بشر ( از قلم صدیقی)
قسط نمبر ۱۰
ہیوک تیزی سے چلتا ہوا آخرکار اُس کیفے کے سامنے پہنچ گیا…
راستے بھر اُس کے ذہن میں ایک ہی خیال چل رہا تھا۔
اگر وہ نہ آئی تو…؟
آخر اُس نے اُس سے صرف ایک بار ملاقات کی تھی…
اور کل بھی وہ بات مکمل کیے بغیر چلا گیا تھا۔
ممکن تھا ماہم نے اُس کی بات کو سنجیدگی سے ہی نہ لیا ہو۔
ممکن تھا وہ اُسے عجیب سمجھ کر دوبارہ آنے کا ارادہ ہی نہ رکھتی ہو۔
مگر جیسے ہی اُس نے کیفے کے شیشے والے دروازے کے اندر نظر ڈالی…
اُس کے قدم بےاختیار سست پڑ گئے۔
وہ آ گئی تھی۔
کھڑکی کے قریب والی میز پر بیٹھی ہوئی۔
آج اُس نے پچھلے دن والا عبایا نہیں پہنا تھا۔
عبایا نیا تھا… رنگ بھی مختلف تھا…
مگر پھر بھی ہیوک نے اُسے ایک ہی نظر میں پہچان لیا۔
شاید اُس کی وجہ وہ معصومیت والا انداز تھا… یا پھر وہ چھوٹی چھوٹی محتاط حرکتیں… جو صرف ماہم کی تھیں۔
اور عجیب بات یہ تھی…
ماہم بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اور پلٹ پر رکھے ٹشو سے فلاور بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
یہ دیکھتے ہی ہیوک کے دل میں عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ اچانک اُسے واقعی برا لگا۔
وہ کافی دیر سے وہاں بیٹھی تھی۔
اور وہ خود وقت پر نہیں پہنچ سکا تھا۔
ہیوک نے فوراً قدم تیز کر دیے۔
چند ہی لمحوں بعد وہ اُس کی میز کے قریب پہنچ گیا۔
سوری… سوری…
وہ جلدی جلدی بولتے ہوئے اُس کی طرف اپنے ٹریڈتیشل انداز میں ذرا سا جھک گیا۔
ماہم فوراً چونک کر کھڑی ہوگئی۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ…؟
ہیوک نے شرمندگی سے گردن کھجائی۔
میں واقعی معذرت چاہتا ہوں… میں نے تمہیں انتظار کروایا…
پھر فوراً پوچھا، بہت دیر ہوگئی کیا…؟
ماہم نے ہلکے سے سر ہلایا۔
نہیں… اِٹس اوکے…
پھر اُس نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
آپ بیٹھ جائیں۔
ہیوک نے سکون کا سانس لیا اور فوراً بیٹھ گیا۔
چند لمحوں کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔
ماہم کی نظریں اُس پر تھیں۔
جبکہ ہیوک جیسے اپنے الفاظ ترتیب دے رہا تھا۔
آخرکار ماہم نے ہی خاموشی توڑی۔
اب بتائیے…
کیا بتانا چاہتے تھے آپ…؟
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اُس نے نظریں میز پر جھکا دیں۔
جیسے ماضی کی کسی بہت دور کی یاد کو دیکھ رہا ہو۔
تمہیں شروع سے میری کہانی سننی پڑے گی…
جب میں چھوٹا تھا… تب سے ہی خدا پر یقین رکھتا تھا میں، میری فیملی بھی خدا کے وجود پر یقین رکھتی تھی،
میری ماں اُن لوگوں میں سے تھی جو خدا کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
وہ اکثر کہا کرتی تھیں،
خدا سے باتیں کیا کرو… وہ سنتا ہے۔ ہماری دعائیں قبول کرتا ہے۔
شروع میں ہماری زندگی کافی اچھی تھی۔
ہمارے گھر میں صرف چار لوگ تھے… میری ماں، میرے ابو، میری بڑی بہن اور میں۔
چھوٹی سی فیملی تھی ہماری…
مگر پھر میرے ابو کا انتقال ہوگیا۔
اور اُن کی وفات کے ساتھ ہی سب کچھ بدل گیا۔
گھر کے تمام اخراجات کا بوجھ میری ماں کے کندھوں پر آ گیا۔
میں اور میری بڑی بہن… دونوں کی ذمہ داری اب صرف اُن کے اوپر تھی۔
وہ بہت مشکل سے ہمارا خرچ اٹھاتی تھیں۔
میں نے اپنی ماں کو بےشمار راتیں روتے ہوئے دیکھا تھا…۔خدا سے دعائیں مانگتے ہوئے…۔اور زندگی کی نہ جانے کتنی تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے۔
وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں، اسی لیے اُن کے پاس کوئی اچھی ملازمت بھی نہیں تھی۔
پھر بھی وہ کسی نہ کسی طرح ہمارا گزارا کر رہی تھیں۔
کھانا پینا…۔کپڑے…۔گھر کے اخراجات…۔اور میری بہن کی تعلیم… سب کچھ۔
میں اسکول نہیں جاتا تھا۔
میری تعلیم پر کوئی خرچ نہیں آتا تھا۔
کیونکہ میری ماں کی محدود تنخواہ میں دو بچوں کی پڑھائی کا خرچ اُٹھانا ممکن نہیں تھا۔
آخرکار اُنہوں نے ایک فیصلہ کیا۔
وہ میری بہن کو پڑھائیں گی۔
کیونکہ میں پڑھائی میں بہت کمزور تھا۔
مجھے کتابوں سے کبھی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی۔
جبکہ میری بہن ہمیشہ اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتی تھی۔
اسی لیے میری ماں کا ماننا تھا کہ اگر میری بہن اچھی تعلیم حاصل کر لے گی…
تو ایک دن ہماری زندگی بدل جائے گی۔
اور سچ کہوں…
اُس وقت مجھے بھی اُن کا یہ فیصلہ بالکل درست لگتا تھا۔ کیوں کہ میں خود بھی پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
تو آپ اپنی ماں کے کہنے پر خود کے وجود پر یقین رکھتے ہیں ؟؟ ماہم اُس کی پوری بات سن کر بولی۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔۔ کِسی کے کہنے پر کوئی کہاں یقین کرتا ہے ؟ جب تک خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے یا محسوس نہ کر لے۔۔۔
ہیوک مزید آگے بولا۔۔۔
ہمارے گھر سے تھوڑی دور ایک لڑکا رہتا تھا، جنگ سوک۔ میری ہی عمر کا تھا۔ لوگ اسے پاگل کہتے تھے۔ سب اس سے دور بھاگتے تھے۔ ہمارے آس پاس کے سبھی لوگ اُس سے تنگ تھے، میرے دوست اُسے بہت تنگ کرتے ہیں اُسے پتھر مارتے اُسے پاگل سوک پاگل سوک بولتے تھے۔۔۔
میں بھی اس سے تنگ تھا… مگر زیادہ اس لیے… کہ اماں اسے روز اپنے گھر کھانا کھلاتی تھیں… اور ہمارے پاس خود گزارہ مشکل تھا… روز روز اسے گھر گھسا لینا… مجھے اچھا نہیں لگتا تھا…
ایسا نہیں تھا کہ میں پتھر دل تھا… مگر وہ پاگل جنگ سوک مجھے بالکل پسند نہیں تھا… اوپر سے محلے کا کوئی بھی اسے پسند نہیں کرتا تھا… اوپر سے میری اماں روز اسے کھانے کھلانے کے بعد ایک وون بھی دے دیتی تھیں…
اس بات پر مجھے اور غصہ آتا تھا… میری ماں سے اس بات پر میری بہت بحث ہوتی تھی، ورنہ ہر فیصلہ پر میں میری ماں کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ لیکن یہاں ہماری بہت لڑائی ہوتی تھی وہ میری سنتی ہی نہیں تھی، اُنہیں اُس پاگل سوک میں پتہ نہیں کیا نظر آتا تھا۔۔۔
ماہم خاموشی سے سنتی رہی…
پھر ایک دن ایسا ہوا…
ہیوک رکا… جیسے الفاظ کہیں اندر سے نکال کر لا رہا ہو…
اماں کی نوکری چلی گئی… جو روزانہ کا کھانا اور پہننے کے کپڑے ملتے تھے… وہ سب بند ہو گئے… کچھ ہی دنوں میں حال بہت خراب ہو گئی… اماں باہر نئی نوکری ڈھونڈتی پھرتی تھیں… اُنہیں کوئی اچھی نوکری نہیں مل رہی تھی۔۔۔ مگر جنگ سوک کو وہ کھانا دیتی رہیں…
وہ پھر رکا…
پھر ایک دن ایسا آیا کہ… گھر میں کھانے کو کچھ نہیں بچا… کچھ بھی نہیں…
ہیوک کی آواز میں بہت بےبسی تھی۔۔۔ جیسے وہ دوبارہ اپنے بچپن میں پہنچ گیا ہو۔۔۔
اماں رو رہی تھیں… پاگلوں کی طرح اپنے بال نوچ رہی تھیں… میرے سامنے خود کو قصوروار ٹھہرا رہی تھیں… اور میں کچھ نہیں کر پا رہا تھا… بالکل بے بس تھا…
اس سب میں بھی وہ ایک ہی بات کہہ رہی تھیں… مانگو… دعا کرو… خدا سے اس وقت صرف وہی ہماری مدد کر سکتا ہے، خداوند مدد کرے گا…
ہیوک کے لب پر کچھ آیا، ہنسی نہیں، درد نہیں… کچھ اور…
اس دن پہلی بار میں نے دعا مانگی تھی… کہ اگر کوئی خدا واقعی ہے… کوئی ہے تو… وہ ہماری مدد کرے…
اور پھر۔۔۔؟؟ ماہم فوراََ بولی
پھر کچھ ہی دیر بعد دروازے کی گھنٹی بجی…
دروازے پر اور کوئی بھی وہی جنگ سوک ہی تھا… وہ روز اسی وقت آتا تھا…
گھنٹی بجتے ہی میری ماں اور رونے لگیں… کہ میرے پاس اسے دینے کو کچھ نہیں ہے… میں اسے کیا دوں گی… وہ بھوکا ہے، میرے پاس اُس کو دینے کو کُچھ نہیں ہے۔۔۔
ہیوک کی مٹھی بھنچی…
مجھے اور غصہ آیا… میں جلدی سے اُٹھا دروازہ کھولا اور اس پر چیخا، بہت تیز، بہت غصے سے…
خدا کا واسطہ ہے… ہماری زندگیوں سے نکل جاؤ… دفع ہو جاؤ… بہت دور چلے جاؤ… اپنی شکل مت دکھانا یہاں… وواپس مت آنا…
میں نے اُس کا کالر پکڑ کر بہت غصے سے اُسے جھڑکا تھا،
اور جنگ سوک…
ہیوک رکا…
وہ بہت شانت تھا… بہت زیادہ شانت… اس نے مجھے کچھ نہیں کہا کُچھ بھی نہیں بس ٹھنڈی نظر مجھ پر ڈالی… اور اندر کی طرف بڑھ گیا…
میں نے پیچھے سے اس کی شرٹ پکڑ کر کھینچا… مگر وہ آسانی سے نکل گیا… میں بہت کمزور تھا… بھوک سے چور تھا میں اُسے اُس وقت روک نہیں پایا۔۔
وہ پھر میری ماں کے پاس پہنچ گیا… اور ایک پوٹلی ان کے ہاتھوں میں رکھ دی…
بولا۔۔ یہ آپ کے لیے ہے… یہ آپ کا ہی ہے…
میں حیرانی سے دیکھتا رہا…
میری ماں بولیں، یہ… یہ اتنے پیسے تمہارے پاس؟ کہاں سے آئے؟ میری ماں نے جب پوٹلی کھولی تو اُس میں بہت سارے وون تھے،
اس نے کہا، یہ آپ کا ہی دیا ہوا روز کا ایک ایک وون ہے… مجھے اسے استعمال کرنے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی… تو واپس کر رہا ہوں…
اماں پھر رونے لگیں… اور جنگ سوک کو لپٹا لیا…
ہیوک کچھ دیر خاموش رہا…
اس لمحے مجھے عجیب سی حالت ہو گئی… وہ بہت سارے وون تھے… اماں نے اُس وون سے باہر سے کھانا منگوایا… اور ہم سب نے مل کر کھایا… جنگ سوک بھی ڈیننگ ٹیبل پر ہمارے ساتھ بیٹھا تھا…
اور پہلی بار… وہ مجھے برا نہیں لگ رہا تھا… نہ جانے کیوں… اس سے کچھ پیار آ رہا تھا… وہ چاہتا تو انہی پیسوں سے کہیں مہینوں گزارہ کر سکتا تھا… مگر اس نے سب واپس دے دیا… اور بدلے میں کیا مانگا؟
ہیوک کی آواز دھیمی ہو گئی،
نہ جانے کیوں، میں نے اس سے پوچھ لیا…
کہ یہ سارے وون تم نے ہمیں کیوں واپس کر دیے؟ انہی سے تم کہیں مہینوں آرام سے کھانا کھا سکتے تھے… کسی سے مانگنا نہیں پڑتا تمہیں…
تو اس نے پھر وہی ٹھنڈی نظروں سے مجھے دیکھا…
ہیوک چپ ہو گیا…
ماہم نے پوچھا نہیں… بس انتظار کرتی رہی…
تو اس نے مجھ سے کہا،
کھانا تو مل جاتا… مگر اس پیار کے ساتھ پروسا ہوا نہیں ملتا…
میں اسے دیکھتا رہ گیا… کچھ بول ہی نہیں سکا…
میرے پاس کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔
پہلی بار مجھے احساس ہوا تھا کہ شاید میں اُسے ہمیشہ غلط سمجھتا رہا تھا۔
اور نہ جانے کیوں…
اُس لمحے اپنے رویّے پر مجھے شدید شرمندگی محسوس ہوئی۔
مجھے یاد آنے لگا کہ میں نے کتنی بار اُسے دھتکارا تھا…
کتنی بار اُس کے بارے میں بُرا سوچا تھا…
اور کتنی بار صرف اِس لیے اُس سے نفرت کی تھی کہ وہ دوسروں سے مختلف تھا۔
جبکہ وہ…
وہ تو اُن سب لوگوں سے کہیں بہتر نکلا تھا جنہیں میں سمجھدار سمجھتا تھا۔
وہ پاگل نہیں تھا…
اُسے بس محبت چاہیے تھی۔
لوگوں کی توجہ چاہیے تھی…
کسی کا نرم لہجہ… کسی کی مسکراہٹ… کسی کا اپنے پاس بٹھا لینا…
بس اتنا ہی۔
وہ پاگلوں کی طرح گلیوں میں نہیں بھٹکتا تھا…
وہ تو محبت کی تلاش میں بھٹکتا تھا۔
وہ ہر اُس دروازے پر جاتا تھا جہاں اُسے امید ہوتی تھی کہ شاید آج کوئی اُسے دھتکارنے کے بجائے اپنا لے گا۔
مگر لوگ اُسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے تھے۔
کوئی اُسے پاگل کہتا…۔کوئی اُس پر ہنستا…کوئی اُسے اپنے قریب آنے نہیں دیتا تھا۔
اور وہ… ہر بار خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا تھا۔
پھر بھی اگلے دن دوبارہ لوگوں کے درمیان آ جاتا تھا۔
شاید اِس امید میں…
کہ آج کوئی اُس سے اچھے انداز میں بات کرے گا۔
آج کوئی اُسے اپنے ساتھ بٹھائے گا۔
آج کوئی اُسے یہ احساس دلائے گا کہ وہ بھی باقی انسانوں جیسا ہی ہے۔
اور آخرکار…
وہ محبت اُسے کہاں ملی؟
میرے گھر میں۔ میری ماں کے پاس۔
وہ روز ہمارے گھر صرف کھانا کھانے نہیں آتا تھا…
وہ اُس محبت کے لیے آتا تھا جو میری ماں اُسے دیتی تھیں۔
اُس احترام کے لیے… اُس شفقت کے لیے… اُس اپنائیت کے لیے…
جو پوری دنیا نے اُس سے چھین لی تھی۔
شاید اسی لیے اُس نے سالوں تک وہ ایک ایک وون سنبھال کر رکھا تھا۔
کیونکہ اُس کے لیے وہ صرف پیسے نہیں تھے…
وہ میری ماں کی محبت کی نشانی تھے۔
اور اُس دن…
مجھے پہلی بار سمجھ آیا تھا کہ بھوکا جُنگ سُک نہیں تھا۔
بھوکا تو اُس کا دل تھا… جو صرف محبت کی ایک روٹی مانگ رہا تھا۔۔۔
پھر ماہم بولی۔۔۔ تو اُس کی فیملی نہیں تھی۔۔؟؟
نہیں ایک ایکسڈنٹ کی وجہ سے اس کے گھر میں آگ لگ گئی تھی، اور سب جل کے مر گئے تھے، اُس کے بہن بھائی اور ماں باپ وہ اسی وجہ سے بچ گیا تھا کیوں کہ وہ گھر سے باہر تھا اور تب سے اس کا دِماغ وہ حادثہ برداشت نہیں کر پارہا تھا، اُس کے گھر سے اُس کی چیخنے چلانے کی آوازیں آتی تھی، تبھی لوگ اُسے پاگل کہتے تھے، مُجھے یہ سب میری ماں نے بتایا، پہلے وہ اِدھر ہمارے گلی میں نہیں رہتا تھا، کہیں اور رہتا تھا، اُس ایکسڈنٹ کے بعد یہاں آیا تھا،
تو وہ اکیلا رہتا تھا گھر میں۔۔۔ ماہم پھر بولی
ہاں۔۔ صبح وہ کہیں اپنے رشتے دار کے پاس کام کرنے جاتا تھا اور رات میں آکر اپنے گھر میں سوتا تھا۔۔۔
پھر آپکی اُس سے دوستی ہوگئی۔۔۔؟؟ ماہم بولی
ہیوک نے خاموشی سے سر ہلایا, مِگر نفی میں…
اُس دن کے بعد سے وہ ہمارے گھر کبھی نہیں آیا…
وہ یہاں سے چلا گیا تھا… پتا نہیں کہاں…
ہیوک کی آواز میں کچھ ایسا تھا جو الفاظ میں نہیں آتا…
میں نے اسے بہت ڈھونڈا… بہت زیادہ… اُس کے رشتے دار کے گھر بھی گیا… مگر وہ وہاں بھی نہیں تھا… کوئی بتا نہیں سکا کہ وہ کہاں گیا…
وہ رکا۔۔
نہ جانے وہ کہاں غائب ہو گیا…
خاموشی…
مجھے بہت رونا آیا تھا اُس وقت… شاید پہلی بار کسی کے جانے پر اتنا رویا تھا میں…
ہیوک نے ہلکے سے سانس لی۔۔۔
ابھی بھی ڈھونڈتا ہوں اسے… ابھی بھی دعا کرتا ہوں کہ جہاں بھی ہو… ٹھیک ہو… کوئی ہو اُس کے پاس… کوئی اسے اکیلا نہ چھوڑے…
اُس کی آنکھیں کہیں دور تھیں،
وہ پوری زندگی اکیلا رہا… میں چاہتا تھا کہ کم از کم آخر میں اکیلا نہ رہے… مگر میں اُس کے لیے کچھ نہیں کر پایا…
ماہم کچھ نہیں بولی۔ بس سنتی رہی۔
اُس دن کے بعد میں بہت بدل گیا تھا۔
میں نہیں جانتا تھا کہ جُنگ سُوک واقعی پاگل تھا یا دنیا اُسے سمجھنے سے قاصر تھی…
مگر ایک بات میں ضرور جان گیا تھا۔
وہ انسانوں میں محبت ڈھونڈ رہا تھا…
اور شاید خدا بھی یہی چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے محبت اور آسانی کا سبب بنیں۔
اُس دن کے بعد میں نے لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔
جو بھوکا ہوتا اُسے کھانا کھلا دیتا…
جو پریشان ہوتا اُس کی بات سن لیتا…
جو اکیلا ہوتا اُس کے پاس بیٹھ جاتا…
میں ہر اُس شخص کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرنے کی کوشش کرتا تھا جیسا میری ماں جُنگ سُوک کے ساتھ کرتی تھیں۔
کیونکہ نہ جانے کیوں…
میرے دل میں ایک عجیب سی امید پیدا ہوگئی تھی۔
ایسی امید جو سالوں گزرنے کے باوجود کبھی ختم نہیں ہوئی۔
مجھے لگتا تھا…
شاید خدا کو میرا کوئی انداز پسند آ جائے۔
شاید میری کوئی نیکی… کوئی چھوٹی سی مہربانی…
کوئی بےغرض مدد… اُسے اچھی لگ جائے۔
اور پھر…
وہ مجھے دوبارہ جُنگ سُوک سے ملا دے۔
میں نے بہت ڈھونڈا اُسے۔
بہت۔ مگر وہ کہیں نہیں ملا۔
ایسا لگا جیسے وہ اچانک اِس دنیا سے غائب ہوگیا ہو۔
لیکن آج بھی… جب میں کسی کی مدد کرتا ہوں…
جب کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے…
یا جب کوئی دل سے شکریہ کہتا ہے…
تو ایک لمحے کے لیے مجھے جُنگ سُوک یاد آ جاتا ہے۔
اور میں دل ہی دل میں سوچتا ہوں…
شاید خدا مجھے ابھی آزما رہا ہے۔
شاید وہ دیکھ رہا ہے کہ میں لوگوں سے محبت صرف بدلے کی اُمید میں کرتا ہوں…
یا واقعی اُن کے لیے۔ اور شاید… کسی دن… کسی موڑ پر… کسی اجنبی چہرے میں…
مجھے جُنگ سُوک دوبارہ مل جائے۔
ماہم خاموشی سے بیٹھی رہی۔۔۔
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
اُس کی نظریں سامنے دور کہیں جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ الفاظ چُن رہا ہو۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا، اور اِس سب میں… میں ایک اور چیز بھی ڈھونڈ رہا ہوں۔
ماہم نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔
کیا؟
ہیوک نے ہلکی سی سانس خارج کی۔
خدا کو…
ماہم چونکی نہیں، بس خاموشی سے سنتی رہی۔
اُس ایک خدا کو… جس نے مجھے پیدا کیا… جس نے جنگ سُوک کو پیدا کیا… جس نے میری ماں کو پیدا کیا… اور جو میری ہر دعا سنتا ہے۔
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر ماہم نے آہستہ سے پوچھا،
تو پھر آپ اُس خدا کو کیوں نہیں مانتے… جسے آپ کی ماں مانتی ہیں؟
ہیوک کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
میں مانتا ہوں…
ماہم کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
پھر؟
ہیوک نے اپنی نظریں آسمان کی طرف اُٹھائیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے خدا ایک ہے۔
ماہم خاموش رہی۔
ہیوک نے بات جاری رکھی۔
میں اب بھی چرچ جاتا ہوں… کبھی کبھی گھنٹوں وہاں بیٹھا رہتا ہوں۔
اُس کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی۔
ایک دن میں نے پادری سے کہا کہ میں خدا سے دعا مانگنا چاہتا ہوں…
تو؟
تو اُنہوں نے کہا… یسوعؑ سے مانگو۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
میں نے اُن سے پوچھا… اگر یسوعؑ کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے… تو پھر میں سیدھا خدا سے کیوں نہ مانگوں؟
ماہم خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔
میں نے کہا… اگر خدا سب کچھ سنتا ہے… اگر وہ میرے دل کی بات جانتا ہے… تو کیا اُسے میری آواز سننے کے لیے کسی اور کی ضرورت ہے؟
پھر وہ کہنے لگے… یسوع خدا کا بیٹا نہیں… یسوع خود خدا ہے… تثلیث…
وہ رکا،
یعنی باپ بھی خدا… بیٹا بھی خدا… اور روح القدس بھی خدا… مگر یہ تینوں مل کر ایک خدا ہیں…
ہیوک کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی۔۔
میں نے بہت کوشش کی یہ سمجھنے کی… بہت بار سمجھایا گیا مجھے… مگر جتنا سمجھنے کی کوشش کرتا… اتنا اور الجھتا جاتا…
میرے ذہن میں بس ایک ہی سوال گھومتا رہتا تھا… کہ جو خدا ہر چیز بنا سکتا ہے… جو اتنا طاقتور ہے… اسے بیٹے کی کیا ضرورت…؟
ہیوک نے ماہم کو دیکھا
اور اگر یسوع خود خدا ہی تھا… تو اس نے صلیب پر چڑھتے وقت کہا کیوں کہ اے میرے خدا… تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا…؟
وہ آگے بولا۔۔۔
خدا… خدا کو چھوڑتا ہے…؟ خدا… خدا سے مدد مانگتا ہے…؟
ہیوک کے لہجے میں الزام نہیں تھا… بس ایک گہرا سوال تھا۔۔
یہ بات میرے دل میں کبھی نہیں اتری… کبھی نہیں…
ماہم خاموش بیٹھی رہی۔
ہیوک نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
اسی لیے کہتا ہوں… میں خدا کو مانتا ہوں… مگر ابھی تک اُسے پوری طرح ڈھونڈ نہیں پایا… کیوں کہ خدا ایک ہے جس نے مجھے پیدا کیا تمہیں پیدا کیا ہم سب کو پیدا کیا،
اسی لیے میں کسی کے خدا کے پاس نہیں جاتا، اپنے خدا سے مانتا ہوں، مجھے جنگ سوک کے حادثے کے بعد خود پر یقین آیا،
ماہم نے ہلکے سے پوچھا…
لیکن آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں…؟ آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں…؟
ہیوک نے سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا..
کیونکہ میں چاہتا ہوں… تم اپنے خدا کے بارے میں مجھے بتاؤ… جس سے تم دعا مانگتی ہو…
ماہم کچھ دیر خاموش رہی..
لیکن میں ہی کیوں…؟ آپ یہ بات کسی اور سے بھی پوچھ سکتے ہیں… مسجد میں کسی امام سے ملیں… وہ مجھ سے بہتر بتا سکتے ہیں…
ہیوک نے ہلکے سے سر ہلایا..
نہیں… میں جب بھی کسی مذہب کے پادری کے پاس جاتا ہوں… مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہے ہیں… سمجھانے سے زیادہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بس زیادہ سوال مت کرو اور آ جاؤ… اور اس سے میں اور الجھ جاتا ہوں…
ماہم نے پھر کہا..
تو میں ہی کیوں…؟ یہاں اتنے لوگ ہیں… آپ کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں… یہ سب بھی اُسی خدا کو مانتے ہیں جسے میں مانتی ہوں…
ہیوک چند لمحے خاموش رہا…
پھر بولا… ہاں… مانتا ہوں…
وہ رکا.. لیکن یہاں کوئی بھی مجھے بتائے… وہ مجھے اُس بارے میں سوچنے پر مجبور نہیں کرے گا… اُسے ڈھونڈنے پر مجبور نہیں کرے گا… جتنا تم کر سکتی ہو…
ماہم کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
مطلب…؟ میں کیسے۔۔؟؟
ہیوک نے اپنے ہاتھ میز پر رکھے..
مطلب… وہ سوچتے ہوئے بولا۔۔
اگر آپ کسی کو کسی بات پر متاثر کرنا چاہتے ہیں… تو پہلے آپ کے اندر وہ بات ہونی چاہیے… ورنہ کوئی متاثر نہیں ہوتا…
اُس کی آواز سنجیدہ تھی۔۔۔
جیسے کوئی رحم دلی کا درس دے… مگر خود اُس کے اندر وہ رحم دلی ہو ہی نہیں… تو کوئی بھی اُس کی بات نہیں مانے گا…
وہ چند لمحے رُکا، پھر ہلکا سا مسکرایا۔
جیسے میری ماں۔
ماہم کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
میری ماں ہمیشہ کہتی تھی کہ خدا سے مانگو… وہ سنتا ہے۔ اگر یہی بات کوئی عام آدمی مجھے کہتا تو شاید میں کبھی یقین نہ کرتا۔
اُس کی آواز دھیمی ہوگئی۔
لیکن میں نے اپنی ماں کو دیکھا تھا… راتوں کو روتے ہوئے… دعا کرتے ہوئے… پھر اُن دعاؤں کو پورا ہوتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ وہ ہر مشکل میں پہلے خدا کو پکارتیں… اور پھر کہیں نہ کہیں سے راستہ نکل آتا۔
ماہم خاموش بیٹھی رہی۔
اسی لیے میں نے اُن کی بات مانی۔ صرف اُن کے لفظوں کی وجہ سے نہیں… بلکہ اُن کی زندگی کی وجہ سے۔..
ماہم چند لمحے خاموش رہی، جیسے اُس کے الفاظ کو پرکھ رہی ہو۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا،
اچھا… تو پھر میں جو آپ سے کہوں گی، وہ آپ مان لیں گے؟
نہیں۔ ہیوک نے فوراً جواب دیا۔ مانوں گا نہیں۔
پھر اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
لیکن اُس کے بارے میں سوچوں گا ضرور۔
وہ چند لمحے رُکا، پھر بولا،
میں نے ایک بدھ راہب سے بھی بات کی تھی۔
ماہم نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
واقعی؟
ہاں۔ ہیوک نے سر ہلایا۔ کافی دیر تک۔
میں نے سوچا تھا شاید اُس کے پاس میرے سوالوں کے جواب ہوں۔ شاید وہ مجھے قائل کر لے کہ اُس کا راستہ ہی سچ ہے۔
پھر؟۔ماہم بےاختیار پوچھ بیٹھی۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
پھر کچھ نہیں۔
وہ بہت اچھا آدمی تھا۔پُرسکون بھی۔ دانشمند بھی۔
لیکن… اُس نے نگاہیں جھکا لیں۔ میرے دل نے اُس کی بات قبول نہیں کی۔
ماہم خاموشی سے سنتی رہی۔
اُس نے مجھے مزید الجھا دیا۔۔۔ اور مُجھے سمجھ آیا جس خدا کو وہ مانتے ہیں وہ خدا بھی سچا نہیں ہے۔۔۔
ماہم چند لمحے خاموش رہی۔
نظریں میز پر تھیں۔
جیسے کوئی بات کہنے سے پہلے خود سے اجازت مانگ رہی ہو۔
پھر آہستہ سے بولی…
میں نہیں جانتی… میں آپ کو کتنا سمجھا سکتی ہوں۔
ہیوک نے کچھ نہیں کہا۔ بس انتظار کرتا رہا۔۔۔
ماہم نے دھیرے سے کہا،
لیکن ایک بات پر میرا یقین بہت مضبوط ہے…
وہ چند لمحے رکی۔
آپ کا… میرا… اور اِس دنیا کے ہر انسان کا خدا ایک ہی ہے۔
ہیوک کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
ماہم آگے بولی،
وہ صرف مسلمانوں کا خدا نہیں ہے…
صرف عیسائیوں کا نہیں…
صرف کسی ایک قوم… ایک ملک… یا ایک زبان بولنے والوں کا بھی نہیں…
وہ سب کا خدا ہے۔
کیفے کے شیشوں سے شام کی نارنجی روشنی اندر آ رہی تھی۔
اور ماہم کی آواز غیر معمولی حد تک پُرسکون لگ رہی تھی۔
جس نے آپ کو پیدا کیا…
جس نے مجھے پیدا کیا…
جس نے جنگ سوک کو پیدا کیا…
اور جس نے اُن لوگوں کو بھی پیدا کیا جو شاید اُس کے وجود کو مانتے تک نہیں…
وہی ایک خدا ہے۔
ماہم چند لمحے خاموش رہی۔
نظریں اب بھی میز پر تھیں۔ جیسے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو کہ کیسے ہیوک کو سمجھائے۔۔۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا،
میں آپ کو اسلام اس لیے سچا نہیں کہوں گی کہ میں مسلمان ہوں۔
اگر صرف گھر والوں کا مذہب سچا مان لینا کافی ہوتا تو دنیا کا ہر انسان اپنے ہی مذہب کو سچا سمجھتا۔
ہیوک خاموشی سے سنتا رہا۔
ماہم نے آہستہ سے کہا،
میں اسلام کو سچا اس لیے مانتی ہوں کیونکہ جتنا میں نے اسے سمجھا ہے… اتنا ہی مجھے لگا ہے کہ یہ انسانوں کی بنائی ہوئی بات نہیں ہو سکتی۔
ہیوک کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
کیسے؟
ماہم نے چند لمحے سوچا۔ پھر بولی،
سب سے پہلے تو خدا کا تصور۔ اسلام کا خدا بہت سادہ ہے۔ اتنا سادہ کہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔
وہ ایک ہے۔ نہ اُس کا کوئی باپ ہے۔ نہ بیٹا۔ نہ اُس کی کوئی ماں۔ نہ اُس کا کوئی شریک۔نہ کوئی اُس جیسا۔ وہ پیدا نہیں ہوا۔ اور نہ ہی اُس نے کسی کو اپنی ذات سے جنم دیا۔ وہ ہمیشہ سے ہے۔ اور ہمیشہ رہے گا۔
ماہم نے اُس کی طرف دیکھا۔
مجھے یہ بات بہت منطقی لگتی ہے۔
کیونکہ اگر خدا بھی کسی کا بیٹا ہو…
تو پھر سوال ختم نہیں ہوتا۔
پھر پوچھنا پڑتا ہے کہ اُس خدا کو کس نے پیدا کیا؟
اور پھر اُسے کس نے پیدا کیا؟
اور پھر اُسے کس نے؟
یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
اس لیے عقل یہی کہتی ہے کہ کہیں نہ کہیں ایک ایسی ہستی ہونی چاہیے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو۔
جو ہمیشہ سے موجود ہو۔
اور اسلام مجھے اُسی خدا سے ملواتا ہے۔
ہیوک خاموش بیٹھا رہا۔ ماہم نے بات جاری رکھی۔
دوسری بات…
اسلام میں خدا اور انسان کے درمیان کوئی دیوار نہیں۔ کوئی پادری نہیں۔ کوئی راہب نہیں۔
کوئی ایسا شخص نہیں جس کے بغیر میری دعا خدا تک نہ پہنچ سکے۔ میں رات کے تین بجے بھی اُسے پکار سکتی ہوں۔ دل میں بھی بات کروں تو وہ سن لیتا ہے۔ مجھے یہ بات ہمیشہ بہت خوبصورت لگی۔
اگر وہ میرا خالق ہے…
تو پھر مجھے اُس تک پہنچنے کے لیے کسی اور کی ضرورت کیوں ہو؟
ہیوک کے چہرے پر ہلکی سی حیرت ابھری۔
اور شاید سب سے بڑی وجہ یہ ہے… کہ جتنا میں نے اللہ کو جانا ہے… اتنا ہی مجھے محسوس ہوا ہے کہ وہ میرے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سی دعائیں مانگی ہیں۔
کچھ پوری ہوئیں۔ کچھ نہیں ہوئیں۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کیوں۔
لیکن بعد میں اکثر معلوم ہوا کہ جو چیز میں مانگ رہی تھی وہ میرے لیے اچھی ہی نہیں تھی۔
اور جو چیز اُس نے دی… وہ بہتر تھی۔
میں اللہ پر صرف اس لیے یقین نہیں رکھتی کہ میری فیملی یقین رکھتی ہیں۔
میں یقین رکھتی ہوں کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں بار بار اُس کے آثار دیکھے ہیں۔
جب کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا اور راستہ نکل آتا تھا۔
جب دل ٹوٹ جاتا تھا اور پھر سنبھل جاتا تھا۔
جب سب لوگ ساتھ چھوڑ دیتے تھے مگر پھر بھی آدمی مکمل تنہا نہیں ہوتا۔
ماہم کی آنکھوں میں عجیب سی نرمی تھی۔
آپ نے مجھ سے پوچھا تھا نا…
کہ مجھے کیوں لگتا ہے میرا رب سچا ہے؟
کیونکہ جتنا میں اُسے ڈھونڈتی ہوں…
وہ اتنا ہی مجھے اپنی طرف اشارے دیتا ہے۔
اور جتنا میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں… اتنا ہی مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔
وہ ابھی مزید کہہ رہی تھی کہ اُس کے فون کی رنگٹون بجی شاید کسی کا میسج آیا تھا۔۔ ماہم نے بیگ سے اپنا فون نکالا اور میسج دیکھا پِھر وقت دیکھا۔
پھر ہلکی سی چونک کر بولی،
اوہ… ساڑھے سات بج گئے ہیں۔
ہیوک نے بےاختیار گھڑی کی طرف دیکھا۔
اتنا وقت گزر گیا؟
ماہم ہلکا سا مسکرائی۔ آپ کو اندازہ نہیں ہوا؟
ہیوک نے نفی میں سر ہلایا۔ بالکل نہیں۔
ماہم نے فون واپس بیگ میں رکھتے ہوئے کہا،
ویسے… میرے پاس ابھی اور بھی بہت کچھ ہے کہنے کو۔ بہت زیادہ۔ وہ چند لمحے رکی۔
شاید اتنا کہ ایک پورا دن گزر جائے اور میں پھر بھی اپنے رب کے بارے میں بات کرتی رہوں۔
اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی نرمی تھی۔
میں اپنے اللہ کے بارے میں جتنا بتاؤں… کم ہے۔
میری پوری زندگی بھی گزر جائے تو شاید تب بھی میں اُس کی نعمتیں اور اُس کی رحمتیں گن نہ سکوں۔
لیکن مجھے اب جانا پڑے گا۔۔۔ میں گھر میں صرف سات بجے کا بول کر آئی تھی،
ہیوک خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا،
لیکن… مجھے ابھی تمہاری کہانی بھی سننی تھی۔
ماہم ہنس دی۔ میری کہانی کہیں بھاگ نہیں رہی۔
پھر چند لمحے سوچ کر بولی، اچھا… پھر یوں کرتے ہیں۔ کل نہیں… پرسوں ملتے ہیں۔
ہیوک نے فوراً چونکا
واقعی؟
ہاں۔
ماہم نے بیگ سے دوبارہ اپنا فون نکلا۔۔
آپ مجھے اپنا نمبر دے دیجیے۔
یہ کیفے میرے گھر سے کافی دور پڑتا ہے۔
میں آپ کو کسی اور جگہ کا لوکیشن بھیج دوں گی۔
وہاں آ جائیے گا۔
ہیوک نے فوراً جیب سے اپنا فون نکالا۔
اور اپنا ذاتی نمبر اُسے لکھوا دیا۔
ماہم نے نمبر محفوظ کیا۔
پھر بیگ بند کرتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
اللہ حافظ۔
ہیوک بھی بےاختیار کھڑا ہوگیا۔
اللہ حافظ…
ماہم دو قدم چلی۔ پھر اچانک رکی۔ اور پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا۔ جیسے اُسے کوئی اہم بات یاد آگئی ہو۔
اور ہاں…
ہیوک نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
آئندہ کسی کے سامنے مت جھکیے گا۔
ہیوک چونکا۔ کیا؟
ماہم نے بالکل سنجیدگی سے کہا،
ہم صرف ایک رب کے سامنے جھکتے ہیں۔
اُس کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں۔
کسی انسان کے سامنے نہیں۔ کسی بادشاہ کے سامنے نہیں۔۔ کسی عالم کے سامنے نہیں۔ کسی امیر کے سامنے نہیں۔ صرف اللہ کے سامنے۔
چند لمحوں کے لیے دونوں کی نظریں ملیں۔
پھر ماہم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
اللہ حافظ۔
اور اِس بار وہ واقعی مُڑ گئی۔
چند ہی لمحوں بعد کیفے کے شیشے والے دروازے سے باہر نکل گئی۔
ہیوک وہیں کھڑا رہ گیا۔
اُس کی نظریں دروازے پر جمی تھیں۔
اور ذہن…
ماہم کے آخری جملے پر۔
“ہم صرف ایک رب کے سامنے جھکتے ہیں۔”
کیوں؟۔یہ سوال فوراً اُس کے ذہن میں آیا۔
اتنا مضبوط یقین… اتنی قطعی بات… آخر کیوں؟ وہ پوچھنا چاہتا تھا۔
مگر ماہم جا چکی تھی۔
ہیوک آہستہ سے دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
اور نہ جانے کیوں…
پوری گفتگو میں سب سے زیادہ یہی ایک جملہ اُس کے دل میں رہ گیا تھا۔
صرف ایک رب کے سامنے۔
++++++++++++++
سب گھوم پھر کر واپس ہوٹل پہنچے تو بے اختیار سب ایک ساتھ ہی ہیوک کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
کمرے میں داخل ہوئے تو ہیوک آرام سے بستر پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ کسی کے-ڈرامے کی مدھم آواز پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔
آگئے سب؟ ا نے سکون سے پوچھا۔
ہاں۔۔۔ سوہان تقریباً اچھلتا ہوا اس کے برابر بستر پر جا بیٹھا۔ اتنا مزہ آیا نا آج۔۔۔۔
ابے، تو یہاں کیا کر رہا ہے؟ تائیجون نے فوراً ٹوکا۔ جا پہلے کپڑے بدل کر آ۔
ابھی نہیں… بعد میں۔
ابھی یہ پوری داستان سنائے گا ہیوک کو، پھر جائے گا۔ جے کیونگ نے کہا۔
رین یون نے غور سے ہیوک کو دیکھا۔
اب طبیعت کیسی ہے؟
بہتر ہوں۔
سیونگ نے بھنویں سکیڑیں۔ ہوٹل کے اسٹاف نے بتایا تھا تم باہر گئے تھے؟
ہیوک کا دل ایک لمحے کو دھڑکا مگر اس کے چہرے پر کوئی اثر نہ آیا۔
ہاں، وہ بالکل معمول کے لہجے میں بولا، کمرے میں بند بند سا محسوس ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر باہر چہل قدمی کرنے چلا گیا تھا۔
اس کا جھوٹ اتنا پرسکون اور بے ساختہ تھا کہ سب نے فوراً مان لیا۔
ویسے بھی اگر اس کی جگہ سوہان، تائیجون، جے کیونگ یا سومن ہوتا تو اب تک سوالوں کی پوری عدالت لگ چکی ہوتی۔
جھوٹ تو نہیں بول رہے نا؟ سوہان نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
ہر کوئی تیری طرح نہیں ہوتا۔ سومن نے فوراً جواب دیا۔
میری طرح ہو بھی نہیں سکتا۔ سوہان نے فخر سے گردن اکڑائی۔ اتنا پیارا اور کیوٹ جو ہوں۔
اب میں کچھ بولوں گا تو فساد ہو جائے گا۔
مت بول۔ جے کیونگ نے فوراً کہا۔
ہاں، جا رہا ہوں میں اب۔ سونے۔
جلدی جا۔
نہیں جا رہا اب۔
ابے پاگل۔۔۔۔
تو پاگل۔۔۔۔
یہ کوئی وقت ہے بحث کرنے کا؟ ہان وو نے بے زاری سے کہا۔
سومن نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اچھا؟ بحث کرنے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے؟
ہاں ہوتا ہے نا۔۔ سوہان فوراً بولا۔
سیونگ نے پوچھا، کب؟
فارغ وقت میں۔
جو کہ سوہان کے پاس بہت زیادہ ہے۔ سومن نے سنجیدگی سے کہا۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد پورا کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔
صحیح بات ہے۔ تائیجون نے ہنستے ہوئے کہا۔
سوہان نے منہ بنایا۔
کیا تم سب کو صرف میں ہی ملتا ہوں؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے، ہاں۔ جے کیونگ نے جواب دیا۔
ہیوک کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ آئی۔
جلتے ہیں نا سب تم سے۔
سوہان فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔
ہاں صحیح بولا ایک دم صحیح بولا۔۔۔
ہاں، سومن نے سنجیدگی سے سر ہلایا، جل جل کے میں تو کالا ہو گیا۔۔۔
کہاں؟ تائیجون نے حیرت سے اسے دیکھا۔ تو تو گورا ہے۔
اسی لیے تو کہا کہ جَل کر کالا ہو گیا۔۔۔۔
مطلب جل ہی نہیں رہا۔ ہان وو نے فلسفیانہ انداز میں نتیجہ نکالا۔
جے کیونگ نے فوراً کہا آپ سے کسی نے مطلب پوچھا تھا؟
میں نے نالج کے لیے بتایا۔
واہ، کیا نالج دی ہے۔ میں قربان۔ تھینک یو۔ سومین نے کہا
سیونگ نے آخرکار تنگ آکر سب کو دیکھا۔
ہو گیا تم لوگوں کا؟ اب جا کر سو جاؤ۔
یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ رین یون بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔
گڈ نائٹ۔ ہان وو بھی ہاتھ ہلاتا ہوا روانہ ہو گیا۔
میں بھی جا رہا ہوں۔ جے کیونگ نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
میرا یہاں اب کیا کام؟ سومن نے شانے اچکائے۔ میں بھی چلا۔۔۔
چند لمحوں بعد کمرے میں صرف ہیوک، تائیجون اور سوہان رہ گئے تھے۔
اب تو نکل۔ تائیجون نے سوہان کی طرف دیکھا۔
نہیں۔
ابے جا نا۔ کل ساری کہانی سنا دینا۔ ابھی سونے دے مجھے۔
تو سو جا، میں سائیڈ پر بیٹھا ہوں۔
ابے نکل۔۔۔۔
اس نے واقعی سوہان کو بازو سے پکڑ کر باہر دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا۔
کمرے میں اچانک خاموشی اتر آئی۔
تائیجون واپس آ کر بستر پر بیٹھا تو اس کی نظر ہیوک کے موبائل پر پڑی۔
بے دھیانی میں اس نے فون اٹھا لیا۔
اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
اسکرین پر گوگل میپس کھلا ہوا تھا۔
اور سرچ ہسٹری میں ایک ہی چیز نمایاں تھی۔
شاپنگ مال کا لوکیشن۔
تائیجون نے آہستہ سے سر اٹھا کر حیوک کو دیکھا۔
یہ کیا ہے؟
ہیوک کا دل دھڑک اٹھا مگر چہرہ بدستور پرسکون رہا۔
کچھ نہیں۔
میرے ماتھے پر چے لکھا ہے؟
ہیوک خاموش رہا۔
تائیجون نے فون اس کے سامنے کر دیا۔
اب بتائے گا… کہاں گیا تھا؟
ہیوک نے فوراً فون اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔
کچھ نہیں…
کچھ نہیں؟ تائیجون نے اسکرین اُس کے سامنے کر دی۔ یہ کیا ہے پھر؟ پیکیجز مال؟ اور یہ لوکیشن ابھی تک کھلی ہوئی ہے۔
ہیوک نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
غلطی ہو گئی تھی۔
وہ اتنی جلدی میں واپس آیا تھا کہ گوگل میپ بند کرنا ہی بھول گیا تھا۔
میں بس ایسے ہی چلا گیا تھا۔
ایسے ہی؟
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
تم بیمار تھے۔ پھر اکیلے ہوٹل سے نکلے۔ پھر سیدھا مال گئے۔ اور اب کہہ رہے ہو ایسے ہی؟
ہیوک خاموش رہا۔
تائیجون نے بازو باندھ لیے۔
دیکھ بھائی… میں سوہان نہیں ہوں۔ مجھے بہکانے کے لیے دو لفظ کافی نہیں ہوتے۔
ہیوک کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
یہ تو سچ ہے۔
موضوع مت بدلو۔
بدل نہیں رہا۔
تو بتاؤ۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
آخرکار ہیوک نے آہستہ سے کہا،
میں کسی سے ملنے گیا تھا۔
تائیجون چند سیکنڈ اُسے گھورتا رہا۔
پھر ایک دم سیدھا بیٹھ گیا۔
کیا؟
ہیوک نے سر جھکا لیا۔
میں کسی سے ملنے گیا تھا۔
کسی سے؟
ہاں۔
لڑکی تھی؟
ہیوک نے جواب نہیں دیا۔
تائیجون کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اوہ میرے خدا…
اتنا اوور ری ایکٹ مت کر۔
میں ری ایکٹ نہ کروں؟ تائیجون تقریباً سرگوشی میں چلایا۔
تم؟ ہیوک؟
ہاں میں۔
تُم اور لڑکی سے ملنا گئے۔۔۔؟؟ حیرت کی بات ہے۔۔ تُجھے تو لڑکیاں میں انٹریسٹ نہیں تھا۔۔۔ ابھی اچانک یہ کونسی لڑکی آگئی۔۔ وہ بھی پاکستان میں۔۔۔ تو تو لڑکیوں کے معاملے میں ہمیں لیکچر دیتا تھا۔۔۔ کہ لڑکی سے دور رہو لڑکی ہی تو ہے کیا خاص ہے اس میں، اور ابھی خود لڑکی کے چکر میں پڑ گیا۔۔
میں لیکچر نہیں دیتا۔
دیتے ہو۔۔
نہیں دیتا۔
دیتے ہو۔۔
تائیجون…
اچھا ٹھیک ہے۔۔ وہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
اس نے فون ایک طرف رکھا اور پوری توجہ ہیوک پر مرکوز کر دی۔
نام کیا ہے؟
ہیوک نے نظریں چرا لیں۔
کہاں ملی؟ کون ہے؟ کِسی ہے۔۔۔؟؟
خاموشی۔
ٹائیجون نے مشکوک انداز میں آنکھیں سکیڑیں، ڈیٹنگ ویٹنگ کا چکر ہے کیا؟
ہیوک تقریباً اچھل پڑا۔ کیا؟ نہیں۔۔۔۔
پھر؟
ڈیٹنگ، ویٹنگ… کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ جھنجھلا گیا۔ پاگل ہے کیا؟ میں کیوں اسے ڈیٹ کروں گا؟ تجھے پتہ نہیں ہے کیا؟ ہمیں اجازت نہیں ہے ڈیٹنگ کرنے کی۔
ابے مینیجر کو کون بتائے گا؟ ٹائیجون نے کندھے اچکائے۔ چپکے چپکے۔ آخر جب لڑکی پسند آ ہی گئی تو کیا کر سکے دِل پر کب کِسی کا اختیار ہوتا ہے۔…
چپ رہ۔۔۔۔ ہیوک نے فوراً بات کاٹی۔
ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا میں۔
پھر ملنے کیوں گیا تھا؟ جب کوئی چکر نہیں تو۔۔ اس بار سوال سیدھا تھا۔
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
ویسے ہی۔
ویسے ہی؟
تائیجون نے ایسے دہرایا جیسے دنیا کا سب سے ناقابلِ یقین جواب سن لیا ہو۔
ہاں۔ اور پرسوں بھی ملنے جانا ہے۔
ہیوک کے چہرے پر ایک لمحے کو جھینپ سی ابھری۔
ٹائیجون نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
واہ بھائی صاحب واہ اس کی آواز میں طنز نمایاں تھا۔ لڑکی پسند بھی نہیں آئی۔۔ ڈیٹ بھی نہیں کرنا۔ لیکن ملنے ضرور جانا ہے۔
کس نے کہا پسند نہیں آئی؟
جملہ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
اور نکلتے ہی ہیوک کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
ٹائیجون چند سیکنڈ اسے گھورتا رہا۔
پھر آہستہ آہستہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
اوہ… وہ لمبا سانس لے کر بولا۔ مطلب پسند آ گئی ہے؟
نہیں… نہیں… ہیوک فوراً گھبرا گیا۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
تو کیا مطلب تھا؟
بس… اس نے بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ وہ اچھی ہے۔
تائیجون خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
لیکن ڈیٹ وغیرہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہیوک نے جلدی سے وضاحت کی۔ ویسے بھی وہ پاکستانی ہے…
اس کی آواز آہستہ پڑ گئی۔
اور ہم صرف کچھ ہی دنوں کے لیے یہاں ہے۔۔۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
اس بار تائیجون نے مذاق نہیں کیا۔
اس نے سر ہلایا۔
ہاں… اس کے لہجے میں پہلی بار سنجیدگی آئی۔
یہ بھی ہے۔
وہ بستر کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
مسئلہ تو ہے…
اس نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اور کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں۔
ہیوک خاموش رہا۔
مینیجر سے تو پھر بھی چھپا سکتے ہیں۔
تائیجون ہلکا سا ہنسا۔
کمپنی سے بھی شاید۔
پھر اس کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
لیکن دو ملکوں کے فیصلوں سے کیسے لڑیں گے؟
ہیوک کے ہاتھ بے اختیار آپس میں جڑ گئے۔
اس نے خود بھی یہی سوچا تھا۔
بار بار سوچا تھا۔ وہ لڑکی اسے اچھی لگی تھی۔
شاید ضرورت سے زیادہ اچھی۔
مگر حقیقت اپنی جگہ موجود تھی۔
وہ پاکستان کی تھی۔
اور وہ…
چند دن بعد واپس چلا جانے والا تھا۔
کچھ فاصلے صرف میلوں میں نہیں ناپے جاتے۔
کچھ فاصلے نقشوں، زبانوں، وقت اور قسمت کے درمیان ہوتے ہیں۔
اور ایسے فاصلے طے کرنا ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
+++++++++++++++
صبح کا آغاز ہمیشہ کی طرح شور شرابے سے ہوا۔
اصل میں شور شرابے کا آغاز سوہان سے ہوا تھا۔
اُٹھ جاؤ سب….
اُس کی بلند آواز پورے فلور میں گونجی۔
ہم لاہور گھومنے آئے ہیں یا سونے؟
ساتھ والے کمرے سے سومین کی غصے بھری آواز آئی۔
میں آ رہا ہوں… پہلے تو چپ ہو جا!
نہیں…
پھر میں بھی نہیں اُٹھ رہا۔۔۔
ٹھیک ہے، میں تمہارے کمرے میں آ رہا ہوں۔۔۔
مت آنا۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پھر کسی کے بھاگنے کی۔
چند سیکنڈ بعد پورا کوریڈور قہقہوں سے گونج اٹھا۔
ناشتے کے وقت سب ایک بار پھر اکٹھے بیٹھے تھے۔
ہیوک حسبِ معمول پرسکون انداز میں کافی پی رہا تھا۔
جبکہ تائیجون بار بار اُسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
ہیوک نے اُسے کئی بار نظر انداز کیا۔
مگر آخرکار بول ہی پڑا۔
کیا مسئلہ ہے؟
کچھ نہیں۔
پھر ہنس کیوں رہے ہو؟
ویسے ہی۔
ہیوک نے فوراً سمجھ لیا۔
یہ کل رات والی بات کی وجہ سے تھا۔
اور یہی وجہ تھی کہ اُس نے تائیجون کو سخت نظروں سے گھورا۔
مگر اُس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
ناشتہ ختم ہوتے ہی منیجر نے اعلان کیا۔
آج ہم لاہور فورٹ جائیں گے۔
فورٹ؟۔جےکیونگ نے پوچھا۔
لقلعہ؟
جی۔
اصلی والا؟ سوہان نے پوچھا۔۔۔
نہیں، کارٹون والا۔ سومین نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
چند سیکنڈ خاموشی رہی۔
پھر سب ہنس پڑے۔
حتیٰ کہ ہان وو بھی۔ سوہان نے منہ بنا لیا۔
میں صرف پوچھ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔
شہر کی مصروف سڑکیں ایک بار پھر اُن کے سامنے تھیں۔
راستے بھر منیجر لاہور کی تاریخ بتاتا رہا۔
جبکہ سوہان ہر دو منٹ بعد نیا سوال پوچھتا رہا۔
یہ عمارت کتنی پرانی ہے؟
کیا یہاں بھوت بھی ہوتے ہیں؟
بادشاہ واقعی اتنے بڑے محلوں میں رہتے تھے؟
اگر میں بادشاہ ہوتا تو…
تم بادشاہ نہیں ہوتے۔ سومین نے فوراً ٹوکا۔
کیوں؟
کیونکہ تو دو دن میں خزانہ ختم کر دیتا۔۔۔
سب ہنس پڑے۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک عظیم الشان تاریخی عمارت کے سامنے رُک گئی۔ لاہور قلعہ۔ بلند دیواریں۔ سرخ اینٹیں۔ وسیع دروازے۔ اور سینکڑوں سال پرانی تاریخ۔
سب گاڑی سے اُتر کر خاموشی سے سامنے دیکھنے لگے۔
واہ…
رین یون کے منہ سے بےاختیار نکلا۔
واقعی منظر حیران کن تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ وقت میں سینکڑوں سال پیچھے آ گئے ہوں۔
ہان وو نے بلند دیواروں کی طرف دیکھا۔
یہ واقعی اتنا پرانا ہے؟
جی۔۔منیجر نے جواب دیا۔
مغل بادشاہوں کے دور سے۔
اتنی بڑی عمارت اُس زمانے میں کیسے بنائی ہوگی؟
تائیجون نے حیرت سے پوچھا۔
لوگوں نے محنت کی ہوگی۔
سیونگ بولا۔
یا پھر تمہارے خیال میں ایلینز نے بنائی تھی؟
میں نے ایسا کب کہا؟
ابھی نہیں۔ لیکن پانچ منٹ بعد کہہ دیتے۔
قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی سب کی نظریں ادھر اُدھر گھومنے لگیں۔
کسی جگہ سنگِ مرمر کا کام تھا۔ کہیں خوبصورت محرابیں۔ کہیں وسیع صحن۔ کہیں قدیم کمروں کے آثار۔
اور سب سے زیادہ حیران سوہان تھا۔
وہ تقریباً ہر چیز کی تصویر لے رہا تھا۔
یہ دیکھو۔۔۔
کلک۔
یہ بھی دیکھو۔۔۔
کلک۔
اوہ یہ تو بہت زبردست ہے۔۔۔۔
کلک۔
وہ لوگ چلتے چلتے شیش محل تک پہنچے۔
اندر داخل ہوتے ہی سب رک گئے۔
دیواروں اور چھت پر ہزاروں چھوٹے چھوٹے شیشے جڑے ہوئے تھے۔
ہر شیشہ الگ زاویے پر لگا تھا۔
کھڑکیوں سے آنے والی سورج کی روشنی جب اُن پر پڑتی تو پورا کمرہ جگمگا اٹھتا۔
یوں لگتا تھا جیسے دیواروں میں ستارے قید ہوں۔
ہلکی سی حرکت سے روشنی مختلف سمتوں میں بکھر جاتی۔
ہر طرف چمکتے ہوئے ننھے ننھے عکس نظر آتے۔
اوہ… جےکیونگ نے آہستہ سے کہا۔
یہ تو واقعی خوبصورت ہے۔
ہیوک بھی خاموشی سے اردگرد دیکھ رہا تھا۔
پھر نہ جانے کیوں اُسے ماہم کی بات یاد آ گئی۔
میرے پاس اور بھی ہے کہنے کو… اتنا کہ ایک دن بھی گزر جائے تو میرے اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی…
وہ چند لمحوں کے لیے گم سا ہوگیا۔
ہیوک؟
تائیجون کی آواز پر وہ چونکا۔
ہاں؟
کہاں کھو گئے؟
کہیں نہیں۔
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔
اور ہیوک فوراً سمجھ گیا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔
کچھ مت کہنا۔
میں نے کچھ کہا؟
تمہارے چہرے پر لکھا ہوا ہے۔
اچھا؟
ہاں۔
تائیجون ہنس پڑا۔
اور ہیوک بےاختیار مسکرا دیا۔
مگر دل کے کسی کونے میں ایک اور خیال موجود تھا۔
پرسوں۔
وہ دوبارہ ماہم سے ملنے والا تھا۔
اور نہ جانے کیوں…
اُسے اُس ملاقات کا انتظار لاہور کی سیر سے بھی زیادہ تھا۔
+++++++++++++++
رات کا وقت تھا۔ کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ رین یون بےچینی سے کبھی دراز کھولتا، کبھی الماری، اور کبھی میز کے اردگرد نظریں دوڑاتا۔ وہ کافی دیر سے اپنے ایئرپوڈز تلاش کر رہا تھا مگر وہ کہیں نہیں مل رہے تھے۔
سیونگ بستر پر ٹیک لگائے موبائل استعمال کر رہا تھا۔ اس نے رین یون کو اس طرح پریشان گھومتے دیکھا تو پوچھا،
کیا ڈھونڈ رہے ہو؟
ایئرپوڈز ڈھونڈ رہا ہوں۔
بیگ میں چیک کرو، کیا پتا نکالنا بھول گئے ہو۔
ہاں، دیکھتا ہوں۔
رین یون نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا۔ ویسے بھی وہ اپنا آدھے سے زیادہ سامان ہمیشہ بیگ میں ہی رکھتا تھا۔
اس نے زپ کھولی ہی تھی کہ اس کی نظر ایک کتاب پر جا ٹھہری۔
وہی کتاب… جو اُس لڑکی نے اسے دی تھی۔
کتاب دیکھتے ہی جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ اُس کے کانوں میں پھر وہی آواز گونجی۔
یہ آپ کا انعام ہے… ایک دفعہ اس کتاب کو ضرور پڑھیے گا۔
رین یون نے آہستہ سے کتاب ہاتھ میں اٹھا لی۔
وہ اسے پڑھنا بھی چاہتا تھا…
اور اس سے ڈرتا بھی تھا۔
مگر آخر کس بات کا خوف تھا؟
سیونگ نے اسے خاموش کھڑا دیکھا تو دوبارہ پوچھا،
کیا ہوا؟ مل گیا کیا؟
رین یون نے نظریں کتاب سے ہٹائے بغیر دھیمی آواز میں کہا،
ملتی ہی تو نہیں وہ…
کیا؟
نہ میں اُس کی یاد سے پیچھا چھڑا پارہا ہوں… اور نہ میں اُس کے دیے ہوئے انعام کو سینے سے لگا پا رہا ہوں۔
سیونگ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا بول رہے ہو؟
مگر رین یون کی توجہ کہیں اور تھی۔ وہ اب بھی کتاب کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
چند لمحوں بعد اس نے آہستہ سے پوچھا،
کیا وہ مجھے مل نہیں سکتی؟
اگر میں یہ کتاب پڑھ لوں… تو کیا وہ مجھے مل جائے گی؟
اب جا کر سیونگ کو سمجھ آیا کہ رین یون کس کی بات کر رہا ہے۔
وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود… رین یون اُسے بھول نہیں پایا تھا۔
سیونگ نے گہرا سانس لیا۔
وہ تمہیں اتنی پسند کیوں ہے، رین یون؟ کتنی بدتمیز لڑکی تھی وہ۔ لہجہ دیکھا تھا اس کا؟ جس طرح تم سے بات کرتی ہے… تمہیں اُس کی باتیں تکلیف نہیں دیتیں؟
رین یون کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔
نہیں۔۔۔ کہ اگر وہ لاکھ بار مجھے نظر انداز کرے… مجھے ٹھکرائے… مجھے تکلیف پہنچائے… تب بھی میں اُسے ہر بار کی طرح پہلے جیسی محبت کی نگاہ سے ہی دیکھوں گا۔
سیونگ نے اُسے گھورتے قدرے جھنجھلا کر بولا۔۔
تم واقعی پاگل ہو گئے ہو۔ اچھا یہ بتاؤ… آخر اچھا کیا لگتا ہے تمہیں اُس میں۔۔۔
رین یون نے نظریں جھکا لیں۔
سب کچھ۔ اُس کا سب کچھ ہی مُجھے کو اچھا لگتا ہے۔۔۔
سیونگ نے بےبسی سے سر ہلایا۔
پہلے اپنے ایئرپوڈز ڈھونڈو اور پھر خاموشی سے آ کر سو جاؤ۔
رین یون نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس نے کتاب کو احتیاط سے واپس بیگ میں رکھا اور آ کر بستر پر لیٹ گیا۔
چھت کو تکتے ہوئے اُس نے دھیمی آواز میں کہا،
اگر مینیجر ساتھ نہ ہوتے… تو میں واپس اسلام آباد چلا جاتا۔ اور شاید وہیں رہ جاتا۔
سیونگ نے اُس کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں وہی اداسی تھی جو ہر رات اُس لڑکی کی یاد کے ساتھ جاگ اٹھتی تھی۔
سو جاؤ، رین یون۔ وہ آہستہ سے بولا۔ زیادہ مت سوچو۔
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
