KHAMOSH RISHTE BY JAVERIA ARSHAD (ARTICLE).

آرٹیکل:-

1) “خاموش رشتے”

 

(الفاظ تو ختم نہیں ہوتے، صرف دل بولنا چھوڑ دیتے ہیں)…

 

ہر رشتہ لڑائی سے ختم نہیں ہوتا، کچھ رشتے خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ یہ وہ خاموشی ہوتی ہے جس میں نہ کوئی شکوہ سنائی دیتا ہے، نہ کوئی الزام دیا جاتا ہے، مگر دل کے اندر بہت کچھ ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک دوسرے کی معمولی سی بات بھی چہرے پر مسکراہٹ لے آتی تھی، مگر پھر زندگی کی مصروفیات، انا، بے توجہی اور “بعد میں بات کریں گے” جیسے جملے آہستہ آہستہ فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اکثر لوگ اس خاموشی کو سکون سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہی خاموشی رشتوں کی سب کے لیے خطرناک بیماری بن جاتی ہے۔

 

خاموش رشتے صرف میاں بیوی کے ہی درمیان نہیں ہوتے، بلکہ والدین اور اولاد، بہن بھائیوں، دوستوں اور حتیٰ کہ برسوں کے ساتھ نبھانے والوں کے درمیان بھی جنم لے لیتے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ کبھی کبھی مہمانوں کی طرح زندگیاں گزارنے لگتے ہیں۔ صبح سلام، شام حال چال، اور پھر ہر شخص اپنی دنیا میں گم ہو جاتا ہے۔ نہ کوئی کسی سے اپنی دل کی بات کرتا ہے، نہ کسی کے چہرے پر لکھی تھکن پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ رشتہ زندہ تو رہتا ہے، مگر اس کی روح آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔

 

اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وقت خود سب کچھ ٹھیک کر دے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ وقت صرف ان رشتوں کو مضبوط کرتا ہے جن میں بات چیت، احساس اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی خواہش باقی ہو۔ خاموشی اگر لمبی ہو جائے تو دلوں میں غلط فہمیاں گھر بنا لیتی ہیں۔ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب دونوں طرف محبت موجود ہوتی ہے، مگر اسے ظاہر کرنے کی ہمت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں ہوتا کہ رشتہ ٹوٹ گیا، بلکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ اسے بچانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔

 

 ہماری زندگی ہمیں ہر چیز کا دوسرا موقع نہیں دیتی۔ بہت سے لوگ ہمارے پاس ہوتے ہوئے بھی ہم سے دور ہو جاتے ہیں، صرف اس لیے کہ ہم نے وقت پر ان کی خاموشی کو نہیں سنا ہوتا۔ بعض اوقات ایک سچا سوال، ایک معذرت، ایک نرم لہجہ یا چند لمحوں کی توجہ برسوں سے جمی برف پگھلا سکتی ہے۔ رشتے بڑی قربانیوں سے نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے احساسات سے زندہ رہتے ہیں۔

 

پیغام: خاموشی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ ایک ایسے دل کی آواز ہوتی ہے جو چاہتا ہے کہ کبھی اس کی بھی خاموشی کو سنا جانا چاہیے ۔رشتوں کو ختم ہونے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کریں، کیونکہ بعض فاصلے قدموں سے نہیں، صرف ایک سچی گفتگو سے ختم ہو جاتے ہیں۔۔۔

ختم شد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *