پیش لفظ ۔
اسلام علیکم !
سکوت میری پہلی تحریر ہے ۔ جسے میں نے اللّٰہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے لکھا ہے۔اس تحریر میں میری شدت ،محنت اور محبت سب شامل ہیں۔ میں نے اسے پرفیکٹ نہیں بنایا کیونکہ اللّٰہ کے سوا اس دُنیا میں کوئی شے پرفیکٹ ہے نا ہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے میرے لیے یہ ایک پرفیکٹ نہیں بلکہ بہترین تحریر ہے۔
لکھتے وقت میرے پاس صرف ایک کردار تھا پلویشا دائم۔ میرے پاس کہانی کا نام بھی نہیں تھا۔ لیکن پھر ایک روز میں ایک کیفیت سے گزری ۔ سکوت۔ میرے اندر باہر خاموشی ہی خاموشی پھیل گئی تھی۔ ایک ایسی ساکت حالت جس میں نا انسان رو سکتا ہے نا ہنس ۔یہ کیفیت بہت اذیت ناک کیفیت ہوتی ہے۔ انسان کو کوئی دیوار نظر نہیں آتی جس کے ساتھ وہ اپنا سر پھوڑے۔ اسی کیفیت سے مایوسی جنم لیتی ہے۔ پھر شکوے پھر شروع ہوتی ہے خود سے جنگ اور پھر ۔۔۔۔۔۔ گمراہی کے گہرے سمندر ہمارا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ ہوتی ہے سکوت کی کیفیت۔ جس سے ہماری اکثریت گزر رہی ہے ۔ ہر انسان اس کیفیت سے گزرتا ہے ۔ کچھ لوگ اس سے نکل آتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسی میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اور تب میں نے اپنے ناول کا نام سکوت رکھا اور اس کے کرداروں کو اسی نام سے جوڑا۔
لکھنے کا خیال ایک مذاق سے شروع ہوا تھا۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میری دوست مقدس ہاشمی نے مجھ سے کہا کہ افق تم لکھنا شروع کرو۔ اور ہم تب بہت سی مزاحیہ کہانیاں بنا کر ہنستے رہے تھے۔ لیکن پھر انہوں نے مجھ سے کہا افق یہ سیڑھی کا پہلا زینہ ہے اور میں نے ان کی بات پر آنکھ بند کرتے پہلے ذینہ پر قدم رکھ لیا۔
لکھتے وقت میں کئی بار رک جاتی تھی ۔ پھر لکھتی تھی ۔ پھر رکتی تھی ۔ یہ دائرہ میرے ساتھ پورے وقت گھومتا رہا اور بلآخر میں نے خود کو اس دائرے میں رکھتے ہوئے اس مکمل کر ڈالا ۔اور اسے مکمل کرنے میں میری دوست ماہم ہاشمی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مجھے رکنے نہیں دیا ۔یہ میری حوصلہ افزائی کرتی رہی میرے ساتھ جڑی رہی ۔
ہر نئے لکھاری کی طرح میں کئی بار حوصلہ شکنی کا شکار ہوئی ہوں مگر میں نے ہار نہیں مانی۔ میں نے کوشش کی ۔ اور اس پوری کوشش میں ماہم ہاشمی اور مقدس ہاشمی میری ٹیک بنی رہی ۔ انہیں کی بدولت میں اس قابل ہوئی ہوں کہ کچھ لکھ سکوں اور اسے آپ تک پہنچا سکوں ۔ یہ دونوں میرے لیے میری عظیم ساتھیاں ہیں ۔
شکریہ آپ دونوں کا ۔
Thank you for being in my life .
آخر میں میں آپ سب کا شکریہ ادا کروں گی جنہوں نے اسے وقت دیا۔ اور اسے محبت دی ۔ اللّٰہ آپ سب کے ساتھ رہے ۔
اللّٰہ حافظ ۔
آغازِ سفر
ہر آغاز میں لرزتا ہوا ایک خواب چھپا ہے۔
خواب کے پیچھے ایک ان کہی دعا سکتی ہے۔
سکوت اپنی بانہوں میں صدا چھپائے بیٹھا ہے،
اور صدا کے اندر خدا کی سرگوشی گونجتی ہے۔
سائے روشنی کا پیچھا کرتے ہیں،
اور روشنی اندھیروں میں اپنا چہرہ ڈھونڈتی ہے۔
راہیں ہمیں ہم تک لے آتی ہیں،
اور ہم خود سے بھاگتے رہتے ہیں۔
وقت اپنے دامن میں آئینے سمیٹے ہے،
اور ہر آئینے میں ہم اپنے ہی دو روپ دیکھتے ہیں۔
یہ صرف ایک آغاز ہے…
مگر ہر آغاز اپنے اندر انجام کا راز رکھتا ہے۔
اسلام آباد
اسلام آباد کا ایک ایلیٹ ایریا تھا،
جہاں زیادہ تر بڑے بزنس مین اور سیاست دانوں کے گھر تھے۔
ان ہی گھروں میں سے ایک بڑے، خوبصورت سفید رنگ کے گھر میں صبح کے چھ بجے ہل چل مچی ہوئی تھی۔
ہاؤس مینجر تمام نوکروں کو جلدی ہاتھ چلانے کا کہہ رہا تھا۔
“کیا ہو گیا ہے اینڈرو! جلدی سے تمام پلیٹس سیٹ کرو!”
(انگریز اسٹیورڈ کچن میں داخل ہوتے ہوئے اینڈرو سے بولا)
“جی،اسٹیورڈ سر، میں جلدی کر رہا ہوں۔ آپ ذرا ہینزری کو دیکھیں، وہ کیا کر رہی ہے!”
اینڈرو نے مسکراتے ہوئے ہینزری کی طرف اشارہ کیا۔
“اف! بس کرو ہینزری، جاؤ اور مام کی ہیلپ کرو تم!”
اسٹیورڈ نے گھوری دکھاتے ہوئے ناشتے بناتی اس فربہہ عورت کی طرف اشارہ کیا اور باہر نکل گیا۔
“اینڈرو، تمہیں آخر مسئلہ کیا ہے!”
ہینزری نے تلملا کر تیز انگریزی میں کہا:
“ایک تو سمجھ نہیں آتی، پہلا مرد دیکھا ہے جس میں گھر کی عورتوں سے بھی زیادہ نخرہ ہے۔ کیا اس قوم کے سارے مرد ایسے ہی ہوتے ہوں گے؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اینڈرو کو دیکھنے لگی۔
“انہیں سے پوچھ لینا، مس ہینزری!”
وہ اس کی پلیٹ سے کٹا ہوا سیب اٹھاتے ہوئے باہر نکل گیا۔
“اینڈروو!”
ہینزری دبے لہجے میں چلائی ۔
“ہینزری، جلدی یہاں آؤ!” اسٹیورڈ کی آواز سنتے ہی وہ میز سے اٹھی اور جلدی سے ہاتھ دھونے لگی ۔
مسٹر اسٹیورڈ تیز تیز سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کے کمرے جانب جا رہے تھے،
جہاں گھر کے مالک کا کمرہ تھا۔
وہ دروازے تک آ کر رکے،
تین گہرے سانس لیے،
خود کو کمپوز کیا،
چہرے پر بشاش بشاش تاثرات لائے اور دروازے پر ناک کیا۔
“یس؟” اندر سے نسوانی آواز ابھری۔
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
یہ کمرہ باقی کمروں سے کہیں بڑا اور زیادہ خوبصورت تھا۔
پردے، بیڈ، پینٹ، کلر کوڈ، ہر چیز میں حد سے زیادہ نفاست جھلک رہی تھی۔
وہ آگے بڑھا۔
صوفے پر ایک مرد بیٹھا تھا، چہرے پر اخبار چھپائے، ورق گردانی کرتا ہوا۔
اس کے دائیں جانب سیکریٹری کھڑی تھی جو ٹیب سے آج کی روٹین پڑھ کر سنا رہی تھی۔
اور سیکریٹری کے پیچھے، دائیں جانب، ایک اسٹائلسٹ کھڑا لک آؤٹ اور ٹائی کا کمبینیشن چیک کر رہا تھا۔
“ہیلو کریس!” سٹیورڈ نے آگے بڑھتے ہوئے اسٹائلسٹ سے کہا۔
کریس نے آنکھیں گھما کر صوفے پر بیٹھے مرد کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو،
“اللہ بچائے ایسے باس سے!”
سٹیورڈ نے مسکراہٹ دبائی،
اس کے ہاتھ سے ٹائی لی،
اور صوفے کی جانب متوجہ ہوا،
جس پر بیٹھے مرد کا چہرہ اب بھی اخبار کے پیچھے چھپا تھا۔
“سر کی انرجی آج کچھ ڈاؤن لگ رہی ہے۔
تو بہتر ہے کہ انہیں زیادہ انرجیٹک دکھایا جائے۔
اب تم اسٹائلسٹ ہو، تمہیں پتہ ہو گا کون سا رنگ انرجی بخشتا ہے گا۔ ہم؟”
کریس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ مسکرا دیا۔
کریس فوراً جوش میں آ گیا،
جلدی سے سوٹ سیلیکٹ کرنے لگا۔
“کیٹی، تم جا سکتی ہو۔ باقی تفصیل بعد میں بتا دیں گا۔”
کیٹی نے احسان مندانہ نظروں سے سٹیورڈ کو دیکھا،
صوفے پر بیٹھے مرد کی طرف دیکھا،
کچھ بڑبڑائی،
اور جلدی سے باہر نکل گئی۔
مرد نے اخبار ہٹا کر سٹیورڈ کو دیکھا۔
سفید رنگت، پرکشش نقوش،
سیاہ چمکتی آنکھیں، مغرور تاثرات —
آہ، بلاشبہ وہ خوبصورت تھا۔
“ہم…”
وہ سر ہلاتا ہوا اٹھا،
اخبار میز پر رکھا،
اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
کریس نے سکھ کا سانس لیا۔
“اوف! اسے کچھ پسند ہی نہیں آتا۔ پتہ نہیں مجھے رکھا کیوں ہوا ہے جب کرنی اپنی ہی مرضی ہوتی ہے!”
سٹیورڈ نے صرف مسکرا کر اس سے سوٹ لیا،
بیڈ پر ترتیب سے رکھا،
اور دونوں بغیر کچھ کہے باہر نکل گئے۔
کچھ دیر بعد سٹیورڈ ڈائننگ ٹیبل پر پہنچا۔
ہر چیز چیک کرنے لگا —
گھر کے مالک کو سب کچھ پرفیکٹ چاہیے تھا۔
ان ہیلدی فوڈ تو اس گھر میں آتے ہی نہیں تھے ۔
“گڈ مارننگ، میم!”
ڈائننگ ایریا میں کھڑے ملازمین نے ایک ساتھ کہا۔
“گڈ مارننگ ایوری ون!”
نفیس مہرون شلوار قمیض اور ہلکے رنگ کی چادر میں ملبوس وہ باوقار عورت کرسی پر بیٹھ گئی۔
“ازمیر کہاں ہے، سیٹورڈ ؟”
“میم، سر بس آنے ہی والے ہیں۔”
“السلام علیکم مام!”
اسی لمحے ازمیر اندر داخل ہوا،
جھک کر ماں کا ماتھا چوما۔
چاروں ملازم یہ منظر دیکھ کر اندر تک جل گئے۔
“و علیکم السلام، بیٹا!”
عورت نے پیار سے کہا۔
“اوکے مام، آپ اپنا خیال رکھیے گا۔ مجھے ارجنٹلی کہیں پہنچنا ہے۔”
وہ فون پر میسج ٹائپ کرتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔
“سڑا ہوا انسان، اتنی محنت کروا کر خود جا رہا ہے!” ہینزری نے زیرِ لب کہا،
“ٹھیک ہے، اللہ کی امان میں جاؤ میری جان!”
عورت نے محبت سے کہا۔
وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ باہر نکل گیا۔
ملازمون نے سکھ کا سانس لیا۔
“شکر ہے، اب یہ بلا رات تک نہیں آئے گا!”
ہینزری نے دل ہی دل میں خوشی سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
ہسپتال کے سرجری یونٹ میں اس وقت پھرتی کے ساتھ صرف دلوں کی بے ترتیبی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں۔
تمام ڈاکٹرز پوری دلجمعی کے ساتھ سرجری میں مصروف تھے۔
وقتہً فوقتہً سینئر سرجن کوئی اوزار مانگنے کے لیے ہاتھ بڑھاتا اور ساتھ کھڑی اسسٹنٹ وہ اشارہ سمجھ کر فوراً اوزار دے دیتی۔
ہر کوئی جیسے اشاروں سے ہی واقف ہو گیا تھا۔
سرجری اپنے اختتام کو تھی — ایک آخری ٹانکا — اور پھر…
“کانگریجولیشن ایوری ون !” سینئر سرجن نے منہ سے ماسک ہٹاتے ہوئے کہا۔
باقی سب گہرا سانس لیتے ہوئے خوشی سے سرجری یونٹ سے باہر جانے لگے۔
ڈاکٹر طاہر بھی باہر آئے۔
انہیں سامنے ہی مریض کے گھر والے نظر آ گئے۔
“کیا ہوا، ڈاکٹر صاحب؟ میرا بیٹا کیسا ہے؟” مریض کی ماں فکر مندی سے آگے بڑھی۔
“وہ اب خطرے سے باہر ہے۔” ڈاکٹر طاہر، جو کہ لگ بھگ انتالیس سال کے تھے، مسکراتے ہوئے بولے۔
“بہت بہت شکریہ، ڈاکٹر صاحب! آپ کا احسان ہو گا ہم پر۔”
وہ ادھیڑ عمر ماں اپنے بیٹے کے بچ جانے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔
“کیسی بات کر رہی ہیں اماں؟ یہ تو بس اللہ کا کرم تھا۔”
“اچھا، میں اس سے مل لوں؟” یہ مریض کا بھائی پوچھ رہا تھا۔
“نہیں، ابھی تو نہیں، مگر ہم آپ کو جلد ملاقات کروائیں گے۔ فی امان اللہ۔”
وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے۔
کچھ دیر بعد وہ ہسپتال کی راہداری سے گزر رہے تھے کہ انہیں وہ نظر آئی۔
وہ کسی ڈاکٹر سے بات کر رہی تھی؛ آہستہ آہستہ لب ہل رہے تھے۔
اچانک خود پر نظریں محسوس کیں، سامنے دیکھا اور ڈاکٹر طاہر کو دیکھ کر مسکرا دی، پھر ساتھ کھڑے ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہو کر آخری بات کہی،
وہ ڈیسک سے پھولوں کا گلدستہ اٹھا کر ان کی طرف بڑھی۔
وہ بیس سال کی لڑکی تھی — سادہ نیلے پینٹ نما ٹراؤزر، گھٹنوں سے نیچے آتی کمیض اور دوپٹہ دائیں کندھے پر ڈالا ہوا؛ بال کھلے، میک اپ وہ بالکل تیار سی تھی، ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے ان کی طرف آ رہی تھی۔
ساتھ سے گزرتے ڈاکٹرز اسے سلام کر رہے تھے اور وہ سر کے خم سے جواب دے رہی تھی۔
ڈاکٹرز اسے سلام کر رہے تھے اور وہ سر کے خم سے جواب دے رہی تھی۔
ڈاکٹر طاہر یہ دیکھ کر مسکرائے اور اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے۔
“السلام علیکم، ڈاکٹر طاہر۔” اس نے ہنسے دیتے ہوئے کہا۔
“و علیکم السلام۔ یہاں کا رخ کیسے کر لیا آپ نے؟” انہوں نے تنظیہ اس کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے کہا اور آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔
“آپ کی کامیابی پر مبارک دینے آئی تھی میں۔” وہ مسکراتے ہوئے ان سے الگ ہوتے ہوئے بولی۔
“مہینے میں پانچ سے چھ آپریشنز کرتا ہوں، اب تو کامیابی نئی نہیں لگتی۔” انہوں نے کندھے سے ناپید گرد صاف کرتے ہوئے کہا اور ایک بازو اس کے کندھے پر رکھ کر آگے بڑھنے لگے۔
“لیکن میرے لیے آپ کی ہر کامیابی نئی ہی ہے؛ آخر آپ کی محنت سے زیادہ میری محنت لگتی ہے۔” وہ بھی ساتھ قدم بڑھاتی رہی۔
“بالکل، میں تو بھول ہی گیا تھا۔ میری سرجری صرف ڈاکٹر پلویشا کی دعاؤں سے ہی کامیاب ہوتی ہے۔” انہوں نے اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
“بالکل!” وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
“اچھا سنو، آج کی انسٹرکشنز ڈاکٹر ابراہیم سے لے لینا۔ ڈاکٹر دوران ذرا فری نہیں ہیں۔”
“ٹھیک ہے۔” اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“ہیلو پلویشا!” ساتھ سے گزرتے ہوئے ایک جونیئر ڈاکٹر نے کہا، جسے وہ مدھم آواز اور سر کے خم سے جواب دیتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
“ٹھیک ہے ڈاکٹر طاہر، میں ڈاکٹر ابراہیم سے مل لیتی ہوں۔ اور ہاں، میں بتانا بھول گئی۔”
“محرب کا میسج آیا تھا کہ انکل حارث آج شام آپ سے ملنے آئیں گے۔” وہ رکتے ہوئے ان کی طرف دیکھ کر بولی۔
“آرے ہاں، اچھا کیا یاد کروا دیا! حارث بھی کئی دنوں سے ملنے آنا چاہ رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ کوئی ضروری بات کرنی ہے۔” انہوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ پلویشا کی بھوری آنکھوں میں سنجیدگی تھی اور انہیں اس سنجیدگی میں بھر پور زندگی نظر آتی تھی۔
“ٹھیک پھر، کیری آن۔” وہ ان سے دوبارہ گلے مل کر آگے بڑھ گئی۔
“اللہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔” ڈاکٹر طاہر نے اس کی پشت کو دیکھ کر گہرا سانس لیتے ہوئے کہا اور دائیں طرف مڑ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
اسلام آباد کے پوش ایریا میں واقع “ریل اسٹیٹ ایمپائرز” کی الٹرا ماڈرن گلاس عمارت اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ کھڑی تھی۔ اگر تم گلاس ڈور کھول کر اندر قدم رکھو تو اندر کا انٹیریئرز بلیک اینڈ وائٹ تھیم میں دکھائی دیتا ہے۔ ہر کیبن میں سٹاف مصروفیت سے کام کرتے نظر آتے تھے۔
سب سے اوپر والی منزل پر موجود ہیڈ آفس میں اس وقت خاموشی کا راج تھا۔ آفس کا انٹیریئر بھی بلیک اینڈ وائٹ تھیم میں سجا ہوا تھا۔ بائیں جانب ایک تھری سیٹر صوفہ رکھا تھا اور ساتھ شیشے کی صاف، چمکتی ہوئی میز۔ سٹڈی ٹیبل کے پیچھے وہ پرتعیش کرسی رکھی تھی، جس کے سامنے گلاس وال سے پورا اسلام آباد آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔
وہ اس وقت بلیک پینٹ کے ساتھ ویسٹ پہنے، ہاتھ جیبوں میں ڈالے، گلاس وال سے باہر کی دنیا کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے انداز سے مغروریت ٹپک رہی تھی۔
“ابھی تک تو ایک بھی کلو نہیں ملا جس سے پتہ چلے کہ سانفر کون ہے۔”
سنگل صوفے پر بیٹھے مرد نے خاموشی کو توڑا۔
“مجھے تو سمجھ نہیں آتی، انہیں ڈر بھی نہیں لگتا اپنی آخرت کا! توبہ، اللہ بچائے ایسے لوگوں سے۔ منی لانڈرنگ، اسلحہ کی اسمگلنگ، ہر بڑے کریمنل سے تعلقات۔ مطلب حد ہی ہو گئی!”
مزام نامی وہ مرد کانوں کو چھوتے ہوئے بولا۔
“خیر، جو بھی ہے، فی الحال تو سانفر کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا ناممکن ہی ہے۔”
“میرے لیے تو ناممکن صرف ایک لفظ ہے، حقیقت نہیں۔”
ازمیر مغرور آواز میں خاموشی توڑتے ہوئے اپنی کرسی کی طرف آتے ہوئے بولا۔
“دیکھو ازمیر، اسے ڈھونڈنے کے لیے پہلے اس کی شناخت کی ضرورت ہے۔” مزام نے پریشانی سے کہا۔
“اس کی شناخت ہے، مزام! مگر جس کے پاس ہے، مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے۔ پہلے اسے ڈھونڈنا ہوگا، پھر ہی جا کر سانفر کو تلاش کر سکیں گے ہم۔”
“تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو ازمیر؟ کیا پتہ وہ اب تک اس لڑکی کو مار چکا ہو؟ آخر تم نے بھی تو پورے آٹھ سال کے بعد اب آ کر اس کی تلاش شروع کی ہے!”
مزام نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
“پہلی بات تو یہ کہ وہ لڑکی زندہ ہے، اور دوسری بات یہ کہ میں نے دیر اس لیے کیونکہ پہلے مجھے خود اپنی پہچان اور بنیاد بنانی تھی۔ کیونکہ جنگ کے لیے صرف جنگجو نہیں بلکہ ہتھیار اور دماغ بھی ضروری ہوتے ہیں۔”
ازمیر نے اس کی بات کے جواب میں بے نیازی سے کہا۔
“ویل، یہ بھی ٹھیک ہے۔ میں آج ہی اس کیس کی انویسٹیگیشن شروع کرواتا ہوں، اور تم اپنے کنیکشنز استعمال کر کے معلومات نکالنے کی کوش کرنا۔ کوش ہمارے ہاتھ میں، نتیجہ اللہ کے حوالے۔ اگر اللہ نے چاہا تو ضرور سانفر تک پہنچ جائیں گے ہم۔”
مزام نے اسے مسکرا کر امید دلاتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے، پھر کوئی بھی انفارمیشن ملے تو مجھے فوراً اطلاع دینا۔ اب ہم وقت ضائع نہیں کر سکتے۔”
ازمیر نے مزام کو کہتے ہوئے اپنا لیپ ٹاپ آن کر لیا ۔
“ازمیر، مسٹر الطاف نے آج ایک بزنس پارٹی رکھی ہے۔چلو گے؟”
مزام نے بغور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں۔” ازمیر نے نگاہیں لیپ ٹاپ پر جمائے ایک لفظی جواب دیا۔
“ازمیر، تم نارمل ہو جاؤ۔ اب اس بات کو کافی عرصہ گزر چکا ہے۔ وہ بس ایک حادثہ تھا اور کچھ نہیں۔”
مزام نے ملال سے کہا۔
“بعض معاملات میں نارمل ہونا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا، مزام۔ کچھ حادثات آپ زندگی بھر نہیں بھلا پاتے۔”
ازمیر نے بغیر کسی جذبے کے، روبوٹک انداز میں جواب دیا۔
مزام نے افسوس سے سر جھٹکا۔ سامنے بیٹھا انا پرست انسان مزام کی سمجھ سے باہر تھا۔
“خیر، میں شام تک آؤں گا تمہیں پک کرنے۔ ہم؟” مزام نے اٹھتے ہوئے کہا۔
“کیوں؟” ازمیر نے حیرت سے پوچھا۔
“او بھائی، راہمہ کے گھر جانا تھا آج! ڈیفیکٹو میموری!”
مزام نے یاد کرواتے ہوئے اسے لقب سے نوازا۔ وہ ازمیر کی ایک پل کو بھول جانے والی عادت سے سخت تنگ تھا۔
“یاد ہے مجھے۔” ازمیر نے چہرہ چڑھاتے جواب دیا۔
“ہاں بھئی، تم آئن اسٹائن کی اولاد ہو، جانتا ہوں!”
مزام تپ کر کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
ازمیر نے اس “نمونے” کو باہر جاتے دیکھا، بے نیازی سے سر جھکایا، اور دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا۔
گلاس وال سے جھانکتا آٹھ سال پہلے والا وقت اسے گھور رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر ابراہیم کے ساتھ کھڑی ایک مریض کو ڈیل کر رہی تھی کہ اچانک اس کے پاس ڈاکٹر مہر آئیں۔
“السلام علیکم، پلویشا!” انہوں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“و علیکم السلام، ڈاکٹر مہر۔”
“بچہ صائم آیا ہے، باہر آپ کو لینے۔” انہوں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔
پلویشا نے گہرا سانس لیتے ہوئے پہلے آنکھیں میچیں، پھر چور نظروں سے ساتھ کھڑے ڈاکٹر ابراہیم پر نگاہ ڈالی، جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ پھر اچانک تیورہ کر بولے،
“ٹھیک ہے پھر، باقی آپ کو کل بتاؤں گا۔ ابھی ریلیکسیشن مل رہی ہے آپ کو صرف اور صرف ایونٹ کی وجہ سے، ہمم۔” انہوں نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو۔” وہ انہیں شکریہ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
“آپ یہ بتائیں، روم نمبر فورٹی ون میں ایک پیشنٹ تھا، اس کا کوئی بلڈ ڈونر ملا؟”
ڈاکٹر مہر نے ڈاکٹر ابراہیم سے پوچھا جو مریض کی فائل ہاتھ میں لیے پڑھ رہے تھے۔
“ہاں جی، مل گیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر سے بات ہوئی تھی اس بارے میں۔”
“اور ڈاکٹر؟” وہ دونوں اب کسی اور مریض پر گفتگو کر رہے تھے۔
پلویشا نے راہداری پار کی اور ہال میں قدم رکھا ہی تھا کہ وہ نظر آ گیا۔
گہرے گرے رنگ کا تھری پیس پہنے، بالوں کو جیل سے سیٹ کیے، وہ وجیہہ سا صائم شاہ فون کان سے لگائے کسی سے بات کر رہا تھا۔
پلویشا اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھی۔ ہر قدم پر دل کی دھڑکنیں شور مچا رہی تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
“ہیلو، ڈاکٹر پلویشا!” اس نے فون بند کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
اس کے یوں دیکھنے پر پلویشا کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں مگر وہ چہرہ نارمل رکھتے ہوئے سنجیدگی سے سلام کا جواب دے کر بولی،
“آپ کیوں آئے ہیں؟”
“شاپنگ پر لے کر جانا ہے۔” اس نے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا۔
“مگر کیوں؟” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی شرارت سے پوچھ رہی تھی۔
“اس کیوں کا جواب میں آپ کو گاڑی میں دوں گا، چلیں۔”
“اچھا، ایک منٹ ویٹ کریں ذرا۔”
پلویشا نے اسے رکنے کا کہہ کر ڈاکٹر رمشا کو بلانے گئی۔
“پلویشا، دیر ہو رہی ہے!” صائم نے گھور کر کہا۔
“آپ رکیں تو سہی۔ اوہ، ڈاکٹر رمشا! روم نمبر تھری زیرو ون کے پیشنٹ کو چیک کر لیجیے گا۔ میں ابھی کہیں جا رہی ہوں۔”
وہ ڈاکٹر رمشا سے کہہ کر جلدی سے پلٹی۔ صائم اب بھی اسے ہی گھور رہا تھا۔
“چلیں اب۔” وہ گہرا سانس بھرتے ہوئے بولا۔
“چلیں!”
پلویشا ہنستے ہوئے اس کے پاس سے گزری اور چار قدم آگے بڑھ کر محسوس کیا کہ وہ اکیلی ہی چل رہی ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو صائم مسکرا کر وہیں کھڑا تھا۔
پلویشا نے نا سمجھی سے ابرو سکیڑے تو صائم مسکراتے ہوئے اس تک آیا۔ اس کے گلے سے اسٹیتھو اسکوپ اتارا اور ڈاکٹر رمشا کی طرف بڑھایا، جو وہ تھام گئی۔
“اب چلیں۔”
پلویشا نے تیز دھڑکنوں کے ساتھ اس کے ہم قدم ہوتے ہوئے باہر کا رخ کیا۔
“مسٹر صائم اور پلویشا کی جوڑی کمال کی ہے!”
رمشا نے ہنستے ہوئے ساتھ کھڑی نرس سے کہا، جو ساری کارروائی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
“پلویشا، اب بولو بھی! چپ کا روزہ کسی اور دن رکھ لینا۔”
وہ جو اسے گاڑی میں بٹھانے کے بعد پچھلے پندرہ منٹ سے مسلسل ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کے منہ سے کوئی بات سننے کے انتظار میں تھا، اب اس کی خاموشی سے چڑ چکا تھا۔
“کیا بولوں؟” وہ حیرانی سے بولی۔
“حد ہے، مطلب کچھ بھی بولو! ایک تو تم بولنے میں بہت کنجوس ہو۔ مجھے نا تمہاری یہ خاموشی بالکل پسند نہیں۔ میرے ساتھ بس تم بولا کرو!”
صائم نے چڑے انداز میں کہا۔
“اچھا! تو صائم صاحب کو میری خاموشی پسند نہیں؟ واہ، کیا انکشاف ہوا ہے!”
پلویشا نے اسے داد دیتے ہوئے کہا۔
“بالکل! مجھے آپ کی خاموشی بھی پسند نہیں، آپ کا چپ رہنا بھی، اور…”
صائم سامنے سڑک پر نظریں گاڑے بولا، پھر اچانک رک کر پلویشا کی طرف دیکھا ۔
“اور؟”
پلویشا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھی، اس کے اچانک یوں چہرہ موڑ کر دیکھنے پر بے اختیار سانس روکے بولی۔
“اور تمہارا دور جانا!”
صائم نے نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہا۔ لہجے میں زمانوں کا جذبہ سمٹ آیا تھا۔
پلویشا کی دھڑکن تیز ہوئی۔ وہ گھبرا کر چہرہ کھڑکی کی جانب موڑ گئی۔ چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
صائم کا بے اختیار قہقہہ فضا میں گونجا۔ وہ کبھی کھبی پلویشا سے ایسی باتیں کرتا تھا، اور جب بھی کرتا پلویشا یوں ہی گھبرا جاتی۔
پہلے تو وہ ٹھیک ٹھاک صائم کو سنا دیا کرتی تھی، مگر جب سے ان کی شادی کے دن قریب آئے تھے، وہ اس سے کم ہی بات کرتی تھی ۔
“یہ بتائیں، پہلے ڈریس لیں گی یا جوئے، نقلی ڈاکٹر پلویشا؟”
وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔
“پہلی بات، دو تین سالوں میں تم مجھے شہر کی سب سے کامیاب فیمیل ڈاکٹر پاؤ گے، اور دوسری بات، پہلے ڈریس لیں گے!”
وہ یکدم خود کو کمپوز کرتے ہوئے بے نیازی سے بولی۔
“جو حکم، مادام!”
صائم نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔
پلویشا نے مسکرا کر چہرہ دوبارہ کھڑکی کی طرف موڑا اور باہر دیکھنے لگی۔
باہر موسم بہت خوبصورت تھا۔ شام کے پانچ بجے بھی گہری مغرب جیسا دن لگ رہا تھا۔
وہ خود کو اور صائم کو ایک ساتھ اسٹیج پر کھڑا تصور کر رہی تھی۔
یہ خیال پلویشا کو خوش کر رہا تھا۔ اور کچھ ہی دنوں میں یہ سچ ہونے والا تھا۔
پلویشا مسکرا رہی تھی۔
—
اسلام آباد
اسلام آباد کا سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا۔ ہر طرف ٹریفک رواں دواں تھی۔ ایسے میں ازمیر اور مزاحم کی کالی کار بھی پوری رفتار سے سڑک پر بھاگ رہی تھی۔
“اوکے، آئی کال یو لیٹر سر۔ یس، تھینک یو۔”
مزاحم نے کال کاٹنے کے بعد ڈرائیونگ کرتے ہوئے ازمیر سے کہا،
“فلاورز لیتے جائیں گے ازمیر! “
“اس فارمیلیٹی کی کیا ضرورت ہے اب؟” ازمیر نے بے زاری سے کہا۔
“تمہارے لیے نہیں کہہ رہا، اپنے لیے کہہ رہا ہوں۔ اور پلیز راہمہ کو زیادہ مخاطب نہ کرنا۔”مزاحم نے کڑھتے ہوئے کہا۔
“تو تم بھی خود پر توجہ دو گے تو لڑکیاں تمہاری طرف اٹریکٹ ہوں گی، ورنہ ساری زندگی جلتے رہو میری پرسنالٹی سے۔” ازمیر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے چڑایا۔
“رہنے ہی دو، تمہاری طرح مجھے لڑکیوں جیسے شوق نہیں۔ ہر چیز میں تم کانشیس ہو، اور تیار ہونے میں تو پوچھو ہی نہیں، کتنا وقت لگاتے ہو۔ لگتا ہے پچھلے جنم میں تم امیر باپ کی بگڑی بیٹی تھی!” مزاحم نے جلے بھنے انداز میں کہا۔
ازمیر نے اس کی ساری بات پر لعنت بھیجتے ہوئے گاڑی ایک طرف روک دی۔ ہر طرف گاڑیوں کا بہاؤ تھا اور ڈھلتے سورج میں یہ منظر اور بھی مصروف اور شوریدہ لگ رہا تھا۔
“لے آؤ۔” ازمیر بے نیازی سے بولا۔
مزاحم سیٹ بیلٹ کھول کر دروازہ کھولنے ہی والا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے اسکرین پر “اسماعیل صاحب” لکھا دیکھا۔
“یار ازمیر، امپورٹنٹ کال ہے۔ تم ذرا فلاورز لے آؤ، میں یہ سن لوں۔”
ازمیر نے سر جھٹکا اور گاڑی سے باہر نکلا۔ سامنے ہی پھولوں کی ایک دکان تھی۔ وہ چلتا ہوا وہاں پہنچا۔ گلاس ڈور کھول کر اندر داخل ہوا تو اس کے نتھنوں سے پھولوں کی خوشبو ٹکرائی۔ دکان خوشبو سے رچی بسی تھی۔
وہ کوئی بڑی دکان نہ تھی مگر اچھے سے ڈیکوریٹڈ تھی۔ لکڑی کے چھوٹے ریکس اور میزوں پر روزز، ٹیولپس، وائلڈ فلورز اور مختلف اقسام کے پھول سجے ہوئے تھے۔ لمبی میز کے پیچھے ایک لڑکی بیٹھی تھی، چہرہ لیپ ٹاپ کی اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا تھا ۔
“ایکسکیوز می!”
“یس؟” سنجیدہ آواز آئی، چہرہ ویسے ہی لیپ ٹاپ کے پیچھے چھپا تھا۔
“وائٹ ٹیولپس چاہئیں۔”
بدلے میں اس نے دروازے کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔
ازمیر نے حیرت سے دروازے کی سمت دیکھا اور تیورہ کر اس کی طرف مڑنے ہی لگا تھا کہ — وہاں “اوپن” لکھا بورڈ لٹکا ہوا نظر آیا ۔ مطلب، باہر والی سائیڈ پر “کلوز” بورڈ لگا تھا۔
“واہ!” ازمیر نے گہرا سانس لیا اور پلٹنے لگا۔ اسی دوران اس کا فون بجا۔ اس نے فون نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا مگر میز کے قریب ہونے کے باعث کہنی شیشے کے گلدان سے ٹکرائی۔
چھناکے سے گلدان گرا، شیشہ ٹوٹا، پھول اور لال پانی فرش پر بکھر گئے۔ دکان میں شیشے کے ٹوٹنے سے ایک ارتعاش پیدا ہوا تھا ۔
ازمیر نے آنکھیں بند کرتے سانس بھرا تھا ۔
“یہ غلطی سے ہوا…” اس نے بے غیر شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔
“اٹس اوکے، غلطی ہو جاتی ہے۔”
ازمیر اس کی بات سنتے ہوئے مسکرا کر پلٹنے ہی لگا تھا کہ اگلی بات نے اسے چونکا دیا۔
“مگر آپ اس کا ازالہ کر دیں۔ یہ سب صاف کر دیں، اور ہاں، گلدان کے پیسے یہاں رکھتے جائیں۔”
اس نے نہایت سکون سے میز کی طرف اشارہ کیا اور دوبارہ لیپ ٹاپ میں جھک گئی۔
ازمیر چند لمحے اسے دیکھتا رہ گیا پھر ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولتے ہوئے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھتے بولا ۔ “میں پےمنٹ کر دیتا ہوں۔”
“وہ تو آپ کریں گے ہی، کیونکہ نقصان آپ نے کیا ہے۔ مگر فرش بھی آپ نے گندا کیا ہے، تو صاف کر کے جائیں۔ اور پلیز، میں اس وقت بزی ہوں، تھوڑا کوآپریٹ کریں۔”
اتنے میں مزاحم اندر داخل ہوا۔
اس نے ایک نظر ہونک بنے ازمیر پر، پھر فرش پر ٹوٹے شیشے پر ڈالی، سارا ماجرا سمجھتے ہوئے اس نے مسکراہٹ دبائی۔
“ارے محترمہ، یہ تو بہت بڑے وکیل ہیں یہ بھلا یہ فرش کیسے صاف کریں گے؟”
“کیا مطلب؟ ہاتھوں سے کریں گے۔” لڑکی کے ماتھے پر پہلی بار شکن آئی، مگر لہجہ بدستور سنجیدہ تھا۔
ازمیر نے مزاحم کو گھور کر دیکھا اور پھر نظریں اپنی طرف دیکھتی لڑکی کی طرف موڑیں وہ لڑکی اس کو دیکھتے ہوئے سمجھنے والے انداز میں اٹھی، دکان کی بائیں طرف موجود دروازہ کھول کر اندر گئی، اور پول جھاڑو، موپ، ڈسٹ بن لا کر ازمیر کے سامنے رکھ دی۔
جنہیں دیکھتے ازمیر غش کھاتے رکا تھا جبکہ مزاحم کا قہقہہ گونج اٹھا۔
“پلیز جلدی کیجیے گا۔”
ازمیر نے بے بسی سے خود کو دیکھا — ڈیڑھ لاکھ کے جوتے، ڈھائی لاکھ کا سوٹ، ہاتھ میں رولیکس گھڑی، جیب میں مہنگا فون — اور سامنے موپ۔
کیا وہ صاف کرے گا؟ میں؟ یعنی ازمیر علی؟
“دیکھیں پلیز! آپ کی مسٹیک ہے۔ انا کا مسئلہ نہ بنائیں، جلدی کریں۔” لڑکی نے نرمی سے مگر پُرعزم لہجے میں کہا۔
ازمیر نے ایک پل کے لیے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ سامنے کھڑی خوبصورت لڑکی، چہرے پر پراسرار سنجیدگی — اس میں ایسی کشش تھی کہ ازمیر کے ذہن میں لفظ گونجا:
“Mystique” — پراسرار کشش جو طاقت اور حسن کو اکٹھا کرے۔
اور پھر ازمیر نے انا کو خود سے بغاوت کرتے دیکھا۔
اس نے کوٹ اتار کر سائیڈ پر رکھا، گھڑی اور موبائل میز پر رکھے، سفید شرٹ کے کف موڑے، اور پنجوں کے بل نیچے بیٹھ گیا۔
مزاحم حیرت سے اسے جھکتے ہوئے دیکھتا رہ گیا ۔ “آہ، مجھے ضروری کام سے جانا ہے۔ راہمہ ویٹ کر رہی ہے۔ میں ٹیکسی سے چلا جاؤں گا، بائے!” ازمیر جو مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے اپنے ساتھ ملانے کا سوچ رہا تھا مزاحم فوراً سے اس کے ارادے سمجھتے ہوئے جلدی جلدی کہتا ہوا نکل گیا۔
ازمیر نے زہر کے گھونٹ بھرتے اسے پھرتی کے ساتھ جاتے دیکھا اور پھر ٹوٹے شیشے اٹھانا شروع کیے۔ باہر مزاحم نے فون نکالا، کیمرہ آن کیا اور اندر کے خوبصورت منظر کی تصویریں لینے لگا — “کیا سین ہے!” وہ مسکرا کر بولا ۔ یہ منظر روز، روز دیکھنے کو نہیں ملتا۔
فون کی سکرین پر جو منظر کیپچر ہو رہا تھا اس میں ڈھیر سارے پھولوں سے بھری دکان میں بلیک سکرٹ اور وائٹ ڈاؤن شرٹ پہنے ہوئے لڑکی کھڑی اپنے سامنے پنجوں کے بل جھکے سر جھکائے شیشے اُٹھاتے ہوئے مرد کو دیکھ رہی تھی ۔ مزاحم کی لی گئی آخری تصویر پنجوں کے بل بیثھا مرد سر اٹھائے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔
ازمیر نے سر اٹھا کر دیکھا۔ لڑکی ہاتھ باندھے اس کے سامنے ہی کھڑی تھی جیسا پہرا دے رہی ہو ۔
“نہیں بھاگتا میں محترمہ۔”
“آپ بھاگ بھی نہیں سکتے۔” وہ سنجیدگی سے بولی اور پلٹنے لگی تھی کہ ازمیر کے منہ سے ہلکی سی آہ نکلی۔
وہ جلدی سے پلٹی۔
ازمیر کے ہاتھ کی ہتھیلی شیشے سے کٹ گئی تھی۔ خون کے چند قطرے فرش پر گرے۔
“حد ہوتی ہے، مزید گند پھیلا دیا آپ نے!” وہ بے ساختہ بولی۔
ازمیر نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔ کتنی سڑیل لڑکی تھی – ازمیر سوچ کر رہ گیا ۔
“میں ابھی آتی ہوں۔” وہ جلدی سے دوبارا بائیں طرف والے کمرے میں گئی۔
کچھ لمحوں بعد وہ فرسٹ ایڈ باکس لیے واپس آئی۔
“جلدی سے بینڈیج کریں، ورنہ مزید خون فرش خراب کرے گا۔”
ازمیر نے اس کے ہاتھ سے باکس لیا، مگر الٹے ہاتھ سے کھولنے میں دقت ہو رہی تھی۔
“ادھر دیں!” اس نے نرمی مگر سختی سے کہا اور اس کے دائیں طرف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
“رہنے دیں محترمہ، میں کر لوں گا۔”
“آپ دیر کر رہے ہیں، اور مجھے بہت کام ہیں۔ ادھر دیجیے اپنا ہاتھ۔”
ازمیر نے دل ہی دل اس کے تمام کاموں پر نیت ڈالتے ہوئے ہاتھ بڑھا دیا۔
وہ آہستہ آہستہ روئی سے اس کا ہاتھ صاف کر رہی تھی۔ ازمیر کی نظریں اپنے ہاتھ پر تھیں کہ اچانک اس کی نگاہ اس کے سفید، مومی ہاتھوں پر ٹھہر گئی۔ ایک پل کو ازمیر علی کی آنکھوں میں ایک الگ سا رنگ بھر آیا، اور پھر بے اختیار اُس کی نظریں اُس لڑکی کے چہرے پر جا ٹکیں جو نظریں جھکائے، بغیر اس کے ہاتھ کو چھوتی اپنے کام میں پوری توجہ سے مصروف تھی۔
وہ بے حد خوبصورت تھی — مگر اس کے چہرے پر پھیلی غیر معمولی سنجیدگی اُس کی خوبصورتی کو مزید پراسرار بنا دیتی تھی۔ یہی سنجیدگی، یہی خاموشی سامنے والے کو سحر میں جکڑ لیتی تھی۔ اُس کے گہرے بھورے بال چہرے کے اطراف بکھرے تھے۔ جب اُس نے باکس سے پائیوڈین اٹھانے کے لیے چہرہ ذرا سا جھکایا، تو ازمیر نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں میچ لیں۔
وہ خود کو ڈسٹریکٹ محسوس کر رہا تھا۔ اُس نے دل ہی دل میں خود کو جھڑکا اور نظریں سامنے دیوار پر جما لیں۔
چند لمحوں بعد وہ اس کی بینڈیج مکمل کر چکی تھی۔
“اب پلیز، یہ میں خود صاف کر لوں گی۔ آپ پہلے ہی بڑے نازک مزاج نکلے ہیں۔ کہیں اب کی بار کوئی اور نقصان نہ کر بیٹھیں،” وہ جاتے ہوئے بے نیازی سے بولی۔
ازمیر کے حلق میں اس کا مہذب لہجہ کرواہٹ بن کر اتر گیا، مگر اس نے اس بار کوئی جواب نہ دیا۔ وہ بمشکل خود کو اس کی طرف دیکھنے سے روکے ہوئے تھا۔ کوٹ، موبائل، گھڑی سب سمیٹے، والٹ اٹھانے ہی لگا تھا کہ اُس کی آواز نے روکا۔
“یہ لیں—”
وہ سفید ٹیولپس کا نہایت خوبصورت گلدستہ ہاتھوں میں لیے اُس کے سامنے کھڑی تھی۔
ازمیر آگے بڑھا۔ وہ پھول تھامے کھڑی تھی اور وہ اُس سے تین قدم کے فاصلے پر۔ اُس نے ہاتھ بڑھایا تو اُس نے بکے اُس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
“فری میں ہیں یہ؟” ازمیر نے ہلکی حیرت سے پوچھا، جیسے اس کے احسان پر بے ہوش نہ ہو جائے۔
“نہیں، آپ نے اس کی پیمنٹ گلدان کے پیسوں کے ساتھ کر دی ہے۔” اُس نے چہرہ اٹھا کر جواب دیا۔
ازمیر علی کی چمکتی سیاہ آنکھیں، سامنے کھڑی اُس لڑکی کی ہلکی بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں —
اور پھر۔۔۔
وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ چاند، تارے، سب سانس روک گئے۔ سمندر کی لہریں ساکن ہوئیں، سیاروں کی گردش تھم گئی۔ گھڑیال کی سوئیاں آگے بڑھنے سے انکاری ہو گئی ۔
اسلام آباد کی فضا میں جیسے کسی انجان انہونی کی سرگوشی گونجی۔
ایک لمحے کا کام تھا تھا — اور ازمیر نے نظریں پھیر لیں۔
بغیر مڑے، بغیر کچھ کہے، دروازے کی طرف بڑھا اور باہر نکل گیا۔
وہ ٹھہرتا، تو شاید سانس لینا محال ہو جاتا۔
اُس کے جانے کے بعد وہ اپنی ٹیبل پر آئی، لیپ ٹاپ بند کیا، اور پھر فرش صاف کرنے لگی۔
بیس منٹ بعد:
وہ فرش صاف کر چکی تھی اور اب سامان سمیٹ رہی تھی کہ اُس کی نظر میز کے ایک کونے پر پڑے والٹ پر ٹھہری۔
“ہنہ… یہ پکڑے گئے مجرموں کو غیر ذمہ دار وکیل!” وہ زیرِ لب بولی اور والٹ اٹھایا۔
اندر بہت سے نوٹوں کے ساتھ چند کارڈز بھی تھے۔ اس نے ڈھونڈ کر اس کا آئی ڈی کارڈ نکالا اور اپنے موبائل میں اُس کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
ابھی آدھا نمبر ہی ڈالا تھا کہ اُس نے وقت دیکھا — ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔
اس نے صبح فون کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے موبائل بند کیا، لائٹس آف کیں، دکان کا دروازہ بند کیا اور باہر نکل گئی۔
دکان کے اندر اب بھی پھولوں کی مہک کے ساتھ ازمیر کے پرفیوم کی خوشبو رچی بسی تھی — جیسے وہ گیا ہو، مگر اُس کا وجود اب بھی وہیں ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
اسلام آباد کا سیکٹر 7-E شہر کے سب سے پوش اور پرائیویٹ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ مارگلہ ہلز کے عین دامن میں واقع اس علاقے میں کنسٹرکشن اینڈ آرکیٹیکچر فرم کی بلند و بالا عمارت اپنی شان و شوکت کے ساتھ ایستادہ تھی۔
عمارت کے سامنے ایک قیمتی سیاہ کار آ کر رکی۔ فرنٹ سیٹ سے سیکریٹری باہر نکلا اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا۔
گاڑی سے لاکھوں کے شوز پہنے، سیاہ سوٹ میں ملبوس وہ شخص باہر نکلا — موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوئے پرسکون چال سے اندر کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی وہ گلاس ڈور کے سامنے پہنچا، دروازے خود بخود کھل گئے۔
ساتھ چلتا سیکریٹری اس کی رفتار سے قدم ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“سر، مسٹر آصف پچھلے ایک گھنٹے سے میسج کر رہے ہیں کہ آپ کب آفس پہنچیں گے؟”
سیکریٹری نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
“ہمم…”
سامنے والے نے بس اتنا کہا اور چلتا رہا۔
“گڈ مارننگ سر، یہ دیکھیں!”
ایک جونیئر ڈیزائنر ہاتھ میں کچھ ڈرافٹس لیے بھاگتا ہوا آیا۔
“گڈ مارننگ۔ انہیں ٹھیک پانچ منٹ میں میرے آفس لے آنا، اوکے؟”
اس نے مسکراتے ہوئے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جی سر!”
جوان لڑکا خوشی سے بولا۔
آس پاس موجود لڑکیاں کام چھوڑ کر اسے دیکھنے لگیں۔ وہ انتہا کا ڈیسنٹ اور پرکشش مرد تھا — اس کی پرسکون چال، مہذب لہجہ، اور ہلکی مسکراہٹ، گویا سراپا دلکشی تھی۔
“میں نے اتنا ویل مینرڈ بندہ زندگی میں نہیں دیکھا!”
ایک ورکر نے سرگوشی کی۔
“انکل لگتے ہیں تمہارے!”
ساتھ والی نے دبی ہنسی چھپاتے کہا۔
“چپ کر، سارا موڈ خراب کر دیا!”
پہلی لڑکی نے خفگی سے جواب دیا۔
وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔
“عزیز، اب مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ ہمم؟”
“جی سر!”
آفس کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ اندر صوفے پر بیٹھے مسٹر آصف اضطرابی انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ایک ٹانگ جھلا رہے تھے۔
“ہیلو مسٹر آصف، آئی ایم ریئلی سوری، میں ذرا لیٹ ہو گیا۔”
اس نے شائستگی سے کہا۔
مسٹر آصف نے زہرخندہ نظروں سے دیکھا۔
“میں پچھلے ایک گھنٹے سے تمہارے سیکریٹری کو میسج کر رہا ہوں!”
“اصل میں عزیز نے ابھی آفس میں آتے ہی بتایا کہ آپ ویٹ کر رہے تھے۔ کیوں عزیز؟”
اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
عزیز کے پسینے چھوٹ گئے۔
“جی سر، میں ہی بھول گیا تھا۔ میرا موبائل پاور آف تھا، اس لیے…”
آصف کا غصہ ابال کھا گیا۔
پاور آف ہونے کے باوجود نوٹیفیکیشن ملتے رہے؟ زبردست استاد تو استاد شاگرد نے بھی ناک میں دم کر رکھا تھا!
انہوں نے دل میں سوچا اور تیوری چڑھائے میز کی طرف آئے اور کرسی کھینچ کر اس پر براجمان ہوئے ۔
“دیکھو، میں یہاں صرف—”
اس سے پہلے مسٹر آصف کچھ کہتے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
مسٹر آصف نے مٹھیاں بھینچ لیں اور دانت پیستے ہوئے سامنے دروازے کی طرف دیکھا ۔
“منا بھی کیا تھا کہ کوئی ڈسٹرب نہ کرے… کم اِن!”
وہ مصنوعی غصے سے بولا۔
“سر، میں وہ ڈیزائن دکھانے آیا تھا۔”
“دکھاؤ!”
وہ ڈیزائن دیکھ کر مسکرایا۔
“اچھے ہیں۔ مگر جب تم نیا گھر لوگے، تب لاونج میں ایسا ہی ورک کرنا۔ انہیں سنبھال کر رکھنا۔”
“جی سر…” نوجوان دل ہی دل میں کلس گیا۔
“جی تو مسٹر آصف، آپ کہہ رہے تھے…؟”
وہ اب مکمل سنجیدگی سے ان کی طرف متوجہ ہوا۔
“مرزا حاکم، تم اس کانٹریکٹ میں سے شق نمبر تین خارج کرو۔”
انہوں نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“سوری سر، یہ ممکن نہیں۔ یہ میری ویلیوز کے خلاف ہے۔”
اس کا لہجہ پرسکون تھا۔
“ارے بھاڑ میں گئی تمہاری ویلیوز! یہاں میرے پورے کیریئر کا سوال ہے!”
آصف کے چہرے پر رگیں تن گئیں۔
“عزیز، سر کو پانی دو۔”
اس نے بدستور نرم لہجے میں کہا۔
“مجھے نہیں چاہیے پانی! وہ غرائے۔”
“جیسا آپ مناسب سمجھیں۔ ویسے میں ایک اچھے ڈیزائنر کا نمبر آپ کو ای میل کر دیتا ہوں۔ وہ آپ کی ڈیمانڈ پر پورا اترے گا۔”
“دیکھو، تم اچھا نہیں کر رہے…”
“اوہ، تو نمبر دینا اچھا نہیں؟ چلیں، میٹنگ رکھوا دیتا ہوں۔ اب خوش؟”
آصف کی برداشت جواب دے گئی ان کے کانوں سے باقاعدہ دھواں نکل رہا تھا مرزا حاکم سے بحث کرنے سے بہتر اپنا سر پیٹ لینا بہتر تھا ۔
انہوں نے گہرا سانس لیا اور شکستہ لہجے میں بولے،
“ڈیل ڈن۔”
“تھینک یو سر!”
اس نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“اگر میں دو کروڑ کی انویسٹمنٹ نہ کر چکا ہوتا، تو کبھی تمہاری بات نہ مانتا!”
آصف غرائے۔
“تب بھی انجام یہی ہوتا۔”
مرزا نے دھیرے سے مسکرا کر کہا۔
آصف نے اسے غصہ سے دیکھا ہلکی بھوری آنکھیں ترک نقوش اور اس کی وہ مسکراہٹ، آہ وہ مسکرا کر لوگوں کو ڈھیر کیا کرتا تھا ، وہ اس پر اپنی آخری نظر ڈالتے باہر کی طرف چل دیئے ۔
وہ کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔
“آخر جب میری بات ماننی ہی ہوتی ہے تو ایڑی چوٹی کا زور کیوں لگاتے ہیں!”
وہ ہنستے ہوئے بولا۔
“وہ آپ کی بات مانتے نہیں سر، آپ انہیں زچ کر دیتے ہیں!”
عزیز نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“دم ہے تمہاری بات میں، عزیز!”
وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
“سر، اے جی ڈی اے کمپنی کے مینیجر سے بات ہوئی۔ اگلے ماہ کی تاریخ دی ہے۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ اس ہفتے آپ کو ترکی جانا ہے، پھر زوروچی میں میٹنگ، اور آخر میں لاہور۔”
“آہ عزیز، جینے دو یار!”
“میرے بس میں ہوتا تو ضرور جینے دیتا سر!”
عزیز ہنستا ہوا باہر نکل گیا۔
مرزا نے لیپ ٹاپ بند کیا، سر کرسی کی پشت سے ٹکایا، اور دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھنے لگا۔
آنکھوں کے سامنے ماضی کے مناظر تیرنے لگے — ہر منظر میں مسکراتا ہوا وہ، اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک گہری چبھن۔
اس نے آنکھیں بند کیں، پھر کھول کر میز پر رکھے فوٹو فریم کو دیکھا۔
“مرزا حاکم، حکمرانی کے لیے پیدا ہوا ہے…”
وہ مدھم لہجے میں خود سے بولا۔
فریم میں قید مسکراتا چہرہ اسے گھور رہا تھا —
کاش تصویروں میں بھی جان ہوا کرتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
