TEHRAO BY HUMNA KHAN EPISODE : 8

ٹھہراؤ قسط نمبر ؛٨

ازقلم حمنہ خان

باب ۲۶

جبران کریم نے اس رات پہلی بار
اپنے ہاتھ کو دیکھا تھا۔
وہی ہاتھ۔
جو اس کی حفاظت کے لیے اٹھنا چاہیے تھا۔
اسی ہاتھ نے اسے رُلا دیا تھا۔
وہ بستر کے کونے پر بیٹھی تھی۔
چہرہ خاموش، آنکھیں خالی۔
وہ رو نہیں رہی تھی۔
اور یہی بات جبران کو توڑ رہی تھی۔
“فبیحہ…”
اس کی آواز میں وہ رعب نہیں تھا
جس کی سب کو عادت تھی۔
آج اس میں خوف تھا۔
“میری طرف دیکھو… پلیز۔”
وہ نہیں مُڑی تھی۔
وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔
جبران کریم —
جس کے سامنے لوگ نظریں جھکا لیتے تھے —
آج خود جھکا ہوا تھا۔
“مجھ سے غلطی ہو گئی۔
میں نے غصے کو تم سے بڑا سمجھ لیا۔
میں ہار گیا… تم سے نہیں، خود سے۔”

اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپے،
مگر وہ چپ رہی تھی۔
خاموشی کبھی کبھی سزا ہوتی ہے۔

“تم اذیت میں ہو نا؟”
اس نے بمشکل پوچھا۔
“میں بھی ہوں۔
مگر فرق یہ ہے
کہ تمہیں میری وجہ سے ہے۔
اور مجھے اپنی وجہ سے۔”
پہلی بار جبران کو سمجھ آیا
محبت صرف پانے کا نام نہیں،
محفوظ رکھنے کا نام ہے۔
اور وہ اسے محفوظ نہیں رکھ سکا تھا۔
اس نے آہستہ سے کہا تھا،
“مجھے ایک موقع دو۔۔
میں تمہارا یقین واپس لانا چاہتا ہوں۔
جو ٹوٹا ہے، میں جوڑ نہیں سکتا شاید،
مگر تمہیں دوبارہ ٹوٹنے نہیں دوں گا۔”

شاید اسے اس پہ یقین کبھی تھا ہی نہیں اس لیے اس اس تھپڑ سے زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی۔۔
اس کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا۔
معافی نہیں تھی۔
مگر امید بھی ختم نہیں تھی۔
اس رات پہلی بار
جبران کریم کو اپنی طاقت چھوٹی لگی تھی اس کے اداسی کی آگے۔۔
اور اس کا خوف بڑا تھا اسے کھو دینے کا خوف۔
کبھی کبھی ہمیں جو ملتا ہے وہ ہم نے ملنے سے پہلے ہی کھویا ہوتا ہے کیونکہ وہ ہمارے تقدیر کا حصہ ہوتا ہی نہیں ہے، ہم بس اسے بنا رہے ہوتے ہیں۔۔۔
اور شاید کبھی کسی موڈ پہ ہمیں احساس ہوتا ہے ہم نے بہت کوشش کی اور ہم کتنی مزید کرے وہ ہمارا ہے ہی نہیں۔۔ پھر ہمیں چھوڑ دینا ہی بہتر لگتا ہے۔۔

عید کا تیسرا دن تھا۔
گلیوں میں ابھی بھی رنگ باقی تھے۔
کچھ بچوں کے ہاتھوں میں نئی پچکاریاں تھیں، کچھ کے چہروں پر مہندی کی ہلکی سی خوشبو باقی تھی۔
ہنسی اب بھی فضا میں تیر رہی تھی۔
شاید عید واقعی بچوں کی ہوتی ہے۔
جوں جوں انسان بڑا ہوتا ہے، اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ عید تو کہیں بچپن میں ہی رہ گئی ہے۔
ابو بکر اُس دن ایک چھوٹے سے گاؤں کی تنگ گلی میں کھڑا تھا۔
وہ جانتا تھا وہ کہاں آیا ہے —
کیونکہ اس پتے کا علم صرف اُسے تھا۔
وہ گھر۔۔
گھر کم، ایک ٹھکانہ زیادہ لگتا تھا۔
بغیر رنگ، بغیر سجاوٹ، بغیر زندگی۔
دروازہ وہ مسلسل کھٹکھٹا رہا تھا۔
پانچ منٹ۔۔ دس منٹ۔۔
پھر آدھا گھنٹہ۔
انتظار میں اُس نے گلی کے بچوں کے ساتھ کچھ دیر گیند بھی اچھالی، مگر اس کی نظریں بار بار اسی بند دروازے پر جا ٹھہرتیں تھی۔
آخرکار دروازہ کھلا تھا۔
سامنے ظاہر حاشم کھڑا تھا —
یا شاید اُس کا سایہ۔
ایک مہینہ پہلے بھی ابو بکر اسے دیکھ چکا تھا،
مگر آج۔۔
وہ پہچان میں نہیں آ رہا تھا۔
چہرہ اُجڑا ہوا، آنکھیں اندر دھنسی ہوئی، بال بکھرے ہوئے۔
جیسے وقت نے اسے تھامنے کے بجائے دھکیل دیا ہو۔
“اوہ… تم؟”
اس کے ہونٹوں سے نکلا تھا۔
“السلام علیکم۔ سلام بھی کرو گے یا وہ بھی بھول گئے ہو؟”
“وعلیکم السلام… تم یہاں کیوں آئے ہو؟”
ابو بکر نے تلخی سے دیکھا۔
“مطلب؟ اب تم سے ملنے بھی نہ آؤں؟ ایک مہینے بعد آیا ہوں میں۔”
ظاہر نے نظریں جھکا لیں۔
سورج کی روشنی جیسے اس کی آنکھوں کو چبھ رہی تھی۔
شاید وہ بہت دنوں بعد دروازے تک آیا تھا۔
“عید ہے… اسی لیے آیا ہوں۔”
“ہاں… عید ہے…”
اس نے لفظ دہرایا، جیسے یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“ایسے کیوں بول رہے ہو جیسے معلوم ہی نہیں؟ عید ہے!”

“کچھ دنوں میں عید ہے…”
ظاہر نے دھیمی آواز میں کہا تھا۔
ابو بکر چونک گیا تھا۔
“کچھ دنوں میں؟ عید گزر رہی ہے، ظاہر!”
آج عید کا تیسرا دن ہے۔

چند لمحے خاموشی رہی تھی۔
“میں اندر آ سکتا ہوں؟”
“ہاں… آ جاؤ۔”
وہ ہٹ گیا تھا۔
ابو بکر جیسے ہی اندر داخل ہوا، اس کا سانس رک سا گیا تھا۔
گھر کی حالت۔۔
دیواروں پر نمی، فرش پر بکھرا سامان،
بدبو اتنی کہ جیسے ہوا بھی بیمار ہو۔
یہ انسان کا گھر نہیں لگتا تھا۔
جیسے کوئی زخمی جانور کسی اندھیرے کونے میں آ کر بیٹھ گیا ہو۔
“تم یہاں رہتے ہو؟”
“کیوں؟ کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے…”
“ٹھیک؟ تمہیں یہ بھی نہیں معلوم عید ہے! تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے؟”
ظاہر نے تھکے لہجے میں کہا،
“میں پاگل نہیں ہوں۔ زندہ ہوں۔ دماغ بھی ہے میرے پاس… بس سب سے دور رہنا چاہتا ہوں۔”
ابو بکر سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا تھا —
کیونکہ بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ صاف نہیں تھی۔
کتا بھی بیٹھتا ہے تو اپنی دھم سے پہلے زمین صاف کرتا ہے۔۔

“سب آگے بڑھ چکے ہیں، ظاہر…”
“میں جانتا ہوں…”
وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا۔
“لیکن مجھے آگے بڑھنے میں وقت لگے گا۔”
“تین مہینے ہو گئے ہیں!”
“تین مہینے… بہت ہوتے ہیں۔”
اس کی آنکھیں کہیں خالی جگہ پر ٹکی تھیں۔

“اور یہ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے…”
گلی میں بچوں کی ہنسی اب بھی سنائی دے رہی تھی۔
باہر عید تھی۔
اندر ویرانی۔
ایک گھر روشنی سے بھرا ہوا،
دوسرا انسان اندھیرے سے۔
اور ابو بکر پہلی بار سمجھ رہا تھا —
کبھی کبھی انسان گھر نہیں بدلتا۔
وہ خود گھر جیسا ویران ہو جاتا ہے۔

باب ۲۷

یہ صرف حالات نہیں تھے… یہ زندگی تھی۔
اور زندگی کب کسی کے اختیار میں آئی ہے؟
ہر ایک کا حال جدا تھا،
اور ہر حال اپنی الجھنوں، اپنی پیچیدگیوں میں گھرا ہوا تھا۔
ذکرا نور کو انزر انور خان پر محض بھروسا نہیں تھا
وہ اُن سے محبت کرتی تھی۔
ایسی محبت، جو دلیل نہیں مانگتی۔
ان کی محبت کے قصے اب عروج پر تھے،
اور دونوں کو یوں محسوس ہوتا تھا
کہ شاید یہی زندگی ہے۔
یہی لمحہ، یہی ساتھ، یہی سانسیں۔

وہی کیفیت،
جو کچھ عرصہ پہلے ادفر اور ابو بکر کے حصے میں آئی تھی۔
اور اب وہی حال
ذکرا نور اور انزر انور خان کی دنیا پر سایہ کیے ہوئے تھا۔

وہ دن عام نہیں تھا۔
ذکرا نور اور انزر انور خان کے درمیان ہونے والی لڑائی
اس بار صرف ایک ناراضی نہیں تھی —
وہ اعتماد کے دروازے پر پڑی پہلی زوردار دستک تھی۔
شروع میں تو ذکرا نے ہمیشہ کی طرح بات کو ٹالنے کی کوشش کی تھی،
مگر یہ جھگڑا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
ایک دن… دو دن…
اور پھر چار دن گزر گئے۔
چار دن ۔۔
جو پہلے کبھی اُن کے درمیان نہیں آئے تھے۔
انزر بار بار کال کرتا،
مگر وہ فون نہیں اٹھاتی۔
تب وہ شیرین نور کے نمبر پر کال کرتا۔
شیرین نور فون لے کر ذکرا کے پاس آتی،
اسے سمجھاتی، مناتی،
کہ کم از کم بات تو سن لو۔
مگر اس بار ذکرا کے چہرے پر ضد نہیں تھی۔
درد تھا۔
کیونکہ اس کہانی کی ابتدا لائبریری سے ہوئی تھی۔
ایک اجنبی لڑکی اس کے پاس آئی تھی —
خاموش، مگر یقین سے بھری ہوئی۔
اس نے کہا تھا کہ انزر اُس سے ڈیٹ کرتا ہے۔
پہلے تو ذکرا نے ہنس کر بات کو رد کیا تھا،
مگر پھر اُس لڑکی نے کچھ تصویریں دکھائیں تھی،
چند پیغامات اور کچھ ریکارڈنگز۔
وہ سب کچھ
جو کسی بھی محبت کرنے والی لڑکی کے لیے
ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔
ذکرا کے ہاتھ کانپ گئے تھے،
آنکھوں میں آنسو نہیں آئے تھے—
بس دل میں کچھ ٹوٹ گیا تھا۔
انزر اور ذکرا کے درمیان پہلے بھی جھگڑے ہوتے تھے،
مگر وہ معمولی باتوں پر ہوتے تھے،
اور جلدی ختم بھی ہو جاتے۔
یہ پہلی بار تھا
جب بات انا سے آگے نکل کر
اعتماد تک جا پہنچی تھی۔
اور شاید —
کسی بھی لڑکی کے لیے
اعتماد کا ٹوٹنا
سب سے بڑا زخم ہوتا ہے۔
اسی لیے اس بار وہ
معاف نہیں کرنا چاہتی تھی۔

“شرین… شرین!”
اس کی آواز کمرے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی گونج رہی تھی۔
مگر باتھ روم کے اندر بہتے پانی کی آواز کے سوا کوئی جواب نہ آیا۔
کمرے میں ہلکی سی خاموشی پھیل گئی۔
اسٹڈی ٹیبل پر رکھا موبائل اچانک جگمگایا — ایک میسج۔
اس کی نظر غیر ارادی طور پر اس اسکرین پر ٹھہر گئی۔
اور پھر… وہ نام۔
وقت جیسے ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
انزر۔
دل نے سینے پر زور سے دستک دی۔
سانس جیسے حلق میں اٹک گئی۔
وہ حیران کیوں نہ ہوتی؟ وہ اس کی محبت تھا… اس کے خوابوں کا مرکز… اس کی دعاؤں کی خاموش وجہ۔
ہاتھ بے اختیار موبائل کی طرف بڑھے۔
اس نے میسج کھولا۔
“تو آج بھی آپ مجھ سے مل رہی ہیں نا؟”
چند لفظ۔
مگر وہ لفظ کسی تھپڑ کی طرح اس کے وجود پر گرے۔
رگوں میں دوڑتا خون جیسے اچانک سرد ہو گیا تھا۔
یعنی شرین… انزر سے مل رہی تھی؟
اور اسے… کچھ معلوم ہی نہیں تھا؟
یہ خیال اس کے گمان سے باہر تھا۔
اس کے دل میں ایک خالی سا شور گونج اٹھا — ایسا شور جو صرف اندر سنائی دیتا ہے۔
اس نے موبائل واپس وہیں رکھ دیا… نہایت خاموشی سے۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مگر اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ چکا تھا۔
وہ کمرے سے باہر نکلی تو قدم بوجھل تھے۔
ہر قدم جیسے زمین پر نہیں، اپنے ہی سوالوں پر رکھ رہی ہو۔
کچھ دیر بعد اس کا امتحان تھا — شاید آخری موقع۔
کتنی عجیب بات تھی۔۔
زندگی ایک طرف امتحان لے رہی تھی، اور کاغذ پر لکھا جانے والا امتحان دوسری طرف۔
وہ بالکل نہیں چاہتی تھی جانا۔
دل بغاوت کر رہا تھا۔
مگر اس نے خود کو سنبھالا… جیسے کوئی سپاہی زخمی ہونے کے باوجود میدان نہ چھوڑے۔
وہ امتحان ہال میں بیٹھی۔
قلم ہاتھ میں تھا، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔
پھر اس نے گہری سانس لی تھی… اور لکھنا شروع کر دیا۔
جب پرچہ ختم ہوا، تو اسے عجیب سا سکون محسوس ہوا۔
جیسے اس نے صرف سوالوں کے جواب نہیں دیے۔۔
بلکہ خود کو بھی ایک بار پھر ثابت کر دیا ہو۔

باب ۲۸

دوپہر کی نرم دھوپ لان میں بکھری ہوئی تھی۔
ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی اور قہقہوں کی آوازیں سبز گھاس پر اچھل رہی تھیں۔
فبیحہ لان میں مہران کریم اور ابو زر کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
وہ تینوں واقعی بچوں جیسے لگ رہے تھے اور ان میں فبیحہ سب سے چھوٹی۔
اس نے اپنا دوپٹہ ایک طرف کمر کے ساتھ باندھ رکھا تھا تاکہ کھیل میں رکاوٹ نہ ہو۔
بالوں کی چند لٹیں چہرے پر آ رہی تھیں اور وہ ہنستے ہوئے انہیں بار بار پیچھے کر رہی تھی۔
ابو زر اس وقت سائیڈ پر کھڑا سانس بحال کر رہا تھا،
اور کورٹ میں مہران کریم اور فبیحہ آمنے سامنے تھے۔
شٹل ہوا میں اچھلتی۔
راکٹ ٹکراتا۔
ہنسی فضا میں گھل جاتی۔
فبیحہ اس گھر میں مہران کریم کی وجہ سے ہی ٹھہری ہوئی تھی۔
اس کی موجودگی سے اسے یہاں سب کچھ کچھ کم اجنبی لگتا تھا۔
ورنہ جبران کریم کے اردگرد ہوتے ہی اس کے دل میں ایک گھٹن سی بھر جاتی تھی۔
وہ اس کا پسندیدہ مرد نہیں بن سکا تھا۔
یہ ایک سادہ سی مگر کڑوی حقیقت تھی۔
کہتے ہیں نا۔۔
انسان کا پہلا تعارف اگر دل میں ٹھیک نہ بیٹھے، تو بعد کے تمام رنگ بھی اسے بدل نہیں پاتے۔
جبران کا پہلا تاثر اس کی نظر میں اچھا نہیں تھا۔
اور مہینے گزر جانے کے باوجود… وہ تاثر بدلا نہیں تھا۔
شاید کبھی نہ بدلے۔
اسی لمحے لان کے باہر گاڑیوں کے رکنے کی آواز آئی تھی۔
چند سیکنڈ بعد جبران کریم گاڑی سے اترا تھا۔
سیاہ چشمہ اتارتے ہوئے اس کی نظر سیدھی لان پر گئی۔
وہ رکا۔
منظر کو دیکھا۔
اور ہلکا سا مسکرایا۔
“او ہو… کیا رخ ہو رہا ہے یہاں؟”
وہ آگے بڑھتے ہوئے بولا،
“میری بیگم کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے؟ کیا ہمارے لیے بھی کوئی گنجائش ہے یہاں؟”
مہران نے ہنستے ہوئے راکٹ گھمایا۔
“یعنی بھائی، آپ کھیلیں گے؟”
جبران نے بھنویں اٹھائیں۔
“کیوں؟ میں نہیں کھیل سکتا کیا؟”
ابو زر ہنسا۔
“نہیں کھیل سکتے تو نہیں کہا… بس شادی کے بعد بہت کچھ بدل گیا ہے، یہ بھی بدل گیا ہوگا۔ پہلے تو آپ ہمیں کھیلنے پر بھی ڈانٹ دیتے تھے۔”
مہران نے بات آگے بڑھائی،
“اور پہلے تو آپ مسکراتے بھی نہیں تھے اتنا… اب تو لگتا ہے زندگی میں واقعی بہت کچھ بدل گیا ہے۔”
جبران نے مصنوعی سنجیدگی سے مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔
“بہت شرارتی ہو گئے ہو تم لوگ۔”
“شرارتی تو نہیں ہوئے بھائی… بس مشاہدہ تیز ہو گیا ہے۔” ابو زر نے آنکھ ماری۔
ان دونوں کے درمیان ہنسی مذاق چلتا رہا۔۔
مگر فبیحہ؟
وہ بالکل نہیں مسکرائی تھی۔
اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔
جیسے یہ سب آوازیں اس تک پہنچ ہی نہیں رہیں ہو۔
اس نے آہستگی سے اپنا دوپٹہ کھولا۔
راکٹ جبران کی طرف بڑھایا۔
اس کی آنکھیں ایک لمحے کو بھی اس سے نہیں ملیں۔
“آپ کھیل لیجیے۔”
بس اتنا کہہ کر وہ اندر کی طرف چل دی۔
قدم ہلکے تھے… مگر دل بھاری۔
جبران نے اس کا یہ رویہ واضح طور پر نوٹ کیا تھا۔
وہ چند لمحے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
اس کی آنکھوں میں ہلکی سی ناگواری ابھری۔
اس نے مونچھوں کو درست کیا۔۔
نگاہیں سکیڑیں۔۔
“اللہ اللہ…”
اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
لان میں ہنسی کی آوازیں ابھی بھی موجود تھیں،
مگر فضا میں ایک اَن کہی تناؤ کی لکیر کھنچ چکی تھی۔

باب ۲۹


ذکرا نور اب لائبریری نہیں جاتی تھی۔
امتحان ختم ہو چکا تھا اور اب اس کے دن گھر کی دیواروں کے اندر گزرتے تھے۔
اس دن وہ اپنی دوست فبیحہ کی حویلی گئی تھی۔
کچھ دیر کی ملاقات کچھ بناوٹی سی مسکراہٹیں۔۔ اور پھر واپسی۔
شام ڈھل رہی تھی۔
سڑک سنسان تھی۔
اچانک ایک گاڑی اس کے قریب آ کر رکی۔
بریک کی آواز کے ساتھ اس کا دل بھی جیسے ایک لمحے کو رک گیا۔
انزر۔
وہ گاڑی سے اترا تھا… دروازہ زور سے بند کیا اور سیدھا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
“میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی ہو؟ کب سے میں تم سے بات کرنا چاہ رہا ہوں! کل تمہارے گھر آیا تھا۔ آنٹی نے کہا تم سو رہی ہو۔ یہ کیا مذاق ہے؟”
ذکرا کی آنکھوں میں ٹھنڈا سا غصہ اتر آیا۔
“مذاق؟”
اس کی آواز دھیمی مگر کاٹ دار تھی۔
“مذاق لگتا ہے تمہیں؟”
وہ ایک قدم اس کے قریب آئی۔
“میں سب برداشت کر سکتی ہوں، انزر صاحب لیکن یہ نہیں کہ کوئی لڑکی میرے پاس آ کر مجھے تمہارے بارے میں ایسی باتیں کہیں۔”
انزر کے چہرے کا رنگ بدلا۔
“کون سی لڑکی؟ کیا بکواس کر رہی ہو تم—”
“یوں نہ سمجھنا کہ میں تمہاری محبت میں مر جاؤں گی!”
اس کی آواز اب کانپ رہی تھی، مگر کمزور نہیں تھی۔
“ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں میں۔”
ہوا میں تناؤ گہرا ہو گیا تھا۔
“اگر میں نے تم سے وفا کی ہے… تو ٹوٹ کر کی ہے۔
بہت وفا کی ہے، بہت محبت کی ہے۔
میں نے تمہیں کوئی دھوکہ نہیں دیا۔”
اس کی آنکھوں میں نمی چمکی… مگر آنسو گرے نہیں۔
“اور اگر تم نے محبت کی… تو پھر بے وفائی کیوں کی؟
اس میں میری کیا غلطی ہے؟
میں تمہاری وہ بے وفائی معاف کیسے کر دوں؟”
انزر نے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔
“میں نے اپنا ہنڈریڈ پرسنٹ دیا تھا۔
اور تم دو پرسنٹ بھی نہ دے سکے۔
اس میں میری غلطی تو نہیں ہے نا؟”
چند لمحے خاموشی کے تھے… مگر وہ خاموشی چیخ رہی تھی۔
“بھاڑ میں جاؤ تم… اور تمہاری محبت بھی۔
چاہے میں جلوں، مروں یا بکھر جاؤں… مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
لیکن میں تمہیں دوسرا موقع نہیں دے سکتی۔”
وہ مسلسل بول رہی تھی… جیسے برسوں کا جمع درد ایک ہی سانس میں باہر آ رہا ہو۔
انزر نے اس کی طرف دیکھا… آنکھوں میں گھبراہٹ تھی۔
“میں مر جاؤں گا، ذکرا…”
ذکرا کی ہنسی کڑوی تھی۔
“تو مر جاؤ۔
یہ ڈائیلاگ تمہارے لیے آسان ہیں۔”
“آسان نہیں ہے!” انزر تقریباً چیخا، “میں تمہیں بتا رہا ہوں… کچھ غلط ہو جائے گا!”
ذکرا کی آنکھیں سرد ہو گئیں تھیں۔
“غلط؟
کیا غلط ہو جائے گا؟
ڈراؤ مت مجھے۔ جو کرنا ہے کر لو۔
کیونکہ اب… کچھ نہیں بدل سکتا۔”
یہ کہہ کر وہ اس کے پہلو سے گزری۔
اس کے قدم مضبوط تھے۔
انزر وہیں کھڑا رہ گیا تھا… اسے جاتے دیکھتا ہوا۔
چند لمحے بعد اس نے بے بسی میں اپنی گاڑی کے ٹائر پر زور سے لات ماری۔
وہ حیران نہیں تھا۔
وہ شدید پریشان تھا۔
شام کا اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔
اور شاید ان دونوں کے درمیان بھی۔

 

ادفر واقعی خوش تھی۔
ایسی خوشی جو شور نہیں کرتی،
مگر دل کے اندر خاموشی سے روشنی بھر دیتی ہے۔
اس کی زندگی آہستہ آہستہ بہترین سے بہترین ہو رہی تھی۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ خود سے دوبارہ مل رہی ہو —
وہی اصل والی، جو کبھی کہیں گم ہو گئی تھی۔
اسے وہ شخص ملا تھا
جو اسے صرف قبول نہیں کر رہا تھا۔۔
بلکہ اس کے تمام ماضی، تمام سچائیوں کے ساتھ قبول کر رہا تھا۔

دنیا کا سب سے خوبصورت اور اصل مرد شاید وہی ہوتا ہے
جو اپنی آواز اونچی کر کے نہیں،
بلکہ ظرف اونچا رکھ کر مرد ثابت ہوتا ہے۔
مرد مضبوطی جسم سے نہیں دکھاتے،
مرد مضبوطی برداشت سے دکھاتے ہیں۔
کسی عورت کو اس کی کہی اَن کہی باتوں سمیت قبول کرنا۔۔
اس کے ماضی کو اس کے خلاف استعمال نہ کرنا۔۔
یہی اصل مرد کا تعارف ہے۔
اور جو شخص ادفر کو ملا تھا،
وہ اپنی اعلیٰ ظرفی کا اعلان لفظوں سے نہیں کرتا تھا۔
مگر ہر روز اپنے رویّے سے کر دیتا تھا۔
وہ اعلان صرف ادفر سنتی تھی۔
کیونکہ وہ اس کی ہر خاموشی کو بھی سمجھتا تھا۔
ابتدائی دنوں میں ادفر نے اس کے سامنے سب رکھ دیا تھا —
ابو بکر کا ذکر،
پرانا رشتہ،
ہر کمزوری، ہر سچ۔
وہ چاہتی تو کچھ چھپا سکتی تھی۔
مگر اس نے کچھ نہیں چھپایا تھا۔
اور حیرت کی بات یہ تھی —
وہ سب سن کر بھی وہ شخص نہ بدلا۔
نہ اس کی نگاہ بدلی،
نہ لہجہ،
نہ محبت۔
بلکہ اب… جب ادفر خود اس سے محبت کے دعوے کرتی تھی،
تب بھی اس نے کبھی اس کے ماضی پر سوال نہیں اٹھایا تھا۔
کبھی کوئی طنز نہیں کیا تھا۔
کبھی کوئی پرانا زخم نہیں چھیڑا تھا۔
یہ اس کی قسمت تھی۔
یہ اس کی تقدیر تھی۔
اور جب انسان ایسے مقام پر پہنچتا ہے نا۔۔
تو اسے اپنے پچھلے فیصلوں پر حیرت ہوتی ہے۔
وہ سوچتی —
میں نے کن چیزوں کے لیے آنسو بہائے تھے؟
کس کے لیے خود کو توڑا تھا؟
کس کے لیے اپنی قدر کم کی تھی؟
انسان کبھی کبھی واقعی بہت بےوقوف ہو جاتا ہے۔
اسے صرف وہی سچ لگتا ہے جو اُس لمحے اُس کے پاس ہوتا ہے۔
وہ یہ نہیں دیکھ پاتا کہ تقدیر نے اس کے لیے اس سے کہیں بہتر لکھ رکھا ہے۔
اور یہی انسان کی اصل حقیقت ہے —
تلخ… مگر سچی۔
کبھی کبھی ہمیں ٹوٹنا پڑتا ہے
تاکہ ہم جان سکیں
کہ ہمیں اصل میں کس کے پاس جڑنا تھا۔

حرام۔۔
ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے خون میں گھل جاتا ہے۔
رگوں کے راستے پورے وجود میں پھیلتا ہے،
اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہم اندر سے کھوکھلے ہو رہے ہیں۔
شروع میں وہ سکون لگتا ہے۔
ایسا سکون جو دل کو بہلا دیتا ہے۔
ہمیں لگتا ہے شاید ہماری زندگی اسی سے جڑی ہے۔
ہم خود کو یقین دلا دیتے ہیں کہ
“اس کے بغیر میں مر جاؤں گا…”
“اس کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتی…”
مگر یہ سچ نہیں ہوتا۔
یہ بس ہمارے ذہن کی بنائی ہوئی ایک دیوار ہوتی ہے،
ایک وہم… جسے ہم نے حقیقت کا نام دے دیا ہوتا ہے۔
کوئی بھی حرام چیز —
چاہے رشتہ ہو، دولت ہو، خواہش ہو یا کوئی عادت —
وہ وقتی لذت تو دے سکتی ہے،
مگر دیرپا سکون کبھی نہیں۔
وہ اندر ہی اندر ہماری رگوں کو کاٹ رہی ہوتی ہے،
ہمارے ایمان کو، ہمارے کردار کو، ہماری روح کو کمزور کر رہی ہوتی ہے۔
اور پھر وہی کمزوری ایک دن ہماری بربادی بن جاتی ہے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری بے صبری ہے۔
بے صبری ہمیں وہ فیصلے کرواتی ہے
جن پر بعد میں ہم خود ہی پچھتاتے ہیں۔
ہم جلدی چاہتے ہیں —
جلدی محبت،
جلدی کامیابی،
جلدی تسکین۔

مگر صبر تحمل سے یہ چیزیں فوراً نہیں ملتیں۔
یہ تب ملتی ہیں جب انسان رک کر سوچتا ہے،
جب وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے،
جب وہ وقتی خواہش پر ہمیشہ کی بھلائی کو ترجیح دیتا ہے۔
جو انسان صبر نہیں کرتا،
اس کے کام اکثر ادھورے رہ جاتے ہیں۔
اور پھر وہی جلدبازی کے فیصلے
ایک دن دل سے یہ الفاظ نکلوا دیتے ہیں:
“کاش میں تھوڑا اور رک جاتا…”
“کاش میں نے جلدی نہ کی ہوتی…”
“کاش میں نے صبر کیا ہوتا…”
زندگی کی اصل خوبصورتی
حرام کے شور میں نہیں،
حلال کے سکون میں ہے۔
اور جو یہ بات سمجھ جائے —
وہ واقعی زندگی گزارنے کے قابل ہے۔

باب ۳۰


جمعرات کا دن تھا۔
گھر میں غیر معمولی چہل پہل تھی۔
ذکرا نور ادفر کے گھر سے ایک رات گزار کر واپس آئی تو دروازہ کھولتے ہی ٹھٹھک گئی۔
ہوا میں عجیب سی خوشبو تھی —
پکوانوں کی، عطر کی، صفائی کی… اور شاید کسی بڑی خبر کی۔
“امی… آج اتنی خوشبو کیوں آ رہی ہے؟ مہمان آ رہے ہیں؟ کچھ خاص پکایا ہے کیا؟”
امی مسکرا رہی تھیں۔
“ہاں بیٹا، بہت خاص مہمان آ رہے ہیں۔”
“مہمان؟ اور آج شیریں خود اتنی تیاریاں کر رہی ہے؟ وہ تو کبھی آپ کا ہاتھ بھی نہیں بٹاتی تھی… پردے تک صاف کر رہی ہے۔ خیر تو ہے؟”
امی نے معنی خیز نظر سے دیکھا۔
“خیر ہے بیٹا۔ خوشی کی بات ہے… ایسے موقع پر سب ہی بدل جاتے ہیں۔”
“کیسا موقع؟”
“سمجھ جاؤ گی۔ پہلے اپنے ابا کو چائے دے آؤ، پھر بتاتی ہوں۔”
ذکرہ وہیں چند لمحے کھڑی رہ گئی۔
دل میں انجانی سی بے چینی اتر آئی۔
کچھ دیر بعد وہ اپنے کمرے میں تھی کہ امی نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا، وہ اندر آئی تھی تھی۔
“بیٹا… انور انکل آ رہے ہیں۔”
“انور انکل؟ وہ کیوں؟”
“اپنی فیملی کے ساتھ… رشتہ لے کر۔”
لفظ جیسے دیوار سے ٹکرا کر گرے۔
“رشتہ؟ کس کا؟”
امی ہلکا سا شرمائیں۔
“انزر کا۔ ہم سب کو کوئی اعتراض نہیں۔ تمہارے ابا نے پہلے بات کی تھی… اب جب بچوں کی رضا مندی ہو تو کیا مسئلہ؟”
“بچوں کی رضا مندی…؟”
ذکرا کی سانس اٹکی۔
امی مسکرا دیں۔
“ہم سب جانتے ہیں بیٹا۔ تم بہنوں نے چاہے چھپایا ہو… مگر ہمیں اندازہ تھا۔ شادی دونوں بیٹیوں کی ساتھ کریں گے۔ آج بس بات پکی کرنی ہے۔”
امی چلی گئیں تھی۔
اور ذکرا…
وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
تو انزر واقعی محبت کرتا تھا؟
وہ اپنے گھر والوں کو رشتہ لے کر بھیج رہا تھا؟
شاید… شاید واقعی کبھی کبھی دوسرا موقع دینا چاہیے۔
وہ تیار ہوئی تھی۔
آج اس نے سرخ جوڑا پہنا، سرخ چوڑیاں پہنیں۔
وہ دلہن سی لگ رہی تھی۔
زیورات سے زیادہ اس کی مسکراہٹ چمک رہی تھی۔
آنکھوں میں خواب تھے۔
اور شیریں۔۔
شیریں، جو ہمیشہ ٹراؤزر یا سادہ کپڑوں میں رہتی تھی،
آج سوٹ پہنے، چوڑیاں ڈالے، آئینے کے سامنے لپ اسٹک لگا رہی تھی۔
“ارے واہ شیریں، تم تو بہت خوبصورت لگ رہی ہو!”
“ہاں، وہ تو ہوں۔۔”
شیریں نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
لہجہ عجیب تھا۔
ذکرا سمجھ نہ سکی تھی۔

وہ نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھی۔
مہمان آ چکے تھے۔
شیریں چائے لے کر ڈرائنگ روم میں گئی۔
ذکرا ابھی سجدے میں تھی۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تھی۔
اور پھر۔۔
زمین اس کے قدموں کے نیچے سے کھسک گئی۔
“دیکھیے بھائی صاحب، ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا جیسے آپ چاہیں گے ویسے کریں گے۔ آپ چاہتے ہیں پہلے ذکرا کا رشتہ طے ہو… لیکن شادی ابھی نہیں، صرف بات پکی کریں گے۔ تب تک اگر اجازت دیں تو شیریں کے ہاتھ میں انزز کی انگوٹھی پہنا دیں یہ دونوں ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہے…”

انگوٹھی۔
شیریں کے ہاتھ میں۔

انزز… مسکرا رہا تھا۔
ٹانگ پر ٹانگ رکھے۔۔
نظر شیریں پر۔
شیریں سر جھکائے بیٹھی تھی۔
شرما رہی تھی یا…؟
کمرے میں سب کے چہروں پر خوشی تھی۔
صرف ایک چہرہ سفید تھا۔
ذکرا نور۔
وہ دور کھڑی تھی۔
نہ چیخ سکی، نہ رو سکی۔
ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے اندر کی ساری آوازیں بند کر دی ہوں۔
یہ کیا تھا؟
کیا یہ وہی محبت تھی؟
کیا یہ وہی شخص تھا؟
اگر وہ کسی اور سے شادی کرتا۔۔
تو شاید یہ بس ایک برا وقت ہوتا۔
مگر اس نے اسی گھر میں اپنے پتے پھیرے تھے۔
اور وہ جیت گیا تھا۔
اس نے شیریں کو جیت لیا تھا۔
اور ذکرہ کو۔۔
حارا نہیں تھا۔
مار دیا تھا۔
وہ سوچ بھی نہیں پا رہی تھی۔
ایک پل میں اس کی دنیا اجڑ گئی تھی۔
دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ انزر بے وفا نکلا۔
دکھ اس بات کا تھا کہ بے وفائی اس کی اپنی بہن کے ہاتھوں ہوئی۔
دکھ اس بات کا تھا کہ وہ صرف دھوکے میں نہیں رہی تھی۔۔
وہ بے وقوف بھی تھی۔

“ارے ذکرا بیٹا! آؤ آؤ… ہم ابھی تمہاری ہی بات کر رہے تھے۔ پیپر کیسا ہوا؟”
انور کی آواز آئی۔
وہ سن نہیں پا رہی تھی۔
وہ دیکھ نہیں پا رہی تھی۔
وہ وہاں تھی بھی… یا نہیں؟
وہ لڑکی نہیں رہی تھی۔
وہ برف تھی۔
وہ پتھر تھی۔
وہ ایک خاموش چیخ تھی۔
کیا یہ سب واقعی ہو رہا تھا؟
یا اس کی آنکھوں نے دھوکہ دیا تھا؟
اور اگر یہ سچ تھا۔۔
تو وہ اب تک زندہ کیوں تھی؟
تھی تو اب وہ کیسے سانس لے گی؟

 

وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی تھی۔
دروازہ بند ہوتے ہی جیسے ساری دنیا اس پر بند ہو گئی ہو۔
کمرے کی دیواریں، میز، کتابیں… سب کچھ ویسا ہی تھا —
مگر آج سب اجنبی لگ رہا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے آسمان واقعی اس کے سر پر آ گرا ہو۔
یہ کوئی معمولی صدمہ نہیں تھا… یہ قیامت تھی۔
لیکن اس قیامت میں بھی اسے خود کو سنبھالنا تھا۔
کبھی کبھی انسان وہیں مضبوط بنتا ہے
جہاں ٹوٹ جانے کا وقت ہوتا ہے۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے —
اور آنسوؤں پر کب اختیار ہوتا ہے؟
مگر بعض اوقات… بے قابو چیزوں کو بھی قابو کرنا پڑتا ہے۔
اور آج اسے یہی کرنا تھا۔
اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تھا —
آنکھیں بھیگی ہوئی، چہرہ زرد۔
ایک لمبی سانس…
جیسے کسی نئی زندگی کا اعلان ہو۔
اس نے آنسو پونچھے۔ چہرہ دھویا۔
اور دروازہ کھول کر باہر آ گئی۔
ڈرائنگ روم میں سب بیٹھے تھے۔
فضا میں خوشی کی ہلکی سی چمک تھی — جو اس کے دل کے اندھیرے سے بالکل الٹ تھی۔
لان میں شیریں نور اور انزر بیٹھے تھے۔
انور انکل نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تھا:
“بیٹا، کیسا گیا پیپر؟”
وہ ہلکی سی مسکرائی۔
“انکل، شکر اللہ کا… بہت اچھا ہوا۔”
“بہت اچھی بات ہے۔ اب ہم تمہارا رشتہ طے کر لیتے ہیں، پھر شادی کی تاریخ بھی مقرر کر دیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟”
یہ الفاظ اس کے دل پر دوبارہ وار تھے…
مگر اس بار وہ تیار تھی۔
“جی انکل…” اس کی آواز حیرت انگیز حد تک پُرسکون تھی،
“لیکن میں چاہتی ہوں کہ پہلے ان دونوں کی شادی کر دی جائے۔”
“مطلب؟” اس کے ابا چونک کر بولے تھے۔
“بابا… انور انکل چاہتے ہیں کہ انزر کی شادی جلد ہو جائے، کیونکہ انہیں واپس باہر جانا ہے۔ تو بہتر ہے آپ ان دونوں کی تاریخ طے کر دیں۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میرا رزلٹ آ جائے، میں تھوڑا سیٹل ہو جاؤں… پھر دیکھیں گے۔”
کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
وہ آہستہ سے بولی،
“میں شیریں سے مل کر آتی ہوں۔”
وہ لان کی طرف بڑھی۔
دھوپ ہلکی سی جھک رہی تھی۔
وہ دونوں ہنس رہے تھے… جیسے دنیا میں کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ دونوں کو۔”
اس کی آواز سن کر وہ دونوں چونک کر مڑے۔
ان کی آنکھوں میں وہی گھبراہٹ تھی —
جیسے کسی بڑی چوری میں پکڑے گئے ہوں۔
جیسے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہو۔
شیریں نور نظریں جھکا رہی تھی…
جیسے اس نے کسی کا قتل کیا ہو۔
اور قتل ہی تو تھا —
کسی کے خوابوں کا قتل۔
انزر نے ہلکا سا ناک کو چھوا اور مسکرانے کی کوشش کی۔
“یہ سب… تمہاری بدولت ہے۔”
شیریں نے فوراً اسے گھورا۔
“میری بدولت؟” ذکرا نور کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی تھی،
“آپ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، محبت کرتے ہیں…آپ دونوں ایک جیسے ہی ہے۔ اور سب سے زیادہ خوش میں ہوں۔ واقعی۔ میری دعا ہے آپ دونوں ہمیشہ خوش رہیں۔”
“ایک جیسے ہیں ہم؟” شیریں کی آواز میں خفگی تھی۔
وہ ہلکی سی مسکرائی۔
“جی۔ آپ دونوں نے ایک کام بہت مہارت سے کیا ہے۔”
“کون سا کام؟” انزر نے حیرانی سے پوچھا تھا۔
وہ لمحہ بھر خاموش رہی۔
پھر نظریں اٹھائیں۔
“بتانا گوارا نہیں سمجھتی فی الحال۔ بس مبارک ہو۔ واقعی بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اور ہاں… میں اندر آپ کی شادی کی بات کر چکی ہوں۔ کیونکہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی… اس لیے آپ کی شادی بہت جلد ہو گی، ان شاء اللہ۔”
بہت دنوں سے کسی کو شعر نہیں سنایا، یاد آرہا ہے، سناؤں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *