KHUDARI KI QIMAT BY JAVERIA ARSHAD (ARTICLE).

3)خودداری کی قیمت:-

(وہ انسان کبھی حقیقتاً غریب نہیں ہوتا جو اپنی خودداری کی حفاظت کرنا جانتا ہو)

آج کے معاشرے میں کامیابی کو اکثر دولت، شہرت اور ظاہری آسائشوں سے جوڑ دیا گیا ہے، لیکن انسان کی اصل پہچان اس کے کردار اور خودداری سے ہوتی ہے۔ خودداری کا مطلب غرور یا تکبر نہیں ہوتا، بلکہ اپنی عزتِ نفس کو قائم رکھتے ہوئے زندگی گزارنا ہوتاہے۔ ایک خوددار انسان حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، وہ اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے محنت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وقتی مشکلات برداشت کی جا سکتی ہیں، مگر عزتِ نفس ایک بار مجروح ہو جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

زندگی میں ہر انسان پر آزمائش کا وقت ضرور آتا ہے۔ کسی کا کاروبار متاثر ہوتا ہے، کوئی ملازمت سے محروم ہو جاتا ہے، تو کسی کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض لوگ آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں کے احسانوں کے سہارے جینا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ خاموشی سے جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ چھوٹا کام کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ رزق کا ہر حلال ذریعہ عزت کا باعث ہے۔ یہی لوگ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف اپنے حالات بدلتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بن جاتے ہیں۔

خودداری کا تعلق صرف مالی معاملات سے نہیں ہوتا بلکہ تعلقات سے بھی ہوتاہے۔ بعض اوقات انسان صرف کسی رشتے کو بچانے کے لیے اپنی عزت، احساسات اور شخصیت کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ ہر غلط بات برداشت کرتا رہتا ہے، ہر الزام خاموشی سے قبول کر لیتا ہے اور اپنی خوشی قربان کرتا رہتا ہے۔ ایسے رشتے وقتی طور پر تو قائم رہ سکتے ہیں، لیکن ان میں احترام باقی نہیں رہتا۔ ایک مضبوط رشتہ وہی ہوتا ہے جہاں محبت کے ساتھ ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھا جائے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خودداری انسان کو دوسروں سے دور نہیں کرتی بلکہ اسے اپنی ذات کی قدر کرنا سکھاتی ہے۔ جو شخص اپنی عزت کو سمجھتا ہے، وہ دوسروں کی عزت کرنا بھی جانتا ہے۔ زندگی میں کامیابی صرف اونچے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس مقام تک اپنے کردار اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے پہنچنا اصل کامیابی ہے۔

پیغام:

خودداری انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ دولت، عہدہ اور شہرت وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، لیکن عزتِ نفس اور اچھا کردار وہ دولت ہیں جو انسان کو ہر حال میں باوقار بنائے رکھتے ہیں۔

ختم شد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *