PARWAZ BY HAMMAD ALI.

بسم الله الرحمن الرحيم

پرواز

از قلم محمد حماد علی

شام کے چھ بج رہے تھے ، چڑیاں اپنے گھونسلوں میں واپس جا رہی تھی، سورج غروب ہو چکا تھا مگر چند زرد کرنیں ابھی فضا میں موجود تھیں۔ ‘ڈیوڈ’ اپنے گھر میں داخل ہو کر اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے زور زور سے آوازیں لگاتا ہے۔
“مارتھا! مارتھا! کہاں ہو؟”
ا”دھر ہوں کمرے میں۔ بولو!”
“وہ میں نے جیسیکا کے لئے ایک رشتہِ دیکھا ہے۔” ڈیوڈ کمرے میں قدم رکھتے ہوئے بولا۔
“کیا؟ رشتہ ؟ وہ بھی جیسیکا کے لئے ؟” مارتھا جو کہ سلائی مشین میں دھاگا ڈال رہی تھی اچانک چونک کر ڈیوڈ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“ہاں ! تو اس میں اتنی حیرانی والی کیا بات ہوئی ؟”
“ڈیوڈ وہ ابھی صرف سولہ سال کی ہے۔ “
“تو اس میں کیا ہے ؟ رشتہ اچھا ہے اور میں نے ہاں کر دی ہے۔ “
“کیا ؟ تم نے ہاں بھی کر دی ۔ ڈیوڈ اگر میرے سے نہیں تو ایک بار جیسیکا سے تو اس کی مرضی پوچھ لیتے۔ “
“ہاں! میں انہیں ‘ہاں’ بول آیا ہوں ، اور تم جانتی ہو کہ میں ایک بار کسی کو زبان دے دوں تو پھر مُکرتا نہیں، اور جہاں تک بات رہی جیسیکا کی مرضی کی تو اس تم منا لینا اور ویسے بھی ہمارے گھر کے فیصلے مرد کیا کرتے ہیں اس کی رضا یا عدم رضا سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جو میں نے کہ دیا ہے وہ تو اب ہو کر ہی رہے گا۔ “
“ڈیوڈ؟ کچھ ہوش سے کام لو۔ کون ہے وہ لڑکا ؟ “
“میری چچا زاد بہن “سارہ” کی نند کا بیٹا ۔ اور اب یہ میری بہن کے گھر کا معاملہ ہے تو کوئی فساد نہیں برپا کرنا اور اپنی بیٹی کو بھی اچھے سے سمجھا دینا”
“کون ؟ وہ”ایڈورڈ” ؟”
“ہاں۔”
“ڈیوڈ وہ ستائیس ،اٹھائس برس کا ہے ۔ ہماری جسیکا سے بہت بڑا ہے۔” مارتھا پریشانی میں بولی۔
“عمر میں کیا رکھا ہے ؟ ، اچھا لڑکا ہے ، اچھی نوکری کرتا ہے ، اچھا کماتا ہے ، اپنا گھر ہے اور ویسے بھی اس کی دوسرے شہر اچھی نوکری لگ گئی ہے۔ تو وہ لوگ چاہ رہے ہیں کہ اس کے جانے سے پہلے ہی جیسیکا کا بیاہ ہم اس سے کر دیں تو وہ جیسیکا کو بھی اپنے ساتھ وہاں لے جائے۔”
“ڈیوڈ ! میں اپنی اتنی چھوٹی بچی کو دوسرے شہر نہیں بھیج سکتی۔ “
“چپ! بلکل چپ! مجھے اور کوئی بات نہیں سننی دس دن بعد جیسیکا کی شادی ہے تیاری شروع کرو۔” ڈیوڈ چیختے ہوئے وہاں سے باہر چلا گیا۔

جیسیکا کا کچھ دنوں پہلے ہی میٹرک کا رزلٹ آیا تھا اس نے پورے ضلع میں ٹاپ کیا لیکن اسے پھر بھی نہ پڑھنے دیا گیا، وہ بہت روئی گرگرائی لیکن اس کے ظالم باپ نے اس کا کالج داخلہ کروانے کی بجائے اس کا رشتہ تہ کر دیا اور زبردستی شادی کروا دی۔
باپ کے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے بیٹی کی پوری زندگی خراب ہو گئی ، ایک بیٹی نہ اپنی مرضی سے کچھ کھا سکتی تھی ، نہ ہی پی سکتی تھی ، نہ سو سکتی تھی ، نہ جاگ سکتی تھی ، نہ باہر جا سکتی تھی ، نہ پڑھ سکتی تھی ، صرف ایک چار دیواری میں قید تھی ، جیسے چڑیا گھر میں جانور ، پاگل خانے میں پاگل ، جیل میں چور ، پنجرے میں پرندے ، اسی طرح جیسیکا بھی اس کرائے کے کچے مکان میں بند تھی ، اگر وہ اپنی مرضی سے کچھ کر سکتی تھی تو وہ تھی ‘سانس لینا’ ہاں وہ اپنی مرضی سے صرف سانس لے سکتی تھی ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ، شادی بھی نہیں ، شادی بھی آج اس کے گھر والے اس کی مرضی کے بغیر ، اس کی خوشی کے بغیر اس سے دس سال بڑے شخص سے کروا رہے تھے۔۔
اب جیسیکا اپنے بارے میں بلکل بھول چکی تھی اس کی زبان پر صرف یہی الفاظ ہوتے “اے خداوند! کسی لڑکی کو میرے جیسی زندگی نہ دینا۔” جیسیکا اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتی تھی ،صرف اپنی بربادی کا سوگ ہی منا سکتی تھی ، اس کے علاوہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا ۔
✯✯✯⁠✯⁠✯⁠✯✯

جیسیکا کی شادی آٹھ جماعتیں پڑھے ، ستائیس سالہ نشئی سے ہو چکی تھی ، جو اسے شادی کے دو ہفتے بعد ہی اپنے ساتھ ملتان لے آیا۔ جیسیکا کے شوہر کی ملتان میں کہی اچھی نوکری نہیں لگی تھی بلکہ کراچی میں اس نے قتل کیا تھا اور اس پر FIR درج تھی جس کی وجہ سے اسے وہاں سے بھاگنا تھا اور شہر تبدیل کرنا تھا اور جیسیکا کو اس ساب کے بیچ بلی کا بکرا بنایا گیا۔ اس نے ڈیوڈ سے جھوٹ کہا تھا، اور یہ بات جیسیکا کو ملتان پہنچنے کے دوسرے دن ہی پتا لگ گئی تھی جب ایڈورڈ اپنے دوست سے کال پر بات کر رہا تھا۔ زندگی نے ایک بار پھر جیسیکا کو دھوکا دیا تھا۔ مگر وہ کچھ نہ کر سکتی تھی اس کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا۔ ایڈورڈ کو جو بھی نوکری ملتی وہ کچھ عرصہ چلتی اور پھر جب مالکین کو اس کے نشہ کرنے کی خبر معلوم ہوتی تو تو اس کا کھاتہ صاف کر کے اسے کام سے نکال دیا جاتا۔ چھ ماہ میں ایڈورڈ کو چار نوکریاں ملیں اور چاروں ہی اس کے ہاتھ سے چلی گئیں صرف اس کے نشے کی وجہ سے۔ ایڈورڈ جو کہ بلکل جیسیکا کے باپ ڈیوڈ جیسا تھا ، بے روزگار ، نشئی ، ہر وقت جیسیکا کو مارتا پیٹتا ، کئی کئی راتیں گھر سے باہر کسی اڈے یا اسٹیشن پر نشے کی حالت میں پڑا گزارتا اور جیسیکا پر تشدد کرنا تو جیسا اس کا فرض ہوتا ، کوئی رات ایسی نہ ہوتی جب جیسیکا مار کھائے بغیر سوئی ہو۔
✯✯✯⁠✯⁠✯⁠✯✯
‘بس کرو ، بس کرو ایڈورڈ ، بہت درد ہو رہا ہے، تمہیں مسیح کا واسطہ، خدا کے لئے بس کرو ۔”
اس رات بھی ایڈورڈ نشے کی حالت میں بغیر کسی وجہ کے جیسیکا کو مار رہا تھا۔ جیسیکا کی چیخیں ک۔رے کی فضا میں گونجتی رہیں اور وہ دہائی دیتی رہی کہ مجھے نہ مارو، لیکن ایڈورڈ نے ایک نہ سنی۔ اس نے تب تک اپنا ہاتھ نہ روکا جب تک جیسیکا زمین پر نہیں گر گئی۔ جیسیکا کے بےہوش ہوتے ہی ایڈورڈ کے ہاتھ سے بیلٹ چھوٹ گیا اور وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹا۔
“ہائے مسیح اسے کیا ہو گیا؟ خداوند خیر کرنا۔”
ایڈورڈ گھبراتا ہوا ساتھ والے ایپارٹمنٹ سے ڈاکٹر کو بلا کر لایا۔
ڈاکٹر جیسے ہی ایڈورڈ کے ایپارٹمنٹ میں انٹر ہوئی ، وہ وہاں کی حالت دیکھ کر ایک دم دنگ رہ گئی اس نے چاروں طرف اپنی نظر گھومائی ، کہیں ٹوٹے کانچ کے ٹکڑے ، کہیں نیچے پلیٹیں ٹوٹی بکھری پڑی ، کہیں کپڑے بکھرے پڑے اور پھر ڈاکٹر کا دھیان ہال کے بیچ و بیچ بے ہوش پڑی جیسیکا پر پڑی ، جس کے پاس پڑا بیلٹ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کے ساتھ بہت برا ہوا ہے اور اس کا ذمہ دار وہی شخص ہے۔
“تم انسان ہو یا حیوان ؟ تم نے اس بچی کی کیا حالت کی ہے؟ تمہیں ذرا خدا کا خود نہیں ہے؟”
ڈاکٹر ، جیسیکا کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔ ایڈورڈ کی آنکھوں میں ندامت تو تھی مگر اس کی ندامت اس بات کا کیا ثبوت کہ وہ دوبارا ایسا نہیں کرے گا۔ ڈاکٹر نے جیسیکا کا چیک-اپ کیا اور ایڈورڈ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“She is pregnant” اور تم نے پریگننسی میں اس کی کیا حالت کر دی ہے ذرا شرم نہیں ، اگر نیکسٹ ٹائم تم نے اس بچی کو مارنے کی کوشش کی یا مارا اور مجھے اس بات کی خبر مل گئی تو میں فوراً پولیس کو بلاؤں گی اور تمہارے خلاف قانونی کارروائی کروں گی۔
“اے خداوند! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے اس نعمت سے نوازا۔”
ابھی تو ایڈورڈ خوش تھا لیکن کچھ عرصے بعد اس کا رویہ دوبارہ ویسا ہو جانا تھا جیسا ابھی کچھ لمحے پہلے تھا۔ ایڈورڈ نے ایک نئی نوکری تلاش کی تھی اور اس کا خیال یہی تھا کہ کم از کم بچہ ہونے تک اس سے یہ نوکری نہ جائے ، وہ جیسیکا کا خیال رکھنا شروع کر دیتا ہے ، کچھ دن گزرتے ہیں جیسیکا اس کے رویے میں تبدیلی دیکھ کر اس سے پوچھتی ہے۔
“ایڈورڈ! تم واقعی تھوڑا بدل گئے ہو یا مجھے ایسا لگ رہا ہے؟”
“ہاں میں بدل گیا ہوں ، لیکن صرف کچھ عرصے تک۔”
“کب تک؟”
“جب تک میرا بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ “
” کون سا بچہ؟” جیسیکا حیرانی سے بولی۔
“تم ماں بننے والی ہو جس دن تم بے ہوش ہوئی تھی اس دن ڈاکٹر نے بتایا تھا مجھے،اور ایک بات میں تمہیں بتا دوں کہ مجھے بیٹا چاہیے،بیٹا!”
“ایڈورڈ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے یہ سب خداوند کی مرضی ہے۔”
چھ ماہ بعد
ایڈورڈ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کے سامنے پریشانی ۔یں چکر لگاتا پراتھنا کر رہا ہوتا ہے کہ خدا اسے بیٹا دے، اتنے میں ہی ڈاکٹر باہر آئی اور بولی۔
“مبارک ہو۔ مسٹر ایڈورڈ! بیٹی ہوئی ہے۔ “
“کیا ؟ بیٹی ؟ “
ایڈورڈ یہ سنتے ہی ایک قدم پیچھے ہو گیا۔
“کیا ہوا مسٹر ایڈورڈ ؟”
“ہ ہ کچھ نہیں۔”
ایڈورڈ کے منہ سے بمشکل دو الفاظ نکلے تھے ، جیسے بیٹی کا سنتے ہی اسے کوئی صدمہ لگا گیا ہو۔
“آپ اپنی بیوی اوربیٹی سے مل سکتے ہیں۔”
ڈاکٹر یہ کہ کر وہاں سے چلی گئی، اور ایڈورڈ جیسیکا کے کمرے کی طرف بڑھا۔
“آؤ ایڈورڈ۔”
بستر پر لیٹی جیسیکا ، ایڈورڈ کو دیکھ کر بولی۔
“میں نے کیا کہا تھا؟”
ایڈورڈ چیختے ہوئے بولا۔
“کیا ہوا؟”
جیسیکا گھبراتی ہوئی بولی۔
“میں نے کہا تھا نا کہ مجھے بیٹا چاہیے تو پھر تمہاری بیٹی کیوں ہوئی ہے ؟”
ایڈورڈ کی چیخوں سے پاس پڑی بچی رونے لگی۔ ایڈورڈ اس بچی کی آواز ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سننا چاہتا تھا۔ ایڈورڈ دروازہ پٹخ کر باہر آگیا۔

ایڈورڈ غصے سے شرابور ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوا اور بولا۔
“ڈاکٹر صاحب ان دونوں ماں بیٹی کو ابھی یہاں سے ڈسچارج کریں۔”
“لیکن کیوں مسٹر ایڈورڈ ؟ ابھی تو ایک، دو دن اور ماں اور پچی کو ہسپتال رکھنا ضروری ہے۔ “
“میں نے کیا کہا ہے! ابھی اور اسی وقت انہیں ڈسچارج کریں۔ “
ایڈورڈ ڈاکٹر پر بھی بھڑک اٹھا۔
“جی! آپ پہلے ریسیپشن پر مکمل ادائیگی ادا کر کے حساب صاف کر دیں تو میں ڈسچارج کرنے کے کاغذ تیار کرتی ہوں۔”
“جی ٹھیک ہے۔”
وہ ایڈورڈ جو تین ماہ میں چار نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ ان چھ ماہ میں ڈبل شفٹ کر رہا تھا صرف اس لالچ اور خواہش میں کہ بدلے میں جیسیکا اسے بیٹا دے گی، مگر جیسیکا کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا سب کچھ خدا کی مرضی سے ہونا تھا ، اور جب جیسیکا اسے بیٹی نہ دے سکی تو پھر ایڈورڈ بھی ڈیوڈ بن گیا۔ جسے اپنی بچی سے ذرا لگاؤ نہ تھا جسے اپنی ہی اولاد سے نفرت تھی۔ جیسیکا اور بچی ہسپتال سے گھر آگئی تھیں۔ جیسیکا نے اپنی بیٹی کا نام “آئرین” رکھا تھا۔ وہ بچی جو خود ابھی پورے سترہ سال کی نہ ہوئی تھی جس کی شادی کا یہ دسواں ماہ چل رہا تھا وہ اب خود ایک بچی کی ماں بن چکی تھی۔ اب ایڈورڈ، جیسیکا سے اور زیادہ نفرت کرنے لگا۔ ایڈورڈ چوبیس گھنٹے جیسیکا پر اس بات کا غصہ نکالتا کہ اس نے اسے بیٹی کیوں دی۔ ایڈورڈ، جیسیکا کو بہت مارتا تھا ، جیسیکا کے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں ایڈورڈ کی مار کے نشان موجود نہ ہوں۔ مگرـــ مگر جیسیکا کر بھی کیا سکتی تھی ؟ جسیکا کے پاس نا موبائل تھا اور نہ ہی کسی سے کوئی رابطہ ، اور ایڈورڈ اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا تھا۔ ایڈورڈ نے جو کچھ عرصہ کے لئے برے کام چھوڑے تھے وہ عادتیں اس نے پھر اپنا لی۔ بھر سے شراب نوشی پھر سے سگریٹ نوشی اور اس بار اور زیادہ ، پہلے کی طرح اب بھی ایڈورڈ اسی وجہ سے کام سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ آئرین اب بڑی ہو رہی تھی ، گھر میں کچھ بھی موجود نہ ہوتا، جیسیکا تو فاقے کر کے گزارہ کر لیتی مگر اس سے آئرین کی بھوک نہ برداشت ہوتی اس کی وجہ سے وہ بہت بار ایڈورڈ سے بھی لڑی مگر نتیجہ کیا نکلتا جیسیکا کے جسم پر نئے نشانات!!
ایڈورڈ کے زیادہ نشے کی وجہ سے اسے “Lungs Cancer” ہو گیا۔ مگر ایڈورڈ اس بات سے بے خبر تھا اس کی موت قریب آتی جا رہی تھی اور وہ اس سے ناواقف تھا۔ وقت گزرتا گیا ایڈورڈ کو خون کی الٹیاں آنا شروع ہوگئیں۔ اس نے ڈاکٹر سے چیک-اپ کروانے کا سوچا مگر اس کی جیب میں ایک ٹکا نہ تھا جس کی وجہ سے وہ اس سے بھی رہ گیا۔ دن گزرتے گئے اور ایڈورڈ کی موت کا دن بھی آگیا۔
آج بھی وہ کسی بات کی وجہ سے جیسیکا کو مار پیٹ رہا تھا نا وہ جانتا تھا کہ وہ جیسیکا کو آج آخری مرتبہ مار رہا ہے اور نا جیسیکا یہ جانتی تھی کہ آج وہ ایڈورڈ سے آخری دفعہ مار کھا رہی تھی۔ مارتے ہوئے اچانک ایڈورڈ کا ہاتھ رک گیا اور وہ سر کے بل زمین پر آ گرا، اس کے منہ سے خون نکلنے لگا ، جیسیکا اس کے منہ سے خون نکلتا دیکھ کر چیخیں مارنے لگی اور ساتھ والے ایپارٹمنٹ سے ڈاکٹر کو بلا کر لائی اور اسے ساری بات بتائی۔ کچھ دیر مکمل معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر بولا ۔
“آئی ایم سو سوری۔ ان کی موقع پر ہی ڈیتھ ہو گئی ہے انہیں ایک لمبے عرصے سے کینسر تھا۔”
یہ الفاظ سننے تھے کہ جیسکا کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ، ایڈورڈ جیسا بھی تھا ، تھا تو جیسیکا کا شوہر ہی اور آئرین کا باپ۔ اب جیسیکا بلکل بے آسرا تھی۔ اس نے اپنے ماں باپ سے رابطے کرنے کی بہت کوشش کی خط لکھ کر بھیجے ، ایڈورڈ کے موبائل سے انہیں مسلسل فون بھی کرتی رہتی مگر کوئی جواب موصول نہ ہوتا۔ جیسیکا نے اپنے سسرال والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ اس کے گھر والوں کو ایڈورڈ کی موت کا بتا سکے مگر وہاں سے بھی کوئی جواب نہ ملتا۔ کچھ دن بعد ایک غیر مطلوبہ نمبر سے ایڈورڈ کے موبائل پر کال آئی ، جیسیکا نے فون اٹھایا تو اس کے جیٹھ بول رہا تھا، اس کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی۔
“جیسیکا! انکل ڈیوڈ ، مارتھا آنٹی اور مارک اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔” وہ ہچکچاتے ہوئے بولا۔
جیسیکا کے ہاتھ سے موبائل گر گیا ، ہر چیز وہی تھم گئی، وہ الفاظ اس حال میں گونجنے لگے، کر چیز بے قابو سی ہوگئی ، ہوا میں چیخیں محسوس ہونے لگی جیسیکا کے ہونٹ بنچ گئے اس کی پلکوں پر نمی اتر آئی اچانک اس کے صبر کا بند ٹوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ دوسری جانب جیسیکا کے رونے کی صاف آواز جس رہی تھی موبائل سپیکر پر تھا۔
“ہائے مسیح ہائے! میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہونا تھا۔ ہائے پہلے ایڈورڈ مجھے چھوڑ کر چلا گیا اب ابا ، اماں اور مارک۔ ہائے مسیح میں یتیم ہو گئی میں لاوارث ہو گئی میری بچی یتیم ہوگئی۔ ہم کہاں جائیں گے۔” جیسیکا چیختے ہوئے مسیح سے شکوہ کر رہی تھی۔ دوسری طرف جیسیکا کے جیٹھ نے یہ الفاظ سنے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے وہ چیختے ہوئے بولا۔
“جیسیکا! تم کیا کہ رہی ہو!! ایڈورڈ کو کیا ہوا؟”
“مر گیا ایڈورڈ۔ مر گیا۔ کنگز کینسر کے باعث مر گیا، میں تمہیں فون کرتی رہی کرتی رہی لیکن تم نے نہیں اٹھایا ، اپنے بھائی کی آخری رسومات میں شامل نہیں ہو سکے۔ میں مارک کو بھی فون کرتی رہی مگر کیا معلوم تھا کہ جس کو میں ایڈورڈ کی موت کی خبر دینے لگی ہوں وہ خود سب یہاں نہیں ہے۔” جیسیکا روتے ہوئے کال پر بولی۔
دوسری طرف سے ایڈورڈ کے گھر والوں کے رونے پیٹنے کی آوازیں گونجنے لگیں اور ادھر سے جیسیکا کی۔ کال بند کرنے کا کسی کو یاد نہ رہا کہیں گھنٹے مسلسل فون نیچے پڑا رہا اور جیسیکا پاس بیٹھی روتی رہی۔
جیسیکا کے پاس اب واپس جانے کی بھی کوئی راہ نہ تھی کیونکہ کینسر اس کے شوہر کو کس گیا اور ماں ، باپ اور بھائی ایکسیڈنٹ میں نہ بچ سکے اور دنیائے فنا سے دار بقا جا پنچے۔ کچھ دن سوگ کے بعد جیسیکا اپنی عزتِ نفس کو مار کر اپنی بیٹی کے لئے سڑک پر بھیک مانگنے نکلی۔ اس کے باپ نے نہ اسے پڑھایا لکھوایا کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے کچھ کما سکے۔ جھولی میں آئرین اٹھائے جیسیکا روتی ہوئی سڑک کے کنارے بیٹھی بھیک مانگ رہی تھی کہ وہاں سے ایک آدمی گزرا اس نے اپنی جیب سے کچھ کھلے پیسے نکال کر جیسیکا کے جھولی میں ڈالے اور آگے چل پڑا، وہ کچھ قدم آگے بڑھا کہ پھر اچانک پیچھے مڑ کر جسیکا کو دیکھا اور حیرانی سے بولا۔
“تم جیسیکا ہو !؟ “
“جی ! “
جیسیکا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“ڈیوڈ کی وائف ؟”
“ہاں! “
“تم یہاں سڑک پر بھیک کیوں مانگ رہی ہو اور یہ بچی کس کی ہے اور ایڈورڈ کہاں ہیں ؟ “
“ایڈورڈ ، ایڈورڈ مر گیا ، آج سے نو دن پہلے ، یہ بچی میری اور ایڈورڈ کی ہے ، لیکن آپ کون ؟ “
“میں ایڈورڈ کا پرانا دوست “ناتھن” ، ہم یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے آپ کی شادی پر بھی آیا تھا لیکن شاید آپ کو ابھی یاد نہیں ، اور ایڈورڈ کی موت کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ “
“جو خداوند کی مرضی! “
جیسیکا آنکھوں میں آنسوں لئے بولی۔
“میں تو اس شہر میں کسی کام کے سلسلے سے آیا تھا ، اور ابھی بس اسٹیشن پر ہی جا رہا تھا واپسی کے لئے ، ابھی کچھ وقت پہلے ہی
میں لاہور شفٹ ہوا ہوں۔ آپ اٹھے میرے ساتھ چلیں۔ آپ میرے دوست کی بیوی ہیں اور یہ بیٹی اور میں آپ کو اس شہر میں اکیلا بے سہارا نہیں چھوڑ سکتا۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔ ” ناتھن یہ کہتے ہوئے آئرین کو اپنی گود میں اٹھا لیتا ہے اور اسے پیار کرنے لگتا ہے۔
جیسیکا کے پاس اور کوئی حل نہ تھا، کوئی اور آسرا نہ تھا سات گھنٹے بھیک مانگنے کے بعد بھی اس کے ہاتھ میں صرف نوے روپے تھے۔ اس لئے وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے ایڈورڈ کے دوست کے ساتھ چل پڑی اور لاہور آگئی۔ ایک نیا شہر ، نئے لوگ ، نہ کوئی جاننے والا اور نہ ہی اتنی عقل سمجھ ، سترہ سال کی جیسیکا اپنی تین ماہ کی بیٹی لئے ناتھن کی دہلیز پر آ بیٹھی۔ ناتھن نے اسے اپنے ہمسائے میں ایک اچھی جگہ ملازمہ کی نوکری دلوا دی۔ وہ لوگ بھی اچھے تھے، وہ ایک مسلم فیملی تھی جس نے جیسیکا اور آئرین کو بھی اپنے گھر کے سرونٹ کوارٹر میں پناہ دی۔ یہ ملازمت بھیک مانگنے سے تو لاکھ گنا اچھی تھی۔
✯✯✯⁠✯⁠✯⁠✯✯
“بیٹا تمہارے ماں ، باپ یا بہن بھائی وغیرہ نہیں ہیں ؟ اور یہ بچی تمہاری ہے؟ ہمیں کسی ہیلپر کی ضرورت تھی تو اسی لئے بغیر ڈیٹیلز لئے مسٹر ناتھن کے کہنے پر آپ کو نوکری پر رکھ لیا۔ ” جیسیکا کی مالکن “سلطانہ بیگم” نہایت نرمی سے جسیکا سے پوچھ رہی تھی۔
“میں آپ کو اپنی ساری کہانی سناتی ہوں اب میں نے آپ کے ہاں ہی کام کرنا ہے تو آپ کو کسی چیز سے بے خبر نہیں ہونا چاہیے ، میں کراچی کے چھوٹے سے علاقے تھی ، میں مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہوں اور میرا خاندان بھی مسیحی ہے،میرا میٹرک مکمل ہوا ، میں نے اپنے باپ کی بہت منتیں کی کہ مجھے پڑھنے دیا جائے لیکن انہوں نے مجھے نہیں پڑھایا میرا باپ میرے سے بچپن سے ہی بہت نفرت کرتا تھا وہ صرف میرے بڑے بھائی کو پیار کرتے اور میٹرک کے بعد زبردستی میری شادی اٹھائیس سالہ لڑکے سے کروا دی گئی ، وہ شادی کے دو ہفتے بعد ہی مجھے لے کر ملتان شفٹ ہو گیا، اس نے میرے گھر والوں سے یہ کہا تھا کہ دوسرے شہر میں اس کی اچھی نوکری لگ گئی ہے لیکن وہ بے روزگار تھا اور اس نے یہ بات سب سے چھپائی اور جھوٹ کہا ، شادی پر لوگوں کی طرف سے جو پیسے ملے اس سے اس نے فلیٹ کا ایڈوانس دیا ، فلیٹ بھی کیا ایک تنگ کمرا کچن اور اس کے بلکل ساتھ ہی واش روم اور سامنے چھوٹا سا برآمدہ۔ وہ بہت نشہ کرتا تھا اور جہاں بھی اس کی کوئی معمولی سی نوکری لگتی تو وہ ان پیسوں سے نشہ خرید لیتا اور جب اس کے مالک کو پتا چلتا کہ ایڈورڈ نشئی ہے تو وہ اسے کام سے نکال دیتا ، ایڈورڈ روز گھر آکر باہر کا غصہ مجھ پر نکالتا اور شادی کے چھ مہینے بعد اسے پتا چلا کہ میں پریگنینٹ ہوں پھر میری بیٹی پیدا ہونے تک اس نے میرا بہت خیال رکھا ، کچھ عرصہ کے لئے اس نے نشہ بھی چھوڑ دیا اور ایک ہی جگہ نوکری کی۔ پھر جب میری بیٹی پیدا ہوئی پھر اس کا وہی حال وہی غصہ کیونکہ اسے بیٹا چاہیے تھا ، بدقسمتی سے اسے بھی میرے باپ کی طرح بیٹی سے نفرت تھی ، اس نے ایک دن بھی ایک بار بھی اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا کر پیار نہیں کیا ، اس نے دوبارہ نشہ شروع کر دیا، اور زیادہ نشے کی وجہ سے آج سے اٹھارہ دن پہلے اس کی موت ہو گئی ، ایڈورڈ کی موت کے بعد میں نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر ان سے رابطہ نہیں ہو سکا پھر ایک ہفتے بعد ایڈورڈ کے بھائی نے میرے سے رابطہ کیا اور بتایا کہ میرے ماں، باپ اور بھائی کسی حادثے کا شکار ہو کر اس دنیا میں نہیں رہے۔ مجھ پر تو جیسے قیامغہی ٹوٹ پڑی پہلے شوہر اور پھر میکا اجڑ گیا۔ کچھ دن تو میں اپنے گھر میں بیٹی کو لے کر بھوکی سوگ مناتی رہی لیکن جب میرے سے بچی کی بھوک نہ دیکھی گئی تو میں سڑک پر بھیک مانگنے کے لئے نکلی، اور وہاں ہی راہ چلتے مجھے ایڈورڈ کے دوست نظر آئے اور وہ مجھے لاہور آپ کے پاس لے آئے ، اب میرا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ ” (جیسیکا نے روتے ہوئے مالکن کو اپنی ساری زندگی کی کہانی سنائی)
“بیٹا مت رو۔ اب تمہاری اور تمہاری بیٹی کی زمہ داری مجھ پر ہے۔ فکر نہ کرو ، اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ “
“اللّٰہ!! لیکن میں تو مسیحی ہوں۔ “
“چاہے تم جو بھی ہو ، کیونکہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے؛
ترجمہ: “اور زمین پر چلنے والا کوئی بھی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ کے ذمے نہ ہو۔ وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔ سب کچھ اس واضح کتاب میں درج ہے۔””
یہ سن کر جیسیکا خاموش ہو جاتی ہے جیسے اس کے پاس کوئی جواب نہ رہا ہو اور اس کے دل میں امید کی نئی کرن پھوٹی ہو!! جیسیکا بچپن سے ہی سکول میں اپنی مسلمان سہیلیوں سے اسلام کا سنتی تو اسے اسلام جاننے اور دین پڑھنے کے لئے بہت تجسس ہوتا مگر وہ مسیحی برادری سے تھی تو کبھی ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
✯✯✯⁠✯⁠✯⁠✯✯
دو سال بعد
صبح کے سات بج رہے تھے ، چڑیاں چہچہا رہی تھیں جیسیکا اپنی بچی کے لئے دودھ لینے کے لئے اٹھی اور کچن کی طرف بڑھی ، اس کے کانوں میں تلاوت کی آواز آنے لگی جیسے جیسے جیسیکا ہال کی طرف بڑھ رہی تھی یہ آواز مزید اونچی ہوتی جا رہی تھی پھر اس نے غور کیا کہ یہ آواز تو اس کی مالکن کے کمرے سے آ رہی تھی ، جیسیکا کو اس آواز کی سُر بہت اچھی لگ رہی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ سلطانہ پڑھ کیا رہی ہے پھر اس کے کانوں میں یہ آواز آئی۔
“ترجمہ: “کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟
اور تم سے تمہارا بوجھ اتار دیا؟
پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔”
یہ سنتے ہی جیسیکا کے جسم کو کرنٹ سا لگتا ہے۔ وہ سلطانہ کے کمرے کر دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔
“کون؟”
“میم ! جیسیکا۔”
“آجاؤ۔ “
جیسیکا اندر جاتی ہے تو سلطانہ قرآن پاک کا غلاف چڑھا کر رکھ رہی ہوتی ہے۔
“معذرت آپ کو تکلیف دی۔ “
“کوئی بات نہیں۔ خیریت! اتنی صبح کوئی کام ؟ “
“میم وہ آپ کیا پڑھ رہی تھیں؟ “
“میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھی۔” (سلطانہ بیگم مسکراتے ہوئے بولی)
جیسیکا کسی سوچ میں گم ہو گئی ، شاید رب اسے اپنی طرف بلا رہا تھا پھر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔
“بیگم صاحبہ کیا میں مسلمان ہو سکتی ہوں؟ “
“کیا؟ ماشاءاللہ! ” سلطانہ حیرانی سے بولی۔
“جی۔ میں جب سے یہاں آئی ہوں تو اسلام کے بارے میں ریسرچ کر رہی تھی اسلام کو پڑھ رہی تھی لیکن میرے لیے یہ فیصلہ لینا تھوڑا سا مشکل تھا اور مجھے ہدایت کی طرف لوٹتے ہوئے شاید تھوڑی دیر ہو گئی مگر آج قرآن کا ترجمہ سن کر دل ہل گیا ہے۔ “
“ماشاءاللہ تبارک اللہ! جاؤ بیٹا جلدی سے غسل کر کے آؤ ، پھر کلمہ پڑھاتی ہوں۔ “
سلطانہ کے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی، وہ جلدی سے نیا سوٹ نکال کر جیسیکا کو دیتی ہے اور اپنے بچوں کو آواز لگا کر بلاتی ہے۔
‘ابو ہریرہ ‘بیٹا جاؤ جلدی سے مٹھائی اور پھول لے کر آؤ”، اور پھر اپنی دوشیزہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولی، “‘ام ہریرہ’ تم جلدی سے باقی ہیلپرز سے کہو کہ محلے میں جا کر قرآن خوانی کی دعوت دیں اور گھر میں انتظام کریں۔”
اسلام کو ریسرچ کرنے کے بعد اور پڑھنے کے بعد جیسیکا نے یہ فیصلہ کیا اور مسلمان ہو گئی ، اللّٰہ نے اسے ایمان کی روشنی سے نوازا اسے اصل نور عطا کیا جیسیکا اب جیسیکا نہیں رہی تھی بلکہ وہ اب “فاطمہ” بن گئی تھی اور آئرین “عائشہ”۔ یہاں سے فاطمہ کی نئی زندگی کا آغاز ہوا ، اس کا اپنے رب کی طرف نیا سفر شروع ہوا۔ رب سے جڑنے کا سفر۔
چھ ماہ بعد
فاطمہ بیس سال کی ہو گئی تھی۔ سلطانہ نے کچھ ماہ بعد فاطمہ کی شادی اپنے بائیس سالہ بھانجے “علی” سے کروا دی مگر اس بار ایک چیز مختلف تھی اس بار شادی فاطمہ کی مرضی اور پسند کے ساتھ کی گئی تھی۔ علی فاطمہ سے بہت محبت کرنے لگا اسے بہت چاہنے لگا، اس کا رب کی طرف بڑھتا یقین دیکھ کر علی نے اسے چنا تھا۔ علی کو فاطمہ کی بیٹی سے کوئی مسلہ نہ تھا اس نےعائشہ کو اپنی سگی بیٹی کی طرح پالا ، جس باپ کے پیار کو فاطمہ ساری زندگی ترستی رہی وہ اسے اس کے سسر “محمود” نے دیا اور باپ کی شفقت کیا ہوتی ہے یہ فاطمہ کو اس وقت پتا چلا ، اور اب جب وہ اپنی سگی ماں کے پیار سے محروم تھی تو اسے ماں کے روپ میں “مرجان” جیسی ساس ملی۔
علی نے فاطمہ کا داخلہ کروایا اور اس پڑھایا ، فاطمہ نے LLB کی ڈگری کی اور اپنی خود کی ایک NGO کھولی ان تمام بے سہارا اور مظلوم عورتوں کے لئے اور بچیوں کے لئے جو اپنے ہی گھر والوں کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں ، جن کی کم عمر میں شادی کروا کر ان پر بچوں کی زمہ داری ڈال دی جاتی ہے اور گھر داری کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے فاطمہ کا صرف ایک ہی خواب تھا کہ ہر لڑکی خود مختار بنیں کسی کے آسرے نہ بیٹھے اور اس نے سب سے پہلے یہ کام اپنی بیٹی سے شروع کیا اس نے اپنی بیٹی کو اپنے زورِ بازو پر ہر کام کرنا سکھایا، اپنی بیٹی کو دنیا سے مقابلہ کرنا سکھایا، اپنی بیٹی کو مضبوط بنایا کہ کل کو اسے کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسے خودمختار بنایا۔ ہر ماں باپ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خودمختار بنائیں اور انہیں اس ظالم دنیا سے سامنا کرنا سکھائیں۔ ہر فرد کو لازم ہے کہ وہ خود انحصاری اختیار کرے اور کسی کے سہارے اپنی زندگی کو نہ چلائے۔ اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کریں اور خود کو خود مختار بنائیں۔ خود مختار انسان اپنی راہ خود بناتا ہے اور حالات کا محتاج نہیں ہوتا۔ خودمختاری انسان کو باوقار بناتی ہے اور اسے دوسروں پر انحصار سے آزاد کرتی ہے۔

ختم شد

Instagram: _hamad.ali_
TikTok: _hamad.ali_

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *