Gardaab Episode 3 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۳

باب دوم گریم ریپر

امن گھر آیا
دروازہ کھلا تو جیسے سانسیں واپس آئیں۔
گھر کے در و دیوار نے بھی جیسے سکون کا سانس لیا ہو،
انیسہ بیگم جو جانے کب سے نم آنکھوں میں دعائیں سجائے بیٹھی تھیں،
بےاختیار اٹھیں، اور امن کو خود میں چھپا لیا۔

السلام علیکم دادی، کیسی ہیں آپ؟
امن کی آواز میں وہ نرمی تھی،

لیکن جواب میں الفاظ نہیں، آنسو نکلے۔
وہ آنسو، جو جیل کے ہر دن، ہر لمحے جمع ہوئے تھے
آج بہہ نکلے تھے، امن کو دیکھ کر، چھو کر، محسوس کر کے۔

رو کیوں رہی ہیں، دادی؟ دیکھیں، میں صحیح سلامت آ گیا ہوں۔
انیسہ بیگم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا، تبھی پیچھے سے چھوٹی سی آواز ابھری
پر بھائی، ریپر کا کیا؟ وہ آپ کو صحیح سلامت رہنے نہیں دے گا۔
امن نے سر گھمایا، اور امل کو دیکھا، آنکھیں نم، ہونٹ کانپتے ہوئے، اور لہجے میں خوف،
امن نے گہری سانس لی، پیار سے نرمی سے امل کی طرف دیکھا
جب تک میرا اللہ میرے ساتھ ہے، کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اُس کے لہجے میں یقین تھا
دادی، سنبھالیں خود کو، امن نے نرمی سے کہا۔

اتنے میں افتخار صاحب جو پورے وقت گہری سوچ میں تھے، آگے بڑھے۔
پولیس نے تو سیکیورٹی دی ہے، لیکن اب ہم اور لوگوں سے بھی بات کرے گے ۔ افتخار ابھی زندہ ہے، اور جب تک ہم ہیں ، کوئی میرے پوتے کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔
یہ کہتے ہوئے وہ کال ملاتے، باہر نکل گئے۔

ان کے جاتے ہی امل امن کے قریب آئی۔
کیسے ہو بھائی؟
امن نے بازو کھولا، اور وہ فوراً اس سے لپٹ گئی،
جیسے کسی ڈوبتی ناؤ کو کنارے کا سہارا مل گیا ہو۔
بھائی، میں نے آپ کو بہت یاد کیا، آپ مجھ سے مل کر بھی نہیں گئے تھے، اور اگر آپ کو کچھ ہو جاتا، تو میرا کیا ہوتا؟
امن نے کچھ نہیں کہا۔ صرف ہاتھ سر پر رکھا،
تبھی دروازے پر آہٹ ہوئی۔
نہات داخل ہوا، آج اس کا حلیہ باقی روز مرہ کے کاموں سے مختلف تھا۔ سیاہ چمڑے کی جیکٹ اس کے چوڑے شانے پر ڈھلکی ہوئی تھی، اندر سے گہرے رنگ کی سیاہ شرٹ نظر آرہی تھی اُس کے ساتھ میں کالی پینٹ اور کمر پر بندھی باریک سیاہ رنگ کی بیلٹ جیسے آج وہ عام دنوں کا نہات نہیں بلکہ بالکل نیا روپ لے کر آیا ہو۔
کیسے ہو بھائی؟
وہ اندر آتے ہی امن سے مخاطب ہوا

امن نے اسے دیکھا، اور آنکھوں میں وہ مسکراہٹ چمکی
یہ کون پوچھ رہا ہے؟ نومی یا نہات؟
نہات ہنس دیا، وہی پرانی شوخی۔
یہ تمہارا وہی پرانا دوست نومان پوچھ رہا ہے، یاد تو ہے نہ وہ تمہیں۔۔۔

امن مُسکرا دیا تُم نہیں سدھر سکتے….

نہات نے شوخی سے آنکھ دبائی
میں سدھر گیا، تو تمہیں تنگ کون کرے گا؟

امل جو اب تک امن کے ساتھ لپٹی ہوئی رو رہی تھی، فوراً پیچھے ہوئی اور تیزی سے بولی
میں کروں گی تنگ!

نہات فوراً بول پڑا
پہلے تم بلیوں کی طرح رونا تو بند کر دو!

امل نے آنکھیں پھیلا کر اُسے دیکھا،
بلیوں کی طرح؟ بھائی میں بلیوں کی طرح رو رہی ہوں ؟ یہ بلیاں کیسے روتی ہیں ؟ کیا میری طرح؟ امل نے آنسو صاف کیے امن سے پوچھا

امن اور نہات دونوں بے ساختہ ہنس دیے۔

نہات نے فوراً موقع پر وار کیا
ہاں بالکل تمہاری ہی طرح! پہلے آنکھیں پھیلتی ہیں، پھر ناک سُرخ ہو جاتی ہے… اور پھر وہ مخصوص آواز… ‘بھائییییی’!
اس نے امل کی نقل اتارتے ہوئے آخری لفظ لمبا کھینچا۔

امن نے قہقہہ لگایا اور ہاتھ اٹھا کر کہا
بس بس، نہات! اگر تم تھوڑی دیر اور بولے نا تو امل تمہیں زندہ چبا جائے گی۔

امل نے ناک چڑھائی، ہاتھ سینے پر باندھے اور پورے غرور سے کہا ہاں! چیونگم… کی طرح چبا جاؤں گی،

نہات نے ہنستے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں کو لگا لیے،
ارے رے! ترس نہیں آئے گا تمہیں مُجھے معصوم پر۔۔۔

امل نے گردن اکڑاتے ہوئے کہا،
بلکل نہیں آئے گا آپ ہو ہی اسی قابل۔۔۔

امن دونوں کی نوک جھونک دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
نہات نے فوراً جیب سے اپنا موبائل نکالا،
ایک منٹ! یہ ساری باتیں ریکارڈ کر لیتا ہوں۔ کل اگر میں واقعی غائب ہو گیا تو دنیا کو پتہ ہو، قاتلہ کون تھی!

امل نے پلکیں جھپکائیں اور معصومیت سے کہا
ریکارڈ کر لیں… بلکہ ایڈٹ بھی کر لیں، بیک گراؤنڈ میں وہ سنسنی خیز میوزک بھی لگا دیئے۔ تاکہ جب میں سزا پاؤں، پوری دنیا کہے: واہ! کیا اسٹائل ہے مجرم کا!

بس کر نومی، تو آگیا ہے تو رات کا کھانا یہاں کھا کر جانا۔ انیسہ بیگم نے محبت بھری خفگی سے کہا،

نہات نے فوراً ہاتھ جوڑتے ہوئے شوخ لہجے میں جواب دیا آپ کا حکم سر آنکھوں پر، دادی… لیکن ایک عرض ہے—میں نومی نہیں، نومان ہوں!

انیسہ بیگم نے آنکھیں گھما کر ناک چڑھائی، اے چپ رہ! میرے سامنے یہ ناموں کے ڈرامے نہ کیا کر، آمنوا کے سامنے ہی کر…

نہات نے فوراً دونوں ہاتھ جوڑ کر معصومیت سے کہا،
آپ کیا جانے دادی نومی، نومان دیکھنے میں ایک ہے، لیکن ایک ہے نہیں۔۔۔۔

اے چپ پاگل کہیں کا۔۔۔۔ انیسہ بیگم نے فوراً نومی کو جھاڑ دیا

سب ایک لمحے کے لیے ہنس پڑے۔
اچھا نومی تُم آرام سے بیٹھو میں فریش ہو کر آیا امن کہتا اپنے روم کی طرف چل دیا۔۔۔

ہم بھی دیکھتے ہیں کچن میں کیا پک رہا ہے۔
انیسہ بیگم نے اپنی چادر سمیٹتے ہوئے کہا اور آہستہ آہستہ کچن کی طرف قدم بڑھا دیے۔

اور بتاؤ، بلی جیسی آنکھوں والی کیسی ہو؟
نہات، صوفے پر بیٹھتے ہوئے، امل سے مخاطب ہوا۔

آپ کو اتنی دیر بعد خیال آیا کہ امل کا حال بھی پوچھنا ہے؟ امل نے ذرا طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔

ہاں، اب کیا کریں، بھائی تو گئے… تم سے ہی کام چلانا پڑے گا جب تک وہ واپس نہیں آتے، نہات نے مسکراتے ہوئے شانے اُچکائے۔

امل نے ناک سکیڑ کر کہا،
ہنہ! میں ہی ملتی ہوں آپ کو پاگل بنانے کے لیے؟
پھر اٹھ کر خفگی سے بولی،
اکیلے بیٹھیں رہے … میں جا رہی ہوں، ہنہ!
وہ ناک چڑھاتی ہوئی جانے لگی۔۔۔

نہات نے پیچھے سے آواز دی،
ارے بلی جیسی آنکھوں والی، اتنا غصہ ٹھیک نہیں ہوتا… کہیں ریپر دیکھ لے گا تو ڈر جائے گا!

امل نے مڑ کر گھورا،
اُس منحوس کا نام بھی مت لیں۔۔۔ جاہل، خبیث کہیں کا!
وہ خفگی سے کہتی، تن فن کرتی تیزی سے پلٹی اور پیر پٹختی ہوئی کمرے میں گھس گئی۔

++++++++++++

اگلی صبح،
امن اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
صبح کی ہلکی نیلی روشنی میں پورا منظر جیسے خاموش دعا کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ باغ کے پتے اوس سے بھیگے ہوئے تھے، اور آسمان پر بادل کسی ان کہی کہانی کے صفحے جیسے سجے تھے۔

اس کا چہرہ ہمیشہ کی طرح پُرسکون تھا۔ نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کسی اندیشے کا شائبہ۔ جیسے وہ ہر لمحے کو ایک یقین کے ساتھ جیتا ہو، وہ یقین جو صرف ان کو حاصل ہوتا ہے جو اللہ پر توکل رکھتے ہیں۔

اسی وقت دروازہ کھٹکا۔
دروازہ کھلا، اور ملازمہ اندر آئی ناشتے کے لیے آجائیے، سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا آ رہا ہوں۔

ملازمہ نے ادب سے سر جھکایا اور دروازہ بند کر کے چلی گئی۔

امن آہستگی سے پلٹا۔ اُس وقت اُس نے ہلکی سی سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی، جس کی سادگی اس کی شخصیت کی گہرائی کو اور نمایاں کر رہی تھی۔ قمیض کے کالر پر باریک کڑھائی تھی اور ہاتھوں میں بلیک  گھڑی پہن رکھی تھی،

+++++++++++

یُسریٰ دروازے کی چوکھٹ سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ دھوپ اندر آ رہی تھی، مگر وہ… جیسے سورج کو آنکھیں دکھا رہی ہو۔
دادو چولہے پر جھکی ہوئی تھیں، ہلکے سے پتیلے کو ہلا رہی تھیں، جیسے یُسریٰ کے اندر ابلتے سوالوں کو ہلا رہی ہوں۔

کوئی کام ڈھونڈا یا نہیں؟
آواز نرم تھی، مگر سوال سخت۔

نہیں دادو…
چولہے کی آنچ جیسے تیز ہو گئی ہو، یا شاید دادو کی نظروں کی۔

میں بتا رہی ہوں یُسریٰ…
تم مجھے کوئی حرام پیسے لا کر نہ دینا۔ نہ میرے ہاتھ میں رکھنا، نہ میرے نام پر خرچ کرنا۔
دادو کا لہجہ وہی تھا… سخت، کڑک، اور پتھر جیسا۔

یُسریٰ نے پلکیں جھپکیں، جیسے وہ لفظوں کا زہر نگل گئی ہو۔
دادو، میں جا رہی ہوں ریسٹورنٹس میں ابھی بھی ریسٹورنٹس میں کام کرنا بھی چھوڑا ہے میں نے… اور ابھی جاتی ہوں سکینہ کے پاس۔ وہ کوئی اور حویلی بتا دے گی، چلی جاؤں گی وہاں بھی…..

خاموشی کا ایک لمحہ ہوا…
پھر دادو کی نظریں اُس کے چہرے پر جم گئیں۔
کیا ہوا؟ اداس لگ رہی ہو۔

یُسریٰ نے نظریں چرائیں،
ہاں… اداس ہوں۔

کیوں؟
جواب وہی تھا… جس کے دادو کو اندازے تھے، پر سننا نہیں چاہتی تھیں۔ اُس کی فکر ہے مجھے۔

دادو کا دل جیسے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔
پھر سختی کے پردے میں لپٹی ہوئی آواز آئی
اُٹھو۔ ابھی جاو سکینہ کے پاس۔
چلو، نکلو یہاں سے۔
اس گھر میں بیٹھے بیٹھے تمہارا دماغ دوبارہ خراب ہو چکا ہے۔
باہر نکلو، چلو….

یُسریٰ نے نم آنکھوں سے دیکھا۔
کیا ہے دادی؟
کبھی تو خوش ہو جایا کریں مجھ سے….

دادو نے چہرہ موڑ لیا… شاید وہ کمزور لمحہ دیکھ لیا تھا، جو یُسریٰ نے نہ چھپایا، نہ بیان کیا۔
ہاں… خوش ہوں گی۔
جس دن تم شادی کرو گی۔

یُسریٰ کا دل جیسے اندر سے چرچرا کر رہ گیا۔
لبوں پر خفگی کا گہرا سایہ اُتر آیا۔
باہر ہی جا رہی ہوں…

وہ منہ پھیر کر کمرے کی طرف چلی گئی،
لیکن کمرے میں پہنچ کر، اُس نے دروازہ بند نہیں کیا…
شاید دل کے بند دروازوں کے شور کو کوئی سن لے۔

اور باہر…
دادو چپ چاپ ہانڈی چلاتی رہیں۔
مگر اُن کی آنکھوں میں نمی اُتر چکی تھی،

+++++++++++

ڈائنگ ٹیبل پر سب بیٹھے تھے۔
انیسہ بیگم خاموشی سے چائے ڈال رہی تھیں،
امل نے توس میں مکھن لگاتے ہوئے ایک نظر امن پر ڈالی،
اور نہات…
جو کل رات سے یہی رکا ہوا تھا،
اب ناشتہ ایسے کر رہا تھا جیسے یہی اُس کا اصل گھر ہو۔

کیا کرنا ہے، بھائی؟
نہات نے چائے کی چُسکی لیتے ہوئے ہلکے انداز میں پوچھا،
لیکن اُس کے سوال کے نیچے کئی تہیں تھیں۔

امن نے دھیما سا سانس لیا،
پہلے خود کو نارمل کرنا ہے… پھر سوچوں گا، کیا کرنا ہے۔

نہات نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے سر ہلایا۔

نارمل…؟ تم؟
بھائی، تم تو اب فلمی ولن کے ہٹ لسٹ میں ہو۔ نارمل کیسے رہو گے؟

امل نے تنبیہی نظروں سے نہات کو گھورا،
بھائی، مذاق کا وقت نہیں…..

نہات فوراً سیدھا ہو گیا،

امن، بیٹا…
انیسہ بیگم نے نرم لہجے میں کہنا شروع کیا،
تم چاہو تو کچھ دن باہر چلے جاؤ، شہر سے دور۔ کِسی جگہ محفوظ ہے….

امن نے سر اٹھا کر انیسہ بیگم کی طرف دیکھا،
دادی، جب سب پیچھے ہٹ جاتے ہیں،
تب کوئی ایک کو کھڑا ہونا پڑتا ہے…
میں وہ ایک بننا چاہتا ہوں…..

نہات نے آہستہ سے کہا،
پھر بھی بھائی، ریپر اب تمہیں ایسے نہیں چھوڑے گا

امل نے بے اختیار نفی میں سر ہلایا،
وہ… وہ بس ایک خوف ہے، اور کچھ نہیں….

نہیں امل، وہ بس ایک انسان ہے…جو غلط راستوں پر چلا پڑا ہے۔۔۔
امن کا لہجہ عجیب حد تک پُرسکون تھا۔

تو پھر کیا ہوگا؟
نہات نے پوچھا۔

امن نے کپ میں چائے کا آخری گھونٹ لیا،
پھر ایک فیصلہ زدہ سکون سے کہا
اب جو ہوگا… وہ رب کے اذن سے ہوگا۔
اور میں… اپنے رب پہ ویسا ہی یقین رکھتا ہوں،
جیسا روشنی، اندھیرے کے بعد آنے پر رکھتی ہے….

امل کی آنکھوں میں کچھ لرزا،
انیسہ بیگم نے خاموشی سے دُعاؤں کے تار چھیڑے،

افتخارِ صاحب میز کی طرف بڑھے
امن تُمہاری سکیورٹی کا انتظام ہوگیا ہے۔۔۔
انھوں نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا،
میری ٹیم میں سے دو قابلِ اعتماد لوگ تمہارے ساتھ ہوں گے، ہر وقت… سائے کی طرح جب تک یہ سب معاملہ ختم نہیں ہو جاتا….

امن نے مختصر سا اثبات میں سر ہلایا۔
دادا، آپ کو جیسا ٹھیک لگے، ویسا کریں
پھر اُس نے رخ نہات کی طرف موڑا،
نہات، جلسے کی تیاری كرو۔

نہات نے چونک کر نگاہ اٹھائی،
بھائی…؟ جلسہ؟ کیوں؟ یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ جلسے میں تو ریپر کا خطرہ اور بھی بڑھ جائے گا۔

امن کا چہرہ سخت ہوا، لہجہ نرمی سے عاری۔
بس، یہ جلسہ ضروری ہے۔
الیکشن سے پہلے ۔۔۔ میں عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر میں اُن کا لیڈر ہوں… تو ان کا لیڈر کمزور نہیں ہے۔۔ جیتنا کہا ہے اتنا کرو۔

امل نے بےچینی سے بات کاٹی،
بھائی، نہات بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ بہت رسکی ہے… ریپر کی دھمکیاں، وہ چپ نہیں بیٹھے گا۔

امن نے امل کی طرف نرمی سے دیکھا،
یہ جلسہ ضروری ہے، امل۔
ورنہ میرے لیے تم سب سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں… بس تم سب میرے ساتھ رہو۔ تمہارا ساتھ ہی میری طاقت ہے۔

امل نے فوراً ہاں میں سر ہلایا،
میں آپ کے ساتھ ہوں، بھائی… ہمیشہ۔

امن نے مسکرا کر پوچھا،
یونی نہیں جانا؟

امل نے سر جھکا لیا،
نہیں، ابھی تو آپ آئے ہیں…

امن نے شرارت سے ابرو اٹھائے،
تم پہلے بھی چھٹیاں ہی کر رہی تھیں نا؟

امل شرمندہ سی مسکرائی،
ہاں بھائی…

اب میں آ گیا ہوں نا؟
چلو شاباش… یونی جاؤ۔ اپنی اسٹڈیز پر دھیان دو۔

امل نے آہستہ سے ہاں کہا،
اچھا بھائی… چلی جاتی ہوں۔

امن نے نرمی سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا،

اور سب کچھ جیسے لمحہ بھر کے لیے پرسکون ہو گیا تھا۔

++++++++++++

یسریٰ نے جب سکینہ کو دیکھا تو فوراً سمجھ گئی کہ وہ کسی الجھن میں ہے۔
چہرے پر تھکن، آنکھوں میں نمی، اور ماتھے پر گہری سوچوں کی شکنیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ کسی بڑی پریشانی سے گزر رہی ہے۔
یسریٰ نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما۔

سکینہ… کیا ہوا؟ ایسے تو تم کبھی نہیں لگتی تھیں۔ بتاؤ نا، شاید میں کچھ مدد کر سکوں۔

سکینہ نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، جیسے خود کو ہمت دے رہی ہو۔ پھر دھیرے سے بولی

یار… ایم کیٹ (میڈیکل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ) تو کلیئر ہو گیا… مجھے خود یقین نہیں آ رہا تھا۔
لیکن اب اصل مسئلہ سامنے آ گیا ہے۔
یونیورسٹی کی فیس… کہاں سے لاؤں؟
ایم کیٹ کی فیس بھی مشکل سے دی تھی، امی نے زیور گروی رکھوایا تھا۔
اب آگے کا سوچ سوچ کر دماغ سن ہو رہا ہے۔
سب کہتے تھے بس ٹیسٹ کلیئر کر لو، آگے کا خود ہو جائے گا…
مگر آگے کچھ بھی ‘خود سے’ نہیں ہو رہا۔

یسریٰ کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔
وہ جانتی تھی سکینہ کا خواب ڈاکٹر بننے کا ہے — اور وہ خواب اب فیس کی رقم کے نیچے دبتا جا رہا تھا۔

کتنی فیس ہے؟

پہلا سمیسٹر… تقریباً ڈیڑھ لاکھ۔

تم یونی فارم تیار رکھو… تمہاری فیس کا بندوبست ہو جائے گا۔

سکینہ نے چونک کر کہا
کیا؟ مگر کیسے؟ یسریٰ … تم—

یسریٰ نے نرمی سے اسے روک دیا۔ اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
تُم میرے ساتھ گھر چلو، میں تمہیں دیتی ہوں پیسے۔

سکینہ نے حیرت سے اسے دیکھا، جیسے آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو۔
لیکن تُمہارے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے؟

یسریٰ نے اس کی بات کا سیدھا جواب دینے کے بجائے، پرسکون لہجے میں بس اتنا کہا:
چلو تو سہی، گھر چل کر سب بتاتی ہوں۔

++++++++++

مایرا نے آہستہ سے دیوار سے ٹیک لگائی،
پیشانی پر شکن، آنکھوں میں بے بسی کا عکس۔

یار… میں امن کی حفاظت کرنا چاہتی تھی…
پر یہ ظفر صاحب… انہوں نے صاف منع کر دیا۔
سانس بھاری ہوئی،
اب کیا کروں میں؟
نہ اُس کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہوں،
اور اگر کھڑی ہو گئی…
تو میرا کیریئر برباد ہو جائے گا۔

سامنے کی دیوار خاموش تھی،
مگر مایرا کے دل میں طوفان برپا تھا۔
اس کا حلف… اس کی وردی…
اور اُس شخص کی آنکھیں،
جو حق کے لیے کھڑا تھا — امن۔

امن کی فکر ہے؟ یا… اپنے کیریئر کی؟ دعا نے نرمی سے کہا

مایرا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف نظریں جھکا لیں۔

مایرا، زندگی میں کبھی کبھی ایسے موڑ آتے ہیں،
جہاں فیصلہ صرف قانون یا اصولوں سے نہیں کیا جاتا…
بلکہ دل، ضمیر، اور وقت کی پکار سے کیا جاتا ہے۔

مایرا نے تلخی سے کہا
تمہیں کیا لگتا ہے؟ میں امن کو خطرے میں ڈال دوں گی؟ نہیں! میں اسے بچانا چاہتی ہوں، لیکن اگر کھل کر اُس کا ساتھ دیا… تو ظفر مجھے ٹرانسفر کر دے گا یا نوکری سے نکال دے گا۔

دعا نے ایک لمحہ سوچا، پھر آہستگی سے بولی
تو پھر سامنے مت آؤ…

مایرا نے چونک کر دیکھا۔

سامنے مت آؤ… لیکن پردے کے پیچھے سب کر جاؤ۔
خفیہ محافظ بن جاؤ اُس کی، بغیر یونیفارم کے،
بغیر وردی کے، بغیر حکم کے۔
نہ کوئی فائل، نہ رپورٹ…
بس تم، تمہاری نیت، اور تمہارا فرض۔
جو لوگ سچ کے لیے لڑتے ہیں،
انہیں کبھی کبھی تنہا نہیں، خاموشی سے تحفظ دیا جاتا ہے۔ دعا نے نرمی سے سمجھایا

مایرا کی سانس رک سی گئی،
دل میں جیسے کوئی بتی جل گئی ہو۔

مطلب… ایک سائے کی طرح اُس کے ساتھ رہوں؟

دعا نے مسکرا کر کہا
ہاں، اگر تم واقعی اُس کی حفاظت چاہتی ہو…
تو دنیا کو بتائے بغیر، اُس کی ڈھال بن جاؤ۔
خدا کے لیے، سچ کے لیے… اور شاید، اپنے دل کے لیے بھی۔

مایرا نے گہری سانس لی۔ اب فیصلہ واضح تھا۔
مایرا نے پُرعزم لہجے میں کہا
ٹھیک ہے… وہ سچ بولے گا…
اور میں… اس کی حفاظت کروں گی۔

دعا نے اُسے دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا،

++++++++++++

سکینہ اب یُسرٰی کے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی۔
گلی کے آخری سرے پر بنا وہ چھوٹا سا گھر جس کی دیواریں کبھی سفید رہی ہوں گی، مگر برسوں کی دھوپ اور بارش نے انہیں بھورا کر دیا تھا۔ باہر نہ کوئی باغ تھا، نہ کوئی پلیٹ، بس لوہے کا ایک پرانا گیٹ تھا جو کھلتے وقت چوں چوں کرتا تھا،
اندر داخل ہوتے ہی ایک ہی کمرہ سامنے آیا، نہ کوئی ہال، نہ کوئی لان۔ بس ایک کمرہ،
فرش پر پتلی دری بچھی تھی، جگہ جگہ سے اُکھڑی ہوئی۔ ایک کونے میں لوہے کی پرانی چارپائی رکھی تھی، جس کے پائے کے نیچے اینٹ کا ٹکڑا تھا، شاید ایک پایا کب کا ٹوٹ چکا تھا۔ بستر پر دھاری دار چادر تھی، دھلی ہوئی مگر رنگ اڑی ہوئی،
دائیں دیوار کے ساتھ ایک پرانی الماری کھڑی تھی، لکڑی کی، جس پر نہ پالش تھی نہ چمک۔۔۔
اور اُس الماری کے ساتھ ، بالکل ساتھ، ایک چھوٹی سی لکڑی کی کتابوں کی الماری تھی۔ جس پر مختصر کتابیں رکھی تھی، ایک طرف قرآن پاک رکھا تھا، باقی سب چیزوں سے الگ، باقی سب سے زیادہ صاف اور چمکتا ہوا۔ نیا تھا وہ، یا شاید اُس کو اتنی حفاظت سے رکھا گیا تھا کہ نیا جیسا لگ رہا تھا۔۔۔ اُس کے پاس اردو گرامر کی پرانی کتاب، پھر ایک ناول جس کی پشت پر نام مٹ چکا تھا، اور سب سے کنارے ایک کاپی، جو شاید کتاب نہیں تھی، مگر اُسے کتابوں کے ساتھ ہی جگہ ملی تھی۔۔
سکینہ ابھی تک اُسی کمرے میں کھڑی، چھت کو، دیواروں کو، اُس چھوٹی سی کتابوں کی الماری کو دیکھ رہی تھی، اور بے ساختہ اُس کے لبوں سے نکل گیا یہ… یہ تمہارا گھر ہے؟
یُسرٰی نے سکینہ کی طرف دیکھا، نرمی سے بولی
اچھا، تم یوں کرو… یہی بیٹھو، میں ابھی آتی ہوں۔
وہ دائیں طرف والے کمرے کی طرف بڑھ گئی،
دروازہ ہولے سے بند ہوا اور سکینہ وہیں چارپائی پر بیٹھ گئی۔۔۔

+++++++++++++

پولیس ہیڈکوارٹر ظفر صاحب کا آفس
کمرے میں ٹھنڈی روشنی، میز پر فائلوں کا انبار،
اور ظفر ہمیشہ کی طرح پرسکون مگر سخت گیر انداز میں کرسی پر بیٹھے تھے۔

مایرا نے دروازہ کھٹکھٹایا سر؟ اجازت ہے؟

ظفر نے بغیر نظریں اٹھائے کہا آئیے آفیسر مایرا۔

مایرا اندر آئی، وردی میں، مگر چہرے پر گہری سنجیدگی۔ سر، مجھے ایک ہفتے کی چھٹی درکار ہے۔

ظفر نے نظریں اٹھائیں خیریت؟

مایرا نے لہجہ سنبھال کر کہا سر… ایمرجنسی ہے۔

ظفر نے تلخی سے کہا آپ جانتی ہیں شہر کے حالات کیسے ہیں؟ اور آپ کو چھٹی چاہیے؟

مایرا نے لمحہ بھر کی خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے بولی سر… اگر اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی تو میں آپ سے کبھی چھٹی نہ مانگتی۔۔۔

نہیں مایرا، آپ کی چھٹی منظور نہیں کی جا سکتی۔ ہم اس وقت جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ظفر نے سرد لہجے میں کہا

مایرا نے دھیمی آواز میں کہا سر… میری ماں بہت زیادہ بیمار ہیں۔ ان کے پاس میں ہی واحد سہارا ہوں۔
اگر میں نہ گئی… تو شاید… شاید اُن کا آخری وقت بھی اکیلے گزر جائے۔ کہتے کہتے اُس کی آنکھیں نم ہوچکی تھی

ظفر کی آنکھوں میں پہلی بار ہلکی سی نرمی ابھری۔اُسے پہلے لگا کُچھ گڑبڑ ہے لیکن اب مایرا کی آنکھیں صاف بتا رہی تھی، کہ وہ جو بھی بول رہی ہے سچ بول رہی ہے۔۔ اور وہ ان آنکھوں کے آگے پگھل چُکا تھا

ظفر نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا ڈاکٹر کی رپورٹ لائیں، اور چھٹی صرف ایک ہفتے کی ہوگی۔ اگر شہر میں کچھ ہوا، تو آپ کو فوراً واپس بلایا جائے گا۔

مایرا نے پرسکون سانس لی، دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ شکریہ سر، میں وعدہ کرتی ہوں… اگر حالات خراب ہوئے تو میں خود واپس آ جاؤں گی۔
ظفر نے سر ہلایا، اور مایرا آہستہ سے باہر نکل گئی…

اس کے چہرے پر اب سکون کی ایک لہر تھی…
کیونکہ اب وہ وردی نہیں، نگہبان کے طور پر
امن کے قریب جا سکتی تھی۔

+++++++++++

چند لمحے گزرے ہوں گے کہ دروازہ کھلا۔ یُسرٰی ہاتھ میں کچھ نوٹ لیے، سکون سے باہر آئی،
یہ لو… تمہارا مسئلہ حل۔
اس نے نوٹ سکینہ کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔

سکینہ نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں،
یہ… اتنے سارے پیسے؟ یُسرٰی، تمہارے پاس…؟

یُسرٰی نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا،
اتنے ہی ہیں جتنے کی ضرورت تھی۔

لیکن… آئے کہاں سے؟

یُسرٰی نے نظریں چارپائی پر جمائیں۔
مسز ملک نے دیے تھے۔ تنخواہ باقی تھی… اور کچھ انعام میں دیے، کہتی تھیں، تم جیسی لڑکیاں کم ملتی ہیں۔

سکینہ کا لہجہ مدھم ہوا،
اتنے پیسے کوئی انعام میں نہیں دیتا، یُسرٰی…

دے دیتے ہیں نہ، امیر لوگ دے دیتے ہیں… اُن کے لیے یہ بہت تھوڑی سی رقم ہے۔ وہ جتنی آسانی سے نوٹ نکالتے ہیں، اُتنی ہی آسانی سے بھول بھی جاتے ہیں کہ کبھی کسی کو دیا تھا۔ ہمارے لیے یہ چند نوٹ ہماری زِندگی بنا دیتے ہیں اور اُن کے لیے یہ چند نوٹ کُچھ بھی نہیں ہے۔۔۔
سکینہ خاموشی سے یُسریٰ کو دیکھتی رہی… وہ اب صرف ایک سادہ سی لڑکی نہیں لگ رہی تھی، بلکہ زندگی کی ٹھوکروں سے سنورتی، سلجھی ہوئی عورت لگ رہی تھی، جو حالات کو برداشت کرنا بھی جانتی تھی، اور بانٹنا بھی۔

اچھا۔۔۔ یُسرٰی نے ایک دھیمے مسکراہٹ کے ساتھ سکینہ کی طرف دیکھا، یہ تم نے مجھے میرے یہ پیسے واپس کرنا ہے، ہاں۔۔۔ وہ جو چند لمحے پہلے نرمی سے بات کر رہی تھی، اب اُس کی آنکھوں میں وہی پرانا شوخ مزاج جھلکنے لگا تھا، مجھے پیسہ بہت عزیز ہے۔۔۔ بہت۔ میری پہلی محبت ہے پیسہ۔۔۔
سکینہ نے بے ساختہ ہنسی ضبط کی، لیکن یُسرٰی کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ تو جیسے ہی تم ڈاکٹر بنو گی، مجھے میرے پیسے واپس کر دینا۔۔۔ انگلی اٹھا کر تاکید کی، ہنہ۔۔۔ یہ میرے محنت کی کمائی ہے۔ بتا رہی ہوں میں۔۔ مجھے اس دُنیا میں پیسے سے زیادہ کچھ عزیز نہیں ہے۔۔۔
یہ نہ سمجھنا کہ احسان کیا ہے، نہیں۔۔۔ یہ سرمایہ کاری ہے۔ تم پر۔۔۔ تمہارے خواب پر۔۔۔ تمہارے مستقبل پر۔
سکینہ کی پلکیں بھیگ سی گئیں، لیکن ہونٹوں پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ ٹھہر گئی،
تم جیسی دوستوں پر تو بندہ ساری تنخواہ لگا دے، یُسرٰی… یہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
یُسرٰی نے ہنستے ہوئے کہا، ہاں، مگر پھر بھی… لکھوا لیتی ہوں ایک اسٹامپ پیپر پر، تم نے میرے پیسے ڈاکٹر بن کر واپس کرنے ہیں۔۔۔۔
دونوں کی ہنسی صحن میں گونجنے لگی، جیسے زندگی کے تھکے لمحے بھی تھوڑی دیر کو مسکرا دیے ہوں
سکینہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا، جیسے ایک دم سے کچھ یاد آیا ہو
ارے، تم آئی کیوں تھی؟ مجھ سے ملنے؟
یُسرٰی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے،
یار، کس لیے اونگی، کام کے لیے آئی ہوں میں۔۔۔ وہاں سے تو کام چھوڑ دیا، اب کہیں اور بھی جانا ہے۔ اور ویسے بھی دادو سے میرا گھر میں بیٹھنا برداشت نہیں ہو رہا۔ ہر وقت میرے کان کھاتی رہتی ہیں وہ دونوں ہنس پڑیں۔
سکینہ نے ذرا سا آگے جھکتے ہوئے رازدارانہ انداز میں کہا، اچھا، یہ بات ہے؟ ویسے جب سے تُم گئی ہو، مجھے تمہاری ہی فکر تھی۔ بات کی تھی اپنی تائی سے۔۔۔ بہت اچھا گھر بتایا ہے۔ تھوڑا دُور ہے، مگر بڑا ہے۔ پیسے بھی خوب ہیں۔ پھر شرارتی انداز میں آنکھ ماری، اور سب سے خاص بات… کافی اچھا مال ملے گا۔
یُسرٰی کے ہونٹوں پر فوراً مسکراہٹ آ گئی، بس، پھر ڈن کرو! نکالو ایڈریس۔۔۔ اور جلدی نکالو، کہیں کوئی اور نہ لے جائے۔۔۔۔
سکینہ نے اٹھتے ہوئے کہا، چلو میں تمہیں ایڈریس سینڈ کر دوں گی، چلی جانا تم کل ہی۔۔
یُسرٰی نے مسکراتے ہوئے آنکھوں میں چمک بھر لی،
ڈن ہوگیا بھائی صاحب۔۔۔۔

++++++++++++

باب سوم : جال ، پھندا

رات کا دوسرا پہر تھا۔
شہر تھک چکا تھا… اور سو رہا تھا۔
لیکن ایک شخص جاگ رہا تھا، اسکرین کی نیلی روشنی میں، بےحد پرسکون بیٹھا۔
چہرے پر وہی طنزیہ مسکراہٹ… اور آنکھوں میں زہر تھا۔۔
سامنے لیپ ٹاپ پر امن کی رہائی کی ویڈیو کھلی تھی، جسے لاکھوں لوگ شیئر کر چکے تھے۔
کمنٹس… تعریفیں… ہمدردی۔
اس نے انگلی سے اسکرین پر امن کی تصویر پر تھپتھپایا۔
ویلکم بیک، ہیرو…
پھر اُس نے ایک فولڈر کھولا جس پر لکھا تھا
پلان بی – خاموشی سے مارنا
ایک خفیہ فائل، ایک آڈیو کِلپ، اور دو تصویریں۔
ایک تصویر: امن کے ساتھ اس کی یونیورسٹی کا ایک دوست
دوسری تصویر: ایک فیک میڈیکل رپورٹ جس میں لکھا تھا۔۔۔
Aman: Bipolar, medically unstable, hallucinations… dangerous.
امن بائی پولر، طبی لحاظ سے غیر مستحکم، وہم و خیال میں مبتلا… خطرناک۔
ریپر نے کسی کو وائس میسج بھیجا
رات کے 3 بجے، یہ رپورٹ امن کے میڈیا مینیجر کو مل جائے… بغیر نام کے۔ اور  صبح 9 بجے پریس کانفرنس… ‘امن مینٹلی انسٹیبل’ کا ٹرینڈ شروع کرنا ہے۔ سمجھا؟
دوسری طرف سے آواز آئی
ڈن، بھائی۔ امن اب صرف رہا نہیں ہوا، اب وہ مذاق بنے گا۔
ریپر کی ہنسی… سنسان کمرے میں بازگشت کرنے لگی۔
گولی مارنے سے بہتر ہے… کسی کو پاگل ثابت کرنا۔
اسی لمحے اس کا فون بجا—نئی نوٹیفکیشن
مایرا سرمد نے امن کی سیکیورٹی کی ڈیمانڈ کی ہے۔
اس نے سر جھٹکا۔
یہ لڑکی… رسک لے رہی ہے۔
پھر اس نے ایک نیا فولڈر کھولا
پلان سی: مایرا
اور فائل کے نیچے صرف ایک لفظ لکھا تھا
ٹرَیپ.

++++++++++++++

اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ چاند بھی بادلوں کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ سنّاٹا ہر سو چھایا ہوا تھا، اسی خاموش رات میں ایک لڑکی، سیاہ لباس میں ملبوس تھی
ایسا لباس جو روشنی کو بھی اپنے اندر سمو لے۔
سیاہ پینٹ شرٹ اور اُس کے اوپر لمبا اوور کوٹ، جس کی تہیں چلتے وقت ہوا میں ہلکی سی جنبش پیدا کرتیں،
نہ ہی اُس کے پاس کوئی تھا اور نہ ہی کوئی سواری تھی۔۔
ہر طرف سکوت تھا، مگر اس کے دل میں کچھ چل رہا تھا۔
اس کے قدم ناپ تول کر پڑ رہے تھے، جیسے ہر جنبش ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ ہو۔
اس کے ہاتھ جیبوں میں تھے، مگر آنکھیں چوکس
ہر سایہ، ہر روشنی، ہر کھڑکی پر اس کی نگاہ ٹھہرتی، پھر آگے بڑھ جاتی۔
سڑک کے اختتام پر ایک گلی تھی،
وہ ایک لمحے کو رکی، نظریں دائیں، پھر بائیں دوڑائیں،
اور پھر بغیر ہچکچاہٹ کے گلی میں داخل ہو گئی۔
وہاں کے مکان اونچے، جدید اور پُر وقار تھے۔
بڑی بڑی کھڑکیاں، خاموش برآمدے، اور دروازے جو بند ہونے کے باوجود ایسا احساس دیتے تھے جیسے کوئی اندر سے دیکھ رہا ہو۔
وہ چلتی رہی،  قدم نرم، آواز غائب، مگر ارادہ مضبوط۔
ہر بنگلے کے سامنے وہ لمحہ بھر کو رُکتی،
جیسے کسی چیز کو پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔

پھر وہ ایک جگہ ٹھہر گئی۔ سامنے ایک شاندار بنگلہ تھا، اس نے جیب سے موبائل فون نکالا۔
اسکرین پر لکھا تھا
Target Location:
سامنے والا گھر

وہ ہلکی سی ہنسی،
لیکن میں پچھلے والے گھر میں جاؤں گی… ہی ہی ہی…
پیچھے مُڑ کر دیکھا،
وہاں ایک اور بنگلہ تھا، پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت تھا۔۔ اس نے ایک لمحہ سوچا، پھر قدم بڑھا دیے۔
چند قدم بعد اس کے سامنے ایک تیسرا بنگلہ آیا،
جدید، صاف، اور سادہ مگر بہت پُرکشش۔ عمارت کے رنگ سیاہ اور خاکی تھے،
دیواروں پر نرم روشنی کے بلب لگے تھے،
جو بند ہونے کے باوجود ایسا لگ رہا تھا
جیسے عمارت سانس لے رہی ہو۔
دروازہ لکڑی کا تھا۔۔۔ نہ کوئی نقش، نہ دستک دینے کی جگہ تھی اندر سے ہلکی زرد روشنی جھانک رہی تھی،  اتنی کہ چیزوں کے سائے بن رہے تھے،  فرنیچر، پردے… یا شاید کوئی انسان۔
پورے بنگلے میں ایک خاموشی تھی،
جب وہ دروازے کے سامنے رُکی،
آئی لائک اِٹ۔وہ ہلکے سے مسکرائی،
گھر تو بہت شاندار ہے،
یقیناً اندر کا مال بھی شاندار ہوگا…
اس کے چہرے پر خوف نہیں، بلکہ اعتماد تھا۔
جیسے رات، سناٹا، اور سایے سب اس کے دوست ہوں۔
اندر جانے کا راستہ تلاش کرتی ہوئی۔۔
وہ بنگلے کے گرد چپ چاپ گھومنے لگی،

++++++++++++

وہ بنگلے کے اندر داخل ہوچکی تھی۔۔ اور بنگلے کی
در و دیوار کی شان و شوکت اپنی جگہ، مگر ایک عجیب سا خلا ہر کونے سے جھانک رہا تھا۔
جیسے یہ سب صرف دکھاوا ہو۔
وہ ہر کمرے میں گئی۔
بیڈ رومز، ڈرائنگ روم، حتیٰ کہ وہ سنروم بھی جہاں شیشے کی دیواروں سے رات کا اندھیرا اندر جھانک رہا تھا۔
لیکن کہیں بھی کوئی تصویر نہیں تھی۔ نہ کسی ماں کی اپنے بچے کے ساتھ۔ نہ کسی گریجوایشن کی۔ نہ کسی شادی، خوشی یا یاد کی۔
اِدھر اس گھر میں کوئی رہتا نہیں کیا ؟؟
اُس نے زیرِ لب کہا۔
اور کچن کی سمٹ بڑھ گئی۔۔۔
کچن…
چمکتا ہوا، ہر چیز اپنی جگہ سجی ہوئی تھی۔ چمکتے ہوئے  برتن، نفاست سے بنی ہوئی کپنیٹ، اور چمکدار پتھروں جیسے چکنے کاؤنٹر۔

وہ فریج تک گئی۔ کھولا۔
کھانے پینے کی اشیاء ضرور تھیں… مگر سب کی ایکسپائری ڈیٹ اگلے ہفتے کی تھی۔
نہ کوئی آدھا کھلا ہوا پیک ، نہ کوئی کھانے کی چیز بنی رکھی تھی، نہ وہ معمولی سا انسانی لمس، جو کسی رہنے والے گھر میں محسوس ہوتا ہے۔۔۔

اُس نے کپینٹ کھولی، مصالوں کی رَیک پر نگاہ دوڑائی، پھر ایک ایک دراز ٹٹولنے لگی۔
ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی حد سے زیادہ ترتیب میں۔۔
کچھ تو تھا یہاں۔ کچھ جو ظاہر نہیں کیا گیا۔
پھر وہ ایک ایک کمرہ ایکسپلورر کرنے لگی۔۔۔

ہنہ، کیسا عجیب گھر ہے… سمجھ سے باہر…
وہ آہستہ سے بڑبڑائی۔

وہ کچن سے واپس مُڑی، راہداری میں کی طرف واپس آئی۔۔۔
صحیح کہتے ہیں لوگ… دل سے نہیں، دماغ سے سوچنا چاہیے۔۔۔ ہلکا سا بڑبڑائی

جس گھر کا لوکیشن تھا اُسی گھر جانا چاہیے تھا نہ تُجھے ۔۔۔ ہمیشہ اپنے دل کی سنتی ہے اور نقصان اُٹھتی ہے۔۔۔بے تمیز کہیں کی، دِل نے کہا یہ گھر اچھا ہے تو کیا گھس گئی اندر اور اب اس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔اه ہ ہ ہ۔۔۔

جس گھر کا لوکیشن تھا اُسی گھر جانا چاہیے تھا نہ تُجھے۔۔۔
وہ آپے سے باہر بڑبڑائی، جیسے خود کو تھپڑ مارنے کا دل ہو رہا ہو۔

ہمیشہ اپنے دل کی سنتی ہے اور نقصان اُٹھتی ہے۔۔۔
اس کے لفظوں میں شرمندگی بھی تھی، اور غصہ بھی۔
کمرے کی خاموشی میں اس کی آواز کچھ زیادہ ہی گونج رہی تھی، جیسے دیواریں بھی اُس پر طنز کر رہی ہوں۔

اور اب؟ اس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ نہ کوئی بندہ، نہ کوئی تصویر، نہ کوئی مال… اہ ہ ہ ہ۔۔۔
اس نے جھنجھلا کر گردن پیچھے پھینکی اور فرش پر ایک زور دار قدم رکھا۔

ٹھک۔۔
ایک لمحے کے لیے وہ ٹھٹھک گئی۔
آواز عام نہیں تھی، کچھ مختلف، کچھ کھوکھلی سی۔
یوں لگا جیسے نیچے کوئی خالی جگہ ہو۔

اس نے حیرانی سے قدم دوبارہ وہیں رکھا۔
پھر ایک بار اور۔
تیسری بار جب پاؤں مارا تو فرش جیسے ہل سا گیا۔
ایک مدھم سی کھڑک ہوئی، اور ساتھ ہی نیچے سے ٹھنڈی ہوا کا ہلکا سا جھونکا اُٹھا۔۔
یُسرٰی نے گھبرا کر اردگرد دیکھا، دل زور سے دھڑکنے لگا۔
آہستگی سے وہ جھکی، اور انگلیوں سے فرش چھوا۔
ٹائلز میں سے ایک ذرا سی کھسکی۔۔۔
ایک نہایت باریک درز اب صاف نظر آ رہی تھی۔

یہ کیا…
اس کی آنکھیں چند لمحے کے لیے ساکت ہو گئیں۔
فرش کی مخصوص سطح پر اس نے دوبارہ ہاتھ رکھا…
انگلیوں نے سطح پر کچھ محسوس کیا۔۔۔
ایک چھوٹا سا اُبھار، جیسے کوئی خفیہ بٹن ہو۔

اچانک ایک چٹخ کی آواز ہوئی۔
ٹائلز ہلکی سی جنبش کے ساتھ ایک طرف سرک گئیں۔

اور اس کے نیچے…
اندھیرے میں چھپی ایک تنگ سی راہ نمایاں ہوئی۔
نیچے اترتی ہوئی سیڑھیاں۔۔۔ پتلی، سی
وہ ٹھٹک کر بیٹھ گئی۔ دل بےترتیب دھڑکنے لگا۔

نیچے اندھیرا تھا…
خاموش، گہرا، اور کچھ ایسا جو دِکھائی نہیں دیتا، لیکن محسوس ہوتا تھا

دماغ نے سرگوشی کی
واپس چلی جاؤ… نیچے خطرہ ہو سکتا ہے۔ تم نہیں جانتی وہاں کیا ہے۔ تمہارا وہاں جانا ضروری نہیں…
اُس کا ہاتھ ذرا سا پیچھے سرکا… جیسے واپسی کا راستہ سوچنے لگی ہو۔ دل نے ایک لمحے کی خاموشی میں زور سے دھڑکا۔

دل نے آہستگی سے کہا
بس ایک نظر دیکھو… نیچے کیا ہے؟ اگر کچھ نہ ہوا تو واپس آجانا۔ مگر اگر کچھ اہم چھپا ہو…کیا پتہ اندر بہت سارا مال چھپا ہو۔۔

اُس نے آنکھیں بند کیں، ایک گہری سانس لی۔
بس دیکھ کے واپس آ جاؤں گی…
وہ خود سے بڑبڑائی  جیسے اپنے اندرونی خوف کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش ہو۔
اور پھر…
ہاتھ دیوار پر رکھتے ہوئے وہ پہلا قدم نیچے رکھا۔
ہر قدم پر ایک مدھم سی چرچراہٹ ہوتی، نیچے کی طرف جاتے اندھیرے میں اُس کا جسم آہستہ آہستہ غائب ہونے لگا۔
چہرے پر اب خوف اور تجسس کا امتزاج تھا…
دل تیز دھڑک رہا تھا، دماغ ہر لمحے اپنا فرار کا منصوبہ سوچ رہا تھا۔
مگر قدم… وہ تو صرف نیچے جا رہے تھے۔

اور ہر بار کی طرح یسریٰ نے آج بھی اپنے دل کی سنی، اور یسریٰ ہمیشہ اپنے دل ہی کی سنتی تھی۔۔۔۔
یُسرٰی آخری سیڑھی پر پہنچی تو اچانک ایک سنّاٹا چھا گیا۔ نیچے ایک تنگ، لمبی راہداری تھی۔
سامنے ایک دروازہ تھا،
یُسرٰی نے ہلکے سے دروازے کو دھکیلا کُھل گیا۔
اور وہ لمحہ۔۔۔ جیسے حقیقت سے پردہ اٹھا۔

سامنے ایک چھوٹا سا، لیکن ہائی ٹیک کمرہ۔
دیواروں پر ساؤنڈ پروف، کئی سکرینز، جن پر سوشل میڈیا ٹرینڈز، نیوز ہیڈلائنز، اور امن کی تصاویر گھوم رہی تھیں۔
اور اس کا دماغ بھی ایک پل کے لیے گھوم گیا۔۔۔
اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی…
پیچھے سے کسی نے اسے دبوچ لیا تھا۔

++++++++++

ریپر نے فولڈر پر کلک کیا۔ سکرین پر تین فائلیں کھل گئیں

آڈیو کلپ – امن کا اعتراف

فیک میڈیکل رپورٹ – بائی پولر، خطرناک، غیر مستحکم

تصویر – امن اپنے پرانے دوست جبار کے ساتھ، جو اب لاپتہ ہے۔

ریپر نے اپنے مخصوص سافٹ ویئر میں آڈیو کلپ کو کھولا۔
ایک اصلی تھراپی سیشن کی ریکارڈنگ تھی، جس میں امن کہہ رہا تھا
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، میری سوچ حقیقت سے کٹ چکی ہے۔ جیسے میں خود اپنے ہی دماغ سے بھاگ رہا ہوں۔
ریپر نے ایڈیٹنگ ٹول سے آواز کو کاٹا، جوڑا، اور نیا جملہ تیار کیا
میں… حقیقت سے کٹ چکا ہوں… اور اب جو بھی ہوگا… وہ صرف میری مرضی سے ہوگا۔

کلپ محفوظ کیا گیا
Aman_Threat.mp3
پھر اُس نے فیک میڈیکل رپورٹ کھولی۔

اس پر جعلی اسپتال کا لوگو، ڈاکٹر کے دستخط، اور تاریخیں تھیں، سب کچھ اتنے باریکی سے بنایا گیا تھا کہ جھوٹ اور سچ میں فرق کرنا ممکن نہ تھا۔
امن شدید ذہنی مسائل کا شکار ہے۔
کبھی کبھار تشدد پر اتر آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے مستقل نگرانی کی ضرورت ہے۔..
یہ جملے بولڈ اور سرخ رنگ میں نمایاں تھے۔
ریپر نے رپورٹ کے نیچے لکھا

Source: Confidential Leak – Verified by ‘internal hospital staff’

تیسری تصویر،  جبار کے ساتھ امن کی پرانی یونیورسٹی والی۔
نیچے کیپشن ایڈٹ کیا
یہ وہ شخص ہے جس نے امن کے عجیب رویے کی پہلی بار نشاندہی کی تھی۔ اب وہ لاپتہ ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ جبار اپنی جاب کے لیے بیرونِ ملک گیا تھا۔
ریپر نے سب فائلز کو ایک ایک کر کے دو درجن ای میلز میں اٹیچ کیا، مختلف جعلی ناموں اور آئی پی ایڈریسز سے
ایک انویسٹیگیٹو جرنلسٹ کو بھیجا
اگر تم واقعی سچ کے دعوے دار ہو… تو یہ سب نشر کرو۔ تمہارا کریئر بن جائے گا۔

ایک یوٹیوبر کو میسج کیا
تیری اگلی ویڈیو وائرل ہونی چاہیے، ‘امن: ذہنی مریض یا میڈیا کا مہرہ؟’

کچھ میمز پیجز کو کلپ بھیجا
بناو اس پر کوئی ‘کریزی ہیرو’ والا میم۔

صبح 4:30 بجے، تمام مواد شیدول ہو چکا تھا۔
صبح 9 بجے ایک ہی وقت میں ٹویٹر پر ٹرینڈ ہونا تھا
#UnstableAman

ایک یوٹیوبر کی ویڈیو آنا تھی۔۔۔
The Hero With a Sick Mind?

اور ایک خبر بریک ہونی تھی
لیکڈ رپورٹ: امن دوبارہ خطرہ بن سکتا ہے۔۔۔

ریپر نے کرسی سے ٹیک لگا کر سگریٹ جلایا۔

دھویں کے حلقے میں آنکھیں جھپکائیں، اور زیرِ لب کہا

تمہیں گولی نہیں ماروں گا، امن۔ تمہارا لیڈر بننے کا خواب ماروں گا۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *