ٹھہراؤ قسط نمبر ؛٥
ازقلم حمنہ خان
باب ۱۴
شام ڈھل چکی تھی۔
فبیحہ نے فیروزی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا، جو اس کی گوری رنگت پر کچھ یوں کھل رہا تھا کہ دیکھنے والا پلک جھپکنا بھول جائے۔ کلائیوں میں سفید چوڑیاں کھنک رہی تھیں، پیروں میں پازیب کی مدھم سی جھنکار تھی۔ چہرہ بناوٹ سے پاک، شفاف۔۔ جیسے سادگی ہی اس کا زیور ہو۔ لمبے بال کاندھوں پر بکھرے تھے۔
وہ واقعی کسی پری کا گمان دیتی تھی۔
اور شاید اسے اس بات کا اندازہ بھی تھا۔
تبھی تو وہ دونوں کو بات بات پر چھیڑ رہی تھی۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟” اس نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا، “مہمان میرے لیے آ رہے ہیں… تم لوگ کیوں بے چین ہو رہی ہو؟”
وہ دونوں اسے گھور کر رہ گئیں، مگر نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ ہی جاتی تھیں۔ پوری کوشش کے باوجود تجسس کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
وہ چپکے چپکے مہمانوں کو دیکھنے کی ترکیبیں سوچ رہی تھیں۔
اتنا تو اب صاف ہو چکا تھا۔۔
کہ ان پانچ نوجوانوں میں سے ہی کوئی ایک فبیحہ کے نصیب کا فیصلہ بن کر آیا ہے۔
اور یہی بات انہیں بے قرار کیے دے رہی تھی۔
مہمان ڈرائنگ روم میں بیٹھ چکے تھے۔ ہنسی مذاق، باتوں اور چائے کی خوشبو سے فضا بھری ہوئی تھی۔ مگر اس سارے شور میں بھی ایک بے چینی تھی۔ ایک انتظار۔
فبیحہ ٹرے سنبھالے آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئی۔
پازیب کی ہلکی سی جھنکار نے جیسے وقت کو چونکا دیا۔
اور پھر—
اس نے سر اٹھایا۔
بس ایک لمحہ تھا…
مگر وہ لمحہ جیسے صدیوں پر محیط ہو گیا۔
اس کی نظریں سامنے بیٹھے نوجوان سے ٹکرائیں۔
وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
جیسے وہ اسی کے آنے کا منتظر تھا۔ جیسے کمرے میں موجود باقی سب لوگ، آوازیں، باتیں… سب دھندلا گئے ہوں۔ رہ گیا ہو تو بس وہ… اور فبیحہ۔
فبیحہ کا دل زور سے دھڑکا۔
اتنا زور سے کہ اسے لگا سب سن لیں گے۔
اس کی انگلیاں ٹرے پر مضبوطی سے جم گئیں۔ سانس جیسے سینے میں اٹک گئی۔ اس نے نظریں جھکانے کی کوشش کی… مگر نہ جانے کیوں ایک پل کو وہ اس کی آنکھوں میں ٹھہر سی گئی۔
ان آنکھوں میں حیرت بھی تھی… پسندیدگی بھی… اور کچھ ایسا جو سیدھا دل میں اترتا چلا جائے۔
وہ مسکرایا نہیں، مگر اس کی نظر کی نرمی ہی کافی تھی۔
اس نے جھٹ سے پلکیں گرا لیں۔
مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
پہلی نظر اپنا کام کر چکی تھی۔۔
کمرے میں ہلکی ہلکی باتوں اور چائے کے کپوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، مگر کچھ نظریں ایسی تھیں جو صرف ایک ہی سمت میں جمی ہوئی تھیں۔
ظاہر ہاشم ذرا سا جھکا اور اس نے آہستہ سے ابو بکر کے کان کے قریب سرگوشی کی۔
“یعنی… ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟”
ابو بکر نے ہونٹ سکیڑے، مسکراہٹ دبائی اور اسی آہستگی سے جواب دیا،
“مطلب رشتہ کرنے۔ اوبویسلی۔”
وہ دونوں ہلکے سے مسکرائے، مگر ظاہر کے چہرے پر الجھن اب بھی باقی تھی۔
“رشتہ… مگر کس سے ہوگا؟”
ابو بکر نے بہت معمولی سا سر اٹھایا اور نظر سامنے کھڑی لڑکی پر ٹکا دی۔
“اوبویسلی… سامنے کھڑی اُس خوبصورت پری سے۔”
یہ الفاظ…
ظاہر کے کانوں سے ٹکرا کر سیدھا اس کے سینے میں اتر گئے۔
تیر کی طرح نہیں—
کانچ کی کرچیوں کی طرح۔
ایسی کرچیاں جو اندر پیوست ہو کر روح تک زخمی کر دیں۔
ایک لمحے میں اسے یوں لگا جیسے زمین اس کے قدموں تلے سے کھسک گئی ہو۔ سانس سینے میں اٹک گئی۔ دنیا گھومنے لگی۔
وہ… پاگل ہو گیا تھا۔
وہ… ختم ہو گیا تھا۔
کیونکہ جس لڑکی کو وہ دل دے بیٹھا تھا—
جبیران کریم بھی اسی کو پسند کرتا تھا۔
اور آج… وہی اس کے گھر رشتہ لے کر آیا تھا۔
“میں…” اس کے ہونٹ ہلے، مگر آواز ساتھ نہ دے سکی۔
وہ اچانک اٹھا اور تیز قدموں سے باہر کی طرف چلا گیا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہوا کم پڑ گئی ہو۔ اس نے بار بار گردن مسلی، گہرا سانس لینے کی کوشش کی۔
“یہ کیا تھا…؟
یہ کیا ہو گیا…؟”
دوسری طرف فبیحہ کے ذہن میں ایک بالکل مختلف کہانی چل رہی تھی۔
وہ تو اب تک یہی سمجھ رہی تھی کہ رشتہ ظاہر ہاشم کے لیے آیا ہے۔ اسے گمان بھی نہیں تھا کہ معاملہ کچھ اور نکلے گا۔
اور پھر…
جب جبیران کریم نے خود اپنے منہ سے بات کہی—
تو جیسے اس کے قدموں تلے زمین ہی نہ رہی۔
“ک… کیا؟”
اس کے ہاتھوں کی ٹرے کانپی، اور اگلے ہی لمحے وہ اسے وہیں چھوڑ کر پلٹ گئی۔ تیز قدموں سے، تقریباً بھاگتی ہوئی۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے دروازہ بند کیا تھا۔
کلائیوں میں کھنکتی سفید چوڑیاں اسے طنز کرتی محسوس ہوئیں۔
ایک ایک کر کے اس نے سب اتار دیں۔۔
سائیڈ پر رکھتی چلی گئی۔
اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ باہر بیٹھے لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔
جبیران کریم اور باقی سب کے ذہن میں بس ایک ہی خیال آیا—
“لڑکی شرما گئی ہے”
وہ تو ایک خواب کے ٹوٹنے کی آواز تھی۔۔
دروازے سے نکلتے ہی ظاہر ہاشم کو لگا جیسے دیواریں اس پر بند ہو رہی ہوں۔ سانس لینا مشکل ہو گیا تھا۔ اس نے تیزی سے چند قدم لیے اور صحن کے کونے میں جا کر رک گیا۔
ہاتھ بے اختیار بالوں میں چلے گئے۔
“نہیں… نہیں… یہ نہیں ہو سکتا…”
دل بری طرح دھڑک رہا تھا، جیسے سینہ چیر کر باہر آ جائے گا۔ آنکھوں کے سامنے بار بار وہی منظر گھوم رہا تھا—فیروزی لباس، سفید چوڑیوں کی کھنک… اور اس کی نظریں۔
وہ نظریں جو اسے لگی تھیں جیسے صرف اسی کے لیے ہوں۔
مگر وہ غلط تھا۔
سب غلط تھا۔
اس نے مٹھی بھینچ لی۔ ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ایک کڑوی سی ہنسی اس کے لبوں سے نکلی۔
“کتنا بے وقوف تھا میں…”
جس لمحے اسے احساس ہوا کہ وہ لڑکی اب اس کی نہیں ہو سکتی، اس لمحے جیسے اس کے اندر کچھ مر گیا۔
وہ دیوار سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھ گیا۔ نظریں خالی تھیں… بالکل خالی۔
محبت کبھی کبھی اتنی بے آواز بھی مار دیتی ہے۔
ادھر فبیحہ نے دروازہ بند کیا تھا اور پلٹ کر آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
چہرہ سرخ تھا، آنکھیں نم۔
“یہ… کیا ہو گیا؟”
اس نے اپنے عکس سے پوچھا۔
اسے تو یقین تھا کہ بات ظاہر ہاشم کی ہے۔ اس نے کتنی بار دل کو سمجھایا تھا، کتنی بار خوابوں کو اجازت دی تھی کہ وہ اس نام کے گرد گھومیں۔
مگر آج—
سب بکھر گیا تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چوڑیاں اتاریں۔ ایک ایک کر کے میز پر رکھتی گئی۔ ہر کھنک اسے چبھ رہی تھی، جیسے کوئی مذاق اڑا رہا ہو۔
“تم نے سوچا بھی کیسے…؟” اس نے آئینے میں خود کو ڈانٹا۔
“کس حق سے خواب دیکھے؟”
آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے جلدی سے انہیں پونچھا، مگر وہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا…
امید ٹوٹنے کی آواز باہر نہیں، اندر گونجتی ہے۔
اور بہت دیر تک گونجتی رہتی ہے۔۔
ڈرائنگ روم کی فضا بدلی ہوئی تھی۔ بات اب رسمی مہمان نوازی سے آگے نکل چکی تھی۔
جبیران کریم نے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے گہرا سانس لیا، پھر نگاہ اٹھا کر شیرازی صاحب کو دیکھا تھا۔
“دیکھیے شیرازی صاحب… میں جانتا ہوں، آپ کی نظر میں میری ایک الگ ہی تصویر ہوگی۔ مگر میں یہاں بات گھمانے نہیں آیا۔”
کمرے میں موجود سب لوگ متوجہ ہو گئے تھے۔
“میں چاہتا ہوں کہ میں یہاں سے شادی کی تاریخ لے کر جاؤں۔ میں نہیں چاہتا کہ حالات بگڑیں، یا کوئی اور پیچیدگی پیدا ہو۔ کیونکہ… میں آپ کی بیٹی سے بہت محبت کرتا ہوں۔ اور اسے بہت خوش رکھوں گا۔”
الفاظ میں ٹھہراؤ تھا، مگر فیصلہ پوری طرح واضح تھا۔
“رہی بات فبیحہ کی… تو آپ اس سے بات کر لیجیے گا۔ مجھے امید ہے اسے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔”
چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی تھی۔
شیرازی صاحب نے گلا صاف کیا تھا۔
“جی… میری بیٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن پھر بھی، میں اس سے بات کر کے ہی حتمی جواب دوں گا۔”
جبیران نے ہلکا سا سر ہلایا۔
“یہ ممکن تو نہیں تھا کہ میں تاریخ لیے بغیر جاتا… مگر ٹھیک ہے۔ محبت بہت کچھ کرا دیتی ہے۔ میں انتظار کر لوں گا۔”
شیرازی کی آنکھوں میں ہلکی سی سختی ابھری۔
“آپ رشتہ لینے آئے ہیں… یا دھمکی دینے؟”
جبیران فوراً سیدھا ہو بیٹھا۔
“ہرگز نہیں۔ میں دھمکی کیوں دوں گا؟ آپ تو میرے ہونے والے سسر ہیں۔ آپ سے تو عزت سے ہی پیش آؤں گا۔”
پھر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی۔
“بس کیا کروں… بچپن سے یتیم پلا بڑھا ہوں۔ تمیز شاید تھوڑی کم ہے مجھ میں۔ ادب سیکھنے کی ضرورت ہے… اور وہ آپ کی بیٹی سکھا دیں گی۔ وہ تو تعریف کے قابل ہیں۔”
کمرے کی فضا کا تناؤ تھوڑا سا ڈھیلا پڑ گیا تھا۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“چلتے ہیں ہم… ویسے چائے بہت زبردست تھی۔ چاہوں گا کہ آپ کی بیٹی عمر بھر صرف میرے لیے چائے بنائے۔”
وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل آیا تھا۔
باہر آتے ہی اس کے تینوں دوست اسے گھورنے لگے تھے۔
جیسے وہ پوچھ رہے ہوں—
یہ ابھی کیا ہوا ہے؟
ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ان کے چہروں پر صاف لکھا تھا کہ جبیران نے توقع سے کچھ زیادہ ہی بول دیا تھا۔ ان کے ذہن میں ایک ہی خیال آیا—
یہ بندہ مافیا تو ہے ہی؟
جبیران نے اردگرد دیکھا۔
“ظاہر ہاشم کہاں ہے؟”
“پتہ نہیں… ابھی تو باہر گیا تھا…” کسی نے جواب دیا تھا۔
مگر وہ باہر نہیں تھا۔
وہ جا چکا تھا۔
کہاں؟
کسی کو معلوم نہیں تھا۔
اور شاید… وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔
باہر آ کر بھی جبیران کریم کے قدم رکے نہیں تھے، مگر دل جیسے وہیں ڈرائنگ روم میں اٹک گیا تھا۔
کچھ ٹھیک نہیں تھا۔
بہت کچھ ضرورت سے زیادہ آسان ہو گیا تھا۔
اس نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا، پھر دروازے کی طرف۔
“ظاہر کہاں ہے؟”
“پتہ نہیں… ابھی تو یہیں تھا۔” اس نے کندھے اچکائے۔
جبیران کی آنکھیں سکڑ گئیں تھیں۔
“وہ ایسے غائب ہونے والوں میں سے نہیں ہے…”
اس کے ذہن میں تیزی سے کئی منظر ایک ساتھ چمکے تھے—
فبیحہ کا پلٹ کر بھاگ جانا، ظاہر کا اچانک اٹھ کر نکل جانا، اور کمرے میں پھیلی وہ عجیب سی خاموشی۔
“کچھ ہے… جو مجھے نہیں پتا۔” اس نے دھیرے سے کہا تھا۔
دل میں ایک انجانا سا خدشہ سر اٹھا رہا تھا۔
باب ۱۵
وہ واپس آئے تھے۔۔
ادھر گھر کے اندر فضا یکسر بدل چکی تھی۔
شیرازی نے گلا صاف کیا اور سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔
“چونکہ بات آگے بڑھ چکی ہے… اور مہمان بھی موجود ہیں… تو بہتر یہی ہے کہ ہم رشتے کا اعلان کر دیں۔”
چند چہرے کھل اٹھے، چند چونک گئے۔
“آج سے…” اس نے ٹھہر کر کہا،
“فبیحہ کا رشتہ جبیران کریم کے نام کر دیا میں نے۔”
لفظ فضا میں گرے—
بھاری، حتمی، فیصلہ کن۔
اپنے کمرے میں بیٹھی فبیحہ نے جب یہ جملہ سنا تو اس کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
جیسے کسی نے آخری امید بھی چھین لی ہو۔
“ختم…” اس کے لبوں پر سرگوشی ابھری۔
آنکھیں بند ہو گئیں تھیں۔
کہانی اب اس کے ہاتھ میں نہیں رہی تھی۔
باہر کھڑا جبیران ایک عجیب سی بے چینی میں مبتلا تھا۔
اعلان کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی تو سب نے اسے مبارک دی—
مگر اس کے دل نے خوشی سے پہلے سوال کیا۔
اگر سب ٹھیک ہے…
تو ظاہر کہاں ہے؟
ڈرائنگ روم میں ہونے والا اعلان اچانک نہیں تھا۔
یہ فیصلہ چند منٹ پہلے ہو چکا تھا… بند دروازے کے پیچھے۔
جبیران کریم کو جب شک ہوا، تو وہ شک کو نظر انداز کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس کے خدشے اکثر سچ نکلتے تھے، اور وہ جانتا تھا—
اگر دل نے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے، تو کہیں نہ کہیں آگ ضرور لگی ہے۔
اسی لیے وہ خاموشی سے اٹھا تھا اور شیرازی صاحب سے کہا تھا،
“مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔”
کمرے کا دروازہ بند ہوا۔
دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے تھے۔
چند لمحوں تک صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دیتی رہی۔
پھر جبیران نے نظریں اٹھائیں۔ اس کی آواز نرم تھی… مگر اس نرمی میں ایسا وزن تھا جو سامنے والے کو سیدھا بیٹھنے پر مجبور کر دے۔
شیراز چونکے، مگر خاموش رہے۔
جبیران آگے جھکا۔
“میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مگر اگر آج، ابھی، اسی وقت یہ رشتہ مضبوط نہ کیا گیا… تو ہو سکتا ہے کل بہت دیر ہو جائے۔”
الفاظ دھمکی نہیں تھے۔
مگر انکار کی گنجائش بھی نہیں چھوڑ رہے تھے۔
کمرے کی فضا بوجھل ہو گئی۔
شیرازی نے پہلی بار اس نوجوان کی آنکھوں میں غور سے دیکھا تھا—
وہاں عزم تھا، اختیار تھا… اور یہ یقین بھی کہ اگر بات سیدھی نہ ہوئی تو وہ اسے سیدھا کرنا جانتا ہے۔
چاہے طریقہ سخت ہی کیوں نہ ہو۔
جبیران آہستہ سے بولا،
“میں ہر چیز کو ٹھیک کرنا جانتا ہوں۔ بس طریقے مختلف ہوتے ہیں۔”
یہ جملہ فیصلہ کن تھا۔
شیرازی کے پاس اب سوچنے کا وقت نہیں رہا تھا۔
وہ سمجھ گئے تھے—
یہ لڑکا خالی ہاتھ واپس نہیں جائے گا۔۔
اور اگر گیا تو ان کا بہت کچھ ڈوبو کر لے جائے گا۔۔
چند لمحوں بعد دروازہ کھلا تھا۔
جبیران پہلے کی طرح پرسکون تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اور شیرازی صاحب کے چہرے پر فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔
ایسا فیصلہ… جس میں فبیحہ سے پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا ہو۔
منگنی طے ہو چکی تھی۔
اور منگنی کے دو دن بعد شادی اور اس میں ابھی باقی صرف دس دن ہی تھے۔
فبیحہ — جس سے پوچھا ہی نہیں گیا تھا۔
منگنی کی خبر پورے گھر میں پھیل چکی تھی۔
مبارکبادیں، مسکراہٹیں، دعائیں…
مگر فبیحہ کے کانوں میں صرف ایک ہی جملہ ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا—
“فیصلہ ہو گیا ہے۔”
وہ تیزی سے ابا کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
“ابا… آپ نے مجھے بلایا بھی نہیں؟ مجھ سے پوچھا تک نہیں؟”
شیرازی صاحب نے نظریں چرا لیں تھی۔
یہ وہ سوال تھا جس سے وہ بچنا چاہتے تھے۔
“بیٹا، بڑوں کے فیصلے بہتر ہوتے ہیں۔”
“لیکن میری زندگی ہے!” اس کی آواز کانپ گئی، “کم از کم مجھے یہ تو حق تھا کہ میں ہاں یا نہ کہہ سکوں!” یہ ہمیشہ آپ ہی تو کہتے تھے۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی تھی۔
مگر یہ وہ خاموشی تھی جس میں جواب نہیں ہوتے۔
فبیحہ آہستہ سے پیچھے ہٹی تھی۔
اسے پہلی بار سمجھ آیا تھا—
وہ اس کہانی کی ہیروئن نہیں تھی۔
وہ صرف ایک فیصلہ تھی۔
آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
“تو میرا بولنا ضروری ہی نہیں تھا…”
ظاہر — جسے سچ نے جلا دیا تھا۔۔
ادھر ظاہر ہاشم کو جب پوری بات پتہ چلی، تو اس کے اندر جیسے کچھ پھٹ گیا تھا۔
“اس سے پوچھا بھی نہیں؟” اس نے یقین نہ آنے والے انداز میں دہرایا۔
کسی نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
بس۔
اتنا سننا تھا کہ اس کی برداشت جواب دے گئی تھی۔
وہ سیدھا اندر آیا۔ قدموں میں وہ نرمی نہیں تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔ آج ہر قدم سوال تھا، ہر سانس احتجاج۔
سامنے جبیران کریم کھڑا تھا۔
“تمہیں اتنی جلدی کیا تھی؟” ظاہر کی آواز دبی ہوئی تھی، مگر غصہ صاف سنائی دے رہا تھا۔
جبیران نے اسے دیکھا۔ پرسکون۔ نپا تلا۔
“جلدی نہیں تھی۔ یقین چاہیے تھا۔”
“کسی کی مرضی کے بغیر؟”
جبیران کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی تھی۔
“کبھی کبھی فیصلے لینے پڑتے ہیں… پوچھنے سے پہلے۔”
یہ سن کر ظاہر کے ہاتھ مٹھیوں میں بند ہو گئے۔
“وہ کوئی چیز نہیں ہے!”
کمرے کی فضا میں بجلی سی کوند گئی۔
شیراز نے بیٹی کو اپنے سامنے بیٹھا دیکھا تو دل جیسے مٹھی میں آ گیا۔
“فبیحہ میری جان… کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم نہیں جانتے، مگر ہماری بہتری انہی میں ہوتی ہے۔”
اس کی آواز نرم تھی، مگر اندر ٹوٹن صاف سنائی دے رہی تھی۔
“تم میری زندگی کی خوشبو ہو، میری آنکھوں کی بینائی… میرا مان، میرا یقین۔ میں سب برداشت کر سکتا ہوں، مگر تمہارے ساتھ کچھ برا ہو… یہ نہیں۔”
فبیحہ نے چونک کر انہیں دیکھا تھا۔
“ابا…؟”
شیرازی صاحب کی نگاہیں چند لمحوں کو خلا میں اٹک گئیں۔
انہیں وہ بند کمرہ یاد آ گیا۔ وہ سرد لہجہ۔ وہ آنکھیں جن میں رحم نہیں تھا۔
جبیران کریم نے بہت سکون سے کہا تھا—
“مجھے رشتے کرنا آتے ہیں۔ اگر بات سیدھی نہ ہوئی تو میں فوبیا کو گھر سے اٹھانے میں دیر نہیں لگاؤں گا… زبردستی میں بھی نہیں… اور اگر بات بہت بگڑی تو خون بہانے میں بھی نہیں۔”
ہر جملہ وعدہ تھا۔
اور شیرازی جانتے تھے—
وہ جو کہتا ہے، کر گزرتا ہے۔
“زنجیریں مجھے نظر آ گئی ہیں…” انہوں نے دل میں سوچا، “بس دعا ہے بیٹی تک ان کی جھنکار نہ پہنچے۔”
“ابا… آپ کیا سوچ رہے ہیں؟”
فبیحہ کی آواز نے انہیں حال میں واپس کھینچ لیا تھا۔
وہ زبردستی مسکرائے۔
“کچھ نہیں بیٹا۔ بس دعا ہے تم خوش رہو۔ جو ہو رہا ہے، اللہ اسے تمہارے حق میں بہتر کر دے۔”
باب ۱۶
دوست — جو دشمن بن گئے
دوسری طرف ظاہر ہاشم کے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ سیدھا جا کر جبیران کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔
“تم اس لڑکی سے شادی نہیں کر سکتے۔”
جبیران نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی پوچھ لیا تھا،
“کیوں؟”
ظاہر کے پاس جواب نہیں تھا۔ بس درد تھا۔
“تم کسی اور سے کر لو… مگر اس سے نہیں۔”
جبیران نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
آنکھیں ٹھنڈی… مگر لہجہ خطرناک۔
“میں بتاتا ہوں کیوں نہیں ہو سکتا۔” اس نے ظاہر کو پیچھے دھکیلا۔
“کیونکہ تم اس سے محبت کر بیٹھے ہو۔”
ظاہر ساکت رہ گیا تھا۔
جبیران کی آواز اور نیچی ہو گئی تھی۔
“تم میرے دوست ہو۔ تمہارے لیے لڑکیوں کی قطار لگا دوں گا۔ جو کہو گے، دنیا کے کسی کونے سے اٹھا لاؤں گا۔”
پھر اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا—
“مگر وہ لڑکی… میری ہے۔ جبیران کریم کی۔
اور پہلی بار مجھے کوئی پسند آئی ہے۔ اسے کوئی اور پسند کرے… یہ میں برداشت نہیں کروں گا۔”
فضا منجمد ہو گئی۔
“میں لاشیں بچھا سکتا ہوں۔ سب کچھ کر سکتا ہوں۔ اور مرنے کی بات؟ نہیں… مجھے مرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ دس دن بعد ویسے بھی میری ہو جائے گی۔”
ظاہر کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
جبیران نے آخری وار کیا تھا—
“رہنا ہے تو رہو۔ دوستی کا لحاظ کر کے رہنے دوں گا۔ نہیں تو دروازہ کھلا ہے۔”
ظاہر کچھ نہ کہہ سکا تھا۔
الفاظ تھے ہی نہیں۔
صرف یہ احساس تھا کہ اگلے دس دن…
اس کے لیے سزا بننے والے ہیں۔
اور ہر گزرتا لمحہ عذاب بڑھاتا جائے گا۔۔
جبیران کریم نے اس رات کے بعد کوئی اونچی آواز استعمال نہیں کی تھی۔
ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔
اس کی خاموشی بولنے لگی تھی۔
گھر کے باہر دو نئی گاڑیاں اکثر نظر آنے لگیں۔ محلے کے نکڑ پر کھڑے چند اجنبی چہرے اب مستقل تھے۔ فون کالز کم ہو گئیں، مگر خبریں بڑھ گئیں تھیں۔
کس نے کہا؟
کس نے بتایا؟
کوئی نہیں جانتا تھا۔
مگر سب جانتے تھے—
وہ جانتا ہے۔
شیرازی نے ایک دن دروازے سے جھانکا، پھر فوراً بند کر لیا تھا۔
ان کے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے تھے۔
یہ نگرانی تھی۔
خاموش… مگر واضح۔
انہیں وہ جملہ یاد آیا تھا—
“میں ہر چیز کو ٹھیک کرنا جانتا ہوں۔”
ہاں، وہ ٹھیک کر رہا تھا۔
اپنے طریقے سے۔
ظاہر — جو سمجھ گیا تھا۔۔
ظاہر ہاشم نے بھی محسوس کر لیا تھا۔
اس کے ایک دوست نے اسے آہستہ سے بتایا تھا۔۔
“ہمیں دیکھا جا رہا ہے۔ ہر جگہ۔”
ظاہر ہنس پڑا۔ کڑوی ہنسی۔
“وہ ڈر گیا ہے…”
محبت جب طاقتور آدمی کو خوفزدہ کر دے—
تو وہ محبت نہیں رہتی، جنگ بن جاتی ہے۔
اور یہ جنگ شروع ہو چکی تھی۔
فبیحہ — قید تھی بغیر سلاخوں کے۔۔
فبیحہ کو کچھ صاف صاف تو نہیں بتایا گیا، مگر تبدیلی وہ بھی محسوس کر رہی تھی۔
اب اس کے باہر جانے کے وقت طے ہونے لگے تھے۔
فون پر نظریں رکنے لگی تھیں۔
باتوں میں احتیاط بڑھ گئی تھی۔
وہ حیران تھی—
“میں نے کیا کیا ہے؟”
مگر اصل سوال یہ تھا—
وہ کس کی ہو چکی ہے؟
اسی رات جبیران نے صرف ایک میسج بھیجا تھا۔
“چیزیں اب میرے کنٹرول میں ہیں۔ فکر نہ کریں۔”
یہ تسلی نہیں تھی۔
یہ اطلاع تھی۔
جو اس نے شیرازی صاحب کو دی تھی۔۔
جاری ہے
