بشر ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۴
اس وقت وہ اسلام آباد کے ایک مشہور پارک میں موجود تھے…
شام کا وقت تھا… آسمان ہلکے نارنجی رنگ میں ڈھل رہا تھا اور ہوا میں ایک عجیب سی تازگی تھی…
پارک میں خاصا رش تھا…
بچے ہنستے کھیلتے دوڑ رہے تھے… خاندان گھاس پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے…
اور اسی ہجوم میں وہ آٹھوں بھی گھل مل گئے تھے…
سادہ جینز اور شرٹس میں… چہرے ماسک سے ڈھکے ہوئے… تاکہ کوئی انہیں پہچان نہ سکے… ان کے گارڈز بھی قریب ہی تھے… وہ بھی عام لوگوں جیسے حلیے میں… چہروں پر ماسک لگائے… گھوم رہے تھے۔۔
خاموشی سے ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے…
وہ سب دو دو کے گروپس میں بٹ گئے تھے…
کوئی سیلفی لے رہا تھا…
کوئی ہنستے ہوئے باتیں کر رہا تھا…
کسی کو پہلی بار ایسی عام سی زندگی جینے کا موقع ملا تھا…
اور پھر… اسی ہجوم میں…
رن یون کی نظر ایک چہرے پر جا کر ٹھہر گئی…
وہی لڑکی…
وہ اپنی ایک دوست کے ساتھ کھڑی تھی…
اور تھوڑے فاصلے پر اس کی فیملی بھی موجود تھی…
ایک لمحہ… صرف ایک لمحہ لگا…
اور لڑکی کی نظر بھی اس پر پڑی…
دل نے شاید دونوں کو پہچان لیا تھا…
مگر اگلے ہی لمحے… رن یون نے اپنی نظریں پھیر لیں…
بالکل ویسے ہی… جیسے اس نے کہا تھا…
اگر میں کہیں نظر آ جاؤں… تو اپنی نظریں پھیر لیجیے گا…
اور اس نے واقعی اپنی نظریں پھیر لی تھیں…
دل چاہتا تھا… ایک بار پھر دیکھے…
یقین کر لے کہ وہ واقعی وہی ہے…
مگر اس نے خود کو روک لیا…
چلو نا بھائی… ادھر ویو بہت اچھا ہے… ادھر آ جاؤ…
سیونگ کی آواز نے اسے خیالوں سے باہر نکالا…
رن یون نے ہلکا سا سر ہلایا… اور رن یون خاموشی سے جا کر وہیں کھڑا ہو گیا…
شام کی روشنی اب مدھم ہو رہی تھی اور ہلکی ہلکی ہوا اس کے بالوں کو چھو کر گزر رہی تھی…
یار ماسک اتار دو… اچھی پکچر نہیں آ رہی… ادھر کوئی نہیں پہچانتا ہمیں… سیونگ نے موبائل سیدھا کرتے ہوئے کہا…
ہمم… رن یون نے آہستہ سے جواب دیا…
اور اگلے ہی لمحے ماسک اتار کر تصویر کے لیے کھڑا ہو گیا…
کیمرا کلک ہوا…
ایک، دو… پھر چند اور تصویریں…
مگر جیسے ہی اس نے موبائل نیچے کیا…
اس کی نظر خودبخود پھر اسی طرف اٹھ گئی…
وہی لڑکی…
اب وہ ایک لڑکے کے ساتھ بات کرنے میں مصروف تھی…
بہت سنجیدہ انداز میں… جیسے کسی اہم بات میں الجھی ہو…
رن یون کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں… یہ کون ہے؟
یہ تو لڑکوں سے بات بھی نہیں کرتی… پھر یہ…؟
خیالات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے…
اور وہ انہی میں کھویا ہوا تھا…
کہ اچانک… اس نے دیکھا…
لڑکی کی دوست اس کی طرف بڑھ رہی تھی…
رن یون کا دل ایک دم زور سے دھڑکا…
اوہ نو…
وہ فوراً گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹا…
ہاتھ سر پر رکھا… اور اچانک پلٹ گیا…
کیا ہوا؟ سیونگ نے حیرانی سے پوچھا…
ہو گئی نا غلطی…رن یون کی آواز میں واضح گھبراہٹ تھی… اس نے دیکھ لیا مجھے… مجھے ایسے نہیں دیکھنا چاہیے تھا اسے…
کس نے؟ سیونگ کا سوال ابھی ہوا ہی تھا…
کہ وہ لڑکی ان کے قریب آ چکی تھی…
اسلام وعلیکم بات سنیے؟
سیونگ نے الجھن سے اس کا چہرہ دیکھا…
اردو کے الفاظ اس کے لیے اجنبی تھے…
رن یون پلٹا جی… اس کی آواز میں ہلکی سی جھجھک تھی… اور چہرے پر عجیب سی شرمندگی…
جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جائیں…
صوفیہ نے دھیمی مگر سنجیدہ آواز میں کہا…
یہاں آپکو جیتنے بھی بڑے بزرگ نظر آرہے ہیں نا… وہ آپ کو نہیں جانتے… لیکن یہاں آپ کو جتنے بھی نوجوان نظر آرہے ہیں نہ… وہ آپ لوگوں کو پہچانتے ہیں۔۔۔
وہ ایک لمحے کو رکی… پھر مزید قریب ہو کر بولی…
اس سے پہلے کہ آپ کی طرف رش لگے… بہتر ہے آپ لوگ یہاں سے نکل جائیں…
رن یون نے چونک کر پوچھا…
آپ… آپ ہمیں جانتی ہیں؟
جی… ہم آپ کو جانتے ہیں… صوفیہ نے سادگی سے کہا… تبھی تو کہہ رہے ہیں…
ہم… کون؟
میں… اور میری دوست…
رن یون کی نظریں بے اختیار اِدھر اُدھر دوڑیں…
واقعی… کچھ لوگ اب انہیں غور سے دیکھ رہے تھے…
چپکے چپکے… پہچاننے کی کوشش میں…
جیسے آپ لوگ ماسک لگا کر گھوم رہے ہیں…
یقیناً ان سب سے بچنے کے لیے… صوفیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا… تو میری دوست نے کہا… آپ لوگوں کو جا کر بتا دوں… آگے آپ کی مرضی…
یہ کہہ کر وہ پلٹ گئی…
رن یون کی نظریں فوراً اس لڑکی کی طرف اٹھیں…
وہ اب بھی اسی لڑکے کے ساتھ بات کر رہی تھی…
جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو…
جیسے وہ یہاں تھی ہی نہیں…
رن یون کے دل میں ایک عجیب سی چبھن ہوئی…
مگر اگلے ہی لمحے… اس نے خود کو سنبھالا…
جلدی سے سیونگ کو سب سمجھایا…
اور فوراً ماسک واپس چہرے پر لگا لیا…
پھر اشاروں سے سب کو نکلنے کا کہا…
چند ہی لمحوں میں… وہ سب دو دو کے گروپس میں…
سیکیورٹی کے ساتھ… وہاں سے نکلنے لگے…
رن یون سب سے آخر میں تھا…
اور جیسے ہی وہ مڑا… اس کی نظر پھر اس پر پڑی…
اس بار… وہ لڑکی اسے ہی دیکھ رہی تھی…
دیکھ نہیں رہی تھی… گھور رہی تھی…
جیسے خاموشی سے کہہ رہی ہو…
سنبھال کر رکھیں اپنی نظریں۔۔
رن یون کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا…
وہ فوراً گھبرا کر نظریں جھکا گیا…
اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا…
+++++++++++++
پارک سے واپسی کے بعد… وہ سب سیدھا ہوٹل پہنچے…
باہر کی ہلچل، شور اور بھاگ دوڑ کے بعد…
ہوٹل کی لابی کی خاموشی کچھ عجیب سی لگ رہی تھی…
سب اپنے اپنے انداز میں تھکے ہوئے تھے…
مگر چہروں پر آج کے دن کی جھلک ابھی باقی تھی…
رن یون کچھ لمحے خاموش رہا…
جیسے کسی گہری سوچ میں ہو… پھر اس نے آہستہ سے کہا… ہم یہاں مزید تین دن اور رکیں گے…
ایک لمحے کے لیے سب خاموش ہو گئے…
کیوں؟ ہان وو نے فوراً سوال کیا…
آج تو ہمیں نکلنا تھا… سوہان نے بھی حیرت سے کہا…
رن یون نے نظریں چرائیں… بس… فلائٹ کا ایشو ہے…
اس کی آواز بالکل سادہ تھی… مگر آنکھوں میں کچھ اور ہی چل رہا تھا…
چلو… اچھا ہے… جے کیونگ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا… تھوڑا اور گھوم لیں گے…
رن یون نے سر ہلایا…
مگر اس کا دھیان کہیں اور تھا…
پھر اچانک اس نے سومین کی طرف دیکھا…
سومین… تم صبح صبح کہاں جاتے ہو؟
سومین ایک دم چونک گیا… وہ… وہ…
اس کے چہرے پر ہلکی سی گھبراہٹ آ گئی…
دل میں ایک ہی خیال آیا… کیا رن يون کو پتا چل گیا؟ کہ وہ ہر صبح چپکے سے مسجد چلا جاتا ہے…
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا…
ہان وو فوراً بول پڑا… واک کرنے جاتا ہے…
سومین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا…
تم بھی تو جاتے ہو نا… رن یون نے سیدھا سوال کیا…
ہاں… ہان وو نے مختصر جواب دیا…
رن یون نے چند لمحے انہیں دیکھا…
پھر آہستہ سے بولا… سیکیورٹی ساتھ لے کر جایا کرو… اور الگ الگ جانے کے بجائے… اکٹھے جایا کرو… اس کے لہجے میں نرمی تھی… مگر ایک عجیب سی سنجیدگی بھی…
ٹھیک ہے… ہان وو نے سر ہلاتے ہوئے کہا…
++++++++++++
کمرے میں ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی…
باہر شہر کی لائٹس کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھیں…
سومین بیڈ کے کنارے بیٹھا تھا…
چہرے پر اب بھی ہلکی سی گھبراہٹ باقی تھی…
مجھے لگا… تُو بتا دے گا بھائی کو…
اس نے دھیرے سے کہا… میں تو واقعی ڈر گیا تھا…
ہان وو خاموش تھا… جیسے کچھ سن ہی نہ رہا ہو…
اوئے…؟ سومین نے اسے ہلکا سا جھنجھوڑا…
ہاں… ہان وو نے سادہ سا جواب دیا… کل صبح میرے ساتھ نکلنا…
سومین نے بھنویں سکیڑیں… بچایا کیوں مجھے؟
ہان وو نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھنساتا کیوں؟
تاکہ مجھے ڈانٹ پڑے… سومین نے سنجیدگی سے کہا…
مجھے کیا ملتا؟ ہان وو کا لہجہ بالکل سپاٹ تھا…
ابھی کیا ملا؟ نہ بتا کر…
ہان وو نے ایک لمحے کو اسے دیکھا…
پھر آہستہ سے بولا… بتا دیتا کیا…؟
سومین نے فوراً سر ہلایا… نہیں… بتاتے نہیں…
پھر تھوڑا سا رکا… لیکن ایسے بچاتے بھی نہیں…
ہان وو نے ہلکی سی سانس لی… اور کروٹ بدل کر لیٹ گیا… سو جاؤ… اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا…
اور خوش ہو جاؤ… تین دن اور مل گئے ہیں تمہیں…
سومین کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی…
ہاں… اس نے آہستہ سے کہا…
سومین نے گہری سانس لی… پھر اچانک آنکھوں میں چمک آئی…
تمہیں پتا ہے میں کیا پڑھ کر آیا؟
ہان وو نے سر موڑا… کیا؟
بیسک چیزیں… لیکن لاجیکل…
ہان وو سیدھا ہو کر بیٹھ گیا… جیسے؟
سومِن نے انگلیاں آپس میں جوڑتے ہوئے کہا…
“پہلی بات… ہر کام positive mindset کے ساتھ شروع کرو… یعنی ‘بسم اللہ’… اچھی نیت کے ساتھ…
ہمم… ہان وو نے سر ہلایا…
پھر gratitude… جو بھی اچھا ہے… اس کا source ایک ہی ہے… یعنی جو ہے… اس کی قدر کرو…
that’s fair…
ہان وو نے آہستہ سے کہا…
پھر responsibility۔۔۔
سومین نے سنجیدگی سے کہا…
جو بھی کرتے ہو… اس کا result ہوتا ہے… ہر چیز کا ایک consequence ہوتا ہے…
ہان وو ہلکا سا مسکرایا…
basic morality…
سومین نے اس کی بات نظر انداز کر دی…
پھر focus…
ادھر ادھر بھٹکنے کے بجائے ایک direction رکھو…
اور جب مدد چاہیے ہو… تو مان لو کہ چاہیے…
اب ہان وو خاموشی سے سن رہا تھا…
اور آخر میں… سومین کی آواز نرم ہو گئی…
guidance…
صحیح اور غلط میں فرق سمجھنا…
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی پھیل گئی…
ہان وو نے سیدھا سوال کیا…
تو basically… self-discipline اور clarity؟
سومین نے سر ہلا دیا…
ہاں… simple… لیکن structured way میں…
ہان وو نے اسے غور سے دیکھا…
اور تمہیں یہ سب وہاں جا کر سمجھ آیا؟
سومین نے ہلکا سا سر جھکایا… جیسے اپنی ہی بات پر غور کر رہا ہو… نہیں… میرا مطلب…
وہ آہستہ سے بولا… یہ کتنا اچھا ہے… basic life things ہیں… کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں لکھا…
ہان وو نے اسے غور سے دیکھا… پھر ہلکی سی سنجیدگی کے ساتھ کہا…
کبھی اپنے مذہب کو پڑھا ہوتا…
تو پتا چلتا… ہماری کتاب بھی یہی کہتی ہے…
کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی…
سومین چونکا نہیں… بس خاموش ہو گیا…
جیسے یہ بات اس کے دل میں جا کر لگی ہو…
میں نے… وہ آہستہ سے بولا… کبھی اس طرح سے نہیں پڑھا…
ہم سب ایسے ہی ہوتے ہیں…
اس نے نرمی سے کہا…
اپنی چیزوں کو ignore کرتے ہیں…
اور جب وہی بات کہیں اور سے سنیں…
وہ رکا… پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
تو اچانک وہ ‘logical’ لگنے لگتی ہے…
سومین نے نظریں نیچے کر لیں… جیسے خود سے شرمندہ ہو…
مُجھے کسی نے اپنے مذہب کے بارے میں بتایا ہی نہیں۔۔۔
ہان وو نے اس کی طرف دیکھا…
کسی نے بتایا نہیں… وہ آہستہ سے بولا… یا تم نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی…؟
سومین ایک لمحے کو چپ ہو گیا…
شاید…اس نے دھیمی آواز میں کہا…
میں نے کبھی خود سے نہیں پڑھا…
تو اب پڑھ لو۔۔۔ truth اتنا complicated نہیں ہوتا…
بس… اس نے آہستہ سے کہا…
ہم اسے complicated بنا دیتے ہیں…
سومین اس بار کچھ مختلف محسوس کر رہا تھا…
جیسے بات صرف مسجد یا کتاب کی نہیں تھی…
بلکہ… سمجھنے کی تھی…
تو اب… کیا کروں میں؟
سومین نے پہلی بار سنجیدگی سے پوچھا…
ہان وو نے چند لمحے اسے دیکھا…
پھر آہستہ سے بولا… مت جاؤ مسجد جانا چھوڑ دو۔۔
میں تمہیں پڑھا دوں گا… بائبل…
ہم سیدھے راستے پر ہیں… قرآن کو چھوڑ دو…
سومین نے اس کی طرف دیکھا…
اس بار اس کی آنکھوں میں حیرت نہیں تھی…
بلکہ ایک گہری خاموشی تھی…
جیسے وہ پہلی بار… صرف سن نہیں رہا تھا…
سمجھ بھی رہا تھا…
کمرے میں چند لمحوں تک کوئی آواز نہ آئی…
ہان وو کو شاید احساس بھی نہیں ہوا…
کہ اس کے الفاظ کتنے بھاری تھے…
سومین نے آہستہ سے سانس لی…
اور نظریں جھکا لیں…
+++++++++++++
ہوٹل کی بالکونی میں رات کی ہوا ٹھنڈی ہو چکی تھی…
نیچے شہر کی روشنیاں جیسے خاموشی سے کچھ کہہ رہی تھیں…
رن یون ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا…
نظریں کہیں دور….خیال کہیں اور…
تبھی سیونگ اس کے پاس آ کر رکا…
سب جانتا ہوں میں….اس نے ہلکے طنز سے کہا…
کہ تم یہاں کیوں رکے ہو…
رن یون نے کوئی ردِعمل نہیں دیا….بس چند لمحے بعد آہستہ سے بولا…
میں اس سے ایک بار پھر ملنا چاہتا ہوں…
سیونگ نے فوراً ماتھا پکڑ لیا…
تھوڑی عقل کرو… کیسی بدتمیز لڑکی ہے وہ… اور تم ہو کہ..
تمہیں پتا ہے…؟ رن یون نے اس کی بات کاٹ دی…
سیونگ رک گیا… وہ میرے بارے میں سب جانتی ہے…
کیا جانتی ہے؟
یہی… کہ میں کتنا famous ہوں… رن یون نے دھیمی آواز میں کہا… لیکن پھر بھی…
وہ رکا… مجھے لگا تھا… وہ مجھے کوئی لوفر لڑکا سمجھ رہی ہوگی…
اس نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا…
لیکن وہ تو سب جانتی ہے… پھر بھی ایسا کرتی ہے… کیوں…؟
سیونگ نے فوراً جواب دیا…
کیونکہ وہ انتہائی بدتمیز لڑکی ہے…
اسے تمیز ہی نہیں کسی سے بات کرنے کی…
رن یون نے سر ہلایا…
نہیں….اس کی آواز نرم تھی… مگر یقین بھری…
اس کی دوست نے کہا تھا… وہ لڑکوں سے بات نہیں کرتی…
سیونگ نے بھنویں اٹھائیں… تو پھر پارک میں کس سے بات کر رہی تھی…؟
سیونگ نے ہاتھ ہوا میں ہلایا…
او بھائی او… چھوڑ دو اس کو…
تمہیں اس جیسی ہزار لڑکیاں مل جائیں گی…
رن یون نے فوراً کہا…
میں بس اس سے یہ سب پوچھنا چاہتا ہوں… وہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔۔۔؟ وہ رکا….پھر آہستہ سے بولا…
کیا۔۔۔؟؟ وہ کسی کو date کر رہی ہو… یا پھر وہ شادی شدہ ہو…
ہوا تو…؟ سیونگ نے کہا…
رن یون نے گہری سانس لی… تو… کم از کم مجھے معلوم تو ہو جائے…
پھر مُجھے… اسے اپنے دل و دماغ سے نکالنے میں آسانی ہوگی…
سیونگ چند لمحے اسے دیکھتا رہا…
اور اگر ایسا نہیں ہوا تو…؟
رن یون خاموش ہو گیا…
تب بھی تم کیا کر سکتے ہو…؟ سیونگ نے کہا…
ویسے بھی… contract کے مطابق ہم کسی کو date نہیں کر سکتے…
رن یون نے ہلکی سی مسکراہٹ دی…
۔date نہیں کروں گا…
پھر اس کی نظریں دوبارہ دور جا کر ٹھہر گئیں…
لیکن… اس نے آہستہ سے کہا…
میں خود کو Committed تو کر سکتا ہوں نا…
سیونگ نے سر جھٹکا…
یار تم..
اُس وقت میں کچھ نہ کچھ سوچ لوں گا… رن یون نے اس کی بات کاٹ دی… لیکن پہلے… وہ مجھے اپنے قریب تو آنے دے… وہ مُجھے سے بات تو کرے۔۔۔
قریب تو دور کی بات ہے…
وہ تو نظریں تک نہیں ملانا چاہتی…
ہوا کا ایک جھونکا آیا… رن یون نے آنکھیں بند کر لیں…
پتہ ہے۔۔۔ اس نے اپنے اردگرد ایک دائرہ بنا رکھا ہے…
اس نے آہستہ سے کہا… جسے کوئی پار نہیں کر سکتا… جیسے کوئی پار کرنا بھی چاہے تو وہ کرنے نہیں دیتی۔۔
سیونگ نے سر پر ہاتھ رکھا… اور چکر لگانے لگا…
او بھائییی…
لیکن…
وہ آہستہ سے بولا….سیونگ رک گیا…
رن یون نے اس کی طرف دیکھا…
میں وہ دائرہ پار کرنا چاہتا ہوں…
کچھ لمحوں کی خاموشی…
کیسے کروں…؟
یہ سوال سادہ تھا…
مگر اس کے پیچھے چھپی بے بسی… بہت گہری تھی…
++++++++++++++
سومین نے ہلکی سی بےچینی کے ساتھ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا… اور ایک دم چیخ کر کہا
میں کون سا اُن کے خدا کو مان رہا ہوں…
اس نے تھوڑا سا تیز لہجے میں کہا…
میں اب بھی اپنے خدا پر ہی یقین رکھتا ہوں…
جیزس پر… جسے تم سب پوچھتے ہو… بس میں پوچھتا نہیں…
ہان وو خاموشی سے اسے دیکھتا رہا…
اس نے کہا… قرآن میں میرے ہر سوال کا جواب ہے…
وہ آہستہ سے بولا… بس… میں وہ جواب چاہتا ہوں…
ہان وو نے فوراً سوال کیا…
ایسے کون سے سوالات ہیں تمہارے…
جن کے جواب تمہیں نہیں مل رہے…
سومین نے نظریں جھکا لیں… کافی دیر تک کچھ نہیں بولا… پھر آہستہ سے کہا…
سکون…
ہان وو کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
کیا مطلب؟
مطلب… سومین نے گہری سانس لی…
سب کچھ ہونے کے باوجود… دل کا empty رہنا…
وہ اب سیدھا ہان وو کی طرف دیکھ رہا تھا…
ہم famous ہیں… successful ہیں…
لوگ ہمیں پسند کرتے ہیں…
لیکن…
اس کی آواز ہلکی سی ٹوٹ گئی…
پھر بھی اندر سے کچھ missing لگتا ہے…
کمرے میں خاموشی چھا گئی…
اور ایک اور سوال…
سومین نے آہستہ سے کہا…
صحیح کیا ہے…؟
ہان وو نے کچھ کہنا چاہا… مگر رک گیا…
ہم جو کرتے ہیں…
سومین نے سنجیدگی سے کہا…
وہ واقعی صحیح ہے… یا بس ہمیں صحیح لگتا ہے…؟
کچھ لمحہ دونوں کے بیچ خاموشی چھا گئی۔۔۔
سکون… اس نے گہری سانس لی…
اور آہستہ سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا…
تم سکون ڈھونڈ رہے ہو… وہ دھیمی آواز میں بولا…
سومین نے سر ہلایا…
ہان وو نے نظریں کھڑکی کی طرف موڑ لیں…
باہر شہر کی روشنیاں چمک رہی تھیں…
ہمیں بھی یہی سکھایا جاتا ہے… وہ آہستہ سے بولا…
کہ انسان خود سے مکمل نہیں ہوتا…
سومین نے اس کی طرف دیکھا…
ہم مانتے ہیں…
ہان وو نے سنجیدگی سے کہا…
کہ سکون… صرف خدا سے تعلق میں ملتا ہے…
وہ تھوڑا سا رکا…Jesus… اس نے نرم لہجے میں کہا…
وہ ہمیں سکھاتے ہیں… کہ تم اپنے بوجھ اکیلے نہیں اٹھاتے…
سومین خاموشی سے سن رہا تھا…
تم کہہ رہے ہو نا… سب کچھ ہونے کے باوجود empty feel ہوتا ہے…
ہان وو نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا…
وہ emptiness…
اس نے آہستہ سے کہا…
اسی لیے ہوتی ہے… کیونکہ ہم خدا سے دور ہوتے ہیں…
کمرے میں خاموشی پھیل گئی…
اور صحیح اور غلط…
ہان وو نے بات جاری رکھی…
وہ ہم طے نہیں کرتے… خدا پہلے ہی بتا چکا ہے…
سومین نے ہلکی سی بھنویں سکیڑیں…
تو پھر ہم بھٹکتے کیوں ہیں…؟
ہان وو نے فوراً جواب دیا…
کیونکہ… وہ آہستہ سے بولا…
ہم سنتے کم ہیں… اور عمل اس سے بھی کم کرتے ہیں… وہ تھوڑا سا جھکا… بائبل بھی یہی سکھاتی ہے… اس کی آواز میں اب یقین تھا…
کہ سچ سادہ ہے… مگر انسان اسے نظرانداز کرتا ہے…
سومین نے آہستہ سے پوچھا… تو تمہیں کبھی ایسا نہیں لگا…؟
ہان وو چند لمحے خاموش رہا… پھر آہستہ سے بولا…
لگا ہے…
سومین چونکا…
لیکن… ہان وو نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا…
ہمیں سکھایا جاتا ہے… کہ شک آئے تو… خدا کی طرف واپس جاؤ… وہ سیدھا بیٹھ گیا…
نہ کہ راستہ بدل لو…
+++++++++++
صبح کی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہیں تھی…
کہ ہوٹل کی لابی میں پہلے سے ہی ایک عجیب و غریب منظر تھا…
آٹھوں اپنے اپنے انداز میں کھڑے تھے…
کوئی آنکھیں ملتے ہوئے…
کوئی جوتے کے تسمے باندھتے ہوئے…
اور کوئی اب بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ اسے صبح صبح اٹھایا کیوں گیا…
مارگلہ ہلز…؟ جے کیونگ نے ہاتھ پھیلائے… یعنی… پہاڑ پر چڑھنا…؟
رن یون نے سادگی سے کہا… ہاں… اب جلدی جلدی تیار ہو جاؤ سب جلدی نکلو۔۔
اب وہ گاڑی میں بیٹھیں مارگلہ ہلز کی طرف نکلے۔۔۔
مارگلہ ہلز کا راستہ جیسے جیسے اوپر اٹھتا گیا، شہر کی آوازیں پیچھے رہتی گئیں، صبح کی ہلکی سنہری روشنی درختوں کی شاخوں سے چھن چھن کر زمین پر بکھر رہی تھی، جیسے کسی نے سبز قالین پر سونے کی باریک لکیرں کھینچ دی ہوں۔
مارگلہ ہلز کی فضا ٹھنڈی اور خوشگوار تھی، ہلکی سی ہوا چہرے کو چھوتی تو نیند کا آخری اثر بھی ختم ہو جاتا۔ دور نیچے شہر اسلام آباد دھند میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہا تھا، جیسے کوئی خواب ہو جو ابھی پوری طرح جاگا نہ ہو۔
راستے کے کنارے جنگلی پھول کھلے تھے، جن پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ کہیں کہیں بندروں کی ٹولیاں درختوں پر اچھلتی کودتی نظر آتیں، جیسے وہ بھی اس صبح کی رونق میں شامل ہوں۔ پرندوں کی آوازیں فضا میں ایک قدرتی موسیقی پیدا کر رہی تھیں،
اوپر پہنچ کر منظر اور بھی دلکش ہو گیا۔ پہاڑوں کی تہہ در تہہ قطاریں دھند میں گم ہوتی جا رہی تھیں، اور سورج آہستہ آہستہ پوری آب و تاب کے ساتھ ابھر رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دنیا ابھی ابھی نئے سرے سے بن رہی ہو۔
وہ سب کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے… کیونکہ بعض منظر ایسے ہوتے ہیں… جنہیں صرف دیکھا جا سکتا ہے… بیان نہیں کیا جا سکتا۔
منیجر کی ہدایت کے بعد… سب نے جیسے ایک ہی وقت میں چڑھنا شروع کیا تھا…
لیکن چند ہی لمحوں میں واضح ہو گیا… کہ سب کی رفتار… اور حوصلہ… ایک جیسا نہیں تھا…
سنبھل کے چلو… کوئی گر نہ جانا…
سیونگ نے پیچھے مڑ کر کہا… مگر خود ہی اگلے لمحے ایک پتھر سے ٹکرا گیا…
میری تو حالت ٹائٹ ہو گئی… سوہان نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا… جیسے ابھی وہیں گر جائے گا…
سومین نے اس پر ایک سرسری نظر ڈالی…
ابھی سے؟ ابھی تو چڑھنا شروع کیا ہے…
اور واقعی… صرف پانچ منٹ گزرے تھے…
سب سے آگے… رن یون تھا…
خاموش… پُرسکون…
جیسے وہ پہاڑ نہیں… کسی اور ہی دنیا کی طرف جا رہا ہو…
اس کے پیچھے جے کیونگ…
اور پھر… باقی سب…
سیونگ ہر دوسرے قدم پر کسی نہ کسی سے ٹکرا رہا تھا…
اوئے بھائی… ذرا جگہ دو… وہ ہانپتے ہوئے بولا…
بس ہو گئی ہے… اب نہیں چڑھا جا رہا…
اس نے آخرکار اعلان کر ہی دیا…
تائيجون نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا…
اسی لیے کہتا ہوں… جم جایا کرو…
سوہان نے ایک پتھر پر قدم رکھا…
اور اگلے ہی لمحے پھسل گیا…
ایک جھٹکے سے…
ہان وو کا ہاتھ اس کے بازو پر آ گیا…
اس نے مڑے بغیر اسے سنبھال لیا…
شکر بچ گیا میں … سوہان نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا… بس ہو گیا… میں اور نہیں چڑھ رہا…
وہ قریب کے ایک بڑے پتھر کے پاس جا کر رک گیا…
اور ہاتھ اٹھا دیا… میں یہیں رہوں گا… تم لوگ جاؤ…
رن یون نے صرف ایک نظر اسے دیکھا…
اور پھر وہ مڑ کر آگے بڑھ گیا…
سیونگ نے آہستہ سے ہنستے ہوئے کہا…
چھوڑ دو اسے… یہ اگلے جنم میں چڑھے گا…
تائیجون نے فوراً اضافہ کیا…
اگلے جنم میں بھی نہیں چڑھے گا یہ۔۔۔ ابھی یہ یہیں سے واپس جانے والا ہے۔۔۔
آدھا راستہ بھی طے نہیں ہوا تھا…
کہ سیونگ پھر رک گیا…
بھائی… یہ کب ختم ہوگا…؟ سانسیں تیز… پیشانی پر پسینہ… اور آواز میں تھکن تھی۔۔
ادھر ہان وو … اب تک سب کو سنبھالتا آ رہا تھا…
کبھی ہیوک کا ہاتھ پکڑتا… کبھی تائیجون کو بچاتا…
کبھی سو مین کو گھسیٹتا…
جبکہ رن یون اور جے کیونگ… کافی آگے نکل چکے تھے…
ان دونوں کو دیکھو… سومین نے اوپر اشارہ کیا…
لگتا ہے روز پہاڑ چڑھتے ہیں…
یہ سب جم جانے کا نتیجہ ہے… تائيجون نے پھر سے کہا…
سومین نے فوراً جواب دیا…
تو تم بھی تو جاتے ہو… پھر یہاں ہانپ کیوں رہا ہے…؟
تائیجون نے نظریں چرائیں…
میں تم لوگوں کی وجہ سے آرام آرام سے جارہا ہوں… تُم لوگوں کو سنبھال رہا ہوں کہیں تم گر نہ جاؤ…
ہیوک ہنس پڑا… ہاں ہاں… خود سے تو چلا نہیں جا رہا… ہمیں سنبھلے گا۔۔۔
ہان وو نے اوپر دیکھتے ہوئے کہا…
بس تھوڑا سا رہ گیا ہے… چڑھ جائے گے ہم۔۔۔
لیکن سیونگ نے وہیں بیٹھتے ہوئے ہاتھ اٹھا دیا…
میں نہیں چل سکتا… بس… میری بھی حالت ٹائٹ ہو گئی ہے… میں یہیں ہوں…
ہیوک فوراً اس کے پاس بیٹھ گیا…
ہاں… میں بھی اسی کے ساتھ رکوں گا…
تائیجون نے سر جھٹکا…
بس… اسی میں ختم ہو گئے تم لوگ…
سومین نے جھنجھلا کر کہا…
اوئے جا نا… دفعہ ہو اوپر نکل اِدھر کیا کر رہا ہے۔۔۔
میں تو جا رہا ہوں… تم لوگ ہی راستہ روکے بیٹھے ہو…
ہم نے باندھ رکھا ہے تجھے…؟ تو نکل جا آگے
سومین نے طنزیہ انداز میں کہا…
پِھر تائيجون نے کندھے سے اسے ہلکا سا پیچھے کرنے کی کوشش کی…
ہٹ پھر راستہ دے۔۔
اور وہی لمحہ…
بس ایک چھوٹی سی غلطی…
سومین کا پاؤں ایک ڈھیلے پتھر پر پڑا…
توازن بگڑا…
ارے۔۔۔
وہ پیچھے کی طرف لڑکھڑایا…
اور اگلے ہی لمحے… ڈھلوان پر پھسل گیا…
سومِن۔۔۔۔
سیونگ چیخا…
وہ زیادہ دور نہیں گرا…
چند فٹ نیچے جا کر ایک جھاڑی اور پتھروں کے بیچ اٹک گیا…
خاموشی…
پھر ایک ساتھ سب نیچے کی طرف بھاگے…
ہان وو سب سے پہلے اس تک پہنچا…
تم ٹھیک ہو؟
سومین نے آنکھیں جھپکیں…
سانس تیز تھی… مگر ہوش میں تھا…
نہیں مزے میں ہوں۔۔۔
بین۔۔۔ ہیوک نے حیرانی سے اُسے دیکھا۔۔۔
جو جھاڑی اور پتھروں کے بیچ اٹک ہُوا تھا…بالوں میں پتے اٹکے ہوئے… کپڑوں پر مٹی لگی تھی اور کہہ رہا تھا مزے میں ہوں۔۔۔
ہاتھ دو… سیونگ بولا…
نہیں چاہیے… وہ بڑبڑایا…
میں خود نکل جاؤں گا… اس نے دوبارہ حرکت کی…
اور اس بار واقعی تھوڑا اور پھسل گیا…
ہیرو مت بن۔۔۔ہاتھ دے۔۔۔ سیونگ فوراً چیخا…
ہان وو نے بغیر کچھ کہے… اس کا بازو مضبوطی سے پکڑا…
اور ایک جھٹکے سے اوپر کھینچ لیا…
سومین آخرکار ڈھلوان پر واپس آ گیا…
سانس لیتے ہوئے… کپڑے جھاڑتے ہوئے…
دیکھا… نکل آیا… اس نے فخر سے کہا…
ہاں… ہیوک نے فوراً جواب دیا…
ہم نے نکالا ہے…
ابے چل میں خود نکل جاتا۔۔۔ سومین نے کہا لیکن پھر اچانک سومین کے چہرے کا رنگ بدل گیا…
وہ خاموش ہو گیا…
اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ پکڑا…
جیسے ابھی اسے احساس ہوا ہو…
درد…
تیز… چبھتا ہوا… سیدھا کلائی سے بازو تک پھیلتا ہوا…
اوئے… کیا ہوا؟
سیونگ نے فوراً نوٹ کیا…
سومین نے کچھ کہنے کی کوشش کی… مگر آواز ہلکی سی رک گئی…
کچھ نہیں… بس… تھوڑا سا۔۔۔
جیسے ہی اس نے ہاتھ ہلانے کی کوشش کی…
آہ—۔۔
اس کی سانس ایک جھٹکے سے اٹکی…
سب ایک دم سنجیدہ ہو گئے…
ہان وو فوراً اس کے قریب آیا… ہاتھ دکھاؤ…
کچھ نہیں ہے… سومین نے فوراً پیچھے کیا
ڈرامہ مت کر۔۔۔ تائیجون نے کہا ادھر دو…
چند لمحوں کی ہچکچاہٹ…
پھر آخرکار سومین نے آہستہ سے ہاتھ آگے بڑھا دیا…
ہان وو نے بہت احتیاط سے اس کی کلائی کو دیکھا…
ہلکا سا موڑنے کی کوشش کی۔۔۔
مت کرو۔۔۔ سومین فوراً پیچھے ہٹا…
آنکھیں بند ہو گئیں… درد واضح تھا…
سیونگ نے ہونٹ کاٹے…
موچ آگئی ہے کیا۔۔۔؟
ہان وو نے مضبوطی سے کہا…
واپس چلو۔۔۔
کیا؟ بسیونگ نے فوراً کہا… اتنی مشکل سے یہاں تک آئے ہیں۔۔۔ سب کو جانے کی ضرورت نہیں ہے ایک چلے جاؤ اس کے ساتھ نیچے۔۔۔ منیجر سے چیک کروا لینے اُس کے بس میڈیسین باکس ہوگا۔۔۔
چل… میں لے جاتا ہوں… تائیجون نے سیدھا کہا…
اے بھائی… معافی… سومین نے فوراً ہاتھ اٹھایا…
تو یہیں رہ… میں خود چلا جاؤں گا… ورنہ نیچے جاتے جاتے میں نے تیرا بکواس کی وجہ سے تیرا سر پھاڑ دینے ہے۔۔۔
ابے چل جا میں بكواس کرتا ہوں یا تو کرتا ہے۔۔۔
میں کرتا ہوں۔۔۔ ہان وو نے دونوں کے بیچ میں آکر کہا اب دونوں چپ۔۔۔ چلو… میں لے کر چلتا ہوں… ویسے بھی… مجھے ادھر کوئی مزہ نہیں آ رہا…
تائیجون نے فوراً اس کی طرف دیکھا…
آنکھوں میں ہلکی سی شرارت چمکی…
ہاں واقعی…؟
ہاں… ہان وو نے مختصر جواب دیا…
تائیجون نے ہلکا سا مسکرا کر سر ہلایا…
بڑے بورنگ انسان ہو تم…
ہیوک نے ہنستے ہوئے کہا… ہاں… جو بھی ہو… تھک گئے ہیں لیکن مزہ بہت آ رہا ہے…
ہان وو نے کندھے اچکائے… پھر تم لوگ کرو مزے…
اس نے بغیر مزید کچھ کہے…
سومین کے قریب آ کر اس کا ٹھیک والا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا… چل سکتے ہو؟
سومین نے ایک لمحہ اسے دیکھا…
نہیں… لنگڑا ہو چکا ہوں…
گود میں اٹھا لے بھائی اسے… تائیجون نے فوراً کہا…
سومین نے گھور کر دیکھا… ابے تُو چپ ہو جا… نہیں تو مارا جائے گا میرے ہاتھوں…
ہاتھ تو ویسے ہی کام نہیں کر رہا…
سیونگ نے آہستہ سے بولا… اور خود ہی ہنس پڑا…
دوسرا ہاتھ ابھی سلامت ہے اور اس جیسے چننگور کے لیے میرا ایک ہاتھ ہی کافی ہے۔۔۔
ابے جا چل… میرے ایک ہاتھ سے تو نیچے گرا پڑا تھا۔۔ آیا بڑا۔۔۔ تائیجون نے فوراً طنز کیا…
سومین اُسے مارنے چاہا لیکن ہاتھ کی وجہ سے روک گیا۔۔ تو نیچے چلا پھر بتا ہوں تُجھے۔۔۔
بس ہو گیا… بہت…
ہان وو کی آواز اس بار واضح سخت تھی…
اس نے ایک قدم آگے بڑھ کر…
پھر ہان وو نے سیدھا سومِن کو بازو سے پکڑا…
اور اسے اپنے ساتھ کھینچ لیا…
اوئے۔۔۔ سومِن چونکا… چھوڑ میں خود چل سکتا ہوں…
نہیں… ہان وو نے سادہ لہجے میں کہا…
ہیوک نے ہنسی دبائی… بھائی اُٹھ کے لے کر جا اسے۔۔۔
اٹھا لے اٹھا لے۔۔۔ تائیجون نے چیختے ہوئے بازو باندھ کر منظر دیکھا…
سومین نے پیچھے سے گھور کر دونوں کو دیکھا۔۔۔
پِھر ایک بار پھر خود کو چھڑانے کی کوشش کی…
میں خود چل سکتا ہوں۔۔۔
ہان وو رکا نہیں…بس آہستہ سے بولا…
پتا ہے…
پھر…؟
چند لمحوں کی خاموشی…
پھر چپ…
وہی دو لفظ… سادہ… مگر ضد سے بھرے ہوئے…
اور اس بار…
سومین نے کچھ نہیں کہا… بس خاموشی سے…اس کے ساتھ چل پڑا…
+++++++++++++
گاڑی کے پاس پہنچتے پہنچتے…
سومین کی سانسیں تو سنبھل گئی تھیں…
مگر درد… آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا…
وہ خاموشی سے اپنا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا…
جیسے جتنا کم ہلائے گا… اتنا کم درد ہوگا…
منیجر نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما…
بڑی توجہ سے دیکھا…
ہلکا سا موڑا…
آہ…
سومین نے فوراً دانت بھینچ لیے…
ریلیکس… منیجر نے سکون سے کہا…
زیادہ مسئلہ نہیں ہے… بس موچ ہے…
اس نے بیگ سے کریم نکالی…
آہستہ آہستہ اس کی کلائی پر لگائی…
پھر احتیاط سے پٹی باندھ دی…
کچھ دیر میں ٹھیک ہو جائے گا…
سومین نے ہلکا سا سر ہلا دیا…
لیکن وقت کے ساتھ…
درد کم ہونے کے بجائے… بڑھنے لگا…
ہاتھ جیسے بھاری ہو گیا تھا…
اور ہر ہلکی سی حرکت… تکلیف دے رہی تھی…
منیجر نے اسے غور سے دیکھا… پھر سنجیدگی سے کہا… آپ ہوٹل واپس چلے جائے… پین کلر لے کر ریسٹ کرے… کل تک ہاتھ بہتر ہو ہوجائے گا
سومین نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے…
مگر اس سے پہلے
تو پھر ہم ابھی چلتے ہیں… ہان وو نے سیدھا کہا…
باقی سب کا انتظار کریں گے… تو کافی وقت لگ جائے گا… کھانا پینا وہیں ہوٹل میں کھا لیں گے….
منیجر نے چند لمحے سوچا…
پھر سر ہلا دیا…
ہاں… یہ ٹھیک رہے گا… میں گاڑی ارینج کر دیتا ہوں…
ہوا میں ہلکی سی خاموشی پھیل گئی…
سومین نے ایک نظر ہان وو کی طرف دیکھا…
جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو…
مگر کچھ نہیں کہا…
کچھ دیر بعد…
گاڑی آ چکی تھی…
دو سیکیورٹی گارڈز بھی ساتھ کھڑے تھے…
دروازہ کھلا…
سومین آہستہ سے بیٹھا…
ہاتھ اب بھی اپنی گود میں تھامے ہوئے…
ہان وو دوسری طرف سے آ کر بیٹھ گیا…
دروازہ بند ہوا…
اور گاڑی آہستہ آہستہ چل پڑی…
پیچھے…
پہاڑ… لوگ… آوازیں… سب رہ گئے…
اندر…۔خاموشی تھی…
سومین نے کھڑکی کے باہر دیکھا…
درخت پیچھے بھاگ رہے تھے…
پھر آہستہ سے بولا…
تم رک جاتے وہیں… ابھی وہ لوگ اور گھومیں گے…
ہان وو نے سیدھا سامنے دیکھتے ہوئے کہا…
مُجھے گھومنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔۔
جھوٹ تو نہیں کہہ رہے؟؟ سومِن نے پھر کہا…
ہان وو نے اس کی طرف دیکھا…
نظریں سیدھی… جیسے ہمیشہ ہوتی تھیں…
تُم تو ایسے پوچھے رہے ہو جیسے مُجھے جانتے ہی نہیں ہو۔۔۔؟
سومین ایک لمحے کو خاموش ہو گیا…
اور واقعی… وہ ہان وو کو جانتا تو تھا…
ہان وو ویسا ہی تھا… جیسا وہ خود کو دکھاتا تھا…
خاموش… سنجیدہ… الگ سا…
وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا…
جو ہر بات پر ہنسیں… ہر لمحہ جئیں… یا ہر چیز کو دلچسپ بنا دیں…
نہیں…
وہ ان لوگوں میں سے تھا… جو خاموشی سے دیکھتے ہیں… سمجھتے ہیں… اور پھر… بغیر کچھ کہے… ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں…
اسے گھومنا پھرنا واقعی پسند نہیں تھا…
شور… ہنسی مذاق… بے وجہ کی باتیں…
سب اس کے لیے تھکا دینے والی تھیں…
اسی لیے…
وہ گروپ کا سب سے “بورنگ” انسان تھا…
کم از کم… باقی سب کے لیے…
لیکن…
کوئی یہ نہیں جانتا تھا…
کہ وہی سب سے زیادہ دیکھنے والا تھا…
وہ وہ چیزیں بھی محسوس کر لیتا تھا…
جو لوگ خود سے بھی چھپا لیتے ہیں…
کسی کے لہجے کی ہلکی سی تبدیلی…
کسی کی آنکھوں کی تھکن…
کسی کے چہرے کی زبردستی مسکراہٹ…
سب…
وہ کہتا کچھ نہیں تھا…
لیکن سمجھ سب لیتا تھا…
اور شاید…
اسی لیے…
وہی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد بھی تھا…
کیونکہ باقی سب…
کسی نہ کسی ایک کے قریب تھے…
راز… باتیں… احساسات…
آخر کسی نہ کسی تک پہنچ ہی جاتے تھے…
مگر ہان وو… وہ سنتا تھا…
اور رکھ لیتا تھا… جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو…
++++++++++++
پہاڑ سے نیچے اترتے ہوئے…
سب کے قدم تھکے ہوئے تھے… مگر چہرے کھلے ہوئے تھے۔۔۔
لیکن جیسے ہی وہ نیچے پہنچے…
تھوڑی دیر بعد
سوہان کہاں ہے…؟
رن یون کی آواز میں ہلکی سی سنجیدگی آ گئی…
سب ایک دم رکے…
آس پاس نظر دوڑائی…
لیکن… وہ کہیں نہیں تھا…
وہ تو بیچ میں ہی رک گیا تھا… ہیوک نے یاد کرتے ہوئے کہا… شاید نیچے آ گیا ہوگا…
رن یون نے فوراً اردگرد دیکھا… پھر منیجر کی طرف مڑا… یہاں ہونا چاہیے تھا…
منیجر نے سر ہلایا… مجھے تو نظر نہیں آیا…
سب ایک دم پریشان ہوگئے۔۔۔
سوہان… سیونگ نے اونچی آواز میں پکارا…
کوئی جواب نہیں…
سوہان۔۔۔ اس بار تائیجون نے بھی آواز لگائی…
خاموشی…
ہوا درختوں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی…
مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں…
ڈھونڈو اُسے۔۔۔۔ رن یون کی آواز اب سخت تھی…
گاردز بھی ادھر ادھر دیکھنے لگے…
سب الگ الگ سمتوں میں پھیل گئے…
سوہان۔۔۔
اوئے کہاں ہو؟!
آوازیں گونج رہی تھیں…
لیکن…
کوئی جواب نہیں…
رن یون نے فوراً فیصلہ کیا…
سب الگ ہو کر ڈھونڈو… یہیں کہیں ہوگا۔۔۔
سب کے چہروں پر فکر تھی اور سب ہی بےچینی سے سوہان کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔
+++++++++++++
وہ دونوں ابھی ہوٹل کے راستے میں ہی تھے…
کہ اچانک
گاڑی روکو! گاڑی روکو…
سومین کی آواز ایک دم بلند ہوئی…
ہان وو نے فوراً اس کی طرف دیکھا…
ہوا کیا…؟
پہلے گاڑی روکو۔۔۔
سومین نے بے صبری سے کہا…
ڈرائیور نے بریک لگا دی…
گاڑی ابھی پوری طرح رکی بھی نہیں تھی…
کہ سومین دروازہ کھول کر تیزی سے باہر نکلا…
اوئے۔۔۔۔
ہان وو بھی فوراً اس کے پیچھے اترا…
سومین سیدھا سڑک کراس کرتا ہوا… دوسری طرف پہنچ گیا…
ہان وو نے نظر اٹھا کر دیکھا…
سڑک کے اُس پار… ایک لڑکی کھڑی تھی…
بے حد پریشان… چہرہ زرد… آنکھیں نم… جیسے وہ ابھی رو پڑے گی…
یہ کون ہے…؟ ہان وو نے ہلکے سے کہا…
ایک گارڈ فوراً سومین کے پیچھے گیا…
جبکہ دوسرا ہان وو کے ساتھ ہی کھڑا رہا…
ادھر…
سومین اُس لڑکی کے سامنے جا کر رک گیا…
تم ٹھیک ہو…؟
اس کا لہجہ اس بار حیران کن حد تک نرم تھا…
لڑکی نے چونک کر اسے دیکھا…
جیسے کسی نے اچانک اسے اس کی پریشانی سے باہر نکال دیا ہو…
میں… وہ…
اس کی آواز ہلکی سی کانپ رہی تھی…
سومین نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے دیکھا…
پھر اردگرد نظر دوڑائی… خالی سڑک… چند گزرتی گاڑیاں… اور وہ… اکیلی…
کیا ہوا ہے…؟ اس نے پھر پوچھا…
سومین اس کے سامنے جا کر رکا…
کیا ہوا…؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو…؟
وہ… میں… میں…
اس کی آواز کانپ رہی تھی…
آپ… میری مدد کریں نا پلیز… وہ ۔۔۔
ہاں ہاں کروں گا مدد… پہلے بتاؤ کیا ہوا ہے…
سومین نے ذرا جھنجھلا کر کہا… مگر لہجہ پھر بھی نرم تھا…
میں… میں نا… غلطی سے راستہ بھول گئی ہوں…
پہلے رونا بند کرو…
سومین نے سیدھا کہا…
اور آرام سے بتاؤ… کیا ہوا ہے…
اس کی نظر اچانک سومین کے پیچھے کھڑے گارڈ پر گئی…
یہ…؟
یہ میرا دوست ہے… چھوڑو اسے…
سومین نے بے پرواہی سے کہا…
تم بتاؤ…
صدف نے ہچکچاتے ہوئے کہنا شروع کیا…
میں یونیورسٹی سے نکلی تھی… رکشہ لیا…
پھر… پتہ نہیں کیسے یہاں آ گئی…
راستہ نہیں پتہ تھا تمہیں…؟ سومین نے فوراً پوچھا…
پتہ تھا… وہ جلدی سے بولی… میں دیکھ کر بیٹھی تھی… ساتھ میں راستہ بھی دیکھ رہی تھی صحیح راستے پر تھی… پھر میں مطمئن ہو گئی… فون میں لگ گئی… اور پھر… رکشہ والے نے یہاں اتار دیا… اور چلا گیا… اب مجھے نہیں پتہ… یہ کون سا راستہ ہے…
سومین نے اسے غور سے دیکھا…
تم تو اپنے بھائی کے ساتھ آتی جاتی ہو نا… پھر آج کیوں…؟
صدف فوراً رک گئی… چہرے پر ہلکی سی جھجھک…
وہ… میں آپ کو نہیں بتاؤں گی…
سومین نے بھنویں اٹھائیں… کیوں بھلا…؟
بس… نہیں بتا سکتی…
چند لمحوں کی خاموشی…
پھر سومین نے کندھے اچکائے…
ٹھیک ہے… مت بتاؤ…
وہ مڑنے لگا…
پھر کھڑی رہو یہاں…
ہنہ۔۔۔۔
صدف نے فوراً منہ بنایا…
آپ سے یہی امید تھی مجھے… جائیں… اپنے راستے… مجھے آپ کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے…
سومین رکا…
پیچھے مڑ کر اسے دیکھا…
سوچ لو… واقعی چلا جاؤں گا میں…
ہنہ… بدتمیز۔۔۔۔ صدف نے غصے سے کہا…
سومین نے ذرا سنجیدگی سے پوچھا…
تم نے رکشے والے کو بتایا تھا کہ کہاں جانا ہے…؟
صدف نے ہلکا سا سر ہلایا…
وہ تو نہیں بتایا… یونیورسٹی کے پاس تو ویسے بھی بہت سارے رکشے کھڑے ہوتے ہیں…
اوہ… سومین نے آہستہ سے کہا…
پھر اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا…
گھر دیکھا ہوا ہے اپنا…؟
صدف نے فوراً “ہاں” میں سر ہلا دیا…
چلو پھر… میں چھوڑ دیتا ہوں…
سومین نے سادہ انداز میں کہا…
صدف نے ایک لمحے کو ہاں کی…
مگر پھر اس کی نظر سومین کے پیچھے کھڑے گارڈ پر گئی… پھر سڑک کے اُس پار… ہان وو اور اس کے ساتھ کھڑے دوسرے لڑکے پر… ایک دم… وہ گھبرا گئی…
نہیں نہیں… میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتی…
سومین نے بھنویں سکیڑیں…
اچھا… تو اپنے بھائی کو فون کر لو…
صدف نے بے بسی سے کہا…
فون ہی نہیں ہے میرے پاس… اور مجھے کسی کا نمبر بھی یاد نہیں… نہ بھائی کا… نہ گھر میں کسی اور کا… اب میں کیا کروں…؟ مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ یہ کون سا راستہ ہے…
وہ واقعی پریشان تھی…
سومین نے ایک لمحے کے لیے آسمان کی طرف دیکھا…
جیسے صبر جمع کر رہا ہو…
میرے ساتھ بھی نہیں جانا… فون بھی نہیں ہے…
تو پھر گھر کیسے جاؤ گی…؟
صدف نے آہستہ سے کہا…
پتا نہیں…
اچھا… میں تمہارے لیے کیب بک کر دیتا ہوں… تم اس میں لوکیشن ڈال دینا…
نہیں۔۔۔ صدف نے فوراً کہا…
میں کیب میں نہیں جاؤں گی… اگر وہ مجھے کہیں اور لے گیا تو…؟
سومین نے ہلکا سا سر جھٹکا… نہیں لے کر جائے گا۔۔۔
نہیں۔۔۔ وہ ضد سے بولی…آپ بس کسی طرح میرے بھائی کو یہاں بلا دیں… پلیز…
میں کیسے بلاؤں…؟ سومین نے اب ذرا واضح انداز میں کہا… نمبر ہی یاد نہیں ہے تمہیں۔۔۔
صدف کی آنکھیں پھر بھرنے لگیں…
اب میں گھر کیسے جاؤں گی…؟
سومین نے فوراً کہا اچھا اچھا… رو مت…
چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا… پھر ذرا نرم لہجے میں بولا… میں ہوں نہ میرے ساتھ چلو۔۔۔ میں چھوڑ دونگا تمہیں گھر۔۔۔
ہان وو گاڑی کے پاس کھڑا تھا… نظریں سیدھی سڑک کے اُس پار… جہاں سومین اور وہ لڑکی کھڑے تھے…
وہ کچھ دیر تک خاموشی سے دیکھتا رہا…
پھر آہستہ سے اس نے ساتھ کھڑے باڈی گارڈ سے پوچھا… تم نے کبھی سومین کو اتنا پریشان دیکھا ہے…؟
باڈی گارڈ نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیا…
ہان وو نے چونک کر اس کی طرف دیکھا…
کب…؟
جب کنسرٹ کے دوران اس کا فیورٹ بلیو مائک نہیں ملتا… باڈی گارڈ نے سنجیدگی سے جواب دیا…
ارے۔۔۔ ۔پھر ایک لمحے کے لیے رکا… سوچا… وہی تو…
اس نے دھیمی آواز میں کہا… یہ اپنی چیزوں کے علاوہ… کسی اور کے لیے اتنا پریشان کیسے ہو سکتا ہے…؟
باڈی گارڈ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا…
آپ سب کے لیے بھی تو ہوتے ہیں…
ہم… اس کے اپنے ہیں… ہان وو نے فوراً کہا…
نظریں اب بھی سومین پر تھیں… وہ… نہیں ہے…
باڈی گارڈ نے آہستہ سے کہا… کیا پتا… بن گئی ہو…
ہان وو نے بھنویں سکیڑیں… کیا مطلب…؟
باڈی گارڈ نے ہلکے سے مسکرا کر کہا…
آپ نے وہ والا گانا نہیں سنا…؟
جانو نہ میں تجھ میں میرا حصہ ہے کیا…
پر اجنبی اپنا مجھے تو لگا…
ہان وو نے فوراً پوچھا… یہ کون سا گانا ہے…؟
ہندی گانا ہے… آپ نے نہیں سنا ہوگا…
ہان وو نے سیدھا سوال کیا… تو تم نے کیسے سن لیا…؟
باڈی گارڈ نے ہلکا سا سر جھکایا…
سر… میں کبیر ہوں… انڈین ہوں میں…
ہان وو ایک لمحے کو رکا… پھر آہستہ سے کہا…
اوہ… سوری…
چند لمحوں کی خاموشی…
پھر اس نے دوبارہ سڑک کے اُس پار دیکھا…
سومین اب بھی وہیں کھڑا تھا…
اسی لڑکی کے سامنے… اسی سنجیدگی کے ساتھ…
ایسا… صرف فلموں اور گانوں میں ہوتا ہے… ہان وو نے آہستہ سے کہا…
باڈی گارڈ نے اس کی طرف دیکھا… پھر بہت سکون سے بولا… ریئل میں بھی ہوتا ہے… اور اب تو… آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے…
ہان وو نے کچھ نہیں کہا… بس… اس کی نظریں تھوڑی دیر اور وہیں ٹھہری رہیں…
صدف نے بے بسی سے اسے دیکھا…
آپ کچھ کریں نا…
کیا کروں میں؟ تمہیں میرے ساتھ جانا نہیں… کیب میں بھی نہیں جانا… بھائی کا نمبر یاد نہیں…
دوبارہ رکشہ کروا دوں…؟
نہیں… صدف نے فوراً کہا…
سومین نے گہری سانس لی… پھر سے نہیں…؟ تو اب اور کیا کروں میں… بولو…
صدف نے آہستہ سے کہا… مجھے نہیں پتا…
پیچھے کھڑے باڈی گارڈ نے آہستہ سے کہا…
سر… پولیس کو بلا لیتے ہیں… وہ انہیں گھر چھوڑ دے گی…
سومین نے فوراً صدف کی طرف دیکھا… ہاں… پولیس کو بلا لیتا ہوں…
ہاں؟ پولیس کیوں…؟ صدف ایک دم گھبرا گئی…
وہ تمہیں پروٹوکول کے ساتھ گھر چھوڑ دیں گے…
سومین نے سیدھا کہا… ان پر تو یقین کر لو گی…؟
یہ سن کر… صدف کی آنکھیں اور بھر گئیں…
ارے۔۔۔ رونے کیوں لگ گئی…؟ سومین نے فوراً کہا…
یہاں کی پولیس کون سی اچھی ہے… وہ روتے ہوئے بولی…
سومین چند لمحے اسے دیکھتا رہا…
تو کون اچھا ہے یہاں…؟ نہ رکشہ والے اچھے… نہ کیب والے اچھے… نہ پولیس والے اچھے…
وہ ذرا سا جھکا… اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا…
پھر ہے کون اچھا…؟
صدف نے آنسو پونچھے۔۔۔
ناک سرخ ہو چکی تھی… آواز ہلکی سی ٹوٹی ہوئی…
میں… میں اچھی ہوں بس…
چند لمحوں کے لیے… سومین بالکل خاموش ہو گیا…
پھر… اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی…
ہاں… یہ تو نظر آ رہا ہے…
صدف نے فوراً منہ بنایا… آپ مذاق اڑا رہے ہیں میرا…
نہیں… سومین نے سر ہلایا…
میں سیریس ہوں… پھر اس نے ایک قدم پیچھے لیا…
اور سیدھا کہا…۔چلو… ایک کام کرتے ہیں…
صدف نے امید سے اسے دیکھا…
تم میرے ساتھ آ جاؤ… اس نے سکون سے کہا…
اور اگر تمہیں ایک فیصد بھی لگا کہ کچھ غلط ہے…
تو وہیں اتر جانا…
صدف خاموش ہو گئی…
اس کی نظریں سومین پر ٹکی تھیں…
جیسے وہ…ناسے پرکھ رہی ہو…
ہان وو بھی سڑک کراس کر کے اُن کے پاس آ گیا…
اور آتے ہی سومین سے اپنی زبان میں بولا…
کیا کر رہے ہو؟ چلنا نہیں ہے؟ اور کون ہے یہ…؟
صدف چونک کر دونوں کو دیکھنے لگی…
کیا…؟ کیا…؟ آپ نے مجھے کیا کہا…؟
سومین نے فوراً سنبھالا…
کچھ نہیں… بس پوچھ رہا ہے… تم کون ہو…
اس نے انگریزی میں کہا…
ہان وو نے پھر اسی لہجے میں کہا…
بتا نا مسئلہ کیا ہے… کب سے کھڑا ہے یہاں…
تو اسے جانتا ہے…؟ سومین نے پوچھا…
نہیں۔۔۔
پھر چپ رہ… سومین نے سیدھا جواب دیا…
ابے تو کب تک کھڑے رہنا ہے…؟ ہان وو نے بےزاری سے کہا…
جب تک یہ یہاں کھڑی رہے گی۔۔ سومین نے صدف کی طرف دیکھتے کہا۔۔۔ جو اب بے حد پریشان اپنے دونوں ہاتھ مسلتے ہوئے، سوچ رہی کے وہ اب گھر کیسے پہنچے۔۔۔
تو یہ یہاں کھڑی ہوئی کیوں ہے۔۔۔؟؟
اسے گھر جانا ہے… اور یہ غلط راستے پر آ گئی ہے…
سومین نے مختصر بتایا…
تو چلو نا… گھر چھوڑ دیتے ہیں… ہان وو نے سادہ سا حل دیا…
نہیں جا رہی نا ہمارے ساتھ… سومین نے ہلکا سا جھنجھلا کر کہا…
کیوں…؟
بہت سارے لڑکے ہیں… اسی لیے…
ہان وو نے سیدھا جواب دیا… کیا لڑکوں سے الرجی ہے…؟
ہاں… سومین نے خشک انداز میں کہا…
وہ دونوں اپنی زبان میں بات کر رہے تھے…
اور صدف کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا…
ہان وو نے ایک لمحے کے بعد آہستہ سے کہا…
فیس ماسک اتار دے… پھر دیکھنا… کیسے مانے گی…
سومین نے فوراً اسے گھورا… اپنے شہر میں نہیں ہیں ہم…۔اور اس نے مجھے دیکھا ہوا ہے…
کب…؟ ہان وو نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا…
مسجد کے باہر…
ہان وو کی نظریں اور تیز ہو گئیں… تم مسجد یہ کرنے جاتے تھے…؟
نہیں! سومین فوراً بولا… تو غلط سمجھ رہا ہے… میں کوئی ڈیٹنگ ویٹنگ نہیں کر رہا…
تو پھر…؟
بتاؤں گا… گھر جا کے… سومین نے بات ختم کی…
ابھی یہ سوچ… اسے گھر کیسے پہنچاؤں…
اسی لمحے…
صدف دوبارہ اُن کی طرف مڑی… اور انگریزی میں بولی…
آپ… بھائی کے دوست ہیں نا…؟ آپ کے پاس نمبر نہیں ہے… بھائی کا…؟
سومین ایک لمحے کو رکا… نمبر…؟ پھر اچانک جیسے اسے کچھ یاد آیا… اوہ ہاں… نمبر…! اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا… اس نے تو مجھے اپنا نمبر دیا تھا…
صدف اسے خانے والی نظروں سے گھور رہی تھی…
اس کا چہرہ ہمیشہ کی طرح سیاہ نقاب میں چھپا ہوا تھا… صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں… اور اس وقت… وہ آنکھیں واقعی کسی کی جان لینے کو تیار تھیں…
ارے یار… میں سچ میں بھول گیا تھا… سومین نے صفائی دی…
جھوٹ مت بولیں… صدف نے فوراً کاٹ دیا…
نہیں… میں جھوٹ نہیں بول رہا…
تو پھر اتنی دیر سے کھڑے میرا تماشا دیکھ رہے تھے…؟
نہیں یار… واقعی بھول گیا تھا…
صدف نے تلخی سے کہا… ہاں… میرے ہی وقت میں سب بھول جاتے ہیں نا…اس دن بھی کہا تھا مسجد سے میرے بھائی کو بلا دیں… آپ بھول گئے…
ابھی آپ کے پاس نمبر تھا… وہ بھی بھول گئے…
سب جانتی ہوں میں…
سومین ایک لمحے کو چپ ہو گیا…
کیا جانتی ہو…؟
یہی… کہ آپ میری مدد کرنا ہی نہیں چاہتے…
اس کی آواز ہلکی سی بھر گئی… میری ہی غلطی تھی… جو آپ سے دوسری بار بھی مدد مانگ لی…
چند لمحوں کی خاموشی…
سوری… سومین نے آہستہ سے کہا…
میں سچ میں بھول گیا تھا…
ہان وو…بس خاموش کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا…
اور پہلی بار…اس کے ذہن میں ایک ہی سوال آیا…
کیا یہ وہی سومین ہے…؟
وہی۔۔۔ جو ہر بات کو مذاق میں اڑا دیتا تھا…
جو کسی کے غصے… کسی کے آنسو… کسی کی پریشانی کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا…
وہی… جو دو جملے بول کر سامنے والے کو خاموش کرا دیتا تھا…
لیکن ابھی… وہ صفائی دے رہا تھا… وضاحت… کر رہا تھا… اور عجیب بات یہ تھی… اس کی آواز میں وہ کاٹ نہیں تھی… وہ طنز نہیں تھا… جو ہمیشہ ہوتا تھا…
وہ گروپ کا سویج بوائے تھا… لیکن… آج… وہ چپ تھا… اور شاید… پہلی بار… کسی کے سامنے… تھوڑا سا سنجیدہ بھی تھا۔۔۔
صدف نے خفگی سے منہ پھیر لیا… اب فون کریں بھائی کو…
سومین نے جیب سے فون نکالا…
اور نمبر ڈھونڈتے ہوئے پھر آہستہ سے کہا…
مجھے واقعی یاد نہیں تھا…
صدف نے فوراً کاٹ دیا…
سوری… میں اب بہری ہو چکی ہوں…
سومین رکا… ہیں…؟
مجھے آپ کی آواز نہیں آ رہی… چپ سے کال کریں…
وہ سرد لہجے میں بولی…
ہان وو نے ایک نظر سومین پر ڈالی…
اور پھر نظریں ہٹا لیں…
سومین نے آخرکار نمبر ڈائل کیا… فون کچھ لمحے بجتا رہا… پھر دوسری طرف سے آواز آئی… باسط کی…
ہيلو…؟
ہاں… سنو۔۔۔ سومین نے سیدھا کہا… اور مختصر انداز میں لوکیشن بتا دی… دوسری طرف خاموشی کا ایک لمحہ…
پھر اچانک…
کیا؟ وہ وہاں کیا کر رہی ہے…؟
باسط کی آواز واضح پریشان تھی…
سومین نے صرف اتنا کہا… آ جاؤ…
چند سیکنڈ بعد… آیا میں… ابھی آیا…کال کٹ گئی…
سومین نے فون نیچے کیا…
صدف اب بھی دوسری طرف منہ کیے کھڑی تھی…
بازو باندھے ہوئے… جیسے اب بھی ناراض ہو…
آ رہا ہے… سومین نے آہستہ سے کہا…
بہت مہربانی۔۔۔ وہ خفکی سے بولی۔۔
+++++++++++++
سوہان ابھی وہیں پتّھر پر بیٹھا تھا، جہاں سیونگ لوگ اُسے چھوڑ کر گئے تھے۔۔ وہ تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ، ایک طرف گھاس پر بیٹھ گیا…
ماسک ہٹایا… لمبی سانس لی… ہوا ٹھنڈی تھی…
تبھی…
ارے یار یہ کون ہے…؟ قریب سے آواز آئی…
سوہان نے نظر اٹھائی… تین لڑکے کھڑے تھے…
عمر میں اس جیسے ہی… کندھوں پر بیگ… چہروں پر تجسس… اور بالکل بے تکلف انداز…
ان میں سے ایک نے سیدھا اسے دیکھتے ہوئے کہا…
یہ پاکستانی تو نہیں لگتا…
سوہان سمجھا نہیں…
مگر لہجے سے اندازہ ہوا کہ بات اسی کے بارے میں ہے…
دوسرے نے آگے بڑھ کر انگریزی میں پوچھا…
Hey… you okay? Where are you from?
سوہان نے ہلکا سا سر اٹھایا…
Korea… he said simply.
تینوں کے چہروں پر ایک ساتھ حیرت آئی…
کوریا سے…؟ پہلے والے نے اردو میں کہا… پھر فوراً انگریزی میں پلٹا…
Like… South Korea?
Yes…
Tourist? یہاں گھومنے آئے ہو؟
Sohan nodded… Trip… with friends.
ارے یار… تیسرے نے سیٹی بجائی… کوریا سے مرگلہ آئے ہیں… کمال ہے…
پہلے والے نے جھک کر ہاتھ آگے بڑھایا…
I’m Zaid… he said with an easy grin… This is Hamza… and that one is Bilal…
بلال نے ہاتھ ہلایا… وہ پہلے سے ہنس رہا تھا…
پارک سوہان… سوہان نے آہستہ سے کہا…
سوہان… زائد نے دہرایا… اچھا نام ہے…
پھر ایک لمحہ رکا…
تم اکیلے بیٹھے ہو… دوست کہاں گئے؟
سوہان نے پیچھے اشارہ کیا…
Somewhere there…
حمزہ نے ہنستے ہوئے کہا…
Got lost or they lost you?
سوہان کو پوری بات سمجھ نہیں آئی… مگر لہجہ سمجھ آیا…
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی…
زائد نے اس کی طرف دیکھا…
پھر بالکل سادگی سے بولا…
Chalo… come with us… we’re playing cards over there… you can wait for your friends with us…
سوہان نے ایک لمحہ سوچا…
پھر…
اوکے۔۔۔۔ اس نے آہستہ سے کہا…
اور اٹھ گیا…
تھوڑی دیر بعد…
وہ ان تینوں کے ساتھ گھاس پر بیٹھا تھا…
درمیان میں تاش کے پتے بکھرے ہوئے تھے…
بلال اسے رولز سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا…
آدھے اردو میں… آدھے انگریزی میں…
سوہان آدھا سمجھ رہا تھا…
آدھا اندازے سے کھیل رہا تھا…
اور ہر بار جب وہ غلط چال چلتا…
حمزہ ہنس کر پتے میز پر پٹختا… یار یہ تو cheat کر رہا ہے۔۔۔
نو… نو… اٹس اے گیم… سوہان نے فوراً کہا…
ابے اس پر الزام نہیں لگا… ابھی ہار رہا ہے تو بہانہ بنا رہا ہے… بلال نے سیدھا حمزہ کو کہا…
یہ ہر بار ایسا ہی کرتا ہے۔۔۔ زائد نے کہا چلو کوئی اور سا گیم کھیلے۔
پتے سمیٹے گئے…
سوہان نے پوچھا… What game?
بلال نے آنکھیں چمکائیں…
Running… catching… you know?
سوہان نے ایک لمحہ سوچا…
پھر سر ہلا دیا…
اوکے…
رولز سیمپل ہیں… جو پکڑایا… وہی پکڑے گا اگلے کو…
سوہان نے سر ہلایا… جیسے سمجھ آ گئی ہو…
آئی ہو یا نہ آئی ہو… وہ الگ بات تھی…
پہلے دو منٹ ٹھیک رہے…
بھاگنا… مڑنا… ہنسنا…
سوہان بھی ہنس رہا تھا… بے وجہ… بے فکر…
پھر…
زائد نے مڑ کر دیکھا… سوہان قریب آ رہا تھا…
بچنے کے لیے اس نے اچانک موڑ کاٹا…
سوہان بھی مڑا…
حمزہ بھی اسی طرف آ رہا تھا…
بلال اسی راستے سے واپس بھاگ رہا تھا…
ایک لمحہ…
چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا…
اور اگلے ہی لمحے…
چاروں ایک ساتھ گھاس پر…
کوئی الٹا… کوئی سیدھا… کوئی بیچ میں…
خاموشی… ایک سیکنڈ… دو سیکنڈ…
پھر حمزہ نے اوپر سے ٹانگ ہٹائی… یار یہ میری ٹانگ ہے یا تیری…؟
بلال نے گھاس میں منہ دبائے ہوئے کہا… مجھے نہیں پتا… میں زندہ بھی ہوں یا نہیں ابھی…
زائد اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا… مگر ہنسی کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا تھا…
اور سوہان… وہ چت لیٹا آسمان دیکھ رہا تھا…
سانس پھولی ہوئی… گھاس کی مٹی کپڑوں پر…
اور چہرے پر… ایک بڑی سی مسکراہٹ…
وہ کب آئی… اسے خود نہیں پتا تھا…
پِھر ہستے ہستے چاروں اٹھ کر بیٹھ گئے…
کپڑے جھاڑے…
حمزہ نے بیگ سے چھوٹا سا پٹی کا ڈبہ نکالا…
بلال نے گھٹنا آگے کیا… لگا دو یار…
حمزہ نے اس کا گھٹنا دیکھا… یہ تو بس سرخ ہوا ہے… کچھ نہیں ہوا…
بلال نے پھر بھی منہ بنایا… پھر بھی لگا دو…
زائد نے سر ہلایا… بچہ ہے بالکل…
حمزہ نے پٹی لگاتے لگاتے کہا…
بچا لیا اللہ نے ہمیں… ورنہ ابھی ہم سب مرے جاتے…
بلال نے سنجیدگی سے سر ہلایا… ہاں… ایک تو اتنی خطرناک جگہ… اوپر سے گرنا…
زائد نے سوہان کی طرف دیکھا… تمہیں کوئی چوٹ نہیں آئی نا…؟
سوہان نے اپنے ہاتھ دیکھے… نفی میں سر ہلایا۔۔
بلال نے فوراً کہا… بچ گئے تم…
سوہان نے ایک لمحہ سوچا… گر جاتے تو کیا ہوتا… مر جاتے…؟ اُس نے انگریزی میں کہا
حمزہ نے فوراً سر ہلایا… نہیں… ہسپتال میں پڑے ہوتے… اتنا آسان تھوڑی ہے مرنا…
بلال نے آہستہ سے کہا… ہاں… اتنا آسان ہوتا تو ابھی مر جاتا میں…
زائد نے پیچھے سے ہلکا سا مارا… ابے خودکشی کرے گا تو…
بلال نے فوراً ہاتھ اٹھایا… نہیں یار اللہ کی توبہ… ویسے ہی کہہ رہا تھا…
ہلکی سی ہنسی پھیل گئی…
پھر حمزہ نے سوہان کی طرف رخ کیا…
تم بتاؤ… تم مسلم ہو…؟ ویسے کرسچن ہوگے…
سوہان نے ایک لمحہ سوچا… نہیں… پتا نہیں…
بلال نے بھنویں چڑھائیں… کیا مطلب…؟
مطلب… میں مانتا نہیں کسی کو بھی…
حمزہ نے سیدھا پوچھا… مطلب خدا کو ہی نہیں مانتے…؟
سوہان نے سر ہلایا… نہیں…
بلال نے منہ بنایا… یہ سہی نہیں ہے…
زائد خاموش تھا… اس نے ایک لمحہ سوہان کو دیکھا…
پھر آہستہ سے پوچھا… کیوں نہیں مانتے…؟
سوہان نے نظریں نیچے کیں… کوئی لمبی کہانی نہیں تھی… کوئی بڑا فلسفہ نہیں تھا… بس…
Nobody ever told me…
اس نے سادگی سے کہا…
ایک لمحے کے لیے سب خاموش ہو گئے…
زائد نے اسے غور سے دیکھا…
جیسے یہ جواب اس نے expect نہیں کیا تھا…
حمزہ نے آہستہ سے کہا… کسی نے بتایا ہی نہیں…؟
سوہان نے ہلکا سا سر ہلایا…
بلال کچھ کہنے والا تھا…
مگر زائد نے اسے ایک نظر سے روک دیا…
پھر زائد نے سوہان کی طرف دیکھا…
اور بالکل سادگی سے… بس اتنا کہا۔۔ تو پھر… کبھی جاننے کی کوشش کرو…
سوہان نے اس کی طرف دیکھا…
سوہان نے کندھے اچکائے… کیا فرق پڑتا ہے…
زائد نے اسے دیکھا… پھر آہستہ سے کہا…
فرق پڑتا ہے نا…
سوہان نے نظریں اٹھائیں…
زائد نے گھاس پر کہنی ٹکائی… لہجہ بالکل سادہ تھا…
دیکھو… اگر ہم خدا کو مانتے ہیں… تم نہیں مانتے…
سوچو… اگر خدا ہوا تو… تو ہم تو بچ جائیں گے…
اور اگر خدا نہ ہوا… تب بھی ہم بچ جائیں گے…
وہ ایک لمحہ رکا… لیکن اگر خدا ہوا… تو تم کیسے بچو گے…؟
سوہان کے ہونٹ کھلے… پھر بند ہو گئے… جیسے جواب تھا… مگر نکلا نہیں…
خدا ہے تو…؟ اس نے آہستہ سے پوچھا…
بلال نے اسے دیکھا… تو وہ تم سے سوال نہیں کرے گا… کہ تم نے مجھے کیوں نہیں مانا… یا تم نے مجھے تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی…
وہ رکا… پھر بولا…
پھر تم کیا جواب دو گے…؟
خاموشی… ہوا چل رہی تھی… درخت ہل رہے تھے…
مگر سوہان کے اندر… کچھ تھم سا گیا تھا…
کوئی بڑا انقلاب نہیں آیا… کوئی آنسو نہیں آئے…
کوئی فیصلہ نہیں ہوا… بس… ایک سوال تھا…
جو پہلے کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا…
اور آج…۔ایک اجنبی نے پوچھ لیا تھا…
پھر تم کیا جواب دو گے…؟
++++++++++++
جاری ہے……
ب
