے بات ہو گئی ہے… میری فیس، ہاسٹل سب وہ دیں گے… مُجھے تو ریسپانڈ کر رہے ہیں، لیکن پری کا آنے جانے اور وہاں کا سب کا خرچ مجھے خود اُٹھانا ہوگا…
اور میں نے میم سے کہہ دیا ہے…آپ اس چیز کی فکر نہ کریں۔۔ میری بیٹی کا باپ بہت امیر ہے…
پھر اُس نے ہلکی سی طنزیہ نظر سے اسوان کو دیکھا۔
امیر ہے نہ۔۔۔؟؟
اسوان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ہاں… بالکل ہے۔۔۔لیکن تم نے کبھی میرے پیسے استعمال نہیں کیے… کیوں؟
پرِیشے کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔
میں نے مانگا تو تھا… کہ یونیورسٹی کی فیس دوں گی… وہ میں نے حقِ مہر کے پیسوں سے دے دی… باقی ہسپتال والے پیسے محلے والوں کی مدد سے لیے تھے… وہ اُنہیں واپس کر دیے…
وہ چند لمحے رکی، پھر دھیرے سے بولی،
اور پھر میرا دل یہ گوارا نہیں کر رہا تھا کہ میں آپ کے پیسے خرچ کروں…
اسوان نے پوچھا، کیوں؟
پریشے نے سیدھا جواب دیا،
کیونکہ شوہر بننا تھا نا… صرف نام کا شوہر نہیں کہنا تھا آپ کو… ماننا بھی تھا…
اسوان اُسے دیکھتا رہ گیا۔
یہ کیا منطق ہے؟
چھوڑیں… اپنا فیصلہ سنائیں…
اسوان نے ایک گہری سانس لی…
جیسے خود کو اندر سے مضبوط کر رہا ہو۔
پھر اُس نے سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا…
مجھے تمہاری شرط منظور ہے…
پرِیشے جیسے ساکت رہ گئی۔
سچ میں…؟
اسوان نے بغیر ہچکچائے جواب دیا،
ہاں… سچ میں…
وہ آگے جھکا… آواز دھیمی مگر مضبوط تھی،
صرف انتظار ہی تو کرنا ہے نا… کر لوں گا…
لیکن تمہیں کھو کر پوری زندگی کا خسارہ نہیں کر سکتا…
اور پرِیشے حیرانی سے اسوان کا چہرا دیکھتی رہ گئی۔۔
+++++++++++
آج پھر یونیورسٹی جاتے وقت کائنات حسبِ عادت اپنا ہاتھ پھیلائے زیدان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
زیدان نے اُسے دیکھ کر بھنویں اُچکائیں۔
اتنے پیسے تو ہیں تمہارے پاس…
کائنات نے فوراً جواب دیا،
میں چاہے جتنی بھی امیر کیوں نہ ہو جاؤں… آپ کو تو مجھے پیسے دینے ہی پڑیں گے…
کیوں…؟
کائنات نے فخر سے ٹھوڑی اُٹھائی۔
کیونکہ بیوی کا حق ہوتا ہے یہ…
زیدان نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
پہلے تمہیں یہ حق یاد نہیں آیا…؟
کائنات نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
آیا تھا… لیکن تب میں سمجھتی تھی آپ بےروزگار ہیں… مجھے کیا معلوم تھا آپ اتنے بڑے جم ٹرینر ہیں…
زیدان پھر جیب سے چند نوٹ نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔
لو… خوش…؟
کائنات نے فوراً نوٹ سنبھالے اور چمکتی آنکھوں سے بولی،
بہت…
زیدان نے اُسے غور سے دیکھا۔
اور تمہیں اب جم نہیں جانا…؟
کائنات نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… میں کیا کروں گی جم جا کر… میں کوئی موٹی تھوڑی ہوں…
زیدان نے آنکھیں سکیڑ کر کہا،
تو گئی کیوں تھی…؟
کائنات ہلکا سا شرما کر بولی،
دیکھنے گئی تھی نا… دیکھ لیا… اب کسی دن دل کیا تو چلی جاؤں گی…
چلو… میں یونی چھوڑ دیتا ہوں تمہیں…
کائنات کے لبوں پر فوراً مسکراہٹ آگئی۔
ہاں… میں یہ کہنے والی تھی…
وہ دونوں ساتھ دروازے کی طرف بڑھے…
اور کائنات دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی…
کیونکہ اب وہ مان چکی تھی،
یہ صرف اُس کا شوہر نہیں… بلکہ اُس کا اپنا تھا۔۔۔
++++++++++++
جب گھر والوں کو پتا چلا کہ اسوان، پری کو باہر بھیج رہا ہے… وہ بھی پریشے کے ساتھ… تو پورے گھر میں جیسے ہلچل مچ گئی۔
ہر طرف اعتراض ہی اعتراض تھا…
کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا۔
اتنی چھوٹی بچی کو اتنی دور بھیج دو گے…؟
وہ بھی سوتیلی ماں کے ساتھ…؟
یہاں تو ہم سب نظر رکھتے ہیں بہت وہ بچی کے ساتھ کیا کر دے کیا پتا چلے گا کسی کو۔۔۔
مگر ان سب آوازوں کے درمیان…
ایک آواز سب پر بھاری تھی… اور وہ تھی اسوان کی۔
اس نے فیصلہ کر لیا تھا…
اور اس گھر میں جب اسوان فیصلہ کر لیتا تھا…
تو پھر کسی اور کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی تھی۔
اصل میں… اسے ایسا بنایا ہی گیا تھا۔
راضیہ بیگم اور فیضان صاحب کے ہوتے ہوئے بھی…
گھر میں آخری بات ہمیشہ اسوان کی ہی مانی جاتی تھی۔
اور اب تو حالات اور بھی بدل رہے تھے…
ابھی پری کی بحث ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک نیا موضوع چھڑ گیا۔۔۔
حریم بیگم نے اپنے بیٹے دائم کے لیے زارا کا ہاتھ مانگ لیا تھا۔
یہ خبر جیسے ہی زارا تک پہنچی…
اُس کے قدم وہیں رک گئے۔
چہرے کا رنگ اُڑ گیا…
کیا…؟ اُس کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔
اُسے یوں لگا جیسے کسی نے اچانک اُس کے سر پر بم گرا دیا ہو۔
+++++++++++++
زارا غصے سے فون کان سے لگائے کھڑی تھی،
چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور آنکھوں میں جھنجھلاہٹ صاف نظر آ رہی تھی۔
تمہارا دماغ خراب ہے کیا…؟ میں تم سے شادی کروں گی…؟
دائم کی طرف سے ہلکی سی بےبسی بھری آواز آئی،
یار میں کیا کروں… ماما کی پسند ہو… وہ میری سن ہی نہیں رہیں…
زارا نے دانت بھینچے۔
مرد بنو… مرد… جا کر صاف صاف منع کر دو…
دائم نے لمبی سانس لی۔
نہیں مان رہی نا… میں نے تمہاری اتنی برائی بھی کی ہے اُن کے سامنے… لیکن وہ اپنی بات سے پیچھے ہی نہیں ہٹ رہیں…
زارا ایک لمحے کو چونکی… پھر بھڑک اُٹھی۔
تم نے میری برائی کی…؟ مجھ میں کیا برائی ہے…؟ اچھی خاصی ہوں… کوئی برائی نظر آتی ہے مجھے…؟
دائم ہلکا سا ہنسا،
وہی نا… ماما بالکل یہی کہہ رہی تھیں… اب میں کس منہ سے منع کروں…؟
زارا نے جھنجھلا کر پیشانی پر ہاتھ مارا۔
تم کہہ دو تم کسی اور کو پسند کرتے ہو…
لیکن میں تو کسی کو پسند نہیں کرتا…
ارے جھوٹ بول دو نا…!
دائم فوراً بولا،
پھر ماما کہیں گی کون ہے وہ لڑکی… ملو مجھے… تو میں کیا کروں گا…؟
زارا نے جھٹکے سے کہا،
افف کچھ بھی کہو… جیسے بھی… کچھ بھی کرو…
دائم نے تھوڑا رک کر کہا،
تم منع کر دو نا…
زارا کی آواز میں بےبسی آگئی۔
ادھر ہزار دفعہ میں کہہ چکی ہوں سب سے… لیکن کوئی سنتا کہاں ہے میری…
ابو سے تو کچھ کہہ ہی نہیں سکتی… زرتاشہ کی وجہ سے ابو پہلے ہی اپ سیٹ ہیں…
دائم نے آخرکار ہار مانتے ہوئے کہا،
بس ہو گیا… میں بھی کچھ نہیں کر سکتا… تم دیکھ لو…
اور اگلے ہی لمحے…
فون کٹ گیا۔
زارا چند لمحے فون کو دیکھتی رہ گئی… جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو۔
یہ پہلی بار تھا…
کہ دائم نے خود فون کاٹا تھا…
ورنہ ہمیشہ وہی کرتی تھی۔
آہہ… بدتمیز کہیں کا… وہ غصے سے بڑبڑائی۔
جاہل… ہمت تو دیکھو اس کی…
وہ تیزی سے کمرے میں ٹہلنے لگی۔
اس کی تو میں چھوڑوں گی نہیں… مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا…
اس نے فوراً فون اٹھایا… اور زرتاشہ کا نمبر ملا دیا۔
زرتاشہ نے فون اُٹھاتے ہی سیدھا پوچھا،
ہاں بولو…
زارا کی آواز میں جھنجھلاہٹ صاف تھی۔
مجھے بتاؤ یہ دائم سے میں اپنی جان کیسے چھڑاؤں…؟
زرتاشہ نے بالکل سادہ لہجے میں کہا،
چپ سے شادی کرو… اور لندن چلی جاؤ…
یار… زارا تقریباً چیخ پڑی،
تم جانتی بھی ہو اسے… ایک نمبر کا سائیکو انسان ہے وہ…
صرف اُلٹی سیدھی باتیں ہی کرتا ہے نا بس… اور تو کوئی برائی نہیں اُس میں…
دیکھو… اچھا کماتا ہے، ڈیسنٹ سا لڑکا ہے… لڑکیوں کی اتنی عزت بھی کرتا ہے…
اوپر سے انڈر اسٹینڈنگ ہے… تمہیں سمجھے گا… تمہارا خیال بھی رکھے گا…
زارا چند لمحے خاموش رہی… پھر حیرانی سے بولی،
تمہیں کیا ہو گیا ہے…؟ تم کب سے کمپرو مائز والی باتیں کرنے لگی…؟
زرتاشہ کی آواز اب سنجیدہ ہو گئی۔
ہر رشتے میں کمپرو مائز کی ضرورت ہوتی ہے، زارا…
سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم سوچتے ہیں…
اور میاں بیوی کے رشتے میں تو خاص…
پھر اُس نے نرمی سے کہا،
اور دیکھو… سب سے اچھی بات… پھپھو نے خود تمہارا رشتہ مانگا ہے… انہیں تم پسند ہو… وہ تمہیں اپنے گھر میں اچھے سے رکھیں گی…
زارا نے فوراً بات کاٹ دی۔
پھپھو کی بات ہی نہیں ہے… یہاں بات ہسبنڈ کی ہے…
مجھے اسوان جیسا ہسبنڈ چاہیے…
زرتاشہ نے فوراً طنزیہ انداز میں کہا،
دھوکے باز…؟
نہیں… سنسیر… ریسپانسبل… خیال رکھنے والا…
اور یہ دائم… اسے ہر چیز مذاق لگتی ہے…
زرتاشہ نے گہری سانس لی۔
میں نے کہا نا… کمپرو مائز کرنا ہوتا ہے…
ذمہ داری تو وہ تمہاری اٹھا لے گا… اتنا تو مجھے بھی پتا ہے… اور خیال بھی رکھ سکتا ہے…
ہاں… سیریز نہیں رہ سکتا وہ۔۔۔
زارا نے منہ بنایا۔
اوپر سے اُس کی پاگلوں جیسی باتیں مجھے اریٹیٹ کرتی ہیں…
زرتاشہ نے سیدھی بات کی،
تم دیکھ لو… تمہارے پاس آپشن نہیں ہے…
چند لمحے خاموشی رہی… پھر وہ دوبارہ بولی،
ابھی تک جتنے بھی رشتے آئے ہیں…
اُن سب میں ابو اسی کو فائنل کرنے والے ہیں…
اور مجھے تو لگ رہا ہے اس معاملے میں…
امّاں بھی ہمارا ساتھ نہیں دیں گی…
زارا نے گہری سانس لی…
دل اور دماغ جیسے آپس میں لڑ رہے تھے۔
وہی تو مسئلہ ہے… اُس نے آہستہ سے کہا،
دادی نے رضامندی دے دی ہے…۔بس اب ابو کا فیصلہ آنا باقی ہے…
زارا نے بےچینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور تیزی سے بولی،
اور تمہیں پتا ہے… اسوان نے نا پری کو پریشے کے ساتھ بھیجنے لگا ہے… چائنا… وہ بھی…
زرتاشہ چونکی۔
کیوں…؟
زارا نے بےبسی سے کندھے اُچکائے۔
پتا نہیں کیوں… بس ہمیں بتایا کہ پریشے باہر پڑھنے جا رہی ہے… تو پری کو میں اُس کے ساتھ بھیج رہا ہوں…
زرتاشہ نے سر ہلایا، جیسے بات اُس کی سمجھ سے باہر ہو۔
یہ انسان بھی عجیب ہے…
زارا نے لمبی سانس لی۔ یار…
زرتاشہ نے تھوڑا سوچ کر کہا،
تم دیکھو… اماں سے بات کر کے…
زارا فوراً بولی،
کوئی اچھا سا آئیڈیا دو نا…
زرتاشہ نے سیدھا جواب دیا،
میرے پاس نہیں ہے… جو کرنا ہے خود ہی کرو…
فون کے اُس پار خاموشی چھا گئی…
زارا نے آہستہ سے فون نیچے کیا…
اور بستر پر بیٹھ گئی…
+++++++++++++
ایئرپورٹ کی روشنیاں آنکھوں کو چبھ رہی تھیں…
اور ہجوم کے شور میں بھی ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔
پریشے اپنی فیملی کے ساتھ کھڑی تھی…
اس کے ساتھ ہانیہ اور مصباح بھی تھیں… جو اس کے ساتھ جا رہی تھیں۔
ہانیہ نے اُسے گھورتے ہوئے کہا، تم نا بالکل پاگل ہو…
پریشے نے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا، اب کیا کیا میں نے…؟
ہانیہ نے بھنویں چڑھائیں، اُس کی اولاد کو اپنے سینے سے لگا کے پھر رہی ہو…
پریشے نے کچھ نہ کہا…
بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ کر ٹھہر گئی…
جس میں بہت کچھ چھپا ہوا تھا۔
اُسی لمحے…
اسوان، پری کو ساتھ لیے اُن کی طرف بڑھا…
پری نے جیسے ہی پریشے کو دیکھا…
وہ فوراً اسوان کا ہاتھ چھڑا کر زور سے چیخی،
ماااا…!!
اور دوڑتی ہوئی جا کر پریشے سے لپٹ گئی۔
پریشے نے بھی اُسے مضبوطی سے اپنے ساتھ لگا لیا…
جیسے وہ پہلے ہی سے اسی لمحے کا انتظار کر رہی ہو۔
اسوان بھی قریب آیا…
تو احمد صاحب نے اُسے سخت نظروں سے دیکھا۔
سوری… اسوان نے دھیمی آواز میں کہا۔
احمد صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا…
بس اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
وہ صرف پریشے کی خاطر خاموش تھے…
ورنہ اگر اُن کے بس میں ہوتا…
تو وہ کبھی اسوان کو معاف نہ کرتے۔
پریشے نے اسوان کی طرف دیکھا…
آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔
پوری شرط یاد ہے نا آپ کو…؟
اسوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا،
خیال رکھنا اپنا…
پھر پریشے اور پری…
سب سے مل کر آگے بڑھنے لگیں۔
جیسے جیسے وہ دور جا رہی تھیں…
پیچھے کھڑے دو دل… ایک جیسے حال سے گزر رہے تھے۔
دونوں کی آنکھیں نم تھیں…
دونوں کی بیٹی دونوں کی نظروں سے دور بہت دور جارہی تھی۔۔۔
احمد صاحب نے آہستہ سے کہا،
اب پتا چلا… بیٹی دور جاتی ہے تو کیسا لگتا ہے…؟
اسوان نے گہری سانس لی… آواز میں درد تھا،
آپ کی تو صرف بیٹی جا رہی ہے…
میری تو بیوی بھی جا رہی ہے…
احمد صاحب نے تلخی سے کہا،
رہنے دو… تم اُسے اپنی بیوی مانتے کب ہو…
میری ہی غلطی تھی جو تم سے پریشے کی شادی کروا دی…
اسوان کی نظریں جھک گئیں۔
سوری…
احمد صاحب نے ایک لمحہ اُسے دیکھا… پھر کہا،
تمہارے پاس وقت ہے… سدھر جاؤ… ورنہ وہ واپس نہیں آئے گی…
یہ کہہ کر وہ مڑ گئے…
اور اسوان وہیں کھڑا رہ گیا…
آنکھوں کے سامنے…
وہ دونوں دور ہوتی جا رہی تھیں…
اور اس کے ہاتھ… خالی ہوتے جا رہے تھے۔
++++++++++++
وہ گھر آیا تو قدم جیسے بوجھل ہو گئے تھے…
صرف دس دن ہوئے تھے…
مگر یہ دس دن اُس پر برسوں کی طرح گزرے تھے۔
چہرے کی ویرانی… آنکھوں کی خالی پن…
یہ سب کچھ اتنا واضح تھا کہ
زیدان کو بھی اندازہ ہو گیا۔
وہی زیدان…
جسے کبھی کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا… یہاں تک کہ کوئی مر بھی جائے تو جب تک اُسے معلوم نہیں ہوگا جب تک کوئی اُسے بتا نہیں دیتا۔۔۔
زیدان نے اُسے غور سے دیکھا اور بےنیازی سے کہا،
بھیجا کیوں… جب جدائی برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے…؟
اسوان نے تھکی ہوئی سانس لی،
تو اور کیا کرتا…؟
صرف چند سالوں کی وجہ سے… ساری زندگی کے لیے تو اُسے کھو نہیں سکتا نا…
پھر ایک لمحہ رُک کر بولا،
پتا ہے… وہ مجھ سے پری کی بات کرواتی ہے…
مگر خود بات نہیں کرتی…
زیدان نے کندھے اُچکائے، تو چلے جاؤ…
اسوان نے چونک کر دیکھا، کہاں چلا جاؤں…؟
زیدان نے سیدھا جواب دیا، بھابی کے پاس…
پاگل ہو…؟ اسوان فوراً بولا۔
زیدان ہلکا سا مسکرایا،
دیکھو… شرط میں بھابی نے یہ تو نہیں کہا تھا نا…
کہ تم چائنا اُن کے پاس نہیں آ سکتے…
اسوان کے چہرے پر ہلکی سی سوچ ابھری،
مطلب…؟
زیدان نے سادہ انداز میں کہا،
مطلب… جیسے ہمیشہ جاتے ہو… پھر چلے جاؤ…
اسوان کچھ لمحے خاموش رہا…
پھر آہستہ سے بولا، وہ اور ناراض ہو جائے گی…
زیدان نے بےفکری سے کہا، ابھی کونسا نہیں ہے۔۔۔
اسوان نے فوراً سر ہلایا، نہیں… نہیں… رہنے دو…
تمہاری مرضی…
وہ کہتا کرسی سے اُٹھ کر باہر چلا گیا۔
اسوان وہیں بیٹھا رہ گیا…
ذہن میں ایک ہی بات گونج رہی تھی،
چلا جاؤں…؟
دل کہہ رہا تھا،
ہاں…
مگر خوف… اب بھی اُس کے قدم باندھے ہوئے
+++++++++++++
چند سال بعد…
گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا…
ہر طرف خوشی کا شور تھا… قہقہے… مہندی کی خوشبو… اور دلہن کے گیت…
آخرکار…
زارا کے نہیں نہیں کرتے کرتے… آج اُس کا اور دائم کا نکاح تھا۔
پورا گھر سجا ہوا تھا…
ہر کمرہ جیسے کسی جشن کی کہانی سنا رہا ہو۔
ادھر…
کائنات تیار ہو کر اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی…
سادہ سا لباس… ہلکا سا میک اپ…
مگر اُس کی آنکھوں کی چمک… اور چہرے کی تازگی…
زیدان کو چند لمحوں کے لیے جیسے بھلا ہی گئی کہ وہ کہاں ہے۔
کائنات نے بھنویں چڑھائیں۔
آپ جائیں گے بھی یا نہیں…؟
زیدان خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا…
میں آپ سے بات کر رہی ہوں… کائنات نے تھوڑا زور دے کر کہا۔
مگر وہ…
اب بھی بس اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
آخرکار کائنات نے اُس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا۔
ہیلو…؟
زیدان جیسے ہوش میں آیا،
ہاں…؟ بولو…
کائنات نے ہلکی سی ناراضی سے کہا،
نہیں جائیں گے آپ…؟
زیدان نے نظر ہٹاتے ہوئے کہا،
جاؤں گا…
دل تو اُس کا بالکل نہیں تھا…
نہ وہ جانا چاہتا تھا…
اور نہ ہی کائنات کو اکیلے بھیجنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔
کہیں پھر اُس کے ساتھ کچھ ہو گیا تو…؟
اور پھر…
وہ آج…
حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
کائنات نے بےصبری سے کہا، پھر تیار ہو جائیں جلدی سے…
زیدان آہستہ سے اُٹھا، ہاں… پھر اُسے کُچھ یاد آیا۔۔
وہ کہاں ہے۔۔؟؟
وہ کون ؟؟ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی…
وہ کس کی بات کر رہا ہے۔
کیا نام ہے اُس کا۔۔۔؟؟ زیدان نے کائنات کو گھورتے غصے سے کہا
یا اللّٰہ وہ آپکا بچہ ہے۔۔۔
زیدان نے فوراً کہا، ہاں وہی بچہ… کہاں ہے وہ…؟
کائنات نے سکون سے جواب دیا،
وہ اماں کے پاس ہے… میں نے تیار کر دیا تھا اُسے…
زیدان نے سُکون کا سانس لیا،
ہاں… اچھا ہے… اُسے مجھ سے دُور ہی رکھو…
کائنات چونکی، اللہ اللہ کیوں…؟ آپ کا بچہ ہے وہ…
زیدان نے نظریں چرا لیں،
بس… دُور ہی رکھو اُسے مجھ سے…
اُسے دیکھ دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے… اُسے کچھ ہو جائے گا… اتنا چھوٹا سا ہے…
کائنات ہنس دی،
ہاہا… وہ ابھی ایک سال کا بھی نہیں ہوا… چھوٹا ہی ہوگا… بچے چھوٹے ہی ہوتے ہیں…
زیدان نے سر ہلایا،
نہیں… وہ بہت زیادہ چھوٹا ہے… اور بہت کمزور بھی… کہیں سے زیدان کا بیٹا نہیں لگتا…
کائنات نے نرمی سے سمجھایا،
ارے… بچے ایسے ہی ہوتے ہیں… ایک دم سے تو وہ بڑا نہیں ہو جائے گا نا…
زیدان نے بات ختم کرتے ہوئے کہا،
جو بھی ہے…
اور یہ کہہ کر وہ سیدھا واش روم میں چلا گیا۔
کائنات نے اُس کے پیچھے دیکھ کر سر ہلایا،
ہونٹوں پر بےبسی بھری مسکراہٹ آ گئی،
ان کا کچھ نہیں ہو سکتا…
پھر اچانک واش روم کے دروازے سے اُس نے سر باہر نکالا…
اور… کسی کو میرا بچہ نہیں دینا…
کائنات نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا…
زیدان نے سنجیدگی سے مزید کہا،
اور اچھے سے خیال رکھو میرے بچے کا…
جب بڑا ہو جائے… تب میرے سامنے لانا اُسے…
کائنات کے ہونٹوں پر ہنسی دب گئی…
اور ہاں… زیدان نے جیسے ابھی بات ختم نہ کی ہو،
اگر تم سے بھی وہ سنبھال نہیں رہا… تو اسوان بھائی کو دے دینا… پری کو بھی سنبھالے تھے وہ…
اُن کو بہت ایکسپیرینس ہے چھوٹے بچوں کو سنبھالنے کا…
کائنات اب ہنس پڑی…
زیدان نے آخری بار تاکید کی،
سچ میں کہہ رہا ہوں…
کائنات نے سر ہلاتے ہوئے مسکراتے کہا،
آپ بھی نا… حد کرتے ہیں… جلدی سے تیار ہوجائیں۔۔۔
اور پھر اندر غائب ہو گیا۔۔۔
++++++++++
زرتاشہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہادیہ کو تیار کر رہی تھی…
ننھی سی ہادیہ… جسے اس دنیا میں آئے ابھی صرف چھ مہینے ہی ہوئے تھے…
چھوٹے چھوٹے ہاتھ… گلابی سا چہرہ…
اور ذرا سی بات پر رونا…
زرتاشہ اس وقت اپنے میکے میں تھی…
اور ہادیہ کے کپڑے بدلتے ہوئے خود بھی ہلکی سی پریشان ہو رہی تھی۔
ارے بس بھی کرو… وہ پیار سے بولی،
مگر ہادیہ اور زور زور سے رونے لگی۔
اُسی وقت فون بجا…
اس نے ایک ہاتھ سے ہادیہ کو سنبھالا اور دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگا لیا۔
آپ کی بیٹی نا… مجھے بہت تنگ کرتی ہے… زرتاشہ نے شکایتی لہجے میں کہا،
جب بھی اس کے کپڑے چینج کرتی ہوں… اتنا اتنا چیخ چیخ کے روتی ہے…
دوسری طرف سے ہادی کی ہنسی سنائی دی،
ہاہا… میں تو کہہ ہی رہا تھا اسے میرے پاس چھوڑ دو…
زرتاشہ نے فوراً جواب دیا، آپ تو اور ہیں…
پھر جلدی سے پوچھا، تیار ہو گئے…؟
ہادی نے کہا، بس ہونے لگا…
زرتاشہ نے ہادیہ کو تھپکیاں دیتے ہوئے کہا،
ہاں… جلدی سے تیار ہو جائیں اور ہال پہنچیں…
ہادی کی آواز نرم ہو گئی،
ہاں… خیال رکھیے گا اپنا…
زرتاشہ نے ایک لمحے کو مسکرا کر ہادیہ کو دیکھا…
اور آہستہ سے کہا، آپ بھی…
فون بند ہوا…
اور کمرے میں پھر سے ہادیہ کی ہلکی ہلکی سسکیاں رہ گئیں…
مگر اب…
زرتاشہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی،
++++++++++
اسوان بھی اپنے کمرے میں کھڑا تیار ہو رہا تھا…
اور ہاتھ میں فون لیے ویڈیو کال پر پری سے بات کر رہا تھا۔
پری کی چمکتی ہوئی آواز آئی،
بابا پتا ہے آپ کو… یہاں اتنا مزہ آتا ہے… لیکن میرا بھی دل کر رہا ہے زارا پھوپو کی شادی میں آنے کا…
اسوان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
میں تمہیں دکھاؤں گا نا ویڈیو کال پر سب کچھ…
پری فوراً بولی،
ہاں ہاں… ایک منٹ کے لیے بھی فون بند نہیں کیجیے گا… میں دیکھ رہی ہوں…
اسوان نے ہلکے سے سر ہلایا، پھر پوچھا،
ماما کہاں ہیں تمہاری…؟
یہ سوال کرتے ہوئے اُس کی آواز میں ایک ان کہی سی کمی تھی…
دو مہینے ہو چکے تھے…
پریشے نے اسوان سے ایک بار بھی بات نہیں کی تھی۔
وہ جب بھی کال کرتا… وہ بات نہیں کرتی تھی۔۔۔
پری نے ادھر ادھر دیکھا، پھر آہستہ سے بولی،
وہ…؟ وہ یہیں بیٹھی ہیں… لیکن بات نہیں کرنا چاہتیں…
اسوان نے ایک لمحہ آنکھیں بند کیں…
پھر دھیمی آواز میں کہا، اور کب تک ناراض رہنا ہے اُس نے…؟
پری نے معصومیت سے کہا، کیا معلوم…؟
اسوان نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا،
کیا کر رہی ہیں وہ…؟
پری فوراً بولی،
سبزی کاٹ رہی ہیں… آپ آجاؤ یہاں یہ ایسے نہیں ماننے والی۔۔۔
اسوان ہلکے ہلکے تیار ہوتے ہوئے مسکرایا،
پھر ایک اور سرپرائز ملے گا۔۔۔
پیچھے سے غصے بھری آواز آئی،
دور رہے مُجھے سے۔۔۔
اور دونوں باپ بیٹی مسکرا دیے۔۔۔
+++++++++++
شادی کے فنکشن میں ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا…
ہر چہرہ مسکرا رہا تھا…
ہر آنکھ میں چمک تھی…
اور ہر دل اپنی اپنی دنیا میں مطمئن نظر آ رہا تھا۔
نئے مہمان… نئی خوشیاں ساتھ لائے تھے…
زرتاشہ کی زندگی میں ہادیہ کی آمد نے سب بدل دیا تھا…
عدنان صاحب نے بھی بیٹی کو معاف کر دیا تھا…
اور زیدان…
ائدان کے آنے کے بعد وہ واقعی بدل گیا تھا…
اب وہ ذمہ دار ہو چکا تھا…
مگر صرف اپنی بیوی اور بچے کے لیے…
کائنات کی محنت کا اثر تھا کہ وہ اب گھر والوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے لگا تھا…
ہلکی پھلکی باتیں بھی کر لیتا تھا…
مگر اُس کی فطرت کی سختی…
اور وہ تیز مزاجی…
اب بھی ویسی ہی تھی…
غلط بات وہ آج بھی برداشت نہیں کرتا تھا…
فرق صرف اتنا آیا تھا۔۔۔
کہ اب وہ بلاوجہ کسی پر نہیں بھڑکتا تھا…
فنکشن اپنے عروج پر تھا…
ادھر اسوان… ایک کونے میں کھڑا…
فون پر ویڈیو کال کے ذریعے پری کو سب کچھ دکھا رہا تھا…
ہال کے شیشوں سے ڈھکی روشنیاں ایسے جگمگا رہی تھیں جیسے آسمان کے ان گنت تارے زمین پر اتر آئے ہوں…
محفل میں شور تھا… قہقہے تھے… زندگی تھی…
مگر اُس ہجوم میں ایک شخص ایسا بھی تھا۔۔۔
جو سب سے الگ کھڑا تھا…
وہ… بس اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا…
کہاں جا رہی ہے…؟
کس سے مل رہی ہے…؟
کس لہجے میں بات کر رہی ہے…؟
جیسے اُس کی نظریں… ایک حصار بن چکی تھیں…
ہال میں موجود ہر منظر اُس کی نظروں میں تھا…
مگر مرکز صرف ایک ہی تھا۔۔۔
وہ عورت… جو اُس کی بیوی تھی…
دلچسپ بات یہ تھی…
کہ جس طرح وہ اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا…
اسی طرح ہال میں موجود لوگ اُسے دیکھ رہے تھے…
تعجب سے… حیرت سے… اور کچھ… رشک سے…
“یہ آج کے فنکشن میں کیسے آ گیا…؟”
سرگوشیاں ہو رہی تھیں…
کیونکہ یہ پہلا موقع تھا…
جب وہ کسی تقریب میں آیا تھا…
مگر اُسے کسی کی پرواہ نہیں تھی…
اُس کے لیے دنیا… روشنی… ہجوم… سب بے معنی ہو چکے تھے…
اگر کچھ تھا، تو صرف اُس کی بیوی…
ادھر…
ہادی ایک طرف بیٹھا ہادیہ کو گود میں لیے ہوئے تھا…
تبھی زرتاشہ اُس کے پاس آئی…
ارسم کی بار بار کال آ رہی ہے…
وہ آہستہ سے بولی،
آپ اُس سے بات کیوں نہیں کرتے…؟
ہادی نے سنجیدگی سے کہا،
میرے بات کرنے سے کیا ہوگا…؟
زرتاشہ نے نرمی سے کہا،
بہت کچھ… وہ پریشان ہے… اب ٹھیک بھی ہو چکا ہے… اُسے بہت پچھتاوا ہے…
ہادی خاموش رہا…
وہ واپس آنا چاہتا ہے… زرتاشہ نے مزید کہا،
مگر پاپا اُسے آنے نہیں دے رہے…
ہادی نے سخت لہجے میں کہا،
میں نہیں کر رہا معاف اُسے…
جب اُس وقت میری بات نہیں سنی…
تو اب کیوں…؟
زرتاشہ نے آہستہ سے کہا،
غلطی ہو گئی… معاف کر دیں…
مجھے بھی تو کیا تھا نا…
ہادی نے گہری نظر سے اُسے دیکھا،
تمہیں اس لیے کیا تھا… کیونکہ تمہارے پاس اُس وقت کوئی سمجھانے والا نہیں تھا… مگر اُس کے پاس میں تھا…
وہ رکا… پھر بولا،
کچھ لوگ دل کے قریب ہوتے ہیں… اور جب وہی غلطی کریں… تو معاف کرنا آسان نہیں ہوتا… مُجھے سمجھ نہیں آتا کہ انسان کے پاس جو چیز نہیں ہوتی اُس پر حسد کرتا ہے اور یہ۔۔۔ صِرف کائنات کو لے کر نہیں بلکہ اسوان بھائی کو لے کر بھی ہوتا تھا۔۔۔کیا اس کے پاس میں نہیں تھا؟؟ اُسے نہیں پتہ میں اُس کے لیے کیا نہیں دیا۔۔۔ میں نے اس کے لیے وہ قربانی دی تھی جو شاید اسوان بھائی بھی نہ دے پاتے۔۔۔ لیکن مجھے اس سب کے بدلے میں کیا ملا؟؟ مُجھے بدلہ چاہیے بھی نہیں تھا۔۔۔ لیکن وہ ایسے خود کو برباد تو نہ کرتا۔۔۔
زرتاشہ نے بات بدلتے ہوئے کہا،
اچھا ٹھیک ہے… نارمل ہو جائیں… نہیں کریں بات۔۔۔
وہ جانے لگی…
لاؤ فون دو… ہادی نے اچانک کہا۔
زرتاشہ مسکرا دی…
اور فون اُس کے ہاتھ میں دے دیا…
کال پہلے سے ہی آن تھی…
یقیناً…
ارسم سب سن چکا تھا…
ہادی نے فون کو دیکھا،
یہ…؟
زرتاشہ شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
سوری…
اور فوراً وہاں سے بھاگ گئی…
جب انسان کے پاس چاند ہوتا ہے…
دوسری طرف سے ارسم کی آواز آئی،
تو اُسے اُس کی قدر نہیں ہوتی…
ہادی نے فوراً کہا،
حد ہے… چاند…؟ مجھے چاند بنا دیا…؟
ارسم ہنسا،
ہاں… ابھی تو چاند ہی بنا ہوا ہے نا…
اتنا دور بھی… اور ناراض بھی، میرا ناراض چاند…
فضول نہ بولو… ہادی نے روکا۔
یار معاف کر دے… ارسم کی آواز بدل گئی،
غلطی ہو گئی…
ہادی نے سنجیدگی سے پوچھا،
سچ میں احساس ہوا ہے…؟ یا بس…؟
آ کے دیکھ لے… ارسم بولا،
پتا چل جائے گا…
واپس آنا چاہتے ہو…؟
نہیں۔۔۔ ارسم نے آہستہ سے کہا،
یہیں ٹھیک ہوں…
بس… تُو بات کرتا رہا کر…
ہادی خاموش ہوا…
پھر بولا،
معاف نہیں کروں گا… میں…
ارسم کی ہلکی سی ہنسی آئی،
سب کو معاف کر سکتا ہے… بس مجھے نہیں…
تجھ سے یہ توقع نہیں تھی… ہادی کی آواز بھاری ہو گئی،میں نے سمجھایا تھا…
کیا کروں… ارسم نے ٹوٹے لہجے میں کہا،
دل کو سکون نہیں ملتا…
ہادی نے آہستہ سے کہا، میں نے کہا تھا نا…
دوسروں کو برباد کرنے والے… کبھی خوش نہیں ہوتے…
کچھ لمحے خاموشی رہی…
پھر ارسم بولا،
دعا کر… سکون مل جائے…
ہادی نے گہری سانس لی،
معافی مانگ لو… سکون مل جائے گا…
ارسم نے فوراً کہا،
مانگ چکا ہوں… اسوان بھائی سے… انہوں نے معاف بھی کر دیا… کائنات نے بھی… اور اُس نے کہا… زیدان نے بھی…
ہادی نے آہستہ سے بولا، مل جائے گا… اب سکون…
تھوڑی دیر بعد اسوان چلتا ہوا زیدان کے پاس آیا…
اُس کے ہاتھ میں موبائل تھا…
وہ سیدھا اُس کے سامنے کر دیا،
یہ دیکھو… بالکل مجھ پر گیا ہے نا…؟
زیدان نے ایک نظر بھی نہ ڈالی…
بلکہ فوراً رُخ موڑ لیا،
یہ چھوٹے چھوٹے بچے نہیں دکھایا کرو مجھے…
اسوان نے حیران ہو کر کہا،
پاگل ہو گئے ہو…؟
زیدان نے سنجیدگی سے جواب دیا،
کوئی اپنے اتنے چھوٹے بچے کو چھوڑ کر یہاں آتا ہے بھلا…؟
اسوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
یہاں اگر میں نہ آتا نا… تو یہ فنکشن بھی نہ ہوتا…
زیدان نے طنزیہ انداز میں کہا،
ایوی کا تمہیں سب نے سر پر چڑھا کے رکھا ہوا ہے…
اسوان فوراً بولا،
ہاں… جیسے میں نے تمہیں…
زیدان نے آنکھیں تنگ کیں،
اب اپنے بچے کو سنبھالو…
اسوان نے لاپروائی سے کندھے اُچکائے،
اُس کے پاس اُس کی ماں ہے… اور ماں کی ماں بھی ہے… تم فکر نہ کرو…
پھر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
کچھ ہی مہینے رہتے ہیں…
پھر بھابھی واپس آنے ہی والی ہیں…
زیدان نے فوراً کہا،
بھول جاؤ… وہ واپس آ کر یہاں آنے والی ہیں…
اسوان نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا…
زیدان نے سنجیدہ لہجے میں بات مکمل کی،
پہلے وہ ایک کو لے کر گئی تھی… اب دو کو لے کر جائے گی…
اسوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
کوئی نہیں… وہ جہاں جائے گی، میں پھر اُس کے پاس چلا جاؤں گا…
زیدان نے اُسے عجیب سی نظروں سے دیکھا،
بڑے مطلب پرست انسان ہو تم…
اُسی وقت فون سے پری کی آواز آئی،
یار بابا… آپ دونوں بعد میں لڑنا۔۔۔ ابھی اسود کو دکھا دیا نا میں نے…
اب مجھے بھی ائدان کو دکھا دیں نا پلیز…
زیدان فوراً چونک کر بولا،
نہیں! اُس کو نہیں دیکھو… بہت چھوٹا ہے وہ…
پری ایک لمحے کو رُکی،
ہیں…؟
اسوان نے زیدان کو گھور کر دیکھا،
تم سچ میں پاگل ہو گئے ہو…؟
زیدان نے سنجیدگی سے کہا،
پاگل کیا… نظر لگ جائے گی…
پری فوراً بولی،
میں لگاؤں گی نظر…؟؟
آپ رُکیں ذرا… میں باہر آ گئی ہوں نا…
تو آپ بہت بڑے ہو گئے ہیں… ابھی آتی ہوں پھر بتاتی ہوں آپ کو…
زیدان نے فوراً دفاعی انداز میں کہا،
نہیں! میں صحیح کہہ رہا ہوں…
تم بھی اسود کو چھپا کے رکھو…
اسوان ہنس پڑا،
چھوڑ اسے… میں دکھاتا ہوں تمہیں ائدان کہاں ہے…
یقیناً اپنی نانی کے پاس ہوگا… کیونکہ اِن میاں بیوی سے اِن کا بچہ سنبھل نہیں رہا…
پری نے فوراً ہنستے ہوئے کہا،
ہاں۔۔۔
زیدان نے اُسے گھورا…
خود کا بچہ کونسا خود کے پاس ہے۔۔ خود کا بچہ بھی اپنی نانی کے پاس ہے۔۔۔
++++++++++
کائنات آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہادی کے پاس آ گئی…
ہادی اپنی بیٹی ہادیہ کو گود میں لیے بیٹھا تھا…
کائنات نے جھک کر ہادیہ کے گال کو پیار کیا اور مسکرا کر بولی، بہت پیاری ہے یہ…
ہادی نے نرمی سے کہا، ہاں…
کائنات نے ایک لمحہ اُسے دیکھا… پھر سنجیدگی سے بولی، شکریہ… مجھے سمجھنے کے لیے… میں بہت پہلے سے ہی آپ سے ملنے چاہتی تھی لیکن کوئی وقت یہ کوئی ایسا موقع نہیں مل رہا تھا۔۔۔
ہادی نے اُس کی طرف دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، اس کی ضرورت نہیں…
تمہیں خوش دیکھ کر ہی مجھے میرا شکریہ مل گیا تھا…
کائنات کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آ گئی…
ہاں… وہ آہستہ سے بولی،
آپ نہ سمجھتے تو… مجھے کبھی سمجھ ہی نہ آتی…
اُس وقت تو آپ کی بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی تھی… لیکن بعد میں جب سوچا…
تو سب کچھ صاف صاف نظر آنے لگا…
وہ ہلکا سا رُکی… پھر مسکرا کر بولی،
اور اب دیکھیں… میری خوشیاں…
ہادی نے کائنات کو دیکھا پھر اسٹیج کے پاس کھڑی زرتاشہ کو دیکھا پھر ہادیہ کو دیکھا اور مسکرا کے بولا۔۔۔
اور پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے…؟
کائنات نے زیدان کی طرف دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا پھر ائدان کی طرف دیکھا جو مریم بیگم کی گود میں سو رہا تھا۔۔۔ اور اُس کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی…
+++++++++++
ختم شد۔۔۔۔
زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی…
مگر ہر آزمائش کے بعد کا انجام بہت خوبصورت ہوتا ہے…
بس صبر اور یقین تھامے رکھنا پڑتا ہے…
کیونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے…
وہ آخرکار بہتر ہی ثابت ہوتا ہے…
از قلم صدیقی
