“لوگ کیا کہیں گے”
ازقلم جویریہ ارشد۔
ہماری زندگی میں ایک جملہ جو بہت زیادہ سنا جاتا ہے، اور وہ ہے “لوگ کیا کہیں گے”۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو اکثر ہمیں اپنے فیصلے لینے سے روک دیتا ہے۔ ہم بہت سی چیزیں صرف اس لیے نہیں کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے یا کیا بولیں گے۔
کبھی ہم اپنے شوق چھوڑ دیتے ہیں، کبھی اپنی پسند کی چیز نہیں کر پاتے ہیں، اور کبھی اپنے دل کی بات بھی نہیں کہہ پاتے ہیں۔ صرف اس ایک ڈر کی وجہ سے ہم اپنی زندگی دوسروں کی سوچ کے مطابق گزارنے لگتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہتے ہی رہتے ہیں، چاہے ہم کچھ کریں یا نہ کریں۔
اگر ہم ہر وقت لوگوں کے بارے میں سوچتے رہیں گے تو ہم کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ زندگی ہماری اپنی ہے، اور ہمیں اسے اپنے طریقے سے جینا چاہیے۔ لوگوں کی باتیں کچھ وقت کے لیے ہوتی ہیں، لیکن ہمارے فیصلے ہماری پوری زندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔
اس لیے ہمیں یہ سوچنا چھوڑنا ہوگا کہ لوگ کیا کہیں گے، اور یہ سوچنا شروع کرنا ہوگا کہ ہمیں کیا صحیح لگتا ہے۔ جب ہم خود پر یقین کریں گے تو آہستہ آہستہ ہمیں دوسروں کی باتوں کی پرواہ بھی کم ہو جائے گی۔
آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی اپنے لیے جینی چاہیے، نہ کہ لوگوں کے ڈر سے اپنی خوشیوں کو قربان کر دیں۔ کیونکہ جب ہم خود خوش ہوں گے تو ہماری زندگی بھی بہتر ہو جائے گی۔۔۔۔لوگوں کا کیا ہے۔۔ اپنے شوق پورے کرو اپنی زندگی میں اللّہ پر بھروسہ کرو اور آگے بڑھو۔۔۔لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا لوگ آخر میں بس اتنا ہی کہتے ہیں۔
“انا للہ وانا الیہ راجیعون”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ختم شد۔۔۔
