MAKAFAT E AMAL BY JAVERIA ARSHAD (ARTICLE).

” مکافات عمل”

ازقلم جویریہ ارشد۔۔۔

انسان اپنی زندگی میں جو کچھ عمل بھی کرتا ہے، وہ عرش پر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ چاہے وہ اچھے اعمال ہوں یا پھر برے اعمال ہوں، ان کے اثرات وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی میں ضرور ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی حقیقت کو ہم “مکافاتِ عمل” کہتے ہیں، یعنی انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ ملنا ہے ۔۔۔

اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ دوسروں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں یا کسی کا دل دکھاتے ہیں، اور بظاہر وہ خوشحال نظر آتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت خاموشی سے اپنا کام کر رہا ہوتا ہے۔ مکافاتِ عمل فوری طور پر نہیں ہوتا، مگر جب ہوتا ہے تو انسان کو اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی یاد آ جاتی ہے۔

اسی طرح، جو لوگ صبر کرتے ہیں، سچائی کا ساتھ دیتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں، ان کی زندگی میں بھی ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب ان کی نیکیوں کا پھل انہیں ملتا ہے۔ شاید وہ دیر سے ہی ملے، مگر وہ ان لوگوں کی زندگیوں میں سکون، عزت اور دل کا اطمینان لے کر آتا ہے، جو کسی بھی دولت سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔

 

مکافاتِ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہماری زندگی ایک آئینہ ہے۔ جو ہم دوسروں کو دیتے ہیں، وہی کسی نہ کسی صورت میں ہمارے پاس لوٹ کر واپس ضرور آتا ہے۔ اگر ہم محبت بانٹیں گے تو ہمیں محبت ہی ملے گی، اور اگر نفرت پھیلائیں گے تو اس کا اثر بھی ہمیں ہی برداشت کرنا پڑے گا۔

آخر میں ہم یہ کہیں گے کہ انسان کو ہر حال میں اچھے اعمال کرنے چاہیے۔ کیونکہ وقت چاہے جتنا بھی گزر جائے، مکافاتِ عمل سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اس لیے ہمیشہ اچھا سوچیں، اچھا کریں، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں ۔۔۔ کیونکہ جو آپ آج کریں گے، وہی کل آپ کے سامنے آئے گا۔۔۔۔یہ اللّہ کا قانون ہے۔۔۔

ختم شد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *