پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١١
ازقلم الم۔۔۔
“سلطان! یہ کیا حماقت ہے؟ کس بنا پر تم نے ارحم کے گھر پولیس بھیجی ہے؟” ابراہیم خبر ملنے کے بعد فوراً شاہ ولا پہنچے تھے۔
“ابراہیم! آپ شاید بھول چکے ہیں کہ اس پر جرم ثابت ہو چکا ہے۔” سلطان چبا چبا کر لفظ ادا کیے۔
“ثبوت ملے ہیں، جرم ثابت نہیں ہوا۔” ابراہیم نے بھی جتاتے ہوئے کہا۔
“جرم کیا جائے تبھی تو ثبوت ملتے ہیں۔” سلطان شاہ نے استہزائیہ انداز میں کہا۔
“تو ٹھیک ہے، میں اپنے بھائی کا ولی ہونے کے ناطے ارحم کو دونوں قتل معاف کر دوں گا۔” ابراہیم کی بات پر اندر آتے ضرار نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا۔
“آپ میرے ماں باپ کا خون اتنی آسانی سے معاف کرنے کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟” ضرار غصے اور صدمے کی ملی جُلی کیفیت سے چیخا۔
“ضرار! تم ابھی بچے ہو اور معاملات کی نزاکت نہیں سمجھتے۔ اس لیے بڑوں کی بات سے دور رہو۔” ابراہیم نے بپھرے کھڑے ضرار کو سمجھانے کی کوشش کی۔
“بچہ نہیں ہوں میں! اور میں آپ کو قطعی حق نہیں دیتا کہ آپ میرے والدین کے قاتل کو معاف کریں۔” ضرار اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا تھا۔ وہ ایک جذباتی ٹین ایجر کی طرح سوچ رہا تھا۔
“ابراہیم! آپ اپنے بھائی کا قتل معاف کرنا چاہتے ہیں، شوق سے کریں۔ مگر ہم اپنی بہن کے خون کا انتقام لازمی لیں گے۔” سلطان نے ابراہیم کی آنکھوں میں دیکھ کر جلاتے ہوئے لفظ ادا کیے۔
ابراہیم ایک نظر دونوں پر ڈال کر وہاں سے چلے گئے تھے۔وہ جانتے تھے الجھنا فضول ہے۔
✩━━━━━━✩
کمرۂ عدالت میں اس وقت موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سلطان، کبیر شاہ اور ضرار وہاں موجود تھے۔ ارحم کو جج صاحب کی اجازت سے سلطان شاہ کے وکیل نے کٹہرے میں بلایا۔
“ارحم صاحب! سولہ دسمبر کی رات جب یہ حادثہ پیش آیا، تب آپ کہاں تھے؟” وکیل نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
“میں اپنے گھر میں موجود تھا۔” ارحم کا لہجہ بھی سنجیدہ تھا۔
“گھر میں کیا کر رہے تھے؟”
“انسان گھر میں کیا کرتا ہے؟” ارحم کا انداز جتاتا ہوا تھا۔
“انسان گھر میں کسی کی قبر کھود سکتا ہے، کسی کی لاش فریزر میں چھپا سکتا ہے، کسی خاتون سے زیادتی کر سکتا ہے یا پھر آرام سے بیٹھ کر کسی کے مرنے کی خبر کا انتظار کر سکتا ہے۔” آخر میں آتے آتے وکیل کا لہجہ تاریک ہوا تھا۔
“کافی تجربہ ہے آپ کا؟” ارحم نے پلے فُل انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
“مسٹر ارحم! موضوع سے مت ہٹیے۔ میرا سیدھا سا سوال ہے کہ کیا یہ قتل آپ نے کیا ہے؟” وکیل نے تھوڑا کڑک لہجے میں دریافت کیا۔کیونکہ اس نے ابھی تک اقبال جرم نہیں کیا تھا۔
“میں یہ قتل کیوں کروں گا؟” ارحم نے سوال کے جواب میں سوال کیا۔
“رقابت! مسٹر ارحم، رقابت! رقابت اکثر ایسے سنگین فیصلے لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔” وکیل کے لہجے میں ہلکی سی مسکراہٹ ارحم کو محسوس ہوئی تھی جس نے اسے ٹھٹکا دیا تھا۔ جبکہ ناسمجھی کمرۂ عدالت میں موجود باقی افراد کے چہرے پر بھی ابھری تھی۔
“یور اونر! میں مسٹر ارحم کے خاص ملازم کریم کو وِٹنس باکس میں بلوانا چاہوں گا۔” وکیل نے جج سے اجازت چاہی تو جج صاحب نے سر ہلا کر اجازت دی تھی۔
“اجازت ہے۔”
کریم جب وِٹنس باکس میں کھڑا ہوا تو اس کے چہرے کے تاثرات نے ارحم کو چوکنے پر مجبور کیا تھا۔ اسے ہوا اپنے گرد تنگ ہوتی محسوس ہوئی تھی۔
“کریم! کیا آپ کے مالک شادی شدہ ہیں؟” وکیل کے سوالوں کا رخ کریم کی جانب تھا۔
“نہیں، جی۔”
“تو کوئی گرل فرینڈ؟ آئی مین کوئی رکھیل یا محبوبہ وغیرہ؟” وکیل کے گھٹیا الفاظ نے ارحم کا چہرہ سُرخ کیا تھا، مگر اس نے مٹھیاں بھینچ کر خود پر قابو پایا۔
“نہیں، جی۔ صاحب نے کبھی آنکھ اٹھا کر کسی عورت کو میلی نگاہ سے نہیں دیکھا” کریم کو بھی اپنے مالک کے بارے میں یہ الفاظ پسند نہیں آئے تھے۔
“کیوں؟ آپ کے مالک کو عورتوں میں دلچسپی کم اور مردوں میں زیادہ ہے؟” وکیل کے تمسخرانہ انداز میں کہنے پر کمرۂ عدالت میں دبی دبی سی ہنسی گونجی۔
“آرڈر! آرڈر!” جج کے حکم پر سب خاموش ہوئے۔
“میں نے تو اس لیے پوچھا کہ آج کل یہ چیز عام ہے خیر۔۔۔۔ ویسے مرد ہو اور محبت نہ کرے، ایسا تو ممکن نہیں۔ کیا آپ کے صاحب کو کسی سے محبت بھی نہیں ہوئی؟” وکیل نے شوخی بھرے لہجے میں سوال کیا۔
“ہوئی تھی نا جی۔ اسی کے غم میں ہی تو آج تک صاحب نے شادی نہیں کی۔” کریم کے کہنے پر ارحم کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔
“کیا اس محبت کا نام بتا سکتے ہیں؟”
“زلیخہ!” کریم کے الفاظ ادا کرنے پر شاہ خاندان والوں کے چہرے اشتعال سے سُرخ ہوئے تھے۔ اپنے خاندان کی عزت کا نام یوں عدالت میں اچھلتا دیکھ ارحم نے کرب سے آنکھیں موند لیں۔ آج تک جس محبت کی طرف نظر بھر کے دیکھا بھی نہیں تھا رسوائی کے خوف سے، آج اسی محبت کا نام اس کی اپنی وجہ سے عدالت میں اچھالا جا رہا تھا۔
“آپ یہ نام اتنے یقین سے کیسے لے سکتے ہیں؟” وکیل نے کریم کو دیکھ کر ایک اور سوال کیا۔
“جس دن بی بی سائیں کا نکاح تھا، اس دن صاحب نے زندگی میں پہلی بار شراب پی تھی اور وہ بلک بلک کر رو رہے تھے۔ نشے میں وہ ایک ہی بات دہرا رہے تھے کہ ‘وہ میری کیوں نہیں ہے؟ میں اسے لوگوں سے چھین لوں گا۔ اسے میرا ہونا چاہیے تھا۔’
اپنی پاکیزہ محبت کے ذکر کو یوں سرِ بازار اچھلتا دیکھ کر ارحم کو اپنا آپ بکھرتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اس محبت کو خود سے بھی چھپا کر دفنا دیا تھا کہ اس سید زادی کی عزت پر حرف نہ آ جائے، مگر اسے یہ سوچ سوچ کر ہی تکلیف ہو رہی تھی کہ آج وہ اپنی قبر میں لیٹی اپنی اس رسوائی پر کس قدر اذیت میں ہو گی۔ یقیناً اس سے شکوہ کر رہی ہو گی، وہ ضرور اس سے نالاں ہو گی۔
“تو کیا پھر سولہ دسمبر کی رات ٹرک ڈرائیور کو بھی تم نے اپنے صاحب کے کہنے پر ہائر کیا تھا؟” وکیل نے اگلا پتا پھینکا۔
“جی! صاحب نے یہ کہا تھا کہ وہ مزید بی بی سائیں کو کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے تھے، اسی لیے یہ قصہ ختم کر دیا جائے۔” کریم کے جواب پر ارحم نے حیرت اور کرب سے اسے دیکھا، مگر وہ نظریں چرا گیا۔
“اچھا! تو ہارون شاہ لوگوں کے ساتھ تو تم لوگوں کے تعلقات کچھ خاص نہیں تھے۔ پھر تم لوگوں کو پتا کیسے چلا کہ ہارون شاہ اور ان کی زوجہ کب اور کہاں جانے والے ہیں؟ کیا کوئی ملازم خریدا تھا؟” وکیل کے سوال پر کریم نے ارحم کو دیکھا، پھر کبیر کو۔ کبیر اس کے دیکھنے پر چونکے تھے۔
“ارحم صاحب کی بہن اور کبیر شاہ کی بیوی، زلیخہ بی بی سائیں کی ہر خبر دیا کرتی تھی۔ اس رات بھی انہوں نے ہی معلومات دی تھیں۔” اب کی بار ارحم کو ٹانگوں سے جان نکلتے ہوئے محسوس ہوئی کہ اس کی بہن کو بھی سب میں شامل کر لیا گیا تھا، جبکہ کبیر شاہ تو ساکِت رہ گئے تھے۔
پھر چند آڈیوز پیش کی گئیں جن میں بتول ارحم کو زلیخہ اور ہارون کے باہر جانے کے بارے میں انفارمیشن دیتی ہوئی سنائی دی۔ دوسری آڈیو میں ارحم کریم سے ہارون لوگوں کے مرنے کی تصدیق کرتا سنائی دے رہا تھا۔ پھر ٹرک ڈرائیور کو گواہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ ارحم کے وکیل نے بہت کمزور سے دلائل دیے جو کہ نہ ہونے کے برابر تھے، جبکہ مخالف وکیل کی طرف سے مضبوط دلائل اور ثبوت پیش کیے جانے کی وجہ سے ان کا پلڑا بھاری تھا۔
مزید چند گواہوں کے بیانات کے بعد ارحم پر قتل کا جرم ثابت ہو چکا تھا۔ مزید شک کی گنجائش نہیں بچی تھی۔مگر حیرت کی بات یہ تھی پاکستانی عدالت میں کروائی اتنی جلدی مکمل ہو رہی تھی بنا کوئی اور تاریخ دیے اور ارحم کے ساتھ بتول کا ملوث ہونا بھی پایا گیا تھا لیکن اسے عدالت میں طلب ہی نہیں کیا گیا۔
“یہ عدالت تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ سناتی ہے کہ ارحم حمید ہی مقتول سید ہارون قیوم شاہ اور سیدہ زلیخہ ہارون شاہ کے قاتل ہیں۔” ابھی جج صاحب فیصلہ سناتے اس سے پہلے ہی بیلف نے چند کاغذات لا کر جج کے سامنے پیش کیے۔
چند منٹ بعد جج صاحب کی آواز نے خاموشی کو توڑا۔
“عدالت کو مطلع کیا جاتا ہے کہ مقتول سید ہارون قیوم شاہ کے ورثا میں سے ان کے بھائی سید ابراہیم قیوم شاہ نے قاتل ارحم حمید کو ان کا قتل معاف کر دیا ہے۔” جج صاحب کے اعلانیہ کہنے پر وُکلاء سمیت سب نے حیرت سے ابراہیم شاہ کو دیکھا، جبکہ ضرار کی آنکھوں میں کرب ابھرا تھا۔
“لہٰذا یہ عدالت آرٹیکل 302 کے تحت مجرم ارحم حمید کو سیدہ زلیخہ ہارون شاہ کے قتل کے جرم میں سزائے موت کا فیصلہ سناتی ہے۔” جج کے فیصلہ سنانے پر پولیس والے ارحم کو گھسیٹ کر وہاں سے ساتھ لے گئے۔ کریم کو وعدہ معاف گواہ کے طور پر رہا کر دیا گیا تھا۔
✩━━━━━━✩
“آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں بڑے بابا؟” ضرار نے دکھ سے ابراہیم شاہ کو دیکھ کر سوال کیا۔
“ٹھیک ہے! آپ نے فیصلہ کرنا تھا کر لیا۔ اب ایک فیصلہ میں کروں گا۔” ضرار کے الفاظ ابراہیم شاہ کو چونکا گئے تھے۔
“میں قطعا اس گھر میں رہنا پسند نہیں کروں گا جہاں میرے والدین کے قاتل کے خیر خواہ موجود ہوں۔ میں آج سے اپنے ماموں جان کے پاس ان کے ساتھ رہوں گا۔” اس کے بات پر سلطان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گویا اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا تھا، جبکہ اس کے الفاظ ابراہیم کو تڑپا گئے تھے۔ وہ ان کے بھائی کی نشانی تھا، اس کا عکس۔ وہ کیسے اسے خود سے دور کر سکتے تھے؟
“اور میں اپنی بہن کو بھی اپنے پاس رکھوں گا۔” ضرار نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
“تمہارا جو بھی فیصلہ ہے ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں، کیوں کہ ماشاء اللہ سے ہم دیکھ رہے ہیں، تم کتنے سمجھدار ہو گئے ہو۔” ان کے طنزیہ انداز سے کہنے پر اس نے سر جھٹکا اور ابراہیم نے بات جاری رکھی۔
“مگر مشکوٰۃ ہمارا خون ہے اور ہم یہ قطعاً گوارا نہیں کریں گے کہ ہماری بیٹی غیروں کے در پر پلے۔ وہ اس کے باپ کا گھر تھا، ہے اور رہے گا اور وہیں اس کی پرورش کی جائے گی۔ تم جہاں رہنا چاہتے ہو شوق سے رہو، مگر مشکوٰۃ تمہارے ساتھ کسی صورت نہیں جائے گی۔” ابراہیم کا لہجہ حتمی تھا۔ انہیں ضرار کے لہجے میں بغاوت نظر آ گئی تھی اور وہ جانتے تھے کہ جب اپنا ایک دفعہ باغی ہو جائے پھر اسے واپس لے کر آنا انتہائی مشکل عمل ہے۔ اس لیے انہوں نے ضرار کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا، مگر جس چیز نے ابراہیم کو حیران کیا تھا وہ تھا ضرار کا احتجاج نہ کرنا۔ اس نے مشکوٰۃ کو ساتھ رکھنے کے لیے کوئی ضد نہیں کی، وہ خاموش رہا تھا۔ اور اس دن ہی مشکوٰۃ کا بھائی اس سے علیحدہ ہو گیا تھا۔
“تم نے اپنی بیوی کے متعلق کیا فیصلہ کیا ہے؟” سلطان ٹیرس پر بیٹھ کر سیاہ آسمان کو گھورتے کبیر کو دیکھ کر سوال کر رہے تھے۔
“کیا مطلب؟” کبیر کے ناسمجھی سے پوچھنے پر سلطان ابرو سکیڑے۔
“تمہاری وہ بد ذات بیوی بھی ہمارے بہن کے قتل میں برابر کی شریک تھی۔ یا تو اسے اس گھر سے اور ہماری نظروں سے دور کرو یا پھر اسے قانون کے حوالے کرو۔ اب تو ہم نے اپنی عزت کی خاطر اس معاملے کو دبا دیا ہے، مگر زیادہ دن ہم خاموش نہیں رہیں گے۔” سلطان کے سخت سے انداز میں کہنے پر کبیر نے تڑپ کر انہیں دیکھا۔
“آپ جانتے ہیں، میرے لیے دونوں کام ناممکن ہیں۔ مجھے نہیں پتا کہ وہ گناہگار ہے یا قتل میں شریک ہے۔ میرا دل بس اتنا جانتا ہے کہ وہ میری محبوب بیوی ہے اور مجھ میں اسے خود سے دور کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔” کبیر نے کرب بھری بے بسی سے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے تو ہم اسے مار دیتے ہیں۔” ان کی بات پر کبیر نے تڑپ کر انہیں دیکھا۔
“ہاں، ہم اسے مار دیں گے، کیونکہ اس کا وجود ہماری آنکھوں کو چُبھتا ہے۔ اسے دیکھ کر ہمیں کفن میں لپٹی زلیخہ یاد آتی ہے۔ اس لیے یا اسے یہاں سے نکال دو ورنہ ہم اسے دنیا سے نکال دیں گے۔ پھر تو تمہیں اس کی میت پر صبر آ ہی جائے گا۔ ہم بھی تو اپنی بہن پر صبر کر رہے ہیں۔”
کبیر نے تکلیف سے انہیں دیکھا، پھر ہار کر کندھے گرا دیے۔
انہوں نے محبت تو بنا آزمائش کے حاصل کر لی تھی، مگر وہ جان ہی نہیں پائے کہ محبت تو ہر موڑ پر آزمائش مانگتی ہے اور ان کی آزمائش محبت کے حصول کے بعد کی تھی۔ وہ محبت کے دعویدار ذرا سی بھی ہمت اور وفا نہیں دکھا پائے۔ وہ بے بس نہیں تھے، وہ بزدل تھے۔ اگر مرد چاہے تو خدا کے سوا کوئی اس کی محبوب عورت کو اس سے جدا نہیں کر سکتا۔ مرد بے بس نہیں ہوتا، کم از کم اپنی عورت کے معاملے میں تو نہیں۔ جو مرد خود کو بے بس کہتا ہے وہ یا تو محبت نہیں رکھتا یا ہمت نہیں رکھتا۔ اور گھر محبت سے نہیں ہمت اور وفا سے ہی بسائے جاتے ہیں۔ کبیر شاہ محبت تو بلا کی رکھتے تھے، مگر ان میں بیوی کا ساتھ دینے کی ہمت نہیں تھی۔
پھر کبیر شاہ نے خود بتول کو اپنی زندگی سے نکال دیا تھا۔ بتول کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی وہ لڑکھڑا کر نیچے گرے تھے۔ انہیں شدید قسم کا ہارٹ اٹیک آیا تھا۔ وہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے،
جبکہ یوشع گھر میں تڑپ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کس کس بات کا غم منائے پیاری پھپھو کی موت پر آنسو بہائے،جان سے پیارے ماموں کی جدائی کا غم منائے یا ماں کے بچھڑنے پر تڑپے یا پھر باپ کی حالت پر روئے۔
اس دن کبیر کی سانسیں تو بحال ہو گئی تھیں، مگر ان کے دل کی دھڑکن رک گئی تھی۔ ان کا دل ایک صحت مند انسان کے مقابلے تھوڑا کم رفتار سے دھڑکتا تھا۔ وہ بس دوائیوں کے سہارے پر زندہ تھے۔
وہ یوشع کی زندگی کی پہلی رات تھی جو اس نے بھوکے پیٹ گزاری تھی کیونکہ کھانا کھلانے کے لیے اس کے پاس ماں نہیں تھی نا! مائیں ہی تو ہوتی ہیں جو ہماری بھوک کی فکر کرتی ہیں، جنہیں ہم سے زیادہ ہماری فکر ہوتی ہے۔ اس رات آئرہ کو شدید بخار ہو گیا تھا، اس کو بخار میں جھٹکے لگنے لگے تھے۔ جسے صائمہ بیگم ہسپتال لے کر گئی تھیں۔ وہ جاتے ہوئے ملازمہ کو کھانا دینے کی تاکید کر کے گئی تھیں، مگر ملازمہ نے کھانا نہیں دیا۔
اس رات کے بعد یوشع کو سزا دی گئی۔ ارحم کا بھانجا اور بتول کا بیٹا ہونے کی۔ اس کی جان وارنے والی دادی اب اس پر ایک نظر ڈالنے کی روادار نہیں تھی اور اس کے باپ کے تو اپنے ہی غم تھے وہ اس پر توجہ کیسے دیتے۔ سلطان شاہ کا رویہ تو پہلے ہی اس کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا۔ صرف صائمہ بیگم تھیں جو اس کا خیال رکھتی تھیں۔
✩━━━━━━✩
جب مشکوٰۃ تیرہ سال کی ہوئی تو ابراہیم صاحب نے اس کا اشعث کے نکاح کا فیصلہ کیا۔ اشعث بھی جوانی میں قدم رکھ رہا تھا۔ مشکوٰۃ بھی بڑی ہو رہی تھی۔ مشکوٰۃ کا اشعث کے ساتھ لگاؤ دیکھ کر ہی انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ وہ جیسے جیسے بڑی ہو رہی تھی، اشعث کوشش کرتا تھا کہ اس سے فاصلے پر رہے۔ ہاں، وہ اس کے ساتھ مذاق کرتا تھا، بات کرتا تھا لیکن ایک لِمٹ میں۔ اسے اپنی حدود پتہ تھیں مگر مشکوٰۃ ابھی نا سمجھ تھی، اس میں ابھی بچپنا باقی تھا۔ پر اشعث سمجھداری کا مظاہرہ کرتا تھا۔
ابراہیم نے مشکوٰۃ سے جب نکاح کے متعلق اجازت چاہی تو اس نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا، کیونکہ اس نے دیکھا تھا کہ اس کی ملازمہ جو اس کی اچھی دوست بھی تھی وہ شادی کے بعد سب کچھ چھوڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ چلی گئی تھی اور اس کے پوچھنے پر “امی” نے بتایا تھا کہ ساری لڑکیاں اپنے شوہر کے ساتھ بیاہ کر اس کے گھر چلی جاتی ہیں ماں باپ کا گھر چھوڑ کر۔ اور مشکوٰۃ اپنے بڑے ابو اور امی اور خصوصاً اپنے شاہ جی کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی، تو اگر وہ شاہ جی کی دلہن بن جاتی تو پھر تو وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی
اور اشعث کو تو کیا ہی اعتراض ہونا تھا! اسے تو گویا ہفت اقلیم کی دولت مل رہی تھی۔
سُرخ جوڑے اور ہلکے سے میک اپ میں مشکوٰۃ کو دیکھ کر اشعث کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ حسین زیادہ لگتی ہے یا معصوم۔
اس دن مشکوٰۃ کا پہلی بار اپنے بھائی سے آمنا سامنا ہوا تھا۔ اسے ضرار کے بارے میں پتا تھا لیکن اس کے پوچھنے پر کہ وہ ان سے ملنے کیوں نہیں آتا اسے کہا گیا تھا کہ وہ ان سے ناراض ہیں اور ابو کے ساتھ اس کے اختلافات ہیں “تو وہ آپ سے ناراض ہیں، مجھ سے کیوں نہیں ملتے؟” مشکوٰۃ کی بات پر ابراہیم خاموش ہو جاتے تھے۔ یہی شکوہ تو انہیں بھی تھا کہ اس نے ماں باپ کے بعد بہن کو اکیلا کر دیا۔
ضرار! وہ نکاح رکوانے آیا تھا۔ اسے مشکوٰۃ کے نکاح سے اتنا مسئلہ نہیں تھا جتنا مشکوٰۃ کے اشعث کے ساتھ نکاح پر تھا۔
“مشکوٰۃ! تم یہ نکاح نہیں کرو گی، اٹھو چلو میرے ساتھ۔” ضرار نے تحکم بھرے انداز میں کہا۔
“آپ ہیں کون؟” مشکوٰۃ کے اجنبی انداز میں پوچھنے پر ضرار کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ تو کیا اس کی بہن اب اسے پہچان بھی نہیں رہی تھی!
“میں ضرار، تمہارا بھائی!” اس کے جواب پر مشکوٰۃ طنزیہ ہنسی۔
“بھائی! کون سے بھائی؟ ہاں، جو ماں باپ کے مرنے کے بعد چھوڑ کر چلا گیا اور دوبارہ پلٹ کر پوچھا بھی نہیں؟ آپ کو تو پتا ہے نا میں کتنی چھوٹی تھی، مجھے تو اپنے ماں باپ کا لَمس تک یاد نہیں۔ ماں کی محبت کے نام پر مجھے امی کی گود یاد آتی ہے جس میں میں نے اپنے سارے دکھوں سے نجات پائی ہے۔ باپ کی شفقت بھرے حصار کے نام پر مجھے بڑے بابا کا سینہ یاد آتا ہے جس پر میں نے سر رکھ کر کہانیاں سنی ہیں اور شاہ جی! وہ میرے غم میں میرے ساتھ اداس ہوئے ہیں، میری خوشیوں میں ہنسے ہیں، میرا غصہ بھی انہوں نے سہا ہے، میری بیماری میں یہ لوگ مجھ سے زیادہ تکلیف میں آتے ہیں۔ آپ خود کو میرا بھائی کہتے ہیں! آپ کو پتہ بھی ہے، میں نے پہلا قدم کب اٹھایا تھا، پہلا لفظ کیا بولا تھا، میرے سکول کا پہلا دن کیسا تھا، میں نے کب لکھنا شروع کیا؟” ضرار کا دل کیا تھا وہ کہہ دے کہ ہاں پتا ہے، وہ اس سے علیحدہ تھا مگر بے خبر نہیں تھا۔ پر اپنی چھوٹی سی بہن کے اتنے بڑے بڑے شکووں کے آگے اسے اپنی دلیل بہت چھوٹی لگی تھی۔ وہ خاموش رہا تھا۔
ابراہیم شاہ نے روتے ہوئے مشکوٰۃ کو خود سے لگا کر اس کے آنسو صاف کیے تھے۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ جو اسے باتوں سے بہلانے کی کوشش کرتے تھے، وہ نہیں بہلتی تھی اتنے سالوں سے، اپنے اندر غبار لیے بیٹھی تھی۔
“میں یہ نکاح اپنی مرضی سے کر رہی ہوں اور ہاں! بابا نہیں ہیں میرے، تو اگر آپ اتنے سالوں بعد بھائی بن کر آ ہی گئے ہیں تو میرے نکاح میں ایک ولی کے طور پر شرکت بھی کر لیں۔” ضرار نے حیرت سے مشکوٰۃ کو دیکھا جو اپنی اتنی حق تلفیوں کے باوجود بھی اسے یہ مان سونپ رہی تھی۔
اس نے آگے بڑھ کر ابراہیم کے حصار میں کھڑی مشکوٰۃ کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا، جبکہ بھائی کے سینے سے لگتے ہی وہ اتنی تکلیف سے بلک بلک کر روئی تھی کہ وہاں کھڑے ہر شخص کی آنکھیں نم کر گئی تھیں۔
“میرا باپ مرا تھا، بھائی تو زندہ تھا، مگر آپ نے جیتے جی مجھے بھائی کے سائے سے بھی محروم رکھا۔” اس کے شکوتاً کہنے پر ضرار نے اس کے ماتھے کا بوسہ لیا، جبکہ اشعث اپنی فاطمہ کو یوں تکلیف میں دیکھ بمشکل ضبط کر رہا تھا۔ اسے زیادہ غصہ مشکوٰۃ کو اپنے دشمن کے حصار میں کھڑے دیکھ کر آ رہا تھا۔ پر کیا وہ ہی کر سکتا تھا باپ کھڑا تھا نا بیچارے کا اور وہ دلہا بن کر ذلیل نہیں ہونا چاہتا تھا۔
“میرے بچے! مجھے آپ کے اس فیصلے پر بہت خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے۔” ابراہیم نے مشکوٰۃ کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے کہا۔ البتہ انہوں نے ضرار کی طرف دیکھا بھی نہیں اور نہ ہی انہیں بلانے کی زحمت ضرار نے کی تھی۔
ثمینہ بیگم ضرار کو حسد بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں، مگر ضرار نے ان سے بھی ایک لفظ تک نہ کہا۔ ثمینہ بیگم نے آگے بڑھ کر مشکوٰۃ کی چادر درست کی اور اسے لے جا کر صوفے پر بٹھایا۔
پھر مشکوٰۃ کو اشعث کے نکاح میں دے دیا گیا جس میں ولی کی ساری ذمہ داریاں ضرار نے پوری کی تھیں۔ نکاح کے بعد بنا کسی اور سے بات کیے، مشکوٰۃ کے سر پر ہاتھ رکھ کر خوش رہنے کی دعا دے کر وہ چلا گیا تھا۔ اس نے دوبارہ کبھی مشکوٰۃ کو مخاطب نہیں کیا تھا۔ سامنا ہو جانے پر بھی وہ کترا کے گزر جاتا تھا جس بات نے مشکوٰۃ کو مزید اذیت سے دوچار کیا تھا۔
اس دن کے بعد سے مشکوٰۃ تھوڑی خاموش ہو گئی تھی۔ وہ پہلے کی طرح شرارتی نہیں رہی تھی اور اس کی یہی تبدیلی اس کے شاہ جی کے دل پر عذاب بن کر اتری تھی۔ باقی وہ دونوں جیسے جیسے بڑے ہو رہے تھے، ویسے ویسے ان کے درمیان بے تکلفی ختم ہوتی جا رہی تھی اور مشکوٰۃ کی طرف سے ایک جھجک درمیان میں آ رہی تھی۔شاید وقت کے ساتھ ساتھ اسے اپنے اور اس کے درمیان رشتے کی نذاکت کا اندازہ ہو گیا تھا۔
ضرار کو مفراہ یونیورسٹی کے دوران ملی تھی۔وہ اس کی کلاس فیلو تھی اور اس کی شائستہ اور سلجھی شخصیت نے ضرار کو متاثر کیا تھا اس نے سلطان شاہ سے خواہش کی تھی اور پھر اس کے گھر رشتہ بھیجا گیا اور اس کی شادی میں مشکوٰۃ نے شرکت کی تھی مگر مفراہ لوگوں کی جانب سے۔ مفراہ کے والد اور ابراہیم شاہ دونوں دوست تھے اور ان کے خاندان کا آپس میں آنا جانا تھا اور مفراہ کی بھی مشکوٰۃ سے اچھی بنتی تھی۔ اسے وہ چھوٹی پیاری سی گڑیا جیسی لڑکی شروع سے ہی بہت پسند تھی اور اب ضرار کی وجہ سے وہ مزید عزیز ہو گئی تھی۔ مفراہ نے پرانی رفاقت کی بنا پر مشکوٰۃ سے رابطہ بحال رکھا تھا اور وہ کسی کے بھی احتجاج کو خاطر میں نہیں لائی تھی۔ ریان کی پیدائش پر بھی مشکوٰۃ مفراہ سے ملنے آئی تھی اور اس نے بھی ضرار کو مکمل اگنور کیا، ضرار یہ بھی جانتا تھا کہ مفراہ نے ریان کا نام مشکوٰۃ کی خواہش پر ہی رکھا تھا۔
اس دوران جس چیز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی وہ تھی یوشع اور اشعث کی دوستی۔ وہ روزِ اول کی طرح ہی تازہ تھی۔ وہ دونوں سکول، کالج اور یونیورسٹی میں بھی ساتھ رہے تھے۔ یوشع تو ایک دو بار قصرِ شاہ بھی جا چکا تھا اور ابراہیم شاہ اور ثمینہ بیگم سے بھی ملا تھا۔ اس نے اشعث اور مشکوٰۃ کے نکاح میں بھی شرکت کی تھی اور مشکوٰۃ سے اسے بالکل بہنوں والا لگاؤ تھا۔ جہاں یوشع حساس طبیعت کا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لینے والا، وہیں اشعث سَدا کا ڈھیٹ بڑی سے بڑی بات کو چٹکیوں میں اڑانے والا اور وہ تھوڑا ضدی مزاج تھا۔ یونیورسٹی میں آئے دن اس کا کسی نہ کسی سے پَھڈا رہتا تھا، جس وجہ سے ابراہیم اس سے تنگ تھے۔ آئے دن مار پٹائی، لڑائی جھگڑے۔اس کے برعکس یوشع بہت خاموش اور سلجھا ہوا تھا۔ سب لوگ حیران ہوتے تھے کہ اریل گھوڑے کا یہ خاموش ہرن دوست کیسے ہیں!
ان کی جوڑی “اریل گھوڑے” اور “خاموش ہرن” کے طور پر ہی مشہور تھی۔
یوشع اس وقت کلاس میں لیکچر دے رہا تھا اور حیران کُن طور پر آئرہ بھی وہاں موجود تھی۔
“آپ میں سے کوئی اس پرابلم کو بورڈ پر آ کر سالو کرنا چاہے گا؟” یوشع نے ایک میتھ پرابلم وائٹ بورڈ پر لکھتے ہوئے سوال کیا۔ وہ سوال دیکھنے میں ہی اس قدر خطرناک لگ رہا تھا کہ کون اس کے ساتھ الجھنا چاہے گا! کلاس کے دو تین برائٹ سٹوڈنٹس نے ہاتھ کھڑے کیے، یوشع کو توقع تھی کہ وہ حل کر لیں گے، مگر وہ کسی اور سٹوڈنٹ کی جانب سے پیش قدمی کا منتظر تھا۔
آئرہ میڈم کا تو سویگ ہی الگ تھا۔ وہ بنا ہچکچاہٹ سامنے آئی، ٹیبل پر پڑے یوشع کے مارکرز اٹھائے اور بنا کسی سوال کے بورڈ پر کوسچن حل کرنے لگی۔ یوشع نے بھی کوئی تاثر نہیں دیا اور نہ ہی اسے روکا
جبکہ آئرہ کے ایٹیٹیوڈ پر چند اوور کانفیڈنٹ سٹوڈنٹس نے استہزائیہ نظروں سے اسے دیکھا گویا کہہ رہے ہوں، ‘یہ سوال حل کرے گی جو مہینے میں مشکل سے تین کلاسز اٹینڈ کرتی ہے!’ مگر ان کی حیرت سے آنکھیں اور منہ تب کھلے جب پانچ منٹ بعد آئرہ انتہائی پُراطمینان سے سوال حل کرنے کے بعد مارکرز یوشع کو تھما کر دوبارہ جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
جبکہ جانے سے پہلے اس نے جتاتی نظر یوشع پر بھی ڈالی تھی۔ وہ سر جھکا کر ہلکا سا مسکرا دیا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ یہ سوال حل کر لے گی، آخر وہ بچپن سے اس کی سٹوڈنٹ رہی تھی، میتھ کی سازش اس نے ہی اسے سکھائی تھی اور ایک ٹیچر سے بہتر کوئی اس کے سٹوڈنٹ کی قابلیت کو نہیں جانچ سکتا۔
جب کلاس سے فارغ ہو کر اپنے آفس میں آیا تو حیرت انگیز طور پر آئرہ وہاں بھی موجود تھی۔
“کیا چاہیے؟” یوشع اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔
“بابا کو ریسنگ کا پتا لگ گیا ہے۔” آئرہ نے چہرے پر معصومیت طاری کیے جواب دیا تو یوشع نے ایک نظر اسے دیکھا۔ وہ اپنے ازلی اول جلول حلیے میں ہی تھی
“اور یقیناً تمہارے پیسے بند ہو گئے ہوں گے؟ ضرار بھیا سے پیسے ملنے کی توقع بھی نہیں ہو گی اور آخر میں تمہیں اپنے اس بے کار، کم حیثیت اور لو سٹینڈرڈ کزن کی یاد آ گئی؟” یوشع نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے
اسے اب سمجھ آ گئی تھی کہ ان مہرانی صاحبہ نے اتنا تکلف کیسے اٹھایا، کلاس اٹینڈ کی اور اوپر سے کوئسچن بھی سولو کیے۔
سلطان شاہ کو جب بھی اپنی لاڈلی کو سزا دینی ہوتی تھی تو وہ اس کے پیسے ہی بند کرتے تھے۔
“پیسوں کی فکر نہیں ہے، وہ چاچو سے لے لوں گی یا دادی سے، پر ہاں! اس وقت مجھے اپنے اس کزن کی اشد ضرورت ہے۔” آئرہ نے مَسکا لگانے والے انداز میں کہا، اس نے اس کے طنز کو مکمل اگنور کیا۔
“بولو!” یوشع کا انداز ہتھیار پھینکنے والا تھا۔ وہ لڑکی اپنی تمام تر بدزبانی کے باوجود یوشع کو اول روز کی طرح ہی عزیز تھی!
“وہ مجھے نا بھوک لگی ہے اور میں گھر سے ناراض ہو کر آئی ہوں، نہ ہی میں نے ناشتہ کیا، اوپر سے میں فون بھی گھر میں چھوڑ آئی ہوں۔ فرینڈز میرے سارے ٹرپ پر گئے ہیں اور کیونکہ بھیا آج کل گھر ہی ہوتے ہیں اس لیے میں نہیں جا پائی۔ کزن نہیں ہو میرے اچھے والے میری ہیلپ کر دو نا!” آئرہ نے مسکین سی صورت بناتے اسے وضاحت دی۔ آئرہ کو پورا یقین تھا کہ وہ اس کی مدد کر دے گا، اس لیے تو وہ اس کے پاس مدد مانگنے آئی تھی۔
“چلو۔” یوشع نے کہتے ہی قدم باہر کی جانب بڑھائے۔
“کہاں؟” آئرہ کے پوچھنے پر یوشع نے مڑ کر اسے گھورا۔
“میرے خیال سے کھانا کینٹین سے ملتا ہے۔” یوشع نے جتانے والے انداز میں کہا۔
“او ہاں! چلو چلو۔”
یوشع کو کینٹین میں دیکھ کر چند سٹوڈنٹس احتراماً کھڑے ہوئے تھے، پر یوشع نے اشارے سے انہیں بٹھا دیا۔ یونیورسٹی میں سب جانتے تھے کہ آئرہ اور یوشع دونوں کزنز ہیں، اس لیے ان کا ساتھ ہونا کسی کے لیے بھی حیران کن نہیں تھا سوائے ایک وجود کے۔
“یہ دونوں ساتھ میں کیسے؟” مشکوٰۃ نے سامنے بیٹھے یوشع اور آئرہ کو دیکھ کر کہا تو اس کے ساتھ بیٹھی آمنہ نے بھی انہیں مڑ کر دیکھا۔
“کیوں؟ کیا ہوا؟ میں نے سنا یہ دونوں کزنز ہیں، کزنز میں یہ سب نارمل ہوتا ہے۔” آمنہ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے نارمل سے انداز میں جواب دیا۔
“وہ نارمل کزنز میں نارمل ہوتا ہے۔ ان دونوں کی جوڑی تو سانپ اور نیولے کی ہے۔ یوشع بھیا تو بیچارے معصوم سے ہیں مگر آئرہ آپی!” مشکوٰۃ نے کہتے ہی جھرجھری لی۔
“بھائی! اگر ان لوگوں میں چیزیں نارمل ہو رہی ہیں تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟” آمنہ نے مشکوٰۃ کو دیکھ کر کہا۔
“مجھے کیا مسئلہ ہو گا؟” اس نے کندھے اچکائے۔
“اچھا! کلاسز تو ہو گئی ہیں ختم، میں جا رہی ہوں ہاسٹل اور بتاؤ تم کس کے ساتھ گھر جاؤ گی اب؟” آمنہ نے مشکوٰۃ سے سوال کیا۔
“میں نے شاہ جی کو میسج کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ وہ آ گئے ہیں! میں چلتی ہوں۔” مشکوٰۃ کے بات کرتے ہی اشعث کا میسج آ گیا تھا کہ وہ پہنچ گیا ہے اور باہر اس کا انتظار کر رہا ہے۔
“ہاں، چلو۔” آمنہ کا ہاسٹل یونیورسٹی ایریا میں ہی تھا اس لیے اس طرف چلی گئی، جب کہ مشکوٰۃ اپنے بیگ میں سے کچھ تلاش کرتی اپنے دھیان میں ہی چل رہی تھی کہ سامنے سے آتی عنایہ سے زور سے ٹکرائی جو نور کے ساتھ باتوں میں مگن تھی۔
“شٹ! سو سوری! آئی ایم رئیلی سوری! لگی تو نہیں آپ کو؟” عنایہ نے سامنے والی کو ماتھا سہلاتے دیکھ کر سوال کیا۔
” اِٹس اوکے، مجھے بھی دیکھ کر چلنا چاہیے تھا۔” مشکوٰۃ نے بھی معذرتی انداز میں کہا۔
وہ دونوں ہی گیٹ سے باہر کھڑی تھیں اور اشعث نے مشکوٰۃ کو دور سے ہی دیکھ لیا تھا اس لیے اسی طرف بڑھ گیا۔
“کیا ہوا فاطمہ؟ خیریت؟” اشعث نے اسے ماتھا سہلاتے دیکھ کر فکرمندی سے سوال کیا۔
“ارے لیجیے! آپ کے بھائی بھی آ گئے۔” عنایہ کے از حد معصومیت سے کہنے پر جہاں اشعث نے اسے گھورا تھا وہیں مشکوٰۃ سٹپٹائی تھی۔
“استغفراللہ! یہ میرے بھائی نہیں بلکہ یہ میرے کزن اور…”
“اور۔۔۔۔؟؟؟؟”مشکوٰۃ کی بات ادھوری چھوڑنے پر آئرہ نے اسے بولنے پر اکسایا۔
“اور میرے شوہر ہیں۔” مشکوٰۃ نے چھینتے ہوئے بات مکمل کی تھی جبکہ اس کی حالت پر جہاں عنایہ اپنی مسکراہٹ بمشکل ضبط کر رہی تھی وہیں اشعث اسے مسلسل گھوریوں سے نواز رہا تھا۔
عنایہ نے اشعث کا خون جلا کر اسے منہ پر فون کاٹنے کا بدلہ لیا تھا جو کافی دنوں سے ادھار تھا۔
“اوہ۔۔۔۔۔اچھا اچھا! مجھے پتا نہیں تھا۔” عنایہ کی معصومیت عروج پر تھی،
“مائی سیلف عنایہ حیدر اور میں بی ایس کمپیوٹر سائنس کے فرسٹ سمسٹر میں ہوں۔” عنایہ نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“سیدہ مشکوٰۃ فاطمہ شاہ، فرسٹ سمسٹر، بی ایس سائیکالوجی۔” مشکوٰۃ نے ہاتھ تھامتے ہوئے جواب دیا۔ اس دوران اشعث چہرے پر بیزاری سجائے اس ڈرامے کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔
“آپ کو تو خیر سائیکالوجی پڑھنے کی ضرورت بھی ہے۔” عنایہ کے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہنے پر مشکوٰۃ نے الجھ کر اسے دیکھا جب کہ اشعث کے کان سرخ ہوئے تھے غصے سے۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اسے سائیکو کہہ گئی ہے جبکہ نور اپنی دوست کی حرکتوں پر مسلسل تاسف سے سر ہلا رہی تھی۔
“نائس ٹو میٹ یو مشکوٰۃ، مائی سیلف نور قلب۔ ہماری کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے ہم چلتے ہیں۔” کب سے خاموش کھڑی نور نے اشعث کی بیزاری کو بھانپتے ہوئے مداخلت کی۔
“ہیں؟ کیڑی کلاس؟” عنایہ نے حیرت سے نور کو دیکھا۔ مگر اسے خود کو گھورتا پا کر فوراً سیدھی ہوئی۔
“ہاں سچ! ہم تو کلاس کے لیے جا رہی تھیں! ہم چلتے ہیں فاطمہ، انشاءاللہ پھر ملاقات ہو گی۔” عنایہ نے ‘فاطمہ’ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ اس دوران وہ اشعث کا ضبط سے سُرخ پڑتا چہرہ دیکھ سکتی تھی جو اسے کافی لطف دے رہا تھا۔ مشکوٰۃ بھی چور نظروں سے اشعث کو ہی دیکھ رہی تھی۔ عنایہ مزید کوئی گوہر افشانی کرتی، اس سے قبل نور اسے گھسیٹ کر لے گئی تھی۔
اشعث نے مشکوٰۃ کی کلائی تھامی اور اسے لے کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
“دوبارہ آپ اس لڑکی کے ساتھ دوستی نہیں رکھیں گی۔” اشعث نے ضبط سے اسے کہا۔
“نہ کریں شاہ جی! اتنی سویٹ تھی وہ!” مشکوٰۃ کی بات پر اشعث نے حیرانگی سے اسے دیکھا کہ “تمہیں وہ پٹاخہ سویٹ کہاں سے لگی؟”
“بس! میں نے کہا نا!اور اس نے آپ کو ‘فاطمہ’ کیسے کہا؟” اشعث چڑچڑے سے انداز میں گویا ہوا۔
“ارے! شاہ جی! میں اسے منع کر دوں گی دوبارہ نہیں کہے گی اور ہماری ملاقات کم ہی ہوا کرے گی، اس کا اور میرا ڈیپارٹمنٹ چینج ہے۔” مشکوٰۃ اس کے جیلس ہونے پر بمشکل مسکراہٹ ضبط کیے کہہ رہی تھی، مگر وضاحت دینا بھی ضروری تھا۔
“ہمم۔” اشعث نے مختصر سا جواب دیتے اس کے ہاتھ کا بوسہ لیا تو مشکوٰۃ گلابی پڑتی گردن جھکا گئی تھی۔
اشعث نے دل میں اس ڈرامے باز کو سبق سکھانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا۔
✩━━━━━━✩
“تو تمہیں سچ میں نہیں پتا تھا کہ وہ اس کا شوہر ہے؟” کلاس میں لا کر نور نے تیکھے چتونوں سے اس سے سوال کیا۔
“بھئی میں کونسا اس کی نکاح خواں تھی! پہلی دفعہ تو مل رہی تھی، ہو گئی غلط فہمی” ہائے رے عنایہ! تیری معصومیت
“ہاں، میں تو جیسے تمہیں جانتی ہی نہیں۔” نور نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا تو عنایہ نے ڈُھٹائی سے دانت دکھائے
یوشع کی کلاس میں انٹر ہونے پر ساری کلاس میں یکدم خاموشی چھائی تھی۔ ان کے فرسٹ سمسٹر کے ایگزامز قریب تھے اس لیے پریزنٹیشنز لی جا رہی تھیں۔
آج یوشع نے بھی پریزنٹیشن ہی لینی تھی۔ دو تین سٹوڈنٹس کے بعد نور کی باری آئی تو اس نے انتہائی پُراعتماد طریقے سے ہر پوائنٹ کو اچھے سے ڈسکس کیا۔ یوشع اس کے کام سے متاثر نظر آ رہا تھا اور جو چند مغرور لڑکیاں اس کے عبایہ اور نقاب کی وجہ سے اسے ڈرپوک اور دبو سی لڑکی سمجھی تھیں وہ بھی اس کے کانفیڈنس پر حیران تھی۔ نور نے پل پل انہیں حیران کیا تھا۔ آئرہ کو تھپڑ مارنے سے لے کر آج کی کلاس پریزنٹیشن تک۔ نور کی شخصیت میں ایک رُعب اور ٹھہراؤ سا تھا جو اسے سب میں ممتاز بناتا تھا۔
“ویل ڈن مس قلب۔” یوشع اس کی تعریف کرنے سے خود کو روک نہیں پایا تھا۔
“تھینک یو سر۔” نور نے سنجیدہ سے انداز میں کہا اور جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
“مس حیدر! آپ کی باری ہے۔” یوشع نے عنایہ کا نام پکارا تو وہ گردن جھکائے کھڑی ہو گئی۔ یوشع جو رجسٹر پر کچھ کام کرنے میں مصروف تھا، جواب نہ ملنے پر سر اٹھا کر سامنے دیکھا، مگر اسے ایسے گردن گرائے کھڑا دیکھ کر اس کے تاثرات سنجیدہ ہوئے۔
“آپ نے پریزنٹیشن تیار نہیں کی؟” یوشع کے سنجیدگی سے پوچھنے پر اس نے گردن جھکائے ہی نفی میں سر ہلایا تو نور نے اسے حیرت سے دیکھا۔ عنایہ نے کل ہی تو اس کے سامنے ساری پریزنٹیشن تیار کی تھی۔ پھر اس ڈرامے کی وجہ!
“گیٹ آؤٹ!” یوشع نے سخت سے انداز میں کہا۔ وہ بے شک جتنی مرضی نرمی برت لے لیکن کام کے معاملے میں بہت سنجیدہ اور سخت تھا۔ اسے اپنا کام ہر حال میں مکمل چاہیے ہوتا تھا اور اس معاملے میں وہ کسی کو رعایت نہیں دیتا تھا۔
عنایہ جھکی گردن کے ساتھ ہی سر ہلا کر باہر نکل گئی، جبکہ اس کی اس ڈھٹائی پر تو یوشع کو مزید تیش آیا جس نے نہ معذرت کرنا ضروری سمجھا نہ ہی کوئی جواز پیش کرنا۔
نور تو عنایہ کو دیکھ کر حیران در حیران تھی! اور اس سے جواب لینے کا ارادہ اچھے سے رکھتی تھی کیونکہ ابھی ان کے فرسٹ سمسٹر کے ایگزامز تھے اور اس کا ایٹیٹیوڈ قطعاً سنجیدہ نہیں تھا اور یہ پریزنٹیشن نہ دینا اس کی سی جی پی پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا تھا کہ اسے اندازہ نہیں تھا۔
ان سب کے برعکس عنایہ نے باہر آ کر بوجھل سانس خارج کی اور پھر نظریں اِدھر اُدھر دوڑائیں۔ وہ آج یہ مسئلہ بھی حل کر ہی دینا چاہتی تھی۔ اسے کچھ دور ہی بینچ پر بیٹھی اپنی مطلوبہ شخصیت مل گئی تھی۔ اس نے آنکھوں میں پُراسراریت لیے قدم اس کی طرف بڑھائے۔
“امی! کر رہی ہوں نا کوشش آپ ان سے کہہ دیں کہ چند دن مزید انتظار کر لیں، میں جاب تلاش کر رہی ہوں، انشاءاللہ جلد ہی مل جائے
گی۔” عنایہ کے تھکے سے لہجے پر پاس بیٹھی آئرہ کے کان کھڑے ہوئے تھے۔
“اچھا! اب روئیں مت ورنہ میرا دل بھی پریشان رہے گا۔ بس دعا کریں۔” اس نے غمگین انداز میں سامنے والے کو تسلی دی۔ “چلیں میں رکھتی ہوں، اللہ حافظ۔” فون رکھتے ہی عنایہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے لگی تھی۔
“کیا ہوا؟” آئرہ کے بے تاثر لہجے پر عنایہ نے بھیگی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“امی نے مجھے یونیورسٹی بھیجنے کے لیے کچھ قرضہ لیا تھا۔ میں نے سوچا تھا یہاں آ کر جاب تلاش کروں گی پھر آہستہ آہستہ سارا قرضہ اتار دوں گی، مگر اتنے ماہ کی تلاش کے بعد بھی کوئی جاب ہی نہیں ملی۔” عنایہ کے لہجے میں بے بسی سی بے بسی تھی۔
“کرنا کیا کیا آتا ہے تمہیں؟” آئرہ نے کچھ سوچتے ہوئے سوال کیا۔
“میں نے چند ایک کمپیوٹر کورسز کر رکھے ہیں اور میں کمپیوٹر ہارڈ ویئر کے ساتھ بھی کافی اچھی ہوں۔”
“ٹھیک! یہاں چلے جانا اور میرا نام لینا، جاب مل جائے گی۔” آئرہ نے کارڈ اسے تھماتے ہوئے کہا جس پر “آئرہ انڈسٹریز” لکھا ہوا تھا۔ آئرہ کی پیدائش کے بعد سلطان شاہ نے اس کے نام سے بھی ایک کمپنی سٹارٹ کی تھی جسے ضرار سنبھالتا تھا۔
“تھینک یو سو مچ آئرہ! مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں، آپ نے مجھے اپنے احسان کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔” عنایہ آئرہ کا شکر گزار لہجے میں کہتی جا رہی تھی!
“کوئی بات نہیں! آئرہ سلطان شاہ کو احسانوں کا بدلہ لینا اچھے سے آتا ہے، تم اب ٹینشن فری ہو جاؤ۔” آئرہ تاریک سے لہجے میں کہتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی، جبکہ اس کا لہجہ عنایہ کو کچھ گڑبڑ لگا تھا
مگر ہاتھ میں پکڑے کارڈ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر شیطانی سی چمک ابھری تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ آئرہ اتنی جلدی اس کے جال میں پھنس چکی تھی۔
آئرہ کے جانے کے بعد اس نے انگوٹھے سے اپنے آنسو صاف کیے اور مکاری سے مسکرا دی۔ حیدر صاحب کی پینشن اور چند دکانوں کا اچھا خاصا کرایہ ان لوگوں کو آتا تھا اس لیے مالی طور پر تو کبھی انہیں کوئی پریشانی ہوئی ہی نہیں۔ اور عنایہ میڈم تو پڑھ بھی سکالرشپ پر رہی تھی۔ اب اللہ جانے اور اس کی کون سی فرضی ماں نے کون سے فرضی قرضدار بنا رکھے تھے!
“یو آر ویری گڈ ایکٹریس!” عنایہ نے اپنے کندھے کو تھپتھپا کر خود کو خود ہی شاباشی دی۔
“کرا لی انٹری فائنل اپنی آئرہ انڈسٹریز میں؟” کارڈ لہراتے ہوئے عنایہ فخر سے دوسری طرف فون پر موجود اشعث کو بتا رہی تھی۔
“اچھا! اب ہسپتال جاؤ اور رپورٹ لے کر جو میں نے اڈریس سینڈ کیا ہے وہاں پہنچو۔” اشعث نے ٹھنڈے ٹھار انداز میں کہا۔
“او ہیلو! کلاس ہے میری، پہلے ہی میں نے جو کٹا کھولا ہے ابھی اسے بھی باندھنا ہے۔” عنایہ تو اس کا حکم سُن کر ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔
“تو اپنی ڈگری لے لو سکون سے، اس مشن کو میں خود ہی پورا کر لوں گا۔” اب اشعث نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔
“جا رہی ہوں میں۔” عنایہ اس کی بلیک میلنگ پر چِڑ گئی تھی، پر مرتی کیا نہ کرتی!
جبکہ اشعث کا ارادہ پہلے خود جانے کا تھا مگر اس کو بھی تو صبح کے لیے سبق سکھانا لازمی تھا۔
“گڈ فار یو!” اشعث نے کہتے ہی کھٹاک سے فون بند کر دیا۔
“اس کا بدلہ انشاءاللہ جلد۔” عنایہ نے دل میں سوچا۔
ہسپتال جانے سے پہلے وہ یوشع کے آفس گئی تھی اور معذرت کی کہ وہ کنفیوز ہو گئی تھی اور کچھ اس کی طبیعت خراب تھی۔ پر وہ اسے اگر نیکسٹ چانس دے دے تو وہ اسے مایوس نہیں کرے گی۔ دو چار باتیں سنانے کے بعد یوشع نے بھی اسے اجازت دی تھی کیونکہ وہ بھی سمجھ سکتا تھا کہ ان کا بھی سٹارٹ ہے تو کنفیوز ہونا عام بات ہے۔
نور کو ضروری کام کا بول کر عنایہ وہاں سے نکل آئی تھی، جبکہ نور کی باتوں اور سوالات کو اس نے کانوں میں گھمایا تھا۔
✩━━━━━━✩
عنایہ ہسپتال پہنچی اور وہاں سے مطلوبہ رپورٹ وصول کی۔ اشعث شاید وہاں کے معاملات پہلے ہی حل کر چکا تھا اس لیے اسے کوئی خاص پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
رپورٹ لے کر وہ مطلوبہ کیفے پہنچی تھی جہاں اشعث کا کوئی وکیل دوست اس کا انتظار کر رہا تھا۔
کیفے پہنچ کر اس نے نظریں اِدھر اُدھر گھمائی تو ایک ٹیبل پر خوبرو سا نوجوان سفید شرٹ اور سیاہ پینٹ اور سیاہ کوٹ پر سیاہ ہی ٹائی پہنے بیٹھا نظر آیا۔ وہ حلیے سے ہی وکیل لگا تو عنایہ نے قدم اس کی طرف بڑھائے۔
“مسٹر احد صدیقی؟” عنایہ کے سوالیہ سے انداز پر نوجوان نے نظریں اٹھا کے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا، پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“یس! پلیز! سٹ ڈاؤن۔” اس نے کہتے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا اور عنایہ کے بیٹھنے کے بعد خود بیٹھا۔
“میں عنایہ حیدر، مجھے اشعث بھائی نے بھیجا ہے آپ کو یہ فائل دینے۔” عنایہ نے کہتے ہی فائل اس کے سامنے میز پر رکھی تو احد نے اس کا تنقیدی نظروں سے جائزہ لیا۔ سامنے سیاہ عبایا اور حجاب میں بیٹھی وہ لڑکی اس کے حلیے کی مناسبت سے سٹوڈنٹ ہی لگی تھی۔
پھر اس نے وہ فائل اٹھا کر کھولی اور سرسری سے انداز میں پڑھی، پھر بند کر کے رکھ دی۔
“کافی؟” اس نے عنایہ سے پوچھا تو عنایہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“نو! تھینک یو۔” احد نے سمجھ کر سر ہلایا پھر ویٹر کو دونوں کے لیے کافی کا آرڈر دیا تو عنایہ نے ضبط سے اسے دیکھا۔
“آپ لوگوں کو حقیقتًا لگتا ہے کہ یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کیس کا رخ بدل سکتی ہے؟” احد نے ابرو اچکا کر سوال کیا۔
“اگر اس رپورٹ کی کورٹ میں ویلیو نہ ہوتی تو کورٹ قتل کیس میں سب سے پہلے اس کی ڈیمانڈ نہ کرتا۔ باقی مجھے ان معاملات کا زیادہ علم نہیں ہے۔” عنایہ نے سنجیدہ سے انداز میں جواب دیا حالانکہ سنجیدہ رہنا اس کے لیے انتہائی مشکل امر تھا۔
ویٹر نے دونوں کے سامنے کافی رکھی تو عنایہ نے چپ چاپ اپنا کپ تھام لیا۔
“اچھا! پھر آپ کس چیز میں اچھی ہیں جو اس کیس کا حصہ بن رہی ہیں؟” احد بھی وکیلوں کی طرح ہی سوال کر رہا تھا۔
“میں کمپیوٹرز کے ساتھ اچھی ہوں اور اس کیس کا حصہ کیوں بن رہی ہوں، جلد ہی آپ جان جائیں گے۔” جتاتے ہوئے جواب دیا۔
“ویسے بچوں کو ایسے کاموں سے دور رہنا چاہیے۔” احد کا انداز صاف چڑانے والا تھا اور عنایہ کا چہرہ سُرخ ہوا۔
“بچی نہیں ہوں میں، لیگلی ایڈلٹ ہوں۔” عنایہ کے لیے اب ضبط کرنا مشکل تھا۔
“اوہ!” احد مصنوعی انداز میں کہتے اپنی مسکراہٹ ضبط کر گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہی ویٹر بل لے آیا تھا۔ عنایہ جب اپنی پیمنٹ کرنے لگی تو احد نے اسے روک دیا۔
“مے آئی۔”
اس نے پوچھا تھا نہ کہ دھونس جمایا تھا کہ میں ہی ادا کروں گا۔
“نو! آئی ول پے مائی سیلف۔” اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“دیٹس گریٹ! لڑکیوں کو ایسے ہی انڈیپینڈنٹ ہونا چاہیے۔” احد کے جواب پر عنایہ نے چند لمحوں کے لیے اسے حیرت سے دیکھا، مگر جلدی اپنی حیرت پر قابو پا لیا۔
“ویسے آپ کا ریلیشن کیا ہے اشعث کے ساتھ؟” احد اشعث کا بچپن کا دوست تھا، اس کی زندگی کے ہر پہلو سے واقف تھا، مگر اسے نہیں یاد پڑتا کہ یہ لڑکی کسی طرح سے بھی اشعث سے کنیکٹڈ ہو۔ جبکہ اس کے سوال پر وہ شیطانی سا مسکرائی۔
مل گیا موقع۔
“وہ میری پھوپھو کے داماد ہیں۔” عنایہ کے اطمینان سے کہنے پر احد کا اطمینان غائب ہوا تھا۔
“آپ بھابھی کی کزن ہیں؟” اس کے حیرت بھرے انداز سے پوچھنے پر عنایہ نے کندھے اچکایا گویا کہہ رہی ہو ‘بالکل! کوئی شک!’
“پر میں نے تو آپ کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔” احد یقین نہیں کر پا رہا تھا۔
“آپ نے کیا میرے خود کے باپ نے میرے بارے میں نہیں سنا۔ دراصل میری پیدائش سے پہلے ہی انہوں نے میری امی کو چھوڑ دیا تھا، انہیں بھی میری پیدائش کا علم نہیں ہے۔ باقی تفصیلات اشعث بھائی سے پوچھ لیجیے گا، مجھے دیر ہو رہی ہے۔” لفظ “بھائی” پر زور دیتی وہ بولی اور پھر وہاں سے چلی گئی تھی۔
“بھابھی کی آئرہ کے علاوہ بھی کوئی کزن ہے؟” احد نے فون ملاتے سب سے پہلے یہی سوال پوچھا تو دوسری طرف اشعث نے کراہ کر آنکھیں موند لیں۔
“عنایہ!!!!!!” اس نے دانت پیستے ہوئے اس کا نام ادا کیا گویا دانتوں کے نیچے عنایہ کی گردن ہو۔
“بولو! کیا یہ سچ ہے؟” احد نے بے تابی سے سوال کیا۔
“ہاں سچ ہے۔ پر ابھی میں وضاحت نہیں دے سکتا، وقت آنے پر دوں گا۔” کہتے ہی اس نے کال کاٹ دی۔
احد نے پہلے حیرت سے فون کو دیکھا، پھر اس جگہ کو جہاں سے عنایہ گزری تھی۔
ماضی کے ابھی کون کون سے ایسے راز تھے جن کا ظاہر ہونا باقی تھا
(میں چونکہ ناول میں ایک یونیورسٹی کا نام مینشن کر چکی ہوں جو پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی ہے اور آج کی قسط میں لکھے گئے واقعات کا اس یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں، یہ بالکل فرضی ہیں اور انہیں کسی بھی شخصیت سے جوڑنے کی کوشش نہ کی جائے۔)
جب عنایہ اپنے ہاسٹل روم میں داخل ہوئی تو اسے کسی کی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ وہ عائشہ کی آواز تھی جو چہرے پر ہاتھ رکھے مسلسل رو رہی تھی جبکہ نور اس کے پاس بیٹھی اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے اسے دلاسہ دے رہی تھی۔
“کیا ہوا ہے؟” عنایہ بیگ چیئر پر رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
“اس کا کوئی پروفیسر ہے جو اسے بلیک میل کر رہا ہے اور فیل کرنے کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔” نور نے گہرا سانس بھر کر عائشہ کے رونے کی وجہ بیان کی ۔
“تو اس میں اتنا رونا دھونا مچانے کی کیا ضرورت ہے؟ اپنے باپ، بھائی کو بتائے، وہ دیکھ لیں گے۔ اس ٹٹ پنجیے کو۔” عنایہ نے پرسکون سے انداز میں اپنے بیڈ پر دراز ہوتے ہوئے مشورہ دیا۔
“وہ نہیں دیں گے ساتھ۔۔۔۔الٹا۔۔۔۔ بدنامی کے ڈر سےمجھے گھر بٹھا دیں گے،پر مجھے پڑھنا ہے۔مجھے پہلے ہی دوسرے شہر آ کر پڑھنے کی اجازت مشکل سے ملی ہے اور اب! اب تو میں۔۔۔ میرے گھر والے قطعا یہ بات سننے کے بعد نہیں پڑھنے دیں گے۔سارے لوگ بھی میرا ہی قصور نکالیں گے!” عائشہ بے بسی سے کہتی ہوئی مزید شدت سے رو دی جبکہ اس کی بات پر عنایہ کو حیرت ہوئی تھی۔
اسے لگتا تھا کہ اگر باپ یا بھائی ہوں تو کوئی آپ کو تنگ نہیں کر سکتا، وہ آپ کے محافظ ہوتے ہیں، جو لوگوں کے طعنوں، لوگوں کی باتوں اور الزاموں کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ عائشہ جو بتا رہی تھی وہ اس کی سوچ کے برعکس تھا۔
کیا! باپ اور بھائی بھی حفاظت کی بجائے کیچڑ اچھال سکتے ہیں؟ عنایہ کو اب سمجھ آیا تھا کہ اگر اللہ کسی نعمت یا رشتے سے آپ کو محروم کر دیتا ہے تو وہ کہیں نہ کہیں تکلیف دہ تو ہوتا ہے مگر وہ آپ کے حق میں بہترین فیصلہ کرتا ہے، وہ آپ کو چھوٹی تکلیف دے کر مستقبل کی بڑی تکلیفوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ بے شک! اللہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا کون سی چیز آپ کے لیے نعمت ہے اور کون سی زحمت۔
اور یہ ہمارے معاشرے کا ایک گندا اور بھیانک پہلو ہے کہ وہ تعلیمی ادارے جہاں ہم اپنی بیٹیوں کو عزت سے ان کے روحانی والدین کے سائے میں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں وہیں عزتوں کے لٹیرے بنے بیٹھے ہیں۔ خصوصاً یونیورسٹی میں جہاں آپ کے مارکس آپ کے ٹیچرز کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور اسی بات کو بنیاد بنا کر نہ جانے کئی درندوں نے معصوم کلیوں کو نوچا ہے اور ستم در ستم یہ ہے کہ جو لڑکی اپنی سب سے قیمتی شے، اپنی عزت گنوا دیتی ہے، بعد میں قصوروار بھی وہی ٹھہرائی جاتی ہے کہ ‘ضرور اسی نے ادائیں دکھائی ہوں گی، ضرور اسی نے ہی میٹھے لہجے میں بات کی ہوگی، ورنہ ہم بھی تو انہی سر کے پاس پڑھتی ہیں،’ وغیرہ وغیرہ۔
پہلی بات! میں اس بات سے بالکل اتفاق رکھتی ہوں کہ اسلام نے عورت کو پردے میں رہنے کا حکم دیا ہے اور مرد عورت کے بناؤ سنگھار سے اٹریکٹ بھی ہوتا ہے، لیکن دوسری طرف اسلام نے مرد کو بھی عورت کے لیے نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا ہے، نہ کہ یہ کہا ہے کہ جہاں بے پردہ عورت دیکھو وہیں اس کا ریپ کر دو۔ اور یہ غلیظ لوگ تو معصوم بچیوں یہاں تک کہ قبر میں دفن مردوں تک کو نہیں چھوڑتے! وہ کیا ادائیں دکھاتی ہیں انہیں؟ وہ کون سے بے ہودہ لباس میں پھرتی ہیں؟؟
یہ صرف ان کی ذہنیت، ان کی گندی سوچ اور ان کا غلیظ نفس ہے جو ان کو اس گھٹیا، گھناؤنے اور گندے کام کی طرف اکساتا ہے۔ اور اس سے بڑا ستم یہ ہوتا ہے کہ وکٹم لڑکی کے گھر والے ہی اس کو سپورٹ نہیں کرتے، کوئی بدنامی کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں اور کچھ تو اپنی بوسیدہ اور ناکارہ غیرت کے نام پر لڑکی کو قتل تک کر دیتے ہیں۔
کتنی ارزاں ہے نا عورت اس زمانے میں!
اور یقین جانیں آپ میں سے بھی کتنی لڑکیاں ہوں گی جو روزانہ اپنے ٹیچرز کی طرف سے ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہوں گی مگر وہ انہی سب باتوں کو سوچ کر خاموش ہو جاتی ہوں گی کہ گھروالے کیا کہیں گے لوگ کا سوچیں گے۔ تو خدارا! ایسے درندوں کو شہہ نہ دیں، وقت پر ان کا منہ توڑیں، ظلم کے خلاف کھڑی ہوں، کیونکہ آپ مضبوط ہیں! پتا ہے کیوں؟ کیونکہ آپ عورت ہیں۔
“کون سے ٹیچر ہیں؟” عنایہ نے پانی پینے کے بعد سنجیدگی سے پوچھا تو عائشہ نے ان ٹیچر کا نام بتایا۔
“ٹھیک! وہ مٹکہ پیٹ پہلے ہی ٹھرکی لگتا تھا مجھے اور غیرت پر تو ان کی حرف آتا ہے نا جن کے باپ بھائی ہوتے ہیں۔ عزت ان کی خراب ہوتی ہے جن کے وارث ہوتے ہیں اور میں تو ہوں ہی نیم لاوارث اسی لیے اس ٹھرکی مٹکے کو میں دیکھ لوں گی۔” عنایہ کی بات پر عائشہ رونا بھول کر حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“تم کیا کرو گی؟” عائشہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
“جسٹ ویٹ اینڈ واچ، بیبی گرل!” عنایہ آنکھ وِنک کر کر کہتی واش روم میں گھس گئی۔
✩━━━━━━✩
صبح اس پروفیسر پر ہر طرف سے لعنت برسائی جا رہی تھی۔ سٹوڈنٹس اس کے خلاف احتجاج پر اتر آئے تھے، ہر کوئی اس کے خلاف نعرے بازی کرتا نظر آ رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کے خلاف کمپین چلائی جا رہی تھی، انفلوئنسرز ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
رات یونیورسٹی کے ہر ڈیپارٹمنٹ اور ہر گروپ میں ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں وہی پروفیسر ایک لڑکی کو نازیبا باتیں کہتا سنائی دے رہا تھا اور غلط طریقے سے چھونے کی کوشش کر رہا تھا اور غلیظ مطالبات کرتا بھی سنا جا سکتا تھا۔
جبکہ اس پروفیسر کو ابھی تک سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے! وہ بوکھلایا ہوا جب ڈین کے آفس پہنچا تو وہاں بیٹھی آنسو بہاتے عنایہ کو دیکھ کر ٹھٹکا ۔ وہ یہاں کم از کم اس کی موجودگی کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
ڈین نے اسے ٹرمینیٹ کر دیا تھا اپنی فی میل سٹوڈنٹ کو سیکشولی ابیوز (sexualy abuse)کرنے کی وجہ سے اور پھر پولیس اسے وہاں سے گرفتار کر کے لے گئی کیونکہ عنایہ اس کے خلاف پولیس رپورٹ بھی درج کروا چکی تھی۔ ڈین نے عنایہ سے معذرت کی تھی اس واقعے کے بارے میں۔
عنایہ ڈین کے آفس سے آ کر باہر بیٹھی تھی کہ کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے ساتھ آ کر بیٹھا ہے، اس نے گردن گھما کے دیکھا تو وہ یوشع تھا۔
“ویل ڈن مس حیدر! آپ کی بہادری واقعی قابل تحسین ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت ہر کوئی نہیں کرتا اور اپنی لڑائی میں کبھی خود کو اکیلا مت سمجھیے گا، میں ایک بھائی کے طور پر ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، آپ تنہا نہیں ہیں اور نہ ہی لاوارث۔ میں آپ کا بھائی، آپ کا محافظ، آپ کے لیے موجود ہوں۔” یوشع نے عنایہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور وہاں سے چلا گیا۔
اور وہ واقعی کھڑا رہا تھا ساتھ! ڈین نے اتنا سنگین قدم اس کے پریشرائز کرنے پر ہی اٹھایا تھا، ورنہ ان کا ارادہ تو پروفیسر سے معافی منگوا کر سیٹلمنٹ کرنے کا تھا۔ مگر وہ یوشع کی بات کو ٹا ل نہیں سکتے تھے کیونکہ شاہ خاندان کا یونیورسٹی پر ہولڈ تھا، ان کی بات ٹالنا اس کے بس سے باہر تھا۔ اور یہ پاکستان ہے جہاں ظالم کو سزا دلوانے کے لیے بھی پاور فل بیک گراؤنڈ ہونا لازمی ہے۔یوشع ظلم برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
یوشع کے ہاتھ سر پر رکھنے کے بعد عنایہ کو محسوس ہوا تھا کہ وہ پہلے ایسے مسافر کی مانند تھی جو صدیوں سے مسلسل تپتے ہوئے صحرا میں تنہا چل رہا تھا اور آج آ کر گھنے درخت کی ٹھنڈی چھاؤں نصیب ہوئی تھی۔
وہ دم بخود تھی کہ اللہ نے کیسے اس کے الفاظ اس کو کس موقع پر لوٹائے تھے اور وہ بھی کس انسان کے منہ سے!
ڈین کے آفس میں نقلی آنسو بہاتی ان بھوری آنکھوں میں اس وقت سچے موتی کی سی کھری نمی اتری تھی جس میں رنج، تھکن اور محبت جھلک رہی تھی، پر وہ عنایہ تھی جو یہ نمی چھپانے میں سالوں سے ماہر تھی۔
عنایہ فضا میں گھورتے ہوئے اپنے اور عائشہ کے درمیان ہوئی گفتگو سوچنے لگی تھی۔
“تم اس ٹھرکی مٹکے کو فون کرو اور کہو کہ میں چلنے کے لیے تیار ہوں تمہارے ساتھ۔” عنایہ کی بات پر عائشہ نے حیرت سے اسے دیکھا، جبکہ نور اس کے چہرے پر کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تبھی عنایہ نے بھی نور کی آنکھوں میں دیکھا اور ساری بات نور کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ وہ چپ چاپ اٹھی اور اپنی الماری میں سے چھوٹا سا باکس نکال کر لائی اور اس میں سے ایک بٹن سائزڈ کیمرہ نکالا۔
“یہ کیمرہ ہے جسے میں تمہاری شرٹ پر ایڈجسٹ کر رہی ہوں۔ اس پروفیسر کے سامنے اس پوزیشن پر بیٹھنا کہ وہ کلیئرلی کیمرے میں نظر آ سکے اور باقی نہ ہی گھبرانا ہے کہ تمہاری کسی بھی حرکت سے اسے شک ہو اور ہم تمہارے ساتھ ہی ہوں گے اس لیے ڈرنا تو بالکل بھی نہیں ہے۔” نور عائشہ کی شرٹ پر وہ کیمرہ فکس کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھا بھی رہی تھی۔
“تمہارے پاس یہ کہاں سے آیا؟” عائشہ کا سوال بجا تھا کیونکہ ایسے کیمراز آسانی سے نہیں ملتے اور نور جیسی ایک مڈل کلاس لڑکی کے پاس اس کا ہونا حیران کن بات ہی تھی۔
“میں ڈیٹیکٹیو ناولز بہت پڑھتی ہوں نا! اس لیے ایسی چیزیں کلیکٹ کرنے کا شوق ہے اور باتیں کم کرو اور فون ملاؤ جلدی، وقت نہیں ہے۔” نور نے نارمل سے انداز میں کہا تھا اور عائشہ بھی مزید سوال کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
عائشہ نے جب اس پروفیسر کو فون کر کے ملنے کی حامی بھری تو وہ تو گویا نہال ہی ہو گیا اور اسے ملنے کے لیے ایک چیپ سے ریسٹورنٹ میں بلایا۔ عائشہ کے ساتھ نور اور عنایہ دونوں گئی تھی، مگر وہ منظر عام پر نہیں آئیں۔ وہ دونوں دور سے بیٹھ کر ان کی باتیں سن رہی تھیں اور جب وہ خبیث انسان عائشہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا تو عنایہ بجلی کی سی تیزی سے اس کے پاس پہنچی۔
“عائشہ! یہ وقت ہے گھومنے کا؟ ٹائم دیکھا ہے؟ چلو ہاسٹل چلیں۔” عنایہ نے ایسا ظاہر کیا تھا جیسے وہ عائشہ کے دیر تک وہاں گھومنے پر اسے ڈانٹ رہی ہو اور عنایہ کو وہاں دیکھ کر وہ پروفیسر بھی بکھلایا تھا، وہ عائشہ کے کسی جاننے والے کی نظروں میں نہیں آنا چاہ رہا تھا۔
“بالکل بچے۔ میں بھی اسے یہی سمجھانے آیا تھا۔” وہ اب عنایہ کے سامنے اپنا امیج کلین کر رہا تھا۔
اس کی بات پر عنایہ کا دل تو اس کا منہ توڑنے کا ہی کیا تھا پر ضبط کر گئی۔ پھر وہ عائشہ کو لے کر وہاں سے نکل گئی تھی کیونکہ اس ریکارڈنگ میں عائشہ کا فیس کیپچر نہیں ہوا تھا اور نہ ہی عائشہ کی آواز ریکارڈ ہوئی تھی تو عنایہ نے وہ ویڈیو ایسے پیش کی جیسے عائشہ کی جگہ وہاں عنایہ موجود ہو۔
عنایہ کو سوچ سے باہر بجتے ہوئے فون نے نکالا تھا جبکہ سکرین پر لکھا “سکائے” دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔
“السلام علیکم!” عنایہ نے پہلے سلام کیا۔
“یہ کیا تماشا بنایا ہے تم نے! ہاں؟ کوئی مسئلہ تھا؟ کوئی تنگ کر رہا تھا تو مجھے بتاتی، میں اسے ہینڈل کر لیتا! پر نہیں، تمہیں تو شوق ہے ہر جگہ مضبوط بننے کا، ڈرامہ کرنے کا! انٹرنیٹ پر لگے اشتہار بھی دیکھ لیتی اپنے ۔ تمہارا دماغ خراب ہے ؟؟ اپنی عزت کی کوئی فکر ہے بھی کہ نہیں؟” افق بنا سلام کا جواب دیے اس پر برسنا شروع ہو گیا تھا۔
“افق! نہ تو آپ میرے باپ ہیں نہ بھائی، اس لیے میری عزت کے بارے میں آپ فکرمند نہ ہوں۔ آپ نے میری بہت مدد کی ہے، میرا ہر جگہ بہت ساتھ دیا ہے جس کے لیے میں آپ کی احسان مند ہوں، مگر میں اپنے اعمال کے لیے آپ کو جوابدہ نہیں ہوں۔” عنایہ نے کہتے ہی فون کھٹاک سے بند کر دیا۔ افق کی بات نے اس کا دماغ گھمایا تھا اور دوسری طرف افق اس کے لہجے پر تلملا کر رہ گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد پھر فون بجا جبکہ فون اٹینڈ کرنے کے بعد دوسری طرف بولے جانے والے الفاظ سن کر عنایہ نے حیرت سے فون کان سے ہٹا کر دیکھا۔
“کیا کہا آپ نے؟” لگا شاید اس کے کانوں نے غلط سُنا ہے۔
“ویل ڈن عنایہ!” اشعث شاہ نے دوبارہ اپنے الفاظ دہرائے تو عنایہ غش کھاتے کھاتے بچی کیونکہ اشعث شاہ کے ستائشی الفاظ واقعی اس کے لیے حیران کن تھے۔
“بہادری اچھی چیز ہے عنایہ پر بے وقوفانہ بہادری جان لیوا ہوتی ہے! تم نے بہت ہمت بھرا کام سرانجام دیا ہے اور کوئی شک نہیں کہ تم ایک بہادر اور مضبوط لڑکی ہو، پر عنایہ! تم ایک لڑکی ہو جو مردوں کے معاشرے میں رہ رہی ہے جو کام تم نے کیا ہے وہ تمہاری عزت پر بھی حرف لا سکتا تھا یا تم پھنس سکتی تھی! تمہیں یہ ایکشن لینے سے پہلے کم از کم مجھے انفارم کرنا چاہیے تھا تاکہ مجھے علم ہوتا تم کہاں ہو، کسی مسئلے کی صورت میں ایٹ لیسٹ میں تمہیں ٹریک تو کر سکتا!”
اشعث کی بات سو فیصد درست تھی۔ وہ تینوں لڑکیاں اکیلی رات کے وقت اتنا بڑا رسک لینے پہنچ گئی تھی، وہ پکڑی بھی جا سکتی تھی، کچھ بھی ہو سکتا تھا جس کے بارے میں کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی۔ لڑکیوں کو اپنے لیے لڑتے وقت بھی پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے جسے بوسیدہ کرنے میں کچھ تنگ نظر عورتوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے اور کوئی اچھا کام بھی کرنے سے پہلے اس کے نتائج کے بارے میں سوچنا لازمی ہوتا ہے۔
“اور باقی! آئی ایم امپریسڈ اور سوشل میڈیا اور میڈیا کو میں ہینڈل کر لوں گا، ڈونٹ وری!” اس نے عنایہ کو بے فکر کرنا چاہا۔
“ٹھیک ہے، اگلی بار خیال رکھوں گی۔” دھیمے سے لہجے میں جواب دیا۔
“گڈ!” اور اشعث نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی۔
بات افق نے بھی کی تھی اور اشعث نے بھی، فرق صرف لہجے اور الفاظ کا تھا۔ کسی کو سمجھانے کے لیے بھی اپنے الفاظ درست رکھنے چاہیے۔
“تھینک یو سو مچ! تم دونوں نہ ہوتیں تو پتا نہیں میرے ساتھ کیا ہوتا، مجھ میں اتنی ہمت کبھی بھی نہیں آتی کہ میں ظلم کے خلاف کھڑی ہو سکتی ، میں شاید ڈر کر واپس اپنے گھر لوٹ جاتی۔” عائشہ نور اور عنایہ کا شکریہ ادا کر رہی تھی۔
“کوئی بات نہیں اور ہاں! رونے سے مسئلے سالو نہیں ہوتے، جتنا وقت رونے میں برباد کرتی ہو اتنا حل ڈھونڈنے میں لگایا کرو۔” عنایہ نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے مشورہ دیا۔
✩━━━━━━✩
یوشع جب فلیٹ میں داخل ہوا تو وہاں کبیر شاہ کو بیٹھے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
“ارے بابا! کیسے ہیں؟” وہ خوش اخلاقی سے گویا ہوا۔
“ٹھیک ہوں شاہ جان۔” انہوں نے بیٹے کو سینے سے لگایا تھا۔ وہی تو واحد سہارا تھا ان کے جینے کا۔
“اچھا! آپ بیٹھے، میں کھانا آرڈر کرتا ہوں، جب تک میں فریش ہوں گا تب تک کھانا بھی آ جائے گا۔” یوشع مسکرا کر کہتے ہوئے اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
“ارحم نے کبھی تم سے ملنے کی کوشش نہیں کی؟” کھانا کھاتے ہوئے کبیر شاہ نے نہ جانے کیا سوچ کر یوشع سے یہ سوال کیا تھا جبکہ ان کا سوال سن کر یوشع کا کھانے کی طرف جاتا ہاتھ رکا۔
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟” اس کا لہجہ اب سنجیدہ تھا۔
“تم تو جانتے ہو، وہ جیل جانے کے چند دن بعد ہی فرار ہو گیا تھا۔ پولیس کے اتنے عرصے ڈھونڈنے کے بعد بھی نہیں ملا کیونکہ وہ تم سے بہت محبت کرتا تھا تو مجھے لگا وہ ضرور کبھی نہ کبھی تم سے ملنے کی کوشش کرے گا۔” کبیر شاہ نے یوشع کو تو یہ جواب دیا تھا جبکہ دل میں کہیں یہ امید تھی کہ ارحم اگر ملتا تو شاید بتول بھی مل جاتی۔
“میں نے آخری بار ماموں جان کو ان کی گرفتاری کے روز دیکھا تھا، اس کے بعد میری آنکھوں نے نہ انہیں دیکھا، نہ کانوں نے انہیں سُنا اور نہ ہاتھوں نے انہیں چھوا۔” یوشع نے نارمل انداز میں جواب دیا تھا حالانکہ اندر سے وہ بالکل بکھر چکا تھا اپنے ماموں کا ذکر سن کر اور وہ باپ سے یہ سوال کرنا چاہتا تھا کہ آپ بھی تو مما سے محبت کرتے تھے، آپ نے کوشش کی ان سے ملنے کی؟ مگر وہ باپ کے زخم ادھیڑنا نہیں چاہ رہا تھا۔
کبیر شاہ آج رات یوشع کے ساتھ ہی رکنے والے تھے۔ وہ پوری کوشش کرتے تھے کہ اسے اس کے حصے سے دگنی محبت دے سکیں مگر کئی موقعوں پر وہ بے بس تھے، کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
✩━━━━━━✩
جاری ہے۔۔۔
