PATJHAR BY ALAM EPISODE: 4

پتجھڑ قسط نمبر ؛٤

ازقلم الم

یوشع جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوا تو ٹھٹک کر رکا کیونکہ آئرہ سلطان شاہ کے ساتھ لگے آنسو بہانے میں مصروف تھی۔
کبیر اپنے بیٹے سے کہو آ کر ہماری بات سنے” پتہ نہیں کیوں ان باپ بیٹی کے  لہجے میں اتنا تکبر تھا۔
“شاہ جان اپنے تایا حضور کی بات سنو آ کر” کببیر شاہ نے بیٹے کو دیکھ کر التجائیہ نظروں سے کہا تو اس نے گہری سانس بھری اور ان کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا چونکہ ان کے سامنے بیٹھنا بے ادبی میں شامل تھا ان کے قوانین کے مطابق۔
“تم نے آئرہ کو یونیورسٹی میں بےعزت کیا ہے؟؟” انہوں نے سرد لہجے میں استفسار کیا۔
“نہیں صرف سمجھایا تھا”
” تم  باپ لگتے اس کو سمجھانے والے” انہوں نے گرجدار آواز  میں پوچھا۔
” نہیں” اس نے ٹھنڈے انداز میں جواب دیا تو اس کے ایسے ایٹیٹیوڈ پر سلطان شاہ کا غصہ کچھ اور بڑھا تھا
” معافی مانگو آئرہ سے” انہوں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

“سوری؟؟” یوشع نے ایسے پوچھا جیسے اسے شاید سننے میں غلطی ہو گئی ہو “ہم نے کہا آئرہ سے معافی مانگو” انہوں نے اس بار سخت انداز میں کہا۔

“آپ کی لاڈلی نے کیا اپنی حرکت کے بارے میں بتایا ہے آپ کو”

“ہماری بیٹی جو چاہے کرے وہ کسی کو جوابدہ نہیں تم صرف اس سے معافی مانگو ” ان کی سوئی معافی پر ہی اٹکی ہوئی تھی۔
” اور وہ کس وجہ سے میں یونیورسٹی میں اس کا پروفیسر ہوں دن میں پتہ نہیں کتنے اسٹوڈنٹس کو ان کی غلطی پر ڈانٹ دیتا ہوں لیکن کبھی کسی سے بھی معذرت کرنے نہیں گیا تو آئرہ میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اس سے معافی مانگی جائے وہ بھی وہاں پر میری صرف سٹوڈنٹ تھی جو بدتمیزی کر رہی تھی میں نے ڈانٹ دیا “یوشع  نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پرسکون انداز میں کہا تھا جبکہ آئرہ کو اس کا سکون آگ لگا رہا تھا۔

” کیونکہ وہ آئرہ سلطان شاہ ہے، سلطان حاتم شاہ کی بیٹی اور میں کسی کو بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کے سامنے آواز بلند کرے”
” تو تایا جان میں بھی یوشع کبیر شاہ ہوں جو بنا غلطی کے اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا” اور اس کی بات پر سلطان شاہ نے طنزیہ نظروں سے دیکھا تھا۔
“تم کبیر شاہ کے ہی نہیں اس بدذات عورت کے بیٹے اور اس خبیث انسان کے بھانجے بھی ہو” جبکہ ان کی بات پر کبیر شاہ اور یوشع کے چہرے سرخ ہوئے تھے جبکہ صائمہ بیگم اور مفراہ نے تاسف سے انہیں دیکھا تھا البتہ بڑی بیگم اور ضرار وہاں موجود نہیں تھے۔
” بس تایا جان اب آپ حد سے بڑھ رہے ہیں” یوشع نے ضبط سے کہا تھا۔
“تم کل کے آئے لڑکے ہمیں ہماری حدود بتاؤ گے ہاں!!! ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے اب ہماری حدود بتائیں گے” ان کے لہجے میں حقارت تھی جبکہ یہ یوشع کے ضبط کی انتہا تھی۔

” میں اپنا کماتا ہوں خود پر اپنا کمایا خرچ کرتا ہوں اور رہی بات آپ کے ٹکڑے پر پلنے والی تو جس بزنس سے آپ کما رہے ہیں اس میں میرے باپ کا حصہ بھی موجود ہے اس لیے یہ طعنہ تو دیجیے گا بھی مت” اس نے طیش سے کہا۔

” اوہ تو ایسی بات ہے بزنس میں تمہارے باپ کا حصہ ضرور موجود ہے لیکن اس گھر کا سرپرست میں ہوں اس کے تمام فیصلے میں کرتا ہوں اور یہ میں طے کروں گا کہ یہاں کون رہے گا کون نہیں اس لیے نکل جاؤ میرے گھر سے ابھی کے ابھی” انہوں نے دروازے کی طرف بازو کرتے ہوئے کہا  تو یوشع نے گردن جھکا کر کھڑے باپ کو دکھ سے دیکھا جو نہ کل بھائی کے خلاف آواز اٹھا سکتے تھے نہ آج تو یوشع غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھا دی جو اس کا ذاتی تھا اور اس میں اس کی ضرورت کا سارا سامان موجود تھا وہ اکثر ٹھہرتا تھا وہاں جبکہ کبیر شاہ نے دکھ سے بیٹے کی پشت کو دیکھا تھا لیکن وہ بے بس تھے جبکہ آئرہ نے انگھوٹے سے آنسو صاف کیے اور باپ کے خود کی طرف متوجہ ہونے پر چہرے پہ دوبارہ معصومیت طاری کر لی اس کا مقصد کامیاب رہا تھا یوشع کو گھر سے نکلوا دیا تھا
صائمہ بیگم نے دکھ سے گردن ہلائی تھی جبکہ مفراہ کی آنکھوں میں صرف کدورت تھی
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
” تو بالآخر بلیک ہارٹ لاہور میں موجود ہے” اشعث نے میسج ٹائپ کیا
” جی اور  اب پلان کے اگلے قدم کی طرف بڑھنے کا وقت ہے اور وہ ہے آئرہ انٹرپرائزز میں انٹری” دوسری طرف سے جوابی میسج موصول ہوا تھا
“چلو  آل دی بیسٹ” ٹائپ کرتے ہی موبائل رکھ دیا
کیا ہوگا انجام کیا ماضی کی الجھی گتھیاں حال میں سلجھ پائیں گی

°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔°
رات کا دوسرا پہر تھا شہر کے بہت سے لوگ اپنے گھروں میں پرسکون نیند سو رہے تھے تو بہت سے اپنے ہی گھروں میں ذہنی انتشار کا شکار تھے اپنے غم کو آنسوؤں کی صورت نکال رہے تھے تو بہت سے لوگ گھروں سے باہر در در بھٹک رہے تھے  کسی کو زندگی کا لطف اٹھانا تھا تو کسی کا مقصد تھا اس دل کو چیرتے ہوئے غم سے نجات پانا تھا ایسے میں یوشع اپنے فلیٹ کی بالکنی میں بیٹھا تھا سامنے میز پر بھاپ اڑاتی کافی کا مگ پڑا تھا اور اس کے بازوؤں میں گٹار دبا ہوا تھا
یوشع کی نظریں سامنے سیاہ آسمان پر نظر آتے چاند پر تھی اور خیالات کے دھاگے اپنی پہلی محبت اپنی سب سے محبوب ہستی اپنی ماں کی طرف۔ وہ بھی اس کی زندگی میں اس چاند کی جیسی تھیں اس کی سیاہیوں بھری زندگی کو روشن کرتی ہوئی دلکش روح پرور اور آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی ہوئیں بالکل اس چاند کی طرح اس کی انگلیوں نے بے ساختہ گٹار پر ساز چھیڑا  پھر اس کی آواز کا جادو فضا میں بکھرنے لگا

پاس آئے دوریاں پھر بھی کم نہ ہوئیں
اک ادھوری سی ہماری کہانی رہی
آسماں کو زمین یہ ضروری نہیں جا ملے جا ملے
عشق سچا وہی جس کو ملتی نہیں منزلیں
رنگ تھے نور تھا جب قریب تو تھا
اک جنت سا تھا یہ جہاں

اس کو بے ساختہ وہ تمام حسین پل یاد آئے جو اس نے اپنی ماں کے سنگ بتائے تھے
” کیا ہوا میرے شاہ جان کو اتنا سیڈ سیڈ کیوں بیٹھا ہے؟؟” خوبصورت سی لڑکی سامنے سرخ گالوں والے ناراض سے بیٹھے بچے کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی جبکہ ماں کی آواز سنتے وہ بے ساختہ ان کے ساتھ لپٹا تھا۔

“مما تایا جانے پھر ڈانٹا میں آئرہ کے ساتھ کھیل ہی تو رہا تھا مجھے وہ پیاری لگتی ہے چھوٹی سی گڑیا جیسی” بچے نے معصومیت سے خفا خفا لہجے میں جواب دیا جسے سنتے لڑکی کا چہرہ پھیکا پڑا تھا مگر پھر بھی وہ مسکرا دی

“کیونکہ یہ گڈا تو ابھی خود بہت چھوٹا ہے چھوٹی سی گڑیا کیسے سنبھالے گا اسی لیے تایا جان نے منع کیا میری جان کو اور جب یہ گڈا بڑا ہو جائے گا تو اللہ جی اس کو بھی پیاری سی گڑیا دے دیں گے” اس نے بچے کے گالوں پر پیار کرتے ہوئے بہت محبت سے اسے سمجھایا۔

” مما وہ گڑیا گرے انکھوں والی  ہونے چاہیے پریٹی بالکل آپ کی طرح” اس نے کہتے  اپنی چھوٹی سی انگلی ماں کی انکھوں پر رکھی جبکہ وہ مسکراتی ہوئی آنکھیں بند کر گئیں۔

“شاہ جان ویسے وہ گرے انکھوں والے ڈول پیاری ہو گئی کہ مما؟؟” انہوں نے بڑے رازدانہ انداز میں سوال کیا تو جوابا وہ منہ ان کے کان کے پاس لے کر گیا جیسے بہت راز کی بات ہو اور اس کی ماں بھی چہرے پر اشتیاق تیار طاری کیے اسے سننے کے لیے مکمل تیار تھی
“اف کورس ڈول مما کیونکہ وہ میری ہوگی نا” اس کے سرگوشی انداز میں کہتے ہی ماں نے خفگی سے اسے گھورا۔
“جاؤ یش مما آپ سے بات ہی نہیں کر رہی آپ کو مما پریٹی نہیں لگتی” وہ کہتے ہی رخ موڑ گئی
” جی مما کیونکہ آپ پریٹی نہیں آپ حسین ہو” اس نے ماں کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا تو وہ مسکرا دیں اور اسے کھینچ کر سامنے گرا لیا
“اچھا بچو ماں کو مسکا لگاتے ہو رکو تم تو ذرا” انہوں نے اس کو گدگدی کرنا شروع کی
” ہا ہا ہا ہا!! نو ۔۔۔مما نو ۔۔۔۔مما ۔۔۔مما نہیں کریں”وہ ہنستے ہوئے چِلّا رہا تھا دونوں ماں بیٹے کی کھلکھلاہٹتوں سے کمرہ گونج اٹھا تھا

وقت کی ریت پہ کچھ میرے نام سا
لکھ کے چھوڑ گیا تو کہاں
ہماری ادھوری کہانی
ہماری ادھوری کہانی
ہماری ادھوری کہانی

یوشع کی آنکھ سے آنسو گرتا ہوا اس کے بیرڈ میں جذب ہوا۔

اب یاد کے پردوں پر منظر مختلف تھے وہ پانچ سالہ بچہ اپنی ماں کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹا ہوا سہما سا کھڑا تھا
“کبیر نکالو اس بدذات کو بھی کہ ابھی یہاں سے” سلطان شاہ کی گرج پر بچہ کچھ اور سہم کر ماں کے ساتھ لپٹا۔

“کبیر آپ نے سنا نہیں ہم نے کیا کہا نکالو اسے یہاں سے یہ ہمارا حکم ہے” انہوں نے خاموش کھڑے کبیر شاہ کو کہا جو بے بس نظروں سے بیوی اور بیٹے کو دیکھ رہے تھے جبکہ لفظ حکم پر ان کے وجود میں حرکت ہوئی تھی اور اپنی بیوی کے سامنے جا کر کھڑے ہوئے جب کہ انہیں سامنے دیکھتے اس لڑکی کا دل بے ساختہ کانپا تھا اس نے نفی میں گردن ہلائی ۔
“کبیر نہیں” انہوں نے ان کے متوقع عمل سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی وہ شاید ان کی انکھوں میں دیکھتے ان کے ارادوں کو جان چکی تھی

” میں کبیر حاتم شاہ اپنے پوروں پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”

” کبیر!!!” شوہر کا نام سرگوشی کی صورت ان کی زبان سے نکلا تھا اور ان کی انکھوں میں ابھرتی بے یقینی دیکھ کر کبیر شاہ کو لگا تھا کسی نے ان کا دل پتھر سے کچل دیا ہو جبکہ وہ تو ابھی تک سکتے میں تھی اس کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا اس کا محبوب شوہر جو اس پر جان دیتا تھا وہ اس پر ایسا ستم  کر سکتا ہے؟؟؟
انہیں اپنے ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی وہ بے ساختہ لڑکھڑا کر نیچے گری تھی۔

” طلاق دیتا ہوں!!!” یہ لفظ کہتے ہوئے کبیر شاہ ہر پل مرے تھے جب کے سامنے بیٹھے وجود پر تو زندگی کا گمان تک نہ ہوتا تھا اتنی بے رونق تھی  آنکھیں جن سے کبھی کبیر شاہ کو عشق ہوا تھا اور انہی انکھوں سے انہوں نے خود خوشیاں، زندگی ،رونق نوچ کر اتاری تھی۔

” طلاق دیتا ہوں” آخری مرتبہ یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کبیر شاہ کو لگا تھا ان کا دل کیوں نہ پھٹا کیوں ان کی سانسیں نہ تھمی ۔

صائمہ بیگم چند ماہ کی آئرہ اٹھائے پلر سے ٹیک لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اس ظلم پر جبکہ بڑی بیگم اور سلطان شاہ کی گردن غرور سے کچھ اور بلند ہوئی تھی ان کی انا جیت گئی تھی جبکہ محبت ہار گئی تھی۔

ان کی انا نے ایک بچے کا خوشیوں بھرا آشیانہ بکھیر دیا تھا دو محبت کرنے والوں کو جدا کر دیا تھا کیا انہیں اپنے انجام کا خوف نہ تھا کیا انہیں نہیں پتہ تھا کہ خدا کی پکڑ کس قدر مضبوط ہوتی ہے کیوں وقت کے فرعون بن بیٹھے تھے۔

” مما!!!” یوشع نے آگے بڑھ کر ساکت بیٹھی اپنی ماں کے وجود کو اپنی ننھی ننھی باہوں میں سمیٹا تھا بیٹے کے سینے سے لگاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کا رودی تھی۔
پتہ ہے زندگی کا سب سے اذنیت ناک لمحہ کیا ہوتا ہے جب معصوم عمر میں ماں باپ کے بلکتے وجود کو سہارا دینا پڑے وہ آپ کے سپر ہیرو ہوتے ہیں لیکن انہیں بکھرتا ہوا دیکھنا کہیں اندر سے آپ کو توڑ دیتا ہے اور وہ ٹوٹا ہوا حصہ ساری زندگی کے لیے کبھی نہیں جڑتا وہ ایک کونا ہمیشہ ویران رہتا ہے۔
” مما چپ ہو جائیں!! اچھے بچے نہیں روتے نا شاہ جان بھی نہیں رو رہا مما بھی نہ روئیں اب۔۔۔” اس نے ایک ہاتھ سے ماں کے بہتے آنسو صاف کیے جبکہ دوسرے سے اپنے اس کے معصومیت سے کہتے انہوں نے اسے سینے میں بھینچ لیا تھا۔

کچھ لمحے بعد وہ اٹھی اپنے آنسو صاف کیے یوشع کا ہاتھ پکڑا اور جا کر کبیر شاہ کے سامنے کھڑی ہو گئی
“ہر چیز کو فنا ہوتا ہے ہر چیز کا انجام ہوتا ہے آج اپ کی محبت کا بھی ہو گیا آپ نے ہمارے راستے جدا کر دیے خود اپنے ہاتھوں سے آپ نے   خود اپنا خوشیوں کا محل اجاڑا ہے کبیر مگر میں بنا کوئی شکوہ کیے بنا کسی احتساب کے اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر جا رہی ہوں میں آپ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتی ہوں” انہوں نے یوشع کے بازو پر پکڑ مضبوط کی اور اس ساتھ لیے چل  پڑیں۔
جب کوئی معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے تو ہمیں اسی وقت اپنے انجام سے خوفزدہ ہو جانا چاہیے کیونکہ وہ منصف ہے انصاف کرتا ہے عدل کرتا ہے اور ظلم برداشت نہیں کرتا تو ظالم کو چاہیے کہ وہ جان لے کہ خدا کا قہر عنقریب اس کے اوپر نازل ہونے والا ہے وہ ظلم معاف نہیں کرتا
“رکو تم جیسی بدذات عورت اس قابل نہیں ہے کہ وہ شاہ خاندان کا وارث پالے اس لیے ابھی نکل جاؤ یہاں سے اور کبیر کے بیٹے کو چھوڑ کر ” سلطان شاہ کی آواز سنتے ہی اس لڑکی کے چہرے پر زلزلے کے تاثرات تھے۔
” یہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں ہاں؟؟؟ وہ میرا بیٹا ہے بچے پر پہلا حق ماں کا ہوتا ہے میں نے اسے نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا ہے میں نے اسے اپنے دودھ سے سینچا ہے اسے میں نے پالا ہے آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں ” وہ ان کے سامنے آ کر ہذیانی انداز میں چیخی تھی۔

“ہم نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے یا تو اسے چھوڑ جاؤ زندہ یا پھر مردہ ساتھ لے جاؤ فیصلہ تمہارا ہے” ان کی آواز کی سفاکی اور ان کے چہرے پر چھائی وحشت دیکھ کر ابلیس کا سا گمان ہوتا تھا وہ ایک بچے کو مارنے کی بات اتنی اسانی سے کیسے کہہ سکتے تھے ان کی بات پر کبیر شاہ نے بھی بے یقینی سے بھائی کو دیکھا۔

“آپ ۔۔۔آپ ایسا نہیں کریں گے “اس لڑکی نے لڑکھڑاتے لہجے میں ان سے زیادہ خود کو یقین دلانے کی کوشش کی تھی تم جانتی ہو ہم ایسا  کر سکتے ہیں اس کی آنکھوں میں دیکھتے چیلنجنگ انداز میں کہا تو اس کے قدم بے ساختہ لڑکھڑائے تھے اور اسے کہیں اندر پورا یقین تھا کہ وہ ایسا کرنے میں لمحہ بھی نہیں لگائیں گے۔

“سلطان شاہ ایک ماں کو بیٹے سے جدا کرتے ہوئے خدا کا خوف کریں خدا سے ڈریں اپنی ہونے والی متوقع پکڑ سے ڈریں کیوں آپ کو خدا کا خوف نہیں آتا کیوں آپ کا دل نہیں کانپتا کیوں آپ کے دل میں رحم نہیں آتا  کیوں اپ میرے بیٹے کو مجھ سے جدا کر رہے ہیں ساری دنیا تو اجاڑ دی ہے آپ نے مجھ سے میری جینے کی وجہ نہ چھینں میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں میں آپ سے بھیک مانگتی ہوں مجھے میرا بیٹا لے جانے دیں وہ میرے جینے کی اخری امید ہے اپ کو خدا کا واسطہ ہے” وہ بے بس ماں سلطان شاہ کے پاؤں میں پڑی ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بلک بلک کر اپنے بیٹے کے لیے فریاد رہی تھی ان کی حالت دیکھ کر کبیر شاہ کو لگ رہا تھا کہ وہ کسی بھی وقت دل کی تکلیف سے مر جائیں گے اپنی محبت کو اتنی تکلیف میں کیسے دیکھ سکتے تھے مگر وہ بے بس تھے یا شاید بزدل۔
” لڑکی ہمارا فیصلہ آخری فیصلہ ہے یا مردہ لے جاؤں یا زندہ چھوڑ جاؤ” ان کے ساتھ سفاکیت سے کہتے ہی اس لڑکی کے ہاتھ پہلو میں گرے تھے اس کی حقیقتاً دنیا تو اب لوٹی تھی اس کا بیٹا اس سے چھین لیا جا رہا تھا پھر ایک فیصلہ کرتے ہوئے وہ بیٹے کے سامنے جا بیٹھی۔

“شاہ جان مما جا رہی ہیں اور بیٹا میرا بیٹا کبھی مما کو غلط نہ سمجھنا مما مجبور تھیں یوشع کبھی اپنے بابا سے نفرت مت کرنا وہ تمہاری ماں کے بعد تمہارے سب سے بڑے خیر خواہ ہیں  کوئی کچھ بھی بولے تم نے صرف ایک بات یاد رکھنی ہے مما شاہ جان سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہیں شاہ جان مما کو کبھی مت بھولنا” انہوں نے بیٹے کے بال سہلاتے ہوئے کہا مگر آخر میں ان کا لہجہ بھیگ گیا تھا اس قدر تکلیف تھی اس ماں کی لہجے میں لیکن وہاں کھڑے کسی بھی جابر انسان کے دل پر وہ لہجہ اثر انداز نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے بیٹے کے ساتھ پر اس کی زندگی کو فوقیت دی کیونکہ وہ جانتی تھی سلطان شاہ جو کہتا ہے وہ کرتا ہے۔
انہوں نے یوشع کو خود سے لپٹایا اس کے چہرے کے ہر نقش کا بوسہ لیا اس کے ہاتھوں کو چومائ وہ اس کے لمس کو تاعمر کے لیے خود کے ساتھ سمیٹ کر لے جانا چاہتی تھی
” مما آپ مجھ سے ملنے آؤ گے نا” اس معصوم بچے نے آنسو بھری انکھوں کے ساتھ معصومیت سے سوال کیا وہ بچہ تھا مگر اتنا نا سمجھ نہیں تھا وہ جان گیا تھا کہ اس کے تایا نے اس کی ماں کو اس کی زندگی سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے وہ چاہے گا تو بھی ساتھ نہیں جا پائے گا اس بچے نے چھوٹی عمر میں صبر کرنا سیکھ لیا تھا۔

“جی میری جان انشاءاللہ مما اپ سے بہت جلد ملنے آئیں گی” انہوں نے یوشع کو سینے سے لگاتے ہوئے اس کے سر کا بوسہ لیتے ہوئے جیسے خود سے بھی ایک عہد کیا تھا۔

“میں خدا کے بعد اپنا بیٹا آپ کی امان میں دیتی ہوں محبت نہیں سنبھالی گئی آپ سے مگر امید ہے بیٹے کو سنبھال لیں گے خدا حافظ!!” کبیر شاہ نے ان کے یہ آخری الفاظ تھے جو سنے تھے دوبارہ انہیں وہ آواز سننا نصیب نہیں ہوئی تھی۔

یوشع نے آخری نظر جاتی ہوئی ماں پر ڈالی اور دوسری باہر نظر آتے آسمان پر مما کہتی تھی وہاں اللہ رہتا ہے جو سب دیکھتا ہے کیا اس کو نہیں دکھ رہا تھا کہ اس کی مما جا رہی ہیں وہ کیسے رہے گا اپنی مما کے بنا ایک معصوم ٹوٹے دل کی پکار عرش تک گئی تھی یقینا اس بصیر تک بھی پہنچی تھی مگر اس کے فیصلے وہی جانے۔

جاتی ہوئی لڑکی نے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا تھا وہ جانتی تھی کہ اگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھے گی تو اس کا دل پھٹ جائے گا وہ اپنے فیصلے پر قائم نہیں رہ سکے گی اور اس وقت اس کا ان کی زندگی سے نکل جانا ہی بہتر تھا اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ گواہ تھی کہ وہ اپنی دنیا گنوا کر جا رہی تھی۔

اس نے جاتے ایک نظر اپنے سر پر ڈلی اس نیلی چادر پر ڈالی تھی  “اللہ جی دیکھ رہے ہیں” اور اسی صدا کے ساتھ ایک ایسی کڑک دار بجلی کی آواز آئی تھی کہ جس کے دہشت سے دل پھٹ جائیں پھر آسمان کا سینہ چیر کر شدید بارش زمین پر برسی تھی گویا آسمان بھی بیٹے کی ماں سے جدائی پر رو دیا ہو وہ آخری دن تھا جب یوشع نے اپنی ماں کو دیکھا تھا اس کے بعد سے اس کے باغ بہاراں پر پت جھڑکا ہی بسیرا رہا تھا۔

خوشبوؤں سے تیری یوں ہی ٹکرا گئے
چلتے چلتے دیکھو نا ہم کہاں آگئے

اس کی آواز بےانتہا درد تھا
ماں کی یادوں کی خوشبو میں گم ہو کر اکثر وہ ماضی میں کھو جاتا تھا اسے آج بھی اپنی ماں کی خوشبو اپنی ماں کا لمس پہلے دن کی طرح یاد تھا اسے آج بھی محسوس ہوتا تھا اس کی ماں کا وہ آخری اس کے سر پہ دیا ہوا بوسہ۔

جنتیں گر یہی تو دکھے کیوں نہیں
چاند سورج سبھی ہیں یہاں
انتظار تیرا صدیوں سے کر رہا
پیاسی بیٹھی ہے کب سے یہاں
ہماری ادھوری کہانی
ہماری ادھوری کہانی

“مما۔۔۔۔ مما!!!! شاہ جان مس یو پلیز کم مما میرا دم گھٹ رہا ہے یہاں دنیا آپ کے یش پر بہت ظلم کرتی ہے آپ آ جاؤ وہ کہتے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا وہ جواں سالہ مرد بلک بلک کر رو رہا تھا آسمان پر چمکتا چاند اداسی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
یوشع کی انکھ بچتے ہوئے فون کی وجہ سے کھلی تھی وہ رات کو بالکنی میں ہی شاید سو گیا تھا ابھی فضا میں خنکی نہیں بڑھی تھی اس لیے صبح صبح چلتی ہلکی ہلکی میٹھی سی ہوا طبیعت پر خوشگوار سا اثر چھوڑ رہی تھی۔

“السلام علیکم!!” فون اٹھاتے دوسری طرف اشعث کی آواز ابھری۔

“وعلیکم السلام!!” یوشع کی آواز میں ابھی بھی نیند کا خمار تھا
” سو رہے تھے؟؟”
” ہممم”
” ابھی تک؟؟؟؟” اشعث نے گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے حیرت سے سوال کیا کیونکہ وہ جانتا تھا یوشع کو صبح جلدی اٹھنے کی عادت تھی اور ابھی صبح کے ساڑھے نو ہو رہے تھے۔
” ہاں وہ بس رات کو دیر سے آنکھ لگی تھی اسی لیے ” اس نے جمائی روکتے ہوئے جواب دیا اس کی آواز نیند اور رونے کی وجہ سے بوجھل تھی۔
” تو ٹھیک ہے؟؟” اشعث نے فکر مند لہجے میں سوال کیا وہ بھی اس کی آواز کا بوجھل پث محسوس کر چکا تھا۔
“ہاں مجھے کیا ہونا ہے” اس نے لہجے کو بے پرواہ بناتے ہوئے جواب دیا
“اچھا چل پھر جلدی سے فریش ہو کر ریسٹورنٹ آ جا تجھ سے ملنا ہے”

“میں اپنے اپارٹمنٹ میں ہوں وہیں آ جا”

” تو اپارٹمنٹ میں کیا کر رہا ہے” اشعث نے حیرت سے سوال کیا کیونکہ اشعث کو علم تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ رات کو حویلی میں ہی رکتا تھا

“تم آ جاؤ مل کر بتاتا ہوں” یوشع نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔

” امی ناشتہ تو پیک کر دیں دوست کے لیے لے کر جانا ہے”اشعث اپنے دھیان میں کچن میں داخل ہوا تھا  مگر سامنے مشکوٰۃ کو کام کرتے دیکھ کر ٹھٹک کر رکا جبکہ صبح صبح اسے دیکھتے موڑ خوشگوار ہو گیا تھا۔

” شاہ جی بڑی امی تو کمرے میں آرام کرنے چلی گئی ہیں میں بنا دیتی ہوں کیا بنانا ہے؟” آج سنڈے تھا تو مشکوٰۃ نے بڑی امی کو آرام کرنے کے لیے بھیج دیا تھا جبکہ خود کچن سمٹنے میں لگ گئی۔

“یوشع کے لیے لے کر جانا ہے کچھ بھی بنا دو اس کی پسند کا” اشعث اس کے لیے ناشتہ پیک کروا رہا تھا کیونکہ اس کی آواز سے اسے کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اپسٹ ہے اور اداسی میں سب سے پہلا کام وہ کھانا چھوڑنے کا ہی کرتا تھا۔
” بھائی کے لیے خیریت؟؟”
” ہاں بس ویسے ہی ملنے جا رہا تھا تو سوچا لیتا جاؤں”اس نے اپنے لہجے کو سرسری سا بناتے جواب دیا۔
“اچھا اب کچھ دیر انتظار کریں میں بنا دیتی ہوں” اس کے نارمل انداز میں مشکوۃٰ نے بھی زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا  وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ بتانا نہیں چاہ رہا۔
دس پندرہ منٹ بعد ناشتے کا ٹفن اور چائے کا تھرمس اس نے اشعث کو تیار کر کے پکڑا دیا تھا ۔

جاری ہے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *