ٹھہراؤ قسط نمبر ؛ ٣
ازقلم حمنہ خان
باب ۷
ایک ہفتہ بعد۔۔۔۔۔۔
ذکرہ نور دسویں جماعت میں اچھے نمبروں سے پاس ہوئی تھی، اور پھر بارہویں میں بھی اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ اسی لیے اس کے گھر والوں نے اس کے ہاتھوں میں ایک بہت بڑا خواب سجا دیا تھا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ نیٹ کا امتحان دے۔
پہلی دفعہ اس نے شوق سے امتحان دیا تھا، اور اس بار اس نے واقعی بہت اچھا اسکور کیا تھا۔
گھر والوں نے دوسری دفعہ بھی اسے امتحان دلایا۔ دوسری بار اس نے بس ٹھیک ٹھاک ہی دیا، مگر اس کا اسکور پہلی دفعہ سے کم رہا تھا۔
تیسری دفعہ گھر والوں نے اسے زبردستی امتحان دینے کا کہا تھا۔
یوں دو تین سال گزر گئے، اور اس کے ساتھ گہرا ڈپریشن بھی آتا چلا گیا۔ اب گھر والے سمجھنے لگے تھے کہ اس کے علاوہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتی، اور ذکرہ خود بھی یہ سمجھنے لگی تھی کہ اب وہ کچھ کرے یا نہ کرے، سب ایک برابر ہے۔ اسے لگتا تھا جیسے زندگی ختم ہو چکی ہو۔
وہ دوسروں کو ہنساتی تھی، مگر خود کو اندر ہی اندر ایک خالی، اندھیرے کنویں میں بند محسوس کرتی تھی۔
اور اسی سال اسے تیسری دفعہ نیٹ کا امتحان دینا تھا۔ اس کی خواہش یہ تھی کہ وہ کالج میں داخلہ لے—مگر یہ صرف اس کی خواہش تھی، بس اس کی۔
اس دن فبیحہ، ابوذر کے ڈاکیومنٹس لے کر بازار آئی تھی۔ ڈاکیومنٹس کی فوٹو اسٹیٹ کروانی تھی۔ یہ اس کے نئے کلاس کے ایڈمیشن پروسس کے لیے تھے، اس لیے ابو زر اس کے ساتھ تھا۔ اور جب یہ دونوں ساتھ ہوتے تھے تو صرف ساتھ نہیں ہوتے تھے۔
ابو زر آئس کریم لے آیا تھا۔ ان دونوں کے ہاتھوں میں آئس کریم تھی۔
دکان کے ایک کونے میں ظاہر ہاشم بیٹھا تھا۔ اس کی نظر ان دونوں پر پڑی، مگر ان دونوں کی نظر اس پر نہیں تھی۔ وہ یہاں فلائٹ بک کروانے آیا تھا، نیٹ ورک کے مسئلے کی وجہ سے اسے یہاں آنا پڑا تھا۔
فبیحہ کرسی پر بیٹھی تھی، اور ابو زر ڈیسک کے سامنے کمپیوٹر والے کو ایک ایک کر کے ڈاکیومنٹس دے رہا تھا۔ ظاہر ہاشم کی نظر فبیحہ کے چہرے پر ہی ٹھہری ہوئی تھی—وہ نظریں ہٹی ہی کب تھیں؟
آئس کریم ختم ہو چکی تھی۔ فبیحہ نے بیگ سے ایک چھوٹا سا شیشہ نکالا تھا۔ شیشہ بہت خوبصورت تھا—ہوتا بھی کیوں نہ، آخر لڑکی کا تھا، اس پر ایک باربی ڈول بنی ہوئی تھی۔
اس نے شیشہ سامنے رکھا، بال سیدھے کیے اور ٹشو سے چہرہ صاف کیا۔ اسی لمحے اس کی نظر سامنے دیوار پر جا ٹھہری۔
دیوار پر خطاطی آویزاں تھی—یقیناً بیچنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ چاروں طرف خطاطی کے قیمتی اور خوبصورت نام لکھے ہوئے تھے۔ دیواروں پر شیشے کے فریموں میں بند خطاطی کی تصویریں لگی تھیں، مگر ان سب پر کافی دھول جمی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ وہاں پینٹنگز اور خوبصورت نقشے بھی آویزاں تھے۔
اس نے بیگ سے چند ٹشو نکالے۔ جتنی خطاطی شیشوں میں لگی تھی، اس نے آہستہ آہستہ ٹشو سے صاف کر دیے تھے۔ باقی پینٹنگز اور خوبصورت نقشے وہیں رہنے دیے—وہ یہاں صفائی کرنے تو آئی نہیں تھی۔
وہاں بیٹھے شخص کے چہرے سے مسکراہٹ جا ہی نہیں رہی تھی۔
دکان کا مالک کرسی سے اٹھ کر فبیحہ کے پاس آیا تھا۔
شکریہ کہنے کے بعد اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ فبیحہ نے سینے پر ہاتھ رکھا، سر جھکا کر شکریہ ادا کیا۔
“یہاں آنے والی آپ پہلی لڑکی نہیں ہیں،”
اس شخص نے کہا،
“مگر اس دھول کو دیکھنے والی… آپ پہلی لڑکی ہیں۔”
کیونکہ آنکھیں تو صرف میری بہن کے پاس ہیں۔”
ابو زر نے حسبِ عادت موقع جانے نہیں دیا اور طنز کر ہی دیا۔
“اس کا تو یہی کام ہے—گھر میں کسی کونے میں دھول نظر آ جائے تو چھوڑتی نہیں۔”
“تو پھر آپ کا گھر یقیناً سکون سے بھرا ہوگا، جہاں ایسی بہن رہتی ہو۔”
اس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
“بہن تو ہر گھر میں ہوتی ہے، مگر ایسا ہر گھر میں نہیں ہوتا—”
وہ ذرا رکا تھا، پھر کہا تھا۔۔
“سکون کا تو پتہ نہیں مگر یہ سکون سے گھر میں بیٹھنے نہیں دیتی” ابو زر نے فبیا کے غصّہ کی حد کر دی تھی…
وہ دور سن کر ہنسا تھا..
“چاہے تو انہیں دکان پر رکھ دے صفائی میں کام آجاے گی، صفائی کے بغیر انہیں کچھ خاص آتا نہیں”
زیادہ نہیں ہو گیا؟؟ آج رات کے کھانے کے بغیر سونا تم۔۔ وہ غصّے سے کہہ کر باہر آئی تھی۔۔۔
اندر ہر شخص زور سے ہنسا تھا۔۔ ابو زر بھی ہنسا تھا۔
بہن بھائی کے رشتے میں یہیں تو خوبصورتی ہوتی ہے۔۔
زکرا کا والد اسکے بچپن میں ہی گزر گیا تھا۔۔ تب وہ دو مہینے کی تھی،، پھر اس کی ماں کی شادی اس کے چاچو سے کر دی گئی تھی، جو اس وقت کنوارا تھا، اسے کبھی باپ کی کمی محسوس ہوئی نہیں تھی بلکہ اسے اس کا باپ یاد ہی نہیں تھا، نہ اس نے اسے دیکھا تھا نہ ان کی محبت پا سکی تھی۔۔۔ اس کی ایک بہن تھی “شیریں نور” جو اس سے دو سال چھوٹی تھی، یہ الگ بات ہے وہ اس سے بڑی لگتی تھی۔۔۔
ان دونوں کے باپ ایک نہیں تھے، مگر خون تو ایک ہی تھا، البتہ یہ دونوں اگر بد قسمتی سے دو منٹ سے زیادہ ساتھ ہوتی تو بنا مطلب اور بے معنی لڑتی تھی…
گاؤں میں ایک لبرری تھی وہ روز وہاں جاتی تھی صبح دس بجے، اور شام پانچ بجے اس کی واپسی ہوتی تھی کھانا اور چاۓ وہ ساتھ لیتی تھی…
ابوبکر کچھ دن سے ادفر کا تعاقب کار تھا،، اور آج اس نے اس سے بات کر ہی لی تھی…
ادفر نے اسے کچھ ملاقاتوں کے بعد نمبر دے ہی دیا تھا۔۔۔ ایک بار، دوسری بار، تیسری بار، اور پھر یہ بار بار کی بات نہیں ہر بار کی بات ہو جاتی ہے۔۔(غیر تعلقات)…
ان دونوں کے بارے میں ان کے سب دوست جانتے تھے۔۔ یہ دونوں آسمان پر تھے،، نہیں آسمان سے تو گھرنے کا ڑر ہوتا ہے ‘حرام تعلق’ میں ڑر تھوڑی ہوتا ہے…
ظاہر ہاشم کے گھر سے دن میں دو تین فون آتے تھے، یوں تو وہ زیادہ گھر سے باہر ہی رہتا تھا مگر اس بار گھر والے اسے کسی وجہ سے فوراً بھولا رہیں تھے۔۔ اس وقت وہ دوپہر کے کھانے کے بعد حویلی سے باہر آیا تھا۔۔ اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھی، وہ زمین پہ پڑے کنکروں کو پیر سے اِدر اُدر کر رہا تھا وہ وقت نکال رہا تھا۔۔۔
فبیا کالج سے واپس آ رہی تھی، آج ادفر کالج نہیں گئ تھی اس لیے فبیا واپس جلدی آئی تھی، اس نے بریک کے بعد کے کلاس نہیں دینے تھے آج۔۔۔
اس نے ظاہر ہاشم کو سیگریٹ سے دھواں اُڈاتے دیکھا تھا، اُن سب دوستوں میں اسے ظاہر ہاشم ہی تو سب سے بھولا اور شریف لگتا تھا۔۔
وہ رک گئی تھی……… سامنے کُتّے تھے ایک نہیں گلی کے سارے کتّے، کتّوں کا ارادہ اسے کھانے کا نہیں تھا مگر انہیں اس کے ڑر نے اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا، وہ سامنے اس کی طرف پشت کیے کھڑی تھی، مگر وہ اسے اب ہر طرف پہچانتا تھا….
وہ اس کے پاس آیا تھا،،
اس نے زمین سے کنکر اٹھا کر دور فینکا تھا، سارے کتّے باگ گئے تھے،،،۔ فبیا نے بھی تین بار کنکر اٹھا کر فینکے تھے، کتّے ٹس سے مس نہیں ہوۓ تھے۔۔۔
وہ اس کی طرف موڑی تھی، اس کی نظر اس کے بائیں ہاتھ پر پڑی تھی جس میں ہونے والے سگریٹ سے دھواں اُڈ رہا تھا۔۔۔
اس نے اس کی نظروں کو دیکھ کر اپنے ہاتھ میں سگریٹ کو دیکھا، اس نے سگریٹ فینک کر اسے جوتے سے دبایا تھا۔۔۔ وہ کچھ کہیں بغیر چلی گئی تھی….
اجیب تھا ان دونوں نے ایک دوسرے سے کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔
وہ اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔۔
اور اس کا دل جاتے ہوئے کر رہا تھا وہ پیچھے مڑ کر اسے دیکھے مگر زہن میں ہر لڑکی کی طرح یہی تھا اگر اس نے پیچھے دیکھا وہ کیا سوچے گا۔۔۔۔۔۔
باب ۸
پانچ بج رہے تھے…….
زکرا لبرری سے واپس آرہی تھی،، اس کے کندھے پہ بیگ تھا، ایک ہاتھ میں لنچ بیگ اور دوسرے ہاتھ میں چاۓ کی بوتل اور فون، اچانک فون اس کے ہاتھ سے گرا تھا۔۔ وہ اس کے قریب آ کر روکا اس نے جھک کر اسے فون اٹھا کر دیا تھا۔۔۔
شکریہ!!! اس نے فون لے کر کہا تھا۔۔۔۔
وہ مسکرایا تھا……
“انظر”…
جی؟ اس نے اس کے کہنے پر حیرت سے پوچھا۔
سوری میرا مطلب تھا۔۔۔۔ میرا نام انظر انور خان ہے۔۔
وہ عجیب کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی…..
“اچھی بات ہے”…… وہ کہہ کر آگے بڑھی تھی۔۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ سر پیٹتا رہا….
میں پاگل تو نہیں، میں کیا کہہ رہا تھا، مجھے میرا نام کہنے کی کیا ضرورت تھی، وہ کیا سونچ رہی ہوگی، جیسے اس دنیا میں صرف مجھے نام رکھا گیا ہے۔۔ وہ زمین پر لات مار کر چلا گیا تھا۔۔
(زمین ہی تو ہے)…..
رات کے کھانہ کھانے کے بعد اس نے برتن دھو دیے تھے، اور ہر روز کی طرح وہ گیٹ کے پاس اس کے انتظار کرنے والے کتّے کے لیے کھانا لے کر آئی تھی۔۔ اس نے کھانا وہاں رکھے پلیٹ میں ڈال دیا تھا وہ پلیٹ وہاں اس نے ہی رکھا تھا۔۔۔۔ وہ کتّے کے جانے کے بعد ہی اندر جاتی تھی۔۔۔
ویسے بھی! کچھ دنوں میں ہم جا رہے ہیں۔۔۔ اب میں گھر والوں کو لے کر ہی واپس آؤں گا اور تمہیں ساتھ لے جاؤ گا… وہ کہہ رہا تھا۔۔۔
اور دوسری طرف وہ مسکرا کر سن رہی تھی۔۔۔ ادفر کو اس وقت دنیا فتح کرنے جیسا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
یہ سارے دوست کھانے کے بعد حویلی کے لون میں بیٹھے تھے۔۔۔
ابوبکر ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھا اس وقت دوسری ہی دنیا میں تھا۔۔
اور باقی سب مہران کریم کے لطیفے سن رہے تھے۔۔
اور جبران کریم کے آتے ہی وہ بھی خاموش ہی ہو گیا تھا۔۔۔ وہ جبران سے ہر کسی کی طرح ڈرتا تھا۔۔۔
یہ دو بھائی ایک دوسرے کی کل کائنات تھے۔۔ ان کا ایک دوسرے کے سوا کوئی نہیں تھا۔۔ پہلے انہیں رشتےداروں نے چھوڑا تھا، پھر جب رشتے داروں نے آنا چاہا وہ چھوٹا یتیم بچہ جبران کریم خان بن گیا تھا،، تب اس نے سب سے قطع تعلق کر دیا ۔۔۔۔
“رشتے داروں کا یہی تو مسلہ ہوتا ہے”…..
“لگ جاتی ہے تیری کامیابی پہ دور کے جاننے والوں کی بھیڑ..
چھوڑ کے چلے جاتے ہے اپنے ہی تیری ناکامیابی کو دیکھنے کے بعد..”
وہ سو رہا تھا جب اس کی نیند فون کے بجنے نے فر کر دی تھی,, اس نے بند آنکھوں سے ہی بستر کے ہر طرف ہاتھ پھیرا تھا,, فون ہاتھ میں آگیا تھا فون کان سے لگا کر اس نے باطن ہاشم کی سلام سنی تھی اس کی آنکھیں مزید بند نہیں رہ سکی تھی وہ اٹھ کر بیٹھا تھا۔۔۔۔
کیسے ہو؟ باطن ہاشم نے پوچھا تھا….
ٹھیک ہی ہو،، آپ سب کیسے ہے؟ صرف خیریت پوچھنے کے لیے تمہارا فون ہوتا نہیں ہے، ضرور آج بھی امی ابو کا کوئی فرمان تمہارے زریعے مجھ تک پہنچنا ہوگا…. بکو!!
تم خوش ہو ہی نہیں سکتے ہو کبھی… باطن ہاشم نے غصّے سے کہا تھا۔۔۔
واللہ!! خوش تو ہونا چاہتا ہوں میں، اور جب خوش سا ہوتا ہوں فون بج جاتا ہے جب دیکھتا ہوں تو تمہارا ہوتا ہے،، ظاہر نے نرمی سے بہت سخت کہا تھا۔۔۔۔
اب بات سنو، تمہارا تو ہمیشہ سے ہی سنتے آئے ہیں ہم۔ کل شیزان آنٹی اور مزینہ یہاں آئیں تھیں تم دونوں کا رشتہ اب صحیح سے طے ہو گیا ہے۔ سب رشتےداروں کو مٹھائی بیج دی ہم نے، سب چاہتے ہے اگلے جمعرات مغرب نماز کے بعد منگنی کے ساتھ تم دونوں کا نکاح بھی ہو جائے۔۔۔ وہ کہہ ہی رہا تھا جب ظاہر ہاشم کا پارہ ہاۓ ہوا تھا۔۔
کیا کیا کیا،،، صحیح تو ہو تم؟ کون سب چاہتے ہیں؟ مجھے صرف مجھ سے غرض ہے اور میں ایسا کچھ نہیں چاہتا، یہ صحیح ہے میں کل واپس آرہا تھا، اب اگلے تین ہفتوں تک نہ تو میں واپس آؤں گا اور نہ اگلے تین زندگیوں میں یہ شادی کروں گا اگر چوتھی زندگی ملی تو سوچو گا ضرور۔۔۔۔ اور ہاں یہ تم کیوں نہیں آزماتے تم کر لو شادی مزینہ سے۔۔۔۔
اتنا کون سا افلاتون ہو تم، مزینہ جیسی لڑکی کے لئے تم چوتھی زندگی میں وہ بھی صرف سوچو گے۔ صاحب، وہ بیوقوف ہے جو تمہیں پسند کرتی ہے اور ان کی بدقسمتی ہے جو ان کی ہمارے ساتھ خاندانی دوستی ہے۔ہمیں نہیں پتا تم کہاں ہو، ہم نہیں چاہتے ہم غلط طریقے سے پتہ کرے، ہم کل تمہارا انتظار کرے گے، اور ہاں مزینہ کی بات تم سے پہلی بار نہیں کی گئی، بچپن سے ہی تو تم سے مزینہ کا رشتہ جوڑتے آییں ہے سب۔۔۔۔۔
اور بچپن سے ہی وہ رشتہ میں نے خود سے جڑنے نہیں دیا۔۔۔ زمین کھودو یا آسمان جانکو میں نہیں آؤو گا….. اپنی ماں کا خیال رکھنا……. اس نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔
اتنی صبح گیٹ کون بجا رہا ہے۔۔۔۔ اس کے ہاتھ آٹے سے بھرے تھے وہ روٹیاں بنا رہی تھی جب کوئی بار بار گیٹ بجا رہا تھا۔۔۔۔
ابو زر ابھی سو رہا تھا، ابا نہا رہے تھے۔۔۔ وہ خود گیٹ کھولنے آئی تھی۔۔۔۔۔
اسلام علیکم!!!! اس نے سلام کی۔۔۔
واعلیکم السلام!!! شیرازی صاحب ہے؟ اس نے سلام کے جواب کے بعد فوراً پوچھا تھا۔۔۔
جی، اندر ہے آپ اندر آییں، اس نے کہا تھا۔۔۔
نہیں جی! خان صاحب کا اتنا ہی حکم ہے انہوں نے شیرازی صاحب کو حویلی بھلایا ہے۔۔۔ ان سے کہیگا وہ حویلی آجائیں، وہ کہہ کر واپس موڑا تھا۔۔
فبیا کچھ دیر یہی اسے جاتے دیکھ رہی تھی اس کا زہن الج کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
تمہارے اور مہران کریم کے درمیان سب ٹھیک تو ہے نا؟ وہ کیوں بھولا رہیں ہے۔۔۔ ابا ابو زر سے پوچھ رہے تھے۔۔۔
لو جی! ابا یار سب میری وجہ سے تھوڑی ہو سکتا ہے، ان کا اپنا بھی تو کوئی کام ہو سکتا ہے۔۔۔۔ ابو زر لاپروائی سے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
مجھ سے ؟ ایسا کیا ہو سکتا ہے۔۔۔ ابا پریشانی سے کہہ رہے تھے۔۔۔
ابا! خود کو اتنا بھی کم تر نہ سمجھا کرے، دیکھنا انہیں آپ سے کچھ چاہیے ہوگا۔۔۔ ابو زر نے بہت بڑی بات مزاق میں کہہ دی تھی۔۔۔۔۔ (ہو بھی تو سکتا ہے)
یہ تینوں گھر سے ایک ساتھ نکلے تھے۔ ابو زر کو اسکول جانا تھا، فبیا کو کالج اور ابا کو حویلی۔۔۔
فبیا نے گیٹ پہ تالا لگایا تھا۔۔۔
ابا اپنا خیال رکھنا!! ان دونوں نے ابا سے ایک ساتھ کہا تھا۔۔
میرے پیارے بچو تم دونوں کو نہیں لگتا یہ تم دونوں سے مجھے کہنا چاہیے۔۔۔ ابا نے مسکرا کر کہا۔۔۔
تو آپ بھی کہہ دے، فبیا نے مزاقی انداز میں کہا۔۔
یہ تینوں ایک ساتھ ہنسے تھے۔۔۔
چابی میں رزوی چاچا کی دوکان پہ رکھو گی جو پہلے آیے گا وہ وہاں سے چابی لایے گا۔۔۔ فبیا نے جاتے ہوئے کہا تھا۔
رزوی چاچا کی دوکان گاؤں میں مشہور تھی دوکان بہت پرانی اور چھوٹی تھی جہاں زیادہ سامان نہیں تھا مگر اس گاؤں میں مشہور وہ دبائ کے مول جتنی تھی۔۔
رزوی چاچا کو سارے گاؤں کی خبر ہوتی تھی، وہاں اکثر بے روزگار نوجوانوں کی بھیڑ ہوتی تھی ان کے پاس جتنی خبریں ہوتی تھی وہ یہی شعیے ہوتی تھی ۔۔
اس وقت بھی یہاں کچھ لونڑے بیٹھے تھے۔ اسے دیکھ کر وہ اٹھ کر سیڑ ہٹے تھے۔
ایسا ہوتا ہے کبھی کسی لفنگے میں اتنی شرم ہوتی ہے وہ عورت کو دیکھ کر اسے بے خوف کر دیتا ہے۔۔
اور کبھی کوئی تعریف سے بھرا شخص عورت کو محفوظ محسوس نہیں کراتا عورت اسے دیکھ کر ہی خوف زدہ ہو جاتی ہے۔۔۔۔ اور عورت سے بھڑ کر مرد کی نظروں کو کوئی نہیں پہچان سکتا اور وہ اس میں دھونکہ بھی نہیں کھا سکتی۔۔۔
باب۹
رزوی چاچا کی دوکان پہ پرانہ ریڈیو ہمیشہ چل رہی ہوتی تھی۔
اس وقت کشمیر کا مشہور نغمہ شمیما دیو آزاد کی آواز میں رزوی چاچا کے ساتھ کچھ بزرگ یہاں بیٹھے سن رہے تھے۔۔۔۔
“کشمیر کشمیر میرے جنت-ا-کشمیر” شمیمہ آزاد کی آواز میں۔۔۔
“ہاۓ! کیا ہی بات ہے” اپنے وطن کو نغمے میں شعروں کی طرح دھند میں سننا……
اس سے پیارا کچھ لگ ہی نہیں سکتا ہے محبت کے نغمے بھی نہیں……..
ادفر اسے سامنے ہی ملی تھی وہ اِس کے آنے کا ہی انتظار کر رہی تھی۔
میری بات تو سننے! میں اِتنا بے کاری کا مالک نہیں جو لڑکیوں کا انتظار کر کے ان سے بے عزتی کراؤ۔۔۔ اس نے زکرا کو روک کر کہا تھا۔۔
تو کرے نا اپنا کام،، یوں تو میں بھی بے کاری کا شکار ہو رہی ہوں۔ اس نے رک کر اسے فرست سے کہا تھا۔
کام تب کروں نا جب کام میں دل لگے۔ اس نے آدھی بات کہہ دی تھی۔
تو لگا دے نا دل کام میں۔ زکرا جواب میں وہ نہیں سنا چاہتی تھی جو وہ کہنے والا تھا۔
وہ تو تمہارے پاس ہے۔ اس نے بہت پرانا اور بد ذائقہ ڈیلاک کہا تھا۔۔
پتا نہیں ایسا کیسے ہوتا ہے، کوئی کسی کو پسند کرتا ہے وہ اسے یہ کیوں کہتا ہے “میرا دل تمہارے پاس ہے” جب کہ اس دوسرے بیچارے کو کوئی ایسا گمان نہیں ہوتا۔۔۔۔
“پہلے کس عاشق نے کہا ہوگا یہ بد ذائقہ ڈیلاک”؟
تمہیں پتا ہے اس کی باتیں کتنی خوبصورت ہے؟
ضروری نہیں ہے تمہیں خوبصورت لگتی ہے سب کو ہی لگے…. اس نے بہت برا موں بنا کر جواباً کہا تھا۔۔۔
ویسے لگنی تو چاہیں۔۔۔ اس نے خوشی سے کہا تھا۔
“پہلا پہلا پیار ہے، کیسا یہ خمار ہے”
زکرا ہوتی تو بہت خوبصورت شعر سناتی۔۔۔
عجیب نہیں پہلے ہم صرف ہماری باتیں کرتے تھے اب ہمارے درمیان ہماری نہیں کسی اور کی باتیں ہو رہی ہے… فبیا نے اسے یاد دلایا تھا۔
وہ بھولی کب تھی وہ بس کہی اور تھی۔۔۔
دوستی کا بڑا ستم ہے یہ پہلے دونوں سنگل ہو پھر ایک کی زندگی میں کوئی آجاۓ یعنی دونوں کے درمیان آنا۔۔۔۔ ( یا تو پہلے سے ہی کوئی ہو یا بعد میں بھی نہ ہو )
ابا حویلی میں کھو سے گئیں تھیں۔۔۔
پورا آدھا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد جبران کریم باہر سے آیا تھا۔۔
یہ شخص بڑا عجیب تھا،، اسے نہ کسی کا خوف تھا نہ احساس۔۔۔۔
جیسے وہ سوچتا ہو کوئی کرتا ہے انتظار تو کرنے دو اسے جو چاہیں وہ اسے ویسے بھی ملنی ہے۔۔۔۔
ابا! میں آپ کو فون نہیں کرنا چاہتا تھا مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں میں مزینہ سے نہیں کسی اور سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں کسی کو پسند کرتا ہوں۔۔
میں چاہتا ہوں آپ میرے ساتھ اس کے گھر چلے۔۔۔ ظاہر ہاشم ڈرتا تو پہلے ہی نہیں تھا،، مگر یہ اس نے حد کر دی تھی۔۔۔
کیا؟ کون ہے وہ لڑکی؟ کہا رہتی ہے وہ؟ کس کی بیٹی ہے وہ؟ ابا نے کس ہی انداز میں کہا تھا۔۔۔
آپکو نہیں لگتا اتنے سوالات کے بجائے ایک سوال کافی تھا۔۔ یعنی! “کون ہے وہ؟”……
میں کہتا بے حد……….. وہ رک گیا تھا یا ابا نے بات مکمل نہیں کرنے دی تھی،، شکر ہے اسے روکا گیا تھا ورنہ وہ کھڑے کھڑے غزلیں نہ لکھتا……..
میں جانتا ہوں ہماری پہلی ملاقات نے آپ پہ اچھا روگ نہیں ڈلا۔۔۔
میں جبران کریم خان جس نے کبھی کسی سے معافی نہیں مانگی… آپ سے مانگ رہا ہوں……
“وہ احسان تو نہیں کر رہا تھا”
اور معافی کے علاؤہ آپسے کچھ اور بھی چاہیے۔۔۔۔ جبران کریم خان جیسے کسی میٹنگ میں بیٹھا اپنی مرضی کے موضوع کو سننا رہا تھا۔۔۔
کم سے کم یہ معاملے ایسے تو طے نہیں ہوتے… جبران کریم کی حکومت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ یہ کیوں نہیں؟؟
باب ۱۰
دو سال پہلے،
خان صاحب میں آپ کو اللّٰہ کا واسطہ دیتی ہوں مجھ پہ رحم کرے میری عزت پہ رحم مجھ پہ پردہ کرے اللّٰہ روزِمحشر میں آپ کا پردہ کرے گا… وہ جبران کریم خان کے پیر پکڑ کر ان سے بھیک مانگ رہی تھی “رحم کی بھیک”….
جبران کریم اس دن انہیں دوستوں سے ملنے شہر گیا تھا وہ واپس آرہا تھا مغرب کے بعد کا وقت تھا جب اس کی نظر گاؤں کے سنسان راستے پر پڑی تھی اس نے ڈائیور سے گاڈی روکنے کا کہا تھا وہ گاڈی سے باہر آیا تھا،،، گاؤں کی لڑکی جو 19 سے 20 سال کی تھی۔۔ جو کسی لڑکے سے رو کر کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔ لڑکے کی آنکھیں بھی برسنے والی لگ رہی تھی۔۔۔۔
جبران کریم کو دیکھ کر لڑکی کو خود پہ آسمان گرتا محسوس ہوا تھا……
تمہاری عزت پہ رحم کرو عزت ہے تمہارے پاس…. بد کردار لڑکی….
جلدی پتا کرو کس کی بیٹی ہے یہ؟
انہیں فخر محسوس کراتے ہے….
جبران کریم کو کوئی بتاتا یہ لڑکی ماں باپ کی عزت رکھ رہی تھی…. جو اس کی شادی زبردستی کرا رہے تھے۔۔۔ اور یہ لڑکا اسے باگنے کا کہتا تو وہ سر جھکاتی…..
کوئی جبران کریم کو بتاتا بھی وہ کون سا رحم کا فیصلہ کرتا ، وہ کرتا جو اسے اچھا لگتا چاہے وہ کسی کا بے رحم قتل ہوتا یا کسی کی عزت کا جنازہ۔۔۔۔
اسے بلکل شرم یا خوف نہ آتا نہ لوگوں سے نہ رب سے…….
یہ وہی دن تھا جب ابا فبیا کے نانی حال گئیں تھیں, وہ بس میں گییں تھے بس گاؤں کے اندر نہیں جاتی تھی۔۔۔۔
انہوں نے یہ سارا ماجرہ دیکھا تھا۔۔۔
جن کے گھر کانچ کے ہو انہیں دوسروں کے گھروں پہ پتھر نہیں پھینکنا چاہیے۔۔
اگر یہ آپ کی بہن، بیٹی ہوتی تو یہ اندھیرہ کم لگتا آپ کو آپ چاہتے رات اور تاریخ ہوتی، صبح کبھی نہ ہوتی تاکہ لوگ نہ سنتے لوگ نہ دیکھتے…. ابا نے اس سے سچ ہی تو کہا تھا۔۔۔۔
نہیں,,, پہلی بات بہن تو میری ہے نہیں دوسری بات ہوتی وہ اب تک زندہ نہ ہوتی اور میں لوگوں کو اپنی غیرت کا خود بولتا پھر لوگ مجھے قاتل کہتے بے عزت باپ، بھائی کہتے بے غیرت کوئی نہ کہتا بد نسل، بد زات نیچ خاندان کوئی نہ کہتا۔۔۔ جبران کریم نے ابا کو وضاحت دی تھی۔ جس پر ابا کو شرم آئی تھی اسے بہن بیٹی کا واسطہ دے کر۔۔۔
شکر ہے بہن نہیں ہے اور دعا ہے بیٹی بھی نہ ہو، ہمارے کشمیر کے بزرگ کہتے تھے،
” کوٗر چھ٘ے نہٕ، خوٗر تہٕ چھ٘ے نا”
ابا نے اتنی قیمتی بات غلط انسان سے کہی تھی۔۔۔
آپ کے گھر میں بیٹی ہے؟ پھر تو خوب پردہ کرتے ہوگے آپ اس کا۔۔۔ جبران کریم نے ان سے کہا تھا۔۔۔
شیرازی صاحب تو کیا دنیا کا ہر باپ یہاں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا۔۔۔۔۔
اس محاورے کا ترجمہ ہے،۔
( بیٹی نہیں ہے، ایڑی تو ہے نا)…….
اور اس رات جبران کریم خان نے اس لڑکی کا پردہ رکھا تھا، اور صبح اس پردے کو اٹھایا تھا۔۔ سارے گاؤں میں اس لڑکی کی اور اس کے خاندان کی عزت کی جنازہ نکلا تھا۔۔ لڑکی کا جس سے رشتہ ہوا تھا انہوں نے رشتہ توڑ دیا تھا وہ اس لڑکی کے قابل نہیں تھا مگر دنیا والوں نے تو اب اس لڑکی کو کسی قابل نہیں چھوڑنا تھا۔۔۔
اگلے دن اس لڑکی نے فاسی چڑھ کر جان دی تھی، سننے کو تو یہیں آیا تھا حقیقت سے کسی غرض تھا۔۔۔
ابا نے اس رات کا واقع گھر میں نہیں کہا تھا۔
فبیا چار دن تک اس لڑکی کی وجہ سے صدمے میں تھی وہ اس کی دوست قریبی نہ سہی دوست تو تھی۔۔
..….….”موجودہ دن”.……….
فبیا اور ادفر کالج سے واپس آ رہی تھی،،
ان دونوں کی نظر گلی میں ہونے والی لڑائی پہ پڑی۔۔۔
ابو زر کسی کو دیوار سے لگا کر گردن پکڑے چلا رہا تھا۔۔۔
وہ دونوں دوڈ کر اس طرف بھاگی تھی…
ادفر نے ان دونوں کو چھڑیاں تھا، جبکہ فبیا ساکت خاموش دیکھ رہی تھی۔۔۔
ابو زر ان کو دیکھ کر زخمی ہوا تھا… بھائی چھوٹا ہو یا بڑا اس وقت اس حالت پر کوئی بہن کو نہیں دیکھنا چاہتا…..
ابو زر فبیا کے قریب آیا تھا، اس نے پہلی بار زندگی میں کسی کو ابو زر کو تھپڑ لگایا تھا اور ابو زر کو بھی زندگی میں پہلی بار کسی نے اس کی بہنا نے تھپڑ مارا تھا….
یہ گلی کی چھوٹی لڑائی خاندانی دشمنی ہونے کی طاقت رکھتی ہے، بہنوں تک، بیٹیوں تک، نسلوں تک جانے کی طاقت رکھتی ہیں۔۔۔۔ وہ کہہ کر اسے یہی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔ ادفر اس کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔
زکرا نور اس وقت چہرے پر نور لا رہی تھی وہ اس وقت چہرے پر فیشل لگا رہی تھی۔۔۔ اور شیریں نور ہر بہن کی طرح اس میں اس کی برابر کی شریک تھی، اس کا فون بجا تھا۔۔۔۔ اس نے انجانے انداز میں فون اٹھایا تھا….
کون؟ وہ سیدھے مُدّے پہ آئی تھی۔۔۔
نہ سلام، نہ دعا، دوسری طرف اس نے کہا تھا۔۔۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ……. خوش رہو، آباد رہو، شاداب رہو،… سلام دعا تو ہو گیا اب بتانا مناسب سمجھتے ہے…. کون ہے آپ جناب؟
آپ تو کافی تمیز کی مالک ہے….
شیریں نور عجیب سا تاثر لے کر بیٹھ گئی تھی…. وہ عجیب سی حرکتیں کرنے لگی تھی….
جیسے ائیرپورٹ پہ چیکینگ کے دوران کسی کے بیگ سے چھری نکلی ہو، اور اسپیکر پہ بار بار اس بیگ والے کا پوچھا جا رہا ہو اور وہ بیگ والا ہر کسی کو دیکھ کر بیگ کی طرف بڑھ رہا ہو اور کوئی اسے عجیب نظروں سے گھور رہا،، (اب تک آپ کی آنکھوں کے سامنے اس بیگ والے کا چہرہ تو آیا ہی ہوگا)
شیریں کا چہرہ بلکل ویسا ہی ہو گیا تھا….. وہ اٹھ کر باہر آئی تھی،، اس وقت فیشل کا لاسٹ کور تھا جو اس کے چہرے کو پہچاننے سے انکار کر رہا تھا۔۔۔
توبہ استغفرُللہ…….. حد ہے، مجھے لگا فرعون کا بدلہ لینے والا آیا ہے…..
بابا!! اتنا بھی عجیب نہیں ہے یہ…… شیریں نے بابا سے چڑ کر کہا تھا۔۔۔
نہ جانے اچھی خاصی شکل کو بد شکل بنانے کا شوق کیوں ہے اِبن آدم کی بیٹیوں کو…. بابا نے افسوس بھری نظروں سے دیکھ کر اسے کہا تھا۔۔۔۔۔
شاہ نور صاحب ایسے ہی مزاج کے انسان تھا….. وہ مذاق بھی کرتے تو کوئی مثال دے کر جو سنجیدہ بھی ہوتا اور مذاق بھی…..
شاہ نور اور احمد نور،، نور محمد صاحب کے دو بیٹے تھے…… احمد نور بجلی ڈپارٹمنٹ کے ملازم تھے جس وجہ سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔۔ ان کی ڈیٹھ ان ڈیوٹی ہوئی تھی انہوں نے علاقے کے بجلی پول پہ ہی جان دی تھی۔۔۔
شاہ نور ان کے چھوٹے بھائی تھے ان کی وفات کے بعد شاہ نور نے زکرا کی ماں تسلیمہ بیگم سے شادی کی۔۔۔۔
ان کی شادی کے دو سال بعد شیریں کی پیدائش ہوئی تھی۔۔۔
شیریں کی پیدائش کے چند دن بعد ہی نور محمد صاحب وفات پا گئے تھے۔۔۔۔
ان کی فیملی امن، سکون، شانتی، خوشیوں سے بھری تھی… ہاں!!!! کبھی کبھار،،
نہیں!!! زیادہ تر زکرا اور شیریں کی لڑائی ہوتی تھی…. ہاں!!! مگر اسے ہم لڑائی نہیں کہہ سکتے…..
شیریں نے غلطی،، ہاں بہت بڑی غلطی کر دی تھی وہ اپنا فون زکرا کے کمرے میں ہی نہیں زکرا کے بیڈ پہ بلکل اس کے سامنے۔۔۔
جب اس کے فون پہ فون آیا تھا۔۔ زکرا کو فون ہاتھ میں اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی،،
اس نے وہ کی طرف ایک نظر دیکھ کر ہی اس نمبر کو پہچانا تھا۔۔
جب ہمیں کسی اننون نمبر سے فون آتا ہے پھر ہمیں پتہ چل جاتا ہے وہ کس کا ہے پھر اس نمبر کے پہلے اور آخری ڈجٹ یاد رہتا ہے۔۔۔
زکرا کو یہ سارا ہی نمبر یاد ہو گیا تھا پہلے ہی بار میں۔۔۔
کچھ دیر پہلے تو وہ زکرا کو فون کر رہا تھا مگر اب وہ شیریں کو فون کیوں کر رہا تھا۔۔۔ کہی وہ اسے ڈرا تو نہیں رہا تھا۔۔۔ زکرا کے ذہن میں بہت کچھ آیا تھا۔۔
فون بند ہونے کے ساتھ ہی اس نمبر سے میسج آئی تھی۔۔۔
اس آئیڈیا نے تو بلکل بھی کام نہیں کیا شاید۔۔
میں نے انہیں فون کیا انہیں شاید اچھا نہیں لگا،،
یقیناً اچھا نہیں لگا۔۔ تمہارا شکریہ تم نے ان کا نمبر دیا اور اتنے مشورے دینے کے لیے۔۔۔۔
یہ میسج نہیں تھا تھپڑ تھا جو اس کے منہ پر نہیں دل پر پڑا تھا۔۔۔ جس کی آواز نہیں تھی لیکن درد اس کی روح کو چھو گیا تھا۔۔
اس کی اپنی بہن، اس کا نمبر کسی کو بھی دے رہی تھی اور اسے ماننے کے لیے مشہورے دے رہی تھی۔۔
اور منانا بھی کس لیے تھا…….
ابا آپ خاموش کیوں ہیں؟ کیا کہا ہے انہوں نے۔۔۔ فبیا نے ابا کے آتے ہی نہیں پوچھا تھا۔۔۔
ابا نے نماز پڑھی، نماز کے بعد اس نے انہیں چاۓ دی تھی۔۔۔ اور اس کے کچھ دیر بعد ان کے پاس بیٹھ کر تہمل سے پوچھا تھا۔۔۔
ابو زر آج کمرے میں اداس بیٹھا تھا آج ہونے والی بات سے،، ورنہ وہ ابا کو اتنی دیر خاموش رہنے دیتا کیا؟؟
انہوں میرے توَقع سے زیادہ مانگا،، میری عمر بھر کی جمع پونجی سے زیادہ،،
میرا زندگی میں کمایا ہوا سب سے کمیتی اعزاز۔۔۔
ابا کی آنکھوں کے ساتھ ان کا لہجہ بھی گیلا تھا۔۔
وہ کیا ہے ابا،، جو آپ کو ہم سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔
اس نے ابا کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔
“تم ہی تو ہو” ابا نے مختصر کہا تھا۔۔
مطلب؟ وہ حیران رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
انہوں نے تمہارے رشتے کی بات کی فبیا….. ابا نے بہت عرصے بعد اس کا نام کہا تھا۔۔۔۔
جاری ہے
