Qasas by Rida Fatima episode 13.

قصاص قسط نمبر:۱۳

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

یہ صبح کا وقت تھا ۔۔ ہیر اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی اگلے دو دن بعد ان کو لاہور ٹرپ پر جانا تھا ۔۔۔ اج ہیر کا ایک ضروری لیکچر تھا اس لیے اس کا جانا ضروری تھا ۔ نہیں تو اج اس کا ارادہ تھا کے وہ یونیرسٹی جانے کے بجائے شاپنگ پر چلی جائے ۔۔ لیکن لیکچر بھی تو ضروری تھا ۔۔۔
ہیر اس وقت بھی سیاہ دوپٹے میں تھی اور نیچے اس نے گلابی رنگ کی قمیض شلوار پہن رکھی تھی ۔۔ آنکھوں میں کاجل ڈالے ۔۔ اس کی آنکھیں قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔ جب اچانک اس کو باہر سے شور سنائی دیا ۔۔ اواز دلوار اور ریحان کی تھی ۔۔۔
یا اللہ اب ریحان نے نہ کچھ کر دیا ہو ۔۔ ہیر کو رخسار والا واقعہ یاد ایا ۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی ۔۔ دلاور لاؤنچ میں صوفے پر بیٹھا تھا
اور ریحان سینٹر ٹیبل کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔
اماں یہ ہم صبح سے دیکھ رہا ہے آ پ کا یہ بیٹا ہمارے سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کر رہا دلاور نے ریحان کو انکھیں نکالتے ہوئے کہا ۔۔
میں تو ہمشہ ایسے ہی بات کرتا ہوں بھائی اور کیسے بات کروں ۔۔ آ پ کے پاؤں میں بیٹھ جاؤں کیا اب ؟
ریحان کو تو ویسے ہی دلاور پر انتہا کا غصّہ تھا ۔۔
زبان سنبھال کے بات کرو لڑکے ۔۔ بڑا بھائی ہوں میں تمھارا ۔۔۔ کوئی سڑک پر چلتا دوست نہیں ۔۔ وہ کیا نام ہے۔۔ ہاں ۔۔ زر مان راجپوت جیسا ۔۔۔ دلاور کی اونچی اواز پر ریحان بل بھر کو حیران ہوا وہ زرمان کو کیوں بیچ میں لے آ یا تھا ۔۔
بھائی میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی آ پ کے ساتھ اور دوسری بات زرمان کے بارے میں آ پ کو کوئی حق نہیں کے کچھ کہیں ۔۔
نہ وہ یہاں پر ہے نہ سن رہا ہے تو پھر آ پ اُس کو کیوں لے ائیں ہے ہماری بات کے درمیان میں
ہیر خاموش کھڑی سنتی رہی یہ ہو کیا رہا تھا اخر ۔۔۔؟ ریحان کے بولنے پر دلاور صوفے سے اُٹھ کر ریحان تک ایا میں دیکھ رہا ہوں اج کل بہت غصّہ آ رہا تمھیں مجھ پر ۔لیکن کان کھول کے سن لو ۔۔ میں تمھارا بڑا بھائی ہوں اور مجھے پسند نہیں
کوئی چھوٹا اُٹھ کے مجھ سے اونچی اواز میں بات کرے ۔۔
دلاور اب ریحان کے بالکل سامنے کھڑا بول رہا تھا ۔۔
ہاں بھائی آ پ تو جو مرضی ہمارے ساتھ کر لیں یہ پھر آ پ کیسی کے بھی ساتھ جو مرضی کر لے پھر بے قصور بن جائے ۔۔
میں نے تم سے کہا ہے زبان سنبھال کے بات کرو ۔۔۔ دلاور ہلاک کے بل چلایا تھا ۔۔ اور کامران خان جو اپنے کمرے میں ۔۔ واشروم میں فریش ہو رہے تھے ۔۔ وہ جلدی سے باہر ائے
دلاور ۔۔
انہوں نے دلاور کو گھور کر دیکھا ۔۔
یہ کیا بتمیزی ہے چھوٹے بھائی سے اس طرح بات کرتے ۔۔؟
تو بابا اس کو بھی سمجھائیں نہ۔ ۔ میں بڑا ہوں اور مجھے برداشت نہیں کوئی میرے سے اس طرح سے بات کرے بابا ۔۔۔
ریحان ۔۔
کامران خان نے ریحان کی طرف دیکھا ۔۔ ہیر ڈری سہمی اپنے کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑی تھی
جی بابا ۔۔
جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔ کامران نے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔
ریحان خاموشی سے اپنے کمرے میں اگیا ۔۔ اور ہیر بھی اس کے پیچھے ہی ائی تھی ۔۔
اس کو جانے کیوں دیا ہے بابا ۔۔ اس کی غصّہ ا رہا تھا انے دیتے پھر میں اس کا غصّہ نکلتا ۔۔
دلاور ابھی بھی چپ نہیں ہو رہا تھا کامران خان نے اس کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔
تم بھی اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔ اور پانچ منٹ میں تیار ہو کر باہر اؤ ہمیں زمین پر جانا ہے ۔۔
اور میں تمہارے منہ سے اب ایک اور لفظ برداشت نہیں کروں گا دلاور ۔۔۔
کامران خان کے اس طرح کہنے پر وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
ہیر کی امی کچن کے پاس کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھیں کامران نے ان کو دیکھا ۔۔ بیگم صاحبہ ۔۔
ایک کپ چائے ہی بنا دیں ۔۔ آ پ کے بیٹوں کی لڑائی میں ہمارا سر درد کرنے لگا ہے ۔۔
کامران کے اس طرح سکون سے کہنے پر وہ مسکرائی اور پھر کچن میں چائے بنانے چلی گئی کامران خان اب صوفے پر بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے ۔۔ تھوڑی دیر بعد جب چائے بنا کر ہیر کی امی باہر ائی اور ان کے پاس ا کے بیٹھی تو کامران نے ان کو دیکھا ۔۔ میں سوچ رہا ہوں ۔۔ کیوں نہ ہم ریحان کی شادی کر دیں ۔۔
لیکن دلاور بڑا ہے کامران پہلے اُس کی کرنی ۔۔ وہ بول ہی رہی تھی
جب کامران نے ان کی بات کاٹی ۔۔۔ مجھے رخسار پسند ہے ریحان کے لیے ۔۔ بس اگلے ہفتے ہم ریحان کا رشتا لینے جائیں گے رخسار
کے امی ابو سے اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ منع نہیں کریں گے ۔۔۔
اب کی بار ہیر کی امی نے ہاں میں گردن ہلا دی ۔۔اپ ٹھیک کہہ رہے ہیں رخسار اچھی بچی ہے
ریحان کے ساتھ تو اس کی جوری بہت زیادہ اچھی لگے گی ۔۔۔

تم کیوں دلاور بھائی سے لڑنے کے لیے تیار ہو ۔۔ تمہیں منع بھی کیا ہے نا کہ دلاور بھائی سے دور رہو
ہیر اب ریحان کے کمرے میں بیٹھی اسے سمجھا رہی تھی ۔۔
میں جب بھی ان کا چہرہ دیکھتا ہوں نا تو مجھے غصہ ا جاتا ہے۔ ۔
مجھے رخسار کی باتیں یاد ا جاتی ہیں ہیر ۔۔ میں جانتی ہوں ریحان لیکن تمہیں خود پر قابو رکھنا چاہیے ۔۔۔ تمہیں پتہ بھی ہے کہ دلاور بھائی کچھ
بھی کرنے سے ٹلیں گے نہیں ۔۔ تم کیوں خود کو مشکل میں ڈالنا چاہتے ہو ان سے لڑائی کر کے ۔۔۔ ؟ تو اور کیا کروں پھر خاموش ہو کر بیٹھ
جاؤں یا ان کے خوف سے ڈرتا رہوں۔۔۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں ایک دن ایسا ائے گا جب وہ ہم سب کے دشمن بن جائیں گے ایک دن ایسا ائے گا جب وہ تم سے مجھ سے سب سے نفرت کرنے
لگیں گے ۔۔۔۔
ہیر نے اپنے بھائی کو دیکھا ۔۔
وہ مجھ سے تو نفرت کرتے ہیں ریحان تھوڑی اور کر لے گے کیا ہو جائے گا ۔۔ اس کے دل میں درد اٹھا لیکن خیر اب اسے اس درد کی عادت ہو چکی تھی
تمہیں یہ سب کہنا آسان لگتا ہے ہیر لیکن وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔۔
میں جانتی ہوں لیکن ابھی کے لیے چُپ رہو ۔۔ بس رخسار کا انتظار کرو ۔۔
اُس سے شادی ہو جائے تمھاری ۔۔ پھر بھائی کچھ نہیں کر سکتے ۔۔
اور اب یہ ساری باتیں چھوڑو اور اٹھو ۔۔
کیوں ؟
کیونکہ جناب مجھے یونیورسٹی جانا ہے اور تم دونوں بھائیوں کی لڑائی کی وجہ سے میں پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکی ہوں ۔۔ ہیر کے کہنے پر
ریحان بیڈ سے اُ ٹھ کر اس کے ساتھ ہی کمرے سے باہر آ یا تھا ۔۔۔
پھر ہیر اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی ریحان کے ساتھ گھر سے باہر نکل گئی ۔۔
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ریحان نے ہیر کو مخاطب کیا۔۔۔
میں تمہیں یونیورسٹی سے لینے نہیں ا سکوں گا۔۔۔ ڈرائیور کو جانے سے پہلے میں نے بتا دیا تھا ۔۔ وہ تمھیں لینے آجائے گا ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ ہیر نے بس اتنا ہی کہا ۔۔ اور گاڑی سے باہر دیکھیں لگی ۔۔۔
کچھ دیر بعد گاڑی یونیورسٹی کے گیٹ کہ اگے رکی تو ریحان بھی گاڑی سے باہر اگیا ۔۔۔
زرمان اور حیات گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے ہی انہیں نظر اگئے تھے ۔۔ ریحان نے زرمان کو اواز لگائی تھی ۔۔ وہ اس کی اواز
سن کر رک گیا تھا اور پھر واپس گھوم کر اس کی طرف اگیا ۔۔۔
ریحان نے پہلے ہاتھ ملایا پھر دونوں گلے لگے ۔۔۔
بہت دنوں بعد اج نظر ائے ہو خیریت ہے کہاں گھومتے رہتے ہو ۔۔۔
زرمان نے پوچھا تو ریحان نے اس کو دیکھا ۔۔ کہیں پر بھی نہیں بس گھر پر ہی ہوتا ہوں ۔۔۔ تمہیں اج کل کیا ہو گیا ہے بہت بیمار رہنے
لگ گئے ہو ۔۔۔
بس کیا بتاؤں یار موسم جو بدل رہا ہے ۔۔
ہاں یہ بات تو صحیح ہے تمہاری ۔۔ چلو ٹھیک ہے اب تم لوگ جاؤ یونیورسٹی میں۔۔ میں اب گھر جا رہا ہوں ریحان نے کہتے ہوئے قدم واپس گاڑی کی طرف گھما دیے رخسار البتہ اس کو نظر نہیں ائی تھی۔۔۔
اج وہ یونیورسٹی ہی نہیں ائی تھی ۔۔

یوسف کے فون پر یسرا کا نام چمکا ۔۔ یوسف واش روم میں فریش ہونے کے لیے گیا تھا ۔۔ اور اس کا فون اس وقت باہر لاؤنج میں ٹیبل
پر پڑا تھا ۔۔ فون ایک بار بجا دوسری بار ۔۔
تیسری بار یاسر کچن سے باہر نکلا اور یسرا کا نام پڑھ کے فورا سے فون اُ ٹھا لیا ۔۔۔
یوسف بھائی ۔۔ میں رات تک ا رہی ہوں ۔۔ یسرا نے پہلی بات ہی یہ کی تھی
کیا سچی ۔۔۔۔ یاسر کا موں کھول گیا ۔۔اور دوسری طرف جانی پہچانی اواز سن کر یسرا حیران رہ گئی وہ یوسف کی اواز نہیں تھی ۔۔
آپ کون ۔۔
آ پ کا عشق ۔۔۔یاسر بولا
تو یسرا فورا سے بول پڑی ۔۔ یاسر بھائی ۔۔
نہیں بھائی کہہ کے محبت کو خراب نہ کریں ۔۔ دیکھیں یہ غلط بات ہے ۔۔
یاسر جلدی سے بولا دوسری طرف سے یسرا کے ہنسے کی اواز ائی ۔۔
کیا وہ پاگل تھا کم سے کم اس وقت وہ یہی سوچ رہی تھی ۔۔۔
یوسف بھائی کہاں پر ہیں اور آ پ نے ان کا فون کیوں اٹھایا ہے
دوسری طرف سے اواز ائی تو یاسر جلدی سے بولا وہ فریش ہونے کے لیے گئے ہیں اس لیے میں نے ان کا فون اٹھا دیا کیوں کوئی مسئلہ ہے کیا ۔۔۔
نہیں سب سے بڑا مسئلہ ہی آ پ ہیں آ پ کے
ہوتے ہوئے کوئی اور مسئلہ ہو ہی نہیں سکتا ۔۔ دیکھیں اب مجھے لگ رہا ہے کہ شاید اپ میری عزت افزائی کر رہی ہیں
آ پ کو لگ نہیں رہا ویسے میں وہی کر رہی ہوں یاسر صاحب۔۔۔
اللہ اللہ آ پ کے منہ سے میرا نام کتنا پیارا لگتا ہے۔۔
آ پ فلرٹ کر رہے ہیں میرے ساتھ۔۔۔؟ میری کہاں مجال میں آ پ کے ساتھ فلرٹ کر سکوں ۔۔ میں تو محبت کرتا ہوں یاسر ابھی بولا ہی تھا کہ یوسف نے اس کے کان سے فون کھینچا ۔۔۔
کس کے ساتھ لگا ہے بھائی تو اور میرا فون میری اجازت کے بنا کیوں اٹھا لیا۔۔۔ فون کان سے لگاتے ہوئے یسرا کی اواز جب یوسف
نے سنی تو اس نے یاسر کو دیکھا ۔۔۔ ہاں یسرا بولو میں سن رہا ہوں تمہاری بات ۔۔۔ یوسف کی اواز سن کر یسرا نے اپنے انے کی اطلاع دی اور پھر حال احوال کے بعد فون بند کر دیا ۔۔۔
جبکہ یاسر خاموشی سے اب یوسف کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
تو میرے سے مار کھائے گا ۔۔ یوسف نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
تو وہ معصوموں والی شکل بنا کر بولا ۔۔۔ آ پ کو ذرا ترس نہیں ائے گا آ پ اپنے چھوٹے بھائی کو ماریں گے کیا بچے کی جان لیں گے اب آ پ ۔۔۔
نہیں میں جان تو نہیں لوں گا بس ایسے بچے کی دو تین ہڈیاں توڑوں گا جس کو نہ خود سکون ہے نہ مجھے سکون لینے دیتا ہے ۔۔۔
اب ایسا بھی میں نے کیا کر دیا ہے بس اپنے دل کی بات بتا رہا تھا یسرا کو ۔۔
۔ یاسر اپنے دل پر کنٹرول رکھ بھائی ہم پولیس والے ہیں ۔۔۔ ہمیں اپنے دل پر قابو رکھنا ہوتا ہے ۔۔۔
بس کریں ۔۔آ پ مجھے نہ سکھائیں خود جو حیات بھابھی کے اوپر مر مٹے ہیں اس کے بارے
میں کیا کہنا چاہیں گے آ پ ۔۔۔ اب کی بار یاسر بولا ۔۔یوسف پل بھر کو خاموش ہوا ۔۔ کیا چیز ہے تو اور پھر خاموشی سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا وہ اس کا کیا ہی کر سکتا تھا ۔۔۔ یاسر اس کے گلے میں پڑا ہوا ڈھول تھا ۔
جو بات بات پر اسی کے کانوں کو پھاڑنے کے لیے بچتا رہتا تھا ۔۔۔۔
اچھا یاسر تھوڑی دیر میں تیار ہو جاؤ ہمیں پولیس اسٹیشن جانا ہے اس کے بعد شام کو ہمیں ہیر کے گھر جانا ہے ۔۔۔
کیوں ہیر کے گھر کیوں۔۔۔
بس ایسے ہی ہیر سے اس کی یونیورسٹی کے بارے میں بھی پوچھ لوں گا۔ ۔
تاکہ یسرا کو مسئلہ نہ ہو داخلہ کروانے میں ۔۔۔ ٹھیک ہے میں بس تیار ہو کر اتا ہوں ابھی ۔۔۔ یاسر کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا اور یوسف ۔۔
اپنے کمرے میں یونیفارم بدلنے چلا گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد یاسر اور یوسف
جب باہر ائے تو وہ پولیس یونیفارم میں تھے ۔۔۔ بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ۔۔۔ ہاتھ میں گھڑی پہنے۔۔۔ یوسف اپنی ٹوپی اُ ٹھاتا ۔۔
یاسر کے ساتھ ہی باہر نکلا تھا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی بھگا لے گیا ۔۔۔۔


قاسم اس وقت اپنی امی کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ جہاں پر چھوٹی بچی ارام سے بیڈ پر لیٹی ہاتھ پاؤں مار رہی تھی وہ کسی گڑیا سے کم نہیں تھی بالکل موم کی گڑیا ۔۔۔ نازک ہاتھ ۔۔ کالی انکھیں ۔۔ اور سفید رنگت۔۔۔ ابھی تک اس کے سر سے پہلی جھنڈ کے بال بھی نہیں اُ ترے تھے ۔۔۔ جن کو قاسم کی امی نے ٹوپی سے دھک رکھا تھا ۔۔
وہ اس کے پاس بیٹھا خاموشی سے اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔ کبھی وہ قاسم کا چہرہ دیکھ کر مسکرا اُ ٹھتی تو قاسم کی انکھیں چمکنے لگتی اور چہرے پر ایک انجانی سی مسکراہٹ اور خوشی ا جاتی ۔۔۔
نا جانے کیوں وہ بچی قاسم کو اپنی طرف کھینچتی تھی کوئی کشش تھی اس میں ۔۔۔ قاسم کے ابو کی اواز سن کر وہ فورا سے اس کے پاس
سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکلا ۔۔
جی بابا آ پ نے بلایا ہے۔۔۔
ہاں قاسم اؤ بیٹھو ۔۔۔ ادم نے صوفے پر اشارہ کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا کہا تو وہ خاموشی سے ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔
جی کہیں بابا ۔۔۔
ہاں قاسم میں نے تم سے یہی پوچھنا تھا کہ اب اس بچی کا کیا کرنا ہے ۔۔؟
وہ بابا ۔۔
وہ کیا قاسم ۔۔ قاسم کی اس طرح اٹکنے پر ادم خان نے پھر پوچھا ۔۔۔
بابا وہ میں ۔۔ اُس کو ۔۔ میں اس کو گود لینا
چاہتا ہوں ۔۔۔۔
قاسم کے اس طرح کہنے پر ادم خان ایک پل کو حیران ہوئے ۔۔۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے تم کیسے ایک بچے کو اڈاپٹ کر سکتے ہو قاسم تمہاری ابھی شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔ اور تم بھی اچھے طریقے سے
جانتے ہو کہ تمہاری رشتے کی بات چل رہی ہے ہیر کے ساتھ ۔۔۔
جب کامران خان کو پتہ چلے گا کہ تم نے ایک بچی کو اڈاپٹ کر لیا ہے تو وہ یقینا منع کر دے گا ہیر سے تمہاری شادی کے لیے۔۔۔
بابا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ اگر کامران انکل منع کر دیتے ہیں تو کوئی بات نہیں نہیں کروں گا میں ہیر سے شادی ۔۔۔
ادم حیران رہ گئے تھے اپنے بیٹے کی اس طرح کی باتوں پر وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے قاسم اس طرح کی کوئی بات بھی کر سکتا تھا ۔۔۔
قاسم ابھی کچھ وقت پہلے تک تم ہیر پر مرتے تھے ہر روز تقریبا ہر روز تم کہتے تھے کے ہیر کے گھر رشتہ لے کر جاؤ ہیر کب مانے گی اور وغیرہ
وغیرہ اور جب ہیر کا باپ مان گیا ہے ۔۔۔ تو اب تم اس بچے کی وجہ سے اپنا رشتہ بھی ختم کرنے کو تیار ہو۔۔
کون سے رشتے کی بات کر رہے ہیں بابا وہ رشتہ جو ابھی تک زبانی کلامی باتوں میں چل رہا ہے جو ابھی تک ہوا ہی نہیں ہے۔۔ قاسم آ ب کی بار تھوڑی اونچی اواز میں بولا پھر خود ہی محسوس ہونے پر فورا سے بولا۔۔۔
میں آ پ سے اونچی اواز میں بات نہیں کرنا چاہتا بابا نہ ہی میں بدتمیزی کر رہا ہوں ۔۔ بس میں اتنا چاہتا ہوں کہ میں اس بچی کو کہیں دور نہ
کروں میں اسے اڈاپٹ کرنا چاہتا ہوں مجھے وہ اچھی لگی ہے بہت اچھی ۔۔۔ آ پ اس میں راضی ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے اور
اگر آ پ نہیں راضی تو بھی پاپا میں اس کو ایڈاپٹ کر کے رہوں ۔۔۔
اور کوئی غیر قانونی طریقہ نہیں ازماؤں گا ۔۔
ادم خان بے بسی سے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھ کر رہ گئے وہ پاگل ہو گیا تھاایک بچی کے پیچھے ۔۔
قاسم یہ فضول ضد ہے ۔۔
بابا فضول ہی سہی لیکن اب یہ میری ضد ہے بابا آپ نے دیکھا نہیں اس بچی کو ۔۔ کتنی پیاری ہے وہ ۔۔ معصوم سی
قاسم بچے سب ہی پیارے ہوتے ہیں ۔۔ لیکن۔۔
لیکن کچھ نہیں بابا پلز مان جائیں ۔۔ ہمارے گھر میں دیکھے نہ اُس کو کتنا پیار ملے کا وہ ایک خوشحال زندگی گزارے گی ۔۔ مجھے وہ بابا کہے گی ۔۔ آ پ کو دادا دادی ۔۔
میں نے تم جیسا لڑکا پہلی بار دیکھا ہے قاسم جس کو شوہر بنے سے پہلے باپ بنے کا شوق جگ اُٹھا ہے ۔۔۔ ادم خان بیٹے کے اگے ہار مانتے ہوئے بولے ۔۔
ایسا کوئی بنا ہی نہیں تھا جس سے قاسم ہار جاتا ۔۔
اُس نے ہارنا نہیں سیکھا تھا ۔۔
تو قاسم ساری کاغذی کارروائی کر لینا ۔۔ بچی کو ایڈاپٹ کرنے کی قانونی طریقے سے کرنا اور ہاں نام وغیرہ بھی سوچ لینا ۔۔
ادم کے کہنے پر قاسم کو نام رکھنے کا خیال ایا نہیں تو قاسم کو دھیان ہی نہیں رہا تھا کہ بچی کا کوئی نام بھی رکھنا تھا ۔۔۔
قاسم اب بچی کا کوئی نام سوچ رہا تھا ۔۔

کچھ دیر سوچتے رہنے میں بعد قاسم اپنی امی کے کمرے میں اگیا جہاں بچی سو رہی تھی ۔۔ قاسم نے اس کو دیکھا ۔۔ پھر اپنی ماں کو جو کمرے
میں ہی تھی ۔۔ امی ۔۔
ہاں کہو قاسم ۔۔ وہ الماری میں کپڑے رکھ رہی تھی اس کو دیکھ کر بولی ۔۔
امی میں نے اس کے لیے نام سوچ لیا ہے ۔۔
اچھا کیا نام سوچ ہے ۔۔۔؟ ماں نے پوچھا تو قاسم نے نام بتایا ۔۔
امی قونین نام کیسا ہے
ویسے نام تو اچھا ہے بیٹا لیکن یہ تو لڑکوں کا نام نہیں ہے؟؟
نہیں امی یہ لڑکیوں کا بھی رکھ سکتے ہیں ۔۔ اج سے اس کا نام قونین ۔۔
ویسے نام تو اچھا سوچا ہے تم نے قاسم ۔۔
ہاں تو لازمی سی بات ہے امی ۔۔میں اس کا نام قونین رکھوں گا میرا نام قاسم ہے ۔۔ اور میری بیٹی کا نام قونین ۔۔ قاسم کی قونین ۔۔
قاسم کے اس طرح کہنے پر ماں مسکرا دی ۔۔
اچھا جائیں اب قونین ارام کر رہی ہے ۔۔ امی جو ایک کمرا خالی ہے نہ ہمارے گھر میں ۔۔ اُس کو میں قوانین کے لیے تیار کرواؤں گا ۔۔
تمھاری بات صحیح ہے بیٹا لیکن ابھی یہ چھوٹی ہے تو ڈر جائے گی فی الحال تو یہ میرے ساتھ رہے گی ۔۔
نہیں ۔۔ اس کو اُس کمرے میں ہی رکھیں گے امی ۔۔ میں رہوں گا میری بیٹی کے ساتھ
قاسم کی امی حیران تھی اپنے بیٹے کی باتوں پر ۔۔

ہیر کو یونی سے چھوٹی ہوئی ۔۔ وہ اب ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
سب ہی سٹوڈنٹ اب گھر جانے کے لئے نکل رہے تھے ۔۔ ہیر گیٹ پر کھڑی انتظار میں تھی ۔۔ جب افق پاس سے گزرا وہ گھر جانے کے
لیے نکل رہا تھا ۔۔ نیوی بلیو کلر کا پینٹ کوٹ پہنے بالوں کو ایک طرف سیٹ کیے ۔۔۔ ہیر کو باہر کھڑا دیکھا تو روک گیا آ پ یہاں کیوں کھڑی ہیں گھر نہیں جانا کیا ؟
نہیں میں اپنے ڈرائیور کا انتظار کر رہی ہوں سر
تو کیا وہ ابھی تک نہیں ایا ۔۔
جی نہیں ایا ۔۔
تو ہیر آ پ میرے ساتھ چلیں میں چھوڑ دیتا ہوں آپ کو گھر ۔۔۔
نہیں سر میں چلی جاوں گی
ہیر پاس ہی پارکنگ میں گاڑی کھڑی ہے آجائیں
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں چلی جاوں گی سر آ پ کا شکریہ ۔۔۔
ہیر کے دوبارہ منا کرنے پر افق خاموش ہو گیا وہ اب کیا ہی کہتا ۔۔
اور خاموشی سے خدا حافظ کہتا ۔۔ پارکنگ کی طرف چلا گیا ۔۔۔
ہیر ابھی بھی انتظار کر رہی تھی
جب زر مان اور رخسار بیگ کندھے پر ڈالے گیٹ تک ائے ۔۔ اپ گھر نہیں گئی ۔۔ ڈرائیور کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔ ہیر موں بناتے بولی ۔۔
اچھا میں چھوڑ دوں کیا گھر آ پ کو۔۔
اور اگر بابا نے کچھ کہا تو کیا کہو گے ۔۔
کچھ بھی نہیں اپ کو چھوڑنے کے بہنے سسرال والوں سے سلام دعا بھی کر اؤں گا نہ ۔۔
ہیر زرمان اس طرح کہنے پر بے ساختہ مسکرائی ۔۔۔ تم پاگل ہو لڑکے ۔۔ آ پ کتنی بار بتائیں گی مجھے پتہ ہے کہ میں آ پ کے پیچھے پاگل ہوں ۔۔
زیادہ بولو نہیں اب جاؤ ۔۔
لیکن آ پ کب تک یہاں کھڑی انتظار کرتی رہیں گی ۔۔۔
بس اتا ہی ہو گا ڈرائیور تم جاؤ ۔۔
اچھا جی جیسا آ پ کا حکم ۔۔ زر مان کہتا ہوا چلا گیا جب حیات بولی ۔۔ تم میرے ساتھ چلو
مجھے بس بوک سٹور سے کچھ کتابیں خریدنی ہیں پھر
میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں گی
نہیں بہت دیر ہو جائے گی ایسے تو ۔۔ تم جاؤ میں خود چلی جاتی ہوں ۔
ہیر اخر خود ہی جانے کے لیے تیار ہو گئی ۔۔۔
وہ پیدل چلتی مین روڈ تک ائی ۔۔ سرک پر تیز رفتار میں گاڑیاں یہاں سے وہاں ہو رہی تھی ۔۔
ہیر سڑک کراس کرنے کے لیے اگے بڑھی ۔۔
ابھی وہ درمیان میں ائی ہی تھی کے بے ساختہ کیسی کی گاڑی سے ٹکرائی ۔۔ اور زمین پر گری ۔۔
اور سرخ مرسیڈیز کا دروازہ کھولا ۔۔ کوئی سوٹ بوٹ پہنیں ایک شخص باہر نکلا ۔۔
اُس کی چال بادشاہوں کی طرح تھی ۔۔ کیسی کے ساتھ گاڑی ٹکرانے کے بعد عام طور پر گاڑی چلانے والے خوفزدہ ہو جاتا ہے
لیکن اس کے وجود سے ایسا کچھ نہیں لگتا تھا ۔۔ وہ خوف زدہ نہیں تھا پُر سکون انداز میں وہ زمین پر پڑی بے ہوش ہیر کے پاس ایا اس نے ہیر کو کندھے سے ہلایا ۔۔ ہیر کو بظاھر کوئی چھوٹ نہیں تھی ۔۔
ہاں شاید خوف کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئی تھی ۔۔ یہ شاید ہلکی پھلکی چوٹ تھی ۔۔
میڈم ۔۔ آ پ سن رہی ہیں ۔۔
اس نے ہیر کو ہلایا ۔۔ اس کی اواز الگ تھی سب سے الگ۔۔ گھمبیر لہجہ ۔۔ اور سریلی اواز
اس نے ہیر کو اپنے بازوؤں میں اُ ٹھایا اور اپنی سرخ مرسیڈیز کی طرف بڑھا ۔۔ پھر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور ہیر کو اندر بٹھایا۔۔۔
پھر ذرا آگے ہو کے سیٹ بیلٹ ہیر کے گرد باندھا
اور گاڑی پوری رفتار سے بھگا لے گیا ۔۔

ریحان جو اپنے کمرے میں تھا اور کچھ دیر پہلے ہی زمینوں سے ایا تھا کیوں کے اس کے بابا نے اس کو بھی بولا لیا تھا۔۔۔
جب وہ اپنے بھائی اور بابا کے ساتھ گھر ایا تو شام ڈھلنے والی تھی ۔۔ ہیر کی امی پریشان سے بیٹھی تھی ۔۔۔
ہیر کی امی نے گھر جلدی بلایا تھا وجہ نہیں بتائی تھی ۔۔ وہ گھر میں ائے تو ریحان بولا ۔۔
کیا ہوا ہے امی ۔۔ اور ہیر کہاں ہے پہلی بات ہی ہیر کی پوچھی گئی تھی ۔۔۔
ریحان ہیر ابھی تک یونیورسٹی سے نہیں ائی شام ڈھلنے کو ہے وہ تو بہت پہلے ا جایا کرتی ہے مجھے بہت فکر ہو رہی ہے اس کی ریحان ۔۔۔
کیا ۔۔ ہیر ابھی تک نہیں ائی ۔۔کامران خان بھی اب پریشان ہونے لگ گئے تھے ۔۔
اللہ بچی خیریت سے تو ہے ۔۔۔
ریحان نے ڈرائیور کو بلایا ۔۔ تمھیں ہیر کو یونیورسٹی لینے جانا تھا تم گئے تھے ۔۔
ڈرائیور اٹکا ۔۔ س۔۔وہ۔۔صاحب ۔۔ وہ
یہ وہ وہ کیا لگایا ہے جواب دو میری بہن کو لینے گئے تھے یونیورسٹی ۔۔
ن۔۔ نہیں صاحب ۔۔
کیا ۔۔ کیوں نہیں لینے گئے ۔۔ ریحان کا چہرہ
اب سرخ ہونے کو تھا ۔۔
وہ ۔۔ وہ ی۔یاد نہیں رہا ۔۔۔
واہ تمھیں یاد نہیں رہا ۔۔ تم اپنا کام کیسے بھول سکتے ہو ۔۔ ریحان اب چلایا تھا ۔۔
ریحان خان جذباتی نہ ہو ۔۔ ہیر مل جائے گی ہو سکتا ہے اپنی کسی دوست کے گھر ہو۔۔
کامران خان نے ریحان کو پریشان دیکھا تو فورا بولے۔۔ اتنے میں ہیر کی امی بول پڑی میں نے اس کی سب دوستوں سے فون کر کے پوچھ لیا ہے وہ کہیں پر بھی نہیں ہے ۔۔۔ اور میرا دل بہت ڈر رہا ہے میری بچی ٹھیک تو ہوگی نا کامران۔۔
فکر نہیں کرو بیگم وہ ٹھیک ہو گی اللہ خیر کرے اس کی ۔۔۔
یہ بھی تو ہو سکتا ہے بابا ہیر کہیں بھاگ گئی ہو
یہ دلاور خان کی اواز تھی ۔۔ ریحان نے کھا جانے والی نظروں سے اس کو دیکھا۔۔
فضول باتیں نہ کرو دلاور ہیر ایسا نہیں کر سکتی ۔۔
کامران خان نے اس کو ٹوکا ۔۔ بابا کیا آپ بھول گئے ہیں ہیر پہلے بھی کسی کو پسند کرتی تھی ۔۔وہ جو میرا دوست تھا ۔۔ اور مجھے تو شک ہے وہ
دوبارہ کسی کو پسند کرنے لگ گئی ہے ۔۔۔ بابا میں نے دعوت والی رات ہمارے فارم ہاؤس پر اس کو اوپر والے پورشن میں کھڑے کسی سے
فون پر ہنس ہنس کر باتیں کرتے سنا تھا ۔۔ میں بولا نہیں کے آپ سب پریشان ہو گے ۔۔ لیکن ہیر ہماری عزت مٹی میں ملا کر چلی گئی ہے بابا ۔۔
اب کی بار ریحان سے رہا نہیں گیا تو وہ چلاتا ہوا دلاور تک بڑھا تھا ۔۔۔
اپنی بكوس بند رکھو ۔۔ ہماری بہن ایسا کبھی نہیں کر سکتی ۔۔ میں تمھاری جان لے لوں گا دلاور ۔۔۔ ریحان کی اس طرح بڑھنے پہ ایک پل کے لیے تو دلاور پیچھے کو ہٹا تھا ۔۔۔ ریحان ۔۔ کامران خان بولے تو ریحان روک گیا ۔۔۔
تم لوگوں کی لڑائی سے بہتر ہے کہ ہیر کو ڈھونڈو نہیں تو یوسف کو بلاؤ اور پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرواؤ۔۔۔ اور دلاور مجھے اپنی بیٹی پر یقین
ہے وہ ایسا قدم کبھی بھی نہیں اُ ٹھا سکتی کان کھول کے میری بات سن لو ۔۔۔ وہ ابھی تک گھر نہیں ائی یقینا وہ کسی مصیبت میں ہے ۔۔۔
دلاور خاموش ہو گیا تھا ۔۔ ریحان کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ دلاور کو جان سے مار دے ۔۔ اپنی بہن کے لیے ایسا زہر بولنا گناہ تھا۔
اپنی بہن کے اوپر کوئی الزام کیسے لگا سکتا ہے ۔۔؟
ریحان اپنے کمرے میں ایا فون اٹھایا اور گاڑی کی چابی پکڑ کر گھر سے باہر نکل گیا ۔۔ اس کو ہیر کی یونیورسٹی جانا تھا ۔۔

کامران نے یوسف کو گھر بولا لیا تھا یوسف کا ویسے ہی ارادہ تھا کہ وہ کامران خان کے گھر جائے گا لیکن اس طرح ہیر کی لاپتا ہونے کی بات
سن کر یوسف فورا ہی یاسر کے ساتھ گھر اگیا تھا ۔۔۔
اور کامران خان اب اسے سارا واقعہ بتا رہے تھے
انکل آ پ بالکل بھی فکر نہ کریں۔۔ ہم ہیر کو ڈھونڈ نکالیں گے آ پ پریشان نہ ہوں ۔۔
یوسف مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ہیر میری اکلوتی بیٹی ہے اگر اسے کچھ ہو گیا یوسف تو میں جیتے جی مر جاؤں گا ۔۔۔
انکل کچھ نہیں ہو گا اپ فکر نہ کریں ۔۔ ابھی وہ بول ہی رہا تھا جب دلاور ایک بار پھر بولا۔۔
میری مان لیں بابا ہیر بھاگ گئی ہے آ پ لوگوں کو میری بات کا یقین کیوں نہیں ارہا ۔۔
میں نے کہا دلاور خاموش ہو جاؤ تمہارے منہ سے میں ایک لفظ نہیں سننا چاہتا کامران اب چلائے تھے۔۔۔ ہیر جانے سے پہلے تمہیں بتا کر گئی
ہے کہ وہ کہاں جا رہی ہے یا وہ گھر سے بھاگنے والی ہے۔۔۔ تم کیسے بھائی ہو۔۔ مجھے اس وقت شرم ارہی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے بھی ۔۔
اگر ہیر کو ڈھونڈ نہیں سکتے تو دفع ہو جاؤ اپنے کمرے میں ۔
دلاور خاموش سے کمرے میں چلا گیا ۔۔


ہیر کی آنکھ ایک نرم بستر پر کھلی تھی۔۔ سفید کمرے میں جس میں سنہرے رنگ کا ٹچ بھی نظر اتا تھا ۔۔ ہیر نے اپنی آنکھیں کھولیں تو سر میں
درد کی تیز لہر اُٹھی ۔۔ وہ کہاں تھی ۔۔
ہیر نے اٹھنے کی کوشش کی پھر نظر پاس میں کھڑی ایک بوڑھی ملازمہ پر پڑی ۔۔
بی بی آ پ لیٹ جائیں ۔۔ نہیں تو صاحب جی غصّہ کریں گے انہوں نے کہا ہے آ پ کا خاص خیال رکھا جائے
یہ میں کہاں ہوں اُس نے اُ ٹھ کر کہا ۔۔
بی بی جی آ پ لیٹ جائیں ۔۔
میں نے پوچھا یہ میں کہاں ہوں اور وقت کیا ہو رہا ہے ۔۔ پہلے سوال کا جواب تو ملازمہ دے نہیں سکتی تھی ۔۔ اس لیے دوسرے سوال کا
جواب اس کو بتایا ۔۔ وقت رات کے 8بج رہے ہیں

بی بی آ پ ارام کریں میں آ پ کے لیے کچھ کھانے کو لے کے اتی ہوں ۔۔
مجھے میرے گھر جانا ہے
وہ بولی تو کمرے سے باہر جاتی ملازمہ نے اس کو دیکھا صاحب کی اجازت کے بنا جو ایک بار یہاں
آجائے وہ باہر نہیں جا سکتا ۔۔
اس لیے فلحل آ پ ارام کریں صاحب کھانا کھا رہے ہیں ۔۔ تھوڑی دیر میں اتے ہیں ۔۔ وہ کہتی چلی گئی ۔۔
ہیر بیڈ سے اُ ٹھی اور کمرے کی کھڑکی میں آکر کھڑی ہو گئی ۔۔ سنہرے پردوں والی کھڑکی ۔۔
ہیر نے پردہ ہٹایا نیچے سبز گھاس کا فرش نظر ایا
لون میں اس وقت اندھیرا تھا۔۔۔ چاند کی روشنی لان میں پڑ رہی تھی اور ساتھ میں لون میں لگے بلب بھی چمک رہے تھے ۔۔ جنہوں نے
لون کو روشن کر رکھا تھا ۔۔۔ ۔۔۔
ہیر نے نظر ہٹا دی ۔۔ اُس کو گھر جانا تھا وہ کہاں پھس گئی تھی ۔۔
اخر وہ کس کے گھر پر تھی ٹھیک بھی تھی یا نہیں ۔۔۔

صاحب جی ہیر بی بی کو ہوش اگیا ہے ۔۔
ٹھیک ہے کھانا دو اُن کو میں اتا ہوں ۔۔ وہ ڈائننگ میں بیٹھا کانٹا چھری پکڑے بولا ۔۔
جی صاحب ملازمہ چلی گئی ۔۔ کچھ دیر بعد وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا اُ ٹھ گیا ۔۔ اور اپنے کمرے میں اگیا عالیشان کمرا ۔۔ سفید اور سنہرے رنگ کا کمرا درمیان میں بیڈ لگا تھا ۔۔ دونوں طرف سائڈ ٹیبل تھے ۔۔ ایک طرف کسی بچی کی تصویر لگی تھی کوئی چھوٹی بچی ۔۔۔ وہ تصویر کو دیکھ کر مسکرایا دوسری طرف کچھ کتابیں رکھی تھی ۔۔ وہ یقیناً کتابوں سے پیار کرتا تھا ۔۔
کمرے میں ایک کھڑکی تھی جو باہر حویلی کے لون میں کھولتی تھی ۔۔

وہ کمرے میں ایا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے شیشے میں اپنا عکس دیکھا ۔۔۔
ہلکی بھوری انکھیں تیکھے نین نقش کثرتی بدن ۔۔ سفید رنگت ۔۔
۔وہ کسی سلطنت کا بادشاہ لگتا تھا سب سے الگ ۔۔ اس کے پاس سے خود اعتمادی جھلکتی تھی ۔۔ ہلکے بھورے رنگ کے گھنگریالے بال ۔۔۔
جو سر پر ہی گھنگریالے ہو جاتے تھے ۔۔ جن کو وہ اکثر سٹریٹ کر کے جیل سے ایک طرف کو سیٹ کر کے رکھتا تھا لیکن اج اس نے نہیں کیے تھے ۔۔۔ کلین شیو اور گلے کی نظر آتی رگیں ۔۔ وہ کسی پرکشش انگریز سے کم نہیں لگتا تھا ۔۔
اس کو دیکھنے والے کو یقینا پہلی نظر میں اس سے محبت ہو سکتی تھی وہ آئینے کے اگے سے ہٹ گیا ۔۔

ہیر بیڈ پر لیٹی تھی جب خاموشی میں اس کو کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔ ہیر کا دل سہم گیا ۔۔ یہ کون تھا ۔۔ ہیر فورا بیڈ سے اُ ٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔ سائیڈ ٹیبل پر پڑا گلدان اُ ٹھا کر تان لیا کے جو بھی ہو گا اس کو مار دے گی ۔۔
قدموں کی اواز تھام گئی ۔۔ اور کوئی کمرے کے دروازے کا ہینڈل گھما رہا تھا ۔۔ہینڈل گھما اور پھر دروازہ کھلا ۔۔۔
ہیر دم ساد کر بیٹھی تھی ۔۔دروازہ کھلا اور پھر دروازے کے پار کھڑا شخص نظر آ یا ۔۔ ہیر نے گلدان ابھی بھی تھام کر رکھا تھا وہ اس تک
ایا اور بنا کسی تاثر کے اس کو دیکھ کر بولا ۔۔ گلدان نیچے رکھ دو نقصان پہنچانے نہیں آیا ۔۔۔
ہیر نے کچھ سوچتے ہوئے گلدان نیچے کر دیا کون ہو تم۔۔ اور مجھے یہاں۔۔ پر کیوں ۔لے کر ائے۔۔ ہو مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔
میں نے کہا ہے چلی جانا بس زیادہ نہیں ایک دن کی بات ہے کل شام تک تمھیں یہاں پر روکنا ہے ۔۔
لیکن تم ہو کون اور میں کیوں۔۔ تمہارے گھر پر رہوں ۔۔
میں جو بھی ہوں تمہیں میری بات ماننی پڑے گی ۔
دیکھو مجھے جانے دو ۔۔ ہیر اب بولی تو وہ ہلکا سا مسکرایا ۔۔
ویسے ہیر ۔۔ کیسی بات ہے تم سے تو ایک نہیں 3 3 لوگ محبت کرتے ہیں ۔۔
اس کے اس طرح کہنے پر ہیر پل بھر کو حیران ہوئی وہ اس کا نام کیسے جانتا تھا۔۔۔
پھر ذہن کی سکرین پر ایک دم چاکلیٹ سے بھرا گلدستہ اور کارڈ یاد ایا ۔۔۔
ت۔۔ تم نے مجھے ۔ چوک۔۔
ہاں میں نے ہی تمہیں چاکلیٹ بھیجی تھی میں ہی تمہیں کارڈ بھیجتا تھا
میں نے تمہیں وہ نیلی گاؤن بھیجی تھی ۔۔۔ ویسے اس رات تم خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ ک ۔۔ کون ہو تم ۔۔
جان کے کیا کرو گی ۔۔ اور مجھے وہ لوگ نہیں پسند جو جان کے بھول جاتے ہیں ۔۔”
م۔۔ مجھے بتاؤ ۔۔ک۔۔ کون ہو تم ۔۔
میں ۔۔ علی ہوں ۔۔۔
علی ۔۔وہ بڑبڑائی
ہاں اگے پیچھے بھی نام اتا ہے لیکن وہ بتانا ضروری نہیں سمجھتا میں ۔۔۔
ایک چھوٹی سی پرفیوم کی کمپنی ہے میری ۔۔ بس اُس سے ہی یہ چھوٹا سا گھر بنایا ہے ۔۔ اور کچھ گاڑیاں ۔۔ ہیر حیران تھی یہ چھوٹا سا گھر تھا ؟
مجھے اپنے گھر جانا ہے مجھے جانے دو ۔۔
میں نے تمہیں تھوڑی دیر پہلے بھی کہا ہے کہ میں نے تمہیں گھر جانے سے روکا نہیں ہے لیکن کل
شام تک تم یہیں پر رہو گی اور اگر گھر سے بھاگنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا کان کھول کے سن لو۔۔۔ علی کے اس طرح
کہنے پر وہ سہم گئی
ہاں تو میں بات کر رہا تھا کہ ہیر تم سے تو 3 لوگ ایک ساتھ محبت کرتے ہیں ۔۔ تم کس سے کرتی ہو ۔۔؟ علی نے پوچھا تو ۔۔ ہیر تھام گئی
ک۔۔ کسی سے نہیں ۔۔۔
ویسے مجھے جھوٹ اچھا نہیں لگتا میں نے
دیکھا ہے ۔۔ تم اس لڑکے کو پسند کرتی ہو شاید ۔۔ کیا نام ہے اس کا زر مان راجپوت ۔۔ سوچ رہا ہوں مار دوں اُس کو ۔۔ علی بولا تو ہیر کی
رنگت ہوا ہو گئی ۔۔
د۔۔ دیکھو ت۔۔ تم اس۔۔ ایسا نہیں کر سکتے میں تو کچھ بھی کر سکتا ہوں۔ ۔
وہ مسکرایا ایسے کے اس کے گال پر ڈمپل پڑا
چلو کھانا کھاؤ ارام کرو ۔۔ پورا گھر گھومو تمھارا ہی گھر ہے جہاں مرضی جاؤ ۔۔ لیکن گھر سے باہر نہیں جانا ۔۔ اور دوسری بات اسٹڈی میں
بھی جانے کی کوشش نہیں کرنا ۔۔
۔ہیر کا سانس روک گیا ۔۔
وہ اب کیا کرتی کیسے بھاگے یہاں سے ۔۔ گھر والے کیا سوچ رہے ہوں گے ۔۔
ہیر ابھی سوچ رہی تھی جب ۔۔ اُس نے قدم باہر گھما دیے اور جاتے ہوئے بولا ۔۔ میں جانتا ہوں تم یہی سوچ رہی ہو کہ تمہارے گھر والے
کیا سوچ رہے ہوں گے یا وہ تمہارے بارے میں پریشان ہو رہے ہوں
گے ہاں وہ تمہارے بارے میں بہت پریشان ہو رہے ہیں۔۔ لیکن فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہارے بابا اور ریحان کو پورا یقین ہے
کہ تم کوئی غلط قدم نہیں اُ ٹھا سکتی جب کہ تمہارا وہ بھائی دلاور وہ پورے طریقے سے کوشش کر رہا ہے تمہارے خلاف تمہارے ماں باپ کو
بھڑکانے کی ۔۔۔ اُس نے کہیں تمہیں دعوت والی رات زمان راجپوت سے بات کرتے ہوئے سن لیا تھا ۔۔ ہیر ساکت رہ گئی وہ اس کے
بارے میں اتنا سب کچھ کیسے جانتا تھا۔۔ اخر وہ کون تھا۔۔نہ کبھی پہلے اس کو دیکھا تھا نہ کبھی بات کی تھی ۔۔ پھر وہ کیسے ایک دم کہاں
سے آگیا تھا ۔۔۔؟ علی ایک۔راز تھا ۔۔ جس کو کھولنا آسان نہیں تھا ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *