سایہ زاد
ازقم دعا شاہد
نوٹ
یہ کہانی مکمل طور پر فکشن ہے ،اس کا اور اس کے کرداروں کا اصل زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
“پتہ ہے زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ کونسا ہوتا ہے؟ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم سے ہمارا کوئی اپنا دور جارہا ہوتا ہے لیکن ہم چاہ کر بھی اسے روک نہیں پاتے”
وقت : رات 11 بجے
سوات کی کچی گلیوں پر وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی ،برستی ہوئ تیز بارش اسے پتھر کی طرح لگ رہی تھی ،وہ دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے اپنے بھاری کامدار لہنگے کو تھامے ،کندھے پر بیگ اٹھائے تھی ، اس کے پاوں میں پہنی ہوئ ہیلز اب بھاگنے سے انکار کر رہی تھی ،لیکن پھر بھی وہ پوری طاقت سے دوڑ رہی تھی ،اسی لمحے آسمان پر بجلی پوری زور سے گرجی جیسے ابھی آسمان چیڑ کر زمین پر نازل ہوجائے گی ،بجلی کی چمک سے اس لڑکی کا سراپا واضح ہوا، کندھے تک آتے بھیگے گھنگھریالے بال ،آنکھوں پر چشمہ لگائے،پشمینہ شال کو مفلر کی طرح گردن کے گرد اوڑھے اس لڑکی کے چہرے پر ڈھیروں ناگواری کا بسیرا تھا ،کچھ دیر تک وہ وہی کھڑی ہوکر آسمان کو گھورتی رہی،جیسے ابھی آسمان اور اس سے برستی بارش کو چبا ڈالے گی،شاید آج قدرت بھی اس کا امتحان لے رہی تھی ،وہ آگے چل پڑی، اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کافی دور اگئ تھی ،سوات کی اس جگہ پر غیر معمولی طور پر زیادہ سناٹا تھا ،آس پاس جھاڑیاں اور بڑے بڑے درخت موجود تھے ،دور دور تک کوئی بندہ بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا ،اسی لمحے قریبی جھاڑیوں میں ہلچل ہوئی ،اس کا پورا جسم خوف سے ساکت ہوا ،آئےگل نے بےاختیار قدم پیچھے لیے ،اس کی نظریں ان جھاڑیوں پر مرکوز تھی ، آنکھیں خوف سے پھیلی،ایک دم جھاڑیوں میں حرکت رکی تو اسکے قدم بھی رکے ،اس نے گہری شکر کی سانس لی ،لیکن اگلے پل دوبارہ سے جھاڑیوں میں ہولناک سی حرکت ہوئی ، ان جھاڑیوں سے عجیب وحشت ناک سی رونے کی اواز آنے لگی ،جو کسی کتے یا بلی کی رونے کی آواز نہ تھی ،وہ آواز بہت دھیمی اور وحشیانہ چنگھاڑ جیسی تھی ،آئےگل کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئ ، سمجھ انے پر اس نے چلانے کی کوشش کی لیکن چیخ ہلق میں پھنس گئ ، اس نے پیچھے مڑ کر دوڑنے کی کوشش کی اسی لمحے کسی کے مضبوط ہاتھوں نے اسے کندھوں سے تھام کر خود سے ٹکرانے سے روکا ،وہ ٹھٹھکی، اور پوری قوت سے اس شخص کو دور گھسیٹا، اور ٹارچ کی روشنی اس کے چہرے کی طرف کی ۔
اوہ تو تم ایک انسان اوہ خدا بچا لیا ،میں تو سچ میں ڈر گئ تھی ، اس کا تنفس پھولا تھا، وہ سینے پر ہاتھ رکھے جھک کے گہرے سانس لے رہی تھی،وہ شخص عجیب الجھن سے اسے تک رہا تھا۔
ایسے کون بچاتا ہے ،اگر مجھے ہارٹ اٹیک آجاتا تو تم مجھے ہاسپٹل لے کر جاتے ،اب وہ حد درجہ بہتر تھی ،وہ اس کے قریب ہوئی وہ اب بھی اسے ہونکو کی طرح تک رہا تھا
ہیلو کیا ؟؟ آئےگل نے اس کے چہرے کے پاس اپنا ہاتھ لے جا کر دائیں بائیں کیا ،وہ جیسے ہوش میں آیا
جی؟
جی نہیں کیا؟؟ ،تم یہاں کیا کر رہے تھے ؟،وہ اکتائ
میں یہاں سے جارہا تھا تو میری کار خراب ہوگئی، اور مجھے آپ دکھی مجھے لگا آپ مصیبت میں…..
اچھا بس بس تمہیں لگا کہ ایک اکیلی لڑکی مصیبت میں ہے تو اسے بچا کر اس کی کہانی کا ہیرو بن جاتا ہوں، اس نے اپنے چشمے کے پیچھے چھپی مخمور آنکھیں مزید بڑی کی اور لڑکے کی بات کاٹی۔
میں تو بس تمہاری مدد کے لیے آیا تھا ،وہ سنبھلا
اچھا اب کرلیں مدد جاو اپنے رستے ،آئےگل نے سڑک کی طرف بازو لمبا کر کے جانے کا اشارہ کیا لیکن جب وہ وہی اکڑوں کھڑا رہا تو وہ اسے کرخت نظروں سے گھورتی آگے بڑھ گئ (اسے اکیلے جانے میں شدید ڈر لگ رہا تھا لیکن وہ خود سے بول کر اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جاسکتی تھی)۔
سنو کیا میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں مجھے کافی ڈر لگ رہا ہے اندھیری رات ہے ،برستی بارش اور جنگلی جانور بھی موجود ہونگے اور مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے ، اس نے مصنوعی ڈر کا اظہار کرتے کہا(اس نے اس لڑکی میں عجیب کشش محسوس کی ،وہ وجہ نہ جان سکا)
ائےگل نے اہنی مسکراہٹ چھپا کر اس کی طرف چہرہ کیا اور آنکھیں مٹکائی، وہ اس کے قریب آئی، آئےگل نے ایک دفعہ پھر اس کے چہرے کی طرف نظر درائی ،تو چشمے پر بارش کی وجہ سے دھندلاہٹ چھائی ،وہ جھنجھلائ اور چشمہ اتار کر اپنی شال کے خشک کونے سے چشمه صاف کر کے آنکھوں پہ دوبارہ لگالیا اور اسے دیکھا، (گندمی رنگت، لمبا قد آور چند دنوں کی بڑی ہوئ داڑھی وہ اسے شریف گھر کا لاڈلا بیٹا لگا)۔
تم میرے ساتھ چل سکتے ہو، کیا سوچو گے کہ تمہارا ملک خاندان کی بہادر بیٹی سے پالا پڑا تھا،وہ لڑکی اپنی تعریف کرنے میں ماہر تھی ،جیمز کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ نے رقص کیا
اور مائنڈ اٹ اگر ڈر لگے تو مجھ سے چار فٹ دور ہو جانا ،وہ شوخیہ بولی اور آگے چل پڑی، ڈریس شرٹ کے اوپر سیاہ جیکٹ میں ملبوس سنجیدہ گو لڑکا اور بھاری کامدار شادی کے جوڑے میں ملبوس چلبلی سی لڑکی وہ ایک دوسرے کے ہمراہ چل رہے تھے۔
تمہارا نام کیا ہے ،آئےگل نے برستی بارش کے شور کو توڑا
جیمز جاکسن، گہرا سانس لیا
غیر مسلم ہو ؟ کسی خدشے سے پوچھا گیا
غیر مسلم نہیں ہوں لیکن غیر ملک سے ضرور ہو ،وہ سپاٹ لہجے میں بولا
اوہ ،اس کے ہونٹ گول ہوئے
اور تمہارا نام کیا ہے ،
آئےگل،آئےگل ملک ،جیمز نے محسوس کیا کہ اس لڑکی کے لہجے میں باتیں کرتے وقت یہ پہلی دفعہ تھا کہ شیریں گھلی ۔
تمہیں میں کیسی لگی ،آئےگل نے اشتیاق سے پوچھا ،وہ چونکا
مجھے کیا پتہ ،جیمز نے نہ سمجھی سے کندھے اچکائے (اسے وہ لڑکی عجیب لگی)
ارے یار بتاو نہ ،ائےگل نے منت کی ( اسے عادت تھی وہ جب بھی کسی نئے انسان سے ملتی تو ان سے اپنے متعلق رائے ضرور لیتی ،اسے اپنے بارے میں جاننے کا شوق تھا)
،جیمز جان چھڑانے کے انداز میں اس سے آگے بڑھ گئا
اسے آگے جاتا دیکھ کر اس نے افسوس سے سر جھٹکا اور پھر بھاگتی ہوئ اس کے آگے جا کھڑی ہوئ ،اب وہ اگر دائیں یا بائیں طرف سے گزرنے کی کوشش کرتا تو وہ راستے میں آکر اس کا راستہ روک لیتی وہ اسے اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی۔
تم مجھے امیر باپ کی بگڑی ہوئ اولاد لگ رہی ہوں،جیمز نے سنجیدہ لہجے میں کہا وہ دونوں اب پھر سے چلنے لگے۔
تم نے کچھ سہی بولا اور کچھ غلط،میرے پیرینٹس امیر ہیں لیکن میں غریب، آئےگل نے مصنوعی آنسو پونچھے
لیکن تم گھر سے بھاگی کیوں، جیمز کا اشارہ اس کے شادی کے جوڑے کی طرف تھا۔
میری شادی ہورہی تھی اس لیے ،وہ لاپروائی سے بولی
زبردستی؟؟
ارے نہیں مرضی سے ،وہ چونکا
تو پھر بھاگی کیوں، وہ جھنجھلایا ہوا نظر آرہا تھا
موڈ بدل گیا ،ائےگل نے بغیر اسے دیکھتے کہا
موڈ؟ واٹ؟ رئیلی، جیمز حیرت ذدہ تھا ،آئےگل نے کندھے اچکائے
یو نو واٹ ؟غلطی تمہاری نہیں ہے تمہارے پیرنٹس کی ہے جن کو تمہاری شادی کرنے کی بجائے تمہاری بےبی سیٹنگ رکھوا کر دینی چاہیئے تھی ،جیمز نے کہا تو ائےگل نے شعلہ بار نگاہ اس پر ڈالی۔
مجھے بیبی سیٹنگ کی ضرورت ہے ؟ اگر میری یہ بھاری ہیلیز تمہارے سر پر پڑی نہ تو تمہیں یہ ساری دنیا اپنے سر پر ناچتی ہوے محسوس ہوگی ۔وہ اپنی دونوں آنکھیں گھماتی کمر پر ہاتھ رکھے بولی (جیمز کو وہ لڑکی خوبصورت مصیبت لگی) ۔
جیمز نے گہرہ سانس لیا اور سرینڈر کرنے کے انداز میں دونوں ہاتھ اوپر کیے جو کہ جنگ ختم کرنے کی درخواست تھے۔
تمہارے پاس موبائل ہے،میرا ڈیڈ ہوگیا ہے،ائےگل نے چلتے پوچھا کافی دیر سے وہ کچی گلیوں سے نکل ہی نہیں پارہے تھے
نہیں، اس نے سادگی سے کیا
کیوں، ائےگل کو حیرانی ہوئی
میں غریب ہوں اس لیے،
کیا غیر ملکی سارے تمہاری طرح غریب ہی ہوتے ہیں، ائےگل نے طنز کیا
نہیں صرف میں ہی غریب ہوں، اس کا چہرہ سنجیدہ تھا
ائےگل نے چور نظروں سے اسے دیکھا ،وہ پرکشش تھا ،اس کی آنکھیں چھوٹی تھی لیکن جب وہ مسکراتا تو اور بھی چھوٹی لگتی اس نے ملنے سے لے کر اب تک اسے صرف ایک دفعہ مسکراتے دیکھا تھا ،آئےگل کو اس کی گھنی بھنویں حسین لگی ۔
تم اداس ہو یا ناراض ؟ ،ائےگل نے سنجیدہ نگاہ اس پر ڈالی
تم ہر وقت اتنا ہی بولتی ہوں،وہ تنگ آیا
نہیں۔
پھر ؟
کبھی کبھی سانس بھی لے لیتی ہوں۔ائےگل معصومیت سے بولی تو جیمز چہرہ چھپا کر بےساختہ مسکرا دیا۔
نہ میں ناراض ہو اورنہ اداس ، کچھ دیر بعد وہ بے تاثر بولا
لیکن تمہری آنکھیں تو کوئ اور داستان سنا رہی ہے،
تم نے میری آنکھوں میں کب دیکھا ،وہ شوخ انداز میں گویا ہوا ،ائےگل ٹھٹھکی(کمبخت بڑا تیز تھا)۔
تم بات بدل رہے ہو ،وہ چڑ گئی
کیا تم کسی سے محبت کرتے تھے اور وہ تمہیں نہیں ملی،آئےگل نے بغور اس کا چہرے دیکھتے پوچھآ
محبت؟ وہ چونکا اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے تلخ سا مسکرایا
محبت سے میرا کوئی لینا دینا نہیں آئےگل، اور اگر محبت بچھڑ بھی جاتی تو اتنا دکھ نہ ہوتا ،جتنا آپ کو خود کے لیے کچھ بھی نہ کر کے ہوتا ہے ،وہ پراسراریت کا مورت تھا۔
مایوسی شیطان کا دوسرا نام ہے۔
میں مایوس نہیں ہوں تھک گیا ہوں، ائےگل کو وہ واقعی میں تھکا ہوا لگا ،اب دونوں کے درمیان لمبی خاموشی چھا گئ تھی
تم عجیب باتیں کرتے ہو ،ائےگل کی آواز ابھری
لوگ بھی مجھے یہی سمجھتے ہیں۔
میں نے کہا کہ تم عجیب باتیں کرتے ہو ،یہ نہیں کہا کہ تم عجیب ہو۔اس نے وضاحت پیش کی
مجھے نہیں لگتے ،ائےگل کا لہجہ سکون آمیز تھا
اسی لیے تو تم مجھے اچھی لگی ،وہ مسکرا کر بولا تو وہ چونکی
تمہارا سب سے بڑا خواب کیا ہے ،ائےگل نے اس کا چہرہ دیکھتے پوچھا
میری کوئ خواہش نہیں، سپاٹ سا لہجہ
یوں تو نہ کہو سب کی کوئ نہ کوئی خواہش یا خواب ضرور ہوتا ہے ،وہ خفا ہوئی
مجھے ایک عرصے سے کوئ خواب نہیں آیا آئےگل ،عجیب ہے نہ ،ائےگل تذبذب کا شکار ہوئی
تمہاری کیا خواہش ہے ،اس نے ماحول کا تناو ختم کرنے کی کوشش کی ،سیاہ سڑک پر زردی مائل جگنو ٹمٹمانے لگے،یوں گمان ہوا جیسے وہ سیاہ سڑک پر سونا بکھیر رہے ہوں۔
میری خواہش ہے کہ کاش میں کسی محل کی فیری ہوتی ،وہ ایک جادوئی دنیا ہوتی ،جہاں رات کو جگنو میرے گرد چراغوں کی طرح جلتے ،اور پھر وہاں پہ مجھے میرا شہزادہ ملتا ،وہ میرے گھنگھریالے بالوں میں اپنے پسندیدہ پھول سجاتا ،وہ سڑک پر ہاتھ پھیلائے سحرزدہ لہجے میں بولی ،جگنو چلے گئے، تواسنے ہاتھ نیچے کر لیے ۔
تمہیں فیری ہی کیوں بننا ہے ،میرا مطلب ہے تم شہزادی بھی تو بن سکتی ہو ،جیمز کے لہجے میں تجسّس ابھرا
کیوں کہ فیری ٹیل میرے تخیل کو مسحور کرتی ہیں،ائےگل نے جیمز کی آنکھوں میں دیکھتے کہا ،دونوں کی نظروں نے خود کو ان کے طلسم میں جکڑا پایا ،آئےگل کو فیری ٹیل مسحور کرتی تھی تو جیمز کو اس کی نظروں نے مسحور کیا۔
دونوں کے درمیان لمبی خاموشی چھا گئی۔
آسمان پر بجی زور سے گرجی تو اس کی آواز کانوں پھاڑنے والی تھی ،جیمز نے نظریں آسمان کی طرف سے ہٹاتے ہوئے آئےگل کی طرف کیں، تو وہ آنکھیں بند کو کے ہاتھوں کی مٹھی بنائے سینے ہر رکھے کچھ بڑبڑا رہی تھی ،جیمز کو سننے میں دکت ہوئ ،اس نے اپنا چہرہ ائےگل کے نزدیک کیا۔
بابا فرید گنج شکر،بابا فرید گنج شکر، وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی ،جیمز نے سنا لیکن سمجھ نہیں پایا، وہ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا ،ائےگل نے پہلے ایک آنکھ کھولی پھر دوسری ،آئےگل کو اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ چند قدم پیچھے ہٹا۔
کیا ؟ بچپن میں دادی سے سیکھا تھا اب تک زبان پر چڑھا ہے ،وہ معصومیت سے بولی،جیمز کو محسوس ہوا جیسے وہ شرمندگی محسوس کر رہی ہو ،اسنے نظروں کا رخ بدلا
(اسے اب کی بار وہ معصوم لگی)۔
بارش رک چکی تھی لیکن تیز ہوائیں چل رہی تھی ،بھاری گیلے لہنگے اور ٹھنڈی تیز ہوا نے آئے گل پر کپکپاہٹ طاری کی ،اسے ہیلز کی وجہ سے چلنے میں بھی مشکل ہورہی تھی
جیمز نے بغیر کچھ کہے اپنی جیکٹ اتار کر آئے گل کے کندھوں پر پھیلادی ،اس کی اس حرکت پر آئےگل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئ، اس قدر سردی میں بھی اس کے گال تپ اٹھیں۔
اگے چلنے ہر انہیں روڈ پر کی روشنی نظر اگئ ،آئےگل نے مسکرا کر جیمز کی طرف دیکھا جو اسی طرف ہی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا ،
چلیں اب ہم لفٹ کا انتظار کر لیتے ہیں یہاں، وہ بولی تو پرجوش تھی
تمہیں جانا کہا ہے ،
مجھے بھی غیر ملکی ہونا ہے ،ائےگل نے اپنا پاسپورٹ دکھایا ،
اور تمہیں؟
مجھے بھی واپس جانا ،زبان اور دل نے ساتھ دیا لیکن دماغ نے نہیں۔
تم نے ٹکٹس بک کروائی ہے ۔
ہاں گھر سے بھاگنے سے پہلے میں نے کروائیں تھی ۔وہ فخریہ انداز میں مسکرائ۔
وہ جلدی سے قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی لیکن اچانک ہیلز کی وجہ سے گرنے لگی کہ اس نے جیمز کے کندھے کا سہارا لیا ۔
بے اختیار اس کی کراہ نکلی ۔وہ اب اور نہیں چل سکتی تھی ،(لیکن شاید ابھی قسمت نے اسے بہت بھگانا تھا اور اس کے قدم ابھی جواب دے گئے تھے)
یہاں بیٹھو، جیمز نے اس کا بازو پکڑتے قریبی بینچ پر بٹھایا جہاں پر لیمپ پوسٹ کی زرد روشنی پھیلی تھی ،جیمز اس کے قدموں میں گھٹنے کے بل بیٹھا اور اپنے بیگ میں سے شوز نکال کر بنا کچھ کہے اس کے پاوں اپنے ہاتھوں سے صاف کر کے پہنائے ،ائےگل دھنگ رہ گئ ،اسے اپنی آنکھوں پر جیسے یقین نہیں آیا وہ بے تاثر چہرے سے اس کے قدموں میں بیٹھا تھا ۔شوز پہنانے کے بعد وہ کھڑا ہوا اور بنا کچھ کہے آئےگل کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ،ائےگل اس کا ہاتھ تھام کر کھڑی ہوگئ ،اب انہیں کسی لفٹ کا انتظار تھا۔
تمہیں پتہ ہے آئےگل تمہاری یہ مسکراہٹ تمہارا چلبلا پن پی تمہری اصل طاقت ہے ،دنیا بہت ظالم ہے یہ انسان کے اندر کے بچے کو مار دیتی ہے ،تم پریشانی کے ماحول میں بھی مسکرا دیتی ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تم بہادر ہو ،تمہیں کوئ ڈرا نہیں سکتا، دھمکا نہیں سکتا، آئےگل ساکت ہوئی ،اس نے اپنا نام ہزرا دفعہ سنا تھا لیکن آج اس اجنبی سے اپنا نام سن کر اسے انے نام سے انسیت محسوس ہوئی(وہ اس کی مسکراہٹ کو بہادری کا نام دے رہا تھا لیکن لوگ تو اسے بیوقوف کہتے تھے)۔
تم نے بہت اچھا کیا تم شادی سے بھاگ گئ،شادی دو انسانوں کا بندھن ہوتا ہے۔ دو لاشوں کا نہیں، اگر تم وہاں رہتی تو تمہارا جسم تو وہاں ہوتا لیکن روح مر جاتی ،آور روح کا مر جانا انسان کے مرنے سے کہیں زیادہ خوفناک ہوتا ہے ،اس کے کہنے کا انداز اس قدر سست اور پرکشش تھا کہ آئےگل کو لگا کہ ساری دنیا سناٹے میں اگئ اور وہی بول رہا ہو ،(وہ کس قدر میٹھا بولتا تھا)۔
جیمز نے چہرہ اس کی طرف کرتے کہا تو ائےگل نے مسکرا کر سر ہولے سے ہلایا
تمہیں وہ آواز یاد ہے ،ائےگل نے یاد آنے پر پوچھا
کیسی آواز،
وہی آواز جو جھاڑیوں سے آرہی تھی ،
نہیں مجھے نہیں معلوم،وہ انجان بنا
اگر آئی بھی تھی تو وہ کسی جانور کی ہوگی یا شاید کتے بلی کی ،
آئےگل نے نفی میں سر ہلایا
نہیں مجھے نہیں لگتا، اس نے سینے پر بازو لپیٹے کہا
تمہیں لگتا پے کہ وہاں کوئی ہوائ مخلوق تھی ،جیمز کا انداز ہنسی اڑانے والا تھا،آئےگل نے اسے افسوس سے اسے دیکھا۔
تم قسمت پر یقین رکھتے ہو ؟
نہیں، ایک لفظی جواب آیا
پھر مجھ سے ملنا کیا تھا،
ایک معجزہ، اس کے لب بے آواز ہلے
کیا ؟
ائےگل نے اس کے پاس ہوتے پوچھا
کچھ نہیں،
تم کس کی جستجو میں ہو جیمز جاکسن، ؟ وہ بولی تو وہ زخمی سا مسکرایا
خود کی اور سکون کی۔ وہ بولا تو آواز کھائ سے آتی معلوم ہوئی
مجھے نہیں پتا تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے جیمز لیکن میں سچ میں چاہتی ہو کہ تم ہیل کرلو تم ایک اچھے انسان ہو ،تمہیں سکون کسی اور سے نہیں خود سے ملے گا، تم سکون کا دوسرا نام ہو جیمز جاکسن ،وہ بولی تو لہجے میں نرمی تھی
اس کے لب ہلکے کھلے رہ گئے۔پھر وہ سنبھلا اور ائےگل نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جیسے جواب کا انتظار کر رہی ہو، لیکن وہ خاموش رہا۔
تمہیں منزل پسند ہے یا سفر ؟ اس نے بات بدلی
سفر ,وہ اسے دیکھتا نرمی سے بولا
وہ کیوں؟
کیونکہ منزل اختتام ہے ۔
اور سفر سفر کیا ہے ،آئےگل نے چونک کر اسے دیکھا
سفر ،سفر زندگی ہے ،جیمز کی نظروں نے آئےگل کو حصار میں لیتے کہا۔
وہ سوال پوچھنے کی عادی تھی اور وہ ناچاہتے ہوئے بھی جواب دینے کا عادی۔
انہیں دور سے ایک کار آتی دکھائی دی ،آئےگل بھاگ کر کار کے پاس ہوئ، وہ گاڑی روک کر اس آدمی سے بات کرنے لگی ۔
ہمیں اسلام آباد ایئرپورٹ جانا ہے ،وہ ہربڑی میں بولی
بیٹھے چھوڑ دے گے میڈیم، آدمی نے کہا
رکے وہ میرا دوست بھی ہے اس نے بھی جانا ہے، آئے گل نے کار کی ایک سائیڈ پر اپنے دھیان کھڑے جیمز کی طرف اشارہ کیا۔
کونسا دوست میڈیم وہاں تو کوئ نہیں، آدمی اس طرف دیکھنے کے بعد الجھن سے پوچھا
آئےگل چونکی ،اور پھر دوبارہ اس طرف دیکھا ،
ابھی تو دیکھایا میں نے ،وہ بڑبڑائی،جہاں اب کچھ نہ تھا
ایک منٹ میرا دوست ہے میرے ساتھ میں دیکھ کر آتی
ہو،آدمی کو وہ خوفزدہ نظر ائ ،(یہ خوف کسی کے کھو جانے کا تھا)
وہ آہستہ قدم اٹھاتی کار کے پیچھے گئ تو جیمز دور جاتا ہوا نظر آیا، آئےگل نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن پاوں کا درد بڑھتا محسوس ہوا ،
جیمز ،وہ وہی سے چلائی
جیمز نے اس کی طرف ایک نظر دیکھا اور ہولے سے سر ہلایا ،
تم پہچو میں وہی ملو گا ایئرپورٹ پہ ،اس نے چلا کر کہا
پرامس،اس کی آنکھوں میں نمی اتری
جیمز رک گیا ،ساکت ہوا ،اور پھر اس کی طرف دیکھا جو بڑے مان سے اسے تک رہی تھی ،اسے یقین تھا ائےگل ملک کے قدموں پر اگر درد نہ ہوتا تو وہ بھاگ کر جیمز جاکسن تک پہچ چکی ہوتی۔
پرامس، جیمز جاکسن کی گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی
اور ہاتھ کے اشارے سے اسے کار میں بیٹھنے کا کہا ۔
وقت:صبح 3 بجے
ائیر پورٹ میں داخل ہونے کے بعد ائےگل نے سب سے پہلے اپنے کپرے چینج کیے تھے ،اس نے زرد رنگ کی کرتی کے نیچے فل سلیوزانر اور ڈھیلی ڈھالی جینز پہن رکھی تھی ،خشک سیاہ جیکٹاب بھی کندھوں پہ تھی، اس کی نظریں arrival Gate پر ہی ٹکی تھی ،وہ اپنے دوست کا انتظار کر رہی تھی،اس کی فلائیٹ کی بورڈنگ سٹارٹ ہونے والی تھی ،ائےگل کی آنکھوں میں اب نمی آترنے لگی ،اس کا دل پھٹ رہا تھا ،اسے اپنی کانوں میں جدائی کی نوید سنائی دینے لگی ،
“جدائی ایک ایسی موت ہے جو زندہ رکھ کر مارتی ہے”
وہ ہاری ہوئ وہی کھڑی تھی ،
میم آپ کی بورڈنگ کا ٹائم ہورہا ہے چلیں آپ، ایک لڑکی نے اسے آواز دی
بس کچھ اور پل ،وہ اس کا انتظار کرنا چاہتی تھی ،وہ خاموشی سے اسی طرف دیکھے جارہی تھی ،جہاں سے جیمز نے آنا تھا۔
کچھ پل گزرے کہ اس نے سیاہ ڈریس شرٹ میں ملبوس پھولی ہوئی سانسوں سے اپنے قریب اتے ہوئے جیمز کو دیکھا ،وہ اس کے قریب آتے ہوئے رکا ،ہال خالی ہوچکا تھا بورڈنگ سٹارٹ ہوچکی تھی ،
وہ انسو روک نہ سکی،وہ ہلکی سی ہچکی لیتے رو پڑی،اس نے اپنا بیگ اتار کر وہی پھینکا اور بھاگ کر جیمز کے گلے لگی جیمز کی آنکھوں میں برسوں بعد کوئی جذبہ نظر آیا)،اس کا ایک ہاتھ پہلو میں گرا تھا اور ایک ہاتھ سے وہ نرمی سے آئےگل کا سر تھپک رہا تھا۔
تم کیا چاہتی ہو گل ،جیمز نے اسے گل کہا اور آئےگل کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے ساری دنیا کے گل اس کے پاوں میں بیچھا دیے گیے ہو ،وہ اس سے علیحدہ ہوئی اور جیمز کی آنکھوں میں دیکھا ۔وہ بچوں کی طرح رو رہی تھی،اس کی ہچکی بندھی ہوئ تھی،اس نے اپنی آستین سے منہ صاف کیا(جیمز کا دل اسے روتے دیکھ کر بھاری سا ہوا)۔
،جیمز کی انکھین سرخ تھی اور نمی واضح، “جیمز جاکسن محبت کا اسیر ہوچکا تھا اس کا مردہ دل برسوں بعد کسی کے لیے دھڑکا “
تمہارے پاس ٹکس ہیں، سرخ ہوتی ناک سے پوچھا گیا
ہاں،جیمز نے سر ہلایا
تو چلیں، ائےگل نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
نہیں، جیمز نے قدم پیچھے لیے
کیوں، وہ حیران ہوئ
مجھے ایک کام ہے ،میں وہ کر کے اتا ہوں، پھر ہم ساتھ چلیں گے ،جہاں تم کہوں گی ،میری سیٹ تمہارے پاس نہیں لیکن میں تمہارے ساتھ ہی ہوں گا پلین میں، جیمز نے اس کا ہاتھ تھامتے کہا ،ائےگل نے نفی میں سر ہلایا
نہیں تم میرے ساتھ ہی چلو،وہ ماننے کو قطعی تیار نہیں تھی
بات کو سمجھو گل ،یہ لو میں اجاو گا ،وہ اس کے ہاتھ میں اس بیگ تھماتے ہوئے بولا
کیا ہم دوبارہ ملیں گے ،ائےگل کی آنکھوں میں خالی پن تھا ،وہی خالی پن جیمز کے دل میں اترا۔
تلخ جواب دینا جیسے پہلے دیتے تھے ،وہ بولی تو اس کی آواز خشک تھی۔
کچھ لوگ ایک رات کے لیے ملتے ہیں، وہ سر جھکا کر ہنسا
اور تم ،وہ مسکرائ
میں بھی انہی میں سے ہوں، وہ بولا تو آواز کانپئ
میں واپس اجاوگا ،اس نے یقین دلایا( شاید خود کو)
مجھے یقین ہے نہ آئے تو میں ڈھونڈ لوںگی میں لوگوں کو ڈھونڈنے میں اچھی ہوں،ائےگل نے آنکھیں پونچھی اور بیگ کندھے پر ڈال کر بورڈنگ کی ہال کی طرف چل پڑی ،جیمز نے ایک نظر دور جاتی ائےگل کو دیکھا (وہ شاید آخری نگاہ تھی) ،اس کی آنکھوں میں صدیوں کی اداسی اتر ائ ،اور پھر وہ زخمی سا مسکرایا ۔
پلین میں بیٹھنے کے بعد اسکی۔ نظر چاروں طرف تھی ،لیکن اسے یقین تھا کہ جیمز نے وعدہ کیا ہے تو وہ ضرور آئے گا،وہ پرسکون سی سیٹ پر بیٹھ گئ،لیکن دل پرسکون نہ تھا ،اس کا دل پھٹنے کی حد تک دھڑک رہا تھا،اس کے پاس ایک درمیانی عمر کی عورت بیٹھی تھی ،وہ اس کی بےسکونی محسوس کر سکتی تھی۔
پلیز اپنے سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے ،پیلن ٹیک آف کرنے والا ہے ،ائیر ہوسٹس نے کہا تو وہ ایک دم کھڑی ہوئ اور وہاں بیٹھے سب لوگوں کی طرف نظردرائی(اسے وہاں ہر طرح کا چہرہ نظر آیا سوائے اس ایک چہرے کے جسے وہ دیکھنا چاہتی تھی )۔
میرا دوست وہ اسی پلین میں آنے والا ہے،وہ نہیں ہے یہاں اسے آنے دے پلیز، اس نے ائیر ہوسٹس کی منت کی۔
میم پلیز بیٹھ جائے جنہوں نے آج جانا تھا وہ موجود ہیں آپ دیکھ سکتی ہیں،
کیا آپ مجھے نیم لسٹ دکھا سکتی ہیں،
نو میم یہ ہمارے رولز کے خلاف ہے ،اس کے منع کرنے پر آئےگل بےچین ہوئ اور آنکھوں میں آنسوؤں کی باڑ ائ
یہ جہاز میرا بیٹا ہینڈل کرنے والا ہے ،آپ اسے بلائے، گل کے پاس بیٹھی عورت نے لڑکی سے کہا تو وہ پائلٹ روم کی طرف بھاگی
میرا نام لیڈی نینسی ہے،فکر مت کرو میں دیکھ لیتی یو ،اسے اپنی طرف دیکھتے پاکر نینسی نے نرمی سے کہا تو اس نے ہولے سے سر ہلایا
تھوڑی دیر بعد وہ ائیر ہوسٹس انہیں پرائیویٹ کیبن میں لے گئ ،اس نے ائےگل کے ہاتھ میں نیم لسٹ تھمائی
میم جلدی دیکھیے ،ہم نے پلین ٹیک آف بھی کرنا ہے ،آپ کی وجہ سے رکے ہیں، ائیر ہوسٹس کی آواز میں عجلت تھی،آئےگل کی انگلیاں تیزی سے نیمنگ لسٹ پر چل رہ تھی اور آنکھوں میں بےچینی ابھر رہی تھی ،نیمنگ لسٹ پڑھ کر اس نےائیر ہوسٹس کو تھمائی اور ہاں میں سر ہلایا، نینسی نے محسوس کیا ،کہ اس کی آنکھیں خشک ہوچکی تھی اور شاید دل بھی ۔
کیا ہوا نام نہیں تھا اس کا نیمنگ لسٹ میں، نینسی نے ائیر ہوسٹس کے جانے کے بعد پوچھا،ائےگل نے نفی میں سر ہلایا ۔
اس نے مجھے دھوکہ دیا ،اس نے میرا دل بنجر کر دیا ،میں اسے کبھی معاف نہیں کروگی، اس کی آواز میں دکھ بھی تھا آور غصہ بھی ۔
میری آنکھوں میں دیکھو ائےگل ،ائےگل گل کی نظریں بےاختیار اٹھی،اور ان کی طرف دیکھا، ان کی آنکھیں بلکل سفید تھی ،جس کی پتلیاں ساکت تھی ،ائےگل ڈر کے مارے پیچھے ہوئی ،
یہ آپ ..کی… آنکھوں….،خوف کے مارے اس کے الفاظ ٹوٹے۔
میں ایک سائیکک(psychic ) ہوں ۔میں وہ محسوس کر سکتی ہوں جو تم نہیں کر سکتی اور میں محسوس کر رہی ہوں کہ تم اپنے ساتھ ایک ایسے وجود کی محبت لیے جارہی ہوں جس کا کوئی وجود ہی نہیں، جہاز اڑان بھر چکا تھا لیکن آئےگل آسمان میں ہونے کے باوجود زمین پر ہی تھی۔
تم ایک ایسے انسان پر غصہ کر رہی ہو جو زندہ ہی نہیں، ان کے لب ہلے ،ائےگل کا چہرہ ہر جذبات سے عاری تھا
وہ ایک دم زور سے ہنس دی،اس نے اپنا دماغ نفی میں زور زور سے ہلایا جیسے ذہن میں کوئی خیال آنے سے جھٹک رہی ہو،
اگر یہ آپ کا کوئ گھناؤنا مذاق ہے تو پلیز یہ ابھی بند کر دیں، وہ تڑپ کر بولی
میں نے خود دیکھا تھا جب تم ہال میں کھڑی تھی ،تم نے کسی ایسے وجود سے بات کر رہی تھی جو صرف تمہیں نظر ارہا تھا اور کسی کو نہیں، نینسی کے چہرے پر گہرہ سکون تھا۔
شاید یہ ایک برا خواب ہے ،اس نے نفی میں سر ہلاتے اہنے ناخن اپنے بازو میں گاڑ دیے لیکن وہ خواب سے جاگ نہ سکی ،سب کچھ حقیقی تھا، ،وہ عورت حقیقی تھی۔
آپ مذاق کر رہی ہے ،آپ جھوٹ بول رہی ہے ،آپ مجھے اکیلا چھوڑ دے ،میں اسے خود ہی ڈھونڈ لوں گی ،وہ یہ کہتے اپنے بیگ کی طرف بڑھی تھی ،
تم مانو یا مانو یہی سچ ہے ،نینسی نے آگے بڑھتے کہا ،آئےگل اپنے بیگ سے موبائل تلاش کر رہی تھی ،اسی لمحے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ایک کھردرا سا کاغذ ٹکرایا،
وہ ایک پرانے طرز کا لفافہ تھا ،لفافے کے اوپر کافی خوبصورتی سے بیل بوٹیاں بنائ گئی تھی ،اور سب سے اوپر ایک سیاہ رنگ کی فیری تھی ،لفافے کو گلابی رنگ کی سوج مکھی کے پھول کی طرز کی مہر لگا کر بند کیا گیا تھا ۔
ائےگل نے نینسی کو اور نینسی نے ائےگل کو دیکھا،ائےگل کے چہرے پر امید کی روشنی اور خوف تھا ،نینسی نے آہستہ سے سر ہلایا ،جیسے اپنی موجودگی کے حصار کا یقین دلایا ہو۔
ائےگل نے آہستہ سے لفافہ کھولا، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔اس کی نظر لفافے پر موجود تحریر پر تھی۔
لکھائی کو پڑھنا مشکل تھا جیسے برسوں بعد کسی نے لکھنے کے لیے قلم تھاما ہو ۔
میری پیاری آئےگل…یا صرف گل ۔
معلوم ہے اس وقت تم مجھ پر کافی غصہ بھی ہوگی اور دکھ بھی بھی ہورہا ہوگا،اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں میری گل ۔شاید تمہیں سب پتہ لگ چکا ہوگا ،لیکن مجھے پتہ ہے تم مجھے معاف کر دوگی ،میں مر چکا ہوں آئےگل، میں صرف ایک سایہ ہوں، لیکن میرے جذبات جھوٹے نہیں تھے اور نہ ہے ،
میں سوچتا ہوں کہ لوگوں کو زندگی میں سب کچھ مل جاتا ہے لیکن میں واحد ہو جسے مر کر تم ملی ،تم ایک معجزے سے کم نہیں ہوں،
تم اس قابل ہو آئےگل ،کہ کوئ تم سے بے پناہ محبت کرے ، بغیر کسی لالچ بغیر کسی منافع کے ،کوئ تم سے خالص محبت کرے۔ کیونکہ تم اسی کہ قابل ہو، کاش میں اس قدرت کے قانون کو توڑ سکتا لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا ،
تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میرا سب سے بڑا خواب کیا ہے میرا سب سے بڑا خواب ہے کہ اگر میں زندہ ہوتا تو میں تمہارے لیے پتھروں کو پگھلا کر محل بناتا ،اور تمہیں اس کی پری بناتا،تمہارے گھنگھریالے بالوں پر اپنے پسندیدہ باغ کے پھولوں سے بنا ہوا تاج رکھتا ،اور خود تمہارا اسیر تمہارا غلام بن جاتا ،
تم دنیا کا سب سے حسین پھول ہو، جس کے آگے سارے باغ اور پھول پھیکے پڑ جائے۔
میری وجہ سے کبھی اداس مت ہونا ،تم مجھے بولتی اور ہستی ہوئ ہی اچھی لگتی ہو۔
تمہارا غلام
جیمز جاکسن
ائےگل جیمز کی بےرنگ زندگی میں واحد قوس قزاح تھی۔
☆☆☆☆☆☆
ساری گرہیں حل ہوچکی تھی ،کڑیوں سے کڑیے مل گئ ۔یعنی جیمز جاکسن عجیب نہیں تھا وہ سچا تھا۔لیکن وہ زیادہ دیر اس بارے میں سوچ نہ پائی ۔
ائےگل کی آنکھوں سے بہتے آنسو خط کو بھگو گئے،اس۔ کا ضبط جواب دے گیا ،وہ خط کو سینے میں بیچھ کر ہچکیوں سے رونے لگی۔لیڈی نینسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سہارا دیا۔
اس کی فلائیٹ جاپان لینڈ کر گئ تھی ، پلین سے اترتے وقت اس کی آنکھیں خشک ہوچکی تھی ،اور چہرہ سفید ،لیڈی نینسی نے پلین سے اترنے کے فورا بعد اس کے ہاتھوں میں کچھ رپورٹس پکڑائ ،اس نے حیرانی سے نینسی کی طرف دیکھا۔
یہ ایکسیڈنٹ کے رپورٹس ہیں ،تم دیکھ سکتی ہو ،
اس کے ہاتھ ان کاغذات پر مضبوط ہوئے ،اس نے ہولے سے سر ہلایا ،
☆☆☆☆☆
جاپان شہر…. (TAKAYAMA)
دو سال بعد….
جاپان کے شہر تاکایاما میں سرد موسم جاری تھا ، صدیوں پرانے پتھریلے مکانات پہاڑوں کے درمیان دبے محسوس ہوتے ،آج موسم کافی خوشگوار اور ٹھنڈا تھا ، پہاڑوں کے اوپر دھندکا بسیرہ تھا جو دھوئیں کی مانند لگ رہی تھی،خوبصورت نقش و نگار والے گھروں کے باہر ونڈ چائمز اور جاپانیز لینٹرن لگے ہوئے تھے۔
کچھ عورتیں اپنے گھروں کے برآمدے میں بیٹھی قہوے پی رہی تھی ،وہ عورتیں چوڑی نما پوشاک پہنے ہوئ تھی ،جاپان کی ایک خاص بات تھی یہاں کہ لوگوں کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ نظر آئے گی ،
اس نے کریم رنگ کا اون کوٹ پہنے رکھا تھا، جس کے نیچے خاکستری رنگ کا سویٹر جھانک رہا تھا ،بھورا مفلر گردن کے گرد لپیٹے ہوئے ،وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چلتی ارہی تھی ،گھنگھریالے بالوں پر ہم رنگ bandana باندھ رکھا تھا ،عورتوں کو دیکھ کر وہ ذرا جھکی ۔
کونیچیوا !! اس نے عورت کو اپنی طرف دیکھتے پا کر جھک کر کہا
کونیچییوا!! عورتوں نے مسکرا کر ذرا سا جھک کر جواب دیا
رکو بیٹا یہ تمہارے لیے ، (جاپانیز میں کہا گیا)ایک عورت اپنا بھاری بھر کم لباس کو تھامے اند بڑھی اور پھولوں کی ٹوکری تھامے اس کی طرف برھائ ۔
شکریہ لیکن میں یہ نہیں لے سکتی ،وہ ذرا جھجھکی
کیوں، انہوں نے مصنوعی برا منایا
وہ مجھے پھولوں سے الرجی ہے ،آئےگل نے بہانا گڑا
ان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور ہاں میں سر ہلایا، جیسے سمجھ گئی ہوں۔
لیکن میں آپ کی ساتھ باتیں ضرور کر سکتی ہوں، ائےگل نے آنکھیں کے مخصوص لب و لہجے میں کہا ،تو ان کے چہرےپر مسکراہٹ بکھری اور اس کے لیے جگہ بنائ ۔
گھر کی واپسی پر وہ اکیلی چلتی ارہی تھی جب اسے لیڈی نینسی کا فون آیا، اسنے نمبر یس کر کے فون کان سے لگایا۔
کیسی ہو ائےگل ،نرم سا لہجہ
بہتر ،ان پرسکون پہاڑوں کے درمیان بہت خوش، وہ سحر زدہ بولی،شام ڈھل گئ تھی ،وہ برج سے گزر رہی تھی۔
دو سال گزر گئے تم اب بھی اسے بھلا نہیں پائ نہ؟ ۔نینسی کی آواز گونجی
اس کے لیے میری محبت لازوال ہے ،وہ بولی تو آواز کنویں سے آتی معلوم ہوئ،اس کی آنکھوں کے سامنے ایک جگنو لہرایا ،اس نے ہاتھ آگے کیا تو وہ ایک لمحے میں پھر سے غائب ہوگیا ۔
تم نے آج پھر سے پھول نہی لیے ،نینسی کی آواز میں شکوہ تھا ۔
آپ کو یہ سب کیسے پتہ چل جاتا ہے ،برج پر دیکھتے ہی دیکھتے جگنوؤں کا سیلاب آمڈ آیا ۔
میرا پرانا تجربہ ہے ائےگل ،اسے لگا وہ مسکرائ
تم واپس سوات اسلام آباد کیوں نہیں چلی جاتی،
ممی پایا آئے تھے وہی بہت ہے میرا دل نہیں چاہتا وہاں جانے کو ۔
وہ رپورٹس تم کب تک نہیں دیکھوگی ۔ان کی آواز میں شکوہ تھی۔
شاید کبھی نہیں، جگنو اب غائب ہوچکے تھے
اسنے کال کاٹ دی ۔وہ ایک بینچ پر بیٹھ گئ ،اس کے ہاتھ اپنی کوٹ کی جیبوں میں رکھے لفافے پر مضبوط ہوئے،ائےگل نے اسے باہر نکال کر دیکھا ،وہ اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتی تھی ،اس لفافے سے اس شخص کی خوشبو جڑی تھی ۔
آئےگل اب بھی ویسی ہی تھی کچھ نہیں بدلا تھا بس بدلا تھا تو اس کا دل ،پہلی والی ائےگل کو کسی سے محبت نہیں تھی ،وہ محبت کے لفظ سے ناواقف تھی، اور اب والی آئےگل شاید محبت لفظ سے آشنا ہوچکی تھی ۔
سب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں پھول کیوں پسند نہیں کرتی ،وہ یہ سوچ کر گیرہ مسکرائ
مجھے پھول بہت پسند تھے اور ہے بھی لیکن اب مجھے اس غلام کا انتظار ہے جس نے میرے بالوں میں اپنے پسندیدہ باغ سے پھول توڑ کر لگانے تھے ،شاید یہ میری بچکانہ سوچ ہے لیکن میں مجبور ہوں ۔
محبت کرنے والا شخص یادوں کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔
میرے پاس امید کے سوا اور کچھ نہیں، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہے ،اور یہ ایک برا خواب ہے،اگر میں نے رپورٹس دیکھ لیں تو وہ امید چکنا چوڑ ہوجائے گی اور پھر میرا جینا بےمعنی،
میری غلطی یہ نہیں کہ میں نے ایک سائے سے محبت کی ،میری غلطی یہ ہے کہ میں نے غلط وقت پر محبت کی ،۔
مجھے وہ اکثر یاد آتا ہے ،خاص طور پر برستی بارش میں۔
جیمز جاکسن خود کو میرا اسیر کہتا تھا لیکن سچ تو یہ ہے کی میں اس کی اسیر ہوں۔
ایک آخری امید ،میری صبح کا ستارہ ہو
دل کے ساحلوں کا تو تم واحد کنارہ ہو
میرے دل کے فلک پہ چاند بھی نہیں کوئی مگر
وہاں تم ہوکہ جیسے ٹوٹتا کوئ تارہ ہو
تم ایک کھلتا ہوا موسم ،میں ایک ڈھلتی ہوئ سحر
یہ دونوں مل تو جائیں پر یہ ملنا کہاں پر ہو؟؟
( کنزہ)
کالے بادل برسنا شروع ہوگئے تھے ،چند ہی پلوں میں وہ پوری بھیگ چکی تھی ،بادل پوری زور سے گرج اور برس رہے تھے ،ائےگل نے چہرہ آسمان کی طرف کیا ۔
شاید آج رات میں سو نہ پاءو، شاید وہ کوئ شکوہ تھا یا پھر یاد دہانی ۔
کچھ لوگ ہم سے بچھڑنے کے لیے ہی ملتے ہیں۔
☆☆☆☆☆
ختم شد
