Bashar Episode 7 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۷

اوہ ہیلو…؟ کہاں کھو گئے ہیں آپ…؟ میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں…
سومین جیسے چونک کر واپس آیا…
وہ… ہم دونوں تمہیں دیکھنے آئے تھے…
صدف نے فوراً بات کاٹ دی…
کیا دیکھنے آئے تھے…؟ کہ میں صحیح سلامت یونی پہنچ گئی یا نہیں…؟
اس کے لہجے میں واضح ناراضی تھی…
آپ سے اتنا بھی نہیں ہوا کہ میری مدد کر دیتے… اور اب یہاں آ کر کیا دیکھ رہے ہیں…؟.پھر اس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی… بھائی کہاں ہیں؟
سومین نے نظریں چرا لیں…
وہ… میں بھول گیا تھا…
ہاں… مجھے پتا ہی تھا… صدف نے فوراً جواب دیا…
میرے معاملے میں تو آپ سب کچھ بھول جاتے ہیں نا۔۔؟
کھانا کھانا بھولتے ہیں آپ…؟ ہاں…؟ پانی پینا بھولتے ہیں…؟
سومین خاموش رہ گیا…
سیدھا سیدھا بولیں… آپ میری مدد کرنا ہی نہیں چاہتے…
نہیں… ایسا نہیں ہے… سومین نے آہستہ سے کہا…
ایسا ہی ہے… صدف نے تیزی سے کہا…
دوسرے کو پریشان چھوڑ کر دونوں عبادت میں مصروف ہو جاتے ہیں… ایسی عبادت اللہ کو بھی پسند نہیں آئے گی…
اس کی آواز میں دکھ بھی تھا اور غصہ بھی…
اور آپ جائیں… اپنا کام کریں… میری فکر تو ہے ہی نہیں کسی کو…
ایک مدد کا کہہ کر بھول جاتا ہے…
اور ایک تو بس بولتی رہوں میں، لیکن سنتے ہی نہیں۔۔
سومین نے آہستہ سے پوچھا…
تم یہاں پہنچی کیسے…؟
صدف نے فوراً تیکھے انداز میں جواب دیا…
آپ سے مطلب…؟
میں واقعی بھول گیا تھا…
یہ سب بہانے بازیاں ہیں…
اتنے میں باسط بھی وہاں آ گیا…
شکر ہے تم یونی پہنچ گئی… اس نے صدف کو سومین کے ساتھ دیکھ سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہا…
صدف نے فوراً تیز لہجے میں جواب دیا…
ہاں ہاں… پہنچ گئی… آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے…
وہ رکی… پھر طنزیہ انداز میں بولی…
جا کر مسجد میں ہی بیٹھے رہے…
سومین نے حیرت سے دیکھا…
اب وہ پوری طرح اردو میں اپنے بھائی سے الجھ رہی تھی…
باسط کچھ کہتا…
تو وہ چار باتیں سنا دیتی…
چند لمحوں کی تکرار کے بعد…
وہ ناراضی سے مُڑی…
اور اپنی دوستوں کی طرف چلی گئی…
باسط نے ایک گہری سانس لی…
پھر سومین کی طرف دیکھ کر بولا…
چلو… گھر چلتے ہیں…
سومین نے ہلکی آواز میں پوچھا…
مان گئی…؟
باسط ہلکا سا مسکرایا…
نہیں… لیکن شام تک خود ہی ٹھنڈی ہو جائے گی… اس کا غصہ ایسا ہی ہے…
سومین نے آہستہ سے سر ہلایا…
اور خاموشی سے باسط کے ساتھ چل پڑا…

+++++++++++++

وہ دونوں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے… ٹیبل پر ہلکی سی خاموشی تھی…
مگر جے کیونگ کے چہرے پر الجھن صاف نظر آ رہی تھی…
آخر وہ رک نہ سکا…
مجھے تیری بات سمجھ نہیں آئی…
تائیجون نے بےپرواہی سے نوالہ منہ میں ڈالتے پوچھا۔۔۔
کون سی…؟
وہی… خدا کو نہ ماننے والی…جے کیونگ نے سنجیدگی سے کہا…
اگر یہ سب صرف psychological need ہے… تو اُس وقت…
وہ ایک لمحے کو رکا… جیسے کوئی منظر یاد آ گیا ہو…
اُس وقت وہ شخص مدد کیوں نہیں مانگ رہا تھا…؟
۔psychological need کے حساب سے اُسے اُس وقت مدد مانگی چاہیے تھی۔۔ اپنے خدا سے۔۔؟؟
تائیجون نے بھنویں سکیڑیں…
کون…؟
وہی… زخمی آدمی… جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا…
اوہ بھائی… تائیجون نے لمبی سانس لی…
تو ابھی تک اسی زخمی آدمی پر اٹکا ہوا ہے…؟
پھر ہلکی سی شرارتی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی…
ایسے اُس زخمی آدمی کو یاد کر کے بیٹھا ہے جیسے وہ تیری معشوقہ ہو؟
اوہ سوری سوری… زخمی نہیں… مرا ہوا آدمی…
جے کیونگ کے چہرے پر سختی آ گئی…
تو سمجھ نہیں رہا…
اوہ بھائی، مجھے سمجھنا بھی نہیں ہے… تائیجون نے فوراً ہاتھ جوڑ لیے…
غلطی ہو گئی جو اُس دِن سچ کہہ دیا… معاف کر دے…
کبھی تو سنجیدہ ہو جایا کر… جے کیونگ نے جھنجھلا کر کہا…
میں سنجیدہ ہوں… تائیجون نے کندھے اچکائے…
یہ اتنا serious matter نہیں ہے…
میرے لیے ہے… جے کیونگ کی آواز آہستہ مگر بھاری ہو گئی…
وہ چند لمحے خاموش رہا…
پھر دھیمی آواز میں بولا…
وہ… وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے سے جاتا ہی نہیں…
تائیجون نے ایک لمحہ اسے دیکھا…
Ahh how’s romantic۔۔
اگلے ہی لمحے
جے کیونگ کا ہاتھ اٹھا… اور سیدھا اس کے سر پر جا پڑا…
اوئے۔۔۔ تائیجون نے سر پکڑ لیا…
مگر جے کیونگ کے چہرے پر اب ہنسی نہیں تھی…
بس ایک عجیب سی سنجیدگی…
اور وہی منظر…
جو اب بھی اس کے ذہن میں کہیں جما ہوا تھا…

+++++++++++

جب سومین یونیورسٹی سے واپس ہوٹل پہنچا…
تو کمرے کا دروازہ کھولتے ہی وہ رُک گیا…
ہان وو صوفے پر بیٹھا تھا…
اور سیدھا اُسے گھور رہا تھا…
سومین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جوتے اتارے…
مجھے لگتا ہے… اگر میں اس کے لیے چاند تارے بھی توڑ لاؤں نا… تب بھی وہ مجھ سے خوش نہیں ہوگی…
ہان وو ایک لمحے کو چونک گیا…
اسے تو لگا تھا سومین مسجد گیا تھا…
لیکن یہ… کون۔۔۔؟؟
کس کی بات کر رہے ہو…؟
سومین نے بغیر دیکھے جواب دیا…
صدف…
وہ کہاں مل گئی تمہیں اب…؟ ہان وو نے سیدھا سوال کیا…
ملی کہیں نہیں… سومین نے آہستہ سے کہا…
میں خود گیا تھا اس کی یونی…
پھر…؟
سومین ہلکا سا مسکرایا…
پھر… وہی…
ایک لمحے کو وہ جیسے کہیں کھو گیا…
اس کا حُسن… اور اس کا غصہ…
یہ کہتے ہوئے وہ آ کر ہان وو کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا…
تمہیں پتا ہے… وہ آہستہ سے بولا…
آج میں نے اسے دیکھا…
اس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آ گئی…
بہت پیاری ہے… کیوٹ سی ہے۔۔۔
ہان وو نے غور سے اسے دیکھا…
کیسے دیکھ لیا…؟  تُم نے تو کہا تھا کہ وہ نقاب میں رہتی ہے…
ہاں… سومین نے سر ہلایا…
پتا نہیں… میں نے تو اسے ہمیشہ نقاب میں ہی دیکھا تھا…
لیکن آج یونی میں… وہ ہلکا سا رکا… صرف حجاب تھا…
اچھا…
شاید کوئی فنکشن تھا… سومین نے خود ہی کہا…
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی…
پھر ہان وو نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا…
اب تو تُم نے اُسے دیکھ بھی لیا اب تو… پسند آ گئی… ہوگی؟
سومین فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا…
نہیں… نہیں۔۔۔ پسند نہیں آئی۔۔ اس نے جلدی سے کہا… بس… اچھی ہے…

+++++++++++++

رین یون اپنے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا…
قدم آہستہ آہستہ لابی کی طرف بڑھ رہے تھے…
وہ ابھی لابی کے سامنے پہنچا ہی تھا کہ اچانک اس کی نظر اس پر پڑی…
وہی لڑکی…
اس بار وہ اُسے دیکھ خود رُک گئی…
اور سیدھا اسے دیکھنے لگی…
اسی ہوٹل میں…؟
رین یون ایک لمحے کو ٹھٹھکا…
پھر ہلکا سا سر ہلا دیا…
رین یون کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئی…
it’s destiny…
آپ destiny پر یقین رکھتے ہیں…؟ لڑکی نے سوال کیا۔۔۔
نہیں… اس نے سادہ سا جواب دیا… پھر ذرا رکا…
لیکن…
لیکن…؟
میرا بار بار تم سے ملنا… اور پھر ایک ہی ہوٹل میں…
لڑکی فوراََ اُس کی بات کاٹتی بولی
۔coincidence بھی تو ہو سکتا ہے…
ہاں… شاید… رین یون نے سر ہلایا۔۔۔
لیکن دل نہیں مان رہا… ہے نا…؟ وہ لڑکی پھر بولی۔۔
رین یون نے چونک کر اسے دیکھا…
تمہیں کیسے پتا…؟
مجھے لوگوں کو پڑھنا آتا ہے…
چند لمحوں کی خاموشی…
پھر رین یون نے آہستہ سے کہا…
میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں…
لڑکی نے بات کاٹ دی… آپ یہاں سے کب جا رہے ہیں…؟
رین یون کی آنکھوں میں حیرت اب واضح تھی…
تمہیں… یہ کیسے پتا…؟
آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے…لیکن میں… آپ کے بارے میں سب کچھ جانتی ہوں…
رین یون چند لمحے بس اسے دیکھتا رہا…
سب کچھ…؟
ہاں… سب کچھ… آج میں آپ سے ایک سوال پوچھتی ہوں۔۔۔ اگر آپ نے میرا سوال صحیح جواب دیا… تو میں آپ کو انعام دوں گی…
رین یون کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی…
پوچھو…
وہ مطمئن تھا…شاید کوئی سادہ سا سوال ہوگا… جو وہ اُس کے بارے میں ہی اُس سے پوچھے گی۔۔۔
مگر اگلا جملہ سنتے ہی وہ رک گیا…
دنیا میں پہلے انڈا آیا… یا مرغی…؟
ہین…؟ رین یون نے اسے گھور کر دیکھا…
ایک لمحے کو اسے واقعی لگا… یہ لڑکی پاگل ہے…
یہ بھی کوئی سوال ہے…؟
اگر اتنا ہی آسان ہے… لڑکی نے فوراً کہا… تو جواب دے دیں…
رین یون نے ہلکا سا سوچا…۔پھر بولا…
مرغی آئی ہوگی…
اور وہ کیسے آئی…؟ آسمان سے سیدھا نیچے زمین میں گری…؟ مسٹر بین کی طرح…؟ یا انڈے سے نکلی…؟
وہ مزید الجھ گیا…
تو پھر انڈا پہلے…؟
لیکن انڈا آیا کہاں سے…؟۔جبکہ انڈا تو مرغی دیتی ہے… ہے نا…؟
خاموشی… رین یون واقعی سوچنے لگا…
پھر اس نے سنجیدگی سے کہا…
۔Evolution کے مطابق… پہلے ایک ایسی species تھی… جو تقریباً مرغی جیسی تھی…
اس نے ایک انڈا دیا…  جس میں DNA میں ایک چھوٹی سی تبدیلی آئی… جسے mutation کہتے ہیں… اور اس تبدیلی کی وجہ سے… اس انڈے سے جو نکلا… وہ پہلی ‘اصل مرغی’ تھی…
لڑکی نے غور سے سنا…
اچھا… وہ آہستہ سے بولی…
تو وہ پرانی species کہاں سے آئی…؟
رین یون نے جواب دیا…
شروع میں زمین پر صرف chemicals تھے… کوئی جاندار نہیں تھا…
وقت کے ساتھ… ان chemicals نے مل کر ایسی ساخت بنائی… جو خود کو دہرا سکتی تھی…
یعنی پہلے single-celled organisms بنے… سب سے سادہ جاندار…
اور پھر کروڑوں سال میں… وہ بدلتے بدلتے پیچیدہ creatures میں تبدیل ہوتے گئے…
اس پورے process کو… abiogenesis کہتے ہیں… یعنی بے جان مادے سے زندگی کا جنم…
۔Nice…
لڑکی چند لمحے خاموش رہی…
پھر آہستہ سے بولی…
abiogenesis…
تو وہ chemicals کہاں سے آئے…؟
رین یون نے اسے دیکھا…
۔?chemicals…
ہاں… وہ non-living chemicals… جن سے سب کچھ بنا… وہ خود کہاں سے آئے…؟
کس نے بنائے…؟ یا… بس یونہی تھے…؟
رین یون کے ذہن میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی…
یہ… universe کا آغاز ہے… Big Bang سے…
اور Big Bang سے پہلے…؟
رین یون رکا…
سائنس کے پاس ابھی اس کا جواب نہیں…
رین یون نے اسے غور سے دیکھا… وہ کچھ کہنا چاہتا تھا… مگر الفاظ نہیں آئے…
لڑکی نے آہستہ سے کہا…. تو پھر کچھ نہیں تھا…؟
شاید…
لڑکی نے اسے دیکھا…
لیکن “کچھ نہیں” سے “کچھ” کیسے بنا…؟
خود بخود…؟ بغیر کسی سبب کے…؟
رین یون خاموش رہا….لڑکی آہستہ بولی…
ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے…
تو اس سب کا بھی کوئی سبب ہونا چاہیے…
کوئی ایسا… جو خود کسی سے نہ بنا ہو…
جس سے پہلے کچھ نہ ہو…
رین یون نے اسے دیکھا… یہ… صرف ایک assumption ہے…
لڑکی مسکرائی….اور یہ کہنا کہ سب کچھ خود بخود ہوگیا… یہ assumption نہیں…؟
رین یون کے پاس جواب نہیں تھا…
رین یون بولا… تو پھر اس سبب کا سبب کیا ہے…؟
آپ نے غلط سوال کیا…
رین یون نے ابرو اٹھایا…
غلط…؟
ہاں…
اس سبب کا سبب پوچھنے سے پہلے… یہ پوچھو…
کیا کوئی ایسی چیز ہو سکتی ہے… جس کا کوئی سبب نہ ہو…؟
رین یون نے سوچا…
نہیں… ہر چیز کا سبب ہوتا ہے…
تو پھر آپ نے خود ہی جواب دے دیا…
رین یون الجھا…۔کیسے…؟
اگر ہر چیز کا سبب ہوتا ہے…
تو اس کائنات کا بھی کوئی سبب ہونا چاہیے…
اور اس سبب کا بھی…
مگر یہ سلسلہ لامتناہی نہیں ہو سکتا…
کیوں نہیں ہو سکتا…؟
کیونکہ لامتناہی سلسلہ کبھی شروع ہی نہیں ہو سکتا…
رین یون خاموش ہو گیا…
سوچیں… اگر آپ کے سامنے ٹرینوں کی ایک لمبی قطار ہو…
ہر ٹرین… اگلی ٹرین کو دھکا دے رہی ہو…
مگر کوئی پہلی ٹرین نہ ہو…
تو کیا کوئی ٹرین کبھی چلے گی…؟
رین یون نے ہلکے سے کہا…
نہیں…
تو پھر کہیں نہ کہیں… کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے… جو خود کسی سے نہ بنی ہو…
جو خود کسی کی محتاج نہ ہو…
جو بس… ہو…
رین یون کے ذہن میں کچھ ہلا…
وہ لفظ نہیں ڈھونڈ پا رہا تھا…
اور وہ چیز… جو ہمیشہ سے ہو… جس پر وقت کا اطلاق نہ ہو…
وہ کائنات نہیں ہو سکتی…
کیونکہ کائنات بنی… اور جو بنتا ہے… وہ ہمیشہ سے نہیں ہوتا…
خاموشی…
رین یون نے آہستہ کہا… تم کہنا کیا چاہتی ہو…؟
وہ مسکرائی…
میں کچھ نہیں کہنا چاہتی…
بس یہ کہ… جو سوال آپ نے کبھی پوچھا ہی نہیں…
وہ سوال شاید سب سے ضروری ہے…
رین یون نے اسے دیکھا…
چند لمحے… پھر آہستہ سے بولا…
وہ سوال کیا ہے…؟
لڑکی نے اسے سیدھا دیکھا…
خود پتہ کر لیں… نوکر ہوں آپکی۔۔۔؟؟ سوال کا جواب بھی میں دوں۔۔ اور اب سوال بھی میں دوں۔۔؟؟
وہ روکھائی سے جواب دیتی تیزی سے وہاں سے نکل گئی…
رین یون نے پیچھے مڑ کر اُسے آواز دینا چاہا…
لیکن خود ہی رک گیا…
کیونکہ وہ جان گیا تھا…
اُسے یہ پسند نہیں کہ کوئی اُسے پیچھے سے آوازیں دے۔۔۔
پھر اس کے ہونٹوں پر آہستہ سے مسکراہٹ آئی…
کہتا تو صحیح ہے سیونگ…
بے تمیز تو ہے یہ…
لیکن پھر بھی مجھے پیاری کیوں لگتی ہے…؟

++++++++++++

رات کے ٹھیک نو بجے تھے…
ہوٹل کے کمرے میں ہلکی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی…
سب لوگ رین یون کے روم میں جمع تھے…
رین یون کچھ لمحے خاموش کھڑا رہا… جیسے الفاظ چن رہا ہو…
پھر اس نے آہستہ سے کہا…
ہماری کل صبح کی فلائٹ بک ہو گئی ہے…
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی…
پھر اس نے مختصر سا اضافہ کیا…
پیکنگ کر لو سب…
سومین نے بے اختیار نظریں جھکا لیں…
دل میں ہلکی سی کسک اٹھی…
وہ یہاں کچھ اور دن رکنا چاہتا تھا…
کچھ ادھورا سا تھا… کچھ ایسا… جو ابھی مکمل نہیں ہوا تھا…
مگر وہ کچھ نہ بولا…
صرف ایک ہلکی سی سانس لے کر خاموش ہو گیا…
اداسی صرف اس کے حصے میں نہیں آئی تھی…
رین یون بھی اندر ہی اندر بوجھل تھا…
وہ بھی نہیں جانا چاہتا تھا…
لیکن اب مزید تاخیر ممکن نہیں تھی…
کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں…
جنہیں دل روکنا چاہتا ہے…
مگر وقت انہیں آگے دھکیل دیتا ہے…
اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا…
باہر شہر کی روشنی پھیلی ہوئی تھی…
اور دل میں ایک عجیب سی بات ابھری…
ہر خوبصورت لمحہ… ٹھہرنے کے لیے نہیں ہوتا…
یہ آخری سفر نہیں تھا…
بلکہ ایک اور سفر کی شروعات تھی…
کمرے میں باقی سب کا ماحول مختلف تھا…
کسی کے چہرے پر اداسی نہیں تھی…
بلکہ ایک نئی خوشی… ایک نیا جوش…
نیا شہر…
نئے منظر…
جے کیونگ پرجوش انداز میں کچھ پلان بنا رہا تھا…
تائیجون حسبِ عادت ہنسی مذاق میں مصروف تھا…
ان کے لیے یہ بس ایک اور ایڈونچر تھا…
مگر…
سومین اور رین یون کے لیے…
یہ جگہ…
صرف ایک مقام نہیں رہی تھی…
یہاں کچھ رہ گیا تھا…
یا شاید… کوئی…

+++++++++++++

پانچ بجنے کو تھے…
کمرے میں ہلکی سی روشنی پھیل رہی تھی…
اور وقت جیسے خاموشی سے اپنی رفتار میں آگے بڑھ رہا تھا…
ان کی فلائٹ دس بجے کی تھی…
سومین اٹھا… جلدی جلدی تیار ہونے لگا…
ہان وو بھی جاگ چکا تھا…
وہ عادت کے مطابق اُس کی اسی وقت آنکھ کھول جاتی تھی۔۔۔
اس نے نیم خمار آنکھوں سے سومین کو دیکھا…
کہاں جا رہے ہو…؟
سومین نے بغیر رکے جواب دیا…
بس یار… تم سنبھال لینا… میں آخری بار ملنے جا رہا ہوں… پتا نہیں پھر موقع ملے نہ ملے…
ہان وو نے بھنویں سکیڑیں…
اس وقت…؟ وہ کہاں ملے گی تمہیں…؟
سومین ہلکا سا مسکرایا…
مل جائے گی… بس تم فکر نہ کرو…
مسجد جاؤ گے…؟ ہان وو نے سیدھا سوال کیا…
ہاں… سومین نے مختصر جواب دیا…
بس… آخری بار…
وہ یہ کہہ کر ہان وو کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، کہیں وہ انکار نہ کر دے۔
ہان وو نے گہری سانس لی… پھر سر ہلا دیا…
ٹھیک ہے… جاؤ…
سومین رک گیا…
اچانک آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا…
تھینک یو… تو دنیا کے سب سے بیسٹ بڈی ہو…
ہان وو بس ہلکا سا مسکرا دیا…
کچھ نہیں بولا… اور اگلے ہی لمحے…
سومین تیزی سے کمرے سے نکل گیا…

+++++++++++

صبح کی ٹھنڈی ہوا اب بھی باقی تھی…
گلیاں خاموش…
اور مسجد کے دروازے پر ایک مانوس سا سکون پھیلا ہوا تھا…
سومین جیسے ہی اندر داخل ہوا…
اس کی نظر فوراً اسے ڈھونڈنے لگی…
اور وہ وہیں تھا…
باسط…
نماز پڑھ کر خاموشی سے بیٹھا ہوا…
چہرے پر وہی ٹھہرا ہوا سکون…
سومین کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی…
وہ آہستہ سے اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا…
السلام علیکم… باسط نے اسے دیکھتے ہی کہا…
کیسے ہو…؟
میں ٹھیک ہوں… سومین نے ہلکے سے جواب دیا…
پھر ایک لمحہ رکا…
آج… جا رہا ہوں میں… ابھی نو بجے کی فلائٹ ہے…
باسط نے چند لمحے اسے دیکھا…
پھر نرمی سے کہا…
اچھا… خیریت سے جانا…
اب کہاں جا رہے ہو…؟
سومین نے کندھے اچکائے… شاید… لاہور… یا کراچی…
باسط ہلکا سا مسکرایا… میں تمہیں مس کروں گا…
سومین کی آنکھوں میں ایک لمحے کو نمی سی آئی…
میں بھی… پھر اس نے آہستہ سے کہا…
کبھی موقع ملا… تو دوبارہ یہاں آؤں گا…
باسط نے فوراً کہا…
اور مجھے موقع ملا… تو میں بھی تمہارے ملک آؤں گا…
دونوں ہلکا سا مسکرا دیے…
پھر… خاموشی پھیل گئی…
ایک عجیب سی خاموشی…
جس میں کہنے کو بہت کچھ تھا…
مگر الفاظ کم پڑ رہے تھے…
باسط نے اس کی طرف دیکھا…
کچھ کہنا چاہتے ہو…؟
سومین نے نظریں جھکا لیں… دل جیسے بھاری ہو گیا تھا…
وہ آیا تو تھا… کسی اور سے ملنے…
مگر اب… بات کچھ اور تھی…
اس نے آہستہ سے سانس لی…
پھر باسط کی طرف دیکھا…
میں… وہ رکا… پھر دھیمی آواز میں بولا…
اگر… میں دوبارہ نہ آ سکا…
تو… تم مجھے بھول تو نہیں جاؤ گے…؟
باسط کے چہرے پر نرمی آ گئی…
اس نے ہلکا سا مسکرا کر کہا…
جو لوگ دل میں جگہ بنا لیتے ہیں نا…
وہ بھولے نہیں جاتے…
سومین کے دل میں کچھ ٹھہر سا گیا…
وہ کچھ لمحے یونہی بیٹھا رہا…
سومین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا…
پڑھنے کے علاوہ… ہم نے کبھی ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی…
مگر پھر بھی… ایسا لگتا ہے جیسے بہت پرانی دوستی ہو ہماری…
باسط نے اسے غور سے دیکھا…
اس کے ہونٹوں پر بھی دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی…
کچھ رشتے… وقت کے محتاج نہیں ہوتے… وہ بس بن جاتے ہیں…
پھر دونوں نے ہلکی پھلکی باتیں کیں…
جیسے وقت کو تھوڑا اور روک لینا چاہتے ہوں…
آخرکار باسط نے گھڑی کی طرف دیکھا…
چلو… نہیں تو تمہیں لیٹ ہو جائے گا…
سومین نے آہستہ سے سر ہلایا…
ہاں…
وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا…
اور دونوں ساتھ ہی مسجد سے باہر نکل آئے…
باہر آتے ہی سومین کی نظریں بےاختیار اِدھر اُدھر دوڑنے لگیں…
دل میں ایک ہی امید تھی…
شاید… وہ مل جائے…
مگر ہر طرف نظر ڈالنے کے باوجود…
وہ کہیں نظر نہ آئی…
اس کے دل پر جیسے ہلکی سی اداسی چھا گئی…
وہ خاموشی سے آگے بڑھنے لگا…
کہ اچانک…
رُکیے…!
رُکیے… یہاں رُکیے…!
آواز کے ساتھ ہی دونوں نے مڑ کر دیکھا…
سامنے سے وہی آ رہی تھی…
سیاہ عبایا میں گلابی اسکاف میں۔۔۔
ہاتھ ہلاتی… سانسوں میں ہلکی سی بےترتیبی…
سومین کے قدم وہیں رک گئے…
باسط نے ہلکا سا مسکرا کر کہا…
صدو… آرام سے…
اتنی بڑی ہو گئی ہو… اور ابھی تک بھاگتی دوڑتی پھرتی ہو۔۔۔ انسانوں کی طرح چلا نہیں جاتا تُم سے۔۔
صدف چند قدم کے فاصلے پر آ کر رک گئی…
اور جھک کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لیے…
ایک منٹ… رُکیں تو…
وہ اپنی تیز سانسیں بحال کرنے لگی…
چہرا سیاہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔
سانسیں بےترتیب… مگر آنکھوں میں وہی چمک…
سومین بس اُسے دیکھتا رہ گیا…
وہ آئی تھی…
آخرکار… آئی تھی…
وہ ابھی اپنی سانسیں سنبھال ہی رہی تھی کہ اچانک سیدھی ہو کر بولی…
مجھے آپ سے ایک مدد چاہیے…
سومین نے فوراً اپنا سر تھام لیا…
نہیں نہیں… اس بار نہیں…
تم پھر کچھ کہو گی… میں پھر بھول جاؤں گا… پھر تم ناراض ہو جاؤ گی…
صدف نے بھنویں چڑھائیں…
ہاں تو آپ کی حرکت ہی ایسی ہے…
لیکن اس دفعہ… آپ کو میری بات ماننی ہی پڑے گی…
باسط نے حیرت سے پوچھا…
کون سی بات…؟ کونسی مدد۔۔۔؟
وہ ابھی دکھاتی ہوں…۔ایک منٹ بھائی… اپنا فون دیں…
کیوں بھلا…؟ باسط نے مشکوک نظروں سے دیکھا…
دیں تو سہی…
باسط نے ہلکی سی الجھن کے ساتھ جیب سے فون نکال کر اسے دے دیا…
صدف نے تیزی سے اسکرین کھولی… کچھ سرچ کیا…
پھر اچانک سر اٹھا کر سومین کی طرف دیکھا…
ماسک اُتاریں…
سومین چونکا… کیوں…؟
اُتاریں… بس…
سومین نے بےبسی سے باسط کی طرف دیکھا…
پھر ہلکی سی سانس لے کر چہرے سے ماسک ہٹا دیا…
اگلے ہی لمحے صدف کی نظریں فون اور اس کے چہرے کے درمیان گھومنے لگیں…
جیسے وہ کسی پہیلی کو حل کر رہی ہو…
چند لمحے…
پھر اچانک
اوہ مائی گاڈ…!!!
وہ تقریباً چیخ پڑی…
سچ میں…؟ آپ…؟
آپ کے-پاپ اسٹار ہیں…؟
آپ واقعی کے-پاپ اسٹار ہیں…؟!
وہ دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر گول گول گھومنے لگی۔۔۔
یقین اور حیرت کے درمیان جھولتی ہوئی…
کیا ایکٹنگ تھی… کیا اسٹائل…!
سومین بےاختیار مسکرا دیا…
اس کا ردِعمل… بالکل بچوں جیسا تھا…
باسط اب پوری طرح کنفیوز ہو چکا تھا…
یہ کیا کہہ رہی ہو تم…؟
صدف فوراً اس کے پاس آئی اور فون اس کے سامنے کر دیا…
آپ خود دیکھیں…
یہ S2S گروپ کے ممبر ہیں… لی سومین… سنگر…
باسط نے اسکرین پر نظر ڈالی…
پھر آہستہ آہستہ اس کی نظریں سومین کی طرف اٹھیں…
تم… کے-پاپ اسٹار ہو…؟
سومین نے سادہ سا جواب دیا…
ہاں…
باسط واقعی حیران رہ گیا…
تم نے بتایا نہیں…؟
اور صدو… تمہیں کیسے پتا…؟
صدف نے فوراً کہنا شروع کیا…
ارے یہ کل میری یونیورسٹی آئے تھے نا… ماسک لگا کر… لیکن میری کچھ دوستوں نے پہچان لیا تھا…
وہ کہہ رہی تھیں… کہ یہ وہی ہیں…
وہ ہلکا سا رکی…
پھر کندھے اچکا کر بولی…
مجھے یقین نہیں آیا… میں نے اُس وقت نظر انداز کر دیا…
لیکن جب گھر جا کر چیک کیا…
اس نے فون دوبارہ دیکھا… پھر سومین کو…
اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آ گئی…
تو سچ میں… آپ وہی نکلے…
اب آپ چپ چاپ میری دوستوں کے لیے آٹوگراف دیں… میری کچھ دوستیں آپ کی بہت بڑی فین ہیں…
یا پھر میرے ساتھ یونیورسٹی چلیں…
باسط نے فوراً ٹوک دیا…
نہیں صدو…
کیوں نہیں۔۔۔؟ وہ ناراضی سے بولی۔۔۔
سومین نے ہلکی سی سانس لی…
لیکن آج میں جا رہا ہوں…
صدف کے چہرے پر ہلکی سی حیرت آئی…
کیوں جا رہے ہیں…؟ گھومنے آیا تھا… اب جا رہا ہوں…
اوہ… اچھا…
سومین نے اسے غور سے دیکھا… پھر ہلکا سا مسکرا کر پوچھا… تم میری فین نہیں ہو…؟
صدف نے فوراً جواب دیا… نہیں…
کیوں…؟
کیونکہ میں خود کی فین ہوں…
سومین بےاختیار مسکرا دیا…
باسط نے سر ہلاتے ہوئے کہا…
یہ پاگل ہے…
صدف نے فوراً بیگ کھولا…
اور اس میں سے ایک کاپی اور پین نکال کر اس کی طرف بڑھا دی…
یہ لیں… اب آٹوگراف دیں…
سومین نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا…
تو یہ مدد چاہیے تھی تمہیں…؟
ہاں…
سومین نے کاپی ہاتھ میں لی…
کچھ لمحے اسے دیکھا…
پھر پین کھولا…
ایک ایک نام پوچھ کر لکھنے لگا…
ہر آٹوگراف کے ساتھ…
اس کی نظر کبھی کبھار چُپکے سے صدف کی طرف اٹھ جاتی…
اور صدف… مسکراتی اپنی دوستوں کا نام بتا رہی تھی۔۔۔
باسط نے ابھی تک کی حیرت سنبھالی نہیں تھی…
وہ کچھ لمحے سومین کو دیکھتا رہا… پھر بولا…
تم اتنے بڑے اسٹار ہو… اتنے فیمس…
اور پھر بھی ایسے…؟ مسجد آتے جاتے رہے…
مجھے بتایا بھی نہیں… مُجھے پتہ تو تھا تُم باہر ملک سے آئے ہو لیکن اتنے بڑے اسٹار ہو گئے مُجھے زارا بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔
سومین نے سائن کرتے ہوئے۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
میں بتانا نہیں چاہتا تھا…
کیوں…؟ باسط نے فوراً پوچھا…
سومین نے آہستہ سے سانس لی… پھر اس کی طرف دیکھا… کیونکہ… اگر تمہیں پہلے پتا ہوتا…
تو شاید تم میرے ساتھ ایسے نہ بیٹھتے…
باسط خاموش ہو گیا… سومین نے بات جاری رکھی…
نہ مسجد میں ویسے بات ہوتی…
نہ تم مجھے ویسے سمجھاتے…
اور نہ میں تم سے اتنا کچھ سیکھ پاتا…
باسط نے حیرت سے سومین کا چہرا دیکھا۔۔۔
میں یہاں… سومین نے دھیمی آواز میں کہا…
صرف “لی سومین” بن کر نہیں آنا چاہتا تھا…
بس… ایک عام انسان بن کر…
باسط کے چہرے پر آہستہ آہستہ ایک نرم سی مسکراہٹ آ گئی…
تو پھر ٹھیک کیا تم نے…
صدف جو اب تک خاموش کھڑی تھی… اچانک بولی…
ہاں… ورنہ میں تو پہلے ہی دن آپ کو سر پر چڑھا لیتی…
سومین ہنس پڑا…
اور اب…؟ اس نے شرارتی انداز میں پوچھا…
اب… صدف نے کندھے اچکائے… اب بھی نہیں…
پھر ہلکا سا مسکرا کر بولی…
کیونکہ میں تو خود کی فین ہوں… بھائی چڑھتے آپ کو سر پر۔۔۔ اچھا ہوا نہیں بتایا۔۔
تینوں کے درمیان ایک ہلکی سی ہنسی پھیل گئی…
اس کے بعد…
باسط کے دل میں سومین کے لیے ایک نئی سی عزت پیدا ہو گئی تھی…
وہ اُس کی سادگی… اُس کی نیت… اور اُس کے رویّے سے متاثر تھا…
اور عجیب بات یہ تھی…
جتنا باسط سومین سے متاثر ہوا تھا…
اتنا ہی سومین بھی باسط سے ہو چکا تھا…
ایک طرف دنیا کی چمک دمک میں جینے والا لڑکا…
اور دوسری طرف سادگی میں سکون ڈھونڈنے والا…
مگر دونوں کے درمیان…
ایک ان دیکھی سی ہم آہنگی بن چکی تھی…
جیسے دو بالکل مختلف راستے…
کچھ دیر کے لیے ایک ہی موڑ پر آ کر مل گئے ہوں…

+++++++++++

منیجر کے بلانے پر سب نے اپنا اپنا سامان اُٹھایا…
اور آہستہ آہستہ ہوٹل کے نیچے کھڑی گاڑی کی طرف بڑھنے لگے…
ڈرائیور سامان ڈِکی میں رکھ رہا تھا…
اور باقی سب وہیں کھڑے ہلکی پھلکی باتوں میں مصروف تھے…
رین یون نے ایک نظر سب پر ڈالی…
جے کیونگ… تائیجون… ہیوک… سوہان… سیونگ…
سب موجود تھے…
مگر…
ہان وو اور سومین…؟
رین یون کی پیشانی پر ہلکی سی شکن آئی…
ہان وو اور سومین کہاں ہیں…؟
سوہان نے بےفکری سے جواب دیا…
بھائی وہ ابھی روم میں ہیں… تیار ہو رہے ہوں گے…
جے کیونگ نے حیرت سے کہا…
واہ… حیرت ہے… ہان وو ابھی تک تیار ہو رہا ہے…؟
ہیوک بھی جلدی سے بولا
ہاں… اسے تو سب سے پہلے یہاں ہونا چاہیے تھا…
سیونگ نے ہلکے سے کہا…
وہ بھی انسان ہے… تم لوگوں نے اسے مشین ہی سمجھ لیا ہے… کبھی وہ بھی لیٹ ہو سکتا ہے… کیا پتہ اٹھنے میں دیر ہو گئی ہوگی… اس میں کیا ہو گیا…؟
تائیجون فوراً ہنس پڑا…
ہم نے مشین نہیں سمجھا… وہ ہے ہی مشین… ایک روبوٹ… اور روبوٹ کی طرح ہی ری ایکٹ بھی کرتا ہے… وقت پر کام… وقت پر حرکت…
رین یون نے مختصر سا کہا… جا کر بلا کر لاؤ…
سوہان نے فوراً کہا… ہاں… میں جاتا ہوں…
جے کیونگ نے ہنستے ہوئے کہا…
سومین تو ہے ہی لیٹ لطیف… کہیں وہی تو اسے نیچے آنے نہیں دے رہا…
تائیجون نے فوراً تائید کی…
یقیناً… بیٹھا کر رکھا ہوگا… کہ میرے ساتھ ہی نیچے آنا ہے…
ہیوک نے سر ہلاتے ہوئے کہا…
یہ دونوں ایک ساتھ رہ کیسے رہے ہیں…؟
تائیجون نے فوراً جواب دیا…
جیسے تم سوہان کے ساتھ رہ رہے ہو…
ہیوک نے فوراً ہاتھ جوڑ لیے…
بھائی… معاف کرو… میں تم سب کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں… اب پلیز وہاں جا کر مجھے اس کے ساتھ روم شیئر کرنے کا مت کہنا…
تائیجون نے ہنستے ہوئے کہا…
تو ہاتھ جوڑ… یا پاؤں پکڑ… کچھ نہیں ہو سکتا…
کیونکہ تیرے لیے اب صرف وہی آخری آپشن بچا ہے…
جے کیونگ بیچ میں بولا…
کیوں…؟ میں بھی رہ سکتا ہوں ہیوک کے ساتھ…
ہیوک فوراً اچھل پڑا… یہ چیز میرے بھائی…!
وہ لپک کر جے کیونگ کے کندھے پر ہاتھ ڈال کر اس سے چپک گیا…
تائیجون نے آنکھیں سکیڑیں…
وہ تو دیکھتے ہیں بیٹا… صرف بولنے کی حد ہی تک ہے… 
سب ہنس رہے تھے… اِدھر اُدھر کی باتوں میں مگن تھے… ہنسی مذاق جاری تھا…
لیکن رین یون خاموش کھڑا تھا…
اس کی نظریں آسمان پر تھیں…
مگر وہ یہاں ہوتے ہوئے بھی… کہیں اور تھا…
سیونگ نے رین یون کی طرف دیکھا۔۔ پھر آہستہ سے اس کے پاس آیا…
کیا سوچ رہے ہو…؟
رین یون نے چند لمحے کچھ نہیں کہا…
پھر دھیمی آواز میں بولا…
میں اسے پسند کرتا ہوں…
سیونگ نے چونک کر اسے دیکھا…
رین یون کی آواز میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی…
I really love her..
( میں اُس سے محبت کرتا ہوں…)
.…not the kind you say lightly… not something you can just ignore.
(…وہ محبت نہیں جو بس یوں ہی کہہ دی جائے… نہ وہ جسے نظر انداز کیا جا سکے…)
اس نے آہستہ سانس لی، جیسے وہ خود سے چھپائی ہوئی کوئی بات مان رہا ہو۔
It crept in quietly… without permission…
(یہ خاموشی سے آئی… بغیر اجازت کے…)
And now… it’s everywhere.
( اور اب… ہر جگہ ہے…)

اُس کی آواز سرگوشی میں بدل گئی۔

He’s in my thoughts… in my silence… even in the things I never say.
( وہ میرے خیالوں میں ہے… میری خاموشیوں میں… حتیٰ کہ اُن باتوں میں بھی… جو میں کبھی کہہ نہیں پاتا…)

رین یون نے نظر ہٹا لی، ہونٹوں پر ایک نازک سی مسکراہٹ تھی۔

I didn’t choose her…
(میں نے اُسے نہیں چُنا…)

…but somehow… my heart did.
(…لیکن نہ جانے کیسے… میرے دل نے چُن لیا…)

And that’s what scares me the most…
(اور یہی بات مجھے سب سے زیادہ ڈراتی ہے…)

I don’t want to leave her behind…
( میں اُسے یہاں چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا…)

It feels like… if I walk away now…
( ایسا لگتا ہے… اگر میں ابھی چلا گیا…)

…I might never see her again.
(…تو شاید میں اُسے کبھی دوبارہ دیکھ نہ پاؤں۔)

سیونگ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک…
بھائی بھائی…!!! سوہان بھاگتا ہوا آیا…
یہ ہان وو کو سمجھ لو…
رین یون فوراً متوجہ ہوا… کیا ہوا…؟
سوہان نے شکایتی انداز میں کہا…
مجھ پر چِلّا رہا ہے…
تائیجون فوراً بولا…
تو انسان کے بچے کی طرح بلاتا نا…
تو بھی چیخ رہا ہوگا دروازے کے باہر کھڑے ہو کر…
سوہان نے فوراً صفائی دی…
نہیں… میں چیخ نہیں رہا تھا…
میں تو بس زور زور سے دروازہ بجا رہا تھا…
اور پتہ ہے… دروازہ لاک بھی کیا ہوا تھا…
ہیوک نے ہنستے ہوئے کہا… لو بھئی…
تائیجون نے سر ہلایا…
شکر کر وہ صرف تجھ پر چِلّایا…
میں ہوتا تو تیرا سر پھوڑ دیتا…
سوہان نے فوراً رین یون کی طرف دیکھا…
بھائی دیکھ لو… یہ میرا سر پھوڑے گا…
رین یون نے ہلکے سے کہا…
تائیجون… بس کرو… پھر سنجیدگی سے بولا…
تم سب گاڑی میں بیٹھو…
میں دیکھ کر آتا ہوں ان دونوں کو…
یہ کہہ کر وہ مڑا…
اور تیز قدموں سے ہوٹل کے اندر کی طرف بڑھ گیا…
جبکہ باہر… اب بھی ہنسی مذاق جاری تھا…

++++++++++++

رین یون تیز قدموں سے ہان وو کے کمرے کی طرف جا رہا تھا…
ذہن ابھی تک الجھا ہوا تھا…
مگر جیسے ہی وہ کوریڈور کے موڑ پر پہنچا… اس کے قدم خود بخود رُک گئے…
وہی لڑکی…
وہ سامنے کھڑی تھی… رین یون تو دیکھ وہ اس کی طرف آنے لگی۔۔۔
رین یون نے بےاختیار خود سے کہا…
یہ… میرے پاس آ رہی ہے…؟
سچ میں…؟
اگلے ہی لمحے وہ سیدھا اس کے سامنے آ کر رک گئی…
شکر ہے… آپ مجھے یہیں مل گئے…
میں آپ ہی کو ڈھونڈ رہی تھی…
رین یون کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت اُبھری…
یہ… مجھے ڈھونڈ رہی تھی…؟
ایک ہلکی سی خوشی…
بغیر اجازت کے… دل میں اُتر گئی…
لڑکی نے اپنے بیگ کی زِپ کھولی…
اور اندر سے ایک کتاب نکالی…
بغیر کچھ کہے… اس نے وہ کتاب رین یون کے ہاتھ پر رکھ دی…
یہ… آپ کا انعام ہے…
انعام…؟ رین یون نے حیرت سے دہرایا…
ہاں… اس نے سکون سے کہا…
آپ نے میرے سوالوں کے جواب دیے تھے… یہ اُس کا انعام ہے…
رین یون کی نظر آہستہ آہستہ اُس کتاب پر گئی…
Quran – English Translation
چند لمحوں کے لیے وہ بالکل خاموش رہ گیا…
لڑکی نے اسے دیکھا… پھر آہستہ سے بولی…
اسے… ایک بار ضرور پڑھئے گا… پورا… جب بھی آپ کو وقت ملے…
اس کی آواز میں نہ زور تھا… نہ اصرار… بس ایک سادہ سا یقین تھا…
اور پھر… وہ مڑ گئی…
نہ اُس نے مزید کچھ کہا…
نہ پیچھے مُڑ کر دیکھا…
بس خاموشی سے… وہاں سے چلی گئی…
رین یون وہیں کھڑا رہ گیا…
اس کی نظریں اُس جاتے ہوئے وجود پر ٹکی رہیں…
جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی…
پھر آہستہ سے اس نے اپنے ہاتھ میں رکھی کتاب کی طرف دیکھا…
جیسے پہلی بار… کسی چیز کو واقعی دیکھ رہا ہو…
اس کے چہرے پر حیرت ہی حیرت تھی۔۔۔ اُسے کُچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔

++++++++++++

سومین تیزی سے بھاگتا ہوا گاڑی کی طرف آیا…
سانسیں تیز… اور چہرے پر ہلکی سی گھبراہٹ…
سوری… سوری…
تائیجون نے فوراً گھور کر کہا…
ابے تُو کہاں گیا تھا…؟
سیونگ نے بھنویں سکیڑیں…
تم روم میں نہیں تھے…
سومین نے جلدی سے جواب دیا…
نہیں… بس یہیں پاس ہی گیا تھا…
ہیوک نے بات کاٹی…
ہم تو سمجھ رہے تھے تُو روم میں ہے…
سوہان نے جھنجھلا کر کہا…
ہاں… اور وہ ہان وو کا بچہ… روم لاک کر کے پتہ نہیں کتنا تیار ہو رہا ہے…
سومین نے فوراً کہا…
میں دیکھ کر آتا ہوں… اور اپنا سامان بھی لے آتا ہوں…
وہ پلٹا… اور تیزی سے واپس اندر کی طرف بھاگ گیا…
رین یون ابھی پہنچا بھی نہیں تھا کہ سومین پہلے ہی روم کے باہر کھڑا تھا…
رین یون بھی پیچھے آ گیا…
کہاں تھے تم…؟
میں یہیں تھا… سومین نے جلدی سے کہا…
چلو چلو… دیر ہو رہی ہے…
اس نے فوراً دروازہ کھٹکھٹایا…
ہان وو… دروازہ کھولو…
اگلے ہی لمحے دروازہ کھل گیا…
اور ہان وو باہر آ گیا…
ان دونوں کا سامان پہلے ہی تیار رکھا تھا…
رین یون نے سخت لہجے میں کہا…
اب اگر فلائٹ لیٹ ہوئی نا… تو تم دونوں کو بتاؤں گا میں…
سومین نے فوراً بیگ اٹھاتے ہوئے کہا…
نہیں ہوگی… چلو چلو…
وہ جلدی سے آگے بڑھا…
اور ہان وو بھی بیگ اٹھا کر اس کے پیچھے ہو لیا…
ہان وو نے ہلکے سے طنز کیا…
وہیں مر جاتا…
سومین نے ہنستے ہوئے کہا…
سوری یار… وہ لڑکی نا…
اس بار تو میں اس کی مدد کر کے آیا ہوں…
اس کے چہرے پر سچی خوشی تھی…
بہت خوش ہوں میں…
ہان وو نے سر ہلایا…
پاگل…

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *