Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode 8…

محبت عبادت قسط نمبر:8

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔


لاہور کی وہ صبح عام صبحوں جیسی نہ تھی۔ آسمان پر ہلکے گلابی اور نارنجی رنگ بکھرے ہوئے تھے اور فضا میں ایک خنکی تھی جو روح کو تازگی بخش رہی تھی۔ بادشاہی مسجد کے عظیم الشان سرخ میناروں کے سائے تلے، ” ALIHAL perfume نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔
علی مصطفیٰ آج سفید کلف لگے کرتے اور گہرے سرمئی رنگ کی واسکٹ میں ملبوس، کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ مخصوص اعتماد تھا، مگر آج اس میں ایک عجیب سی چمک بھی تھی—فتح کی چمک۔ تقریب کا اسٹیج اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ پسِ منظر میں مسجد کے گنبد اور مینار نظر آ رہے تھے۔
علی نے ڈائس پر آ کر مائیک سنبھالا۔ سامنے شہر کے بڑے بڑے بزنس مین، میڈیا اور معززین موجود تھے۔ علی کی آواز پورے ہال میں گونجی:
“خواتین و حضرات! خوشبو صرف ایک مائع (Liquid) نہیں ہوتی، یہ ایک یاد ہوتی ہے، ایک احساس ہوتا ہے جو وقت کے گزرنے کے ساتھ بھی ختم نہیں ہوتا۔ آج میں جس پرفیوم کو متعارف کروا رہا ہوں، یہ میرے دل کے بہت قریب ہے۔ اس کا نام ہے ‘رحال’ (Rihaal)۔”
جیسے ہی علی نے پردہ ہٹایا، ایک خوبصورت سنہری بوتل سامنے آئی جس پر بہت نفاست سے ‘R’ کندہ تھا۔ اسی لمحے فضا میں وہ مخصوص خوشبو بکھیر دی گئی—جس میں صندل، گلاب اور ایک انوکھی تازگی کا امتزاج تھا۔ وہاں موجود ہر شخص جیسے سحر زدہ ہو گیا۔
علی نے دور کھڑے میناروں کو دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا، “رحال! دیکھو، تمہارا نام آج لاہور کی ہواؤں میں رچ بس گیا ہے۔ میں نے تمہیں پانے سے پہلے ہی تمہارے نام کو امر کر دیا ہے۔” علی کا یہ انداز اس کے وقار کو چار چاند لگا رہا تھا۔ وہ آج صرف ایک بزنس مین نہیں تھا، وہ ایک عاشق تھا جس نے اپنی محبت کو دنیا کے سامنے ایک فن پارے کی صورت میں پیش کر دیا تھا۔…
سب کی نظر علی مصطفیٰ پر تھی ۔علی اور بھی بہت کچھ کہہ تھا ۔۔۔۔


معراج اپنے مہنگے اسمارٹ فون کی اسکرین کو تیزی سے اسکرول (Scroll) کر رہی تھی، جب اچانک اس کی انگلیاں منجمد ہو گئیں۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور رنگت پیلی پڑنے لگی۔ سوشل میڈیا پر ہر طرف صرف ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی— “علی مصطفیٰ کی زندگی کا سب سے بڑا شاہکار: ‘رحال’ پرفیوم اب مارکیٹ میں”۔
اس نے ویڈیو پلے کی تو اسکرین پر علی مصطفیٰ کا پروقار چہرہ نمودار ہوا۔ وہ بادشاہی مسجد کے پس منظر میں کھڑا، اپنے مخصوص جاہ و جلال کے ساتھ کہہ رہا تھا، “یہ خوشبو میری زندگی کی سب سے قیمتی یاد کا عکس ہے۔ اس کا نام ‘رحال’ ہے، کیونکہ یہ نام بذاتِ خود ایک مکمل کہانی ہے۔”
معراج کا دل جیسے سینے سے باہر آنے لگا۔…
اسے لگتا تھا کہ علی کی زندگی میں اگر کوئی جگہ ہے تو وہ صرف معراج کی ہے، مگر آج علی نے سرِ عام ایک پوری دنیا کے سامنے رحال کے نام کا اعلان کر دیا تھا۔
رحال، جو پاس ہی بیٹھی کتاب کے صفحات پلٹ رہی تھی،اس نے معراج کی بدلتی ہوئی رنگت محسوس کی۔ ” کیا ہوا معراج؟ تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟”
معراج کا یہ رویہ کچھ اس لیے بھی تھا کے اس کے دل میں علی کے لیے محبت سے زیادہ یہ ضد تھی کے ہر چیز رحال کو کیوں ملتی ہے ؟ یہ جو چیز رحال کو پسند آئے وہی معراج کی بھی ہونی چاہیے

معراج نے ایک گہرا سانس لیا، اس کی آنکھیں حسد کی آگ سے تپ رہی تھیں۔ اس نے فون رحال کی طرف اچھالا۔ “دیکھ لو!
رحال نے جیسے ہی ویڈیو دیکھی، اس کے ہاتھ لرزنے لگے۔ علی کی آواز میں اس کا نام سن کر اسے لگا جیسے کائنات تھم گئی ہو۔ علی نے واقعی کر دکھایا تھا۔ اس نے رحال کے وجود کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا تھا جو اب رہتی دنیا تک باقی رہے گی۔
معراج نے ایک طنزیہ ہنسی ہنسی۔ “رحال! مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تم میں ایسا ہے کیا؟ نہ تمہارے پاس وہ اسٹائل ہے، نہ تم اس دنیا کے طور طریقے جانتی ہو۔ پھر علی جیسا انسان، جو کسی کو پلٹ کر نہیں دیکھتا، وہ تمہارے نام کا پرفیوم لانچ کر رہا ہے؟ وہ علی مصطفیٰ ہے رحال! اسے تو بڑی بڑی ماڈلز میسر ہیں، مگر وہ تمہارے نام کی تسبیح پڑھ رہا ہے؟”۔۔۔

رحال خاموش رہی، اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر یہ نمی دکھ کی نہیں، بلکہ اس مان کی تھی جو علی نے اسے دیا تھا۔۔۔ دوسری طرف وہ اپنی چھوٹی بہن کی باتوں پر حیران تھی ۔۔

معراج نے رحال کو سر سے پاؤں تک ایک غصیلی اور حقارت آمیز نظر سے گھورا۔ اس کی نظروں میں وہ تمام خواب ٹوٹتے ہوئے نظر آ رہے تھے جو اس نے علی کے گرد بنے تھے۔ اسے رحال کی معصومیت سے چڑ ہونے لگی۔ اس نے صوفے سے اپنا بیگ اٹھایا، ایک لفظ بھی کہے بغیر کھڑی ہوئی اور اپنے پیر پٹختے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
جاتے جاتے اس نے زور سے کمرے کا دروازہ بند کیا، جس کی آواز پورے لاؤنج میں گونجی۔ رحال وہیں ساکت بیٹھی رہی۔
باہر پرندے چہچہا رہے تھے، مگر لاؤنج میں صرف ایک خوشبو کا احساس باقی تھا—وہ خوشبو جو علی نے رحال کے لیے لاہور کی فضاؤں میں بکھیر دی تھی۔۔۔۔۔
معراج اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا اور دل کی دھڑکن قابو سے باہر تھی۔ اس نے غصے میں اپنا فون بیڈ پر پٹخا، مگر اگلے ہی لمحے اسے اٹھا لیا۔ اس کے اندر کی جلن اسے چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ اسے وہ ویڈیو، وہ “R” کا نشان اور علی کے لہجے کی وہ چاشنی کسی زہر کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔

اس نے لرزتے ہاتھوں سے علی کا نمبر ڈائل کیا۔ اسے لگا تھا کہ علی شاید مصروف ہوگا اور فون نہیں اٹھائے گا، مگر دوسری ہی بیل پر کال پک کر لی گئی۔
“اسلام علیکم معراج! کیسی ہو؟” علی کی آواز میں تقریب کی کامیابی کی تھکن کے باوجود ایک فاتحانہ سکون تھا۔
معراج نے کوئی سلام دعا نہیں کی، اس کا لہجہ تیکھا اور زہریلا تھا:
آپ کو پوری دنیا میں کیا صرف رحال ہی نظر آتی ہے؟ یہ کیا تماشہ ہے جو آپ نے لاہور میں لگایا ہوا ہے؟ پورے سوشل میڈیا پر رحال، رحال ہو رہی ہے۔ آپ نے اس کے نام کا پرفیوم نکال لیا اور ہم سب کو جیسے بھول ہی گئے؟”
دوسری طرف علی کی ایک بھرپور اور دلکش ہنسی گونجی، جس نے معراج کے تن بدن میں آگ لگا دی۔
“ارے! تو میری چھوٹی بہن کو غصہ آ گیا؟” علی نے ہنستے ہوئے بڑے لاڈ سے کہا۔ “معراج، تم تو خوامخواہ اتنی سی بات پر ہائپر ہو رہی ہو۔ وہ تو بس ایسے ہی ایک نام ذہن میں آیا تو رکھ لیا۔ تم پریشان نہ ہو، میرا اگلا پرفیوم برانڈ تمہارے نام کا ہوگا، ‘دی معراج کلیکشن’۔ اب خوش؟”
علی کا یہ “چھوٹی بہن” کہنا معراج کو کسی خنجر کی طرح لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ علی اسے ابھی تک ایک نادان بچی سمجھ رہا ہے جو صرف ایک پرفیوم نہ ملنے پر رو رہی ہے، جبکہ معاملہ تو کچھ اور ہی تھا۔
“ایسے ہی نہیں نکالا
میں سب سمجھتی ہوں،” معراج نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ “آپ اسے جتنا سادہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ معاملہ اتنا سادہ ہے نہیں۔ اور مہربانی کر کے۔۔۔ مجھے ‘بہن’ نہ کہیں!”
علی ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا، پھر اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “اچھا بابا، اب اتنی بھی کیا ناراضگی؟ اب اگر بہن نہیں کہوں گا تو کیا کہوں؟ تم واقعی بہت غصے میں ہو کہ تمہارے نام کا برانڈ پہلے کیوں نہیں آیا۔ مانتا ہوں میری غلطی ہے، تمہیں اہمیت دینی چاہیے تھی، پر اب رحال کا تو لانچ ہو گیا نا، اسے تو اب بدلا نہیں جا سکتا۔”
علی کو واقعی یہی لگ رہا تھا کہ معراج اس لیے تلملا رہی ہے کیونکہ اسے “بزنس فرنٹیئر” پر اہمیت نہیں دی گئی۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ معراج کے
اس جملے “مجھے بہن نہ کہیں” کے پیچھے کتنی گہری حسرتیں اور جلن چھپی ہوئی ہے۔ وہ اسے ایک ضدی چھوٹی بہن سمجھ کر بہلا رہا تھا۔
“آپ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا
کچھ بھی نہیں!” معراج نے چلا کر کہا اور علی کا جواب سنے بغیر فون کاٹ دیا۔
اس نے فون دیوار پر دے مارا اور صوفے پر گر کر رونے لگی۔ وہ علی کو جتا رہی تھی کہ وہ اس کی بہن نہیں بننا چاہتی، اور علی تھا کہ اسے “بہنوں والا مان” دے کر اس کے زخموں پر نمک چھڑک رہا تھا۔ اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ علی کے لیے رحال کا نام “ایسے ہی” نہیں تھا، بلکہ وہ اس کی روح میں بسا ہوا تھا، جبکہ معراج کے لیے اس کے پاس صرف ایک تسلی بخش “برانڈ نیم” کا وعدہ تھا۔
کمرے میں اندھیرا چھا رہا تھا، اور معراج اسی اندھیرے میں بیٹھی اپنی شکست کا زہر پی رہی تھی، جبکہ علی دوسری طرف شاید ابھی بھی یہی سوچ کر مسکرا رہا تھا کہ “لڑکیاں بھی کتنی حاسد ہوتی ہیں”۔…..

مصطفیٰ محل کے وسیع و عریض لاؤنج میں رات کی خاموشی اب قہقہوں اور چھیڑ چھاڑ میں بدل رہی تھی۔ علی جب فیکٹری اور ایونٹ کی تمام تر مصروفیات سے فارغ ہو کر گھر پہنچا، تو اس کا چہرہ تھکن سے نڈھال تھا، مگر آنکھوں میں وہی اطمینان تھا جو کسی بڑی منزل کو پانے کے بعد ہوتا ہے۔

علی نے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھا، وہاں پہلے سے موجود اس کی والدہ زرینہ بیگم اور دونوں بڑی بہنیں، ، اسے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ علی نے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا ہی تھا کہ کنزہ نے محاذ سنبھال لیا۔
واہ بھائی واہ! آپ تو بڑے چھپے رستم نکلے۔ ہمیں تو لگا تھا ہمارا بھائی صرف نمبرز اور بزنس ڈیلز سمجھتا ہے، مگر آپ تو بڑے .. محبت والے انسان نکلے ۔۔۔
ہمیں بتانے سے ڈرتے تھے کہ رحال آپ کو اتنی پسند ہے کہ اس کے نام کی مالا جپنے لگے ہیں، اور پوری دنیا کو ڈھول پیٹ کر بتا دیا کہ ‘رحال’ آپ کی زندگی کی سب سے قیمتی خوشبو ہے۔ اب ہم سے کیا چھپانا؟”
علی، جو پانی کا گلاس لبوں سے لگانے والا تھا، ایک لمحے کو ٹھٹکا اور پھر دھیمے سے مسکرایا۔ “تم لوگ بھی نا۔۔۔ ہر بات کا غلط مطلب نکالتی ہو۔ ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم لوگ سوچ رہی ہو۔ ‘رحال’ ایک بہت منفرد اور نایاب نام ہے، برانڈ کی مارکیٹنگ کے لیے مجھے یہ بہت اپیلنگ لگا، بس اس لیے رکھ لیا۔”
“اچھا؟ صرف مارکیٹنگ؟” زرینہ بیگم جو اب تک خاموش تھیں، صرف ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بیٹے کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کی مامتا بھری نظریں علی کے جھوٹ کو پکڑ رہی تھیں، مگر انہوں نے زبان سے کچھ نہ کہا۔
“جی امی، بالکل۔” علی نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ “آج معراج کا بھی فون آیا تھا، وہ بھی اسی بات پر ناراض ہو رہی تھی۔ میں نے اسے بھی یہی کہا ہے کہ اگلا پرفیوم اس کے نام کا نکال دوں گا۔ اب پلیز، مجھے بہت تھکن ہو رہی ہے۔”
علی نے وہاں مزید رکنا مناسب نہ سمجھا اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ پیچھے لاؤنج میں اس کی بہنیں ابھی بھی ہنس رہی تھیں، مگر زرینہ بیگم کی خاموش مسکراہٹ بتارہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے دل کا حال جان چکی ہیں۔ علی اپنے کمرے میں داخل ہوا، فریش ہوا اور جب بیڈ پر لیٹا تو کمرے کی چھت کو گھورتے ہوئے اس کے ذہن میں پھر وہی نام گونجا—’رحال’۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور آنکھیں موند لیں، جیسے اس تھکن کا واحد علاج وہی نام ہو۔۔۔۔


دوسری طرف اسلام آباد میں رات کا سناٹا گہرا ہو چکا تھا۔ رحال اپنے کمرے میں بستر لیٹی فون میں مگن تھی
اچانک دروازہ کھلا اور معراج اندر داخل ہوئی۔ اس کا غصہ اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا، مگر اس کی جگہ ایک گہری سنجیدگی نے لے لی تھی۔ وہ خاموشی سے آئی اور رحال کے برابر میں بیڈ پر لیٹ گئی۔ تھوڑی دیر تک وہ چھت کو دیکھتی رہی، پھر اس نے کروٹ بدلی اور براہ راست رحال کی آنکھوں میں جھانکا۔
“رحال؟” معراج کی آواز بہت دھیمی اور سنجیدہ تھی۔۔۔۔
ہاں کہو ۔۔۔؟
معراج نے کچھ دیر توقف کیا،
کیا تمہیں علی سے محبت ہے؟”
رحال کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے جیسے تھم گئی۔ اس نے معراج کی آنکھوں میں دیکھا
پھر نظر چورا لی

رِحال نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔ اور فون میں مگن رہی ۔۔ معراج کو لگا رِحال نے سُناہی نہیں ۔۔۔ میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔۔؟ معراج نے پھر سے کہا ۔۔۔ رِحال نےمعراج کو دیکھا ۔۔ مجھے پانی لا کےدو پیاس لگ رہی ہے۔۔۔ رِحال نے کہا ۔۔ معراج نے اپنی بڑی بہن کو گھوری سے نوازا۔۔ اورکمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔ رات کا وقت تھا کمرے میں لیمپ کی زرد روشنی بکھری تھی ۔۔ بیڈ پر رِحال بیٹھی تھی فون استعمال کر رہی تھی ۔۔
معراج پانی لےآئی تھی ۔۔ اُس نے گلاس رِحال کو دیا اور اس کے پاس بیٹھ گئی ۔۔ چلو اب بتاؤ۔۔ تمہیں وہ پسند ہےنا ۔۔رِحال کو لگا تھا اب وہ ایسا کچھ نہیں پوچھے گی لیکن نہیں۔۔۔ معراج کی سوئی پھس گئی تھی۔۔۔۔
تم کیوں میرا دماغ خراب کر رہی ہو ۔۔۔ رِحال نے تنگ آ کر کہا ۔۔۔۔
نہیں ایسے ہی پوچھ رہی ہوں بتانے میں کیا حرج ہے۔۔۔؟
رِحال نے کچھ دیر سوچا ۔۔ پھر بولی ۔۔۔ میری چھوڑو اپنی بتاؤتم پسند کرتی ہو نا اُن کو ۔۔۔۔؟
ہاں میں پسند کرتی ہوں ان کو ۔۔۔
اگرمیں کہ دیتی کے میں پسند کرتی ہوں اُن کو ۔۔تو تم کیا کرتی معراج ۔۔۔
تم نے مجھے ابھی بھی نہیں بتایا کے تم پسند کرتی ہو یا نہیں ۔۔ لیکن اگر تم اُن کو پسند کرتی ہوتی تو میں۔۔کبھی تم سے بات نا کرتی۔۔
میں تم دونوں کو چھوڑ دیتی میں تم سے بھی دور ہو جاتی ۔۔۔۔
اب بتاؤ تم پسند کرتی ہو ۔۔۔ عام سے انداز میں وہ بات کرتی اپنی بڑی بہن کو سُن کر گئی تھی ۔۔۔
نا ۔۔نہیں میں نہیں کرتی پسند اُن کو۔۔ رِحال کے گلےمیں آنسوں کا گولا بنا۔۔
پھر خود کو سنبھال کے بولی ۔۔ تم سے وہ بہت بڑے ہیں معراج۔۔۔
ہاں میں جانتی ہوں اور میں اُن سے محبت نہیں کرتی ۔۔بس پسند کرتی ہوں رحال ۔۔۔

موجودہ حال ۔
کہانی کو شروع سے شروع کرتے ہیں ۔۔ جب معراج رحال سے علی کے بارے میں پوچھ رہی تھی ۔۔

رحال نے سوچ لیا تھا اس کے لیے کون اہم تھا
اس کی اپنی بہن معراج ۔۔ اور رحال جانتی تھی ایک معراج اپنی ضد نہیں چھوڑے گی ۔۔
قربانی کیسی کو تو دینی تھی !
اور معراج تو قربانی دینے سے رہی ۔۔ چلو رحال ہی صحیح ۔۔۔۔ “
وہ اب معراج اور علی کے درمیان نہیں ائے گی لیکن کہیں نہ کہیں وہ جانتی تھی کہ علی معراج کو نہیں اس کو پسند کرتا ہے ۔۔۔فیصلہ اب علی مصطفیٰ کا تھا ۔۔ یہ شاید معراج کا ۔۔۔ “کیوں کے ر حال شیخ نے اپنا راستہ بدل لیا تھا
صرف اس لیے کے کہیں اُس کی بہن جس کے ساتھ اس نے اپنی زندگی گزاری وہ دور نہ ہو جائے

دوسری طرف معراج اپ مطمئن تھی ۔۔۔
دل سکون میں اگیا تھا اس کے بہن علی کو پسند نہیں کرتی تھی رہی بات علی کو وہ خود اس کو سنبھال لے گی ۔۔۔۔

رات کا وقت تھا اندھیری رات چھا تھی تھی معراج تو سکون سے سو گئی لیکن رحال جاگتی رہی اور جب آنکھ لگی تو خواب میں بھی کو شخص ۔۔
خوابوں پر اختیار نہیں ہوتا ۔۔ وہ ہمارا انے والے کل دکھاتے ہیں ۔۔۔۔
اور پھر جب صبح ہوئی تو معراج فریش خوش تھی
باتوں باتوں میں معراج نے اپنی بہن سے کہا جو ائینے کے سامنے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی۔۔
میں نے بہت خوبصورت خواب دیکھا ہے ۔۔۔
معراج کے کہنے پر اس کی بہن نے پلٹ کر اس کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔ میں نے بھی دیکھا ہے اواز دھیمی تھی ۔۔۔
اچھا تو تم نے کس کو دیکھا ہے معراج نے اس کو دیکھتے عام س انداز میں پوچھا ۔۔۔
علی کو ۔۔۔ اور یہ لمحہ تھا معراج کا چہرہ بگڑ گیا
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا ۔۔
اس سے پہلے رحال اگے سناتی معراج باہر نکل گئی دروازہ ایک زور دار آواز کے ساتھ بند کیا ۔۔
کمرے میں کھڑی لڑکی افسردہ ہو گئی وہ تو بس خواب بتا رہی تھی وہ کہاں معراج کو اداس کرنا چاہتی تھی۔۔۔؟

اسلام آباد کی خنک صبح تھی اور مارگلہ کی پہاڑیوں سے اترتی دھند ابھی شہر کی سڑکوں پر چھائی ہوئی تھی۔ رحال کی گاڑی سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی، ٹائروں کی آواز خالی سڑک پر واضح سنائی دے رہی تھی۔ رحال کا ذہن، گاڑی کی رفتار کی طرح تیز تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی تھی۔ وہ جیسے ہی یونیورسٹی پہنچی اور کوریڈور میں داخل ہوئی، اسے سامنے سے قیسن آتا دکھائی دیا۔
قیسن، جو ہمیشہ شور شرابے اور دوستوں کے جھرمٹ میں رہتا تھا، آج بالکل اکیلا تھا۔ اس کی چال میں وہ پرانی اکڑ نہیں تھی، وہ جھکا جھکا سا اور خاموش لگ رہا تھا۔ اس نے رحال کو دیکھا، مگر کچھ کہنے کے بجائے خاموشی سے نظریں جھکا لیں اور کلاس روم کی طرف بڑھ گیا۔

کلاس شروع ہوئی تو پروفیسر صدیقی نے ایک مشکل میڈیکل اسائنمنٹ کا اعلان کیا۔ “کلاس! اس بار آپ کو جوڑوں (Pairs) کی صورت میں کام کرنا ہوگا تاکہ آپ ٹیم ورک سیکھ سکیں۔” جب گروپس بنائے گئے تو اتفاق سے، یا شاید قسمت کے کھیل سے، قیسن اور رحال کا نام ایک ساتھ پکارا گیا۔
دونوں کے لیے یہ حیران کن تھا، مگر خاموشی سے اسے قبول کر لیا گیا۔ اگلے دو دن ان دونوں نے لائبریری کے ایک کونے میں بیٹھ کر اس اسائنمنٹ پر کام کیا۔ قیسن، جو کبھی پڑھائی میں سنجیدہ نہیں رہا تھا، آج بہت دھیان سے کام کر رہا تھا، مگر اس کا دھیان کتابوں سے زیادہ سامنے بیٹھی رحال پر تھا۔
وہ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ، اس کی پلکوں کا جھکنا اور اس کے قلم کی جنبش کو گھنٹوں دیکھتا رہتا۔ دوسرے دن کی شام جب لائبریری تقریباً خالی ہو چکی تھی، قیسن نے اپنی قلم میز پر رکھی اور رحال کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا:
“رحال۔۔۔ تم بہت خاموش ہو۔ سب ٹھیک تو ہے؟ تمہارے اس ‘علی’ نے تمہیں کچھ کہا ہے کیا؟”
رحال نے ایک لمحے کے لیے قلم روکا، اس کے لبوں پر ایک اداس اور پھیکی سی مسکراہٹ آئی۔ اس نے کتاب سے نظریں چرائیں اور دھیمے سے کہا، “وہ میرے نہیں ہیں قیسن، اور نہ میں ان کی ہوں۔”
قیسن بالکل ہکا بکا رہ گیا۔ “مطلب؟ رحال، یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟
رحال نے ایک لمبی سانس لی اور فائل بند کر دی۔ “مطلب کچھ نہیں قیسن۔۔۔ بس ایسے ہی۔ کچھ رشتے صرف نام کے ہوتے ہیں اور کچھ صرف خاموشی کے۔”
“نہیں رحال، بتاؤ تو ہوا کیا ہے؟” قیسن نے اصرار کیا۔ اس کی آواز میں اب وہ پرانی تلخی نہیں بلکہ ایک سچی فکر تھی۔
“کچھ نہیں ہوا قیسن، تم کام پر دھیان دو۔ ہمیں یہ آج ہی ختم کرنا ہے،” رحال نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔
قیسن نے ایک تھکی ہوئی مگر دلکش مسکراہٹ اپنے لبوں پر سجائی۔ اس کی نیلی آنکھوں میں، جو ہمیشہ شوخی سے چمکتی تھیں، آج ایک عجیب سی حسرت تھی۔ وہ حسرت جو کسی ایسی چیز کو پانے کی ہوتی ہے جو سامنے ہو کر بھی بہت دور ہو۔
“کام پر دھیان ہی تو نہیں جا رہا رحال۔۔۔ تم جو سامنے بیٹھی ہو۔” اس نے نہایت دھیمے لہجے میں کہا۔ “رحال! کیا تم میری نہیں بن سکتیں؟”
رحال نے اس کی طرف دیکھا اور ایک بار پھر مسکرا دی۔ “تم اچھی باتیں کرتے ہو قیسن، مگر میں تمہاری کبھی نہیں بن سکتی۔”
قیسن کا دل جیسے ڈوب گیا۔ “ہاں، پتا ہے مجھے۔ اب تم پھر وہی علی کے گیت گاؤ گی، وہی بتاؤ گی کہ وہ تمہاری زندگی ہے، کہ میں اس جیسا نہیں ہوں، کہ تم صرف اس کی امانت ہو۔۔۔”
رحال کی آنکھوں میں اچانک نمی چمکنے لگی۔ وہ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر آنے کو بے تاب تھے۔ اس نے لرزتی آواز میں کہا، “میں نے کب کہا قیسن کہ میں علی کی ہوں؟ علی کے لیے تو شاید کوئی اور لڑکی لکھی ہے۔۔۔”
اسی لمحے رحال کے ذہن میں معراج کا وہ خوبصورت چہرہ ایا ۔۔۔
مگر قیسن، میں تمہاری بھی نہیں ہوں۔” رحال نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
قیسن بالکل ساکت ہو گیا۔ “یہ کیا بات ہوئی رحال؟ کیا وہ علی تمہیں پسند نہیں کرتا؟ کیا اس نے تمہیں کوئی امید نہیں دی؟”
رحال نے اسے ایک ایسی نظر سے دیکھا جس میں ہزاروں باتیں تھیں، مگر زبان خاموش رہی۔ اس نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کی اور دوبارہ فائل کھول لی۔
“کام پر دھیان دو قیسن۔ ہمیں یہ آج سر کو چیک کروانا ہے، ورنہ وقت نکل جائے گا۔”
قیسن اب خاموش ہو چکا تھا۔ وہ رحال کو مزید دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ رحال ایک ایسی آگ میں جل رہی ہے جس کا ایندھن اس کی اپنی خاموشی اور علی کی ادھوری باتیں ہیں۔ وہ دونوں دوبارہ اسائنمنٹ میں گم ہو گئے، مگر لائبریری کی اس میز پر اب صرف میڈیکل کی اصطلاحات نہیں، بلکہ دو ٹوٹے ہوئے دلوں کی خاموشیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
لائبریری کی وہ خاموشی اب ان دونوں کے لیے بوجھل ہونے لگی تھی۔ قیسن کی نیلی آنکھوں میں چھپی حسرت دیکھ کر رحال کا دل موم ہونے لگا، مگر اس کے پاس وہ دل تھا ہی نہیں جو وہ کسی اور کو دے سکتی۔
رحال نے فائل پر جمی اپنی نظریں اٹھائیں اور قیسن کو دیکھا، جو ابھی بھی اسے کسی ان کہے سوال کی طرح تک رہا تھا۔ رحال نے ایک گہری سانس لی اور اس کے لہجے میں اب وہ سختی نہیں بلکہ ایک ہمدردی تھی، جو کسی اپنوں کے لیے ہوتی ہے۔
“قیسن۔۔۔ تم بہت خوبصورت ہو،” رحال نے دھیمے لہجے میں کہا۔ “تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو کسی کا بھی دل جیتنے کے لیے کافی ہے۔ دیکھنا، تمہاری زندگی میں بہت خوبصورت لڑکی آئیں گی، ایسی لڑکی جو تمہیں وہ مقام دیں گی جس کے تم حقدار ہو۔”
قیسن کے لبوں پر ایک تلخ مگر خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے قلم سے میز پر ایک لکیر کھینچی اور پھر نظریں اٹھا کر براہِ راست رحال کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کے لہجے میں ایک ایسی سچائی تھی جو رحال کے وجود کو تھرا گئی۔
“لڑکیاں تو بہت مل جائیں گی رحال۔۔۔ لیکن کوئی ‘تم’ جیسی کہاں؟”
قیسن کے ان الفاظ میں کوئی بناوٹ نہیں تھی، نہ ہی کوئی پرانی ضد۔ یہ ایک ایسے انسان کا اعتراف تھا جس نے پہلی بار کسی کی روح کو چھوا تھا۔ اس نے بات جاری رکھی، “خوبصورتی تو بازاروں میں بھی بکتی ہے رحال، مگر وہ وقار، وہ معصومیت اور وہ درد جو تمہاری آنکھوں میں بستا ہے، وہ مجھے کسی اور چہرے میں نہیں ملے گا۔”
رحال یہ سن کر اسے دیکھتی رہ گئی۔ اس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اسے ہمیشہ لگتا تھا کہ قیسن صرف ایک ضدی لڑکا ہے جو اسے پانا چاہتا ہے، مگر آج اسے قیسن کے اندر ایک سچا عاشق نظر آیا، جو اپنی ہار تسلیم کرنے کے باوجود اس کی تعریف کر رہا تھا۔
لائبریری کی کھڑکی سے آتی دھوپ قیسن کی نیلی آنکھوں کو مزید روشن کر رہی تھی، جن میں اب حسرت کے ساتھ ساتھ ایک سکون بھی تھا—اپنی پسندیدگی کا اظہار کر دینے کا سکون۔ رحال ساکت کھڑی اسے دیکھتی رہی، اسے پہلی بار احساس ہوا کہ محبت صرف پانے کا نام نہیں، کبھی کبھی کسی کے سامنے اپنی شکست کو اتنی خوبصورتی سے بیان کرنا بھی محبت کا ایک بڑا درجہ ہے۔
دونوں کے درمیان پھر وہی خاموشی چھا گئی، مگر اس بار یہ خاموشی تلخ نہیں تھی، بلکہ اس میں ایک دوسرے کے لیے احترام کا ایک نیا احساس پیدا ہو چکا تھا۔…..

یہ دوپہر کا وقت تھا ۔۔ جب رحال گھر میں داخل ہوئی کندھے پر بیگ ہاتھوں میں کتابیں اور ایک بازو پر سفید کورٹ ۔۔ وہ سیدھی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ معراج خاموش بیٹھی تھی
رحال نے چیزیں ایک طرف بیڈ پر رکھی اور فریش ہونے چلی گی کچھ دیر بعد باہر ائی معراج ویسے ہی بیٹھی تھی ۔۔۔
رحال کو احساس ہو گیا کے معراج ناراض ہے
معراج میں نے بس خواب سنایا تھا تم ابھی تک مجھ سے ناراض ہو۔۔۔
معراج تو جیسے انتظار میں بیٹھی تھی پھٹ پڑی ۔۔
میرا دل جل رہا ہے رحال۔۔۔
لیکن میرا قصور تو نہیں ہے نا کہ وہ میری خواب میں ائے ۔۔؟
تمہارا قصور نہیں ہے میں جانتی ہوں لیکن مجھے تم سے جلن ہو رہی ہے وہ کیوں تمہاری طرف ایسے دیکھتا ہے۔۔ محبت بھری نظروں سے ۔۔
میری طرف وہ ایسے کیوں نہیں دیکھتا۔۔۔
وہ میری پرواہ نہیں کرتا تمہاری کرتا ہے۔۔کیوں
تم میں ایسا کیا ہے ر حال۔۔۔ بتاؤں جادو کیا ہے تم نے کیا علی پر ۔۔
تم پاگل ہو گئی ہو معراج ۔۔۔
م۔۔ میں اُن سے محبت نہیں کرتی تمھیں بتایا تھا میں نے ۔۔۔ رحال نے با مشکل کہا ۔۔۔
لیکن تمہاری ہر حرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ تم اس کو چاہتی ہو معراج کی انکھوں میں حسد تھی جلن تھی بے بسی تھی۔۔۔۔
تمہاری ہر حرکت سے پتہ چلتا ہے کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔۔۔ میری دعا ہے رحال کے اگر وہ تمہارے دل میں ہے تو تمہارے دل سے نکل جائے۔۔۔۔ رحال خاموش رہ گئی دل میں اہ سے اٹھی لیکن کچھ بولی نہیں۔۔۔ بس دل میں ایک دعا نکلی ۔۔ کش معراج تمہاری زندگی میں تمھیں چاہنے والا کوئی ائے ۔۔ جس کی محبت تمہارے دل سے میرے علی کو نکل دے ۔۔ کش تمھیں چاہنے والے کی محبت پاک اور سچی ہو
میں تم سے علی کو نہیں چھینوں گی ۔میں انتظار کروں گی کے میری قسمت میں کیا لکھا ہے ۔۔
معراج ابھی تک بولے جا رہی تھی رحال خاموش رہی ۔۔۔۔

رات کے اس پہر لاہور کی فضاؤں میں ایک خاص قسم کی خنکی تھی اور سڑکیں خاموش ہو چکی تھیں۔ مصطفیٰ محل کے بلند و بالا گیٹ کے باہر، اپنی گاڑی کے بونٹ پر عمر بیٹھا تھا ۔ وہ علی کا بچپن کا دوست تھا، وہی ایک شخص جس کے سامنے علی اپنا شاہانہ وقار ایک طرف رکھ کر کھل کر بات کر سکتا تھا۔

علی جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلا، عمر کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے دور سے ہی تالی بجائی اور ہنستے ہوئے بولا:
“اوہ بھائی صاحب! کیا بات ہے تمہاری۔ میں تو سمجھتا تھا میرا دوست صرف بزنس کی فائلیں پڑھنا جانتا ہے، مگر تم نے تو کمال ہی کر دیا! پوری دنیا میں دھوم مچا دی، اپنی محبوبہ کے نام کا پرفیوم ہی نکال دیا؟ لڑکے، تم تو بڑے ‘ہیوی’ جا رہے ہو!”
علی نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکایا اور عمر کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “بس یار عمر، تم بھی نا۔۔۔ وہ تو بس ایسے ہی ایک برانڈ نیم کے طور پر نکال لیا ہے۔”
عمر نے فوراً اس کی بات کاٹی اور سنجیدہ ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ “علی، مجھ سے تو جھوٹ نہ بولو۔ چلو مان لیا کہ نام منفرد ہے، مگر تم کیوں اس سے اتنی محبت کرتے ہو؟ علی مصطفیٰ ہو تم، ایک اشارہ کرو تو تمہیں اس (رحال) جیسی ہزاروں مل جائیں گی، جو تمہارے ایک لفظ پر اپنی زندگی وار دیں۔”
علی نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی نظریں دور آسمان پر چمکتے ستاروں پر ٹکا دیں۔ اس کے لہجے میں اب وہ کاروباری سختی نہیں بلکہ ایک ایسی مٹھاس تھی جو صرف محبت کرنے والوں کے پاس ہوتی ہے۔
“عمر۔۔۔ اس جیسی کوئی ہے ہی نہیں،” علی نے بہت دھیمے اور پختہ لہجے میں کہا۔ “خوبصورت چہرے تو بہت ملتے ہیں، مگر وہ جو روح کا سکون ہے، وہ مجھے صرف اسی کے پاس ملتا ہے۔ اس کا ہونا میرے دل کو آباد رکھتا ہے، اس کی موجودگی میری زندگی کے ادھورے پن کو بھر دیتی ہے۔ وہ کوئی ایسی لڑکی نہیں جسے ڈھونڈ لیا جائے، وہ تو وہ احساس ہے جو قسمت سے ملتا ہے۔”
عمر، جو ہمیشہ ہنسی مذاق کرنے والا انسان تھا، علی کی یہ باتیں سن کر ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا۔ اس نے علی کی آنکھوں میں وہ گہرائی دیکھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
“یار علی، سچ بتاؤں تو میں حیران ہوں۔ لوگ کیسے کر لیتے ہیں ایسی محبت؟ مجھے تو آج تک کسی سے ایسی محبت نہیں ہوئی،” عمر نے تھوڑی حیرت اور تھوڑی معصومیت سے کہا۔
علی کھل کر ہنس پڑا، اس کی ہنسی رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔ “رہنے دو عمر! تم اپنی کہانیاں مجھے نہ سناؤ۔ تمہیں تو آئے دن کسی نہ کسی سے ‘سچی محبت’ ہو جاتی ہے، اور اگلے ہفتے اس کا نام بھی یاد نہیں رہتا۔”
“ارے نہیں یار، وہ تو بس کرش (Crush) ہوتے ہیں،” عمر نے صفائی دیتے ہوئے کہا اور دونوں دوست زور سے ہنسنے لگے۔
کچھ دیر مزید ہنسی مذاق چلتا رہا، عمر نے اسے اپنی نئی ڈیلز کے بارے میں بتایا اور علی نے اسے چھیڑا۔ جب ملاقات ختم ہوئی تو علی نے اسے الوداع کہا اور واپس اپنے گھر کی طرف مڑ گیا۔ جب وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا، تو اس کے دل میں عمر کی وہ بات گونج رہی تھی کہ “تمہیں تو ہزار مل جائیں گی”۔ علی نے مسکرا کر خود سے کہا، “ہزاروں میں بھی صرف وہی ایک ہے، رحال۔”
وہ اپنے کمرے میں آیا، لائٹ بند کی اور ایک گہرے سکون کے ساتھ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔

رات کا پچھلا پہر تھا جب قیسن باہر سے ڈنر کر کے واپس گھر لوٹا۔ گیراج میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد جب وہ لاؤنج سے گزرا، تو اس کے بابا وہیں بیٹھے کسی فائل کا مطالعہ کر رہے تھے۔ قیسن کی قدموں کی چاپ سن کر انہوں نے سر اٹھایا اور چشمے کے پیچھے سے اپنے بیٹے کے مرجھائے ہوئے چہرے کو غور سے دیکھا۔

قیسن! ذرا ادھر آنا،” اس کے بابا نے نرمی سے پکارا تو قیسن کے قدم وہیں رک گئے۔ وہ بوجھل قدموں سے ان کے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔
“جی بابا؟” قیسن کی آواز میں وہ پرانی گھن گرج غائب تھی۔
“بیٹا، میں نوٹ کر رہا ہوں کہ تم آج کل بہت خاموش رہنے لگ گئے ہو۔ نہ وہ پہلے جیسا شور، نہ دوستوں کی فون کالز۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا؟” انہوں نے فکر مندی سے پوچھا۔
قیسن نے اپنی نظریں فرش پر جمائے رکھیں، اس کی آنکھوں میں چھپی اداسی اور شکست صاف جھلک رہی تھی۔ “جی بابا، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بس تھوڑا تھک گیا ہوں،” اس نے ایک مصنوعی مسکراہٹ لانے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام رہا۔
اس کے بابا سمجھ گئے کہ بیٹا کچھ چھپا رہا ہے، مگر انہوں نے اصرار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ “اچھا ٹھیک ہے، جاؤ آرام کرو۔”
قیسن اٹھا اور بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ پیچھے اس کے بابا اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے، یہ سوچ کر کہ ان کا وہ شوخ اور چنچل بیٹا اچانک اتنا سنجیدہ کیسے ہو گیا؟
اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی قیسن نے دروازہ بند کیا اور خاموشی سے اندھیرے میں بیڈ کے کونے پر بیٹھ گیا۔ اسے آج کی وہ گفتگو یاد آ رہی تھی جو لائبریری میں رحال کے ساتھ ہوئی تھی۔
“وہ میرے نہیں ہیں قیسن، اور نہ میں ان کی ہوں۔۔۔”
رحال کے یہ جملے اس کے دماغ میں ہتھوڑوں کی طرح بج رہے تھے۔ قیسن الجھ رہا تھا کہ آخر ان دونوں کے درمیان ہوا کیا ہے؟ اگر علی مصطفیٰ نے اس کے نام کا پرفیوم نکالا ہے، تو رحال اتنی دکھی کیوں ہے؟ وہ اسے اپنا کیوں نہیں مان رہی؟
اسے رحال کا وہ اداس چہرہ اور وہ نم آنکھیں یاد آ کر تڑپا رہی تھیں۔ وہ رحال کو دکھی نہیں دیکھ سکتا تھا، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ اس کے لیے کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ وہ خود اس کہانی کا وہ کردار تھا جو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔…
وہ بیڈ پر لیٹ گیا اور چھت کو گھورنے لگا۔ اسے اپنی زندگی ایک برباد کھنڈر کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔ “کبھی کسی سے سچی محبت کی ہی نہیں تھی۔۔۔ اور اب جب ہوئی، تو وہ میری تھی ہی نہیں،” اس نے تلخی سے خود کلامی کی۔
اسے دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ اسے رحال نہیں ملی، اسے دکھ اس بات کا تھا کہ رحال جس کے لیے تڑپ رہی ہے، وہ بھی شاید اس کا نہیں ہے۔ وہ اس مثلث (Triangle) میں پھنس گیا تھا جہاں ہر کوئی کسی نہ کسی کے لیے اداس تھا۔
سوچتے سوچتے اس کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ اس کے ذہن میں رحال کا مسکراتا ہوا چہرہ اور علی مصطفیٰ کا وہ شاہانہ وقار ایک دھندلی سی فلم کی طرح چلنے لگے۔ اسی کشمکش اور بے چینی میں اسے کب نیند آ گئی، اسے پتہ ہی نہ چلا۔ وہ کمرے کے
سناٹے میں اپنی تمام تر حسرتوں سمیت سو چکا تھا، ایک ایسی صبح کے انتظار میں جہاں شاید اس کے لیے کوئی نئی امید ہو۔…..

یونیورسٹی میں اسائنمنٹ جمع کروانے کا آخری دن تھا، اور فضا میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ قیسن اور رحال جب کوریڈور میں ملے، تو دونوں کے درمیان ایک خاموش سمجھوتہ تھا—احترام کا اور اس ادھورے پن کا جو ان کی قسمت بن چکا تھا۔

رحال ابھی اپنی فائل سیٹ کر رہی تھی کہ یونیورسٹی کے گیٹ پر ایک کالی چمچماتی گاڑی آ کر رکی۔ ایک آدمی سوٹ میں ملبوس باہر نکلا اور سیدھا رحال کی طرف بڑھا۔
“اسلام علیکم مس رحال! میں مصطفیٰ کارپوریشن سے آیا ہوں۔ علی سر نے آپ کے لیے یہ پارسل بھیجا ہے،” اس نے ایک نہایت خوبصورت پیکنگ والا باکس رحال کی طرف بڑھایا۔
قیسن وہیں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ رحال نے لرزتے ہاتھوں سے باکس کھولا تو اندر وہی ‘رحال’ پرفیوم کی پہلی بوتل تھی، جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا نوٹ تھا:
“خوشبوؤں کو قید نہیں کیا جا سکتا، مگر میں نے کوشش کی ہے کہ تمہارا وقار اس شیشے میں محفوظ رہے۔”
رحال کی آنکھوں میں چمک آ گئی، جبکہ قیسن نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور خاموشی سے کلاس کی طرف بڑھ گیا۔ وہ جان گیا تھا کہ علی مصطفیٰ دور رہ کر بھی رحال کے ہر لمحے پر حاوی ہے۔

ادھر لاہور میں، علی مصطفیٰ اپنے آفس کے کانفرنس ہال میں بیٹھا تھا۔ آج کی میٹنگ ‘رحال’ پرفیوم کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے تھی۔
“سر! لندن اور دبئی سے آرڈرز کی بھرمار ہے،” مارکیٹنگ ہیڈ نے جوش سے بتایا۔
علی نے فائل پر دستخط کرتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے کہا، “مجھے مقدار سے زیادہ معیار کی فکر ہے۔ ‘رحال’ صرف ایک پراڈکٹ نہیں ہے، یہ میری کمپنی کا فیس (Face) ہے۔ اس کی پیکنگ سے لے کر ڈیلیوری تک، ہر چیز میں وہ نفاست ہونی چاہیے جو اس نام کا حق ہے۔”
وہ میٹنگ میں جتنا سخت باس نظر آ رہا تھا، اس کے ٹیبل پر رکھا وہی ‘R’ والا مونوگرام بتا رہا تھا کہ اس کی تمام تر کامیابیوں کا محور کون ہے۔

اسلام آباد میں معراج کا دل اب گھر کی خاموش دیواروں سے گھبرانے لگا تھا۔
خود کو کسی کام میں مصروف کرنا چاہتی تھی
اسی شام اس کی اسکول کی پرانی دوست لائبہ کا فون آیا، جس کی شہر میں ایک مشہور بیکری تھی۔
“معراج! تم نے بتایا تھا کہ تم فارغ ہو، کیوں نہ تم میری بیکری میں بطور ‘منیجر اور کوالٹی کنٹرولر’ جوائن کر لو؟ مجھے تمہارے ذائقے پر پورا بھروسہ ہے۔”
معراج نے کچھ دیر سوچا اور پھر جواب دیا، “لائبہ، میں جوائن تو کر سکتی ہوں، مگر ایک شرط ہے کہ میں شام کے وقت آ سکوں گی۔ صبح میں تھوڑا مصروف ہوتی ہوں۔”
لائبہ فوراً مان گئی، “ڈیل! مجھے شام کے شفٹ کے لیے ہی کوئی بھروسہ مند بندہ چاہیے تھا۔”

رات کے کھانے پر معراج نے یہ بات اپنے امی اور پاپا کے سامنے رکھی۔ اسے ڈر تھا کہ شاید وہ منع کر دیں، مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب فرحان صاحب نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“بیٹا! اگر تم اپنے ہنر کو استعمال کرنا چاہتی ہو اور خود کو مصروف رکھنا چاہتی ہو تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لائبہ بچی بھی اچھی ہے، تم شوق سے جاؤ،” فرحان صاحب نے شفقت سے کہا۔
سلیماں بیگم نے بھی تائید کی، “ہاں، گھر میں بیٹھے بیٹھے بھی تو انسان کا ذہن بوجھل ہو جاتا ہے۔ کام کرو گی تو دل لگا رہے گا۔”
معراج نے سکون کا سانس لیا۔ اب اس کے پاس ایک نئی منزل تھی۔ وہ علی کو دکھانا چاہتی تھی کہ وہ صرف ایک حاسد کزن نہیں، بلکہ اپنی پہچان خود بنا سکتی ہے۔

اسلام آباد کی شام اپنے جوبن پر تھی جب معراج اپنی نئی منزل، یعنی “دی گولڈن اوون” بیکری کے سامنے اپنی گاڑی سے اتری۔ یہ بیکری شہر کی سب سے عالی شان جگہوں میں سے ایک تھی، جہاں شیشے کے بڑے بڑے دروازے اور اندر لگی سنہری لائٹس اسے کسی محل کا منظر دے رہی تھیں۔
معراج آج قیامت ڈھارہی تھی۔ سیاہ رنگ کی نفیس شلوار قمیض، کاندھے پر ڈھلکا ہوا دوپٹہ، اور کھلے ہوئے بال جو اس نے نیچے سے ہلکے سے کرل (Curl) کروائے تھے۔ پاؤں میں پہنچی اونچی سیاہ ہیل کی آواز جب بیکری کے سنگِ مرمر کے فرش پر گونجی، تو ہر دیکھنے والے کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں۔ اس کے چہرے پر وہی پرانا اعتماد اور تھوڑی سی رعونت تھی جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی۔
وہ جیسے ہی کچن والے حصے کے پاس سے گزرنے لگی تاکہ اپنی دوست لائبہ کے کیبن تک جا سکے، اچانک ایک موڑ پر وہ کسی سے زور سے ٹکرا گئی۔
ٹکراؤ اتنا زوردار تھا کہ سامنے والے شخص کے ہاتھ میں موجود ایک انتہائی خوبصورت اور نفاست سے تیار کیا گیا “تھری ٹیر” (Three-tier) چاکلیٹ کیک سیدھا نیچے فرش پر جا گرا اور بکھر گیا۔
سامنے کھڑا شخص سفید شیف کوٹ پہنے ہوئے تھا، جس کے بازو کہنیوں تک چڑھے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ ابھی بھی کریم سے بھرے تھے۔
لمبا قد، گندمی رنگت اور گہری بھوری آنکھیں جو اس وقت غصے سے چمک رہی تھیں۔
معراج نے اسے گھور کر دیکھا اور اپنی ہیل کو دیکھتے ہوئے بولی، “اندھے ہو؟ نظر نہیں آتا؟”
برہان نے نیچے گرے ہوئے تباہ شدہ کیک کو دیکھا اور پھر نظریں اٹھا کر معراج کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر خوف کے بجائے ایک عجیب سی بے باکی تھی۔ “میں اندھا نہیں ہوں لڑکی! تم دیکھ کر نہیں چل رہی تھی۔ تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے؟ میری تین گھنٹے کی محنت مٹی میں ملا دی تم نے۔”
معراج نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے اپنی گردن اکڑائی۔ “تم مجھے جانتے نہیں ہو۔ میں چاہوں تو تمہیں ابھی کے ابھی یہاں سے نکلوا سکتی ہوں۔”
برہان کے لبوں پر ایک تمسخر آمیز مسکراہٹ آئی۔ وہ معراج کے قریب ہوا، اتنا قریب کہ معراج کو اس کے پرفیوم اور ونیلا کی ملی جلی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ “اور تم شاید یہ نہیں جانتیں کہ میں کون ہوں۔”
معراج نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا، اس کے شیف والے کپڑوں پر نظر ڈالی اور بولی، “دیکھ رہی ہوں، یہاں کے کوئی چھوٹے سے شیف لگتے ہو۔”
برہان نے جھک کر معراج کے کان کے قریب نہایت دھیمی مگر پُراثر آواز میں کہا، “میں اس بیکری کا سینئر شیف ہوں مس! وہ شخص جس کے حکم پر یہاں کے سارے شیفس کام کرتے ہیں۔”
معراج ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی، مگر پھر فوراً سنبھل کر اپنی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور بولی، “اور میں یہاں کی نئی مینیجر ہوں۔ وہ لڑکی جس کے حکم پر اب تم کام کرو گے۔”
برہان نے حیرت سے ابرو اچکائے، پھر ایک دم اس کے لبوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ پھیلی۔ اس نے ایک فرضی ہیٹ اتارنے کا اشارہ کیا اور جھک کر بولا، “جیسا آپ کا حکم، میم!”
وہ مسکراتا ہوا مڑا اور بڑے سکون سے کچن کی طرف بڑھ گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ معراج وہیں کھڑی اسے پیچھے سے دیکھتی رہی اور بڑبڑائی، “عجیب انسان ہے یہ تو!” مگر اس کے دل کے کسی کونے میں یہ احساس جاگ اٹھا تھا کہ اب اس عجیب انسان کے ساتھ کام کرنا کافی دلچسپ ہونے والا ہے۔
بیکری کے ہال میں پیانو کی مدھم موسیقی چل رہی تھی۔ ایک طرف آرام دہ صوفے لگے تھے جہاں فیملیز بیٹھی کافی اور پیسٹریوں کا لطف لے رہی تھیں۔ دیواروں پر لگی پینٹنگز اور ہر طرف پھیلی ہوئی تازہ بیک کیے ہوئے بسکٹ کی مہک نے ماحول کو مسحور کن بنا دیا تھا۔۔۔۔

بیکری کی فضا میں آج ونیلا اور بیریوں کی بھینی بھینی خوشبو رچی بسی تھی۔ “دی گولڈن اوون” میں آج ایک بہت اہم جوڑے کی شادی کی سالگرہ (Anniversary) کی تقریب تھی۔ پورے ہال کو سفید گلابوں سے سجایا گیا تھا۔
کچن کے اندر برہان قریش..اپنے مخصوص سفید شیف کوٹ میں ملبوس، پوری توجہ سے کیک کی فائنل فنشنگ کر رہا تھا۔ اس نے چاکلیٹ کی باریک تہہ چڑھانے کے بعد اب اس پر سنہری ورق اور تازہ اسٹرابیری رکھنی شروع کی تھیں۔ اس کے ہاتھ اتنی مہارت سے چل رہے تھے جیسے وہ کوئی سرجری کر رہا ہو۔
اسی لمحے مینیجر کے آفس کا دروازہ کھلا اور معراج، جو آج بھی اپنے پورے جاہ و جلال میں تھی، کچن میں داخل ہوئی۔
“برہان! گیسٹ آ چکے ہیں۔ پندرہ منٹ اوپر ہو گئے ہیں، ذرا جلدی ہاتھ چلاؤ،” معراج نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے حکم دیا، مگر اس کی نظریں لاشعوری طور پر برہان کے مہارت سے چلتے ہاتھوں پر ٹھہر گئیں۔
برہان نے سر اٹھائے بغیر مسکرا کر جواب دیا، “اگر اتنی ہی جلدی ہے میم، تو خود آ کر کیوں نہیں بنا لیتیں؟ یہ کیک ہے، کوئی پیزا نہیں جو دو منٹ میں پک جائے۔ نفاست وقت مانگتی ہے۔”
معراج اس کے قریب آئی۔ “تمہاری نفاست کے چکر میں میرا پہلا بڑا آرڈر لیٹ ہو جائے گا۔”
“میرا کیک کبھی لیٹ نہیں ہوتا، وہ بس صحیح وقت پر ‘ظہور’ پذیر ہوتا ہے،” برہان نے شوخی سے کہا اور آخری اسٹرابیری کو شہد میں ڈبو کر کیک کے عین وسط میں رکھ دیا۔ “لو! ہو گیا تیار۔ اب ذرا صبر سے دیکھو اسے۔”
کیک واقعی ایک شاہکار تھا۔ برہان نے خود اسے اٹھایا اور کچن سے باہر ہال کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اس جوڑے کی ٹیبل پر پہنچا، کیک رکھا اور بڑی نرمی سے بولا، “آپ دونوں کو شادی کی سالگرہ مبارک ہو۔ یہ کیک صرف ذائقہ نہیں، بلکہ اس محبت کا عکس ہے جو آپ نے برسوں نبھائی ہے۔” جوڑا برہان کے ان الفاظ اور کیک کی خوبصورتی دیکھ کر خوش ہو گیا۔ برہان ایک باوقار مسکراہٹ کے ساتھ مڑا اور واپس کچن کی طرف آ گیا۔….
تقریب کے کچھ دیر بعد، معراج بیکری کے بیرونی حصے (Open Area) میں ایک کرسی پر بیٹھی اپنا لیپ ٹاپ کھولے ای میلز چیک کر رہی تھی۔ تب ہی ایک آدمی تیش میں بھرا ہوا اس کی طرف آیا۔ اس کی شرٹ پر کافی کا دھبہ تھا۔
“تم لوگوں کی بیکری گھٹیا ہے! بالکل تھرڈ کلاس سروس!” اس نے چلاتے ہوئے میز پر ہاتھ مارا۔
معراج ہڑبڑا کر کھڑی ہوئی۔ “کیا ہوا سر؟ آپ پرسکون ہو جائیں۔”
“کیسے پرسکون ہو جاؤں؟ تمہارے بدتمیز ویٹر نے میرے قیمتی کپڑوں پر کافی گرا دی ہے!” وہ شخص بدتمیزی پر اتر آیا۔ معراج نے بار بار معذرت کی، “سر، میں بہت معذرت خواہ ہوں، ہم آپ کے کپڑوں کی ڈرائی کلیننگ کا ہرجانہ بھر دیں گے۔”
مگر وہ شخص معراج کو نیچا دکھانے پر تلا ہوا تھا۔ “ہرجانہ؟ میں تمہاری بیکری بند کروا دوں گا! تمہیں مینیجر کس نے رکھا ہے؟ تم جیسی لڑکیوں کو تو گھر پر ہونا چاہیے۔”
برہان جو دور کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا، اب خاموش نہ رہ سکا۔ وہ تیزی سے چلتا ہوا وہاں پہنچا اور معراج کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔
“سر۔۔۔ مینیجر صاحبہ نے تین بار معافی مانگ لی ہے۔ غلطی ہو گئی، اب بس کریں۔” برہان کا لہجہ ٹھنڈا مگر سخت تھا۔
“تم کون ہوتے ہو بولنے والے؟ میں تم دونوں کو ابھی نکلوا دوں گا!” اس آدمی نے دھمکی دی۔
برہان کی آنکھیں غصے سے چمکنے لگیں۔ “اب آپ اپنی حد پار کر رہے ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ یہاں سے عزت سے چلے جائیں، ورنہ ہمیں بدتمیز لوگوں کو باہر نکالنے کے اور بھی طریقے آتے ہیں۔”
“کیس کر دوں گا تم لوگوں پر!” وہ شخص غصے سے بولا۔
“ہاں! ضرور کرنا،برہان قریش کو مسئلے سنبھالنے اتے ہیں ۔۔۔۔ مجھے پتا ہے قانون بدتمیزوں کے لیے کیا کہتا ہے،” برہان نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ پھر وہ معراج کی طرف مڑا اور نرمی سے بولا، “آپ اپنے آفس میں جائیں، میں اسے دیکھ لیتا ہوں۔”
معراج نے ایک لمحے کے لیے برہان کو دیکھا
وہ مڑی اور اپنے آفس کی طرف بڑھ گئی، مگر اس کے قدم بوجھل تھے۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی جہاں برہان اب بھی اس آدمی کو بڑے پرسکون مگر رعب دار طریقے سے کچھ سمجھا رہا تھا۔
آفس کے شیشے والے دروازے سے اس نے برہان کو دیکھا۔ اس کے کسرتی بازو، جو اب بھی شیف کوٹ میں تھے، حرکت کر رہے تھے۔ اس کی پیشانی پر غصے کی لکیریں تھیں مگر وہ بہت باوقار لگ رہا تھا۔ معراج کے دماغ میں ایک خیال کوندا، “یہ شخص جتنا بدتمیز لگتا ہے، اتنا ہے نہیں۔” وہ اپنے آفس میں بیٹھ گئی، مگر اس کی نظریں اب بھی برہان پر تھیں، جو اس وقت اسے علی مصطفیٰ کے بعد پہلا ایسا شخص لگا تھا جس میں واقعی ‘مردانگی’ اور ‘وقار’ تھا۔… ویسے بھی علی مصطفیٰ تو محض اس کی ضد تھا ۔۔۔۔

رات کے نو بج رہے تھے اور “دی گولڈن اوون” کے باہر کی روشنیاں مدھم ہو چکی تھیں۔ ملازمین صفائی ستھرائی کر کے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے، مگر معراج ابھی تک باہر اوپن ایریا میں اسی کرسی پر بیٹھی تھی۔ ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی، مگر اس کے سر کا درد کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ آج کا دن اس کے لیے بہت تھکا دینے والا تھا؛ پہلے دن کی مینیجر والی ذمہ داری اور پھر اس بدتمیز آدمی کی کھری کھوٹی باتیں—معراج کا دل بوجھل تھا۔…
اچانک قدموں کی چاپ سنائی دی اور میز پر رکھے لیپ ٹاپ کے ساتھ دھواں اڑاتے کافی کے دو کپ نمودار ہوئے۔ معراج نے سر اٹھا کر دیکھا، برہان قریش اب شیف کوٹ اتار کر ایک سادہ شرٹ میں ملبوس تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہی اطمینان تھا۔
“لیں مینیجر صاحبہ! لگتا ہے آج پہلے ہی دن اس بدتمیز گاہک نے آپ کے سر میں مستقل درد کر دیا ہے،” برہان نے ایک کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ “یہ کافی پئیں، تھوڑی کڑوی ہے مگر آپ کے اعصاب کو پرسکون کر دے گی۔”
معراج نے کچھ دیر اسے دیکھا، پھر خاموشی سے کپ پکڑ لیا۔ “شکریہ،” اس نے دھیمے لہجے میں کہا اور کافی کی پہلی چسکی لی۔ واقعی، کافی کا ذائقہ اتنا بہترین تھا کہ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی آدھی تھکن وہیں ختم ہو گئی ہو۔
برہان دوسری کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنی کافی پیتے ہوئے بڑے آرام سے پوچھا، “ویسے معراج، گھر میں کون کون ہے تمہارے؟ میرا مطلب ہے، اتنی غصے والی لڑکی کو گھر والے کیسے جھیلتے ہیں؟”
معراج نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔ “تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ رشتہ لے کر آنا ہے کیا؟”
برہان کھل کر ہنسا، اس کی ہنسی میں ایک کھلی سچائی تھی۔ “ہاں! ہو بھی سکتا ہے، لے آؤں۔ اس میں برائی کیا ہے؟”
معراج نے غصے اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کہا، “قتل کر دوں گی تمہارا میں، یاد رکھنا۔”
برہان نے بالکل برا نہ منایا، بلکہ بڑے سکون سے اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا، “ہاں! کر دینا میرا قتل، میں معاف کر دوں گا تمہیں۔ اتنا خوبصورت قاتل ہو تو مرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔…..
معراج ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئی۔ علی مصطفیٰ کے بعد یہ دوسرا شخص تھا جس نے اسے لاجواب کر دیا تھا، مگر علی کی باتیں رعب دار ہوتی تھیں اور برہان کی باتوں میں ایک عجیب سی اپنائیت اور بے باکی تھی۔…
بتاؤ بھی اب، کون کون ہے گھر میں؟” برہان نے دوبارہ پوچھا۔
“مما، پاپا، دو بھائی ہیں اور ایک بہن ہے،” معراج نے کافی کے کپ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
“بہن بڑی ہے یا چھوٹی؟”
“بڑی بہن ہے،” معراج نے مختصر جواب دیا۔
برہان نے شرارت سے پوچھا، “تو وہ تم سے زیادہ خوبصورت ہے یا نہیں؟”
یہ سوال معراج کے دل پر کسی تیر کی طرح لگا۔ اس کے ذہن میں فوراً رحال کا معصوم چہرہ اور علی مصطفیٰ کی اس کے لیے دیوانگی گھوم گئی۔ اس نے ایک گہری سانس لی، اس کی آواز میں اب ایک انجانا دکھ تھا جو چھپائے نہ چھپ رہا تھا…..
پتہ نہیں۔۔۔ میں نہیں جانتی۔ لیکن سب کہتے ہیں کہ وہ بہت خوبصورت ہے،” معراج نے نظریں جھکا کر کہا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ “سب اسی پر مرتے ہیں۔ لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ مجھے کوئی اس طرح پسند نہیں کرتا برہان۔۔۔ میں ہمیشہ دوسرے نمبر پر آتی ہوں۔”
برہان نے معراج کے چہرے پر پھیلی اداسی کو محسوس کیا۔ اس نے اپنا کپ میز پر رکھا اور بہت سنجیدگی سے بولا، “سنو مینیجر صاحبہ! سب اپنی اپنی جگہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ اگر وہ سب کو پسند ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم میں کوئی کمی ہے۔”
اس نے ایک لمحے کا توقف کیا اور پھر مسکرا کر کہا، “لڑکی! تم خود کو خاص سمجھو کہ تم ہر کسی کے دل میں نہیں بستیں۔ ہر راہ چلتا شخص تمہاری قدر نہیں کر سکتا۔ کیا پتہ تم کسی ایسے ‘ایک’ کے دل میں دھڑکنے کے لیے بنی ہو جس کے لیے پوری دنیا کی خوبصورتی تمہارے سامنے کم ہو ۔۔۔؟
معراج نے ایک تلخ ہنسی ہنستے ہوئے سر جھٹکا۔ “ایسا صرف کہانیوں میں ہوتا ہے شیف صاحب! حقیقت میں لوگ صرف وہ دیکھتے ہیں جو چمکتا ہو۔”
برہان نے اٹھتے ہوئے بڑے یقین سے کہا، “نہیں معراج، ایسا حقیقت میں بھی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ ‘ایک’ شخص آپ کے بالکل قریب ہوتا ہے اور آپ اسے ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔”
برہان یہ کہہ کر اپنا کپ اٹھا کر اندر کی طرف بڑھ گیا، مگر معراج وہیں بیٹھی اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔ اس کے دماغ میں برہان کی باتیں گونج رہی تھیں۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ کوئی اسے رحال سے موازنہ کیے بغیر دیکھ رہا ہے۔ وہ ‘عجیب انسان’ اب اسے اتنا برا نہیں لگ رہا تھا۔…

کافی کی تلخی اور برہان کی باتوں کی مٹھاس نے معراج کے دل پر ایک عجیب سا اثر کیا تھا۔ اس نے خالی کپ میز پر رکھا اور بنا کچھ کہے خاموشی سے اپنا بیگ اٹھایا۔ اب مزید وہاں رکنا اسے اپنے جذبات کے سامنے کمزور کر سکتا تھا۔ جب وہ وہاں سے چلی تو اس کی سیاہ ہیل کی ‘ٹک ٹک’ خاموش ہال میں کسی ردھم کی طرح گونج رہی تھی۔ برہان وہیں کھڑا اسے دور تک جاتا دیکھتا رہا، اس کے لبوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی، اس نے سر جھٹک کر خود سے کہا، “عجیب لڑکی ہے، جتنی اوپر سے سخت ہے، اندر سے اتنی ہی کرچی کرچی ہے۔”
معراج جب گھر پہنچی تو پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئی، رحال وہیں صوفے پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔ رحال نے اسے دیکھتے ہی کتاب ایک طرف رکھی اور مسکرا کر پوچھا۔
“آ گئیں تم؟ کیسا رہا پہلا دن؟ یونیورسٹی سے واپسی پر میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔”
معراج نے اپنا بیگ صوفے پر پٹخا اور تھکن سے بیٹھتے ہوئے بولی، “دن تو نہیں رحال، میں تو گئی ہی شام کو تھی، تو شام کا پوچھو۔”
رحال نے ہنس کر تصحیح کی، “اچھا بابا! تو بتاؤ کیسی رہی تمہاری پہلی شام؟ کوئی مشکل تو نہیں ہوئی؟”
معراج نے ایک لمبی سانس لی اور اس بدتمیز گاہک والے واقعے سے لے کر برہان کی کافی تک کا سارا قصہ سنا دیا۔
شکر ہے اس برہان نے تمہیں سنبھال لیا، ورنہ تم تو اس گاہک کا سر پھوڑ کر ہی آتیں۔”
میں اس کو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی الٹا میں ہی جوب سے نکلی جاتی ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں سب کھانے کی میز پر جمع ہو گئے۔ فرحان صاحب اورسلیماں بیگم ایک طرف بیٹھے اپنی باتوں میں مصروف تھے، جبکہ دوسری طرف رحال، معراج اور ان کے دونوں بھائی سلمان اور عثمان بیٹھے تھے۔
سلمان نے قورمے کی بوٹی توڑتے ہوئے شرارت سے عثمان کو کہنی ماری۔ “اوئے عثمان! سنا ہے ہماری ‘لیڈی ہٹلر’ اب باقاعدہ مینیجر بن گئی ہیں۔ اب تو بیکری کے سارے کیک اور پیسٹریاں گھر آیا کریں گی، کیوں معراج؟”
عثمان نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا، “بھائی! بیکری کی چیزیں تو تب آئیں گی نا جب یہ وہاں کسی کو ٹکنے دے گی۔ مجھے تو ڈر ہے کل سے وہ بیکری والا خود فون کر کے کہے گا کہ اپنی بیٹی کو گھر بٹھا لیں، ہمیں اپنا کاروبار پیارا ہے۔”
معراج نے گھور کر دونوں کو دیکھا۔ “تم دونوں اپنا کھانا کھاؤ، ورنہ میں نے تم لوگوں کا ناطقہ بند کر دینا ہے۔ اور ہاں، کوئی کیک نہیں آنے والا مفت میں، پیسے خرچ کرنا سیکھو!”
فرحان صاحب نے بچوں کا شور سن کر مداخلت کی۔ “ارے بھائی، میری بیٹی کو تنگ نہ کرو۔ معراج نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے، انسان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ سلیماں! آپ نے دیکھا، معراج میں کتنی تبدیلی آ گئی ہے؟”

سلیماں بیگم نے مسکرا کر سب کو دیکھا۔ “جی بالکل، بس اللہ کرے یہ بچے ہمیشہ ایسے ہی ہنستے کھیلتے رہیں۔ رحال بیٹا! تم کیوں خاموش ہو؟ تم نے تو کچھ کھایا ہی نہیں۔”
رحال، جو خاموشی سے سب کا مذاق سن رہی تھی، چونک کر بولی، “نہیں امی، میں کھا رہی ہوں۔ بس ان دونوں کی باتیں سن کر ہنسی آ رہی تھی۔”
میز پر قہقہے گونج رہے تھے، سلمان اور عثمان اب رحال کو چھیڑنے لگے کہ “اب تم ڈاکٹر بن جاؤ گی تو ہمارا علاج مفت میں کرنا”۔ اس رونق اور گھریلو شور شرابے میں معراج کا وہ بوجھل پن کافی حد تک کم ہو گیا، مگر اسے بار بار برہان کا وہ جملہ یاد آ رہا تھا: “کیا پتہ تم کسی ایک کے دل میں دھڑکنے کے لیے بنی ہو؟” اس نے چوری چھپے رحال کو دیکھا اور سوچا کہ کیا واقعی اس کی اپنی کوئی الگ پہچان ہو سکتی ہے، جہاں اسے کسی کے سائے میں نہ رہنا پڑے۔
لاہور کی صبح ہمیشہ سے ہی زندہ دل رہی ہے۔ “مصطفیٰ محل” کے وسیع و عریض باغ میں پرندے چہچہا رہے تھے اور مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا۔ علی مصطفیٰ اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا نیچے پھیلے ہوئے سبزے کو دیکھ رہا تھا۔ آج اسے ایک اہم میٹنگ کے لیے نکلنا تھا، مگر اس کا دل کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔
اس نے گہرے نیلے رنگ کا سوٹ زیب تن کیا، کلائی پر مہنگی گھڑی باندھی اور آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ اس کے چہرے پر وہ مخصوص سنجیدگی تھی جو لوگوں کو مرعوب کر دیتی تھی۔ کمرے میں “رحال” پرفیوم کی مہک ابھی تک رچی بسی تھی۔ علی نے ایک گہرا سانس لیا، جیسے وہ اس خوشبو کے ذریعے اسلام آباد میں بیٹھی رحال سے رابطہ کرنا چاہ رہا ہو۔
وہ نیچے آیا تو زرینہ بیگم ناشتے کی میز پر اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
“علی بیٹا! آج تو تم بہت ہینڈسم لگ رہے ہو،” انہوں نے مسکرا کر کہا۔
“شکریہ امی! بس آج ایک بڑی ڈیل فائنل ہونی ہے، دعا کیجیے گا،” علی نے کرسی سنبھالتے ہوئے کہا۔
ناشتے کے بعد، علی اپنی چمچماتی گاڑی میں بیٹھ کر لاہور کی مصروف سڑکوں پر نکل گیا۔ وہ جتنا اپنی کمپنی کا مالک تھا، اتنا ہی اپنی تنہائیوں کا اسیر بھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے جو نام (رحال) دنیا بھر میں مشہور کر دیا ہے، وہ لڑکی اب بھی اس کی دسترس سے دور ایک انجانے خوف میں مبتلا ہے۔
سلام آباد کی صبح آج بہت پرسکون اور سہانی تھی۔ سورج کی پہلی کرنیں کھڑکی کے پردوں کو چیرتی ہوئی کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔ معراج کی آج کالج سے چھٹی تھی، اس لیے اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ آج پورا دن بیکری میں گزارے گی۔
کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی معراج بڑے انہماک سے تیار ہو رہی تھی۔ اس نے گہرے جامنی (Plum) رنگ کا ایک خوبصورت لان کا جوڑا پہنا تھا جس پر سفید دھاگے کی نفاست سے کڑھائی ہوئی تھی۔ اس نے بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا جو اس کے کندھوں پر لہرا رہے تھے۔ کانوں میں چاندی کے چھوٹے سے جھمکے پہنے اور ہونٹوں پر ہلکی سی پنک لپ اسٹک لگائی۔ وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر مطمئن ہوئی؛ اس کے چہرے پر ایک نئی چمک تھی، شاید اس لیے کہ اب اس کے پاس جانے کے لیے ایک منزل اور ملنے کے لیے ایک ‘عجیب انسان’ تھا۔
تب ہی رحال کمرے میں داخل ہوئی، اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔ “واہ! آج تو ہماری مینیجر صاحبہ صبح سویرے ہی مورچہ سنبھالنے کے لیے تیار ہیں؟” رحال نے شرارت سے کہا۔
معراج نے پرفیوم چھڑکتے ہوئے جواب دیا، “ہاں رحال! آج وہاں کچھ نئے آرڈرز کی بکنگ ہے، اس لیے جلدی جانا ضروری ہے۔ تم کیا کرو گی آج سارا دن؟”
رحال نے ایک لمبی سانس لی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔ “بس کچھ اسائنمنٹس رہتی ہیں وہی مکمل کروں گی۔ تم جاؤ، دیر نہ ہو جائے۔” معراج نے اپنا بیگ اٹھایا، رحال کو خدا حافظ کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
معراج اپنی نیلے رنگ کی گاڑی میں بیٹھی اور انجن اسٹارٹ کیا۔ اسلام آباد کی کشادہ سڑکیں اور دونوں طرف لگے سبزہ زار اسے بہت بھلے لگ رہے تھے۔ اس نے گاڑی کا میوزک سسٹم آن کیا اور ایک دھیما سا رومانوی گانا لگایا۔
گانے کے بول فضا میں گونجے:
“کچھ ادھورے سے ہم، کچھ ادھورے سے تم…”
معراج کا ہاتھ اسٹیئرنگ پر تھا مگر اس کا ذہن کہیں اور تھا۔ اسے کل رات والی برہان کی کافی اور اس کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ وہ خود سے لڑ رہی تھی کہ وہ کیوں ایک عام سے شیف کے بارے میں اتنا سوچ رہی ہے، مگر اس کا دل جیسے اس کی بات ماننے کو تیار نہ تھا۔ وہ گنگناتے ہوئے گاڑی چلاتی رہی، کبھی کھڑکی سے باہر بھاگتے درختوں کو دیکھتی تو کبھی اپنی ہی سوچوں میں مسکرا دیتی۔ آج اسے اسلام آباد کی ہواؤں میں ایک نئی مہک محسوس ہو رہی تھی۔
گاڑی بیکری کی پارکنگ میں کھڑی کر کے معراج باہر نکلی۔ اس کی ہیل کی ‘ٹک ٹک’ آج کچھ زیادہ ہی پر اعتماد تھی۔ جیسے ہی اس نے “دی گولڈن اوون” کے شیشے والے بھاری دروازے کو دھکیلا، اندر سے تازہ بیک ہوئے کیک اور مکھن کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔
بیکری ابھی گاہکوں کے لیے پوری طرح نہیں کھلی تھی، ملازمین صفائی میں مصروف تھے۔ معراج کی نظریں لاشعوری طور پر کچن کے دروازے کی طرف اٹھیں۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا برہان آ چکا ہے۔
وہ اپنے کیبن کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک کچن سے برہان باہر نکلا۔ اس نے آج بھی وہی سفید کوٹ پہنا تھا، مگر اس بار اس کے گلے میں ایک کالا ایپرن (Apron) بھی بندھا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر برہان کے قدم رک گئے اور اس کی آنکھوں میں ایک دم سے چمک آئی۔
“گڈ مارننگ مینیجر صاحبہ! آج تو سورج کچھ جلدی نکل آیا ہے،” برہان نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
معراج نے اپنا وقار برقرار رکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا، “کالج سے چھٹی تھی، اس لیے سوچا وقت پر آ جاؤں تاکہ تمہاری سستی کی شکایت نہ آئے۔”
برہان نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا۔ “سستی اور برہان قریش میں ۔۔۔۔
میم! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو صبح پانچ بجے سے یہاں ہوں، آپ کے لیے ایک خاص ‘سرپرائز’ تیار کر رہا ہوں۔”
معراج نے ابرو اچکائے، “سرپرائز؟ کیسا سرپرائز؟”
برہان نے جھک کر شرارت سے کہا، “تھوڑا صبر کریں میم، پہلے اپنی کرسی سنبھالیں، سرپرائز آپ کی میز پر خود چل کر آئے گا۔”
معراج ایک نظر اسے دیکھ کر اپنے آفس میں چلی گئی، مگر اس کے لبوں پر وہ مسکراہٹ تھی جسے وہ دنیا سے چھپانا چاہتی تھی مگر خود سے نہیں چھپا پا رہی تھی۔
معراج ابھی اپنے آفس کی کرسی پر بیٹھی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ برہان اندر داخل ہوا، اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سفید پلیٹ تھی جس میں گہرے بھورے رنگ کی گرما گرم براؤنیز رکھی تھیں۔ ان پر پگھلی ہوئی چاکلیٹ اور اخروٹ کے باریک ٹکڑے کسی فن پارے کی طرح سجے ہوئے تھے۔ چاکلیٹ کی اشتہا انگیز خوشبو پورے کیبن میں پھیل گئی۔
“یہ کیا ہے؟” معراج نے فائل سے نظریں ہٹا کر پوچھا، حالانکہ اس کا دل خوشبو سے ہی پگھلنے لگا تھا۔
“یہ میرا نیا شاہکار ہے میم!” برہان نے پلیٹ میز پر رکھتے ہوئے بڑے مان سے کہا۔ “اس میں میں نے بیلجیئم چاکلیٹ کے ساتھ تھوڑا سا سمندری نمک (Sea Salt) اور اپنی خاص کافی کا بلینڈ استعمال کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے چکھ کر بتائیں کہ کیا ہم اسے اپنے مینو (Menu) میں شامل کر سکتے ہیں؟”
معراج نے اسے ایک نظر دیکھا۔ “تمہیں میری رائے کی اتنی ضرورت کب سے پڑ گئی؟ تم تو خود کو اس شہر کا سب سے بڑا شیف سمجھتے ہو۔”
برہان نے تھوڑا جھک کر، آنکھوں میں شرارت بھر کر کہا، “دیکھیں، میں کتنا ہی بڑا شیف کیوں نہ بن جاؤں، آخر مینیجر تو آپ ہی ہیں نا۔۔۔ ہماری چھوٹی سی مینیجر! آپ کی اجازت اور دستخط کے بنا تو میں اس کچن میں ایک تنکا بھی نہیں ہلا سکتا۔”
معراج نے دل ہی دل میں اس کے ‘چھوٹی سی مینیجر’ کہنے پر برا منایا مگر اس کے لہجے کی مٹھاس اسے اچھی لگی۔ اس نے کانٹا اٹھایا اور براؤنی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا توڑ کر منہ میں رکھا۔ چاکلیٹ کی بھرپور مٹھاس اور کافی کی ہلکی سی تلخی نے اس کی زبان پر ایک جادو سا کر دیا۔ معراج کو اعتراف کرنا پڑا کہ یہ اس کی زندگی کی بہترین براؤنی تھی۔
“کیسی ہیں؟” برہان نے بے صبری سے پوچھا۔
معراج نے چہرہ سپاٹ رکھا اور آہستہ سے کہا، “ہمم۔۔۔ بری نہیں ہیں۔ کافی اچھی ہیں۔ اسے مینو میں شامل کر لو، گاہکوں کو پسند آئیں گی۔”
برہان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے جھک کر ایک فرضی سلام کیا، “جو حکم صاحبہ! آپ نے کہہ دیا تو بس اب یہ ہماری بیکری کی پہچان بن جائیں گی۔” وہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ معراج اسے جاتا دیکھتی رہی اور جب وہ اوجھل ہو گیا تو دھیمے سے ہنسی، “پاگل مرد۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *