PATJHAR BY ALAM EPISODE : 6

پت جھڑ قسط نمبر ؛ ٦

ازقلم الم

۔
کوئی بھی توجہ طلب کام کرنے کے لیے خاموشی درکار ہوتی ہے اور اس پُرشور دنیا کا سب سے پُرسکون کونہ لائبریری ہی ہوتا ہے جہاں سکوت، خاموشی اور کتابوں کی مہک روح کو تازگی بخش دیتی ہے۔ حالانکہ کتابیں خود میں کئی طوفان سمیٹے ہوتی ہیں پھر بھی خاموش رہتی ہیں، صرف ان کے الفاظ بولتے ہیں۔
سکرین کی روشنی عنایہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور آنکھوں کی پتلیوں میں سکرین پر چلتے ہندسوں کا عکس نمایاں ہو رہا تھا جب کہ انگلیاں بجلی کی رفتار سے کی بورڈ پر حرکت کر رہی تھیں۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، ایک کے بعد ایک کوڈ لائن سکرین پر دوڑتی جا رہی تھی۔
“Connection Established!”
سکرین پر نمودار ہوتا میسج پڑھتے ہی اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، پھر سکرین پر ولا کا اینٹری گیٹ کیمرہ کھل گیا جہاں وہ چوکیدار کھڑا نظر آ رہا تھا جسے وہ زبان دکھا کر آ رہی تھی، جب کہ ولا کے چاروں طرف مسلح افراد چاک و چوبند کھڑے تھے۔ اس نے فوراً اپنا بیک ڈور پروگرام اپلوڈ کیا، یہ ایک طرح کا وائرس تھا جو خود کو ‘سسٹم مینٹیننس اپڈیٹ’ کے نام سے رجسٹر کر رہا تھا، اس نے پورٹ نمبر کو بدل کے اپنے لیے ایک خفیہ دروازہ کھول لیا تھا، ایک ایسا دروازہ جس کی مدد سے وہ جب چاہتی کنکشن ایکسیس میں انٹر اور ایگزٹ کر سکتی تھی۔ اس نے ولا کا نیٹ ورک آئی پی ایڈریس حاصل کر لیا تھا۔ لیپ ٹاپ کے نیچے اینٹینا ڈیوائس میں لائٹ جل بجھ رہی تھی، لائیو فیڈ ایک خفیہ سرور پر بھیجنا شروع ہو چکی تھی۔ دوسری سکرین پر بیٹھا اس کا ساتھی اب لائیو فیڈ دیکھ رہا تھا۔
“Is it clear from every angle?” اس نے ہیڈسیٹ میں سرگوشی کی۔
“Yes from every angle!” سامنے والے نے سبز جھنڈی دکھائی۔
پانچ منٹ بعد سکرین پر آخری لائن چمکی، “Backdoor installed, exit clean!”
اس کا کب کا رکاسانس بحال ہوا، لیپ ٹاپ کی سکرین نیچے گرائی اور ٹانگیں لمبی کر کے کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ “میں کر دیتا، میں سچی کر دیتا، میں ٹائٹ سکیورٹی دے باوجود کیمرے ہیک کر لئے میں مکاراں دے کر وچ مکاری ناں انٹری ماری، مینوں پتہ سی میں تے جمدی ذہین سی “(میں نے کر دیا، میں نے یہ سچ میں کر دیا، میں نے اتنی سخت سکیورٹی کے باوجود کیمرے ہیک کر لیے، میں نے مکاروں کے گھر میں مکاری سے اینٹری ماری، مجھے پتا تھا میں پیدائشی ہوشیار ہوں۔) عنایہ کا بس نہیں چل رہا تھا اٹھ کر بھنگڑے ڈالے۔
“زمین پر آ جاؤ۔” سامنے والے کے سڑے سے لہجے میں کہتے ہی اس نے منہ بنایا۔
عنایہ دوبارہ لیپ ٹاپ کھولے ولا کے مناظر دیکھ رہی تھی جس میں آئرہ پورے گھر کی تلاشی دلوا رہی تھی جسے دیکھ کر عنایہ کا قہقہہ ابھرا۔
“کبھی کبھی زیادہ ذہین ہونا بھی خطرناک ہوتا ہے، یہ تو کامن سینس کی بات ہے اگر کسی نے خفیہ مائیکروفون لگانا ہے تو وہ اتنا کلئیر کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر تو نہیں لگائے گا، وہ چھپ کر اور خفیہ جگہ پر لگائے گا، مگر ان عقل سے پیدل لوگوں کو کون سمجھائے؟” اس نے موڈ ٹیڑھا کر کے استہزائیہ انداز میں کہا۔
“خوف عنایہ، خوف… خوف ہماری عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے، انہیں اپنے راز ظاہر ہونے کا خوف ہے اور خوف میں انسان سب سے زیادہ احمقانہ قدم اٹھاتے ہیں۔” کانوں میں گونجتی آواز پر اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔
“مانتے ہیں نا مجھے؟” اس نے فخریہ انداز میں غائبانہ کالر کھڑے کرتے پوچھا۔
“ہمممم…” سامنے سے صرف پھیکا سا سنائی دیا۔
“صرف ‘ہمممم’؟ میں اپنی جان کا رسک لے کر اس پھدر مچھی کے پاس گئی، اس سے گڑگڑا کر معافیاں مانگیں، پھر دل، گردے، پھیپھڑے سنبھال کر میں نے وہ چونگم والا ڈرامہ رچایا، انہیں اس سارے سیاپے میں الجھا کر میں نے 45 منٹ کے اندر اندر آپ کو کیمرے ہیک کر کے دیے، اوپر سے وہ جو چبائی ہوئی ببل گم پھینک کر اپنی ریپوٹیشن کی ماں بہن ایک کی وہ الگ اس سلینڈی کے شک کے دائرے میں آئی آپ کا کیا ہے؟ صرف آرڈر لگایا ‘تعلقات درست کرو’ ‘ولا میں کیمرے لگاؤ’ نہ کوئی پلان نہ کوئی مدد، سب کچھ خود کر کے سامنے سے تعریف کی بجائے سننے کو کیا مل رہا ہے ایک سڑا ہوا، پھیکا سا ‘ہمم’۔” عنایہ تیز تیز غصے میں بنا سانس لیے بولتی جا رہی تھی۔ بات کے اختتام تک اس کا سانس مکمل طور پر پھول گیا تھا۔
“گڈ!” کہتے ہی اس نے عنایہ کے منہ پر کال ڈسکنیکٹ کر دی تو عنایہ کا پارہ مزید ہائی ہوا۔
“یہ… یہ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟” ابھی وہ مزید کچھ کہتی ہے کہ لیپ ٹاپ پر نظر پڑتے ہی مسکرا دی۔
“بڑی ایٹیٹیوڈ کوئین بنی پھرتی ہے، تمہاری جیسی میں درجن کھا جاؤں ناشتے میں اور ڈکار بھی نہ لوں،” آئی بڑی… عنایہ ایک ادا سے طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اپنی چیزیں سمیٹنے لگی۔
“مسکانیں جھوٹی ہیں
پہچانیں جھوٹی ہیں…”
اس کے گنگنانے کی آواز آہستہ آہستہ اس کے قدموں کے ساتھ مدھم ہوتی جا رہی تھی کتابوں نے اسے خاموشی سے دیکھ کر سرگوشی کی “ششش” وہ ایک اور راز خود میں سمو گئی تھی۔
لائبریری میں کسی بھی زی روح کا نشان موجود نہیں تھا ایک تو صبح صبح کا وقت تھا دوسرا اس بجلی کی رفتار سے دوڑتے دور میں کسی کے پاس دو پل سکون سے بیٹھ کر کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں تھا اور اللہ کی یہ تھی کہ لائبریرین کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو رہا تھا۔ آئی جاؤ تے جائی جاؤ۔

*آہا آہا
یہ ہے گمراہوں کا راستہ
مسکانیں جھوٹی ہیں
پہچانیں جھوٹی ہیں
کل انہی گلیوں میں
ان مسلی کلیوں میں
تو یہ دھوم تھی
جو روح پیاسی ہے
جن میں اداسی ہے
وہ ہے گھومتی
سب کو تلاش وہی
سمجھے یہ کاش کوئی
آہا آہا
یہ ہے گمراہوں کا راستہ
مسکانیں جھوٹی ہیں
پہچانے جھوٹی ہیں*

وہ سرد سی آورز میں گنگناتے ہوئے شاہ ولا کے سامنے سے گزر رہی تھی اس کی گنگناہٹ عجیب سی وحشت طاری کر رہی تھی سر پر پہنی سیاہ ہڈی نے اس کی پہچان کچھ حد تک چھپا رکھی تھی اس کی تاریک نظریں شان سے کھڑے ولا پر جمی تھی یہ وہ چلبلی سی عنایہ نہیں تھی یہ کوئی اور عنایہ تھی بالکل اس شہزادی کی طرح جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور انکھوں میں زہر ر ہوتا ہے جس کی مسکراہٹ کو موت سے تشبیح دی جاتی ہے
ہر انسان میں ایک شیطان ہوتا ہے کچھ اپنا شیطان ظاہر کر دیتے ہیں اور کچھ چھپائے رکھتے ہیں اور چھپا شیطان سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ایسا ابلیس جو ازیل کے بھیس میں تم سے ملتا ہے
             چھپے شیطانوں سے پناہ مانگا کرو

شاہ ولا میں سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ خاموش فضا میں کبھی کبھار کانٹے چمچ کی آواز خلل ڈال رہی تھی جب ضرار کی آواز بھی خاموشی میں مخل ہوئی۔
“آئرہ، تمہیں یونیورسٹی میں ڈراپ کر دوں گا آج۔”
ضرار کی آواز پر آئرہ کا ٹوسٹ کی طرف بڑھتا ہاتھ رکا، پھر اس نے ٹوسٹ منہ میں ڈال کر اثبات میں سر ہلایا۔ چونکے تو سلطان شاہ بھی تھے مگر انہوں نے نظر انداز کیا۔
“بابا! می۔۔۔؟؟؟” ضرار ناشتہ اپنی پلیٹ میں ڈال کر شروع کرنے ہی والا تھا کہ ریان نے ہونٹ باہر نکال کر سامنے بڑی پلیٹ اسے دکھائی کہ اس کی پلیٹ تو بھری ہی نہیں گئی، وہ ناشتہ کیسے کرے؟ وہ اتنا کیوٹ لگا تھا، ایسے معصوم چہرہ بنائے کہ ضرار نے جھک کر ہنستے ہوئے اس کے دونوں گال چوم لیے۔
“تو جواباً اس نے اپنی چھوٹی سی انگلی ماتھے پر رکھی تو ضرار نے مسکراتے ہوئے وہاں پیار کیا۔ منہ تھوڑا سا اوپر اٹھا کر ٹھوڑی اس کے سامنے کی تو ضرار نے وہاں بھی پیار کیا۔ ان دونوں کو دیکھ کر مفراہ نے ان کی نظر اتاری تھی، جبکہ صائمہ بیگم نے مسکراتے ہوئے ماشاءاللہ کہا تھا۔ سلطان شاہ نے نخوت سے سر جھٹکا  لیکن بولے کچھ نہ کیونکہ ضرار انہیں واضح طور پر کہہ چکا تھا کہ وہ اس کے اور ریان کے معاملات میں نہ بولا کریں۔ یہ اس کا اور اس کے بیٹے کا معاملہ ہے۔
“ٹڈے، ناشتہ کر لو، چمیاں لینے سے پیٹ نہیں بھرتا۔” آئرہ جو اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی، ہلکے سے اس کے سر پر دھپ مارتے ہوئے بولی۔
“سٹ اپ، آئرن!” جواباً اس نے ایک ادا سے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں کو ایک ہاتھ سے سیٹ کرتے ہوئے بڑے ایٹیٹیوڈ سے جواب دیا جسے سن کر آئرہ کا منہ کھلا۔
“بال تو ایسے سیٹ کیے ہیں جیسے بڑی  گھنی فصل اگا رکھی ہے، گنجے نے نواز شریف لگتے  ہو ٹڈے!” آئرہ کے منہ بسور کر کہتے ہی ریان نے بڑے ایٹیٹیوڈ سے کہا، “جیلس پیپل!” جبکہ آئرہ تو اس پٹاخے کو دیکھ کر رہ گئی تھی کہ وہ آئرہ سلطان شاہ جس سے ساری یونیورسٹی ڈرتی تھی، اسے یہ چھوٹا سا ٹڈا کیسے  ٹکا کر ذلیل کرتا تھا۔
“بابا، ناشتہ!” آئرہ کو اگنور کر بڑے لاڈ سے منہ کھول کر اپنے باپ کے ہاتھ سے ناشتہ کھانے کی فرمائش کرنے لگا تو ضرار نے ہنستے ہوئے سر جھٹک کر اپنی پلیٹ سے ہی نوالہ بنا کر اس کے منہ میں ڈالا۔ اس کا ارادہ ویسے بھی اسے اپنی پلیٹ سے ہی ناشتہ کروانے کا تھا لیکن ان جناب کو اپنی علیحدہ پلیٹ چاہیے تھی۔ ضرار کے ناشتہ کھلاتے ہی ریان صاحب نے ایک جتانے والی نظر آئرہ پر ڈالی جیسے کہہ رہا ہو، “دیکھی میری ویلیو!” تو آئرہ بھی سر جھٹک کر ناشتہ کرنے لگی۔
 
ضرار گاڑی کے باہر کھڑا آئرہ کا انتظار کر رہا تھا۔ جب وہ بیگ لے کر آتی ہوئی نظر آئی تو ضرار نے پہلے اس کے لیے دروازہ کھولا پھر اس کے بیٹھتے ہی اس کا دروازہ بند کر کے دوسری طرف سے آ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی اسٹارٹ کی۔
گاڑی میں کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ضرار نے گفتگو کا آغاز کیا۔ “یوشع کے ساتھ کیا اختلافات ہوئے تھے تمہارے؟” ضرار کی سنجیدگی سے پوچھنے پر آئرہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔
“اس نے پوری یونیورسٹی کے سامنے میری انسلٹ کی تھی، وہ بھی کسی اور کی وجہ سے۔” آئرہ نے ذرا سا غصے سے جواب دیا۔
“اور میں مان ہی نہیں سکتا کہ تم نے اسے جواباً ذلیل نہ کیا ہو۔” ضرار کے پورے یقین بھرے انداز پر آئرہ نے نظریں چرائی۔پ

“دیکھو، آئرہ! تمہیں یوشع سے لاکھ مسائل سہی مگر یونیورسٹی میں وہ تمہارا پروفیسر ہے جس کی عزت تم پر لازم ہے اور اس نے تمہاری انسلٹ نہیں کی تھی، صرف ڈانٹا تھا۔ اور اس کی جگہ پر کوئی اور پروفیسر ہوتا، حتیٰ کہ میں ہی کیوں نہ ہوتا، تو میں بھی یہی کرتا۔”
اس کے کہتے ہی آئرہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “بالکل ایسا ہی کرتا! مجھے پتہ ہے تم ضدی ہو اور ماموں جان کی سپورٹ کی وجہ سے تم ہر چیز کو اپنی ملکیت سمجھتی ہو مگر آئرہ، تم نے جو یونیورسٹی میں کیا وہ غلط تھا۔ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کسی کے سر سے چادر کھینچنے کا۔ مذاق کی ایک حد ہوتی ہے جسے عبور نہیں کیا جاتا۔”
ضرار کے سخت لہجے میں کہنے پر اسے حیرانی نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس کی ہر حرکت سے آگاہ ہوتا ہے اور پورے شاہ ولا میں اگر اس کو کوئی صحیح اور غلط کی تمیز بتانے کی ہمت رکھتا تھا تو وہ ضرار شاہ تھا اور اسے یہ حق آئرہ نے خود دیا تھا۔
“بھائی! وہ لڑکی بھی میری دوستوں کے ساتھ بدتمیزی کر رہی تھی!” آئرہ نے احتجاجاً کہا۔
“میں اس لڑکی کے اعمال کے بارے میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ تم میری بہن ہو، تمہارے ہر عمل کے بارے میں میں ذمہ دار ہوں۔ اور میں امید رکھتا ہوں تم آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گی اور اس لڑکی سے دور رہوگی اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گی۔”
ضرار کے وارننگ دیتے انداز پر آئرہ نے سعادت مند بچے کی طرح اثبات میں سر ہلایا تھا جبکہ ضرار اچھے سے جانتا تھا کہ یہ سعادت مندی صرف اس کے سامنے تھی، اس نے جو کرنا تھا وہ کر کے ہی رہنا تھا۔
“یوشع کو حویلی سے نکلوا کر تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے۔” ضرار کو واقعی اس کا یہ عمل شدید ناگوار گزرا تھا۔ وہ اس کو بھائیوں کی طرح عزیز تھا۔ اس نے کبھی ماضی کے واقعات کا اس معصوم کو ملزم نہیں ٹھہرایا تھا۔
“بھائی! بعض دفعہ کچھ چیزیں ہمیں بظاہر ناگوار لگ رہی ہوتی ہیں مگر ہم اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے کس قدر فائدہ مند ہے۔ جیسے پہلے زمانوں میں زخموں کا علاج گرم لوہا لگا کر کیا جاتا تھا جس سے پہلے تو زخمی درد کی شدت سے چند لمحے تو چیختا مگر پھر یہی درد اس کی جان بچانے کی وجہ بن جاتا۔” آئرہ نے عجیب سی مسکراہٹ سے کہتے ضرار کو الجھن میں ڈال دیا تھا۔ گاڑی یونیورسٹی گیٹ کے سامنے رکی تو آئرہ خاموشی سے اتر گئی جبکہ ضرار کو الجھا ہوا چھوڑ گئی۔
                           ✩━━━━━━━✩
“یار، یونیورسٹی کی قابل محبت چیز پتہ ہے کیا ہے؟ کہ اس کی ٹائمنگ نہیں ہے شارپ اتنے بجے آؤ، چار پانچ گھنٹے سڑو، موڈ ہو نہ ہو، ہر لیکچر لو اور پھر چھٹی کے ٹائم گھر جاؤ۔ یہاں اپنی مرضی جدوں مرضی آؤ، جدوں مرضی جاؤ۔” عنایہ جو تھوڑی دیر پہلے ہی آئی تھی، اب یونیورسٹی میں سینڈوچ کھاتے ہوئے اپنے عظیم خیالات کا اظہار کر رہی تھی۔
“ہاں یہ تو ہے، بندہ باؤنڈ نہیں ہوتا۔” نور نے اس کی تائید کی تھی۔
“اٹھو، کلاس کا ٹائم ہو گیا۔” نور نے اٹھتے ہوئے عنایہ کا بازو کھینچا۔
“یار، کھانے تو دے پورا۔” عنایا نے سینڈوچ سے بھرے منہ کے ساتھ جواب دیا۔
“راستے میں کھا لینا۔ اٹھو۔” نور کے مسلسل کھینچنے پر عنایہ کو مجبوری میں آدھا سینڈوچ منہ میں بھر کر اور آدھا ہاتھ میں پکڑ کر اس کے ساتھ چلنا پڑا۔ وہ کلاس میں پہنچتی پہنچتی دو منٹ لیٹ ہو گئی تھیں جبکہ یوشع کلاس میں پہلے سے موجود تھا۔ وہ شاید وقت کا کچھ زیادہ ہی پابند تھا۔
یوشع کو کھڑا دیکھ کر نور رک گئی تھی، جبکہ عنایا جو باقی بچا آدھا سینڈوچ منہ میں ڈال کر تیز تیز منہ چلا رہی تھی، اس کا منہ اور قدم دونوں تھمے تھے۔ “مے وئی کم ان سر؟؟؟” نور نے شائستہ لہجے میں اپنے اور عنایہ دونوں کے لیے اجازت طلب کی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا عنایا بولنے والی حالت میں نہیں ہے۔
ایک سرسری سی نظر دونوں پر ڈال کر یوشع نے سر ہلا کر اجازت دی۔ ان سرمئی آنکھوں کو سامنے دیکھ کر ایک پل کے لیے وہ ٹھہرا تھا مگر پھر سر جھٹک گیا کیونکہ اس وقت وہ اس کا پروفیسر تھا اور اپنے سٹوڈنٹ پر محبت بھری نظریں ڈالنا اس کی پیشے کو زیب نہیں دیتا تھا۔ وہ اتنا چیپ  نہیں تھا، اسے اپنے شعبے کے تقدس کا خیال تھا۔
سینڈوچ آدھا چبا کر اور آدھا یوں ہی نگل کر اپنی سیٹ کی طرف بڑھتی ہوئی عنایہ نے یونیورسٹی سے محبت کے نکات میں اس بات کا اضافہ کیا تھا کہ یہاں میتھ کے پروفیسر روایتی میتھ پروفیسر کی طرح نہیں ہیں۔
اپنی سیٹ پر بیٹھ کر دونوں دھیان سے لیکچر سننے لگی تھیں اور یوشع نے دوبارہ ان سرمئی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی، لیکن وہ صرف اپنی نظروں پر ہی قابو پا سکتا تھا، دل پر اس کا اختیار نہیں تھا اور یہ کمبخت دل ہی ہوتا ہے جو خوار کرواتا ہے۔ اب یہ محبت یوشع کے لیے بہار ثابت ہوتی ہے یا پت جھڑ، یہ فیصلہ آنے والے کل نے کرنا تھا۔
                       ✩━━━━━━━✩
شاہ ولا سے جو خبر اشعث کے آدمی نے اسے دی تھی، اسے سن کر چند لمحوں کے لیے تو وہ حیرت میں مبتلا رہا تھا، پھر اپنی کیفیت سے باہر آ کر اس نے فون نکال کر بلیک ہارٹ کو کال ملائی۔
“السلام علیکم!” مقابل نے سب سے پہلے سلام کیا۔
“یوشع کو زہر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔” اشعث نے سلام کے جواب کے بعد اصل مدعا بیان کیا۔ اور سامنے والا اشعث کی طرح حیرت میں مبتلا تھا۔
“اور معجزاتی طور پر وہ کھانا یوشع نے نہیں کھایا۔” اشعث نے تشکر بھرے لہجے میں کہا۔
“اور یقیناً یہ کام سلطان شاہ کا تھا۔” بلیک ہارٹ نے پورے یقین بھرے لہجے میں کہا۔
“حیرت کی بات یہ نہیں ہے کہ سلطان شاہ نے زہر دینے کی کوشش کی، حیرت کی بات یہ ہے کہ سلطان شاہ کے ہر قدم سے آئرہ واقف ہوتی ہے بلکہ ملوث ہوتی ہے تو اس واقعے کے اگلے ہی روز اس نے یوشع کو ولا سے نکلوا دیا۔ آخر کیوں؟” اشعث سے شاید یہ معاملہ حل نہیں ہو پا رہا تھا۔
“محبت، جناب محبت! یہ کمبخت محبت انسان سے بغاوت سے لے کر قتل تک ہر طرح کا جرم کروا دیتی ہے۔” بلیک ہارٹ نے پر تبسم لہجے میں جواب دیا۔
“واٹ! محبت؟ آئرہ کو وہ بھی یوشع سے! کافی اچھا مذاق ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آئرہ اپنے باپ سے زیادہ پریکٹیکل ہے، وہ جانتی ہے کہ زہر سے کیا گیا قتل فوری طور پر نظروں میں آ جاتا ہے اور وہ بھی تب جب وہ قتل ولا میں ہی کیا گیا ہو اور اس کا سب سے پہلا شک سلطان شاہ پر ہی جائے گا۔ اس لیے اس نے پہلے یوشع کو ولا سے دور کیا اور اب وہ اپنا کوئی بھی اگلا قدم اٹھائیں گے مگر کیا؟” اشعث ابھی تک اس کی سوچ کو نہیں پڑھ پا رہا تھا۔
“مان لیا، مگر آپ کو واقعی لگتا ہے کہ سلطان شاہ کے لیے قتل کو حادثاتی موت میں تبدیل کرنا مشکل ہے؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ آپ کو آج میں پورے یقین سے کہتی ہوں کہ آئرہ سلطان شاہ، یوشع کبیر شاہ سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔ یوشع شاہ کو دنیا کے ہر انسان سے خطرہ ہو سکتا ہے مگر آئرہ سے نہیں۔ وہ دنیا کی  آخری انسان بھی نہیں ہوگی جو یوشع شاہ کو نقصان پہنچائے۔ ہاں! ان کی جان بچانے کے لیے وہ اپنی جان دے بھی سکتی ہے اور کسی کی جان لے بھی سکتی ہے۔” آخری الفاظ اس نے سخت لہجے میں کہے تھے۔
“اور آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں، محترمہ؟” اشعث نے طنزیہ استفسار کیا؟
“حیرت ہے، شاہ صاحب! اس مرض میں مبتلا ہو کر اس کے مریضوں کو نہیں پہچان پاتے۔
انسان کی زبان دماغ کے تابع ہوتی ہے، جھوٹ بول دیتی ہے مگر انسان کی آنکھیں دل کے تابع ہوتی ہیں، جو دل کہتا ہے، سنتا ہے، محسوس کرتا ہے، سب بیاں کرتی ہیں اور آئرہ کی آنکھیں چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ دل میں یوشع شاہ ایسا بسا ہوا ہے کہ ہر دھڑکن مالا کی طرح اس کا نام جبتی ہے۔ آنکھیں تو ویسے بھی روح کا آئینہ ہوتی ہیں اور آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔”
اشعث کے اندر سے کہیں آواز آئی تھی کہ بلیک ہارٹ کا کہا گیا ایک ایک لفظ سچ ہے مگر دماغ خبیث ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔اسے ماننے کے لیے وجوہات درکار ہوتی ہیں اور اشعث کو آئرہ کی یوشع سے محبت کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی حالانکہ محبت تو بے وجہ  کی جاتی ہے نا۔

“اور ایک بات! اس دن یونیورسٹی میں آئرہ نے جان بوجھ کر ہمیں ٹارگٹ کیا تھا۔ اس کے لیے ہماری ریگنگ کرنا، حجاب اتروانا بالکل بھی مشکل نہیں تھا مگر اس نے یہ سارا فضول کا سین کرییٹ کیا تاکہ یوشع شاہ کے ساتھ بھڑ سکے۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہمیں یوشع شاہ کی ذمہ داری پر بھیجا گیا ہے اور وہ یہ حرکت برداشت نہیں کریں گے کہ آئرہ ہمیں فضول میں تنگ کرے۔ یہ پری پلینڈ تھا، جناب! میں اس دن سے جانتی تھی کہ آئرہ یہ جان بوجھ کر کر رہی ہے مگر کوئی وجہ نہیں تلاش کر پا رہی تھی جو کہ آج سامنے آ ہی گئی۔ ہاں لیکن تھپڑ اس کے لیے ان ایکسپیکٹڈ تھا جس کا بدلہ وہ جلدی لے لے گی۔” بلیک ہارٹ نے گہرا سانس بھرتے ہوئے جواب دیا۔
“انٹرسٹنگ! ویسے یوشع کی آنکھیں کیا کہتی ہیں؟” اشعث کے لہجے میں ہلکی سی شوخی تھی جس پر دوسری جانب چند پل کی خاموشی کے بعد کال کٹ کر دی گئی۔
           
اس بدذات عورت کی وہ اولاد اب ہماری آنکھوں کو چُبھتی ہے۔ آپ لوگوں کو اسے ختم کرنے کا کام سونپا تھا ہم نے اور آپ لوگوں سے اتنا سا کام بھی نہیں ہو سکا؟‘‘ سلطان شاہ اپنے سٹڈی روم میں بیٹھے سامنے ہاتھ باندھ کر، نظریں جھکا کر کھڑے محسن پر برس رہے تھے۔
’’سر! میں نے خود کئی مہینوں کی کوشش کے بعد یہ زہر منگوایا تھا۔

‘ایکو نائٹ’ جسے ‘بچناگ بوٹی’ سے تیار کیا جاتا ہے اور دنیا کے نایاب اور خطرناک زہروں میں سے ایک ۔ بہت مشکل سے ہمالیہ کے علاقے سے خفیہ طور پر منگوایا تھا۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ زہر موت کی وجہ ہارٹ اٹیک کو بنا دیتا ہے اور عام فارنزک ٹیسٹ میں اس کی تشخیص مشکل ہے۔ یعنی اگر وہ اس زہر سے مر جاتا تو وجہ زہر نہیں ہارٹ اٹیک سامنے آتی۔‘‘
’’تو مرا کیوں نہیں؟‘‘ محسن کی تفصیل بتانے پر سلطان شاہ دھاڑے تھے۔

’’وہی تو میں حیران ہوں سر! کھانے میں زہر میں نے خود ملایا تھا اور اس سے بھی بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ زہر ہمارے سیکرٹ روم سے غائب ہے۔ کوئی اس سیکرٹ روم تک کیسے پہنچ سکتا ہے جس کا علم آپ کی بیٹی تک کو نہیں ہے؟‘‘ محسن نے الجھن بھرے لہجے میں کہا۔

’’محسن! یہ ہمارے لیے خطرے کا الارم ہے کہ کوئی ہمارے سیکرٹ روم تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ تم جانتے ہو نا وہ ماضی کا قبرستان ہے، وہاں ماضی کے کیسے کیسے راز چھپے ہیں۔ اس لیے جلدی اس انسان کو ڈھونڈ کر اس کی سانسوں کو بند کرو، اس سے پہلے کہ ہم کسی بڑے خطرے کا شکار ہوں۔ اور دوسرا، مجھے اس آئرہ کی سمجھ نہیں آتی۔ اتنے سالوں سے بھی تو اس لڑکے کو یہاں برداشت کر رہی تھی، تو چند دن اور کر لیتی۔ ضد پکڑ کر بیٹھ گئی کہ نکالو اسے یا پھر میں چلی جاتی ہوں اور ہم اس کی بات ماننے پر مجبور ہیں۔ ورنہ اب تک اس بدذات عورت کی اولاد کا نام و نشان مٹا دیتے!‘‘ سلطان شاہ کی زبان مسلسل زہر اگل رہی تھی۔
’’سر! آپ نے بی بی جی کو بتایا نہیں تھا اپنے منصوبے کے بارے میں؟‘‘
’’ہر راز میں عورت کو رازداں نہیں بناتے۔ یہ کم عقل مخلوق کب جذبات میں آ کر کیا کر جائے کیا معلوم؟‘‘ ان کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی۔
’’جی بہتر۔‘‘ محسن ان کی کسی بھی بات سے انحراف نہیں کر سکتا تھا۔
’’اور مال پہنچ گیا تھا؟‘‘ سلطان شاہ نے انگلیوں سے آنکھوں کو دباتے ہوئے سوال کیا۔
’’جی سر! اور رابرٹ مزید اسلحے کی ڈیمانڈ کر رہا ہے۔ ساتھ ہی دس فیصد اضافی رقم بھی آفر کر رہا ہے۔‘‘
’’بھیج دو۔ اور ہاں، جاتے ہوئے ضرار کو بھیجنا۔‘‘ سلطان شاہ کے کہتے ہی محسن ‘یس سر’ کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد ضرار دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوا۔
’’السلام علیکم ماموں جان! بلایا آپ نے؟‘‘
’’وعلیکم السلام۔ ہاں بیٹھو۔‘‘ سلطان شاہ نے ہاتھ سے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
’’مسٹر صدیقی صاحب کو تو جانتے ہی ہوگے؟‘‘
’’جی جی، ایس ایس انڈسٹریز کے مالک۔‘‘ ضرار نے فوراً جواب دیا۔
’’ان کی طرف سے آج رات کی پارٹی کا انویٹیشن آیا ہے۔ ان کا بیٹا باہر سے وکالت کی پڑھائی مکمل کر کے آیا ہے، اسی خوشی میں وہ پارٹی تھرو کر رہے ہیں۔ تو ہماری فیملی میں  سے تم اپنی بیوی کے ساتھ وہاں چلے جانا۔ وہ ہمارے اچھے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ ایک دو پراجیکٹس بھی متوقع ہیں۔‘‘ سلطان شاہ نے تفصیلاً آگاہ کیا۔
’’شام کے چار بج رہے ہیں ابھی تو میں مفراہ سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی اور ریان کی تیاری مکمل کر لے۔‘‘ ضرار نے گھڑی پر وقت دیکھ کر کہا اور اٹھ کر باہر کی طرف چل دیا۔
جبکہ سلطان شاہ نے پیچھے کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ ان کے کانوں میں کسی کی التجائیں گھول رہی تھیں۔

’’سلطان! میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔ خدارا میرے ساتھ یہ ظلم مت کریں۔ آپ بے شک ساری عمر پلٹ کر نہ دیکھیے گا مگر ایک بار نکاح کر کے اپنا نام دے دیں مجھے۔ سلطان، مجھے میری محبت کی سزا نہ دیں!‘‘
رو رو کر اپنی محبت کا یقین دلاتی ہوئی لڑکی کے الفاظ آج بھی ذہن میں محفوظ تھے انہیں اپنے کہے الفاظ یاد آئے تھے۔
’’ہم شاہ ہیں اور تم ایک تھرڈ کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی لڑکی۔ تم حسین تھی، ہمیں اس حسن نے اپنی طرف مائل کیا اور ہم نے اس حسن کو پا لیا اور تم سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ تم جیسی وحشیہ سے نکاح کریں گے ہم؟ تم تو نہ جانے کس کس کے ساتھ منہ کالا کرتی پھرتی ہو۔ ہماری خاندانی بیوی ہمارے گھر بیٹھی ہے جو ہماری عزت ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں ازلی غرور بول رہا تھا۔
ان مردوں کو عورت کی ذات تب یاد نہیں آتی جب اسے اپنے ہوس پوری کرتے ہیں ہیں مگر نکاح کی بات آتے ہی انہیں اپنی اونچی اور عورت کی نیچی ذات کا خیال آ جاتا ہے۔ اور یہاں قصوروار سراسر عورت ہوتی ہے جو والدین کی برسوں کی محبت کو روند کر چند دنوں کی محبت کے پیچھے اندھی ہو کر چل پڑتی ہے اور اپنے والدین کی عزت اور محبت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ پھر جب وہی محبت جوتے مارتی ہے تب آنکھیں کھلتی ہے مگر تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

پھر سلطان شاہ نے دیکھا تھا کہ ان کے الفاظ پر وہ لڑکی ساکت ہو کر انہیں دیکھنے لگی۔ پھر اس نے اپنے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کر سلطان شاہ کی آنکھوں میں گاڑ دی تھیں۔ اس کی زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہوا تھا مگر اس کی آنکھوں نے جو پیغام سلطان شاہ کو دیا تھا اس نے سلطان شاہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
وہ اکثر یہ سوچ کر سر جھٹک دیتے تھے کہ ایک کمزور اور بے سہارا عورت ان کا کیا ہی بگاڑ لے گی مگر پتہ نہیں کیوں وہ آنکھیں آج بھی انہیں خوفزدہ کرتی تھیں۔
ان آنکھوں کی یاد کے پردے پر لہراتے ہی سلطان شاہ ہڑبڑا کر اٹھے تھے۔ جلدی سے گلاس اٹھا کر پانی پیا اور خشک گلے کو تر کیا تھا۔ ان کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔
کون کہتا ہے کہ ظالم ظلم کرنے کے بعد سکون سے سوتا ہے؟
ضرار نے باہر آ کر کچن میں کام کرتی مفراہ کو تیاری کرنے کے لیے کہا اور خود وہیں صوفے پر بیٹھ گیا، جبکہ ضرار کے جانے کی بات سن کر ریان سے کسی بات پر جھگڑتی ہوئی آئرہ کے کان کھڑے ہوئے تھے۔
’’بھائی! آپ رات کو پھر کس وقت تک واپس آئیں گے؟‘‘ آئرہ نے صوفے پر بیٹھے ضرار سے سرسری سے انداز میں پوچھا۔
’’رات کی پارٹیز لیٹ آور تک ہی چلتی ہیں عموماً۔‘‘ ضرار نے بھی نارمل انداز میں جواب دیا۔
جسے سن کر آئرہ کا دل گارڈن گارڈن ہو گیا تھا۔ اس نے چپکے سے اپنے فون پر کائنات کو آج رات ریس کا انتظام کرنے کا میسج کیا۔ سامنے سے ‘اوکے’ کا ریپلائی پڑھ کر اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ بائیک ریسنگ اس کا جنون تھی، جس کے ضرار سخت خلاف تھا اور وہ اس سے چھپ کر یہ کام کیا کرتی تھی یا پھر جب وہ بزنس میٹنگز کے لیے آؤٹ آف کنٹری ہوتا۔ اور آج بھی آئرہ کی عید ہو گئی تھی۔
برخوردار تمہارا باپ اب بوڑھا ہو رہا ہے۔ اسے بڑھاپے میں تو سکون کرنے دو۔ آ کر درگاہ کی ذمہ داریاں سنبھالو۔‘‘ ابراہیم شاہ نے سامنے بیٹھے اپنے اڑیل بیٹے کو دیکھ کر کہا۔
’’اوہ کم آن ڈیڈ! آپ ابھی بھی فٹ اینڈ ہینڈسم ہیں۔ یقین نہیں آتا تو امی سے پوچھ لیں۔ آج بھی آپ کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔‘‘ اشعث نے شرارت سے ماں باپ کو دیکھا تو ثمینہ بیگم نے ’’بے شرم‘‘ کہہ کر اس کے کندھے پر تھپڑ رسید کیا  جبکہ ابراہیم شاہ نے اسے گھورا تھا۔
’’بات مت بدلو، اشعث!‘‘ وہ بیٹے کی رگ رگ سے واقف تھے۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *