سکوت قسط نمبر:۱۷
ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔
برادر ہیش ٹیگ ہر طرف گردش کر رہا تھا۔ اُس کی بدولت ازمیر اور مرزا حاکم بہت مشہور ہوتے جا رہے تھے۔
اُنہیں مختلف چینلز سے انٹرویو آفرز آئی تھیں۔ میڈیا والے اُن دونوں کو ایک بار پھر ساتھ دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔
“سر، کیا آپ یہ آفر ایکسیپٹ کریں گے؟”
لیلہ نے ازمیر کو دیکھتے ہوئے سوال پوچھا۔
“میں اُس کے ساتھ دوبارہ نہیں آنا چاہتا۔”
اُس نے دو ٹوک جواب دیا۔
“لیکن سر، یہ آپ کے لیے اور پراجیکٹ کے لیے ضروری ہے۔”
ازمیر نے کراہ کر آنکھیں میچ لیں۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ آخر کیوں اُسے مرزا حاکم سے چِڑ ہونے لگی تھی۔
“شیڈول تیار کرواؤ اور اُس حاکم کی اولاد کے پاس بھی میسج پہنچا دو۔”
اُس نے سڑے ہوئے لہجے میں کہا اور واپس اپنے کام پر فوکس کر گیا۔
لیلہ نے گہرا سانس بھرتے ہوئے اُسے دیکھا اور اُس کے آفس سے باہر نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم اور ازمیر بہت مشہور ہوتے جا رہے ہو۔”
دلاور نے ہنستے ہوئے کہا، تو مرزا کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔
“سوشل میڈیا والے بات بڑھانے میں بہت قابل ہیں۔”
اُس نے ناک سکیڑتے ہوئے کہا تھا۔
اُس وقت وہ دونوں مرزا حاکم کے فارم ہاؤس میں تھے۔
دلاور اُس سے اکثر یہیں ملنے آیا کرتا تھا۔
“خیر۔”
دلاور نے گہرا سانس بھرا۔
“اسفند مال کا پوچھ رہا تھا۔”
اُس نے سنجیدگی سے کہا، جبکہ مرزا چپ چاپ نظریں سامنے دیوار پر مرکوز کیے رہا۔
“سائفر، تم سن رہے ہو؟”
مرزا نے نظریں آہستگی سے اُس کی جانب موڑیں۔
“تمہیں نہیں لگتا کہ اب مجھے اپنے بارے میں سوچنا چاہیے؟”
دلاور اُس کی بات پر منہ کھولے اُسے دیکھ کر رہ گیا۔
“کیا مطلب؟”
ایک تو اِس کا مطلب۔مرزا تلملا کر سوچتا ہے۔
“مط۔۔۔ مطلب کہ۔۔۔”مرزا حاکم نے الفاظ تلاشے۔”مطلب کہ اب مجھے یہ سب چھوڑ دینا چاہیے۔”
اُس نے نظریں چراتے ہوئے کہا تھا، جبکہ دلاور کو جھٹکا سا لگا۔
“کیا مطلب تمہاری بات کا، سائفر؟”
“دلاور، سمپل سی بات بتائی ہے تمہیں۔”اُس نے چڑتے ہوئے کہا۔
“یہ سمپل بات ہے؟”
دلاور نے ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا تھا۔
مرزا لاجواب ہو گیا۔
“یہ سمپل بات نہیں ہے، سائفر۔ تم پچھلے سولہ سالوں سے یہ سب کرتے آ رہے ہو۔ اچانک سے اِن سب چیزوں سے نہیں بھاگ سکتے۔”
“مگر کوشش تو کر سکتا ہوں۔”
دلاور اُسے دیکھ کر رہ گیا۔
ایک دو پل اُن کے درمیان خاموشی حائل رہی۔
“تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟ مجھے کھل کر بتاؤ۔”
مرزا نے نظریں اُٹھا کر اُسے دیکھا۔
گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔
“میری ماں ایک مافیا کی بیوی رہی ہے۔ اُس نے ایک عرصہ مجبوراً حرام کھایا ہے۔ اُس نے گناہ کا ساتھ دیا ہے۔ اپنے بیٹے کو اپنی آنکھوں سے گناہ کرتے دیکھا ہے۔ اور یہ سب برداشت کرنا ایک عورت کے لیے بہت کھٹن ہوتا ہے۔ میری ماں سکون سے سانس نہیں لے سکتی تھی۔”
مرزا ایک پل کو خاموش ہوا۔
وہ سنجیدگی سے بتا رہا تھا، جبکہ ماں کے ذکر پر آج بھی دل زخمی ہوا تھا۔
دلاور بغور اُس کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“می۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ۔۔۔”
اُس نے دلاور کی آنکھوں میں دیکھا۔
“میں چاہتا ہوں کہ صاحبہ اِن سب چیزوں سے نہ گزرے۔ میں اُس کے سکون کا باعث بنوں۔ مشکل وقت میں اُس کی ٹیک بنوں۔ اُس کے مسکرانے کی وجہ بنوں۔ میں اُس کے لیے آزمائش نہیں، تحفہ بنوں۔”
آخری بات کرتے اُس کے لہجے میں کرب ہی کرب پھیل گیا۔
دلاور یک ٹک اُسے دیکھے جا رہا تھا۔
“تم یہ سب ایک لڑکی کے لیے کرنا چاہتے ہو؟”
سوال داغا گیا۔
“نہیں۔ میں یہ سب اپنی بیوی کے لیے کرنا چاہتا ہوں۔”
جواب حاضر تھا۔
دلاور اُسے دیکھ کر رہ گیا۔
“وہ نماز پڑھ رہی تھی۔”
مرزا نے دوبارہ بولنا شروع کیا، تو دلاور کا رواں رواں سماعت بن گیا۔
“اُس کی نماز دیکھ کر اتنے سالوں بعد مجھے میری نمازیں یاد آئی ہیں۔ مجھے اُس رب کی یاد آئی ہے جس کو میں نے کئی سال پہلے عبد کے لیے چھوڑ دیا تھا۔”
مرزا کی آواز بھیگ گئی۔
“میرا دل شدت سے چاہ رہا ہے کہ میں اپنی متاعِ جاں کی طرف واپس لوٹ جاؤں۔ صاحبہ کی آمد میرے لیے نعمت ثابت ہوئی ہے۔”
اُس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“میں چاہتا ہوں اب یہ سب چھوڑ دوں۔ کئی سال پہلے ایک انسان کے لیے اللّٰہ کو چھوڑا تھا، اب کئی سال بعد ایک انسان کے لیے اُسے واپس پانا چاہتا ہوں۔ کیا میں غلط کر رہا ہوں؟”
دلاور کی آنکھوں میں آنسو صاف دکھائی دیتے تھے۔
وہ مرزا حاکم کے اندر کی ویرانی سے خوب واقف تھا۔
“تم بالکل درست کر رہے ہو، مرزا حاکم۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
مرزا کرب سے مسکرا دیا۔
ایک بوجھ تھا جو دل سے ہٹ گیا تھا۔
پہلا قدم تھا جو اُس نے لینا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
ان کا یہ انٹرویو پچھلے انٹرویو سے زیادہ مقبول ثابت ہوا تھا۔
مرزا حاکم اور ازمیر علی دوبارہ ایک ہی فریم میں نظر آتے، سب کو خوش کر گئے تھے۔
آسمان پر بادل گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ دلکش موسم میں وہ پارکنگ میں کھڑا کسی سے فون پر مخاطب تھا۔
ازمیر لیلہ کو ساتھ نہیں لایا تھا۔ اسے انٹرویو کے بعد کورٹ جانا تھا، لیکن اب اس کی گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی، اور آسمان پر نظر آتے بادل اس پر وحشت طاری کر رہے تھے۔
مرزا حاکم، جو عزیز کے آگے آگے چلتا اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا، ازمیر کو پریشان دیکھ کر رک گیا۔
ایک دل چاہا کہ وہ اپنی کار کی طرف بڑھ جائے، مگر وہ اس کی طرف قدم بڑھا گیا۔
“ایوری تھنگ اِز اوکے؟”
اپنے عقب سے آتی مرزا کی آواز پر وہ چونکا، پھر مڑ کر اسے دیکھا۔
“میری گاڑی خراب ہو گئی ہے۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
مرزا نے ایک نظر اس کی گاڑی کو دیکھا۔
“آپ میرے ساتھ آ جائیں، میں آپ کو ڈراپ کر دوں گا۔”
اس نے بے اختیار اسے آفر دی۔
ازمیر کے دل نے انکار کا سائن دکھایا تھا، مگر آسمان پر گہرے ہوتے بادلوں کو دیکھ وہ اپنا ارادہ ترک کر گیا۔ بارش سے بہتر تھا کہ وہ اس کے ساتھ تھوڑا سا سفر کر لے۔
مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سفر یادگار ثابت ہونے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلارے نے ماوی سوفرا ریسٹورنٹ چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ آتیس کی کمپنی میں ڈائمنڈ پالشنگ کا کام کرتی تھی۔
ابھی بھی وہ اپنے آفس میں بیٹھی ڈیزائن ڈرا کر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر دور سے آتی نورے پر پڑی۔
دلارے مسکرا دی۔
“اسلام علیکم، کیسی ہو؟”
نورے اس کے آفس کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر آئی اور پوچھا۔
“ٹھیک ہوں، تم سناؤ کیسی ہو؟”
نورے کرسی پر بیٹھ گئی۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔ بس تمہارے بنا ریسٹورنٹ میں دل نہیں لگتا۔”
دلارے مسکرا دی۔
نورے نے بغور اس کا چہرہ دیکھا تھا۔
پچھلے دو ماہ سے دلارے کے انداز میں نامحسوس طور پر سنجیدگی آ گئی تھی۔
“میں پاکستان جاؤں گی۔”
نورے، جو اسے دیکھ رہی تھی، اس کی بات پر چونک گئی۔
“کیا؟ کیوں؟”
دلارے نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
“دلارے، تم پاکستان کیوں جاؤ گی؟”
وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
دلارے نے خشک آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“میں اس سے بس ایک بار ملنا چاہتی ہوں۔”
“تمہیں پتا ہے نا وہ کسی اور سے محبت کرتا۔۔۔۔۔۔”
“میں صاحبہ سے ملنا چاہتی ہوں۔”
دلارے اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی تو نورے ساکت ہو گئی۔
“کیا؟”
“ہاں۔”
“دلارے، تم جانتی بھی ہو کہ تم کیا بول رہی ہو؟”
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تو نورے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
“دلارے، تم اس سے بے فضول ملنے جا رہی ہو۔ تم اسے جانتی تک نہیں ہو۔۔”
“میں اسے جانتی ہوں۔”
نورے نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
دلارے کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
“وہ حاکم کی انمول محبت ہے۔ کیا اتنا تعارف میرے لیے کافی نہیں ہے؟”
اس کی بات پر نورے لاجواب ہو گئی تھی، جبکہ دلارے نے آنکھیں میچتے اپنے آنسوؤں کو اندر دھکیلا۔
نورے کھڑی ہوتی اس کے گرد حصار باندھ گئی۔
“تم اس سے کیا کہو گی؟”
اس نے یوں ہی اس کے گرد حصار باندھے کہا۔
“میں اس سے صرف ملنا چاہتی ہوں۔”
نورے نے اس کی پشت تھپتھپائی تھی۔
“میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
دلارے مسکرا دی۔
“میں جانتی ہوں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج آسمان پر سورج کا راج تھا۔ سورج کی تیز روشنی ہر شے پر پڑتی ماحول میں اجالا بکھیر رہی تھی۔ اس نے آج سے دوبارہ آفس جوائن کر لیا تھا۔
خاموش راہداری میں اس کی بلاک ہیل کی مدھم آواز گونج رہی تھی۔ وہ چند فائلیں ہاتھ میں لیے اس کے آفس کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اس نے دھیرے سے دروازہ ناک کیا۔
“یس۔”
اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئی تو اس کی نظریں سیدھی مرزا کے چہرے پر جا ٹھہریں۔
مرزا حاکم ٹشو سے آنسو پونچھ رہا تھا۔ اس کی ناک سرخ ہو رہی تھی۔
صاحبہ اسے روتا دیکھ چونک گئی تھی۔
“کیا کہنا تھا آپ نے؟”
اس نے متورم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا جو اپنی ہی جگہ ساکت کھڑی تھی۔
“یہ شیڈیول فائلز ہیں، آپ دیکھ لیجیے گا۔”
اس نے فائلیں اس کے سامنے رکھتے ہوئے سنجیدگی سے بتایا۔
وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔
صاحبہ اسے کئی پل دیکھتی رہی۔
“آپ ٹھیک ہیں؟”
بے اختیار اس نے سوال پوچھا۔
مرزا نے کرب سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتے ہی مرزا کی آنکھوں میں پھر سے نمی اتر آئی۔
“نہیں۔۔۔ میں ٹھیک نہیں ہوں۔”
صاحبہ نے گہری سانس خارج کی۔
کیا وہ اسے یوں ہی چھوڑ کر چلی جائے؟
اس نے خود سے سوال کیا، مگر اگلے ہی پل کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا ہے؟”
مرزا کئی پل اسے نم آنکھوں سے دیکھتا رہا۔
“آج میری ماں کو مرے سولہ سال ہو گئے ہیں۔۔۔ مگر میں اب بھی اس غم سے نہیں نکل پایا۔”
اس نے بتایا تو صاحبہ کو بے اختیار اس پر ترس آیا۔
کتابیں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ اس نے پہلی بار کسی سے اپنے غم کا ذکر چھیڑا تھا۔ وہ تو پور پور صاحبہ کی محبت میں مبتلا تھا۔
“میری ماں مجھ سے ناراض تھیں۔”
وہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔
“میں سن رہی ہوں۔”
اس نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
مرزا ہلکا سا مسکرایا۔
“میں ان سے معافی نہیں مانگ سکا اور۔۔۔”
وہ دھیرے دھیرے بولتا گیا اور اپنے اندر کا حال اسے سناتا گیا۔ وہ محویت سے اسے سنتی رہی۔
کتابوں نے مسکراتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا تھا۔
“آپ کی مام کو کوئی بیماری تھی؟”
اس کی پوری بات سننے کے بعد صاحبہ نے سوال پوچھا۔
مرزا نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔
“انہوں نے خودکشی کی تھی۔ ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ انہوں نے زہر کھایا تھا۔”
مرزا کے دل میں درد اٹھا تھا۔
“انہوں نے جائے نماز پر دم توڑ دیا تھا۔”
صاحبہ چونکی۔
“کیا مطلب؟”
مرزا نے سرد آہ بھری۔
“وہ سجدے کی حالت میں فوت ہوئی تھیں۔”
صاحبہ کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجائی۔
“آپ کی ماما نمازیں ادا کرتی تھیں؟”
“ہاں۔”
“پھر وہ خودکشی نہیں کر سکتیں۔”اس نے رسانیت سے بتایا تو مرزا چونکا۔
صاحبہ ذرا آگے کو ہوئی۔
“جو انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے، وہ خودکشی کے قریب نہیں جاتا۔ آپ کی ماما نے زہر نہیں لیا تھا، انہیں زہر دیا گیا تھا۔”
مرزا حاکم کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا۔
صاحبہ بغور اسے دیکھ رہی تھی۔
واقعی۔۔۔ اس نے یہ کیوں نہ سوچا کہ انہیں زہر دیا بھی جا سکتا ہے؟
مرزا کا سر چکرا کر رہ گیا۔
“آپ کی ماما کی وفات نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ان کا قتل ہوا تھا۔”
وہ آہستگی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو؟”
صاحبہ چند پل اسے دیکھتی رہی، پھر ہلکا سا مسکرا دی۔
“کیونکہ میں بھی ایک عورت ہوں۔”
مرزا حاکم ساکت ہو گیا۔
“اللہ آپ کو صبر دے۔”
صاحبہ نے ایک نظر مرزا حاکم پر ڈالی اور مڑ گئی۔
مرزا نے سر تھام لیا۔
اس کی ماں کا قتل ہوا تھا۔۔۔ اور اسے پتہ بھی نہ چل سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے بتاؤ، کیا سچ ہے؟”
وہ پوری شدت سے دھاڑا تھا۔
دلاور نے ایک نظر اسے دیکھا، پھر گہری سانس بھری۔
“ایک انویسٹیگیٹر چھپ کر تمہارے گھر کے ملازموں میں شامل ہو گیا تھا۔ اسے شک تھا کہ سائفر ہی فیض حاکم ہے۔ وہیں سے اس نے اسٹیفن کی ویڈیوز بنائی تھیں اور اپنی ٹیم کو بھیج دی تھیں۔
مگر اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ اسٹیفن کو سب پتہ چل گیا۔ مزید یہ کہ اس انویسٹیگیٹر کا باس بھی اسٹیفن کا ایک کارندہ نکلا۔ اس نے اسی کے ذریعے اس انویسٹیگیٹر کے ساتھی کو مروا دیا تھا۔”
مرزا ساکت کھڑا سنتا رہا۔
دلاور نے گہرا سانس لیا اور دوبارہ بولنا شروع کیا۔
“تمہاری ماں نے اُس چھپے ہوئے ملازم کی بھاگنے میں مدد کی تھی، اور فیض کو یہ بات پتہ چل گئی تھی۔ اسی غصّے اور انتقام میں تمہارے باپ نے تمہاری ماں کو زہر دے دیا تھا۔اور بعد میں ایوب نامی اس گھس پیٹیے کو بھی قتل کر ڈالا۔”
دلاور نے ساری حقیقت بیان کر دی جبکہ مرزا پتھر کا بت بنا اسے دیکھتا رہ گیا۔
دلاور نے اس کی بدلتی رنگت دیکھی تو دل ہی دل میں کرب سے بھر گیا۔
“اور اُس رات اسٹیفن نے تمہارا نام استعمال کرتے ہوئے اُس انویسٹیگیٹر کا بھی قتل کر دیا تھا۔”
مرزا لڑکھڑا کر ایک قدم پیچھے ہٹا۔
اس کا باپ۔۔۔ اس کی ماں کا قاتل تھا؟
مرزا کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
اتنے برس جس باپ کی محبت میں وہ اپنے لیے آگ کا انتخاب بھی کر چکا تھا، اسی شخص نے اس کی دنیا اجاڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے برسوں سے قائم ایک پوری عمارت اچانک اس کے سر پر آ گری ہو۔
اس کی سانس سینے میں اٹکنے لگی۔
آنکھوں کے سامنے ماں کا مسکراتا چہرہ گھوم گیا۔
وہ ماں جس سے وہ معافی تک نہ مانگ سکا تھا۔
وہ ماں جو آخری وقت تک اس کی فکر کرتی رہی تھی۔
اور وہ باپ۔۔۔ جسے وہ آج تک محبت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا آیا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے مرزا حاکم کے گھٹنے جواب دے گئے۔
وہ زمین پر گر گیا۔
غم اس کی طاقت پر بھاری پڑ گیا تھا۔
وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
برسوں کا ضبط، برسوں کی محبت، برسوں کی غلط فہمیاں ایک ہی لمحے میں ٹوٹ کر بکھر گئی تھیں۔
دلاور خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
بعض اوقات سچ انسان کو آزاد نہیں کرتا۔
بعض دفعہ سچ انسان کو توڑ دیتا ہے۔
اور آج مرزا حاکم ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ بعد
آج آسمان پر سورج کا راج تھا۔ تیز دھوپ ہر شے پر پڑتی اسے روشن کر رہی تھی۔ہر طرف تازگی ہی تازگی تھی ۔
وہ گلاس ڈور ہٹاتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو حیرت سے رک گئی—یہاں تو کوئی بھی ورکر موجود نہیں تھا۔
وہ ہر خالی کیبن کو دیکھتی اپنے آفس کی جانب بڑھ رہی تھی۔ بلاک ہیل کی مدھم آواز خاموش راہداری میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔
اس نے آفس کا دروازہ کھولا تو نتھنوں سے ایک خوشبو ٹکرائی۔ وہ چونک گئی۔ سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھتے ہی لائٹس آن کیں اور وہیں دنگ رہ گئی۔
پورا آفس لال گلابوں سے سجا ہوا تھا، میز پر پھولوں کا بوکے رکھا تھا اور ایک کارڈ بھی۔
وہ حیرت سے کارڈ اٹھاتی ہے۔
“اسلام علیکم…”
اس سے پہلے کہ وہ کارڈ پر لکھے الفاظ پڑھتی، اپنے عقب سے آتی گھمبیر آواز پر چونک گئی۔ وہ فوراً پلٹی۔
بلیک تھری پیس سوٹ پہنے، مکمل تیار، مسکراتا ہوا مرزا حاکم اس کے سامنے کھڑا تھا۔
“یہ سب کیا ہے؟” وہ مٹھیاں بھینچ کر پوچھتی ہے۔
“یہ سب تمہارے لیے ہے، صاحبہ۔”وہ ایک قدم آگے بڑھا۔
وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ نجانے کیوں دل خوف سے تیز دھڑکنے لگا تھا۔
“یہ سب کیوں کیا آپ نے؟” وہ دانت پیستے ہوئے پوچھتی ہے۔
مرزا نے ایک نظر اسے دیکھا۔ “میں تم سے بہت زیادہ محبت کرنے لگا ہوں۔”
صاحبہ بے اختیار میز کا سہارا لیتی ہے۔
“میں تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔” اس کی آنکھوں میں نمی سی ٹھہر گئی۔
“میں تمہیں اپنی ملکہ بنانا چاہتا…”
“بس!” وہ شدتِ ضبط سے چلائی۔ مرزا رک گیا۔
“بہت ہو گیا مسٹر حاکم۔” اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ “مجھے نہیں پتہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، لیکن پلیز…”
“میں تم سے اپنی محبت کا اعتراف کر رہا ہوں۔” وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
صاحبہ نے کراہ کر آنکھیں میچ لیں۔ دل کے اندر پرانی یادیں جاگ اٹھیں—وہ زخم جن کا نام صائم تھا، اور وہ بے وفائی جو آج بھی سانسوں میں چبھتی تھی۔
“میں نے کہا نا میں…”
“تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو؟” وہ بے بسی سے بولا۔
“مجھے سمجھنا ہی نہیں ہے۔”وہ سیدھی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
“آپ کو کیا لگتا ہے، آپ مجھے اپنی محبت بتائیں گے تو میں مان جاؤں گی؟ نہیں مسٹر حاکم۔ آپ میرے باس ہیں، میں آپ کی قدر کرتی ہوں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی حد سے تجاوز کریں۔”
وہ سنجیدگی سے کہتی اسے توڑ رہی تھی۔
مرزا نے گہری سانس لی۔
“میں کیسے ثابت کروں کہ میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں؟”
“آپ مت ثابت کریں۔”وہ فوراً بولی۔ “میں مانتی ہوں آپ کی محبت سچی ہے، مگر میرا کیا؟ میں آپ سے محبت نہیں کرتی نا؟”
مرزا کو لگا جیسے کسی نے دل میں برچھی اتار دی ہو۔
“خدارا ایسے مت کہو…” وہ افسوس سے بولا۔
“تم ایک بار میرا ساتھ قبول کر لیں…”
“آپ کو سمجھ کیوں نہیں آ رہا؟ میرے دل میں کوئی اور ہے۔”
الفاظ فضا میں جم گئے۔
صاحبہ خود بھی اپنے جملے پر ٹھہر گئی۔کون سا اعتراف کہاں آ کر ہوا تھا ۔
مرزا ساکت سا اسے دیکھے گیا۔ دونوں کے درمیان خاموشی ہی خاموشی پھیل گئی ۔
اس کی آنکھوں میں ازمیر کا چہرہ ابھرا، اور ایک آنسو گال پر پھسل گیا۔
“دیکھیں مسٹر حاکم، میں جیتی جاگتی انسان ہوں۔ جیسے آپ کو محبت ہوئی ہے، ویسے میں بھی کسی اور کے لیے کچھ محسوس کر سکتی ہوں۔”
وہ آنسو صاف کرتی ہے۔
“میرے دل میں کوئی اور ہے۔”
“مجھے امید ہے اب آپ کبھی میرے راستے میں نہیں آئیں گے۔”
وہ پلٹی اور چلی گئی۔
مرزا نے اسے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ وہیں کھڑا رہ گیا—پتھر کا مجسمہ بن کر۔
سڑک کنارے چلتی وہ اس دنیا سے بیگانہ تھی۔
آنسو خاموشی سے گرتے رہے۔
وہ مرزا حاکم کے لیے افسردہ تھی—وہ درد جو محبت نہ ملنے سے جنم لیتا ہے، وہ اسے اچھی طرح جانتی تھی۔
مگر اس کے اپنے دل کا کیا… جو اب ازمیر کے نام سے دھڑکنے لگا تھا؟
اسی روز اسے سمجھ آ گیا تھا… جب ازمیر اس سنسان جگہ پر واپس آیا تھا، تب ہی کچھ بدل گیا تھا۔
وہ اس کے لیے آتا تھا… بار بار۔
اور دل نے وہیں خاموشی سے اپنا فیصلہ لکھ لیا تھا۔
مگر قصور صاحبہ کا بھی تو نہیں تھا نا…
اس نے آنسو صاف کیے اور اپنی فلاور شاپ کی طرف بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں مکمل خاموشی پھیلی تھی۔ عزیز ازمیر کی گاڑی کے ساتھ ہی کھڑا رہ گیا تھا، جبکہ مرزا موسم کے لحاظ سے آہستگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
ازمیر، جو شیشے کے باہر نظر آتے مناظر دیکھ رہا تھا، سامنے ایک مسجد کو دیکھ کر چونکا تھا۔
“ایک منٹ، گاڑی روک دو۔”
اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو مرزا پہلے تو چونک گیا، پھر اس نے گاڑی روک دی۔
“کیا ہوا؟”
“میری عصر کی نماز قضا ہو جائے گی، میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔”
اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا، جبکہ مرزا کا سانس رک گیا۔ بے اختیار اس کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔
“کیا آپ نے نہیں پڑھنی؟”
اس کے سوال پر مرزا لاجواب رہ گیا۔ ازمیر سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کئی سال پہلے اس سوال کے بدلے اس نے کہا تھا کہ ہاں، وہ پوری نمازیں پڑھتا ہے۔ مگر آج۔۔۔ آج اس کے پاس سوائے خاموشی کے کچھ نہ تھا۔
ازمیر نے مرزا کی رنگت لٹھے کی مانند سفید ہوتے دیکھی تو مطلب سمجھتے ہوئے مسکرا دیا۔
“میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔”
وہ بنا اسے فورس کیے گاڑی سے نکل گیا۔
مرزا حاکم نے کئی پل ترسی نگاہوں سے مسجد کی دیواریں دیکھی تھیں، پھر بمشکل گہرا سانس بھرتے ہوئے وہ گاڑی سے نکل گیا۔
کالے بادلوں کی وجہ سے سورج کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا تھا۔
وہ سڑک کنارے ایک طرف کھڑا دور سے نظر آتے بلند و بالا پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔
گہرے بادلوں سے ڈھکا آسمان اور خوبصورت پہاڑ ایک دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔
ازمیر کے بے اختیار پوچھے جانے والے سوال نے اس کے اندر بے چینی بھر دی تھی۔
وہ کب سے کھڑا اس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔
ازمیر مسجد سے باہر آیا اور گاڑی سے کچھ فاصلے پر کھڑے مرزا کو دیکھ گہرا سانس بھرا۔ نجانے کیوں اسے مرزا کے لیے افسوس ہوا تھا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں رب سے ناراضگی کا تاثر اسے صاف دکھائی دیا تھا۔
ازمیر کبھی بھی کسی بھٹکے انسان کو اس کے حال پر نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ جب رب زندگی میں نہیں ہوتا تو انسان کتنے کرب سے گزرتا ہے۔ وہ مرزا کی تکلیف سمجھ سکتا تھا۔
وہ چپ چاپ پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا جب کوئی آہستگی سے اس کے قریب آ کر کھڑا ہوا۔
اس نے ساتھ کھڑے وجود کو نہیں دیکھا۔
خاموشی کے کئی پل ان کے اردگرد پھیلے رہے۔
“اللّٰہ سے تعلق بنانا بہت آسان ہوتا ہے، مرزا حاکم۔”
کچھ وقت بعد وہ سنجیدگی سے بولا۔
“لیکن اس تعلق کو قائم رکھنا بہت۔۔۔ بہت مشکل ہوتا ہے۔”
مرزا نے کرب سے آنکھیں میچ لی تھیں۔ ایک مدت بعد کوئی اس کے نانا جان کی طرح اسے سمجھا رہا تھا۔
“میں نہیں جانتا تمہارے اندر کیا چل رہا ہے، لیکن وہ جانتا ہے۔”
ازمیر نے دھیرے سے چہرہ اس کی جانب موڑا۔ مرزا نے بھی رخ اس کی طرف کیا۔
“وہ جو تمہارا رب ہے۔”
بادل زور سے گرجے۔ مرزا حاکم کا دل شدت سے دھڑکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمکنے لگا۔
پہاڑوں نے نم آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھا تھا۔ کل تک وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نظر آتے تھے، مگر آج۔۔۔ آج وہ ایک دوسرے کے غم گسار نظر آ رہے تھے۔
“اس رب کو چھوڑے ایک مدت ہو گئی ہے، ازمیر۔”
“تو اب اس کو پانے میں ایک لمحہ بھی نہ لگانا، مرزا۔”
ازمیر نے مسکرا کر کہا تھا۔
مرزا ایک دو پل نم آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔
“کیا وہ قبول کرے گا؟”
“فوراً قبول کر لے گا۔”
مرزا بھی مسکرا دیا۔
یکایک بادل زور سے گرجے اور بارش جل تھل کرتی برسنے لگی۔
یہ پہلا دن تھا جب انہوں نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش ہر شے کو بھگوتی اسلام آباد کو خیر آباد کہہ چکی تھی۔ سرسبز سبزہ زار مزید خوبصورت ہو گئے تھے۔ فضا میں پھیلی گرد بارش سے دھل گئی تھی اور موسم دلکشی سمیٹ چکا تھا۔
وہ ابھی ابھی مغرب کی نماز ادا کر کے اٹھی تھی۔ اس نے جائے نماز کی تہ لگائی اور اسے دراز میں رکھتے ہوئے کمرے سے باہر آ گئی۔
دائم کا پاؤں ٹھیک ہو گیا تھا۔ اب وہ آہستہ آہستہ قدم لے لیتا تھا، مگر پھر بھی ڈاکٹر نے مزید کچھ عرصہ احتیاط کرنے کے لیے کہا تھا۔
اس نے دروازے پر دستک دی اور دروازہ کھول کر اندر آ گئی۔
وہ سامنے ہی بیڈ پر بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے۔ صاحبہ کو اندر آتا دیکھ مسکرا دیے۔
“السلام علیکم۔”وہ ان تک آتے ہوئے بولی۔
“وعلیکم السلام۔”انہوں نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے جواب دیا۔ وہ ان کے ساتھ جگہ بناتی بیٹھ گئی۔
“کیسی طبیعت ہے آپ کی؟”
“بہتر ہے۔”
“تھوڑی دیر تک ڈنر کریں گے۔”
اس نے کہا تو دائم مسکرا دیا۔
“آج کھانے پر ازمیر اور زریاب کو بھی بلا لیں؟”
انہوں نے خوشی سے پوچھا تو وہ مسکرا دی۔
“ٹھیک ہے، میں انہیں بلا لیتی ہوں۔”
“زریاب کا نمبر ہے تمہارے پاس؟”
“نہیں تو۔ ازمیر کا ہے، میں انہیں بول دوں گی۔”
اس نے سنجیدگی سے کہا، جبکہ دائم کو حیرت ہوئی۔
“اس کا نمبر تمہارے پاس کیسے آیا؟”
صاحبہ نے گہرا سانس بھرا، پھر مسکرا دی۔
“وہ ایک بار میری فلاور شاپ پر پھول لینے آئے تھے اور وہیں اپنا والٹ بھول گئے تھے۔ میں نے ان کے والٹ میں پڑے شناختی کارڈ سے ان کا نمبر لیا تھا۔ پھر ہماری کمپنی کے ساتھ ان کا ایک پراجیکٹ تھا، تو میں نے ڈیلیٹ نہیں کیا۔”
اس نے سنجیدگی سے انہیں ساری بات بتائی تھی، جبکہ وہ منہ کھولے اسے دیکھ کر رہ گئے۔
“تو مطلب وہ۔۔۔ وہ تم ہو؟”
ان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔
“کیا مطلب؟”
اس نے ناسمجھی سے باپ کو دیکھا۔
دائم آنکھیں میچ گیا۔
صاحبہ کے ملنے پر اس کا چڑنا، اس کا نگاہیں چرانا، پھر کل اس کی باتوں پر اس کا اتنا ہنسنا۔۔۔ انہیں آہستہ آہستہ ساری بات سمجھ آنے لگی۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ قہقہے لگا کر ہنس دیے۔
“اوہ میرے خدا!”
وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے کہہ رہے تھے، جبکہ وہ ہونق بنی انہیں دیکھ رہی تھی۔
“کیا بات ہے، ڈیڈ؟”
“ک۔۔۔ کچھ نہیں۔ تم بس اسے فون کر کے آنے کو کہو، اور کہنا وہ لازمی آئے۔ مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے۔”
وہ اپنی ہنسی پر قابو پاتے بولے تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
پھر اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
وہ ابھی ابھی شاور لے کر آیا تھا۔ تولیے سے بال رگڑتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اس کا فون چھنچھنا اٹھا۔ وہ جی بھر کر بد مزہ ہوا تھا۔
اس نے تولیہ ایک طرف پھینکا اور بیڈ اسٹول پر پڑا فون اٹھایا، مگر سکرین پر چمکتا صاحبہ کا نام دیکھتے ہی اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ ایک ہی لمحے میں دل بے ترتیب دھڑکا تھا۔
اس نے فوراً کال رسیو کر کے فون کان سے لگا لیا۔
“السلام علیکم۔”
خوبصورت نسوانی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو وہ اندر تک سرشار ہو گیا۔
“و۔۔۔ وعلیکم السلام۔”
“ڈیڈ چاہ رہے تھے کہ آپ اور زریاب آنٹی آج ڈنر ہماری طرف کریں۔”
“ٹھیک ہے، میں مام کو بتا دیتا ہوں۔”
اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
“بات سنیں۔۔۔”
صاحبہ کو یوں لگا جیسے وہ فون بند کرنے والا ہے، اس لیے وہ فوراً بولی۔ ایک پل کو اس کا دل شدت سے دھڑکا تھا، جس کی وجہ سمجھنے سے وہ قاصر تھی۔
ازمیر ایک لمحے کو رک گیا۔
“جی، سنائیے۔”
وہ بے اختیار مسکراتے ہوئے بولا۔
صاحبہ لب کاٹ کر رہ گئی۔
“آپ لازمی آئیے گا۔”
وہ کہنا چاہتی تھی کہ ڈیڈ کہہ رہے ہیں، مگر بے اختیار باپ کا نام زبان پر نہ لا سکی۔ وہ اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کی وجہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
صاحبہ کی بات تھی یا کچھ اور، ازمیر اندازہ نہ لگا سکا۔ بس دل تھا جو ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو گیا تھا۔
وہ دونوں فون کان سے لگائے کئی پل اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنتے رہے۔
“میں لازمی آؤں گا۔”
کئی لمحوں بعد ازمیر نے مسکراتے ہوئے کہا تو دوسری طرف صاحبہ نے آنکھیں موند لیں۔
“اللہ حافظ۔”
اس کی آواز میں خوشی کی ہلکی سی رمق تھی۔
“اللہ حافظ۔”
وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔
ازمیر نے فون کان سے ہٹایا اور بے اختیار سر جھکا کر ہنس دیا۔
ادھر صاحبہ نے بھی فون نیچے کر لیا۔ اس کا چھتری لے کر آنا، اس کے لیے اُس سنسان جگہ پر واپس لوٹنا، میز کے کنارے پر ہاتھ رکھ کر اسے بچانا۔۔۔ سب کچھ یکایک یاد آ گیا۔ وہ بے اختیار مسکرا دی۔
اس کی سیاہ آنکھیں بالکل ڈاکٹر طاہر جیسی تھیں۔
آسمان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی۔ چاند بادلوں میں شرما کر چھپ گیا، جبکہ فضا چیخ چیخ کر اعلان کر رہی تھی—
ایک نئی داستان کی شروعات ہو چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مغرب کی نماز ادا کیے اسے کافی وقت بیت گیا تھا۔ وہ کب سے جائے نماز پر گم سم سا بیٹھا تھا۔
اتنے سالوں بعد اس نے جائے نماز پر پہلا قدم رکھا تھا اور وہیں اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔ اس نے پوری نماز روتے روتے ادا کی تھی۔
“اللہ۔۔۔”
کچھ وقت بعد وہ مدھم سی آواز میں بولا۔
“اے میرے اللہ، اے مرزا حاکم کے اللہ، اے پوری کائنات کے اللہ۔۔۔ اللہ۔۔۔”
اس نے ہچکی لی۔
“اللہ، میں بھٹک گیا تھا۔ اللہ، مجھے باپ کی محبت لے ڈوبی تھی۔ اللہ، میں آج بھی اپنی غرض سے واپس لوٹا ہوں، لیکن میں پلٹ آیا ہوں۔”
وہ رو دیا تھا۔
“اللہ۔۔۔ میرے پیارے اللہ، تو نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے۔۔۔ بہت، بہت زیادہ۔ مجھے لوگوں نے نہیں، انہیں بنانے والے نے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ اللہ، تو نے ہمیشہ مجھے آزمایا، میرا ٹیسٹ لیا۔ میں کب تک آزمائش میں پورا اترتا؟”
وہ سوال پوچھ رہا تھا۔
“اللہ، سب چھوڑ۔۔۔ تو تو رب ہے نا؟ تو مجھے صاحبہ کا ساتھ دے دے۔ تو نے کبھی میری دعا قبول نہیں کی، تو آج کر لے۔ تو مجھے اس کا ساتھ عطا کر۔”
اس نے روتے ہوئے سجدہ کیا اور پھر نماز سے اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ رب کی طرف لوٹ آیا تھا مگر۔۔۔ آج بھی شکوے اس کی زبان پر تھے۔ آج بھی وہ شکر ادا کرنا بھول گیا تھا۔ آج بھی بندہ اپنی غرض سے رب کی طرف لوٹا تھا۔
سیاہ آسمان تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔
اللہ اپنی یاد بھی کسی کسی کو دیتا ہے۔ اللہ نمازیں بھی کسی کسی کو دیتا ہے۔ جسے دیتا ہے وہ بندہ انمول ہوتا ہے، مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ عطا ہم سے چھن بھی سکتی ہے۔
ہم اللہ کی اس نعمت کو فار گرانٹڈ لے لیتے ہیں اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ہم غلطی کر جاتے ہیں۔
اللہ سے شکوے کرتے رہیں گے تو زندگی میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر کب فوکس کریں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے سائے اسلام آباد میں ہر طرف چھا چکے تھے۔ شہر روشنیوں میں ڈوبا ایک خوبصورت نظارہ پیش کر رہا تھا۔
وہ لوگ ڈنر کر چکے تھے اور اب دائم کے اصرار پر چائے پی رہے تھے۔
لاونج میں ان کی باتوں کی آوازیں صاف سنائی دیتی تھیں۔
“ازمیر، تمہارے پراجیکٹ کا کیا بنا؟”
دائم نے کب سے خاموش بیٹھے ازمیر کو دیکھتے ہوئے سوال پوچھا۔
“ابھی تو کنسٹرکشن جاری ہے۔ کل جاؤں گا جائزہ لینے۔”
اس نے سنجیدگی سے بتایا تھا۔
زریاب مسکرا کر بیٹے کو دیکھنے لگی تھی جبکہ دائم نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔
“ازمیر، تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم صاحبہ کو جانتے ہو؟”
ازمیر جو چائے کا گھونٹ حلق سے اتارنے ہی والا تھا، ان کی بات پر اسے کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔
“ارے ارے، سنبھال کر!”
دائم مسکراتے ہوئے بولے تھے۔
صاحبہ حیرت سے باپ کو دیکھ رہی تھی اور زریاب ازمیر کو۔
“تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا۔”
دائم نے دل جلاتی مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
ازمیر اندر ہی اندر ان کی بات سمجھتے کلس گیا اور بے اختیار نظریں چرا گیا۔
“میں دراصل بتانے ہی والا تھا، بس۔۔۔”
“اور تم نے یہ بھی نہیں بتایا کہ تم اپنا والٹ اسی کی شاپ پر بھول گئے تھے۔”
اب کی بار زریاب نے حیرت سے ازمیر کو دیکھا۔
ازمیر کو تو گویا سانپ سونگھ گیا تھا۔
“ازمیر! وہ لڑکی صاحبہ تھی؟”
ازمیر کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
صاحبہ مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اس کی حالت سے محظوظ ہو رہی تھی۔
ازمیر نے باری باری تینوں کو دیکھا۔ گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔
“مام، وہ۔۔۔ دراصل۔۔۔”
ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کا فون چھنگاڑنے لگا۔
“میں کال اٹینڈ کر کے آتا ہوں۔”
وہ فوراً اٹھتے ہوئے بولا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔
اس کے جاتے ہی دائم قہقہہ لگا کر ہنس دیے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی سٹدی میں بیٹھا وہ لیپ ٹاپ پر سکرولنگ کر رہا تھا۔
آج کی رات اسے بھاری بھاری سی لگ رہی تھی۔ وہ بے چینی سے پاؤں ہلا رہا تھا۔
باہر رات قطرہ قطرہ بہتی گہری ہوتی جا رہی تھی۔
اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور گہرا سانس لیا ہی تھا کہ فون چھنگاڑنے لگا ۔
اس نے اسکرین دیکھی—دائم انکل کالنگ۔
ایک پل کو وہ ٹھہر گیا۔ آدھی رات کا وقت تھا… آخر اس وقت؟
اُس نے اچھنبے سے سوچا اور کال اٹھا لی۔
“اسلام….”
اس کی بات درمیان میں ہی رہ گئی جب دوسری طرف دائم کی روتی ہوئی آواز آئی۔
ازمیر کے ہاتھ سے فون جیسے پھسلنے لگا۔ وہ ساکت رہ گیا۔
جان حلق میں اٹک گئی۔
ایک پل گزرا…
دوسرا پل…
اور پھر اگلے ہی لمحے وہ کرسی سے اٹھا اور دروازے کی طرف بھاگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سڑک پر لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ آگ پوری دکان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ لوگ بھاگ رہے تھے، کوئی پانی سے آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا مگر دکان کے قریب کوئی نہیں جا رہا تھا۔ سب کو اپنی جان کی پڑی تھی۔
لیکن کوئی تھا… جس کے لیے اپنی جان بھی اس کی جان کے آگے کچھ نہیں تھی۔
وہ لوگوں کے رش کو چیرتا ہوا دکان کی طرف بھاگا۔
“صاحبہ… صاحبہ!” وہ شدت سے اس کا نام پکارتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ اس کے انداز سے ایک انجانا خوف ٹپک رہا تھا۔
ازمیر نے بنا دیر کیے گلاس ڈور کو کندھے سے ٹکر ماری تو شیشہ ایک طرف جا گرا۔ کالا سیاہ دھواں اس کی سانسوں میں اترنے لگا۔وہ کھانستے اندر داخل ہوا۔
چھوٹی سی دکان شعلوں کی لپیٹ میں تھی مگر وہ کہیں نہیں تھی۔
ایک طرف بنے کمرے کا دروازہ گرا پڑا تھا۔
وہ حواس باختہ ہو کر اس طرف بڑھا۔ دروازہ بھی آگ میں گھرا ہوا تھا۔ ازمیر نے پروا کیے بغیر اسے اٹھایا اور ایک طرف دھکیل دیا۔ مگر وہاں بھی وہ نہیں تھی۔
“صاحبہ!” ازمیر بے بسی سے چیخ اٹھا۔
اس کا ہاتھ آگ کی تپش سے بری طرح جھلس گیا تھا، مگر وہ ایک ایک ریک الٹتا ہوا اسے ڈھونڈ رہا تھا۔
اس کی حالت دیوانگی میں ڈوبی ہوئی تھی۔
اس کے کوٹ کا کنارا آگ کی لپیٹ میں آیا جو اس کی پشت جلا رہا تھا۔
اس نے پوری دکان چھان ماری… وہ کہیں نہیں تھی۔
وہ کھانستا ہوا بے بسی سے باہر نکلا۔ لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ایک آدمی نے بالٹی کا پانی اس کی پشت پر ڈال کر آگ بجھائی۔
ازمیر نے شدت سے چیخا اور دوبارہ دکان کی طرف بڑھا…
“ازمیر…”
جب پیچھے سے آنے والی نسوانی آواز نے اس کی دنیا ساکت کر دی۔وہ وہی رک گیا ۔
آگ کے شعلے سامنے تھے… اور ٹھنڈک پیچھے ۔
وہ آہستہ سے پلٹا۔
وہ سامنے کھڑی تھی۔صحیح سلامت۔
وہ اسے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔
ازمیر دیوانہ وار اس کی طرف بڑھا۔ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے چہرہ زخمی تھا، ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا، مگر آنکھوں میں صرف ایک ہی سکون تھا کہ وہ ٹھیک ہے ۔
“ص… صاحبہ…” وہ مسکرایا۔پھر ضبط کیا۔ پھر مسکرایا۔
وہ کچھ نہ بول سکی۔
وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔
دونوں کے درمیان خاموشی اتر گئی۔
لوگ، شور، ریسکیو ٹیم—سب پیچھے رہ گیا۔
ازمیر نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی اور دل تھام لیا۔ اسے صحیح سلامت دیکھ کر اس نے بے اختیار “الحمدللہ” کہا۔
صاحبہ ساکت اسے دیکھتی رہی۔بھوری آنکھیں بے تاثر تھی۔
اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ آہستہ سے گھبرا گیا۔ بے اختیار وہ خائف ہوا ۔
“میں… میں یہاں سے گزر رہا تھا… تو آگ لگی دیکھی… تو سوچا کہ کہیں تم مصیبت میں تو نہیں ہو۔”
وہ نم آواز میں پھر بہانہ بنا گیا۔
صاحبہ نے کچھ نہ کہا۔ بس اسے دیکھتی رہی۔
اس کی بھوری آنکھوں میں ازمیر کا عکس واضح تھا۔
آگ کے شعلے پیچھے مدھم ہونے لگے۔
“جھوٹ۔”
کئی لمحوں بعد وہ بولی۔
ازمیر چونکا۔وہ اسے سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی۔
“تمہیں لگا تھا… تم مجھے کھو دو گے۔”
ازمیر تھم گیا۔ وہ نرمی سے مسکرائی ۔
اس نے آہستہ سے اس کا ہاتھ دیکھا، پھر اس کے زخمی چہرے کو۔
وہ اب بھی اسے شل کھڑا دیکھ رہا تھا۔ ایک جملے نے اس کے سارے جذبات سمیٹ لیے تھے ۔
ازمیر کی آنکھیں بھر آئیں۔ صاحبہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
دونوں نے ایک لمحہ نظریں چرائیں… اور ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
چاند نے یہ منظر بھیگی پلکوں سے دیکھا۔
وہ کچھ کہے بغیر پلٹ گئی۔
ازمیر ہلکا سا ہنس دیا اور دائیں جانب مڑ گیا۔ وہ اب تک شل تھا۔ مگر دل تھا جو اسے مسکرانے پر مجبور کر رہا تھا۔
دور، ایک طرف کھڑا مرزا یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔وہ شخص ازمیر علی تھا۔ اس نے کرب سے سوچا۔ ان دونوں کو ساتھ دیکھ اس کے اندر تکلیف اٹھی تھی ۔
“میں آج بھی دیر کر گیا…”
وہ آہستہ سے بولا اور پلٹ گیا۔
آسمان نے تینوں کو الگ الگ راستوں پر جاتے دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے اسے خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔
انہوں نے اس کے ہاتھ پر بینڈیج کر دی تھی اور ماتھے کے زخم پر بھی دوائی لگا دی تھی۔
“ازمیر۔” انہوں نے دھیرے سے اسے پکارا۔
“ہمم۔” اس نے بنا چہرہ اوپر اٹھائے جواب دیا۔
“تم کب تک دل سے بھاگتے رہو گے؟”
ازمیر نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“تم خود سے لڑتے لڑتے کمزور پڑ جاؤ گے۔ اگر کسی سے محبت ہو جائے تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہوتا۔”
ازمیر نے تھوک نگلا اور ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
“وہ مجھے ڈیزرو نہیں کرتی انکل” اس کی آواز میں کرب تھا۔ خوف تھا۔
دائم اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہی تھم گئے۔
بے اختیار ان کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔
“کب تک خود کو سزا دیتے رہو گے؟”
“میں اپنی اس غلطی کو نہیں بھول سکتا انکل۔ میں جتنی کوشش کر لوں، میں اس واقعے سے موو آن نہیں کر سکتا۔”ازمیر کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی ۔
وہ صرف اپنے ماضی کی وجہ سے اپنے اعتراثاے ڈرتا تھا ۔اس کے ماضی نے اسے بے بس کر دیا تھا۔
دائم نے گہری سانس لی۔
“تم اب موو آن کر جاؤ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
ازمیر نے کچھ نہ کہا، بس سر اثبات میں ہلا دیا۔بعض دفعہ آپ صرف ہامی بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔
“ٹھیک ہے انکل، میں چلتا ہوں۔” وہ اٹھتے ہوئے بولا اور بنا ان کی طرف دیکھے باہر نکل گیا۔
“یا اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کر دے۔”
انہوں نے شدت سے دعا کی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ نے پہلے ہی اس کے لیے کچھ اور انتظام کر رکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی ہر شے نیچے گرا دی ۔
“میرے ساتھ ہمیشہ ایس ہوتا ہے ۔” وہ چلایا تھا۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا ۔
“ہار بار اللّٰہ ایسا کرتا ہے ۔” اس نے گلاس اٹھاتے زمین پر دے مارا۔
“مجھے آزماتا ہے ۔ رلاتا ہے۔ توڑتاہے ۔” وہ شدت غم سے دھاڑ رہا تھا۔ اس نے کمرے کا حشر نشر بیگاڑ دیا تھا۔
“مجھے کھبی نہیں سنا اس نے۔ میرا دوست مجھ سے چھین لیا۔ پھر ماں کو چھین لیا۔مجھے پوری دنیامیں تنہا کر ڈالا۔ اور اب ۔۔۔۔اب جب مجھے وہ چاہیے تھی اسے بھی مجھ سے چھین لیا۔ میری محبت کسی کو آسانی سے کیسے مل گئی ۔” اس کی چیخوں سے عمارت لرز رہی تھی ۔
“تو جھوٹا ہے ۔ سن رہا ہے تو ۔۔تو ۔۔۔جھوٹا ہے ۔”
“تو میرا رب نہیں ہے ۔ تو۔۔۔تو میرا رب نہیں ہے ۔ اب میں بھی تیرا عبد نہیں ہوں۔ سن رہا ہے تو ۔”
وہ چلا چلا کر رب سے شکوہ کر رہا تھا۔
آواز میں کرب تھا۔ دکھ تھا ۔ تکلیف تھی ۔ اور۔۔۔۔۔اور ٹوٹی امیدوں کی اذیت تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گہری سے گہری ہوتی جا رہی تھی۔ چاند گہرے بادلوں میں چھپا بیٹھا تھا۔ ایک خاموشی تھی جو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔
“وہ ہر بار تمہارے لیے آتا ہے صاحبہ، کیا تمہیں نظر نہیں آتا؟”
نحل نے اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنے گرم ہاتھوں میں لیتے نرمی سے کہا۔ اس وقت وہ دونوں نحل کے گھر کے لاونج میں بیٹھی تھیں۔
صاحبہ کچھ نہ بولی۔ وہ بس چپ چاپ اپنے اور نحل کے ہاتھوں کو دیکھتی رہی۔
“اس کی آنکھوں میں تمہارے لیے جو محبت ہے، وہ سچی ہے۔ تم کیوں خود پر جبر کر رہی ہو؟”
صاحبہ اب بھی کچھ نہ بولی۔
“صاحبہ، تم کیوں خاموش ہو میری جان؟ کچھ تو بولو۔”
نحل نے ایک اور کوشش کی۔
“میری طرف دیکھ۔۔۔”
نحل رک گئی۔ اس کے ہاتھ کی پشت پر ایک گیلا قطرہ گرا۔ اس نے چونک کر صاحبہ کے چہرے کی طرف دیکھا۔
او خدایا، وہ رو رہی تھی۔
“صاحبہ، کیا بات ہے؟”
وہ اس کے گرد بے اختیار حصار باندھ گئی۔
صاحبہ نے اس کے گرد مضبوطی سے حصار قائم کر لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ایک مدت بعد آنکھوں کا چمن گیلا ہوا تھا۔
وہ نحل سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
نحل کبھی پریشانی سے اس کے آنسو صاف کرتی تو کبھی اسے اپنے گرد مضبوطی سے سمیٹ لیتی۔
اس نے پہلی بار اسے روتے دیکھا تھا۔ خاموش لاونج میں کافی دیر تک اس کی ہچکیاں گونجتی رہیں۔
“اور رونا ہے؟”
کافی دیر بعد جب اس کی ہچکیاں رکیں تو نحل نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتے ہوئے پوچھا۔
وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
نحل نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
“کیا تمہیں میری باتیں بری لگی ہیں؟ اس لیے رو رہی تھی؟”
وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“اچھا چلو، کچھ نہ بتاؤ ابھی۔”
وہ اس کا سر اپنے کندھے پر ٹکا گئی۔
“ابھی تم مجھے محسوس کرو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں صاحبہ۔”
صاحبہ کی آنکھ سے دوبارہ ایک آنسو نکلا اور نحل کے کندھے پر گرا۔
کئی پل ایسے ہی گزر گئے۔
نحل صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی جبکہ صاحبہ کا سر اس کے کندھے پر تھا۔ سامنے دیوار پر ان دونوں کا عکس صاف واضح تھا۔ صاحبہ کی نظریں اسی عکس پر تھیں۔
“م۔۔۔مجھے اس۔۔۔ میں۔۔۔ مجھے اس میں ڈا۔۔۔ ڈاکٹر طاہر دکھتے ہیں۔”
کچھ پل بعد وہ نم آواز میں بولی تو نحل کا رواں رواں سماعت بن گیا۔
“اور ڈاکٹر طاہر میرے لیے میری زندگی تھے۔”
نحل کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایک مدت بعد اس نے ڈاکٹر طاہر کا نام لیا تھا۔ نحل اس کی آواز میں تکلیف صاف محسوس کر سکتی تھی۔
“مجھے دیکھنے کا، مجھے سننے کا، میرے سامنے آنے کا اور میری فکر کرنے کا۔۔۔ اس کا ہر انداز۔۔۔ وہ بالکل انہی کی طرح ہے۔”
صاحبہ بمشکل لفظ ادا کر رہی تھی۔ اس کے گلے میں بار بار آنسوؤں کا گولہ پھنس جاتا تھا جسے وہ اندر دھکیل دیتی تھی۔
“وہ میری زندگی میں آیا ہے تو لگتا ہے ڈاکٹر طاہر واپس آ گئے ہیں۔”
صاحبہ نے آنکھیں موند لیں۔ بیک وقت کئی آنسو اس کی آنکھوں سے گرے تھے۔
“میں ایک مدت بعد روئی ہوں۔ میرے اندر کی تکلیف ایک مدت بعد باہر نکلی ہے۔ ایک مدت بعد لگا ہے جیسے کوئی ہے جو۔۔۔ جو میرے لیے اپنی دنیا چھوڑ کر آ سکتا ہے۔ اور ان سب کی وجہ ازمیر عباس علی ہے۔”
وہ مدھم سا مسکرائی۔
نحل کی آنکھ سے ایک آنسو نکلتا ہوا اس کے بالوں میں گم ہوتا چلا گیا۔
“مجھے اس سے محبت نہیں ہے۔”
صاحبہ نے آنکھیں کھولیں۔
“میں بس اپنے ساتھ اس کا ساتھ چاہتی ہوں۔”
اس نے سر اٹھا کر نحل کو دیکھا۔ نحل ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“م۔۔۔میں بس۔۔۔ میں بس دوبارہ جینا چاہتی ہوں۔ کیا یہ بہت زیادہ ہے؟”
نحل رو دی۔ صاحبہ ہمیشہ اسے اپنے غم میں رلا دیا کرتی تھی۔
صاحبہ کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
“صاحبہ، میری جان۔”
نحل نے اسے خود سے لگا لیا۔
“تم کچھ بھی زیادہ نہیں مانگ رہی۔”
وہ اسے خود سے لگائے تسلی دیتی رہی۔
بادلوں سے آہستگی سے چاند نکلا اور پھر ایک گہرے بادل میں چھپتا گیا۔
“میری بات سنو صاحبہ۔”
نحل نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی نظروں میں دیکھ رہی تھیں۔
“تم وہ کرو جو دل چاہتا ہے۔ تمہارا بھی زندگی پر حق ہے۔ خود پر اتنا ظلم نہ کرو صاحبہ۔ اتنی ظالم مت بنو۔ تم خود کو سانس لینے دو، خود کو جینے دو۔ ہممم؟”
“لیکن نحل، میں کیسے دوبارہ کسی پر یقین کروں؟”
اس کی آواز میں کرب تھا۔
نحل اسے دیکھ کر مسکرائی۔
“یاد ہے جب میری محبت مجھے چھوڑ کر گئی تھی تو تم نے مجھ سے کیا کہا تھا؟”
نحل نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ تھم گئی۔ آنکھوں میں حیرت عود آئی۔
“بتاؤ صاحبہ شاہ، تم نے مجھ سے کیا کہا تھا؟”
صاحبہ مدھم سا مسکرائی۔
“م۔۔۔میں نے کہا تھا کہ۔۔۔ محبتیں ابدی نہیں ہوتیں۔ اس دنیا میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں خود کو فیوچر کی سوچوں سے آزاد کر کے ایک لمبا سانس لینا ہوتا ہے اور خود کو اگلے مرحلے کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔”
نحل مسکرائی۔
“بالکل ٹھیک۔ تم نے یہی کہا تھا۔ تو صاحبہ، تم بھی خود کو فیوچر کی سوچوں میں مت الجھانا۔ تم بس حال کو جیو، کیونکہ تم دوبارہ جینا چاہتی ہو۔”
صاحبہ مسکرا دی۔
ایک بوجھ تھا جو دل سے ہٹ گیا تھا۔
وہ دونوں مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کے گرد حصار قائم کر گئیں۔ دیوار پر ان کا عکس ایک الگ ہی یاد بن رہا تھا۔
باہر رات قطرہ قطرہ بہتی، ڈھلتی جا رہی تھی۔ان تینوں کے لیے یہ رات بہت بھاری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے روز ۔
سورج طلوع ہوئے کئی ساعتیں بیت گئی تھی ۔ سورج کی کرنیں اس پر پڑتی زمین پر اسکا سایہ بنا رہی تھی ۔
وہ قدم قدم چلتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ شام کا سورج آہستہ آہستہ غروب ہوتا جا رہا تھا۔
اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا کہ اس کا فون چھنگارا۔ اس نے کوٹ کی جیب سے فون نکالا اور کار کے اندر بیٹھ گیا۔
“اسلام علیکم۔”
“واعلیکم السلام۔ ازمیر فوراً سے ریسٹورنٹ پہنچو۔”
وہ کسی قریبی ریسٹورنٹ کا نام لیتے ہوئے بولا۔
“خیریت؟” ازمیر نے چونک کر پوچھا۔
“ہاں خیریت ہے۔ تم آ جاؤ، میں نے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔”
“اچھا ٹھیک ہے، میں آتا ہوں۔”
ازمیر نے فون کان سے ہٹا دیا اور ریسٹورنٹ کی طرف گاڑی موڑ دی۔
اس نے گلاس ڈور کھولا اور اندر قدم رکھا ۔ وہ اسے آخری میز پر بیٹھا نظر آیا۔
وہ ابھی دو قدم ہی چلا تھا کہ اس کی نظر مزاحم کے دائیں جانب بیٹھی لڑکی پر پڑی۔ وہ حیرت سے ان کی طرف بڑھ گیا۔سیاہ آنکھو میں حیرانگی بھری تھی۔
“کہیں یہ اپنے لیے کوئی رشتہ تو نہیں ڈھونڈ کر بیٹھا…” وہ سوچتے ہوئے قریب جا پہنچا۔
“کیوں اتنی اجلت میں مجھ۔۔۔۔”
اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔دائیں جانب بیٹھی لڑکی پر نظریں پڑتے ہی وہ ساکت ہو گیا تھا
وہ وہی تھی… ایلن۔
ازمیر کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ اس نے لرزتی نظر سے مزاحم کو دیکھا۔
“ازمیر، میری بات سن…”
ازمیر نے افسوس سے ایلن اور مزاحم کو دیکھا۔ ایلن نم آنکھوں سے اسے دیکھتی کھڑی ہو گئی۔
“صرف ایک بار میری بات سن لو ازمیر۔”
ازمیر نے دونوں پر ایک تیز نظر ڈالی اور مڑنے لگا۔
“ازمیر ایک بار اس کی بات سن لو!” مزاحم اس کے پیچھے آیا۔
“مزاحم، میرے راستے سے ہٹ جاؤ۔” ازمیر نے سرد لہجے میں کہا۔ اس کے اندر تکلیف اٹھ رہی تھی۔
“ازمیر پلیز…”
“مزاحم، ہٹو! تماشہ مت بناؤ میرا۔” اس نے اسے پرے دھکیلا اور آگے بڑھ گیا۔
“ایلن کو کینسر ہے…” عقب سے آواز آئی۔
اس کے قدم رک گئے۔ مگر وہ مڑا نہیں۔
“ڈاکٹرز نے اسے جواب دے دیا ہے۔ اس کے پاس صرف کچھ ماہ ہیں، ازمیر۔”
ازمیر کے دل میں درد اٹھا۔ وہ ہل کر رہ گیا۔
اس نے آہستہ سے پلٹ کر ایلن کو دیکھا۔ وہ آج بھی اسی معصومیت کے ساتھ کھڑی تھی بس بیماری کے آثار نے اسے بدل دیا تھا ۔
ازمیر نے گہری سانس لی اور اپنے اندر کے لرزتے خوف کو قابو کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیسے ہو؟”
ایلن دیوانہ وار اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیسا ہو سکتا ہوں؟” ازمیر نے نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ کن لہجے میں پوچھا۔
ایلن کرب سے مسکرائی۔
ان تینوں میں ایک بار پھر خاموشی پھیل گئی۔
ایلن نے گہرا سانس بھرا۔
“میں تم دونوں کو بہت یاد کرتی تھی۔ ہماری مستیاں، ہمارا ہنسنا، ہمارے قہقہے۔” ایلن کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور گال پر پھسلتا چلا گیا۔
مزاحم کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں جبکہ ازمیر نظریں جھکائے اسے سنتا رہا۔
“سب کتنا بدل گیا ہے نا؟ کاش میرے پاس جادو کی چھڑی ہوتی اور وقت ہمیں پیچھے لے جاتا، میں ایک بار تم دونوں کے ساتھ ہنس لیتی۔” اس کی آواز میں حسرت پوشیدہ تھی۔ ازمیر کا ضبط جواب دے رہا تھا۔ اس رات کی ساری باتیں، روتی ایلن، اس کے آس پاس گردش کر رہی تھیں۔
“ایلن، تمہیں جو بھی کہنا ہے جلد۔۔۔۔”
“مجھے معاف کر دو ازمیر۔” اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ایلن نے روتے ہوئے کہا ۔ اس کی آواز میں ندامت تھی۔
“کس لیے معافی ایلن؟” مزاحم نے چونک کر پوچھا تھا۔
ایلن نے ایک نظر ازمیر کو دیکھا۔ہیزل آنکھیں سیاہ آنکھوں سے ٹکرائی ۔ اس کی نظریں جو داستان ازمیر کو سنا رہی تھی ازمیر دہل اٹھا۔ وہ بے اختیار نفی میں سر ہلایا۔ وہ اس مقام پر آ کر کوئی بڑا اعتراف نہیں سن سکتا تھا۔
ایلن نے آنسو بہاتے ہوئے اسے دیکھا۔ “میں نے ازمیر پر جھوٹ بولا تھا۔”
اسلام آباد کا وقت رک گیا۔ ہر شے ساکت ہو گئی تھی۔
“واٹ؟ ایلن تمہیں پتہ بھی ہے تم کیا کہہ رہی ہو؟” مزاحم نے حیرت سے پوچھا جبکہ ازمیر تو گویا پتھر کا مجسمہ بن گیا تھا۔
“مجھے یہ سب ڈین نے کرنے کے لیے کہا تھا، میں اس سے بہت محبت کرتی تھی۔ اس نے اپنے ساتھ کے بدلے ازمیر پر الزام لگانے کے لیے کہا تھا۔” ایلن رو رہی تھی۔
“میں مجبور تھی۔”
“تم خاک مجبور تھی؟” مزاحم غرایا تھا۔ ریسٹورنٹ میں بیٹھے لوگوں نے مڑ کر اسے دیکھا تو اس نے اپنی آواز مدھم کر لی ۔
“تم مجبور نہیں، ہوس پرست تھی ایلن۔ تم نے اسے تباہ کر دیا صرف اپنی دو کوڑی کی محبت کے لیے؟ اور اب تم آ کر اس بات کو ہمارے سامنے بیان کر رہی ہو ؟ اب ؟”
ایلن نے نفی میں سر ہلایا۔ “خدارا مزاحم، مجھے معاف کر دو۔ میں نے ایک لمبا عرصہ سزا کاٹی ہے، اب مجھے میرے گلٹ سے آزاد کر دو۔”
وہ روتے ہوئے التجائیں کر رہی تھی۔ مزاحم اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔ ازمیر کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
اس کا کلب جانا۔۔۔۔۔
ایلن کا سب کے سامنے الزام لگانا۔۔۔۔۔
عدالت میں اسے سزا کا ملنا۔۔۔۔۔
دو سال جیل میں قید رہنا۔۔۔۔۔
اتنے سال بنا کسی جرم کے پچھتاوے میں رہنا۔۔۔۔۔
ازمیر علی تو ٹوٹ کر رہ گیا۔ ایک جھوٹ؟ صرف ایک جھوٹ اسے اتنے سال پاگل کرنے کے لیے کافی تھا؟ تکلیف۔۔۔ بے انتہا تکلیف اس نے اپنے دل میں اٹھتی محسوس کی۔
وہ تو کچھ بھی نہ تھا۔ ایلن کا ایک جھوٹ اسے نیست و نابود کرنے کے لیے کافی تھا۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
مزاحم اب بھی ایلن سے بات کر رہا تھا۔ اس نے اٹھ کر وہاں سے جاتے ازمیر کو نہیں دیکھا تھا۔
ازمیر شاک کی کیفیت میں گاڑی میں بیٹھا اور اسے سٹارٹ کر دیا۔
“تم نے میرا ریپ کیا ہے۔” وہ گاڑی سڑک پر لے آیا۔
“عدالت ازمیر علی کو دو سال قید کی سزا سناتی ہے۔”
اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہوتا گیا۔ “مارو اسے، یہ ریپسٹ ہے۔” اس کے دماغ میں درد اٹھا۔ کار کی رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی۔ آوازیں، شور، طعنے، جیل کے ڈنڈے—ہر چیز گڈمڈ ہو رہی تھی۔
آنسو اس کی گال پر پھسلتے جا رہے تھے۔
شدتِ ضبط سے اس نے کار کی رفتار تیز کر دی۔
“میں نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔”
“وہ الزام تھا۔۔۔۔”
ازمیر نے کراہ کر آنکھیں میچ لیں کہ فوراً سے سامنے سے تیز آتی کار سے اس کی گاڑی ٹکرا گئی ۔
پوری دنیا ساکت ہو گئی تھی۔
صرف ایک جھوٹ؟ اور اس کی آنکھیں بند ہوتی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے ہسپتال کی راہداری میں ٹہل رہا تھا۔ دائم اور زریاب ایک طرف رکھے بینچ پر بیٹھے پریشانی سے ورد کر رہے تھے۔
ایلن جا چکی تھی۔ وہ صرف اعتراف کرنے ہی تو آئی تھی۔ مزاحم نے دائم اور زریاب کو ساری بات بتا دی تھی۔
اچانک سرجری یونٹ کا دروازہ کھلا اور سینئر ڈاکٹر باہر آئے۔
“اب ازمیر کیسا ہے ڈاکٹر؟”
زریاب پریشانی سے پوچھتے ہوئے اٹھی۔
“مبارک ہو، پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہے۔”
“اللّٰہ تیرا شکر۔” تینوں نے بیک وقت کہا تھا۔
“کیا ہم اس سے مل سکتے ہیں؟” مزاحم فوراً سے بولا۔
“نہیں، ابھی انہیں کچھ دیر میں ہوش آ جائے گا، پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں۔”
ڈاکٹر کہہ کر چلا گیا۔ تو وہ تینوں سکھ کا سانس لے کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی زریاب اور دائم اسے ریسٹ کا کہہ کر وہاں سے گئے تھے۔ وہ کھلی آنکھوں سے چھت کو تکتا رہا یہاں تک کہ دروازے پر دستک کی آواز آئی۔
وہ اجازت نہیں دینا چاہتا تھا مگر کوئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
بلیک ہیل کی آواز سنتے ہی وہ پہچان گیا تھا کہ آنے والا کون ہے۔مگر اس نے اسے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی ۔
وہ قدم قدم چلتی اس تک آئی۔
کئی پل ان کے درمیان خاموشی حائل رہی ۔
“کیسے ہو؟”
اس کی آواز نم تھی۔ ازمیر نے دھیرے سے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھیں متورم تھیں۔ ازمیر کو حیرت ہوئی۔
“اب کیسا فیل کر رہے ہو؟” اس نے پھر سے سوال پوچھا تو وہ حیرت سے باہر آیا ۔ پھر بدقت مسکرا دیا۔
“ب۔۔بہتر۔۔۔ فیل کر رہا ہوں۔” صاحبہ اسے کئی پل دیکھتی رہی۔ازمیر بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ صاحبہ روئی ہے؟ میرے لیے ؟ اس کے دماغ میں سوال گردش کر رہے تھے۔
“میں ہسپتال کے سامنے سے گزر رہی تھی تو۔۔۔ تو سوچا کہیں ازمیر عباس علی تو یہاں ایڈمٹ نہیں ہے۔”
کئی پل بعد اس نے سنجیدگی سے بتایا ۔ ازمیر پہلے تو ہونک بنا اسے دیکھتا رہا پھر اس کا مطلب سمجھتے وہ بے اختیار زور سے ہنس دیا۔کئی ہل ہنسنے کے بعد اس نے اس کی روئی روئی بھوری آنکھوں میں دیکھا۔بھوری آنکھوں میں چھپا تاثر وہ سمجھ گیا۔ پھر مسکرا دیا ۔
“جھوٹ۔۔۔ تمہیں لگا تھا تم۔۔۔ مجھے کھو دو گی۔” صاحبہ کی آنکھیں پھر سے بھیگ گئی تھیں۔
“میں اب کسی کو بھی کھونے کی ہمت نہیں رکھتی ہوں ازمیر۔” اس نے دکھی لہجے میں کہا تھا۔
ازمیر مسکرا کر رہ گیا۔ وہ دل کے ہاتھوں ہار گیا تھا، اور یہی ہار اسے زندگی بخش گئی تھی۔
ایک بوجھ تھا جو دل سے ہٹ گیا تھا۔ ایک تکلیف تھی جو دل سے نکل گئی تھی۔ اور ایک نئی زندگی تھی جو اس کا انتظار کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
